Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 57

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 57

–**–**–

”بات سنو،قُتیلہ،رکو….“یشکر نے اسے زور سے پکارا۔مگر وہ ان سنی کرتے ہوئے آگے بڑھتی رہی۔وہ اپنے قافلے میں سب سے پیچھے تھے۔لمحہ بھر سوچ کر یشکر نے بھی مشکی کو موڑا اور ابلق کے پیچھے روانہ ہو گیا۔قُتیلہ نے ابلق کو سرپٹ دوڑا دیا تھا۔مشکی یشکر کا اشارہ پا کر کمان سے نکلے ہوئے تیر کی طرح ابلق کے پیچھے روانہ ہو گیا تھا۔اس کے باوجود ابلق کے قریب پہنچنے تک وہ قافلے سے فرسخ ڈیڑھ دور نکل آئے تھے۔
”بات سنوقُتیلہ،ایک لحظہ رکو تو سہی۔“اس کے پہلو میں گھوڑا دوڑاتے ہوئے وہ چیخا۔مگر وہ نظرانداز کیے ابلق کو دوڑائے گئی۔ایک بڑا ٹیلہ رستے میں آنے پر بلندی پر چڑھتے ہوئے گھوڑوں کی رفتار کچھ مدہم ہوئی تبھی یشکر نے رکاب سے پاﺅں نکالتے ہوئے چھلانگ لگائی اور قُتیلہ کو ساتھ لیتا ہوا ریت پر گر گیا۔سورا کا وزن دور ہوتے ہی گھوڑے دو تین قدموں کے بعد رک گئے تھے۔وہ دونوں لڑھکتے ہوئے چند قدم نیچے پہنچے۔
لڑھکنا رکتے ہی قُتیلہ اچھل کر کھڑی ہوئی اور تلوار بے نیام کرتے ہوئے دھاڑی۔”تمھاری یہ جرّات۔“
وہ خفگی سے بولا۔”بے وقوف نہ بنو قُتیلہ….“
وہ چیخی۔”ملکہ قُتیلہ بولو،فارسی غلام۔“اس نے تلوار کی نوک یشکر کی چھاتی سے لگا دی تھی۔
”تم فقط چھوٹی سی بچی ہو جو نہ تو مذاق سمجھنے کے قابل ہے اور نہ کچھ بہترسوچ سکتی ہے۔“یشکر نے ناراضی ظاہر کی۔
وہ درشتی سے بولی۔”ملکہ قُتیلہ بچی نہیں ہے سمجھے۔“
وہ افسوس بھرے لہجے میں بولا۔”تو بڑے اس طرح برتاﺅ کرتے ہیں۔جب سب کچھ طے ہو گیا تھا تو یوں بھاگنے کا مقصد کیا ہے۔“
وہ ہٹ دھرمی سے بولی۔”ملکہ قُتیلہ کو نہ تو تمھارا خزانہ چاہیے اور نہ کچھ اور….؟“
”تم میری ہر بات پر شک کرتی ہو مجھے غلام تک کہہ ڈالتی ہو،میری اچھائیوں کو گھٹیا احسانات کہتی ہو،میری بیوی کو کئی بار توہین آمیز القاب سے پکار چکی ہو۔بات بات پر تلوار سونت لیتی ہو۔ کیا میں نے کبھی اس طرح برا منایا ہے۔میں تمھیں اچھا دوست سمجھتا ہوں اور دوستوں میں ایسے مذاق چلتے رہتے ہیں۔“
”ملکہ قُتیلہ تمھاری دوست نہیں ہے۔ماں جی کہتی ہیں مردوں سے کبھی تعلقات نہ رکھنا۔تم نے پہلے ملکہ قُتیلہ کو ورغلانے کی کوشش کی اب دوستی کا بہانہ بنا کر قریب آنا چاہتے ہو۔“
”افف……..“یشکر ماتھے پر ہاتھے مارتے ہوئے چڑچڑے لہجے میں بولا۔ ”عقل کی دشمن،دوستی سے مراد دو قبیلوں کے سرداروں کے درمیان ہونے والا تعلق ہے کہ دونوں مشکل وقت میں ایک دوسرے کی مدد پر آمادہ رہتے ہیں۔“
”ملکہ قُتیلہ تمھاری چکنی چپڑی باتوں میں نہیں آسکتی۔تم ملکہ قُتیلہ کو برے لگتے ہو اور ہمیشہ لگتے رہو گے۔اور اس کے بعد ملکہ قُتیلہ بہ طور سردارن بھی تمھاری کوئی مدد نہیں کرے گی۔بلکہ آج سے تم بنو طرید کے لیے طرید کی طرح قابلِ مواخذہ ہو گئے ہو۔“
یشکر نے چند قدم لے کر مشکی کی لگام پکڑی اور قریب لا کر اسے کے ہاتھ میں تھماتا ہوا بولا۔ ”یہ لو،فقط مذاق کیا تھا اسے واپس لینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔“
”اب ملکہ قُتیلہ نہیں لے گی۔“دنبالہ آنکھوں میں گہری خفگی بھری تھی۔
”تم نے الزام لگایا تھا کہ مشکی دے کر میں تمھیں ورغلانا چاہتا ہوں،اس لیے غصہ آگیا تھا کہ میرے پر خلوص تحفے کو تم اتنا حقیر جان رہی ہو۔“
اس نے برہمی سے موشگافی کی۔”سچ ہی تو کہا تھا۔“
یشکر کھل کھلا کر ہنسا۔” جو بھی سمجھو، مشکی تمھارا ہوا۔اور تمھیں رئیس یمامہ کے پاس بھی بن ٹھن کے نہیں جانا پڑے گا۔اب خوش۔“
”ہونہہ۔“طنزیہ ہنکارا بھرتے ہوئے اس نے مشکی کے سر کو بانہوں میں بھرا اور ماتھے پر بوسا دے کر گردن سہلانے لگی۔
”ہم سے تو گھوڑا بھی اچھا ہے۔“زیر لب بڑبڑاتے ہوئے یشکر ابلق کی طرف بڑھا۔
”پھر وہی بکواس۔“قُتیلہ نے مشکی کی گردن چھوڑتے ہوئے آنکھیں نکالیں۔
یشکر نے معصومیت بھری حیرت طاری کرتے ہوئے پوچھا۔”اب کیا ہو گیا ہے؟“
”ملکہ قُتیلہ بہری نہیں ہے۔“
”سورج غروب ہو چکا ہے اور قافلے والے ہماری غیر حاضری سے پریشان ہوں گے۔“ یہ کہہ کر اس کے ہونٹوں پر شرارتی مسکراہٹ ابھری۔”جانے کیا الٹی سیدھی باتیں سوچ رہے ہوں۔“
وہ نتھنے پھلانے لگی۔”تم جان بوجھ کر ملکہ قُتیلہ کو چھیڑ رہے ہو۔“
یشکر طیش میں آتا ہوا بولا۔”تم مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتی ہو۔اور نہ اس قابل ہو کہ تم جیسی سوکھی سڑی، بدمزاج، جھگڑالو،ہٹ دھرم،گھمنڈی،ضدی اور احسان فراموش سے محبت کی جاسکے۔ایک چہرے کا ٹکڑا سردارزادی بادیہ کی طرح ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ تم صحرائے اعظم کی لاثانی حسینہ بادیہ بن جاﺅگی۔شکل و صورت کے ساتھ اخلاق،آواز،انداز،تربیت،قدوقامت،ذہانت، جسمانی خطوط، تبسم، شرم و حیا،ادائیں،وفائیں،نزاکت،ملائمت،سوچ وبچاراور ناز و نخرہ بھی دیکھا جاتا ہے۔“ابلق پر سوار ہو کر وہ قافلے کے دلکی رفتار سے بھگانے لگا۔
وہ مشکی کو اس کے پہلو میں لاتے ہوئے برہمی سے بولی۔”تو بنو ناجیہ کے رئیس کے پاس کسی اور کو سجا سنوارکرلے جانا تھا ناں،رات بھر کیوں ملکہ قُتیلہ کی منت سماجت کرتے رہے۔ آج دوپہر کو واپسی پر بھی تم اعتراف کر رہے تھے کہ ملکہ قُتیلہ کی صورت کو دیکھ کر ان رئیسوں کی عقل خبط ہو جاتی ہے۔ لحظہ بھر پہلے بھی تم نے بکواس کی کہ ”ہم سے تو گھوڑا بھی اچھا ہے۔“کیوں کہ ملکہ قُتیلہ نے گھوڑے کو گلے سے لگایا تھا۔اور جب ملکہ قُتیلہ تمھارے ورغلانے میں نہ آئی تو ہذیان بکنے لگے۔“
”ایک عقل سے پیدل فرد کو سمجھانا بھی کارِدار ہوتا ہے۔محترمہ زنبر بن خربہ کے پاس لے جانے سے پہلے رات بھر تمھیں اخلاقیات،بول چال،نازنخرے،نزاکت و ادائیں،شرم وحیا وغیرہ کی بابت ہی تربیت دیتا رہا تھاناں۔اور وہاں تمھارے پورے جسم میں فقط چہرے کا ٹکڑا ہی تو تھا جو نظر آرہا تھا۔اور اس کے بارے تو میں پہلے سے اعتراف کر چکا ہوں کہ بادیہ جیسا ہے۔وہاں دوران گفتگو بھی کتنی بار تمھاری گنوار اور اجڈ بولی کی تصحیح کرتا رہا تھا۔اور گھوڑے کو اس لیے اچھا نہیں کہا کہ تم نے اسے گلے لگایا۔بلکہ اس لیے اچھا کہا کہ کم از کم تم اس کے ساتھ تو اخلاق کے ساتھ پیش آئیں۔ایسا برتاﺅ جس کا مستحق تم نے کبھی انسان کو نہیں سمجھا۔“
وہ جتانے والے انداز میں بولی۔”تم مانو یا نہ مانو مگر کئی قبائل کے سردار ملکہ قُتیلہ سے شادی کے خواہش مند ہیں لیکن ملکہ قُتیلہ نے آج تک کسی کو گھاس نہیں ڈالی۔“
یشکر نے کندھے اچکائے۔”مجھے تو آج تک ایک بھی ایسا نظر نہیں آیاہے۔“
”تم بھی بنو جساسہ کے سردار ہو،بھول گئے ہو بنو طرید سے جاتے وقت کس طرح ملکہ قُتیلہ کے سامنے لجاجت سے بھیک مانگ رہے تھے کہ ملکہ قُتیلہ تمھارے ساتھ چلی جائے۔“
”اس وقت میں سردار نہیں،بہ قول تمھارے فارسی غلام تھا۔اور ایک غلام تو کسی گئی گزری وشاق کو بھی اپنا سکتا ہے۔البتہ سردار بننے کے بعد کبھی کچھ کہا ہو توبتاﺅ۔“
وہ تلخی سے بولی۔”کہہ کر دیکھو،ملکہ قُتیلہ تمھاری گردن کاٹ دے گی۔“
”ڈرتا نہیں ہوں،مگر حقیقت یہ ہے کہ تم جیسی جلی سڑی،بدمزہ لڑکی کو کوئی احمق ہی پسند کرے گا۔اورمیرا ذوق اتنا گھٹیا نہیں ہے۔“
”بے ہودہ فارسی غلام۔“منھ بگاڑ کر کہتے ہوئے اس نے مشکی کی رفتار بڑھا دی۔
یشکر کے ہونٹوں پر تبسم نمودار ہوا۔لیکن اس نے گھوڑے کی رفتار بڑھانے کی کوشش نہیں کی تھی۔
٭٭٭
بنو جساسہ سے نکل کر وہ بنو طرید کے رخ روانہ ہوئے۔ان کی بدقسمتی کہ وادی کے دونوں کناروں پر بنو نوفل کے تین تین افراد کی ٹولیاں موجود تھیں۔وہ چھے افراد وادی کے کناروں پر محتاط انداز میں ان کے پیچھے چل پڑے تھے۔دس دنوں کاچاندسرشام ہی چمکتا ہواانھیں رستا دکھا رہا تھا۔بنو نوفل کے افراد یہ نہیں جانتے تھے کہ سردار زادی بادیہ بھی ان کے ہمراہ ہے۔البتہ زیادہ افراد کے ہیولے دیکھ کر انھیں شک ضرور ہوا تھا کہ ان کے مطلوبہ افراد بھی ساتھ ہوں گے۔لیکن جب تک دن کی روشنی میں وہ تصدیق نہ کر لیتے ان پر ہاتھ نہیں ڈالنا چاہتے تھے۔
چاند صبح صادق تک ان کے ساتھ رہا تھا۔ ان کا سفر جاری رہا۔وہ بنو طرید پہنچنے سے پہلے آرام نہیں کرنا چاہتے تھے۔عریسہ جس اونٹنی پر بیٹھی تھی وہ کافی تیز رفتار تھی۔آہستہ آہستہ صبح کا ملگجا اجالا پھیلنے لگا۔ان کے تعاقب میں آنے والے محتاط ہو گئے تھے۔ سورج میں تیزی آتے ہی انھوں نے ایک مناسب مقام پر پڑاﺅ ڈال لیا۔گو موسم کافی تبدیل ہو چکا تھا پھر بھی تیزدھوپ نے ریت کو گرم کر کے گرمی کی شدت میں اضافہ کر دیا تھا۔درختوں کا سایہ انھیں راحت مہیا کرنے لگا۔ایک درخت کے نیچے رشاقہ، بادیہ اور عریسہ لیٹ گئی تھیں جبکہ دوسرے درخت کے نیچے مروان اور اغلب نے ڈیرا جمالیا۔
اس وقت بادیہ پانی کی مشک کو درخت سے لٹکا کر سیدھی کھڑی تھی جب ایک جھاڑی کی اوٹ میں چھپے ہوئے دشمن نے بہ غور اس کے روشن چہرے کی طرف دیکھا۔ ایک دم اس کا دل جوش و مسرت سے بھر گیا تھا۔ٹیلے کی اوٹ تک وہ رینگتے ہوئے پہنچا اور آڑ میسر آتے ہی دوڑ پڑا۔
پھولے ہوئے سانسوں کے ساتھ وہ اپنے ساتھیوں تک پہنچا۔اور ہکلاتے ہوئے بولا ”سس….سر…. سردارزادی بادیہ بھی ان کے ساتھ موجود ہے۔“
”کیا….“تمام کو حیرت کا جھٹکا لگا تھا اگلے ہی لمحے گھوڑوں پر بیٹھ کر وہ تیزی سے اس جانب بڑھ گئے تھے۔جس دوشیزہ کی تلاش میں اتنے عرصے سے سرگردداں تھے اس کا یوں مل جانا حیران کن و پر مسرت تو ہونا تھا۔
گھوڑوں کی ٹاپ سنتے ہی اغلب اور مروان اچھل کر کھڑے ہو گئے تھے۔بادیہ، رشاقہ اور عریسہ بھی انھیں حیرت سے دیکھ رہی تھیں۔
بنو نوفل کا ایک شہسوار بولا۔”سردارزادی بادیہ بنت شیبہ!….بنو نوفل کے متوالے تمھیں ساتھ لے جانے آئے ہیں۔“
رشاقہ تلوار بے نیام کرتے ہوئے بولی۔”اگر زندہ بچ گئے نا تو ضرور لے جانا۔“
وہ قہقہ لگاتے ہوئے بولا۔”سردارزادی بادیہ پر تو سردار شماس بن جزع نے نظریں گاڑی ہیں، لیکن تم جیسی دوشیزہ ہمیں ضرور انعام میں ملے جائے۔“
”حالاں کہ رشاقہ بن زیادہ کو دیکھنے کے بعد تمھیں جان بچانے کی کوشش کرنا چاہیے تھی۔“وہ بگولے کی طرح ان کی طرف بڑھی۔اغلب اور مروان بھی تلواریں سونت کر ان پر پل پڑے تھے۔بادیہ اور عریسہ لرزتی کانپتی اپنی جگہ پر سُن کھڑی تھیں۔ان کی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آرہا تھا۔
بنوننوفل کے چھے لڑاکوں کے مقابل وہ تین تھے۔رشاقہ ان دونوں سے اچھی شمشیر زن تھی۔ پہلے ہی ہلے میں اس نے ایک آدمی کا نرخرہ ادھیڑ ڈالا تھا۔اسے تیزی سے تلوار چلاتا دیکھ کر بنونوفل والے حیران رہ گئے تھے۔ کوئی لڑکی اتنی اچھی شمشیرزن ہو سکتی تھی یہ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔لیکن رشاقہ جتنی بھی اچھی ہوتی،قُتیلہ جیسے نہیں تھی جو پانچ دس کو ترنوالہ سمجھ کر گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا کرتی تھی۔
تلواروں کی چھنچھناہٹ ایک تسلسل سے جاری تھی۔اغلب ایک آدمی کے ساتھ تلوار ٹکرا رہا تھا دوسرے دشمن نے عقب سے تلوار اس کی چھاتی سے پار کر دی تھی۔
”بھائی ….“بادیہ کے ہونٹوں سے بلند چیخ خارج ہوئی۔اضطراری انداز میں وہ اس کی طرف دوڑی۔مروان اپنے مقابل کے پیٹ میں لات مار کر ایک دم پیچھے مڑا اور دونوں ہاتھ تلوار کے دستے پر جماتے ہوئے اس نے اغلب کو قتل کرنے والے کی کھوپڑی پر زوردار وار کیا۔کھوپڑی پکے ہوئے تربوز کی طرح کھل گئی تھی۔وہ اغلب کے پہلو ہی میں گر پڑا تھا۔بنو نوفل کے چار آدمی بچ گئے تھے۔دو رشاقہ کے ساتھ تلواریں ٹکرا رہے تھے جبکہ دو مروان سے بھڑ گئے۔مروان اتنا اچھا تلوار باز نہیں تھا کہ ایک ساتھ دو کا مقابلہ کرسکتا۔چند وار کے تبادلے کے بعد ہی ایک دشمن کی تلوار اس کا پہلو چھیدتی ہوئی گزر گئی تھی۔وہ گھٹنوں کے بل نیچے گرا تبھی دوسرے دشمن نے اس کی گردن پر تلوار چلا دی تھی۔
بادیہ اس وقت اغلب کا سر گود میں لیے بیٹھی تھی۔مروان کی گردن کٹتی دیکھ کر وہ چیخ چیخ کر رونے لگی تھی۔
رشاقہ نے اپنے ساتھ برسرِ پیکار ایک آدمی کا وار گھٹنوں میں خم دے کر خطا کیا۔اور دوسرے کی تلوار سے دو مرتبہ تلوار ٹکر کر تلوار کی نوک اس کی چھاتی میں گھونپ دی۔اس کا ساتھی غضبناک انداز میں اس کی طرف بڑھا۔رشاقہ نے تلوار اس کے ساتھی کی چھاتی سے نکالے بغیر ڈھال کی طرح اسے سامنے پکڑا،اس کا ساتھی وار روک کر دوسری جانب مڑااور اچانک ہی اس کے ساتھی کی چھاتی سے تلوار کھینچ کر رشاقہ نے اس کی کھوپڑی پر زوردار وار کر دیا۔
دونوں کو قتل کر کے وہ جونھی مڑی ،دشمن مروان کو قتل کر کے بادیہ کی طرف بڑھتے دکھائی دیے۔زقند بھر کر وہ پہلے کے قریب پہنچی اور اس کی پیٹھ میں تلوار گھونپ کر چھاتی سے باہر نکال دی۔
”سردارزادی تم زندہ نہیں بچو گی۔“اپنے پانچ ساتھیوں کو قتل ہوتے دیکھ کر آخری کا غصہ آسمان تک پہنچا ہوا تھا۔رشاقہ کی مہارت دیکھ کر اسے یقین ہوگیاتھا کہ وہ مقابلہ نہیں کر سکے گا۔وہ تلوار کو نیزے کی طرح پکڑ کر بادیہ کی طرف دوڑا،بادیہ خوف سے سن ہو گئی تھی۔رشاقہ اس وقت بادیہ کے دائیں جانب موجود تھی۔دشمن کو تلوار تانے بادیہ کی طرف بڑھتے دیکھ کر اس نے بھی زقند بھری،دشمن بادیہ کے اتنا قریب تھا کہ اگر وہ دشمن پر وار کر بھی دیتی تو وہ اپنے مذموم مقصد میں کامیاب ہو گیا تھا۔لحظے کے بیسویں حصے میں خطرناک فیصلہ کرتے ہوئے وہ زور سے بادیہ سے ٹکرائی بادیہ اچھل کر پہلو کے بل ریت پر گر تھی،خود رشاقہ کی تلوار دشمن کے نرخرے کی طرف بڑھی،جبکہ دشمن کی تلوار اس کے نرم پیٹ میں گھستی ہوئی پیٹھ پیچھے نکل گئی تھی۔دونوں ایک ساتھ ہی نیچے گرے تھے۔دشمن کا آدھے سے زیادہ گلاکٹ گیا تھا۔ نیچے گر کر وہ اذیت سے پاﺅں جھٹکنے لگا۔خود رشاقہ کولہوں کے بل نیچے گری تھی۔
”رشاقہ ….“بادیہ بلکتے ہوئے اس کی طرف بڑھی اور اس کا سر گود میں رکھ لیا۔”تم نے کیا کیا رشاقہ….“
رشاقہ کے ہونٹوں پر اذیت بھراتبسم ابھرا۔اور اٹکتے ہوئے بولی۔”تت….تم ….مھاری ….زن …. د ….گیی…. مم…. جھ…. سس….ے…. قی…. ما…. تی…. تھی…. سس …. رر …. دار …. زادی۔“ (تمھاری زندگی مجھ سے قیمتی تھی سردارزادی)
بادیہ نے روتے ہوئے کہا۔”میں یشکر کو کیا جواب دوں گی۔“
رشاقہ اذیت بھرے لہجے میں اٹکتے ہوئے بولی۔”تت….تم….مم….مے…. ری …. مم….مل ….کا ….قو ….تے ….لاکک….کو….گلل….لے….سس….سے …. لگا…. ک….کر….ڈھ ….ڈھے ….رر ….سس ….ارا ….پپ ….پار ….کررنا۔“(تم میری ملکہ قُتیلہ کو گلے سے لگا کر ڈھیر سارا پیار کرنا۔اسے بتانارشاقہ اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی تھی۔یشکر کو چھوڑنے پر بھی موت نظر آرہی تھی اور اپنی سہیلی سے دور رہ کر بھی زندگی عذاب لگ رہی تھی۔اسے کہنا اپنی گناہ گار رشاقہ کو معاف کردے )
عریسہ بھاگ کر ان کے قریب پہنچ گئی تھی۔نیچے بیٹھتے ہوئے وہ بھی دکھی نظروں سے رشاقہ کو دیکھنے لگی۔رشاقہ اور اس کا غم تو سانجھا تھا۔دونوں گھڑیوں مل بیٹھ کرقُتیلہ کی ڈھیروں باتیں کیا کرتی تھیں۔ اور سامع صرف مسکراتی ہوئی سردار زادی بادیہ ہوتی تھی۔ ان کا قُتیلہ سے اندھاعشق بادیہ کو حیران کیے رکھتا تھا۔
بادیہ لرزتی ہوئی بولی۔”ماں جی آپ تلوار کو کھینچ کر نکالیں۔“
عریسہ نے کانپتے ہاتھ تلوار کے دستے پر رکھے اور آہستہ آہستہ پوری تلوار اس کی چھاتی سے باہر کھینچ لی۔خون کا فوارا باہر نکلا تھا۔بادیہ نے سر سے اوڑھنی اتار کر کس کر رشاقہ کے زخم پر باندھ دی۔
”فکر نہ کرو تم بالکل ٹھیک ہو جاﺅ گی۔ہم تمھیں بنو طرید لے جائیں گے۔“بادیہ رُنکھّی آواز میں اسے تسلی دیتی رہی۔
رشاقہ اٹکتے ہوئے بولی۔”تم یشکر کو بہت پیاری ہو سردارزادی۔اگر میرے بجائے تم مر جاتیں تو وہ ہمت ہار جاتا۔جینے سے اس کا دل اچاٹ ہو جاتا۔اور میں تو تھی ہی ادھوری عورت۔ملکہ قُتیلہ کی ناراضی میری خوشیوں کو دیمک کی طرح چاٹ گئی تھی۔وہ ایک ہی صورت میں راضی ہوتی کہ میں یشکر کو چھوڑ کر اس کے پاس چلی جاتی۔اور میرے لیے یہ بھی ممکن نہیں تھا کہ میں یشکر کو دیکھنے سے پہلے اس کی محبت میں مبتلا تھی۔“
بادیہ اس کے ماتھے پر بوسا دیتے ہوئے بولی۔”اتنی زیادہ باتیں مت کرو رشاقہ تمھیں باتیں کرتے ہوئے اذیت ہورہی ہے۔“
رشاقہ کے ہونٹوں پر پھیکی مسکراہٹ ابھری۔بادیہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے وہ لڑکھڑاتی زبان سے بولی۔ ”سردارزادی، میرے پاس بہت کم وقت باقی ہے۔تم بس میری ملکہ قُتیلہ کا بہت بہت خیال رکھنا۔اسے میری طرف سے بہت بہت پیار دینا۔اور اسے بتانارشاقہ آخری سانس تک اسے یاد کرتی رہی۔اسے ضرور بتانا کہ رشاقہ شرمندہ تھی۔اسے کہنا بے وفا رشاقہ پچھتا رہی تھی۔“
”عزیٰ نے چاہا تو ہم تمھیں وہاں تک زندہ سلامت لے جائیں گے۔“تسلی بھرے الفاظ منھ سے نکلاتے ہوئے وہ عریسہ کو بولی۔”ماں جی اونٹنی کو قریب لے آئیں،ہمیں رشاقہ کو جلد از جلد بنو طرید لے جانا پڑے گا۔“
عریسہ اونٹنی کو لیے بھاگ پڑی۔رشاقہ نفی میں سرہلاکر اٹکتے ہوئے بولی۔”رشاقہ کا وقت پورا ہے سردار زادی۔یشکر کو بتانا،اس نے رشاقہ کو قبول کر کے جو احسان کیا تھامیں نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے۔ اور تم نے بھی مجھے جس طرح اپنائیت دی۔کبھی یشکر کو مجھ سے چھیننے کی کوشش نہیں کی،تمھارے احسان کا بھی تو بدلہ رہتا تھا۔اور اپنی ملکہ کے بغیر میں یوں بھی ادھوری تھی۔“نڈھال ہو کر اس نے دو تین اذیت بھرے سانس کھینچے،ہونٹوں پر پھیکی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔”ملکہ قُتیلہ کو کہنا وہ ایک وقت میں دو تیر چلا کر دو شکار کرتی ہے اور اس کی سہیلی نے ایک تیر سے تین شکار کیے ہیں۔“
”زیادہ نہ بولو میری جان۔“بادیہ نے اس کا سر چھاتی سے بھینچ لیا تھا۔”تم یشکر کو اتنی ہی پیاری تھیں جتنی سردار زادی بادیہ ہے۔“
رشاقہ نے بڑی مشکل سے اٹک اٹک کر فقرہ پورا کیا۔”اگر وہ خود میرے سامنے اعتراف نہ کر چکا ہوتا تو تمھاری بات مان لیتی۔“
”میرے سامنے بھی تو وہ تمھاری تعریف میں رطب اللسان رہتا کہ میرے بعد تم نے اسے کس طرح سنبھالا اور سہارا دیا۔“
”خوش فہمی میں مبتلا کرنے کا شکریہ سردار زادی۔اب مطمئن ہوں کہ میں یشکر پر بوجھ نہیں تھی۔“رشاقہ نے بے حال ہو کر سر بادیہ کی گود میں رکھ دیا تھا۔بات کرتے ہوئے اسے نہ صرف اذیت ہو رہی تھی بلکہ سانس بھی چڑھ رہا تھا۔
عریسہ نے اونٹنی لا کر اس کے قریب بٹھائی۔دونوں نے مل کر اسے کجاوے میں بٹھایا۔پھر اغلب اور مروان کی لاشیں ان کے گھوڑوں پر باندھ کر بادیہ اپنے گھوڑے پرسوار ہو گئی جبکہ عریسہ رشاقہ کے ساتھ بیٹھ گئی تھی۔
بادیہ نے پوچھا۔”راستے کا پتا ہے ماں جی۔“
”رشاقہ اٹکتے ہوئے بولی۔”یہ وادی آگے جا کر تین حصوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ تم سب سے دائیں والے رستے پر بڑھ جانا۔ دو فرسخ کے بہ قدر فاصلہ طے کرنے کے بعد وادی مشرق کی جانب مڑ جائے گی۔تم جنوب کی جانب بڑھتی رہنا۔فرسخ بھرجانے کے بعد تمھیں ایک اور وادی ملے گی اس کا رخ جنوب مشرق کی طرف ہو گا۔بس اس کا ساتھ نہ چھوڑنا وہ تمھیں میری ملکہ کے قبیلے تک پہنچا دے گی۔“
عریسہ شفقت بھرے لہجے میں بولی۔”ہماری سمجھ میں آگیا ہے اب تم خاموش لیٹی رہو۔“
رشاقہ لڑکھڑاتی آواز میں بولی۔”میرا جردہ اور تلوار ضرر ساتھ لینا۔ مجھے میری محبوب ملکہ نے یہ تحفے دیے تھے۔اور اسے بتانا اس کی رشاقہ تمام دشمنوں کا صفایا کرنے سے پہلے نہیں گری۔ دیکھنا کتنا خوش ہوگی۔وہ بہت کم ہنستی ہے لیکن اس بات پر ضرور اس کے ہونٹوں پر تبسم نمودار ہوگا۔“رشاقہ کی آواز گہری نقاہت میں ڈوبی ہوئی ہلکی بڑبڑاہٹ میں تبدیل ہو گئی تھی۔
” خاموشی سے لیٹی رہو بیٹی۔“عریسہ نے اسے شفقت سے ڈانٹا۔رشاقہ نے آنکھیں بند کر لی تھیں۔
وہ رشاقہ کی وجہ سے رفتار تیز نہیں کر سکتی تھیں۔لیکن رشاقہ نے انھیں زیادہ دیر الجھن میں مبتلا نہیں رکھا تھا۔وہ دو تین غلوے ہی آگے بڑھ پائی تھیں کہ رشاقہ کے سانس اکھڑنے لگے۔عریسہ کے ہاتھ پر اس کے دونوں ہاتھوں کی گرفت سخت ہوئی۔عریسہ کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے وہ زیر لب مسکرائی۔
”ماں جی،میری ملکہ کو کہنااپنی رشاقہ کو معاف کر دے اور یہ کہ میری موت کا ذمہ دار بنونوفل کا سردار ہے۔“ اس کی گردن ایک طرف ڈھلک گئی، وہ باقی نہیں رہی تھی۔بادیہ کو آواز دے کرعریسہ نے اونٹنی روکی۔بادیہ گھوڑے سے اتر کر قریب پہنچی۔دل کی دھڑکن اور نبض وغیرہ دیکھ کر دونوں نے رشاقہ کی موت کا یقین کیا اور اسے جردے پر باندھ دیا کہ اب وہ ہر قسم کی تکلیف سے دور جا چکی تھی۔
سفر دوبارہ شروع ہوا اب انھوں نے پہلے کی نسبت رفتار بڑھا دی تھی۔اس سے پہلے کہ انھیں ڈھونڈتی ہوئی بنو نوفل کی کوئی اور ٹولی پہنچے وہ جلد از جلد بنو طرید پہنچنا چاہتی تھیں۔اب تو ان کی حفاظت کرنے والا بھی کوئی نہیں تھا۔
رات بھر کے مسلسل سفر کے بعد وہ انھیں گھڑی بھر کا آرام بھی نصیب نہیں ہوا تھا۔اور پھر اپنے پیاروں سے ہاتھ دھونے کے بعد انھیں دوبارہ آگے بڑھنا پڑ گیا تھا۔بادیہ جیسی نازک اندام اور کمزور لڑکی کے لیے مسلسل سفر کرنا بہت مشکل تھا۔اسی طرح عریسہ بھی جسمانی لحاظ سے نرم نازک ہی تھی۔دونوں کمزور عورتیں لرزتی کانپتیں آنسو بہاتی اپنی منزل کی جانب روانہ تھیں۔کیا پتہ منزل پر پہنچ بھی پاتیں یا نہیں۔ہوا کی رفتار میں ایک دم اضافہ ہو گیا تھا۔یوں جیسے رشاقہ،اغلب اور مروان کی جوان مرگ پر نوحہ خواں ہو۔ہوا میں اڑتی ریت سے بچنے کے لیے بادیہ نے اوڑھنی چہرے سے لپیٹ لی تھی۔
٭٭٭
انھوں نے یمامہ پہنچنے کے بجائے ڈیڑھ دو فرسخ دور اس وادی میں پڑاﺅ ڈالا تھا جو بنو عبدکلال کی طرف جا رہی تھی۔وہاں ان کے پڑاﺅ کودیکھنے والے یہی سمجھتے کہ وہ یمامہ کو پیچھے چھوڑ کر جنوب کی سمت کو بڑھ رہے ہیں۔
رات گزار کر اگلے دن طلوع آفتاب کے ساتھ ہی یشکر دس افراد کے ہمراہ تیار ہو گیاتھا۔وہ ابلق پر سوار تھا۔اپنے آدمیوں سے بات چیت کر کے اس نے پانچ تپچاق بغیر سازویراق(جنگی سازوسامان جیسے زین، لگام وغیرہ)کے ساتھ لیے تھے۔چونکہ اقرم کو رئیس جرہم بن قسامہ پہچانتا تھا اس لیے اسے ساتھ نہیں لیا تھا۔البتہ اقرم سے انھیں جرہم کے متعلق خاصی مفید معلومات حاصل ہوئی تھیں۔قُتیلہ کو نہ تو یشکر نے ساتھ چلنے کا کہا تھا اور نہ اس نے خود ہی دلچسپی ظاہر کی تھی۔البتہ ان کی روانگی کے وقت وہ خیمے سے باہر کھڑی گہری نظروں سے گھور رہی تھی۔اسی اثناءمیں اقرم جاہلیت کا سلام کہتے ہوئے اس کے قریب ہوا۔
”کیسے ہو اقرم۔“وہ خوشگوار انداز میں مسکرائی۔
اقرم نے پوچھا۔”آپ ساتھ نہیں گئیں۔“
اس نے منھ بنایا۔”شاید وہاں ملکہ قُتیلہ کی ضرورت نہیں تھی۔“
اقرم نے کہا۔”اس ترکیب کی طرف سردار یشکر بن شریک کی رہنمائی میں نے کی تھی۔“
”اچھا۔“گہرا اشتیاق لیے دُنبالہ آنکھیں اقرم کی طرف متوجہ ہوئیں۔
اقرم نے اس کی دلچسپی کو استفسار جانتے ہوئے تمام تفصیل دہرانا شروع کر دی تھی۔اس کی بات ختم ہوتے ہی قُتیلہ کے لبوں پر تبسم ابھرا۔
”حوریہ بنت جرہم کے متعلق کچھ اور بتاﺅ۔“
اقرم جھینپتے ہوئے بولا۔”وہ بہت پیاری تھی ملکہ قُتیلہ۔مجھے بہت چاہتی تھی۔لیکن میں ایک عام شخص تھا اور وہ اعلا نسب۔“
قُتیلہ نے حیرانی کا اظہار کیا۔”تھی….؟؟؟“
اقرم نے جلدی سے تصحیح کی۔”میرا مطلب ہے،لیکن یہ معلوم نہیں کہاں ہے۔“
قُتیلہ پُر خیال لہجے میں مستفسر ہوئی۔”جرہم بن قسامہ کی کوئی کمزوری؟“
”یمامہ کی سب سے حسین و جمیل قینات(مغنیہ)تتالہ بنتطلیق کا وہ دیوانہ تھا۔اور پھر اس نے تتالہ سے شادی کر لی۔لیکن وہ بہت آوارہ عورت ہے۔ایک مرد پر قانع نہیں رہ سکتی۔جرہم کا شاید ہی ایسا غلام ہوگا جسے اس نے نہ نوازا ہو۔لیکن جرہم اس پر اندھا اعتماد کرتا ہے۔ اس کے بعد وہ گھوڑوں کا شیدائی اور دیوانہ ہے۔“
”ہونہہ۔“قُتیلہ نے سر کواوپر نیچے حرکت دی۔” ملکہ قُتیلہ نے پہلے بھی تتالہ کے متعلق سن رکھا ہے۔بہ ہرحال یہ بتاﺅاگرکیا حوریہ تمھارے ساتھ بھاگنے پر تیار ہوجائے گی۔“
اقرم تیقن سے بولا۔”بلاشک و شبہ ہو جائے گی۔بلکہ وہ تو پہلے بھی تیار تھی،مجھے ہی ہمت نہیں پڑتی تھی۔بغیر کسی ٹھکانے کا انتظام کیے میں اسے کہاں جا کر رکھتا۔ایک نازک لڑکی کو کہاں تک ساتھ گھسیٹتا پھرتا۔“
”واہ میاں،بہت پیاری لگتی ہے۔“قُتیلہ کا نقرئی قہقہ گونجا۔
اقرم نے کھلے دل سے اعتراف کیا۔”ہاں ملکہ،واقعی میں بہت پیاری لگتی ہے۔“
قُتیلہ سوچتے ہوئے بولی۔”اب یہ کیسے معلوم ہوگا کہ اس کی شادی ہو گئی یا نہیں۔اگرشادی نہیں ہوئی توکیا تمھارے ساتھ جانا چاہے گی یا اسے کوئی دوسرا چاہنے والا مل گیا ہے۔“
اقرم اس کی صفائی دیتا ہوا بولا۔”وہ ایسی نہیں ملکہ قُتیلہ۔وہ مجھ سے محبت کرتی تھی۔ میرے بعد کسی دوسرے کو کیسے پیار دے سکتی ہے۔“
”ہونہہ محبت۔“قُتیلہ نے طنزیہ ہنکارا بھرا۔”یشکر بھی سردارزادی بادیہ سے محبت کا دعوے دار تھا۔اسے مردہ جان کر پہلے سنہرانہ کی گود میں جالیٹا،اس سے خوب صورت لڑکی نظر آئی تو رشاقہ سے شادی رچا لی۔اور اب بادیہ واپس آگئی تو پھر اس کی طرف مائل ہو گیا۔گھٹیا فارسی کی گھٹیا محبت۔“
”ملکہ قُتیلہ،آپ اس فرق کو کیوں نظر انداز کر رہی ہیں کہ یشکر مرد ہے اور حوریہ عورت۔اور مرد تو ایک وقت میں کئی عورتوں کو پاس رکھ سکتا ہے۔جبکہ عورت ہمیشہ ایک ہی مرد سے محبت کرتی ہے۔“
وہ منھ بگاڑ کر بولی۔”ملکہ قُتیلہ مردوں کی گھٹیا محبت کو اچھی طرح جانتی ہے۔بہ ہرحال تم فکر نہ کرو ملکہ قُتیلہ،حوریہ کے بارے معلومات لینے جا رہی ہے۔تم جلدی سے مشاطہ (عورتوں کو سنوارنے والی)کو میرے خیمے میں بھیجواور بیس توانا جوانوں کو تیار ہونے کا بتادو۔اس دن کی طرح اونٹ پر محمل باندھو،ملکہ قُتیلہ، شہزادی رقاشہ بن کر جرہم اور اس کی بیوی تتالہ سے ملنے جائے گی۔وہاں حوریہ کی سن گن لے گی۔اگر وہ تمھارے ساتھ جانے پرآمادہ ہوئی تو ملکہ قُتیلہ کا وعدہ ہے وہ تمھیں ضرور ملے گی۔“
”کک….کیا ایسا ممکن ہے۔“اقرم ہکلا گیا تھا۔
”وقت ضایع کر رہے ہو اقرم۔“قُتیلہ اسے سرزنش کرتے ہوئے خیمے میں گھس گئی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: