Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 58

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 58

–**–**–

وہ جونھی جرہم بن قسامہ کی گڑھی کے سامنے رکے۔دورازے پر متعین محافظ ان کا مقصد جاننے کو قریب ہوا۔یشکر بغیر لگی لپٹی رکھے بولا۔
”رئیس جرہم بن قسامہ کو بتاﺅ،سردار یشکر بن شریک گھوڑوں کا سودا کرنے آیا ہے۔“
محافظ سر ہلاتے ہوئے پیچھے مڑا اور ذیلی دروازے سے اندرداخل ہو کرپیغام رساں کو وہی بات بتانے لگا۔جلد ہی انھیں اندر داخل ہونے کی اجازت مل گئی تھی۔اقرم نے انھیں یہی بتایا تھا کہ جرہم گھوڑوں کے بیوپاری سے ضرور ملاقات کیا کرتا تھا۔اور اس کی بات سچ ثابت ہوئی تھی۔
گڑھی اندر سے کافی وسیع اور کھلی تھی۔درمیان میں پختہ عمارت تھی جس کے سامنے بارہ دری بنی ہوئی تھی۔شرقی دیوار کے ساتھ گھوڑوں کا طویلہ تھا۔عمارت کے عقی حصے میں کھجوروں کا بہت بڑا باغ تھا۔جس کے درمیان دوسرے پھل دار درخت بھی جھلک رہے تھے۔
سامنے کی دیوار کے ساتھ کیکر و بیری کے چند درخت اس ترتیب سے لگے تھے کہ ان کے درمیان بنے ہاتھ بھراونچے چبوترے پر مکمل سایہ کر رہے تھے۔چبوترے کے اوپر کھجور کے پتوں کی لمبی چوڑی چٹائیاں بچھی تھیں۔اور درجن بھر تکیے پڑے تھے۔چبوترے کے مغربی جانب لکڑی کا تخت رکھا تھااور اس پر روئی کا گدا رکھا ہواتھا۔یقینا وہ تخت جرہم نے اپنے بیٹھنے کے لیے بنایاتھا۔تخت کے دائیں بائیں ہاتھ بھر کے فاصلے نسبتاََ کم بلند دو چھوٹے تخت رکھے تھے۔چبوترے کی شرقی جانب دیوار کے ساتھ لکڑی کے کھونٹے گڑے تھے تاکہ آنے والے مہمان وہاں سواریاں باندھ سکیں۔ملازم کی رہنمائی میں انھوں نے گھوڑے باندھے اور چٹائیوں پر بیٹھ گئے۔
گھڑی بھر کے انتظار کے بعد ہی جرہم کی آمد ہوئی تھی۔ اس سے پہلے غلام ان کے لیے نبیذ اور شراب کا اہتمام کر چکے تھے۔ جرہم کی آمد پر رسمی کلمات کاتبادلہ ہوااور اس نے یشکر کو تخت پر بیٹھنے کی دعوت دی۔
یشکربے تکلفی سے اس کے دائیں ہاتھ پڑے تخت پر براجمان ہو گیا۔
”تو سرداریشکر بن شریک،تمھیں کیسے گھوڑے چاہئیں۔“جرہم نے گفتگو کی ابتداءہی مطلب کی بات سے کی تھی۔
” گھوڑے خریدنے نہیں بیچنے آیا ہوں۔“
”اچھا۔“اس کے چہرے پر خوشگوار حیرانی ابھری۔”چلو دیکھتے ہیں۔“وہ کھڑا ہو گیا۔بیچنے کی غرض سے لائے ہوئے گھوڑے یشکر نے علاحدہ بندھوائے تھے۔
”گھوڑوں کے بارے کچھ جانتے بھی ہو۔“گھوڑوں کا جائزہ لیتے ہو اس نے سرسری لہجے میں پوچھا۔
یشکر صاف گوئی سے بولا۔”اتنا زیادہ نہیں کہ کسی ماہر کا مقابلہ کر سکوں اور اتنا کم بھی نہیں کہ کوئی دھوکا دے جائے۔“
”یہ کسون میرے کس کا م کا۔“(بھینگا گھوڑا)پہلے گھوڑے کو دیکھ بھال کے اس نے خامی ڈھونڈی۔
تبھی یشکرنے دیکھا کہ واقعی گھوڑے کی آنکھوں میں ہلکا سا فرق تھا۔
”یہ یک باگ ہے ۔“اس نے دوسرے گھوڑے میں نقص نکالا۔(یک باگ ،وہ بھونری جو گھوڑے کی ایال کے نیچے ایک جانب ہوجو منحوس خیال کی جاتی ہے)
تیسرے گھوڑے کوتو اس نے فوراََ ہی مسترد کر دیا تھا۔”کم از کم شِکال تو آپ کو نہیں لانا چاہیے تھا۔“(ایسا گھوڑا جس کا داہنا ہاتھ اور بایاں پاﺅں یا باہنا ہاتھ اور دایاں پاﺅں سفید ہوں اور یہ عیب کی نشانی ہے )
چوتھے ،پانچویں کو اس نے اچھی طرح دیکھ کے تھوڑا سا چلایا بھی تھا۔انھیں علاحدہ کر تے ہوئے وہ اطمینان بھرے لہجے میں بولا۔”ان دو کے ساتھ اگر وہ ابلق بھی بیچنا چاہو۔“اس نے یشکر کی گھوڑی کی طرف اشارہ کیا۔
یشکر گہرا سانس لے کر رہ گیاتھا۔جرہم گھوڑوں کے بارے اس کی توقع سے زیادہ جانتا تھا۔ ”معاوضا بیٹھ کر طے کر لیتے ہیں۔“یشکر نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے اسے چلنے کا اشارہ کیا۔دونوں پہلو بہ پہلو چلتے ہوئے تخت پر آکر بیٹھ گئے تھے۔
”مانگو….“اس نے یشکر کو دعوت دی۔
یشکر صاف گوئی سے بولا۔”میں بنوجساسہ کا سردارہوں اور میرے قبیلے کے پندرہ افراد آپ کے غلام ہیں۔انھی کی آزادی مقصود ہے۔“
جرہم نے انکار میں سر ہلایا۔” یہ ممکن نہیں ہے۔“
”کیوں ؟“یشکر ملتجی ہوا۔
”کیوں کہ میں غلاموں کا نہیں گھوڑوں کا بیوپاری ہوں۔“
”ایک سردار کی التجا ہے۔آپ منھ مانگا معاوضا طلب کر سکتے ہیں۔“
جرہم نے خشک لہجے میں کہا۔”کوئی اور بات کرو۔“گویا اس موضوع پر وہ بات ہی نہیں کرنا چاہتا تھا۔
یشکر کے دماغ میں دھواں سے بھر گیا تھا۔اور اس پہلے کہ وہ کوئی تلخ بات کرتا،داخلی دروازے سے آئے دربان نے جرہم سے اجازت لے کر کہا۔
”شہزادی رقاشہ کے پیغام رساں آئے ہیں۔اور بتا رہے ہیں کہ شہزادی صاحبہ آپ سے ملاقات کے لیے اپنی قیام گاہ سے نکل پڑی ہیں۔“
”شہزادی رقاشہ….؟“جرہم حیران رہ گیا تھا۔
”جی حضور!….“دربان موّدبانہ لہجے میں بولا۔”سلطنت لخمیہ کے تاجدارِ جناب امراءالقیس کی پوتی شہزادی رقاشہ بنتِ عمرو بن امراءالقیس بن عمرو بن عدی۔“
”کیا….“جرہم متعجب ہو کر دربان کے ساتھ چل پڑا۔اس کی حیرانی بجا تھی سلطنت لخمیہ کی شہزادی کی آمد واقعی ایسا معاملہ تھا جو کسی بھی سردار،امیر یا رئیس کو ششدر کر سکتا تھا۔لیکن یشکر کو اس کی حیرانی کے پسِ پردہ کوئی اور وجہ محسوس ہو رہی تھی۔
جرہم داخلی دروازے پر پہنچ کر جونھی باہر نکلااس کی نظر گڑھی کی طرف بڑھتے گھڑسواروں پر پڑی،جن کے سامنے دو سبک رفتاراونٹ چل رہے تھے۔دربانوں کے ساتھ بھی دو گھڑسوار موجود تھے۔ان سے کسی قسم کا استفسار کرنے کے بجائے وہ ساربانوں کو دیکھنے لگا۔جلد ہی قریب آکر ساربان اونٹوں کو نیچے بٹھانے لگے۔جبکہ گھڑسوار نصف دائرے کی صورت کھڑے ہو گئے تھے۔
ایک اونٹ پر محمل بندھا تھا جبکہ دوسرے پر سامان رکھا ہوا تھا۔محمل والے اونٹ کے بیٹھنے تک دوسرے اونٹ کا ساربان اونچے پائیوں والی میزمحمل والے اونٹ کے قریب رکھ چکا تھا۔اسی وقت محمل کے ریشمی پردے کنیزوں نے ہٹائے اور گہرے سرخ رنگ کے لباس میں چھپی اپسرا نے باہر جھانکا۔جرہم کو لگا جیسے اندھیری رات میں گھنے بادلوں کے درمیان سے مہتاب نے جھلک دکھائی ہو۔ قُتیلہ کو مشاطہ نے پہلے سے بھی بڑھ کر سجایا تھا۔ مضبوط تن وتوش کا سوار نیچے اتر کر میز کے ساتھ گھٹنا لگا کر بیٹھ گیاتھا۔قُتیلہ نزاکت سے اس کے زانو پر پاﺅں رکھ کر نیچے اترآئی تھی۔وہ چونکہ شہزادیوں کے انداز اور طور طریقوں سے بالکل نا بلد تھی اس لیے وہی کچھ کر رہی تھی جو پچھلی بار اسے یشکر سمجھا کر لایاتھا۔
جرہم رکوع کے بل جھکتے ہوئے بولا۔”شہزادی حضور کی خدمت میں رئیس جرہم بن قسامہ کا آداب پہنچے۔“
قُتیلہ نے متبسم ہو کر اپناشال میں لپٹاہاتھ اس کی طرف اٹھادیا۔
جرہم نے سرعت سے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھاما اور آنکھوں سے لگا کر بوسا دیتے ہوئے پیچھے ہٹ گیا۔
”ہم یہاں سے گزر رہے تھے۔اور ہمارے اتالیق نے تمھارے بارے میں کافی دلچسپ معلومات ہمارے گوش گزار کی تھیں سوچا ملاقات کر کے تمھیں عزت افزائی بخشتے جائیں۔“
”شکریہ شہزادی،خوش آمدید۔“جرہم مسرت آمیز لہجے میں چہکا۔
”کیا ہم یہیں کھڑے رہیں گے۔“قُتیلہ نے خفگی ظاہر کی۔
جرہم شوخی سے بولا۔”معافی چاہتا ہوں شہزادی حضور!….براہ مہربانی چلیں ….“
اس کا شوخی بھرا انداز قُتیلہ کو عجیب لگا تھالیکن وہ نظر انداز کرتے ہوئے محافظ کی جانب متوجہ ہوئی۔”محافظ، تم نے پالکی اتنی دور رکھوادی،کیا ہم وہاں تک جاتے ہوئے تھک نہیں جائیں گے۔“
محافظ نے دو گھڑسواروں کو اشارہ کیافوراََ ہی پالکی اس کے سامنے لا کر رکھ دی گئی تھی۔وہ نزاکت سے پالکی میں بیٹھ گئی۔جرہم کی رہنمائی میں چلتے ہوئے وہ چبوترے پر پہنچے۔شہزادی کو احترام دینے کے لیے یشکر بھی بادل نخواستہ کھڑا ہو گیا تھا۔
”بیٹھیں شہزادی حضور….“جرہم کا لہجہ بہ ظاہر موّدبانہ تھا لیکن یشکر کو یوں لگا جیسے وہ بناوٹی احترام سے پیش آرہا ہو۔
قُتیلہ نزاکت سے تخت پر بیٹھ گئی تھی۔دونوں کنیزیں اس کے پاﺅں میں بیٹھ گئیں۔
”سردار یشکر،شہزادی حضور میری مہمان بنی ہیں۔آپ تشریف لے جا سکتے ہیں۔اور دوبارہ اگر غلاموں کی خریداری کے سلسلے میں حاضری ہو تو کوشش کرناکہ نہ آنا۔رئیس جرہم کو معاوضے کی پیشکش کر تے وقت یہ سوچ لینا تھاکہ جرہم بن قسامہ پورے بنو جساسہ کو خریدنے کی اہلیت رکھتا ہے۔“
یشکر کو کافی سبکی محسوس ہوئی تھی۔لیکن غصے کے اظہار کے بجائے اس نے اپنے ساتھیوں کو چلنے کا اشارہ کیا اور وہ گھوڑوں کی طرف بڑھ گئے۔یوں بھی قُتیلہ نے سن لیا تھا کہ وہ غلام خریدنے میں ناکام ہوئے تھے۔یقینا وہ کوئی نہ کوئی بندوبست کرنے کی کوشش ضرورکرتی۔
”براہ مہربانی آپ لوگ بیٹھیں۔“جرہم نے شہزادی کے محافظوں کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔اور پھر شہزادی کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے بولا۔”شہزادی حضور کیا نوش فرمائیں گی۔“
”ہم سرخ شراب پیئیں گے۔“
”میں معذرت خواہ ہوں کہ آپ کی اچانک آمد کی وجہ سے کوئی خاص بندوبست نہیں کر سکا ہوں۔بہ ہرحال ابھی چند ساعتوں میں سارا بندوبست ہو جاتا ہے۔“جرہم ندامت کا اظہار کرتے ہوئے تیز قدموں سے چلتا اندرونی عمارت کی طرف بڑھ گیا۔قُتیلہ کے ہونٹوں پر تبسم ابھراآیا۔یقینا گھروالوں کو بلانے گیا تھا۔چند لمحوں بعد ہی اس کی آمد ہو گئی تھی۔اس نے چھوٹے تخت پر نشست سنبھالتے ہوئے کہا۔
”ویسے شہزادی حضور کی آمد کا مقصد جاننے کی گستاخی کر سکتا ہوں۔“
قُتیلہ نے محافظ کو اشارہ کیا اور وہ وہی تفصیل دہرانے لگا جو زنبربن خربہ کے ہاں یشکر نے بیان کی تھی۔جرہم دلچسپی سے سنتا رہا۔اسی اثناءمیں پانچ کنیزیں شراب کے مشکیزے اٹھائے وہاں پہنچ گئی تھیں۔ایک کنیز نے مشکیزے سے آب خورہ بھر کر قُتیلہ کے حوالے کیا اور باقی دوسروں کو پلانے لگیں۔قُتیلہ نے یشکر کی ہدایت کے مطابق ہلکی ہلکی چسکیاں لے کر آب خورہ خالی کیا۔کنیز نے فوراََ دوبارہ بھر دیا تھا۔سرخ شراب کی دیوانی نے یشکر کی غیر موجودی کا فائدہ اٹھا تے ہوئے دوسرا آب خورہ بھی خالی کر دیا تھا۔ محافظ بھی دو دو،تین تین جام چڑھا گئے تھے۔
جرہم کے چہرے پر مکروہ مسکراہٹ نمودار ہوئی۔”اب اصل بات بتائیں شہزادی حضور۔“
”قُتیلہ نے چونک کر اس کی جانب دیکھا۔”ہم کچھ سمجھے نہیں۔“
جرہم طنزیہ انداز میں ہنسا۔”سمجھ تو تمھیں آج رات کو میرے بستر پر اچھی طرح آجائے گی۔فی الحال مجھے سمجھا دو۔“
”گستاخ۔“قُتیلہ غصے میں دھاڑتے ہوئے کھڑی ہوئی۔شراب پلانے والی کنیز اس کے نزدیک ہی تھی۔قُتیلہ کی زوردار لات اس کے پیٹ میں لگی وہ اڑتے ہوئے چٹائی پر جاپڑی تھی۔گرتے ساتھ اس کا سر ایک طرف ڈھلک گیا تھا۔وہ بے ہوش ہو چکی تھی۔ قُتیلہ جرہم کی طرف بڑھی مگر اچانک اس کی آنکھوں کے سامنے نیلے پیلے دائرے گھومنے لگے۔اس نے خود کو سنبھالنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوسکی اور لہرا کر گرنے لگی۔اس نے فوراََ ہی تخت کا کنارہ تھام لیا تھا۔یقینا انھیں پیش کی گئی شراب میں زود اثر بے ہوشی کی دوا ملی تھی۔قُتیلہ نے باربار سر جھٹک کر غنودگی کو دور کرناچاہامگر اس کی سعی ناکام گئی تھی۔ وہ بے ہوش ہو کر تخت پر لمبی پڑ گئی تھی۔ اس کے بیس محافظ بھی اڑے ترچھے چٹائی پر لمبے پڑے تھے۔
٭٭٭
آنکھیں کھلتے ہی وہ لمحہ بھر لیٹی چھت کے خوب صورت نقش و نگار گھورتی رہی۔اور پھر ساری بات یاد آتے ہی اس نے جھٹکے سے اٹھنا چاہا،مگر کسمسا کر رہ گئی تھی۔اس کے ہاتھ پاﺅں چمڑے کے مضبوط تسموں سے بندھے تھے۔اور وہ مسہری پر چت لیٹی تھی۔ اس نے چند جھٹکے دے کر خود کو آزاد کرانا چاہا مگر کامیاب نہیں ہو پائی تھی۔چمڑے کے تسمے نہایت ہی مضبوط تھے۔اس کی دونوں پنڈلیوں تسمے گزار کر مسہری کے مخالف اطراف کے نیچے سے گزار کر دونوں تسموں کو مسہری کے نیچے آپس میں باندھ دیا گیا تھا۔یہی کام ہاتھوں کے ساتھ بھی کیا گیاتھا۔اس کے بازو سر کے اوپردائیں بائیں پھیلے تھے۔اس کی کمر سے بھی ایک تسمہ گزار کر نیچے باندھ دیا گیا تھا۔اسے یوں جکڑا گیا تھا کہ وہ مکمل بے بس ہو گئی تھی۔اسے اپنی بے وقوفی پر سخت غصہ آرہا تھا۔بغیر یشکر سے مشورہ کیے اسے نہیں آنا چاہیے تھا۔اب یشکر اس کے حال سے بے خبر پڑاﺅ میں لوٹ چکا تھا اور جب تک اسے قُتیلہ کے مصیبت میں پھنس جانے کا ادراک ہوتا شاید بہت زیادہ دیر ہو چکی ہوتی۔ہاتھ پاﺅں بندھے ہونے کی وجہ سے وہ سخت بے بسی محسوس کر رہی تھی۔اسے جرہم کا رویہ مشکوک لگا تھا۔لیکن یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ یوں بے ہوشی کی دوا پلا کر ان پر قابو پا لے گا۔
دروازے پر کھٹکا ہوا اور وہ اس جانب دیکھنے لگی۔آنے والا جرہم ہی تھا۔اس کے چہرے پر مکروہ تبسم کھل رہا تھا۔
”شہزادی رقاشہ….کیا حال ہیں۔“اس نے میز پر پڑی صراحی سے چاندی کے آب خورے میں شراب انڈیلی اور غٹاغٹ چڑھا گیا۔ دوسرا جام بھر کر وہ ہلکی ہلکی چسکیاں لیتا ہوا مسہری کے کونے پر ٹک گیاتھا۔
”جانتی ہو اگر میں کئی بار حیرہ نہ جا چکا ہوتااور عمرو بن امرءالقیس کی اولاد سے اچھی طرح واقف نہ ہوتاتو یقینااس حسنِ گلو سوز(بیان سے باہر حسن۔ایسی خوب صورتی جس کی تعریف نہ کی جا سکے)کے سامنے گھٹنے ٹیک کر بے چوں و چراں تمھیں شہزادی رقاشہ تسلیم کر لیتا۔حقیقت تو یہ ہے کہ امراءالقیس کے پورے خاندان میں ایسی شہزادی نہیں ہے جس کی خوب صورتی تمھارے حسن کے عشر عشیر بھی ہو۔میری زندگی میں آنے والی سب سے حسین لڑکی تتالہ ہے۔مگر تمھارے سامنے اس کی بھی دال نہیں گلے گی۔ آخرکون ہو تم۔“جرہم کا ہاتھ اس کے رخسار کی ملائمت جانچنے لگا۔
”اپنا غلیظ ہاتھ ملکہ قُتیلہ سے دور رکھو۔“اس نے ایک دم اپنا سر ہٹا کر جرہم کے ہاتھ کو جھٹکنا چاہا۔
”جانِ من،تمھاری یہ کوششیں اور اعراض کرنا کسی کام نہیں آئے گا۔اتنا تو میں جانتا ہوں کہ تمھارا تعلق کسی لٹیروں کے گروہ سے ہے۔ کیوں کہ تمھاری لات کھانے والی کنیز ابھی تک بے ہوش پڑی ہے۔اور اسی وجہ سے تمھیں باندھ بھی دیا تاکہ تم مزاحمت نہ کرسکو،آخراتنی پرکشش حسینہ کے دلکش بدن سے جرہم نے خراج تو وصول کرنا ہے ناں۔“یہ کہتے ہوئے اس نے قُتیلہ کے پنکھڑی ہونٹوں کو انگلیوں میں پکڑ کر زور سے دبا دیا تھا۔
”جرہم بن قسامہ،کیوں اپنی موت کو بھیانک بنانے پر تلے ہو۔ملکہ قُتیلہ کو آزاد کر کے تم فائدے میں رہو گے۔ورنہ یاد رکھنا ملکہ قُتیلہ تمھیں عبرت ناک ماضی بنا دے گی۔لوگ تمھارے انجام کا ذکر کرنا اس وجہ سے چھوڑ دیں گے کہ کسی سامع کو سننے کاحوصلہ بھی نہیں ہوگا۔“
”ہاہاہا۔“جرہم نے قہقہ لگایا۔”کیا خیال ہے میں تمھیں آزاد کر دوں گا۔جب تک مسہری پر باندھ کر تم سے لذت کشید کر سکا کروں گا،اس کے بعد اپنے محافظوں کو موقع دوں گا۔پھر میرے غلاموں کو باری ملے گی اور آخر میں تمھاری لاش میرے کتوں کی ضیافت کے کام آئے گی۔“
”یقیناتم ملکہ قُتیلہ کو نہیں جانتے۔“اس کی آواز میں شامل غصہ کسی بھی جاننے والے کو لرزنے کانپنے پر مجبور کر سکتا تھا۔لیکن جرہم اسے نہیں جانتا تھا۔اس کے نزدیک وہ ایک پرکشش حسینہ کے سوا کوئی حیثیت نہیں رکھتی تھی۔یوں بھی قُتیلہ کی لڑائی بھڑائی کا تدارک اس نے چمڑے کے مضبوط تسموں کو کام میں لا کر کر دیا تھا۔
جرہم اس کے غصے سے لطف اندوز ہوتا ہوا بولا۔”تمھاری دنبالہ آنکھوں میں غصہ اتنا جچتا ہے کہ بیان نہیں کر سکتا۔ظالم اتنی موٹی آنکھوں کو سرمہ آلود کرنے کی کیا ضرورت تھی۔یہ تو ویسے بھی ہم جیسوں کاکُشتہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔“اس کی ہتھیلی روشن جبیںکے لمس سے محظوظ ہوئی،انگلیوں نے گھنی بھنووں کو سہلایا،ہاتھ کشادہ پیشانی سے پھسلتا ہوا رخساروں تک پہنچا۔اور پھر ایک دم جرہم نے چاندی کا پیالہ دور اچھال کر دونوں ہاتھوں میں اس کا چہرہ تھام لیا تھا۔”تم جیسی آج تک نہیں دیکھی۔مجھے نہیں لگتا اس مسہری سے تمھیں جلد رہائی مل سکتی ہے۔“
”اپنے غلیظ ہاتھ ملکہ قُتیلہ کے چہرے سے دور کر لو۔“سر کو زور سے جھٹکتے ہوئے وہ دھاڑی۔
”ایسا نہیں کہتے جان من۔“جرہم نے اسے پچکارا۔”ابھی تو کافی فاصلہ طے کر نا،بہت سی بلندیاں عبور کرنی ہیں،کافی کھائیاں پھلانگنی ہیں،تم ابتداءہی سے ہتھیار پھینک رہی ہو۔“یہ کہ کر وہ دیوار میں بنی الماری کی طرف بڑھا،واپسی پر اس کے ہاتھ میں قینچی تھی۔قُتیلہ کے نتھنے غصے سے پھڑپھڑا رہے تھے اور اسے یوں سانس چڑھا تھا گویابھاگتے ہوئے پہاڑی پر چڑھ رہی ہو۔اس کے غصے سے بے نیاز جرہم اپنے کام میں مشغول ہو گیا۔سب سے پہلے اس نے اس کی کمر میں بندھا تسمہ ڈھیلا کر کے زرتار کمر بند اتارا۔پھر فرجی کو سامنے سے دائیں بائیں کر کے اس نے مِقراض چلاتے ہوئے دونوں بازو کاٹے اور ریشمی فرجی کو کھینچ کر اس کے جسم سے علاحدہ کر دیا۔نیچے اس نے بغیر بازوں کی چھوٹی درع(قمیص) اور پاجامہ نما سراول (شلوار)پہنی تھی۔جرہم نے جونھی مِقراض کی نوکیں درع کے گریبان کی طرف بڑھائیں۔بے باک،نڈر،دلیراور بے خوف قُتیلہ کی آنکھوں میں بے چینی و اندیشے لرزے۔کبھی ہار نہ ماننے والی،ہمیشہ ڈٹارہنے والی۔اکھڑ،تند خو،بدمزاج اور ہٹیلی،لجاجت بھرے انداز میں بولی۔
”جرہم بن قسامہ،ایسا نہ کرو۔ملکہ قُتیلہ تمھیں سونے چاندی کے سکوں سے بھرے ہوئے صندوق دے کر مالا مال کر دے گی۔ہیرے جواہراور سونے کے زیورات بھی دے گی۔ دیباج، استبرق،حریراور زربفت کے سیکڑوں لباس تمھارے حوالے کرے گی۔اور ملکہ قُتیلہ وعدہ کرتی ہے تم سے کوئی انتقام نہیں لے گی۔ایسا مت کروجرہم۔ملکہ قُتیلہ کا جسم آج تک کسی کے سامنے برہنہ نہیں ہوا۔“
جرہم کا قہقہ بلند ہوا۔اس کی فخر و غرو ر میں ڈوبی آواز ابھری۔”یہ جان کر میری خوشی میں اضافہ ہوا ہے کہ تمھارے جسم کو دیکھنے والا میں پہلا شخص ہوں۔اور اگر تم زیادہ منت کرتی ہو تویہ اعزاز حاصل کرنے والا آخری شخص بھی بننے کو تیار ہوں۔اس سے زیادہ کی امید مجھ سے نہ رکھنا۔“
قینچی سے تنگ درع کو کاٹ کر جرہم نے قُتیلہ کے جسم سے علاحدہ کر دیا۔روشن بدن قنادیل کی تیز روشنی میں جھلملاتا ہوا ظاہر ہوا۔زیریں بدن پر چُست سروال اوربالائی بدن پر کالے رنگ کے کپڑے کی چند اُنگل چوڑی پٹی کاکس کر باندھا ہوا سینہ بند تھا۔
”جانتی ہو،آج اپنے شبستان میں موجود تمام قندیلیں، فانوس اور شمعیں میں نے کیوں روشن کی ہیں ؟….کیوں کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ تمھارے تابدار بدن کی چمک سے میری آنکھیں چندھیا جائیں۔“
”ملکہ قُتیلہ کا مان و غرور نہ توڑوجرہم!….ملکہ قُتیلہ درخواست کر رہی ہے۔بس اس سے زیادہ پیش قدمی ملکہ قُتیلہ برداشت نہیں کر سکتی۔“قُتیلہ کی آواز میں شامل بے بسی اعلان کر رہی تھی کہ وہ ایک عاجز اور کمزور لڑکی ہی توہے۔
اس کے سینہ بند کی طرف بڑھتی ہوئی مقراض کی نوکوں میں ٹھہراﺅ آیا۔قُتیلہ کو لگا جرہم نے اس کی درخواست قبول کر لی ہے۔
”اب بتاﺅ،میری گڑھی میں کس نیت سے داخل ہوئی تھیں۔“
قُتیلہ سرعت سے بولی۔”ملکہ قُتیلہ،تمھاری بیوی تتالہ کو ملنا چاہتی تھی۔اور بنوجساسہ کے غلام خریدنا چاہتی تھی۔سردار یشکر بن شریک بھی میرا ساتھی ہے لیکن مجھے اندیشہ تھا تم اسے غلام دینے پر آمادہ نہیں ہو گے۔“
جرہم زور دے کر بولا۔”تم میری حویلی میں قزاقی کی نیت سے داخل ہوئی تھیں۔“
وہ صاف گوئی سے بولی۔”ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔اگر تمھیں لوٹنا ہوتا تو رات کو حملہ کرتے۔“
وہ فخریہ لہجے میں بولا”بھول ہے تمھاری،جرہم بن قسامہ کی گڑھی پر حملہ آور ہونے والے سوائے موت کے اور کچھ نہیں پا سکتے۔رئیس جرہم بن قسامہ سے تو یمامہ کا سردار بھی کان مارتا ہے۔“
وہ تھکی تھکی آواز میں بولی۔”ملکہ قُتیہ لڑائی نہیں چاہتی۔“
جرہم نے پوچھا۔”تمھارا تعلق کس قبیلے سے ہے؟“
”ملکہ قُتیلہ بنو طرید کی سردارن ہے۔“
وہ چٹخارا لیتے ہوئے آگے بڑھا۔”واہ،بنو طرید کی سردارن کا فخر و غرور توڑنے کا تو علاحدہ ہی مزہ آئے گا۔“
قُتیلہ گڑگڑائی۔”نن….نہیں جرہم،جبکہ ہمارا معاہدہ ہو گیا ہے تو….“
وہ مکروہ لہجے میں بولا”کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔آج کی رات جرہم کی زندگی کی سب قیمتی اور لذت آمیز رات بننے والی ہے۔تم جیسی حسینہ کے حصول کے لیے تو جرہم اپنی جان دے سکتا ہے۔“
”نہیں ….نہیں ….“قُتیلہ کا جسم زور سے مچلا،اس نے کلائیوں اور پنڈلیوں کے تسموں کو زوردار جھٹکوں سے توڑنے کی کوشش کی مگر اسے کامیابی نہیں ہوئی تھی۔جرہم کے ہاتھ میں تھامی ہوئی مِقراض کی نوکوں کوسینہ بند کی طرف بڑھتے دیکھ کر اس کے نتھنوں سے غصے کی پھوار نکل رہی تھی۔اس کا سانس بُری طرح پھول گیا تھا۔”جرہم نہیں ….ملکہ قُتیلہ کو بے شک قتل کر دو مگر بے لباس نہ کرو….“ وہ بری طرح تڑپ اور مچل رہی تھی۔
جرہم لطف لیتے ہوئے بولا۔”ایسی اڑیل ہرنی سے پہلے بار واسطہ پڑا ہے۔خود کو نہ تھکاﺅ جانِ من،آج جو ہو رہا ہے اسے کوئی نہیں روک سکتا۔“
بے بسی کی انتہاپر انسان خود پر اختیار کھو دیتا ہے۔ اپنی انا ،خوداری اور زعم کا پاس نہیں رکھ سکتا۔اس پر بھی وہ لمحہ آگیا تھا۔پنکھڑی ہونٹ کپکپائے ،دُنبالہ آنکھوں میں نمی نمودار ہو ئی۔”ملکہ قُتیلہ بے لباس نہیں ہونا چاہتی۔“وہ بھرائی ہوئی آواز میں یوں بولی تھی کہ اسے جاننے والے کبھی بھی یقین نہ کرتے وہ شکست خوردہ قُتیلہ کی آواز ہے۔
٭٭٭
جرہم کی حویلی سے نکلتے ہوئے یشکرحاجب بن قارب کو مخاطب ہوا۔”تمھیں جرہم کے رویے میں کوئی عجیب بات نظر آئی۔“
حاجب بن قارب نے اثبات میں سر ہلایا۔”اسے اپنی امارت اور حسب نسب پر بہت غرور ہے۔“
یشکر نے منھ بنایا۔”میرا سوال قُتیلہ کے ساتھ اس کے مشکوک رویے سے ہے۔“
حاجب بن قارب کھسیانے انداز میں بولا۔”میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں تھوڑی دیر بعد ملکہ قُتیلہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ واپس تشریف لا کر ناکامی کا اعلان کر رہی ہوں گی۔“
یشکر بے چینی سے بولا۔”اپنے بھائیوں کی آزادی کے لیے کوئی اور چارہ کرنا ہوگا۔“
دریدبن صامت نے مشورہ دیا۔” یمامہ کے سردار کو اعتماد میں لے کر جرہم بن قسامہ کو مجبور کیا جا سکتا ہے۔“
”قُتیلہ کی واپسی پر ہی دوسری تجویز کے بارے سوچیں گے۔“گھوڑی کو ایڑھ لگاتے ہوئے اس نے رفتار بڑھا دی تھی۔
پڑاﺅ میں جا کر وہ جونھی خیمے کی طرف بڑھااقرم کے اس کے پاس آگیا۔
”کیا رہا سردار۔“
یشکر نے منھ بنایا۔”ہماری توقعات کے بالکل ہی خلاف۔“
”کیا گھوڑوں کے بدلے اس نے غلام دینے سے انکار کر دیا ہے۔“
اثبات میں سرہلاتے ہوئے یشکر خیمے میں گھس گیا۔
اقرم نے اس کی تقلید کرتے ہوئے پوچھا۔”آپ کے بعد ملکہ قُتیلہ نے بھی شہزادی رقاشہ کے بھیس میں ادھر کا رخ کیا تھا۔“
یشکر پھیکی مسکراہٹ سے بولا۔”میری موجودی ہی میں وہاں پہنچی تھی۔اور جہاں تک میرا اندازہ ہے ناکام لوٹے گی ،کیوں کہ جرہم کے انداز میں اس کے لیے شکوک جھلک رہے تھے۔“
اقرم نے گھبراہٹ ظاہر کی۔”پھر وہ خطرے میں ہیں۔“
”کیا مطلب؟“یشکر نے بے چینی ظاہر کی۔
اقرم نے خدشہ ظاہر کیا۔”اگر جرہم کو ملکہ پر شک ہو گیا تو وہ اسے قید کر لے گا۔بلکہ ملکہ قُتیلہ کی عزت کو خطرہ ہے۔“
یشکر اطمینان بھرے انداز میں بولا۔”میرے خیال میں جرہم کے پاس ڈیڑھ دو درجن سے زیاہ محافظ نہیں ہوں گے۔“
”تقریباََ۔“اقرم نے وضاحت طلب انداز میں سرہلایا۔
یشکر ہنسا۔”اتنے افراد کے لیے وہ فسادی اکیلی کافی ہے۔اس وقت تو اس کے ہمراہ بیس محافظ بھی ہیں۔“
اقرم نے پیشانی ظاہر کی۔”یقینا آپ جرہم بن قسامہ کے شیطانی ذہن سے واقف نہیں ہیں۔دھوکا دینا اس کا مذہب ہے۔اور وہ جنون کی حد تک مذہبی ہے۔“
”ایسے مکاروں سے نبٹنا قُتیلہ کو آتا ہے۔“یشکر اس کے اندیشوں کو اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں تھا۔
”سردار ،آپ سمجھنے کی کوشش نہیں کر رہے۔وہ دھوکے سے حملہ نہیں کرے گا۔وہ ایسی ترکیب بروے کار لائے گا کہ ملکہ قُتیلہ کو لڑنے کا موقع ہی نہیں ملے گا۔مطلب وہ انھیں کھانے پینے میں بے ہوشی کی دوا ملا کر پلادے گاتو ملکہ کیا کر پائے گی۔“
”تم مجھے پریشان کر رہے ہو۔“یشکر کا دل کسی انہونی کے خطرے سے عجیب انداز میں دھڑکنے لگا تھا۔
”میں آپ کوخبردار کر رہا ہوں۔کہیں ایسا نہ ہو کہ دیر ہو جانے کی صورت میں آپ کے پاس فقط پچھتاوے کا انتخاب ہی باقی بچے۔“
آنکھوں میں ہزاروں اندیشے چھپائے اس نے اقرم کو گھورا۔
اقرم نے جتانے والے انداز میں سرہلایا۔”سردار ،میں بچہ نہیں ہوں۔بلکہ میں کیا تمام ہم سفر جانتے ہیں کہ آپ کے لیے ملکہ قُتیلہ کی حیثیت وہ نہیں ہے جو آپ ظاہر کرتے ہیں۔ “
یشکر متفکر ہوا۔”تمھاری اس بات سے اتفاق نہ کرنے کے باوجود میں جاننا چاہوں گا کہ جرہم بن قسامہ کی گڑھی میں کیسے گھسا جا سکتا ہے۔“
”رستا مجھے معلوم ہے لیکن وہاں گھسنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔“
یشکر نے خیال ظاہر کیا۔”اگر ہم تمام لڑاکوں کے ساتھ گڑھی پر ہلہ بول دیں۔“
”شورو غل مچنے پر اس کے سیکڑوں مددگار پہنچ جائیں گے۔اور اس طرح ہمارے ساتھیوں کی جان مزید خطرے میں پڑ جائے گی اور وہ فی الفور انھیں ختم کرنے کی سوچے گا۔“
”گڑھی میں کیسے داخل ہوں گے۔اور کیا تم میرے ساتھ چلو گے۔“
اقرم خلوص سے بولا۔”دل و جان سے۔ملکہ قُتیلہ میرے ہی کام کے سلسلے میں تو گئی ہوئی ہے۔“
”تمھارا کام ؟“یشکر نے حیرانی ظاہر کی۔
اقرم ندامت سے بولا۔”وہ حوریہ بنت جرہم کے بارے معلوم کرنے گئی ہے۔“
”تیار ہوجاﺅ،مزید دیر نہیں کر سکتے۔“یشکر بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھڑا ہو گیاتھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: