Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 59

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 59

–**–**–

 دونوں آگے پیچھے چلتے ہوئے باہر آگئے۔اقرم اپنے خیمے کی طرف بڑھ گیا اور یشکر حاجب بن قارب کو بلا کر ضروری ہدایات دینے لگا۔تھوڑی دیر بعد وہ یمامہ کی طرف بڑھ رہے تھے۔اقرم بن طریف کے علاوہ اس نے ایک دوسرا آدمی بھی ساتھ لے لیا تھا جس نے یمامہ کی حدود تک جا کر ان کے گھوڑے واپس لانے تھے۔جرہم کی گڑھی کے آثار نظر آتے ہی دونوں نے گھوڑوں سے اتر کر لگامیں اپنے ساتھی کے حوالے کیں اور جرہم کی قلعہ نما گڑھی کی طرف بڑھ گئے۔وہ گڑھی عام آبادی سے کافی ہٹ کر بنائی گئی تھی۔گڑھی کے عقبی جانب بہت بڑا نخلستان تھا۔اس کی دیکھ بھال کے لیے جرہم کے درجن بھر غلام مصروف رہتے۔جن کی نگرانی چار محافظ کیا کرتے تھے۔نخلستان میں کھجوروں کے علاوہ بھی کئی قسم کے پھل دار درخت تھے۔گڑھی کے احاطے میں بھی بہت بڑا باغ بنا ہوا تھا۔
دونوں چکر کاٹ کر عقبی نخلستان میں پہنچے۔سہ پہر ہو گئی تھی۔اور اس وقت تک بھی قُتیلہ اور اس کے ساتھیوں کے واپس نہ آنے کی وجہ وہی ہو سکتی تھی جو اقرم بتا چکا تھا۔یوں بھی سج سنور کر وہ جتنی پرکشش و جاذب نظر ہو جاتی تھی وہ روز روشن کی طرح واضح تھا۔”حسن ابلنا“کسے کہتے ہیں یہ پہلی بار اس کے بناﺅ سنگار کے بعد یشکر پر آشکارا ہواتھا۔اس کی ہٹ دھرمی ،ضد،گھمنڈ،جھگڑے پر تلا رہنا،فتنہ وفساد، بے رحمی وغیرہ کے باوجود وہ یشکر کو حد درجہ عزیز تھی۔وہ کبھی گوارا نہیں کر سکتا تھاکہ اس کی عزت پر کوئی آنچ آتی۔وہ بے باک و بے لگام ضرور تھی بے حیا نہیں تھی۔مردوں کی طرح زندگی گزارنے کے باوجود یشکر نے اسے ہمیشہ اسے تن ڈھانپے ہوئے دیکھا تھا۔زیادہ سے زیادہ اپنے خیمے میں آرام کے دوران کبھی کبھار بغیر بازوﺅں کی قمیص پہن لیتی تھی۔
”عقبی دیوار کے ایک کونے میں نخلستان میں کام کرنے والے محافظوں اور غلاموں کی رہایش گاہ ہے اور دوسرے کونے میں حویلی کا عقبی دروازہ ہے۔“اقرم دبی آواز میں اسے تفصیل بتا رہا تھا۔اس وقت وہ کھجور کے تنے کے ساتھ چھپے تھے جہاں کئی نئی شاخوں نے نکل کر جھاڑی کی صورت اختیار کی ہوئی تھی۔”اس وقت غلام نئے لگائے جانے والے پھل دار درختوں کو پانی لگا رہے ہوں گے۔ کچھ درختوں کی صفائی میں مصروف رہتے ہیں۔نخلستان کے دوسرے کونے پر بھی محافظوں کا کمرہ بنا ہوا ہے۔دونوں رہائشوں میں دو دو محافظ رہتے ہیں۔غلاموں کی چھٹی غروبِ آفتاب کے وقت ہوتی ہے۔ اس کے بعد انھیں اپنی کوٹھڑیوں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوتی۔یہاں تک کہ رفع حاجت کے لیے بھی وہ پہرے دار کی منت کرتے ہیں تبھی وہ ظالم باہر آنے کی اجازت دیتے ہیں۔خلاف ورزی کرنے والے کی کھال ادھیڑ دی جاتی ہے ……..“اقرم ضروری اور کچھ غیر ضروری باتیں تفصیل سے بتاتا گیا۔ جرہم کی گڑھی کا سامنے کا دروازہ مشرقی جانب تھا۔اور غربی جانب وہ وسیع نخلستان پھیلا تھا۔
” اندھیرا چھانے سے پہلے باہر والے محافظوں سے نبٹ لیتے ہیں۔کیوں کہ مجھے نہیں لگتا اب جرہم بن قسامہ کے خاتمے کے علاوہ اس مسئلے کا کوئی حل نکل سکتا ہے۔“یشکر نے ارادہ ظاہر کیا۔
”غلاموں کی نگرانی کے لیے ہر وقت دو محاظ ساتھ رہتے ہیں باقی دو آرام کرتے ہیں۔“ اقرم نے اثبات میں سرہلاتے ہوئے کارروائی کی ترتیب کی طرف متوجہ کیا۔
”چلو….“یشکر چادر کا لثام لپیٹتے ہوئے جانے کے لیے تیار ہو گیا۔اقرم نے بھی ڈھاٹا باندھااور دونوں محتاط انداز میں چلتے ہوئے آگے بڑھنے لگے۔سب سے پہلے یشکر کی نظر جس غلام پر پڑی اس کا تعلق بنو جساسہ ہی سے تھا۔اس کا نام سباع بن صرمہ تھا۔ہاتھ میں پھاﺅڑا پکڑے وہ فالتو جڑی بوٹیوں کو زمین سے نکال رہا تھا۔دو ڈھاٹا پوش اجنبیوں کو دیکھتے ہی وہ دنگ رہ گیا تھا۔اس سے پہلے کہ وہ چیخ کرکام خراب کرتا،یشکر نے جلدی سے ڈھاٹا نیچے کیااور ہونٹوں پر انگلی رکھ کر۔”شش۔“ کرتے ہوئے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔
یشکر کا چہرہ دیکھتے ہی سباع کے چودہ طبق روشن ہو گئے تھے۔”یی….یا….یشکر….“ وہ بری طرح ہکلا گیا تھا۔
یشکر نے اس کا ہاتھ تھماتے ہوئے دبے لہجے میں کہا۔”ہاں بنو جساسہ کا سرداریشکر، تمھیں آزاد کرانے آیا ہوں۔“
سباع نے سراسیمگکی کی حالت میں کہا۔”مم….مگر یہ ممکن نہیں ہے۔“
”اس بحث کو رہنے دو،یہ بتاﺅ محافظ کہاں پر ہیں۔“
سباع نے درختوں کے گھنے جھنڈ کی طرف اشارہ کیا۔” وہاں بیٹھے غلاموں کی نگرانی کے ساتھ کھجور کی بنی شراب سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔اور دو آرام کر رہے ہیں۔“
”بنو جساسہ کے کتنے افراد نخلستان میں کام کرتے ہیں۔“
سباع نے اندازہ لگایا۔”سات آٹھ ہوں گے۔“
”جتنی دیر میں ہم محافظوں سے نبٹتے ہیںتم تمام کواکٹھا کرو اوربتادو تیار رہیں۔کسی قسم کا شور یا ہڑبونگ مچانے کی ضرورت نہیں ہے۔اور فکر نہ کرو میں اکیلا نہیں ہوں لشکر کے ساتھ آیا ہوں۔
”بنو جساسہ نے ہمیں یاد رکھا۔“سباع کی آنکھیں نم آلود ہو گئی تھیں۔
”بھائی بھلانے کے لیے نہیں ہوتے۔“اس کی پیٹھ تھپک کر یشکر اقرم کواشارہ کرتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔عُناب کے درختوں کے دوسری جانب دونوں محافظ مٹی کے بڑے آب خورے تھامے چھوٹی سی منڈیر پر نشست جمائے بیٹھے تھے۔دونوں کا رخ انھی کی جانب تھا۔دو ڈھاٹا پوش افراد کو دیکھتے ہی لمحہ بھر کے لیے وہ ہکا بکا رہ گئے تھے۔اور پھر ہاتھ میں تھامے آب خورے زمین پر رکھ کر وہ جھٹکے سے کھڑے ہوئے۔
”کون ہو تم۔“ایک محافظ نے درشت آواز میں پکارا۔دونوں نے تلواروں کے دستے پر ہاتھ رکھ دیے تھے لیکن بے نیام کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی کہ ان کے نزدیک جرہم کے محافظوں پر حملہ کرنے کا تصور ہی موجود نہیں تھا۔
یشکر اطمینان بھرے لہجے میں بولا۔”یہ جاننا تمھیں مرنے سے نہیں بچا سکتا۔“وہ ان کے قریب پہنچ گئے تھے۔
پہلی مرتبہ استفسار کرنے والے محافظ نے غضب ناک ہوتے ہوئے تلوار بے نیام کی۔”کیا بکواس کر رہے ……..“مگر بہت زیادہ تیزی کے باوجود وہ یشکر جیسی سرعت کا مظاہر نہیں کر سکا تھا۔صاعقہ جامہ اتارتے ہی برقی لہر کی طرح اس کی شہ رگ کی طرف بڑھی تھی۔ہاتھ اٹھانے کی حسرت دل میں لیے اس کا بے سر دھڑ نیچے گر گر تڑپنے لگا۔بے چارہ دھمکی آمیز فقرہ بھی مکمل ادا نہیں کر پایا تھا۔
اس کو قتل کرنے کے بعد بھی صاعقہ کی حرکت رکی نہیں تھی۔یشکر نے اس وقت چورنگ وار کیا تھا۔( تلوار کا سیدھا اور آڑا وار جو اس طرح لگایا جائے کہ ہدف چار ٹکڑے ہو کر گرے)لیکن اس طرح کہ آڑ وارسے تو پہلے محافظ کی گردن کو غلولہ بنایا اور سیدھے وار سے دوسرے محافظ کی کھوپڑی کو تربوز کی طرح کھول دیا۔اقرم بے چارہ کچھ کرنے کے بارے سوچتا ہی رہ گیا تھا۔
”دونوں کی تلواریں لے لو۔“اقرم کو ہدایت دے کر وہ آگے بڑھا۔تھوڑے فاصلے پر اسے تین چار غلام دکھائی دیے۔سباع وہیں موجود تھا۔یشکر تیز قدموں سے چلتا ہوا قریب پہنچا۔وہ تین بنو جساسہ اور دو کسی دوسرے قبیلے کے تھے۔یشکر نے تمہید میں وقت ضائع کیے بغیر مطلب کی بات شروع کر دی۔
”بغیر شور شرابے اور افراتفری کے تمام غلاموں کو یہیں پر اکھٹا کرو۔بھاگنے کی ضرورت نہیں ہے۔ہم خود تمھیں لے جائیں گے۔دو محافظ قتل ہو چکے ہیں ،باقی دو کو قتل کر کے ہم گڑھی میں گھسیں گے۔تم لوگوں نے یہیں پر انتظار کرنا ہے اور گھبرانے کی بالکل ضرورت نہیں۔میں چاہتا ہوں خاموشی اور احتیاط سے سارا کام ہو۔یمامہ سے باہر بنو جساسہ کا لشکر خیمہ زن ہے ،لیکن انھیں ہم تب بلائیں گے جب حالات ہمارے قابو سے باہر ہوئے۔“
سباع جلدی سے بولا۔”ہم سمجھ گئے سردار۔“
”یہ تلواریں پکڑ لو ،اگر جرہم کا کوئی محافظ آتا ہے تو پکڑ کر باندھ دینا یا گردن اتار دینا۔ہم آرام کرنے والے محافظوں سے نبٹ لیں۔“سباع اور بنو جساسہ کے ایک اور شخص کے حوالے تلوار کر کے یشکر نے اقرم کو مغربی جانب کی رہائش گاہ میں موجود پہرے دار کا خاتمہ کرنے بھیجا اور خود دیوار کے ساتھ بنی رہایش گاہ کی طرف بڑھ گیا۔
بستر پر دراز محافظوں پر قابو پانے میں انھیں ذرا بھی دقت نہیں ہوئی تھی۔اقرم کی واپسی پہرے دار کی تلوار کے ساتھ ہوئی تھی۔مزید دو تلواریں غلاموں کے حوالے کر کے انھیں پر سکون رہنے کی تلقین کر کے یشکر،اقرم کی تقلید میں گڑھی کی دیوار کی طرف بڑھنے لگا۔بہت زیادہ تیز رفتاری کے باوجودسورج مغرب کی جانب بیٹھ گیا تھا۔
یشکر کے دل میں رہ رہ کر ہول اٹھ رہے تھے۔گو اسے امید تھی کہ جرہم بن قسامہ ،اتنی آسانی سے قُتیلہ کی مرضی کے خلاف کچھ نہیں کر سکتا تھا،لیکن یہ حقیقت بھی جھٹلائی نہیں جا سکتی تھی کہ قُتیلہ کے ہاتھ پاﺅں جکڑ کر وہ ہر من مانی کے لیے آزاد ہوتا۔یہ علاحدہ بات کہ ایسے کسی بھی غلیظ ارادے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے عموماََ رات کے وقت کا انتخاب کیا جاتا ہے اس لحاظ سے ان کے پاس اب بھی دو تین گھڑیاں موجود تھیں۔البتہ یہ خوف ہنوز اس کا دل لرزا رہا تھاکہ قُتیلہ کی صورت اور جاذب نظر جسمانی خطوط جرہم بن قسامہ کے سفلی جذبات کو رات سے پہلے ہی برانگیختہ کر سکتے تھے۔اور اگر ایسا ہوچکا تھا تو یشکر خود کو کبھی معاف نہ کر پاتا۔قُتیلہ کی بربادی کا اصل ذمہ دار وہی ٹھہرتا تھا کہ جرہم بن قسامہ کا مشکوک رویہ دیکھنے کے بعد بھی اس نے فی الفور کوئی کارروائی نہیں کی تھی۔اگر وہ اسی وقت جرہم کو حصار میں لے لیتا تو بات یہاں تک نہ پہنچتی۔
گڑھی میں گھسنے کے لیے انھیں غروب آفتاب کا انتظار کرنا ضروری تھا۔گو چاند سرِ شام ہی روشی پھیلانا شروع کر دیتا تھا۔لیکن چاند کی روشنی میں ذرا فاصلے سے اپنے پرائے کی تمیز نہیں کی جاسکتی تھی۔جبکہ دن کی روشنی میں وہ دور سے نہ صرف نظر آجاتے بلکہ پہچانے بھی جا سکتے تھے۔
اقرم نے عقبی دیوار کی لمبائی کے نصف میں لگے ایک کھجور کے اونچے درخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔”میں اس مقام سے دیوار عبور کیا کرتاتھا۔درخت کے اوپری سرے سے رسہ باندھ کر دیوار کے اندرونی جانب لٹکا دیتا اور احتیاط سے اندرونی جانب اتر جاتا۔واپسی پر اسی رسے کے ذریعے واپسی ہوتی۔“کھجور کے درخت کی لمبائی دیوار کی کی اونچائی سے زیادہ تھی۔اور درخت دیوار سے بالکل متصل تھا۔
یشکر نے بے چینی ظاہر کی۔”مگر وہاں سے تو اندھیرے ہی میں اترا جا سکتا ہے۔“
اقرم اسے تسلی دیتے ہوئے بولا۔”رات کا انتظار کرنا تب ضروری تھا کہ نخلستان میں موجود پہرے دار باقی ہوتے۔فی الحال تو ہم محافظوں کی کوٹھڑی کے ذریعے دیوار عبور کر سکتے ہیں۔“
”انتظار کس بات کا ہے۔“یشکر تیز قدموں سے مذکورہ کوٹھڑی کی طرف بڑھ گیا۔کوٹھڑی کی بلندی دیوار سے کم تھی۔دونوں ایک دوسرے کی مدد سے کوٹھڑی کی چھت پر چڑھ گئے۔چھت سے اوپر دیوار کے کنگرے تک تین چار ہاتھ کا فاصلہ تھا۔گڑھی کے اندرونی باغ میں لگے کھجوروں کے درخت ان کے لیے نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوئے تھے۔چوڑی دیوار پر چڑھنے کے بعد بھی وہ دور کی دیکھ بھال سے بچ گئے تھے۔اندرونی جانب نزدیک کوئی درخت موجود نہیں تھا جس کا سہارا لے کر وہ نیچے اترتے۔دونوں نے دیوار سے لٹک کر نیچے زمین کے ہموار ہونے کا یقین کیا اور ہاتھ چھوڑ دیے۔لٹکنے کے باوجودان کے پاﺅں اور زمین کے درمیان چھے ساتھ ہاتھ کا فاصلہ باقی تھا۔
”دھپ۔“کی آواز کے ساتھ ان کی اڑان کا اختتام ہوا۔زقند بھر کر دونوں کھجور کے قریبی درختوں کی آڑ میں ہو گئے تھے۔درختوں کی بہتات کی وجہ سے وہاں روشنی کم تھی۔ اقرم ساری حویلی کا شناور تھا۔دونوں محتاط انداز میں حرکت کرتے ہوئے رہایشی عمارت کی طرف بڑھنے لگے۔محافظوں کی رہایش گڑھی کے عقبی دروازے کے ساتھ بنی تھی۔وہیں غلاموں کی کوٹھڑیاں بھی بنی تھیں۔وہ عمارت کا جنوب مغربی کونہ تھا۔یشکر اور اقرم اس وقت شمال مغربی جانب موجود تھے۔سورج غروب ہو چکا تھا۔ وہ وقت ایسا تھا کہ تمام غلام اور محافظ دن بھر کے کاموں کے بعد رات گزارنے کی تیاریوں میں مشغول تھے۔ غلاموں نے کھانا کھا کر کوٹھڑیوں میں بند ہو جانا تھا۔محافظوں نے آرام کے ساتھ پہرے داری کرنا تھی۔لونڈیاں مالکوں کے طعام کے بندوبست میں لگی تھیں۔
اقرم اسے ساتھ لیے عمارت کی عقبی جانب کھلنے والی ایک کھڑکیوں میں سے ایک کے قریب پہنچا۔
”یہ حوریہ کی خواب گاہ کی کھڑکی ہے۔“یشکر کے کان کے ساتھ منہ لگاتے ہوئے اس نے سرگوشی کی۔
یشکر نے نفی میں سرہلاتے ہوئے اس کے کان سے ہونٹ جوڑے۔”فی الحال رہنے دو۔ہو سکتا ہے اس کے بجائے کوئی اور وہاں رہ رہا ہو۔ہم تمام کھڑکیوں پر دباﺅ ڈال کر دیکھتے ہیں شاید کوئی اور کھلی کھڑکی مل جائے۔“
اقرم نے مایوسی بھرے انداز میں سرہلایا۔یقینا وہ جلد از جلد حوریہ کے بارے جان لینا چاہتا تھا۔لیکن یشکر کی بات میں بھی وزن تھا اس لیے وہ تکرار کیے بغیر اس کے پیچھے بڑھ گیا۔مگر تمام کھڑکیوں کو دبا کر دیکھنے پر انھیں مایوسی ہوئی تھی۔یشکر اسے ساتھ لیے حوریہ کی خواب گاہ والی کھڑکی کے قریب پہنچا۔گہرا سانس لے کر اس نے اقرم کودستک دینے کا اشارہ کیا۔
دل کی دھڑکن کو سنبھالتے ہوئے اقرم نے دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی کو موڑا اور کھڑکی کے نچلے کونے میں ایک ضرب لگائی ،لمحہ بھر ٹھہر کر اس نے دو اور ضربیں لگائیں اور پھر ذرا سے توقف سے ایک اور ضرب لگا کر ہاتھ واپس کھینچ لیا۔
دونوں دم سادھے ہر قسم کے ردعمل کے لیے تیار تھے۔ہرگزرنے والا لحظہ انھیں گھڑیوں پر محیط نظر آرہا تھا۔اچانک چٹخنی کھلنے کی ہلکی سی آواز آئی۔کھولنے والا خاصی احتیاط سے کام لے رہا تھا۔ اور یہ محتاط پن ظاہر کر رہا تھا کہ چٹخنی کھولنے والے ہاتھ وہی تھے جن کے لمس کو اقرم کا رواں رواں ترس رہا تھا۔
کھڑکی کا ایک پٹ دھیرے سے کھلا۔آسمان کے چاند کو للکارتا ہوا روشن چہرہ پردے کی اوٹ سے طلوع ہوا۔اس کا نام حوریہ رکھنے والے سے ذرا بھی بھول چوک نہیں ہوئی تھی۔
اقرم نے بے تابی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چہرے سے لپٹا لثام علاحدہ کیا۔خواب گاہ میں جلنے والی قنادیل نے اقرم کے چہرے کے خدو خال واضح کیے اور کھڑکی کے اندر کھڑی دوشیزہ نے وارفتگی سے نرم بانہوں کا ہار اقرم کے گلے میں ڈال دیا۔ساتھ ہی اس کی سسکتی آواز ابھری۔
” یقین تھا میرا اقرم اس انتظار کو اتنا طول نہیں دے گا کہ مجھے موت کی آغوش میں پناہ لینا پڑے۔“
اقرم نے اس کے چہرے کو ہتھیلیوں کے پیالے میں بھرا اور کشادہ جبیں سے پیاسے ہونٹوں کو تر کرتا ہوابولا۔
”میری رئیس زادی ،میری جان کی مالک۔“
وہ سسکی۔”رئیس زادی کی راتیں تو اس کھڑکی سے جڑ کر بیت رہی ہیں اقرم۔“
”انتظار ختم ہوا رئیس زادی۔اور اب ہمیں اندر آنے دو۔“
”ہمیں ….“حیرانی سے کہتے ہوئے اس نے باہر جھانکا۔ یشکر پر نظر پڑتے ہی وہ جذباتی کیفیت سے باہر آگئی تھی۔
دونوں باری باری اچک کراندر داخل ہوئے۔رئیس زادی حوریہ بنت جرہم کی خواب گاہ کافی وسیع تھی۔کھڑکی کے ساتھ ہی اس کی منقش پائیوں والی چوڑی مسہری رکھی تھی۔جس پرخوب صورت پھول دار چادر بچھی تھی۔ریشمی غلاف والے تکیے اوراوڑھنے کے لیے پشمینہ چادر رکھی تھی۔کمرے میں موجود باقی سامان میں بھی رئیسانہ شانہ و شوکت نمایاں تھی۔
حوریہ نے جلدی سے کھڑکی بند کی۔”یہاں زیادہ دیر نہیں بیٹھ سکتے۔کوئی بھی آسکتا ہے۔“
اقرم نے کہا۔”میں بیٹھنے نہیں تمھیں ساتھ لے جانے آیا ہوں۔“
”سچ….“حوریہ خوشی سے کھل اٹھی تھی۔مگرپھر اس کے چہرے خوف نمایاں ہوا۔” جائیں گے کہاں ؟….باباجان کے ہرکارے ہماری تلاش میں زمین آسمان ایک کر دیں گے۔“
اقرم نے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔”یہ تمھارا درد سر نہیں ہے ،بس اتنا بتا دو چلنے کے لیے تیار ہو۔“
وہ گلو گیر ہوئی۔”دل و جان سے۔اگر پہلے مان جاتے تو اتنی لمبی جدائی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔“
اقرم نے اسے ہدایت دیتے ہوئے کہا”اچھا تم دروازے کو اندر سے کنڈی رکھنا۔میرے علاوہ کسی کی آواز پر نہ کھولنا،ہم اپنی ایک ساتھی کو رہا کر اکر آتے ہیں پھر نکلیں گے۔“
حوریہ نے انکشاف کیا۔”شاید تم شہزادی کے لیے آئے ہو ،وہ تو با جان کے شبستان میں ہوگی۔“
”کیا تم نے اسے خود دیکھا ہے۔“یشکر نے پہلی بار زبان کھولی۔اس کے لہجے میں اندیشے لرزاں تھے۔
”ہاں ،باباجان کے محافظ اسے بے ہوشی کی حالت میں اٹھا کرلا رہے تھے۔لیکن بابا جان سے اس متعلق نہ پچھ سکی کہ ایسے معاملات میں وہ کسی کا مخل ہونا پسند نہیں کرتے۔“
”ہمارے پیچھے دروازہ بند کر لینا۔“یشکر کی سرخ آنکھوں اور غیظ وغضب کی شدت میں چہرے کے پھڑکتے عضلات نے اقرم کو لرزادیا تھا۔
”مگر……..؟“حوریہ نے پریشانی کے عالم میں کچھ کہنا چاہا۔
اقرم نے نرم لہجے میں قطع کلامی کی۔”سوال و جواب کا وقت نہیں ہے رئیس زادی۔تم دروازہ بند کر کے ضروری سامان سمیٹ لو۔میں تھوڑی دیرمیں آتا ہوں۔سردار یشکر، رئیس جرہم بن قسامہ سے کچھ معاملات پر بات کریں گے اور بس۔دونوں ایک دو سرے کو پہلے سے جانتے ہیں۔“
حوریہ نے رونی صورت بناتے ہوئے شک ظاہر کیا۔”پھرتم لوگ سیدھے راستے سے کیوں نہیں آئے۔“
اقرم زچ ہوتے ہوئے بولا۔”کیوں کہ یہ ملاقات یمامہ کے سردار سے چوری چھپے ہو رہی ہے۔اور محترم رئیس کے محافظوں میں چند ایسے افراد موجود ہیں جن کی ہمدردیاں یمامہ کے سردار کے ساتھ ہیں۔“
”مجھے ……..“حوریہ نے نئے سوال کے لیے ہونٹ کھولنا چاہے۔مگر یشکر نے اسے کہنی سے پکڑ کی مسہری کی طرف ٹہوکا دیا۔”رئیس زادی ،تم یہاں بیٹھ کر سوالات کی فہرست مرتب کرتی رہو۔ تمام کے جواب ایک ساتھ دے دیے جائیں گے۔اور دروازہ کسی کے لیے نہ کھولنا۔“جواب کا انتظار یا تقاضا کیے بغیر یشکر نے اقرم کو آگے بڑھنے کا اشارہ کیا۔
اقرم نے ہلکے سے سرہلا کر حوریہ کو تسلی دی اور دروازے کی طرف بڑھ گیا۔وہ یشکر کی بگڑتی حالت دیکھ چکا تھا۔دروازہ کھول کر وہ باہر نکلے۔یشکر نے فوراََ ہی دروازے کو باہر سے کنڈی کر دیا تھا۔ وہ غلام گردش میں کھڑے تھے۔جس کے دونوں جانب کمروں کے دروازے تھے۔
”اس طرف۔“اقرم ایک جانب بڑھ گیا۔وہاں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر قندیلیں روشن تھیں۔رستا آگے جا کر دو حصوں میں تقسیم ہو رہا تھا۔بائیں طرف جانے والے راستے کا اختتام ایک بڑے ہال پر ہو رہا تھاجس کے ساتھ ہی چھوٹی سی راہداری اور اندرونی عمارت کا داخلی دروازہ تھا۔اس کے بعد کشادہ بارہ دری تھی۔جبکہ دائیں جانب دو کمرے تھے۔موڑ سے نزدیک ترین کمرے کے سامنے دو محافظ پتھر کے مجسموں کی طرح استادہ تھے۔اور اقرم کے مطابق وہ جرہم کا شبستان تھا۔جبکہ سب سے آخر والا کمرہ جرہم کی لاڈلی بیوی تتالہ کا تھا۔ان کے موڑ مڑتے ہی ،دونوں کے مردہ جسم میں جیسے جان پڑ گئی تھی۔
”کون لوگ ہو تم ؟“ایک محافظ درشت مگر دبی آواز میں بولا تھا۔
”تعارف کا وقت نہیں ہے دوست۔“یشکر زقند بھرتے ہوئے اس کے قریب ہوا۔اگلے ہی لمحے اس کا ایک ہاتھ قوی ہیکل شخص کے منھ جبکہ دوسرا تیز دھار خنجر کو لیے اس کے نخرے کی طرف بڑھا۔ اقرم نے بھی سستی کا مظاہر ہ نہیں کیا۔پہرے داروں کی گردن پر خنجر چلاتے ہی انھیں تڑپنے کے لیے آہستگی سے فرش پر لٹا دیا تھا۔گلے کا رستا بقیہ جسم سے کٹنے کے بعد وہ سوائے خرخرانے کے کچھ نہیں کر سکتے تھے۔
”باہر کے حالات سنبھال لینا،دونوں لاشوں کو تتالہ کی خواب گاہ میں لے جاﺅ لیکن اس سے پہلے تتالہ اور اس کی باندیوں کو بے ہوش کر کے باندھ دو۔“یشکر، اقرم کو کہتے ہوئے بے چینی سے دروازے کے نزدیک ہوا۔اس کے کانوں میں قُتیلہ کی گھبرائی ہوئی آواز پڑی۔
”نہیں ….نہیں ….جرہم نہیں ….ملکہ قُتیلہ کو بے شک قتل کر دو مگر بے لباس نہ کرو….“
جواباََجرہم کی مکروہ آواز نے اس کی سماعتوں میں زہر انڈیلا۔”ایسی اڑیل ہرنی سے پہلے بار واسطہ پڑا ہے۔خود کو نہ تھکاﺅ جانِ من،آج جو ہو رہا ہے اسے کوئی نہیں روک سکتا۔“
اس کے کانوں میں قُتیلہ کی رُنکھی آواز پڑی۔”ملکہ قُتیلہ بے لباس نہیں ہونا چاہتی۔“ اس کے دل کو جیسے کسی نے مسل ڈالا تھا۔فخرو غرو ر میں ڈوبی ہوئی قُتیلہ کی آواز صرف اپنی عزت بچانے کے لیے اس قدر مغموم بھی ہوسکتی تھی وہ یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔اس کے اندرباہر رکنے کا حوصلہ ختم ہو گیا تھا۔اس نے اقرم کو دیکھا جو تتالہ کی خواب گاہ کے سامنے پہنچ چکا تھا۔ذرا سا پیچھے ہٹ کر اس نے دونوں کواڑوں کے درمیان کندھے کی مضبوط ضرب لگائی اور کنڈی توڑتا ہوااندر داخل ہوگیا۔
٭٭٭
بنو نوفل کے سواروں کی آمد شریم کے لیے غیر متوقع تو نہیں تھی،لیکن ان کاچار دن بعد آنا حیران کن ضرور تھا۔اندازے کے مطابق تو انھیں بادیہ وغیرہ بنو جساسہ چھوڑنے کی رات کی اگلی صبح پہنچ جانا چاہیے تھا۔اور پھر مکروہ صورت قرضم بن جدن کا استفسار سن کر تو شریم کا دماغ بھک سے اڑ گیا تھا۔وہ اس کے سامنے کھڑے ہو کر بنو نوفل کے قتل ہونے والے چھے سواروں کا حساب کتاب مانگ رہا تھا۔
شریم غم و غصے سے بھرے لہجے میں بولا۔”قرضم بن جدن،تم بنو جساسہ سے چار پانچ منزل دور قتل ہونے والے افراد کی تفتیش ہم سے کر رہے ہو۔“
”کیوں کہ چار روز قبل وہ افرادبنو جساسہ کے مضافات میں اس لیے موجود تھے کہ یہاں سے نکلنے والے ہر شخص کا تعاقب کریں گے۔ہمیں نہیں معلوم کہ اس شب یہاں سے کتنے افراد فرار ہوئے تھے۔البتہ یہ طے ہے کہ مذکورہ رات یہاں سے کچھ افرادنکلے ضرور تھے۔اور ہمارے آدمی جس جگہ پر جا کر ان سے ٹکرائے اس سے صاف معلوم ہو رہا ہے کہ یہ واقعہ روشنی میں پیش آیا جب ہمارے آدمیوں کو بنو جساسہ سے فرار ہونے والوں کی پہچان ہوئی۔میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ فرار ہونے والوں میں سردارزادی بادیہ اور یشکر موجود تھے۔“
قرضم کی گفتگو سے شریم نے یہ اندازہ ضرور لگا لیا تھا کہ بادیہ وغیرہ خیریت سے تھے ورنہ ان میں سے کسی کی لاش وہاں ضرور پڑی ہوتی۔خاص کر اس نے رشاقہ کی مہارت دیکھی ہوئی تھی۔ وہ ایک منجھی ہوئی شمشیرزن تھی۔تحمل سے کام لیتے ہوئے وہ نرمی سے بولا۔”کسی ثبوت کے بغیر الزام نہ لگائیں جناب۔یشکر اور بادیہ بہت عرصہ پہلے خلیج الفارس کے رستے فارس پہنچ چکے ہیں۔ان دو کی خاطر میں بنو جساسہ کے بچے کھُچے افراد کی تباہی نہیں کروا سکتاتھا۔“
قرضم بدتمیزی و نخوت سے بولا۔” شریم بن ثمامہ ،جھوٹ مت بولو۔تمھاری بہتری اسی میں ہے کہ یشکر و بادیہ کا پتا بتا دو۔“
شریم صلح پسندی سے کام لیتے ہوئے بولا۔”قرضم ،بنو جساسہ کے مکانات تمھارے سامنے ہیں ،تلاشی لے کر اپنی تسلی کر سکتے ہو۔“
قرضم بگڑے ہوئے لہجے میں بولا۔”جانے والے محفوظ مقام پر پہنچ چکے ہیں شریم۔اب تلاشی کسی کام نہیں آئے گی۔“
دل ہی دل میں کڑھتے ہوئے شریم نے الجھن ظاہر کی۔” بتاﺅ،تمھاری تسلی کیسے ہو گی؟“
قرضم درشتی سے بولا۔”بادیہ و یشکر کا سراغ جان کر۔“
”اونٹ گابھن کرنے کی کوششوں کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے۔“(مطلب نا ممکن کام پر مصر ہونا)شریم کا لہجہ تو نہیں البتہ الفاظ استہزائیہ تھے۔
قرضم ترکی بہ ترکی بولا۔”کسی گدھی کے اصرار پر اسے گدھا نہیں سمجھا جا سکتا۔“ (مطلب شریم جان بوجھ کر چھپا رہا تھا)
”سب سے آسان کام کمزور کے سامنے سینہ تاننا ہے۔“شریم نے طنزیہ لہجے میں دکھ کا اظہار کیا۔
قرضم برہمی سے طعنہ زن ہوا۔” بھیڑیوں کابھیڑ کی کھال اوڑھ کر مظلوم نظر آنے کی کوشش کرنا خاصا مضحکہ خیز لگتا ہے۔“
”یاد رکھنا قرضم،منزل کے متلاشی شہ سوار کانشانِ منزل سے نا آشنا ہوناسفر کی طوالت کو بڑھا دیتا ہے۔اورتم تو وہ سوار ہو جس کی منزل کی طرف پیٹھ ہے۔“(مطلب تم الٹی جانب بڑھتے جا رہے ہو)
قرضم اطمینان بھرے لہجے میں بولا۔”یقیناتمھیں غلط فہمی اس لیے ہے کہ میری منزل سے ناواقف ہو۔“
شریم معترض ہوا۔”تم نے اپنے مقتولوں کے قرب و جوار میں ثبت قاتلوں کے نشان ِقدم کی کھوج کیوں نہ لگائی۔“
”تیز ہوا نے قاتلوں کو عارضی طور پر چھپنے کا موقع فراہم کر دیا ہے ،بہ ہرحال زیادہ دن پوشیدہ نہیں رہ سکتے۔“قرضم کا لہجہ اعتماد سے پر تھا۔”اور تمھیں بھی میں چند روز کی مہلت دیتا ہوں،اگر ان دونوں کا پتا نہیں جانتے تو معلوم کرلو ورنہ اگلی دفعہ میں تفتیش کاآغاز بنو جساسہ کی کسی دوشیزہ سے کروں گا۔“زہر خند لہجے میں بات کا اختتام کرتے ہوئے قرضم نے گھوڑا موڑا۔ ساتھیوں نے اس کی تقلید کی تھی۔
٭٭٭
زوردار کھٹکا ہوا،دروازے کی کنڈی ٹوٹی اورساتھ ہی یشکر کی چہکتی ہوئی آواز ابھری۔”ملکہ قُتیلہ،بالکل بھی بے لباس نہیں ہوگی۔“
قُتیلہ کے لبوں سے رندھی ہوئی آواز میں نکلا۔”یشکرررر ……..“اس ایک لفظ میں کتنے گلے ، شکوے،شکایتیں ،تلخیاں ،امیدیں ،بھروسے،مسرتیں ،پچھتاوے،پشیمانیاں ،ناراضیاں اور جانے کیا کیا پوشیدہ تھا۔یشکر کو وہ اس وقت قُتیلہ کے بجائے الھڑو کم سن دو شیزہ لگی تھی جو وحشی درندوں کے چنگل میں پھنسی ،خوف سے تھر تھرکانپ رہی ہو۔
یشکر شوخ لہجے میں بولا۔”جی ملکہ قُتیلہ ….“
دُنبالہ آنکھوں میں پانی کے قطروں کی مقدار بڑھ گئی تھی لیکن پنکھڑی ہونٹوں پر تبسم رقصاں ہوا۔”اتنی دیر لگا دی۔“
اسی وقت حیران کھڑے جرہم نے ہکلا تے ہوئے پوچھا۔”تت….تم….تم اندر کیسے آئے ؟“
”اپنے مرنے والے محافظوں سے پوچھ لینا۔“ اطمینان بھرے لہجے میں کہتے ہوئے یشکر کا ہاتھ گھوما کنپٹی پر لگنے والے گھونسے نے اسے انٹاغفیل کر دیا تھا۔
وہ قُتیلہ کی طرف متوجہ ہوا۔باوجود اس کے کہ اس کے بازوﺅں ،سینے کے اوپری حصے، پیٹ،کمر وغیرہ پر تلوارکے درجنوں زخم تھے جو مندمل ہو کر ہلکی لکیروں کی صورت نشان چھوڑ گئے تھے۔پھر بھی وہ بدن کسی ذی عقل کوحواس باختہ کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ سانچے میں ڈھلاکسرتی بدن،جس پر فالتو گوشت کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔یشکر کا جی کیا حجرے کا دروازہ مقفّل کر کے بقیہ زندگی اس بدن کی زیارت میں گزار دے۔بقول شاعر….
ع ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ۔
اس کی محویت میں قُتیلہ کی بے صبری بھری آواز مخل ہوئی۔”کیادیکھ رہے ہو گندے ،بے شرم، ملکہ قُتیلہ کو جلدی سے کھولو۔“
جھرجھری لیتے ہوئے یشکر اس منظر کے سحر سے نکلااور نیام سے تیز دھار خنجر نکال کر اس کے ہاتھوں کے تسمے کاٹتے ہوئے ہلکے سے بڑبڑایا۔”لگتا ہے آنے میں جلدی کر بیٹھا ہوں۔“
ہاتھ آزاد ہوتے ہی اس نے یشکر سے خنجر جھپٹااوراٹھ کر بیٹھتے ہوئے پاﺅں کی بندشیں کاٹنے لگی۔مکمل آزاد ہوتے ہی اس نے کھڑے ہوکر یشکر کی چھاتی میں دو ہتڑ رسید کیے۔”کیا بکواس کر رہے تھے۔“
یشکر گڑبڑایا۔”کک….کچھ نہیں ،اپنی حماقت پر پچھتا رہا ہوں۔مم….میرا مطلب کہ اتنی دیر کیوں لگا دی۔“
”فارسی غلام باز آجاﺅ۔“اسے تیکھی نظروں سے دیکھتے ہوئے وہ برہم ہوئی۔
”لو جی ،یہ ہے نیکی کا بدلہ۔“
”ملکہ قُتیلہ یہاں تمھارے کام کے لیے آئی تھی سمجھے ناں۔“
یشکر تنک مزاجی سے بولا۔”تم جیسی فَتّانہ سے اہور مزدا ہی بچائے۔“(بہت زیادہ فتنہ اٹھانے والی)
یشکر کو جواب دیے بغیر وہ پیچھے مڑی اور جھک کر مسہری کی منقش چادر اٹھانے لگی۔
اُجلی گندمی رنگت کے عریاں کندھوں سے ہوتے ہوئے یشکر کی نظریں شفاف پیٹھ پر پھسلیں اورسنبھلنے کی کوشش کے باوجود وہ لڑکھڑاتا ہوا کافی نیچے تک چلا گیا تھا۔ کم بخت کا بدن نہیں مقناطیس تھا جس نے یشکر کی نظروں کو ایسے جکڑا تھا کہ وہ پلٹنا بھول گئی تھیں۔
”کیا دیکھ رہے ہو۔“عورتوں کا فطرتی وجدان اس معاملے میں بہت تیز ہوتا ہے۔دیکھے بغیر نظروں کی تپش نے اسے یشکر کے انہماک سے با خبر کر دیا تھا۔
یشکر ہکلایا۔”کک….کچھ نہیں ،کچھ بھی تو نہیں۔“خود پر جبر کرتے ہوئے وہ زمین پر لمبے پڑے جرہم کو دیکھنے لگا۔
وہ مسہری کی منقش چاردر کی طرف متوجہ تھی۔چادر سے کپڑے کا بڑا ٹکڑا کاٹ کر اس نے دہرا کیا۔پھرسلوٹ والی طرف سے کپڑے کو چوہرا کیا۔اور درمیان میں سوراخ کر کے سر ڈال لیا۔وہ ایسی ان سلی قمیص بن گئی تھی جیسی چھوٹی بچیاں اپنی گڑیوں کو پہناتی ہیں۔چادر سے ایک چوڑی پٹی کاٹ کر اس نے نطاق کی طرح کمر سے باندھ لی تھی۔خود ساختہ قمیص میں اس کا حسن مزید نکھر آیا تھا۔بغیر بازوﺅں کی قمیص کا اپنا ہی حسن تھا۔یشکر کی جانے رخ کرتے ہوئے وہ اطمینان بھرے لہجے میں بولی۔
”ملکہ قُتیلہ کا تجربہ بتاتا ہے کہ آنکھوں کی آوارگی پر قابو پانے والوں کی زندگی دیدبازی کرنے والوں سے طویل ہوتی ہے۔“
”اور سردار یشکر بن شریک کا تجربہ بتاتا ہے غلط فہمیوں میں زندگی گزارنے والی لڑکیاں احمق ہو تی ہیں۔“
وہ بکھرے بالوں کو سمیٹ کر ماتھے پر قساوا باندھنے لگی۔ ”چند ساعتیں پہلے ملکہ قُتیلہ غلاظت بھری نظروں کا سامنا کر چکی ہے۔اور اب ایسے احسان فراموش کو دیکھ رہی ہے جو اپنی جلد بازی پر پچھتا رہا ہے۔“یشکر کی مزاحیہ چھیڑ چھاڑ کواس نے خاصی سنجیدگی سے لیا تھا۔
”اتنی مشکل سے جان پر کھیل کر تمھیں بچانے آیا ہوں اور احسان فراموش بھی میں ہو گیا۔“
ہاں کیوں کہ تمھیں بھی غلیظ مردوں کی طرح ملکہ قُتیلہ کے بدن سے دلچسپی ہے۔“
وہ تلخی سے بولا۔”میں تھوکتا بھی نہیں ہو تم پر۔“
”کسی میں اتنی ہمت کہ وہ ملکہ قُتیلہ پر تھوک سکے۔“آزاد ہونے کے ساتھ اس کا اعتماد ہی نہیں ہٹ دھرمی ،گھمنڈ،نخریلا پن اور یشکر پر شک کرنے کی خو واپس آگئی تھی۔
”چند لمحے پہلے کا گڑگڑانا بھول گیا ہے ،ملکہ قُتیلہ بے لباس نہیں ہونا چاہتی۔“یشکر نے منھ بگاڑ کر اسے چڑایا۔
دو تین لمحے کڑے تیوروں سے یشکر کو گھورتے ہوئے اس نے ایک دم رخ پھیر لیا تھا۔ یشکر کو لگااس نے آنکھوں میں ابھرتی نمی چھپانے کی کوشش کی تھی۔
”تمھیں کب یقین آئے گا کہ میری باتیں وقتی مذاق سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتیں۔“یشکر ایک دم سنجیدہ ہو گیا تھا۔
جواب دیے بغیر وہ لمحہ بھر رخ موڑے کھڑی رہی۔اچانک ہی اس کی نگاہیں مسہری کے سرہانے کی طرف کی دیوار پر ٹنگی نیام پر پڑی۔آگے بڑھ کر اس نے خوب صورت نیام کو نیچے اتارا ،تلوار کے دستے پر ہاتھ ڈال کر باہر کھینچتے ہی اس کی غصے بھری ناراضی کافور ہو گئی تھی۔عمدہ فولاد کی بنی ہوئی تلوار جو جرہم بن قسامہ نے نجانے کتنی قیمت خرچ کر کے بنوائی تھی۔اس کے ہاتھ بالکل مفت آگئی تھی۔
بے ساختہ اس کے ہونٹوں سے پھسلا۔”یشکر،دیکھو کتنی عمدہ تلوار ہے۔“یہ کہتے ہی اس کی نظریں یشکر کی جانب اٹھیں۔ساتھ ہی لمحہ بھر پہلے کی گفتگو یاد آئی ،خفگی بھرے انداز میں ہونٹ بھینچتے ہوئے اس نے تلوار نیام میں ڈالی اور تسمے کو کمر سے باندھنے لگی۔
یشکردھیرے سے مسکرادیاتھا۔
ایک دم قُتیلہ کی خفگی، درشتی میں تبدیل ہوئی۔”تمھاری گردن اتارنے کے لیے ملکہ قُتیلہ موقع محل کو خاطر میں نہیں لائے گی۔“
وہ جان چھڑاتے ہوئے بولا۔” تم جرہم سے پوچھ گچھ کرو،میں باہر کی خیر خبر لے لوں۔“ اس کا جواب سنے بغیر وہ خواب گاہ سے باہر آگیاتھا۔دروازے پر اقرم تیار کھڑا تھا۔پختہ فرش پر گرے خون پر وہ ”پونچھا “لگا کر قریباََ صاف کر چکا تھا۔
”کیا خبر ہے ؟“
”تتالہ اور اس کے یار کوبے ہوش کر کے باندھ دیا ہے ،باقی آپ کے حکم کا انتظار ہے۔“
اس نے سوالیہ لہجے میں کہا۔”یار….؟“
”شوہر کی مصروفیت اس کچ لِپٹ (شہوت پرست عورت)کی مصروفیات کو بڑھا دیتی ہے۔ اس وقت تو جرہم کے محافظوں کے سرخیل کی پانچوں گھی اور سر کڑاہی میں تھا۔اسی وجہ سے آسانی سے میرے قابو میں بھی آگیا ہے۔“
یشکر متبسم ہوا۔”یہیں ٹھہرے رہو،گو امید تو نہیں ہے کہ کوئی اس طرف آئے گا کیوں کہ جرہم جس مصروفیت میں مشغول ہونے والا تھا ایسی حالت میں کسی کی مداخلت اچھی نہیں لگتی۔“
”ملکہ قُتیلہ محفوظ ہے نا۔“اقرم نے تسلی چاہی۔
یشکر نے شرارتی انداز میں کانوں کو ہاتھ لگایا۔”کسی کی مجال کہ ملکہ قُتیلہ کو کچھ کہہ سکے۔“
اقرم مسکرا دیا تھا۔یشکر اندر گھسا۔اسی کے کانوں میں ”چٹاخ“کی آواز کے ساتھ جرہم کی تیز کراہ پہنچی۔قریب پہنچنے تک جرہم ہوش میں آگیا تھا۔
”جرہم بن قسامہ،جتنا ہو سکا تم نے کیااب ملکہ قُتیلہ کی باری ہے۔“
وہ ہکلایا۔”مم….مجھے معاف کرو ملکہ قُتیلہ۔میں تمھیں مالامال کر سکتا ہوں۔“
قُتیلہ کے ہونٹوں پر زہر خند تبسم ابھرا۔”سودے بازی کی گنجایش تو تم نے چھوڑی نہیں، البتہ یہ تمھاری غلط فہمی ہے کہ ملکہ قُتیلہ کو مالا مال ہونے کے لیے تمھیں آزاد کرنا ضروری ہے۔“یہ کہتے ہی اس نے زوردار مکاجرہم کے جبڑے پر رسید کیا۔س
تیز کراہ کے ساتھ اس کا منھ کھل گیاتھا۔دوسرے ہاتھ میں پکڑا ہوا کپڑے کا گولہ جرہم کے منھ میں ڈال کر ہتھیلی اس کے ہونٹوں پر جمائی اور مکے والے ہاتھ سے خنجر پکڑتے ہوئے نوک جرہم کی آنکھ میں جھونک دی۔
جرہم کا جسم بری طرح لرزا،کپڑے کے گولے کے باوجود اس کے حلق سے گھٹی گھٹی۔ ”اوں….اوں….“نکلی۔قُتیلہ نے گھٹنا اس کی چھاتی پر رکھ کر اسے آرام سے تڑپنے بھی نہیں دیا تھا۔ وہ قُتیلہ تھی۔ عام حالات میں کسی کو اذیت دینا اسے مشکل نہ لگتا جرہم تو اس کا مجرم تھا۔ایک ایسا شخص کی وجہ سے زندگی میں پہلی بار وہ گڑگڑائی اور روہانسی ہوئی تھی۔اگر یشکر بروقت نہ پہنچا ہوتا تو شاید وہ اپنا غرور و خودداری کھو چکی ہوتی۔
جرہم ایک ہاتھ آنکھ پر رکھے دوسرے ہاتھ سے فرش پر بچھے قالین کو پیٹ رہا تھا۔
لمحہ بھر انتظار کے بعد قُتیلہ نے اس کے منھ سے کپڑا کھینچا۔ اس کے ہونٹوں سے اذیت بھری کراہیں ایک تسلسل سے نکلنے لگی تھیں۔
وہ بے رحمی سے مستفسر ہوئی۔”دوسری آنکھ بچانا ہے یا ملکہ قُتیلہ کے سوالوں کے جواب دینا چاہو گے۔“
جرہم اذیت بھری آواز میں ملتجی ہوا۔”ہبل کا واسطہ،سورج دیوتا کا واسطہ،ربِّ کعبہ کا واسطہ مجھے معاف کر دو۔“
قُتیلہ نے اپنے گھنے بالوں سے ہاتھی دانت کی بنی ہوئی ایک لمبوتری چمٹی نکالی اور جرہم کے منھ پر ہتھیلی رکھ کر چمٹی کو بے دردی سے اس کے کان میں آگے تک گھسیڑ دیا۔
جرہم زور سے اچھلا ،اس کا سارا جسم یوں لرزنے لگا تھاجیسے لچکیلا درخت تیز ہوا کی زد میں آجاتا ہے۔
وہ اطمینان بھرے انداز میں بولی۔”شاید تمھارے کان صاف نہیں ہیں اس لیے ملکہ قُتیلہ نے صفائی کرنا ضروری سمجھا۔“
”مم….میں تمھیں چھوڑوں گا نہیں ،تمھیں برباد کر دوں گا۔“غصے کی شدت سے کانپتے ہوئے اس نے قُتیلہ کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی۔قُتیلہ کا خنجر بدست ہاتھ اتنی پھرتی سے حرکت میں آیا تھا کہ انگوٹھے کے علاحدہ ہو کر دور جا گرنے کے بعد اسے پتا چلاتھا۔اگر قُتیلہ نے ہاتھ سے اس کے ہونٹوں کو ایک دم دبانہ دیاہوتاتویقینا اس کے حلق سے زوردار چیخ خارج ہو ئی ہوتی۔
”اوں ….اوں ….“کی آواز کے ساتھ اس کی اکلوتی آنکھ رحم کی بھیک مانگتی قُتیلہ کے بے رحم چہرے کی طرف متوجہ ہوئی۔ انگوٹھے سے خون کی دھاریں رواں تھیں۔اس کی قمیص کا دامن پھاڑ کر قُتیلہ نے کس کے انگوٹھے پر باندھاتاکہ پوچھ گچھ سے پہلے ہی وہ خون کے اخراج سے پورا نہ ہوجائے۔اس کے لیے وہ دل میں رحم کی رمق بھی نہیں پاتی تھی۔
”ملکہ قُتیلہ جو سوال کرے بغیر آئیں بائیں شائیں کے سیدھا جواب دینا۔ورنہ اگلی باری دوسری آنکھ کی ہے۔“ہلکے سے توقف کے بعد اس نے پوچھا۔”ملکہ قُتیلہ کے ساتھی کہاں ہیں؟“
وہ سرعت سے بولا۔”قق….قید خانے میں۔“
”اور قید خانہ کہاں ہے؟“
”اصطبل کے ساتھ بنی ہوئی کوٹھری کے نیچے ایک تہہ خانہ بنا ہوا ،وہیں قیدیوں کو رکھا جاتا ہے۔“جرہم نے جواب دینے میں سستی نہیں دکھائی تھی کہ قُتیلہ خنجر کو اس کی اکلوتی آنکھ کے سامنے پکڑ ے بیٹھی تھی۔
اثبات میں سرہلاتے ہوئے اس نے اگلا سوال پوچھا۔” خزانہ کہاں چھپا یاہے؟“
”مم….میرے پاس….“وہ انکار کرنے ہی لگا تھاکہ قُتیلہ نے خنجر کی نوک اس کی اکلوتی آنکھ پر رکھ دی۔
”دوسری آنکھ چلی جانے کے بعد مال و اسباب کسی کام نہیں آئے گا۔شاید تم تتالہ کو نہیں دیکھنا چاہتے۔“
وہ ہوش مندی سے بولا۔”کیاضمانت ہے کہ خزانے کا معلوم کر کے تم مجھے قتل نہیں کرو گی۔“
وہ اطمینان سے بولی۔”ملکہ قُتیلہ وعدہ کرتی ہے تمھیں جان سے نہیں مارے گی۔“
وہ گہری سوچ میں کھو گیا تھا۔
خنجر کی دھار پر انگلی پھیرتے ہوئے قُتیلہ نے اسے ڈرانے کی کامیاب کو شش کی۔”یقینا خزانہ تمھاری زندگی سے اہم نہیں ہوگا۔اور یہ بھی یادرکھنا کہ ملکہ قُتیلہ تمھیں اذیتیں دے کر قتل کرنے کے بعد خزانے کا پتا معلوم کرنے کے لیے تمھاری بیویوں پربھی تشدد کرنے سے نہیں ٹلے گی۔ ابتداءتتالہ سے ہو گی۔“
وہ اٹکتے ہوئے خزانے کے بارے بتانے لگا۔جس کا لبِ لباب یہی تھا کہ اس کی مسہری کے نیچے لکڑی کافرشی دروازہ تھا۔جس کے قفل کی چابی اس کے تکیے کے غلاف میں چھپی تھی۔
قُتیلہ نے خاموش کھڑے یشکر کو دیکھا۔وہ اثبات میں سرہلاتے ہوئے آگے بڑھا۔تکیے کا غلاف ٹٹولنے پر اسے لمبوتری سے چابی مل گئی تھی۔مسہری کوگھسیٹ کر ایک جانب کیا۔نیچے قالین کو چوکور کاٹا گیا تھا لیکن کٹا ہوا ٹکڑا اپنی جگہ پر موجود تھا۔قالین کا کٹا ہوا تکڑا اٹھاتے ہی نیچے لکڑی کا مضبوط دروازہ نظر آرہا تھا۔قالین کے ٹکرے کو واپس رکھ کر یشکر نے مسہری کو بھی گھسیٹ کر اپنی جگہ دھر دیا تھا۔
”ایک آخری سوال رئیس جرہم بن قسامہ۔“قُتیلہ چمڑے کے تسموں سے اس کے ہاتھ سامنے باندھتے ہوئے بے باکی سے بولی۔”ملکہ قُتیلہ کی پیاری پیشانی ،ملائم گالوں اور نرم لبوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے تمھیں مزہ آیا تھا کہ نہیں۔اور یہ بھی بتاﺅ،ملکہ قُتیلہ کا نیم عریاں جسم دیکھ کر تمھیں کتنی لذت محسوس ہوئی تھی۔“
جرہم تھوک نگلتا ہوا گڑگڑایا۔”مم….میں معذرت خواہ ہوں ……..“
”رئیس جرہم بن قسامہ ،شاید تمھارے دوسرے کان کا پردہ کھولنا پڑے گا،کیوں کہ اونٹ کے متعلق پوچھنے پرفاختہ کے بارے گفتگو شروع کر دیتے ہو۔“
وہ ملتجی ہوا۔”مم….میں نے جو گستاخی کی اس کی سزا میں کان ،آنکھ اور انگوٹھا گنوا کر ادا کر چکا ہوں۔ خزانے کا پتا بھی بتا دیا،اب تو معاف کر دو۔“
”ملکہ قُتیلہ کو سوال دہرانے کی عادت نہیں ہے۔“اس نے بالوں کی چمٹی کو جرہم کے سلامت کان کی طرف بڑھایا۔
اس نے سرعت سے اعتراف کیا۔”ہاں ،آیا تھامزا….“
” اب مزا لینے کی باری ملکہ قُتیلہ کی ہے۔اور جانتے ہو ملکہ قُتیلہ کودوسروں اذیت دے کر جو لذت ملتی ہے وہ بیان سے باہر ہے۔“یہ کہتے ہی اس نے جرہم کے منہ میں کپڑے کا گولا دے کر اس کی ٹانگوں کے بیچ ہاتھ ڈالا،جرہم کی اکلوتی آنکھ میں دہشت ابھری ،اس نے۔”اوں ….اوں ….“ کر کے دائیں بائیں سرہلایا۔قُتیلہ کے ہونٹوں پر زہریلی مسکراہٹ نمودار ہوئی اگلی ہی لمحے اس کے دوسرے ہاتھ میں موجود تیزدھار خنجر حرکت میں آیا،جرہم کے نازک اعضاءاب جسم کا حصہ نہیں رہے تھے۔اس کا جسم مرغ بسمل کی طرح اچھل رہا تھا۔
وہ اس کے تڑپنے پر لطف اندوز ہوتے ہوئے وہ اطمینان بھرے لہجے میں بولی۔”یقینا تم سوچ رہے ہو گے کہ ملکہ قُتیلہ نے وعدہ خلافی کی ہے ،مگر غور کرو تو یہ سراسر ملکہ قُتیلہ پر الزام ہے۔ملکہ قُتیلہ نے وعدہ کیا تھا کہ تمھیں جان سے نہیں مارے گی۔اور ملکہ قُتیلہ اس وعدے کے خلاف نہیں کرے گی۔البتہ کسی اور وجہ سے تمھاری جان چلے جانا ملکہ قُتیلہ کے وعدے کو جھوٹا ثابت نہیں کرتا۔“
جرہم اس کی باتوں پر کان دھرے بغیر رانوں کو باہم بھینچ کر بے انتہا اذیت کو برداشت کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔اس کا جسم مسلسل جھٹکے لے رہا تھا۔
یشکر سے وہ منظر نہیں دیکھا گیا ایک دم صاعقہ کو بے نیام کر تے ہوئے اس کی نوک جرہم کے دل میں اتار دی تھی۔
وہ بپھرتے ہوئے بولی۔” اس پر رحم کر رہے ہو۔جس نے ملکہ قُتیلہ کو بے لباس کرنے کی کوشش کی، رلایا،اذیت دی۔اگر ملکہ قُتیلہ کی جگہ تمھاری بادیہ کے ساتھ ایسا ہوا ہوتا پھرملکہ قُتیلہ دیکھتی تم کتنے رحم دل ہو۔“
یشکر طنزیہ لہجے میں بولا۔”اپنی سردارزادی کی طرف بڑھنے والے ہاتھ کو کاٹنے کے بجائے میں ہاتھ والے کی گردن کاٹ دیا کرتا ہوں۔یوں اذیت بھرا کھیل تمھیں ہی مبارک ہوقُتیلہ بنت جبلہ۔“
”ملکہ قُتیلہ ،تمھاری ہر بکواس برداشت کر سکتی ہے لیکن اپنے نام کا اختصار نہیں۔“تلوار بے نیام کرتے ہوئے اس نے یشکر کی طرف تانی۔
”یہ دیکھ رہی ہو۔“یشکر نے جھلاتے ہوئے ہاتھ جوڑے۔”موقع محل اور حالات دیکھ لیا کرو۔بڑی آئی ملکہ۔“رخ پھیر کر وہ دروازے کی جانب چل پڑا۔
گہرا سانس لیتے ہوئے قُتیلہ نے غصہ قابو کیا اور اس کے پیچھے چل پڑی۔یشکر ،اقرم کے ساتھ مشورہ کر رہا تھا۔
اقرم نے کہا”سردار،محافظوں کے سرخیل کو ساتھ لے جاتے ہیں۔وہی ہمیں ہمارے بندوں تک بھی لے جائے گا اور اپنوں تک بھی۔“
”چلو۔“یشکر ،تتالہ کی خواب گاہ کی طرف بڑھ گیاتھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: