Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 6

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر- قسط نمبر 6

–**–**–

سابور طلوع آفتاب سے کافی دیر پہلے سکندر ،فرطوس،اسفند ،اس کے بیٹے فاران اور دوسرے محافظوں کے ساتھ بھیس بدل کر رومی لشکر کی خبر لینے روانہ ہوا۔ دریائے دجلہ کا پل عبور کر کے وہ مابین النہرین کا درمیانی فاصلہ تیز رفتار گھوڑوں پر بیٹھ کر طے کرتے ہوئے فرات کے کنارے کی طرف بڑھنے لگے۔ دوپہر ڈھلے وہ فرات کے کنارے پہنچے تھے۔ مابین النہرین کے درمیانی علاقے کی چوڑائی مختلف مقامات پر مختلف ہے۔ سب سے کم چوڑائی مدائن (طیسفون)کے مقام پر ہے۔ لیکن یہ جگہ بھی ستر کلومیٹر سے زیادہ ہے۔
ماہی گیروں کا روپ دھار کر انھوں نے ایک عام سی کشتی میں دریائے فرات عبور کیا۔ اس جگہ دریائے فرات کا پاٹ کافی چوڑا تھا۔ فرات کے شرقی و غربی کنارے پر چھوٹی موٹی آبادیاں موجود تھیں۔ ان لوگوں کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی کے علاوہ ماہی گیری بھی تھا۔ وہاں دریا عبور کرنے کے لیے پل موجود نہیں تھا۔ مقامی لوگ چھوٹی چھوٹی کشتیوں ہی سے دریا عبور کرتے تھے۔ البتہ جنوب مشرق کی جانب چند کوس کے فاصلے پر لکڑی کا ایک پل موجود تھا۔ اسی طرح شمال مغرب کی جانب نسبتاََ مضبوط پل موجود تھا لیکن اس کا فاصلہ تین چار فرسخ سے زیادہ تھا۔ سابور نے کشتی ہی میں دریا عبور کرنا مناسب سمجھا۔ گھوڑوں کی حفاظت کے لیے انھوں نے دو محافظ وہاں چھوڑے اور بقیہ بارہ افراد کشتی میں بیٹھ گئے۔ فرات عبور کر کے اس کے حکم پر محافظوں نے وہاں موجود ماہی گیروں سے تھوڑی سی مچھلی خرید ی اوروہ پیدل روانہ ہوگئے۔
ایک ٹیکری پر چڑھ کر انھوں نے وسیع میدان میں نگاہ دوڑائی خیموں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر نظر آرہا تھا۔ دشمن کے لشکر کی کثیر تعداد نے سابور کو پریشان کردیا تھا۔ خیموں کا شہر دور تک پھیلا ہوا تھا۔ سہ پہر ہو چکی تھی۔ وہاں سے وہ دشمن کی تعداد کا صحیح اندازہ نہیں لگاسکتا تھا۔ تھوڑی دیر سوچ کر وہ فرطوس کو مخاطب ہوا۔
” چار جوانوں کو ساتھ لے کر مچھلیاں بیچنے کے بہانے لشکر میں گھس جاﺅ کسی اہم فرد کو ڈھونڈو اور جتنی معلومات مل سکتی ہے حاصل کرنے کی کوشش کرو ،ہم یہیں انتظار کریں گے۔“
فرطوس نے سرجھکا کر بادشاہ کو تعظیم دی اور اپنے ساتھ لے جانے والے آدمیوں کا انتخاب کرنے لگا۔ چار آدمیوں کو علاحدہ کر کے اس نے مچھلی کی ٹوکریاں اٹھانے کا اشارہ کیا اور وہ دشمن کے لشکر کی جانب بڑھ گئے۔
خیموں کے شروع ہوتے ہی وہ چوکنا ہو گئے تھے۔ وہاں بنو تغلب کے جنگجو وں کے دستے فروکش تھے۔ وہ ٹولیوں میں دائیں بائیں بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ چند جوان تلوار بازی کے پینترے دکھا رہے۔ انھیں نظر کرتے ہوئے وہ آگے بڑھتے گئے۔ آگے بنو انمر،بنوایاد اوربنو غسان کے خیمے تھے۔ مختلف خیموں پر مختلف رنگ کے جھنڈے لہرا رہے تھے۔ ہر قبیلے کا اپنا جھنڈا تھا۔ ایسے کشادہ خیمے ،جن کے سامنے دربان بھی متعین تھے وہ قبیلے کے سردار کی نشان دہی کر رہے تھے۔ دو تین آدمیوں نے ان کے سروں پر رکھی ٹوکریوں میں جھانکا اور مچھلی خریدنے کی خواہش کی مگر فرطوس نے ….”یہ سپہ سالار کے لیے ہے۔“کہہ کر نفی میں سر ہلادیا۔ اسے عربی کی اچھی شُدبُد تھی۔
عرب قبائل کے خیموں کے بعد شامیوں کے خیمے شروع ہو گئے تھے۔ ان کے خیمے عربوں کی نسبت بہترین تھے۔ اچانک ایک شامی عہدہ دار ان کے سامنے آیا۔
”تم لوگ یہاں کیا کر رہے ہو ؟“اس نے مشکوک لہجے میں پوچھا۔
”محترم سپہ سالار کے لیے مچھلی لے جا رہے تھے۔“فرطوس نے پرانا بہانہ گھڑا۔
”کس کے حکم پر ؟“
”ہم فرات سے مچھلیاں پکڑتے ہیں ،ہمیں معلوم ہوا کہ سپہ سالار اعلیٰ محترم یوسانوس مچھلی شوق سے تناول فرماتے ہیں اس لیے ان کے لیے تازہ مچھلی لے جا رہے ہیں۔“
انھیں باتیں کرتا دیکھ کر وہاں کچھ شامی سپاہی جمع ہو گئے تھے۔ شامی عہدہ دار نے انھیں اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
” گرفتار کر لو۔“
”ہم غریب ماہی گیر ہیں حضور رحم کریں۔“فرطوس نے خوفزدہ ہونے کی اداکاری کی۔
شامی عہدہ دار نے قریب ہو کر اس کی آستین کو بازوﺅں تک اٹھایا۔ اور اس کے بعد باقیوں کے بازووں کا بھی جائزہ لینے کے بعد وہ طنزیہ لہجے میں بولا۔ ”شاید تمھیں یہ معلوم نہیں کہ ماہی گیروں کے بازو اور باقی بدن کی رنگت میں نمایاں فرق ہوتا ہے۔ ان کی کہنیاں ننگی ہوتی ہیں اس لیے مسلسل دھوپ لگنے سے ان کی رنگت کالی یا سانولی ہو جاتی ہے۔“
”ہم بازو والی قمیص پہن کر کام کرتے ہیں۔“فرطوس گڑبڑا گیا تھا۔
”تو آج کیوں آدھی آستین کی قمیصیں پہنی ہیں۔“
”یی….یونھی ….“کوئی جواب نہ سوجھنے پر وہ منمنا کر رہ گیا تھا۔
”لے چلو انھیں۔“شامی عہدہ دار سپاہیوں کو بولا اور انھوں نے تلواریں بے نیام کرتے ہوئے انھیں گھیر ے میں لے لیا تھا۔
فرطوس کے لیے ان چند سپاہیوں پر قابو پانا مشکل نہیں تھا لیکن وہ دشمن کے لشکر کے بہت اندر تک پہنچے ہوئے تھے اور وہاں سے بھاگنا ناممکن تھا۔ وہ دل ہی دل میں تلملاتا ہوا سپاہیوں کے گھیرے میں چل پڑا۔ شامی عہدہ دار انھیں لے کر سپہ سالار کے خیمے کی طرف بڑھا۔ وہاں تک پہنچنے کے لیے انھیں تین چار فرلانگ مزید چلنا پڑا تھا۔ رومی افواج کے سپہ سالار کا خیمہ کافی کشادہ اور پر تعیش تھا۔ انھیں خیمے سے باہر کھڑا کر کے وہ دروازے پر کھڑے دربانوں کو اپنا تعارف کرا کے اندر داخل ہوا۔
کشادہ خیمہ دو حصوں پر مشتمل تھا۔ ایک حصے میں سپہ سالار کی رہایش تھی اور دوسرے حصے میں جنکی منصوبہ سازی کی جگہ بنی ہوئی تھی۔ وہاں کھال پر بنا ہوا ایک بڑا سا نقشہ لکڑی کے تختے پر رکھا تھا اور سپہ سالار ،کمان داروں اور قبایل کے سرداروں کو اکٹھا کر کے حکمت عملی ترتیب دے رہا تھا۔
اندر داخل ہوتے ہی شامی عہدہ دار نے فوجی انداز میں سپہ سالار کو تعظیم دی۔
”حضور میں یک صدی کماندار اناتوش ہوں۔“
”کہو….“
”چند فارسی جاسوس پکڑے ہیں۔“
یوسانوس مستفسر ہوا۔ ” اقرار کروا لیا ہے کہ ان کی آمد کا مقصد کیا ہے ؟“
اناتوش بولا۔ ”میں نے سوچا پہلے آ پ کے سامنے پیش کرنا مناسب رہے گا۔“
”ان سے ساری معلومات لے کر آﺅ۔“کہتے ہوئے یوسانوس نے اسے باہر جانے کا اشارہ کیا۔
اسے تعظیم پیش کر کے اناتوش باہر نکل گیا۔
٭٭٭
موسم کافی خوشگوار تھا۔ قبیلے کے سرکردہ افراد خیموں کے درمیان کھلے آسمان تلے بیٹھے تھے۔ جبلہ کے دائیں جانب قُتیلہ بھی اِحتباء(عرب بے تکلفی کے انداز میں ایک چادر پنڈلیوں اور کمر کے گرد کس کر بیٹھ جایا کرتے تھے۔ گویا بغیر کسی سہارا کے ٹیک لگا لیا کرتے تھے۔ یہ انداز احتباءکہلاتا تھا )کر کے بیٹھی تمام کی باتوں کو غور سے سن رہی تھی۔ اس نے گھنے بالوں کو حسب عادت کالے کپڑے کے ساتھ باندھا ہوا تھا۔ کم عمری ہی میں اس نے قبیلے میں ایک خاص مقام بنا لیا تھا۔ گو اسے یہ موقع سردار کی بیٹی ہونے کی وجہ سے ملا تھا۔ لیکن اس کی صلاحیتوں کو دیکھ کر کوئی پیٹھ پیچھے بھی اس کا بڑوں کی مجلس میں بیٹھنے کا برا نہیں مناتا تھا۔ بہ طور جنگجو وہ ایک سال سے لوٹ مار کی کارروائیوں میں حصہ لے رہی تھی۔
رغال نے کہا۔ ”سردار ،نئے چاند کے طلوع ہونے تک تو پانی ختم نہیں ہوگا۔ اس لیے نقل مکانی سے پہلے کسی قبیلہ پر چڑھائی کر کے موقع سے فائدہ اٹھا لینا چاہیے۔“
”قافلہ لوٹنے اور کسی قبیلے پر چڑھائی کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ قبیلے پر حملے کا مطلب ہے نہ ختم ہونے والی دشمنی کا آغاز کرنا۔ اور کیا خیال ہے میں بکر بن وائل ،بنو عبد قیس ،بنو شیبان وغیرہ پر چڑھائی کر کے بنو نسر کو صفحہ ہستی سے مٹا دوں۔“وحشی و دلیر جبلہ بن کنانہ میں اتنی سمجھ داری موجود تھی کہ وہ کسی بڑے قبیلے پر حملہ کرنے کا نہیں سوچ سکتا تھا۔
رغال مصر ہوا۔ ”سردار ،قبایل میں موجود لڑاکوں کی اکثریت روم و فارس کے درمیان ہونے والی جنگ کا ایندھن بننے پہنچی ہوئی ہے۔“
جبلہ نے کہا۔ ”جانتا ہوں ،لیکن جنگ کے خاتمے کے بعد وہ ہماری جانب متوجہ ہو جائیں گے۔“
غبشان نے کہا۔ ”کئی چھوٹے قبیلے بھی سابور ذوالاکتاف کے خلاف رومیوں کے لشکر کا حصہ بنے ہیں۔“
”ان میں زیادہ تر قبایل کسی بڑے قبیلے کے حلیف ہیں۔ (چھوٹے قبایل ،کسی بڑے قبیلوں کے حلیف بن کر اپنا مستقبل محفوظ بنا لیتے تھے۔ یوں ان قبایل پر اگر کوئی حملہ کرتا تو وہ بڑے قبیلے پر حملہ تصور ہوتا تھا )اور جو چند بچ جاتے ہیں وہ روما کی سرحد کے قریب ہیں اور وہاں جانے کے لیے بادیة السماوة (صحرائے نفود)کو عبور کرنا پڑے گا۔“
”اربد بن قیس خبر لایا تھا کہ تین سورج پہلے شام سے آنے والا قافلہ تبوک کے مقام پر رکا تھا۔ وہ چند دن وہیں قیام کا ارادہ رکھتے تھے۔ قافلے نے یثرب(مدینہ) سے گزر کر مکہ جانا ہے۔“
جبلہ نے خشمگین نظروں سے غبشان کو گھورا۔ ”میں قریش کے قافلے پر میں ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔“
”پہلے قبیلے کے لیے کسی مناسب مقام کی تلاش کو ترجیح دینا چاہیے۔“اربد بن قیس نے گفتگو میں حصہ لیا۔
”چچا اربد کی بات دل کو لگتی ہے۔“قُتیلہ نے پہلی بار زبان کھولی۔
جبلہ بن کنانہ مسکرا کر بولا۔ ”سردار زادی لڑائی سے تھک گئی ہے ،اب آرام کرنا چاہتی ہے۔“
”جب تک گوہ کے دانت قایم ہیں،قُتیلہ لڑائی سے نہیں تھکے گی۔“ (گوہ کے دانت مضبوط ہوتے ہیں کبھی ٹوٹتے ہی نہیں۔ اس لیے عرب ناممکن بات پر یہ کہاوت بولتے تھے )
جبلہ نے اسے چھیڑا۔ ”اربد بن قیس کی تائید کرنا ثابت کر رہا ہے کہ قُتیلہ کو آرام چاہیے۔“
وہ ترکی بہ ترکی بولی۔ ”چچا اربد کی تائید بوڑھے باپ کو آرام پہنچانے کی غرض سے کی ہے۔“
جبلہ اسے للکارتا ہوا بولا۔ ”میں بوڑھا ہوں یا تم بچی ،اس کا فیصلہ حاضرین کو رات کے کھانے میں بقرالوحش(نیل گائے)کا گوشت کھلانے والا کرے گا۔“
کمر و پنڈلیوں کے گر د باندھا نطاق(کپڑے کا ایک ٹکڑا جس کو عورتیں کمر پر باندھتی تھیں۔ جس کا بالائی حصہ نچلے حصے پر اور نچلا زمین تک لٹکتا تھا۔ لغوی معنی پیٹی یا کمر بند کے ہیں ) کھولتے ہوئے بولی۔ ”چچا اربداور چچا غبشان آپ دونوں بوڑھے سردار کی حفاظت کے لیے ان کے ساتھ جائیں گے۔ اور دیکھ لینا کہیں بوڑھا سردار ابوالحارث (ببرشیر) کا ادھ کھایا شکار اٹھا کر نہ لے آئے۔“
”رغال اور عیلان بن عبسہ ،تم دونوں چھوٹی بچی قُتیلہ کے ساتھ جاﺅ گے۔ اور دھیان رہے مجھ سے ابن آویٰ (گیدڑ)کا گوشت نہیں کھایا جاتا۔“باپ بیٹی ایک دوسرے پر پھبتی کستے گھوڑوں کی طرف بڑھ گئے تھے۔ آسمان پر چھائے بادل مزید گہرے ہوتے جا رہے تھے۔
٭٭٭
یوسانوس وقبایل کے سرداروں اور کمانداروں کو رخصت کر کے بہ مشکل فارغ ہوا تھا کہ اناتوش بھاگتا ہوا خیمے میں داخل ہوا۔ اس کا چہرہ جوش سے سرخ ہوا تھا۔ وہ اتنا جوش میں تھا کہ یوسانوس کو تعظیم بھی پیش نہیں کر سکا تھا۔
”محترم سپہ سالار بہت بڑی خوش خبری لایاہوں۔“پھولے سانسوں کے ساتھ وہ بہ مشکل کہہ پایا تھا۔
”خوش خبری سنانے والا انعام کا حق دار ٹھہرے گا۔“یوسانوس نے اس کا جوش دیکھتے ہوئے اس کے تعظیم پیش نہ کرنے کو نظر انداز کر دیا تھا۔
”باقی قیدی تو خاموش ہیں ایک نے زبان کھول دی ہے۔ اس کے کہنے کے مطابق شہنشاہ فارس ہمارے لشکر کا حال جاننے کے لیے فرات کا دھارا عبور کر کے مشرقی ٹیکری کے پاس موجود ہے۔ اور اس کے ہمرا ہ صرف پانچ چھے محافظ ہیں۔ قیدی نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر ہم اس کے ہمراہ مسلح افراد کا ایک دستہ بھیج دیں تو وہ شہنشاہ فارس کو گرفتار کر کے ہمارے حوالے کر دے گا۔“
یوسانوس نے گہری نگاہیں پرجوش اناتوش کے چہرے پر ڈالیں۔ ”وہ دھوکا بھی دے سکتا ہے۔“
اناتوش مصر ہوا۔ ”مجھے یقین ہے وہ سچ کہہ رہا ہے۔“
”تم رازادی سے تیس مسلح آدمیوں کا دستہ تیار کرو اور تمام کو میرے خیمے کے سامنے لے آﺅ۔ مجھے خوشی ہو گی کہ شہنشاہ فارس تمھارے ہاتھوں گرفتار ہو۔“
”میں محترم سپہ سالار کو مایوس نہیں کروں گا۔“اناتوش نے خوشی سے چہکتے ہوئے تعظیم پیش کی اور باہر نکل گیا۔
”یلویش۔“اس کے نکلتے ہی یوسانوس نے اپنے خصوصی راز دار اورمحافظ کو پکارا۔
وہ خیمے کے دروازے ہی پر کھڑا تھا۔ فوراََ ہی اندر داخل ہوتے ہوئے اس نے تعظیم پیش کی۔
”سرعت سے جاﺅ ،شرقی ٹیکریوں کے قریب ماہی گیروں کے روپ میں چند آدمی نظر آئیں گے۔ وہاں شہنشاہ فارس موجود ہو گااسے کہنا ایک لاکھ ستر ہزار کے لشکر کی قیادت کرنے والا سپہ سالار یوسانوس آداب کہہ رہا ہے۔ اور ان کے پاس وہاں ٹھہرنے کے لیے ایک لحظے کا وقت بھی نہیں ہے۔“
”جی حضور۔“کہہ کر یلویش باہر نکل گیا۔ (درحقیقت یوسانوس کو اپنے حکمران الیانوس کا ارتداد ناپسند تھا۔ الیانوس نے اہل روم پر زبردستی پرانا مذہب یعنی بت پرستی مسلط کر دیا تھا۔ یوسانوس خود اب بھی نصرانی تھا )
تھوڑی دیر بعد اناتوش مسلح افراد کے دستے کے ساتھ اس کے خیمے کے سامنے موجود تھا۔ ان کے ہمراہ اپنے شہنشاہ کا بھانڈا پھوڑنے والا فارسی جاسوس بھی موجود تھا۔ اناتوش کے بتانے پر اس نے باہر نکل کر اس دستے کا جائزہ لیا ، انھیں احتیاط اور ہوشیاری کا مشورہ دے رخصت کر دیا۔ اس بات چیت کا مطلب اس کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا کہ وہ سابور کو بھاگنے کے لیے چند گھڑیاں دینا چاہتا تھا۔
٭٭٭
”خداوند فارس ،لگتا نہیں کہ تیر رفتار گھڑ سوار خیر کی خبر لا رہا ہے۔“سکندر نے ٹیکری کی طرف آتے گھڑ سوار کو دور سے تاک لیا تھا۔
سابور اطمینان سے بولا۔ ”اکیلا سوار پیغام رسانی کے علاوہ کیا کر سکتا ہے۔“
سابور کے باقی محافظ بھی اسی طرف متوجہ تھے۔ وہ تمام یوں بیٹھے تھے جیسے مسافر سستانے کے لیے گھڑی بھر کے لیے رستے کے کنارے بیٹھ جاتے ہیں۔
گھڑ سوار متلاشی نظروں سے اطراف کا جائزہ لیتا ہوا ان کے پاس پہنچا تھا۔ گھوڑے سے اتر کر اس نے تمام کو گہری نظر سے دیکھا اور پھر اس کی نگاہ سابور کے خوب صورت اور پر رعب چہرے پر ٹھہر گئی۔ وہ اس کے سامنے تعظیماََ جھکتے ہوئے بولا۔ ”شہنشاہ فارس کی خدمت میں ایک لاکھ ستر ہزار لشکر کی قیادت کرنے والے سپہ سالار یوسانوس نے سلام بھیجا ہے۔ اور بتایا ہے کہ شہنشاہ کے پاس یہاں ٹھہرنے کے لیے ایک لحظے کا وقت بھی نہیں ہے۔ کیوں کہ شہنشاہ کوگرفتار کے لیے دستہ روانہ ہو گیا ہو گا۔“
سابور نے سکندر کی طرف دیکھ کر آنکھ سے اشارہ کیا۔ اس نے فوراََ ہی کپڑوں سے اشرفیوں کی بھری تھیلی نکال کررومی گھڑ سوار کی جانب اچھالی۔ جسے ہوا ہی میں تھامتے ہوئے یلویش دوبارہ تعظیم دینے جھک گیا تھا۔
”سپہ سالار کو کہنا اس کا قرض باقی ہے۔“
”جی شہنشاہ معظم۔“سابور کو تعظیم پیش کر کے یلویش گھوڑے پر سوار ہوا اور چکر کاٹ کر واپس اپنے لشکر کی طرف روانہ ہو گیا۔
شہنشاہ سابور نے اپنے ساتھیوں کو چلنے کا اشارہ کیا اور وہ سرعت سے دریائے فرات کی طرف بھاگ پڑے۔ وہاں پہنچتے ہی وہ بغیر کسی تاخیر کے ماہی گیروں کی کشتی میں دریا عبور کرنے لگے۔ دوسری جانب پہنچے تو اندھیرا گہرا ہونے لگا تھا۔ وہاں ان کے گھوڑے تیار کھڑے تھے۔ اس کے باوجود کہ مابین النہر کا علاقہ نسبتاََ محفوظ تھاانھوں نے گھوڑوں کی رفتار میں کمی نہیں کی تھی۔ کیوں کہ دجلہ عبور کرنے تک خطرہ بہ ہر حال موجود تھا۔
٭٭٭
اناتوش کے چہرے پر چھائی شرمندگی دیکھ کر یوسانوس مسکرایا۔ ”کہا تھا ناں جھوٹ بول رہا ہے۔“
اناتوش نے خیال ظاہر کیا۔ ”حضور، مجھے شک ہے شہنشاہ فارس کو کہیں سے سن گن ملی اور اس نے بھاگنے میں عافیت جانی۔“
”بادشاہ جاسوسی کرنے نہیں جایا کرتے۔“یوسانوس نے نفی میں سر ہلادیا تھا۔ ”بہ ہر حال قیدیوں کو میرے پاس لے آﺅ۔“
ادب سے سر جھکاتے ہوئے اناتوش واپس مڑ گیا۔ تھوڑی دیر بعد تمام قیدی اس کے سامنے کھڑے تھے۔
یوسانوس نے پوچھا۔ ”تمھارا قائد کون ہے ؟“
”یہ ہے حضور۔“ایک قیدی نے فرطوس کی طرف اشارہ کیا۔
یوسانوس نے پوچھا۔ ”کیا نام ہے تمھارا؟“
وہ مودّبانہ لہجے میں بولا۔ ”فرطوس۔“
”کیا واقعی شہنشاہ فارس یہاں آیا تھا ؟“
”نہیں۔“فرطوس نے جھوٹ بولا۔
”تم دونوں میں کسے جھوٹا سمجھوں۔“یوسانوس نے راز اگلنے والے قیدی شبران اور فرطوس کی جانب اشارہ کیا۔
فرطوس اطمینان سے بولا۔ ”جس کا جھوٹ ثابت ہو جائے۔“
”گویا یہ جھوٹا ہے۔“یوسانوس نے سخت نظروں سے شبران کو گھورا۔
”حضور ، میں نے سچ کہا ہے۔ شہنشاہ فارس ہمارے ساتھ آئے تھے۔ شاید ہمیں واپسی میں دیر ہو گئی اور خطرہ محسوس کر کے وہ لوٹ گئے ہوں۔ یہ بھی ممکن ہے ماہی گیروں کے روپ میں وہ بھی لشکر کے اندر گھس آئے ہوں۔“شبران اپنی بات سے ہٹنے کے لیے تیار نہیں تھا۔
”اپنے بادشاہ کو پیغام دے دینا ہم اتنے جنگ جو لے کر آئے ہیں جن کی گنتی مشکل ہے۔ اس کے لیے بہتر ہو گا کہ شہنشاہ فارس ،حاکمِ روم کی اطاعت کا اعلان کر کے اپنی جان بخشی کرا لے۔“فرطوس کو سندیسہ دے کر وہ اناتوش کی طرف متوجہ ہوا۔ ”ان تمام کو فرات کے کنارے چھوڑ آﺅ۔ جو بھی واپس لوٹنے کی کوشش کرے اس کی گردن اتار دینا۔“
”حضور میں واپس نہیں جانا چاہتا۔“شبران کے چہرے پر خوف ظاہر ہوا۔
یوسانوس نے کہا۔ ”جھوٹے آدمی کی ہمارے پاس کوئی جگہ نہیں ہے۔“
”خداوند یزدان کی قسم کھا کر کہتا ہوں میں نے جھوٹ نہیں کہا۔“
یوسانوس اطمینا ن سے بولا۔ ”غدار مجھے جھوٹے سے بھی زیادہ ناپسند ہیں۔“
شبران نے ملتجی نگاہیں اناتوش کی جانب اٹھائیں۔ وہ بے نیازی سے محافظ دستے کو بولا۔
”انھیں لے چلو۔“
تاریکی گہری ہو چکی تھی۔ اناتوش اور اس کے ساتھی گھوڑوں پر سوار تھے۔ قیدیوں کو پیدل ہی بھگاتے ہوئے وہ فرات کے کنارے پہنچے تھے۔
”محترم کماندار،میرے ساتھی مجھے قتل کر دیں گے۔“اناتوش کو لوٹتے دیکھ کر شبران ایک مرتبہ پھر گڑگڑایا۔
”مجھے افسوس ہے ،مگر رومی سپاہ کے کماندار ،سپہ سالار کے حکم کی خلاف ورزی کو گناہ جانتے ہیں۔“جان چھڑانے کے انداز میں کہتے ہوئے اناتوش ساتھیوں کے ہمراہ واپس چل دیا۔
فرطوس دانت پیستے ہوئے بولا۔ ”شبران ہم نہیں ماریں گے ،تمھارا فیصلہ خداوند فارس خود کریں گے۔“
”میں واپس نہیں جا رہا۔“شبران نے بھاگنے کی کوشش کی مگر فرطوس نے لپک کر اس کا بازو پکڑا اور اسے گھما کر زمین پر دے مارا۔ ”اگر دوبارہ ایسی کوشش کی تو ٹانگیں توڑ دوں گا۔“یہ کہتے ہی وہ دوسرے ساتھیوں کو مخاطب ہوا۔ ”اسے باندھ دو۔“
”انھوں نے فوراََ شبران کی قمیص اتار کر اس کے ہاتھ پشت پر باندھ دیے تھے۔
تھوڑی تگ و دو کے بعد انھیں ایک بوڑھا کشتی راں وہاں مل گیا تھا۔ فرات عبور کر کے وہ پیدل ہی چل پڑے۔ گو رستا طویل تھا مگر مدد آنے کی امید نہیں تھی اس لیے وہ چلتے رہے۔
٭٭٭
یوسانوس اپنے لشکر جلیل کے ساتھ وہیں خیمہ زن رہا۔ یہاں تک کہ روم کا بادشاہ الیانوس اپنے دارلحکومت قسطنطنیہ سے اٹھ کر وہاں پہنچ گیا۔ لشکر تیار تھا۔ سب سے زیادہ عرب قبایل بے چین تھے جن کا سابور ثانی نے کافی نقصان کیا تھا۔ موّرخین لکھتے ہیں کہ سابور ذوالاکتاف نے ستر ہزار عربوں کے بازو ان کے کندھوں سے کاٹے تھے۔ عرب اس کے خون کے پیاسے ہو رہے تھے۔ ان کا لشکر شام کی سرحد عبور کر کے سلطنت حیرہ کی حدود میں موجود تھا۔ سلطنت حیرہ شہنشاہ فارس کی دائرہ اختیار میں آتی تھی۔ وہاں سابور کے حکم سے امرءالقیس بن عمرو بن عدی عامل تھا۔ الیانوس نے وہاں پہنچ کر چند دن جائزہ لیتے گزارے اور پھر لشکر کو پیش قدمی کا حکم دے دیا۔ لشکر دریئے فرات عبور کر کے صف آراءہوا۔ فارسی افواج بھی ان کے سامنے پہنچ گئی تھیں۔
٭٭٭
قُتیلہ رغال بن ذواب اور عیلان بن عبشہ کے ساتھ اپنے قبیلے سے کافی دور نکل آئی تھی۔ وہ ایک وادی میں محو سفر تھے۔ آسمان سے ہلکی ہلکی بوندیں گرنے لگی تھیں اور ایسے موسم میں شکار کرنے کا زیادہ لطف آتا ہے۔ وہ صحرا میں کافی آگے تک پہنچ گئے تھے۔ اچانک وہ ایک نخلستان میں جا نکلے۔ پانی کا چشمہ دیکھ کر قُتیلہ معنی خیز نظروں سے ہمرائیوں کی جانب دیکھنے لگی۔
رغال نے کہا۔ ”میرا خیال ہے ہماری تلاش اختتام پذیر ہوئی۔ شکار تو کوئی نہیں ملا قبیلے کا نیا ٹھکانہ مل گیا ہے۔“
”شکار بھی ملے گا چچا۔“قُتیلہ چھلانگ لگا کر گھوڑے سے اتری۔ ناممکن ہے کہ پانی کی موجودی میں یہاں جانور نہ آتے ہوں۔“
گھوڑے ٹیلے کے پیچھے جھاڑیوں کے ساتھ باندھ کر وہ ٹیلے کے اوپر لیٹ گئے۔ انھیں زیادہ دیر وہاں نہیں ہوئی تھی کہ بقرالوحش کا غول انھیں اپنی جانب آتا دکھائی دیا۔ (نیل گائے کی چار اقسام ہیں۔ ان میں ہر قسم گرمی میں پانی مل جانے پر خوب پانی پیتی ہیں اور جب پانی نہیں ملتا تو صبر کرتی ہیں۔ اور ہوا کھانے پر قناعت کر لیتی ہیں۔ یہی صفت بھیڑیے ،گیدڑ ،ہرن،خرگوش وغیرہ میں پائی جاتی ہے۔ اسی لیے یہ جانور صحرائے عرب میں وافر نظر آتے ہیں۔ عرب میں پائی جانے والی نیل گائے ”المہا “ ہے۔ یہ گھریلو بکریوں سے مشابہ ہوتی ہیں۔ اس کے سینگ بالکل ٹھوس ہوتے ہیں )
وہ دھیرے سے ہنسی۔ ”رغال چچا دیکھ لیں آپ کے بوڑھے سردار کی شکست کی علامات کا پورا غول نظر دکھائی دے رہا ہے۔“یہ کہتے ہوئے اس نے پیٹھ پر لدے ترکش سے تیر نکال کر چلّے میں جوڑ لیا تھا۔ نیل گایوں کا غول بے فکری سے پانی پینے لگا۔ یقینا نزدیک کوئی آبادی نہیں تھی اس لیے وحشی جانور بے فکر تھے۔
”رغال چچا قُتیلہ کا کمال دیکھنا۔“چلّہ کھینچتے ہوئے اس نے ایک نیل گائے کا نشانہ سادھا اور پھر کمان کو ستر اسی درجے کا زاویہ دے کر تیر چھوڑ دیا۔ اس کے ساتھ ہی اس نے دوسرا تیر کمان میں ڈال کر چلہ کھینچتے ہوئے سیدھا نشانہ سادھا اور دوسرا تیر بھی چھوڑ دیا۔ دونوں تیر لحظے کے دسویں حصے کے وقفے سے دو نیل گایوں کے گلے میں پیوست ہو گئے تھے۔ پورا غول ناگہانی آفت سے گھبرا کر بھاگ کھڑا ہوا۔ زخمی نیل گایوں نے بھی چند قدم تک تو باقیوں کا ساتھ دیا مگر پھر گر گئی تھیں۔
”میرے ماں باپ تم پر قربان ،تم جیسا نشانے باز رغال کی آنکھوں نے آج تک نہیں دیکھا۔“ رغال نے بے ساختہ قُتیلہ کا سر تھام کر اس کا ماتھا چوم لیا تھا۔
عیلان بھی واہ ….واہ کیے بغیر نہیں رہ سکا تھا۔“قتیلہ فخر سے مسکرا پڑی۔ ان کے قریب جانے تک دونوں جانوروں کا تڑپنا آہستہ ہو کر رکنے لگا تھا۔ وہ ایک فالتو گھوڑا ساتھ لائے ہوئے تھے۔ ایک مہا کو انھوں نے فالتو گھوڑے پر باندھا اور دوسری کوقُتیلہ نے اپنے سامنے رکھ لیا تھا۔
وہ غروب آفتاب کے کافی دیر بعد واپس پہنچے تھے۔ جبلہ کے ہاتھ ایک ہرن اور خرگوش لگا تھا۔ اصولاََ وہ شرط ہار گیا تھا۔ مگر آخر وہ قُتیلہ کا باپ تھا۔ مذاق اڑانے والے انداز میں بولا۔ ” اگلا سورج طلوع ہونے کے لیے پر تول رہا ہے ،بھوکوں نے جو کی روٹی سے پیٹ بھر لیا ہے اور شکاری اب لوٹ رہے ہیں۔“
قُتیلہ نے منہ بنایا۔ ” ہارنے والوں کو ہمیشہ بہانوں کی تلاش رہتی ہے۔“
جبلہ بولا۔ ”یقینا ہرن کا گوشت مہا (نیل گائے )سے عمدہ ہوتا ہے۔“
وہ ترکی بہ ترکی بولی۔ ”بات عمدگی کی ہوتی تو میں تیتر کو شکار کرنا پسند کرتی۔“
جبلہ نے دونوں ہاتھ اس کی بغل میں دے کر سر سے بلند کرتے ہوئے کہا۔ ”کاش تم بنت جبلہ کے بجائے ابن جبلہ ہوتیں تو میں بوڑھا نہ ہونے کے باوجود گوشہ نشین ہونا پسند کرتا۔“
قُتیلہ نے پوچھا۔ ”کیا میں سرداری کی اہل نہیں ہوں۔“
وہ اسے لے کر اپنے خیمے میں داخل ہوتا ہوا بولا۔ ”بابا کی جان ،تمھاری اہلیت پر حیض کا خون سائل ہے۔“(یعنی عورت ہونے کی وجہ سے تم سردار نہیں بن سکتیں۔ عہد جہالت میں عورت کو معاشرے میں کوئی مقام حاصل نہ تھا )
”آپ کے بعد بنو نسر کی سرداری کا دعوے دار قُتیلہ کو شکست دے کر ہی احکامات کی تعمیل کرانے کا حق دار بنے گا۔“
جبلہ نے عجیب سے لہجے میں پوچھا۔ ”چاہے اس کا نسب ابن جبلہ بن کنانہ ہی کیوں نہ ہو ؟“
”ہاں۔“قتیلہ نے اثبات میں سر ہلایا۔ ”کیوں کہ قُتیلہ کے لیے بنو نسر کی سرداری کا حق دار جبلہ بن کنانہ کے بعد بنت جبلہ بن کنانہ ہے۔“
”بنو نسر کو عورت کی سرداری باعث عار لگے گی۔“
” بنو نسر کا کوئی جوان قُتیلہ کو شکست دے پایا تو قُتیلہ اس کی رعایا بننے میں عار محسوس نہیں کرے گی۔“
جبلہ نے افسوس بھرے انداز میں پوچھا۔ ”یعنی تم چاہتی ہو بنو نسر کی سردار ی ہمارے خاندان سے چلی جائے۔“
”قُتیلہ کی رگوں میں آپ ہی کا خون ہے۔“
”قُتیلہ کی اولاد کا کیا ؟“(یعنی بیٹی کی اولاد شوہر کے نام سے منسوب ہو گی)
وہ اطمینان سے بولی۔ ”جس دن قتیلہ نے شادی کی قبیلے کا سردارطرفہ بن جبلہ ہو گا۔“
جبلہ کے چہرے پر سکون نمودار ہوا۔ ”وعدہ کرو۔“
وہ بے نیازی سے بولی۔ ”قُتیلہ کاکہا عہد ہوتا ہے۔“
٭٭٭
”اسے بھوکے شیروں کے سامنے ڈال دو۔“شہنشاہ فارس سابور نے راز افشاءکرنے والے شبران کے جرم کا فیصلہ سنایا۔
شبران نے روتے گڑگڑاتے ہوئے معافی کی درخواست کرنے لگا۔ مگر سزا پر عمل درآمد کرنے والے جلادوں نے شہنشاہ کا حکم سننے کے بعد اسے بات مکمل کرنے کا موقع نہیں دیا تھا۔
چند دن بعد اسے رومی افواج کے دریائے فرات عبور کرنے کے بارے اطلاع مل رہی تھی۔ اگلے دن فارس کی افواج بھی دجلہ عبور کر کے رومن افواج کے سامنے صف آراءہو چکی تھیں۔ رومن افواج کی تعداد فارسی لشکر کی گنتی سے کہیں زیادہ تھی۔ سابور سے غلطی یہ ہوئی تھی کہ وہ اپنی مکمل سپاہ کوجمع نہیں کر سکا تھا۔ زمانہ قدیم میں لشکر کو چار حصوں میں تقسیم کیا جاتا تھا۔ میمنہ (دایاں )میسرہ (بایاں ) قلب (درمیان )اور ہراول دستہ جو عموماََ گھڑ سواروں پر مشتمل ہوتا اور مخالف لشکر سے سب سے پہلے جا کر ٹکراتا تھا۔ سپہ سالار عموماََ قلب میں یا قلبی سپاہ کے عقب میں ہوتا تھا۔ لیکن سابور لشکر کے ہراول دستے میں ہوتا۔ اس کے ہمراہ پانسو افراد کا محافظ دستہ ہوتا تھا جو تمام کے تمام اچھے شہسوار اور تیغ زنی کے ماہر ہوتے۔
طبل جنگ بجتے ہی عرب قبایل فارسی لشکر پر ٹوٹ پڑے تھے۔ فارسیوں کا ہراول دستہ ان کے گھیرے میں آگیا تھا۔ فارس کے میمنہ اور میسرہ کے سالاررومن لشکر سے گھتم گھتا ہوئے ،لیکن رومن لشکر کا قلبی حصہ ہی اتنا پھیلا ہواتھا کہ فارسیوں کے میمنہ اور میسرہ مماثل تھا۔ رومیوں کے میمنہ ومیسرا نے فارسیوں کے لشکر کو گھیرنا شروع کر دیا۔ لڑائی تین چار گھنٹوں سے زیادہ طول نہیں کھینچ پائی تھی۔ فارسیوں کے قدم میدان سے اکھڑ گئے تھے۔
سابور اس وقت عرب قبایل کے گھیرے میں تھا۔ اس کے محافظ دستے کے آدھے سے زیادی محافظ قتل ہو چکے تھے۔ سکندر نے لڑتے ہوئے ایک لمحہ کے لیے رک کر میدان جنگ کا جائزہ لیا اور شہنشاہ کو مخاطب ہوا۔
”خداوند فارس ہمیں میدان چھوڑنا پڑے گا۔ دشمن کی سپاہ نے اگر گھیرا مکمل کر لیا توخاکم بدہن ( میرے منہ میں خاک )حضور کی گرفتاری کا اندیشہ ہے۔“
”سکندر میں میدان چھوڑ کر نہیں بھاگوں گا۔“
”اسے بھاگنا نہیں پس قدمی کہتے ہیں حضور۔ ہماری تیاری نامکمل تھی۔ ہم لوٹیں گے اور بدلہ لیں گے ،مگر سنبھلنے کے لیے کچھ وقت چاہیے ہو گا۔“
”سکندر ….“سابور نے شش وپنج کے عالم میں کچھ کہنا چاہا۔ مگر سکندر نے ہمت کرتے ہوئے قطع کلامی کی۔
”خداوند فارس ہمارے پاس بحث کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ میری ذمہ داری حضور کی حفاظت ہے۔ اور میں اس سے آنکھیں نہیں چرا سکتا۔ چلیں میرے ساتھ۔“
سکندر کی بات کو مانتے ہوئے سابور نے گھوڑا موڑا فرطوس ،اسفند ،فاران اور سکندر نے بادشاہ کے گھوڑے کو نرغے میں لیا ہوا تھا سکندر سب سے آگے تھا۔ وہ رستے میں آنے والے سواروں تہہ تیغ کرتے ہوئے آگے بڑھتے گئے۔ عربوں کا ایک دستہ ان کے تعاقب میں تھا۔ سکندر نے دور ہی سے دیکھ لیا تھا کہ دشمن کے دستوں نے دجلہ کے پل پر قبضہ کر لیا تھا۔ کچھ دستے اسے طیسفون کا رخ کرتے نظر آئے۔ اس نے اپنا رخ شمال مشرق سے شمال کی طرف موڑ دیا۔ لبِ دریا تک جانے سے پہلے انھیں دشمن کے ایک بڑے دستے کا سامنا کرنا پڑ گیا تھا۔ لیکن سابور کے ہمراہ موجود چاروں محافظ خصوصی تربیت یافتہ تھے۔ ان کی تلواریں بجلی کی طرح حرکت کر رہی تھیں۔ اسی وقت فارسی سپاہ کا ایک بھگوڑا دستہ ان کی مدد کو پہنچ گیا دریا کے کنارے ایک چھوٹا میدان جنگ سج گیا تھا۔
سکندر نے چیخ کر فارسیوں کو اپنی جانب بلایا۔ وہ قریب آکر بادشاہ کو گھیرنے والوں سے ٹکرا گئے جبکہ سکندر اور اس کے ساتھی دشمن دستے کو درمیان سے چیرتے ہوئے اور سابور کے ہمراہ باہر نکلے اور اپنے گھوڑے دجلہ کے دھارے میں ڈال دیے۔ فرطوس ،اسفند اور فاران نے اپنی ڈھالیں اس انداز میں پکڑلی تھیں کہ دشمن کے چلائے ہوئے تیر یا پھینکے ہوئے نیزے ان کی ڈھالوں سے ٹکرا کر شہنشاہ کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔ پل وہاں سے مشرق کی جانب کچھ فاصلے پر تھا۔ اور بدقسمتی سے دریا کا بہاﺅ بھی پل کی جانب ہی تھا۔ کیوں کہ دریائے دجلہ و فرات قریباََشمال مغرب سے جنوب مشرق کی جانب بہتے ہیں۔
عرب قبایل کے شہ سواروں نے ان کے پیچھے دریا میں اترنے کے بجائے پل کا رخ کیا۔ یقینا وہ آگے پہنچ کر انھیں سامنے سے گھیرنا چاہتے تھے۔
ان کے دریا عبور کرنے تک عرب سواروں نے پل عبور کر لیا تھا۔ سکندر نے باہر نکلتے ہی شمال کی جانب بڑھنا شروع کر دیا۔ طیسفون کا رخ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ اس کی اولین ترجیح شہنشاہ فارس کو محفوظ مقام تک پہنچانا تھا۔ تکمیل فرض نے اس کے دماغ سے اپنے اہل و عیال کا خیال نکال دیا تھا۔
طیسفون دریائے دجلہ اوردریائے دیالی کے سنگم پر واقع تھا۔ دریائے دیالی شمال کی جانب سے آکر دجلہ میں شامل ہو رہا تھا۔ سکندر دریائے دیالی کا مشرقی کنارا لے کر آگے بڑھنے لگا۔ اس وقت ان کے نیچے اعلیٰ نسل کے گھوڑے تھے۔ وہ بجلی کی سی سرعت سے آگے بڑھتے گئے۔ رستے میں انھیں پانچ چھے فارسی فوجیوں کا دستہ نظر آیا۔
”شمبلید۔“سکندر نے چیخ کر ایک سوار کو آواز دی۔ تمام سواروں نے مڑ کر دیکھا اور شہنشاہ فارس کو دیکھتے ہی وہ رک گئے تھے۔
سکندر نے انھیں چیخ کر حکم دیا۔ ”ہم بادشاہ سلامت کو محفوظ مقام تک لے جا رہے ہیں ،پیچھے آنے والے دشمن کے سواروں کو یہیں روکو۔“
”خداوند فارس کی حفاظت کریں ،تعاقب کرنے والوں کو ہم روک لیتے ہیں۔“پر عزم لہجے میں کہتے ہوئے شمبلید اپنے ساتھیوں کے ہمراہ وہیں رک گیا تھا۔
سکندر آگے بڑھتا گیا۔ اس کا ارادہ نہاوند جانے کا تھا۔ وہاں پہنچ کر وہ شہنشاہ کی حفاظت کے لیے سپاہ کا بندوبست کر سکتے تھے۔
دو تین کوس مزید آگے بڑھنے کے بعد سکندر کو خوش قسمتی سے فارسیوں کی ایک اور ٹولی نظر آگئی تھی۔ اس نے انھیں بھی درختوں کے جھنڈ میں رک کر عرب سواروں کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے کا کہا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ آگے بڑھ گیا۔ راستے میں اکاد دکا فارسی فوجی اور کہیں کہیں چھوٹی بڑی ٹولیاں انھیں ملتی گئیں ،جنھیں ساتھ ملا کر وہ آگے بڑھتے رہے۔
عر ب سوارو ںدریائے دیالی کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتے ہوئے ان کے پیچھے تھے۔ شمبلید اور اس کے ساتھی مقابلے کے لیے وہیں رکے ہوئے تھے۔ شہنشاہ فارس کی حفاظت کی خاطر وہ عرب سواروں سے ٹکرا گئے تھے۔ عربوں کی تعداد زیادہ تھی لیکن شمبلید کے ساتھیوں کی وجہ سے ان کے تعاقب میں رکاوٹ پیدا ہو گئی تھی۔ جلد ہی شمبلید اور اس کے ساتھی قتل ہو کر نیچے لڑھک گئے تھے۔ لیکن اس دوران عربوں کے پانچ چھے سوار بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ جبکہ شہنشاہ فارس ان کی نظر سے اوجھل ہو گیا تھا۔ وہ ساتھیوں کی لاشوں کو وہیں چھوڑ کر آگے بڑھنے لگے۔ بہ مشکل دو اڑھائی کوس ہی جاسکے ہوں گے کہ اچانک درختو ں کے ایک جھنڈ سے ان پر تیروں کی بوچھاڑ آئی۔ دو سوار نیچے گر گئے تھے۔ انھوں نے فوراََ ہی لگامیں کھینچ کر گھوڑوں کو روک لیا تھا۔
وہ بنو کاظمہ ،بکر بن وائل اور بنو عبد قیس کے شہسوار تھے۔ ان کے ہمراہ بنو کاظمہ کا سردار بھی تھا۔
”سردار ،آگے جانا مناسب نہیں ہو گا۔“بنو کاظمہ کے ایک آدمی نے مشورہ دیا۔
سردار دانت پیستے ہوئے بولا۔ ”اپنے بھائیوں کی قبروں میں پکارنے والے صدیٰ کو خاموش کرانے کا اس سے اچھا موقع نہیں ملے گا۔“
بنوعبد قیس کاایک سوار بولا۔ ”محترم سردار، اس رستے پر ساسانی لشکر کی کافی ٹولیاں جان بچا کر بھاگ رہی ہیں ،انھیں میں سے ایک ٹولی ابھی ہمارا رستا روکے کھڑی ہے ،انھیں قتل کریں گے تو آگے اور ملیں گے۔ بادشاہ ملے گا یا نہیں کچھ کہہ نہیں سکتے مگر مال غنیمت سے ضروررہ جائیں گے۔ وہ کیا کہتے ہیں گور خر نہ ملے تو اس کے بچے ہی پکڑ لینے چاہئیں۔“(عرب یہ محاورہ ”بھاگتے چور کی لنگوٹی سہی“ کی جگہ استعمال کرتے ہیں )
سردارِ کاظمہ نے بنو عبد قیس کے سوار کی طرف نگاہیں اٹھائیں۔ ”چہرہ بتا رہا ہے کہ تم اعلیٰ نسب ہو۔ اور ایسے اعلیٰ نسب کا مشورہ ٹھکراکر میں بعد میں ہاتھ نہیں ملنا چاہتا۔“یہ کہتے ہی اس نے گھوڑے کا رخ موڑا۔ ”واپس چلو۔“
تمام نے گھوڑوں کا رخ طیسفون کی طرف کر کے ایڑ لگا دی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: