Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 60

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 60

–**–**–

”چلو۔“یشکر ،تتالہ کی خواب گاہ کی طرف بڑھ گیاتھا۔تتالہ اور محافظوں کا سرغنہ ہو ش میں آچکے تھے۔وقت کی کمی کے باعث اقرم انھیں ملبوس نہیں کر سکا تھا۔البتہ ہاتھ پاﺅں باندھ کر انھیں چادر سے ڈھانپ دیا تھا۔ جان چھڑانے کی حرکت کرنے کی وجہ سے چادر ان کے بالائی بدن سے کھسک گئی تھی۔
اٹھائیس انتیس سالہ تتالہ بنت طلیق سنہری بالوں اور سبز آنکھوں والی خوب صورت عورت تھی۔اس کا رنگ میدے کی طرح سفید تھا۔گول چہرہ ،لمبی گردن ،فربہی مائل بدن۔ جرہم بن قسامہ کا شیدا ہونا بلا وجہ نہیں تھا۔لیکن کردار کی غلاظت اس کے حسن کو گہنا رہی تھی۔
انھیں دیکھتے ہی دونوں کی آنکھوں میں خوف جھلکا۔
”تمھیں باہر رکنا چاہیے تھا۔“یشکر نے اقرم کو واپس بھیجا۔
اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اقرم باہر نکل گیاتھا۔
قُتیلہ بد لحاظی سے بولی۔”تم ہو تتالہ بن طلیق! یمامہ کی سب سے بڑی قُطّامہ۔“ (فاحشہ، طوائف ، تیز طرار عورت)
تتالہ تھوک نگلتے ہوئے بولی۔”تمھارے معاملے میں ہم بے قصور ہیں۔“
وہ شوخی سے ہنسی۔”تو اس میں ملکہ قُتیلہ کا کیا قصور۔“
تتالہ نے ہچکچاہٹ سے پیش کش کی۔”میں تمھیں فائدہ پہنچا سکتی ہوں۔“
”کھل کر بولو۔“یشکر نے چادر اٹھا کر اس کے برہنہ جسم پر ڈالتے ہوئے شہہ دی۔
”جرہم کا قتل تم لوگ اتنی آسانی سے ہضم نہیں کر سکو گے۔ یمامہ کا سردار تفتیش ضرور کروائے گا۔اور جلد یا بدیر تمھارے گروہ تک پہنچ جائے گا۔“ تتالہ انھیں کسی قزاق گروہ کا حصہ سمجھ رہی تھی۔
”دھمکا رہی ہو۔“قُتیلہ کے ہونٹوں پر زہریلی مسکراہٹ ابھری۔”جانتی ہو ملکہ قُتیلہ دھمکی دینے والے کا کیا حشر کرتی ہے۔“
”د….دھ….دھمکا نہیں رہی۔“وہ ہکلا گئی تھی۔”حقیقت سے پردہ اٹھا رہی ہوں۔“
یشکر نے سنجیدگی سے پوچھا۔” تم کیا کر لو گی؟“
”مجھے زندہ چھوڑ دو،اس کو بھی۔“اس نے محافظوں کے سرخیل کی طرف اشارہ کیا۔ ”یہاں سے جو چاہیے لے جاﺅ۔تمھارے جانے کے بعد میں سب کچھ سنبھال لوں گی۔“
قُتیلہ نے پوچھا۔”جرہم کو کیا جواب دوگی۔“
وہ اطمینان سے بولی۔” اسے ختم کر دویا بے ہوش کر کے میرے حوالے کر دو۔اسے اور اس کے بہی خواہوں کو قتل کر دوں گی۔تمھارے جانے کے بعد ان کی لاشیں دفن کر کے مشہور کر دوں گی کہ وہ تجارتی سفر میں دبا یا حیرہ کی طرف کوچ کر گیا ہے۔اور پھر وہ کبھی نہیں لوٹے گا۔“
قُتیلہ معنی خیز لہجے میں بولی۔”خیر،اسے ملکہ قتل کر چکی ہے۔ یہ بتاﺅ اس کا کوئی خزانہ وغیرہ بھی ہے یا سب کچھ تم پر لٹا چکا ہے۔“
”بالکل ہے۔“تتالہ نے اثبات میں سرہلایا۔”اس کی مسہری کے نیچے تہہ خانے کا دروازہ ہے۔چابی تو نہ معلوم کہاں رکھتا ہے ،لیکن قفل کو توڑنا اتنا مشکل بھی نہیں ہوگا۔تم سارا خزانہ لے جا سکتے ہو۔اس کے بہترین گھوڑے ،اونٹ، باندیاں ،غلام وغیرہ سب کچھ تمھارا ہوا۔میرے لیے اس کے نخلستان، بھیڑ بکریاں اور جو کچھ وہ مجھے دے چکا ہے ،کافی رہے گا۔“
یشکر نے پوچھا۔”اس کی باقی بیویاں بھی ہیں۔“
”انھیں میں سنبھال لوں گی۔یقینا آزادی کی زندگی وہ بھی گزارنا چاہیں گی۔انکار کرنے والی کو اس کے ساتھ ہی دفنا دوں گی۔“
قُتیلہ نے اسے کھلے لفظوں میں دھمکایا۔”اگر جانناچاہو کہ دھوکا دینے والے کے ساتھ ملکہ قُتیلہ کیا سلوک کرتی ہے تو جرہم کی لاش کو دیکھ لینا۔“
تتالہ جلدی سے بولی۔”جرہم کو قتل کر کے اگر مجھے زندہ چھوڑدو گی تو تمھیں دشمن نہیں محسن سمجھوں گی اور محسنوں کو دھوکا نہیں دیا جاتا۔“
یشکر تلخی سے بولا۔”محسن تو تمھارا جرہم بھی تھا۔“
”بالکل بھی نہیں۔“اس نے نفی میں سرہلایا۔”اس نے دولت کے زور پر قبضہ جمایا ہوا تھا۔ میری آزادی سلب کی ہوئی تھی۔وہ میری راہ کا سب سے بڑا روڑا تھا۔ آئے روز اسے تم جیسی دوشیزاﺅں کا قرب نصیب رہتا تھا۔ہم تو کئی کئی روز تک اس کی راہ دیکھتی رہ جاتیں۔اور پھر بھی وہ ہم سے یہ توقع رکھتا تھا کہ صرف اسی کی ہو کررہیں۔“
وہ بپھر کر بولی۔”تمھیں ملکہ قُتیلہ اتنی سستی نظر آئی ہے۔“
یشکر نے اسے ٹھنڈا کرنا چاہا۔”اس کا یہ مطلب نہیں تھا……..“
وہ بگڑ کر بولی۔”تم خاموش رہو فارسی غلام!“
یشکر ترکی بہ ترکی بولا۔”جرہم بن قسامہ کی لونڈی کو معلوم ہونا چاہیے میرا نام یشکر بن شریک ہے۔“
اسے شعلہ برساتی نظروں سے گھورتے ہوئے قُتیلہ نے گہرا سانس لیااور تتالہ کی طرف متوجہ ہوئی۔”اپنے الفاظ واپس لے کر جان بچا نے کی کوشش کر سکتی ہو۔“
تتالہ جلدی سے بولی۔”معافی چاہتی ہوں ،میرا ہرگز یہ مطلب نہیں تھا۔اور میں اپنے الفاظ واپس لیتی ہوں۔“
”تمام غلاموں اور لونڈیوں کو ملکہ قُتیلہ ساتھ لے کر جائے گی،جرہم کے اونٹ ، گھوڑے ، خزانہ اور حوریہ بنت جرہم کوبھی۔“
”منظور ہے۔“تتالہ نے فوراََاثبات میں سرہلادیاتھا۔
”اگر کسی کو بھی اس معاملے کی بھنک پڑ گئی اور کوئی کھوجی ہمیں اپنی تلاش میں پھرتا نظر آیا،یقین مانوملکہ قُتیلہ تمھیں عبرت کی داستانوں کا حصہ بنا دے گی۔“
”حقیقت تو یہ ہے کہ جرہم کی جائیداد پر میں تبھی قابض رہ سکتی ہوں جب اس کی موت کی خبر راز رہے۔اگر یمامہ کے سردار کو سن گن مل گئی کہ وہ قتل ہو گیا ہے تو کمینہ سب سے پہلے مجھ پرہاتھ صاف کرنے کی کوشش کرے گا۔“
یشکر مستفسرہوا۔”آخرایک دن تو جرہم کی موت کا اعلان کرنا پڑے گا۔“
”ہاں ،لیکن اس وقت تک میں اپنے گرد اتنے جان نثارمحافظوں کو اکٹھا کر لوں گی کہ یمامہ کے سردار کو مجھ پر ہاتھ ڈالنے کی ہمت نہیں ہو سکے گی۔“
”معاہدہ پکا ہوا۔“اطمینان بھرے انداز میں کہتے ہوئے یشکر نے تیز دھار خنجر سے دونوں کی بندشیں کاٹ دی تھیں۔البتہ یہ احتیاط ضرور کی تھی کہ تتالہ کا جسم عریاں نہ ہو۔مگر بندشیں کٹتے ہی تتالہ بے باکی سے جسم پر پڑی چادر کو ہٹا کر کھڑی ہو گئی تھی۔اس کے جسم پر لباس کا تار بھی موجود نہیں تھا۔یشکر نے فوراََ ہی رخ موڑ لیا تھا۔
قُتیلہ نے یشکر کو گہری نگاہ سے دیکھا۔”ملکہ قُتیلہ کی باری پر تو جلد آنے پر پشیمان تھے اب کیوں رخ موڑ لیا۔“
یشکر نے بے ساختہ قہقہ لگایا۔”جانے کب تمھاری غلط فہمیاں ختم ہوں گی۔بادیہ کے ہوتے تتالہ جیسی خوش بدن عورت بھی یشکر کو نہیں لبھا سکتی تو تم جیسی سوکھی سڑی کی کیا اہمیت۔“
”بے ہودہ فارسی غلام!“قُتیلہ کا منھ بن گیا تھا۔
تتالہ کپڑے پہن کر بیٹھ گئی۔محافظوں کے سرخیل نے بھی کپڑے پہن لیے تھے۔ وہ مسلسل خاموش تھا۔ یقینا ایک ملازم ،مالکوں کے درمیان بات چیت کا استحقاق نہیں رکھتا تھا۔
”ملکہ قُتیلہ سب سے پہلے اپنے ساتھیوں کو رہا کرانا چاہے گی۔“
”تمھاری آمد کا کس کس کو علم ہے۔“تتالہ کے لہجے میں اعتماد در آیا تھا۔
یشکراطمینان سے بولا۔ ”تم دونوں کے علاوہ کوئی بھی جاننے والا باقی نہیں رہا۔نخلستان میں کام کرنے والے غلام بھی ہماری آمد سے واقف ہیں لیکن وہ تمام ہمارے ساتھ ہی جائیں گے۔اور جرہم کی موت کا تو انھیں بھی علم نہیں ہے۔“
”کیا۔“تتالہ کے لہجے میں خوشگوار حیرت تھی۔”وہاں چار محافظ بھی ہوتے ہیں۔“
”محافظ تو جرہم کی خواب گاہ کے سامنے بھی کھڑے تھے۔“یشکر نے بے پروائی سے کندھے اچکاتے ہوئے لاشوں کی طرف اشارہ کیا۔
”تم نے میرا کام اتنا آسان کر دیا ہے کہ بیان نہیں کر سکتی۔“یشکر کو دیکھتے ہوئے اس نے دلا آویز مسکراہٹ اچھالی۔شاید یشکر کے تعریفی الفاظ نے دل میں غلط فہمی کا بیج بویا تھا یا وہ تھی ہی ایسی ۔
یشکر نے خشک لہجے میں پوچھا۔”توکیا سوچا ہے۔“
”خارجہ بن نویر ساتھ جائے گا،تمھیں کہیں پر بھی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔سب سے پہلے تم اپنے ساتھیوں کو رہا کراﺅ۔پھر خارجہ میرے دو قابل اعتماد افرادکے ساتھ جا کرنخلستان والے محافظوں کی لاشوں کو مٹی میں دبا دے گا۔جرہم اور ان دو کی لاشوں کو بھی فی الحال تہہ خانے میں چھپا دیں گے۔“تتالہ خواب گاہ میں پڑی لاشوں کی جانب اشارہ کیا۔”اور پھرجرہم کا قافلہ بھی آج رات کوروانہ ہوگا۔اونٹوں پر تم اپنے مطلب کا سامان لاد لینا۔ میں مشہور کر دوں گی کہ مرنے والے محافظ اس کے ساتھ چلے گئے ہیں۔ “ تتالہ گویا تمام منصوبہ سوچے بیٹھی تھی۔
یشکر، قُتیلہ کو مخاطب ہوا۔” میں خارجہ کے ساتھ جا رہا ہوں تم یہیں رہو۔“
اثبات میں سرہلائے بغیر اس نے مسہری پر نشست سنبھال لی تھی۔
یشکر کے لیے اس ہٹ دھرم کا یوں آسانی سے مان جانا ششدر کر دینے والا تھا۔لیکن حیرانی ظاہر کیے بغیر وہ خارجہ کے ساتھ باہر نکل گیا۔ اقرم نے سوالیہ نظروں سے اسے گھورا۔یشکر نے ہدایت دی۔
”جرہم کی خواب گاہ میں کسی کو نہ گھسنے دینا۔“
اقرم نے اثبات میں سر ہلا۔”میں ساری گفتگو سن چکا ہوں۔“
یشکر ،خارجہ کے ہمراہ آگے بڑھ گیا۔اقرم جرہم کی خواب گاہ کے سامنے کھڑا ہو گیا تھا۔
٭٭٭
یشکر کے جاتے ہی قُتیلہ تحسین آمیز لہجے میں بولی۔”تمھاری منصوبہ بندی اور بے رحمی ملکہ قُتیلہ کو اچھی لگی۔ایک عورت کو ایسا ہی ہونا چاہیے۔تم میں اور ملکہ قُتیلہ میں بس یہی فرق ہے کہ ملکہ قُتیلہ کی مرضی کے بغیر کوئی اسے ہاتھ نہیں لگا سکتا۔“
تتالہ اطمینان سے بولی۔”میری مرضی کے بغیر بھی کوئی مجھے ہاتھ نہیں لگا سکتا۔“
وہ فخریہ لہجے میں بولی۔” تم سمجھی نہیں۔دراصل ملکہ قُتیلہ کو کوئی مرد بھی ہاتھ نہیں لگا سکتا۔“
تتالہ صاف گوئی سے بولی۔”لمبے بالوں واے خوبرونوجوان کو دیکھنے کے بعد تمھاری بات پر یقین کرنا مشکل لگ رہا ہے۔“
اس کے ہونٹوں پر زہریلی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔”ملکہ قُتیلہ تمھیں یقین دلا سکتی ہے۔“
تتالہ نے نظر اٹھا کر پرکشش و جاذب نظرحسینہ کو دیکھا۔اس کا دل خوف سے ”دھک دھک“ کرنے لگا تھا۔سیاہ دُنبالہ آنکھوں میں ایسارعب پوشیدہ تھا کہ وہ نظر چرانے پر مجبور ہو گئی تھی۔
”برا لگا ہو تو معذرت خواہ ہوں۔میں نے اپنی فطرت کا اظہار کیا تھا۔ضروری نہیں کہ ہر لڑکی میری طرح سوچتی ہو۔“
اس کی معذرت نے قُتیلہ کے سیلابی غصے کے سامنے بند باندھ دیا تھا۔”ملکہ قُتیلہ تمھاری سمجھ داری کی قائل ہو گئی ہے۔“
تتالہ ہچکچاتے ہوئے بولی۔”مجھے لگتا ہے تم اس گروہ کی سردارن ہو۔اگر برا نہ مانو تو یشکر مجھے بخش دو۔“
”ملکہ قُتیلہ ،گروہ کی نہیں دو قبیلوں کی سردارن ہے۔اور ملکہ قُتیلہ کہلوانا پسند کرتی ہے۔اوروہ اپنی مرضی کا مالک ہے۔“
” ملکہ قُتیلہ کا حکم نہیں مانے گا۔“تتالہ حیران رہ گئی تھی۔
قُتیلہ نے تلخی بھرے لہجے میں انکشاف کیا۔”وہ خود سردار ہے۔یہاں اپنے قبیلے کے قیدیوں کو چھڑانے آیا ہے۔“
تتالہ ملتجی ہوئی۔”اگر اجازت دو تو میں اسے روکنے کی کوشش کرتی ہوں۔“
”اگر الفاظ ضائع کرنے کا شوق ہے تو کر لو کوشش۔“
”شکریہ۔“تتالہ خوشی سے چہکی۔” تم اس کے نہ رکنے پر اتنی پر اعتماد کیوں ہو۔“
”کیوں کہ اس کی بیوی تم سے کئی گنا زیادہ خوب صورت ہے۔اور وہ شدت سے اس کی واپسی کی منتظر ہو گی۔“
تتالہ نے عجیب لہجے میں پوچھا۔”تم سے بھی خوب صورت ہے؟“
”ملکہ قُتیلہ کو خوب صورت کہلوانے کا کوئی شوق نہیں ہے۔“
تتالہ دعوے دار ہوئی۔”مجھے ہے۔اور امید کرتی ہوں اس چھوکرے کو قابومیں کر لوں گی۔“
قُتیلہ طنزیہ لہجے میں بولی۔”خوش فہمیوں سے نکل آﺅ محترمہ! اگر اس کے نزدیک تمھارے حسن کی ذرا بھی وقعت ہوتی تو عریاں بدن سے چہرہ موڑ نہ لیتا۔“
تتالہ بے باکی سے بولی۔”تم سے شرما رہا ہوگا۔“
”ملکہ قُتیلہ کو فضول تکرار کی عادت نہیں ہے۔اگر اسے روک لو تو ملکہ قُتیلہ جرہم کا سارا خزانہ یہیں چھوڑ کر چلی جائے گی۔“
تتالہ عزم سے بولی۔”اب تو ضرور کوشش کروں گی۔“
قُتیلہ نے موضوع تبدیل کیا۔”ہمارے جانے کے بعد محافظوں کا سردا راز فاش کرنے کی دھونس جما کرتم سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتا ہے۔“
تتالہ نے بے شرمی سے دانت نکالے۔”وہ جائز اور ناجائز ہر قسم کے فائدے بغیر کسی دھونس کے اٹھا سکتا ہے۔باقی حقیقت یہ ہے کہ میرے تینوں ہم رازوں کی زندگی کا سفر پورا ہونے والا ہے۔ جلد ہی میں نئے اور تگڑے محافظوں کا بندوبست کر کے ان کا پتا کاٹ دوں گی۔کیوں کہ میں چراغ کوہوا میں رکھ کر جلانے کی بے وقوفی نہیں کیاکرتی۔“(مطلب چراغ کھلی ہوا میں جلد بجھ جاتا ہے)
قُتیلہ نے تلخی سے پوچھا۔”تم نے کہاتھا محسنوں کو دھوکا نہیں دیتی ہو۔“
تتالہ نے اطمینان بھرے انداز میں دلائل پیش کیے۔”وہ محسن نہیں مطلبی ہیں۔باقی ان کا کام مالک کی حفاظت کرنا ہے۔اس مقصد کے لیے ان کا جان کی قربانی سے دریغ کرنا غداری و بددیانتی کے زمرے میں آئے گا۔اور اتنا تو تم جانتی ہو ان کی موت ہی میری بقا کی ضامن ہے۔“
قُتیلہ نے معنی خیز انداز میں قہقہ لگایا۔”تم مار نہیں کھانے والیں۔ اگر تم میں ایک خامی نہ ہوتی تو ملکہ قُتیلہ تم سے دوستی کر سکتی تھی۔“
وہ بے باکی سے بولی۔”میں اسے خوبی گردانتی ہوں ملکہ !کیوں کہ عورت کو قابو کرنے کے لیے مرد اپنی طاقت استعمال کر سکتا ہے تو مرد کے خلاف عورت کو اپنے ہتھیار استعمال کرنے میں شرمندہ نہیں ہونا چاہیے۔“
قُتیلہ تلخی سے بولی۔”ملکہ قُتیلہ کسی مرد کی برتری تسلیم نہیں کر سکتی۔“
تتالہ نے شوخی سے پوچھا۔”کب تک؟“
”جب تک ملکہ قُتیلہ میں مقابلے کی سکت ہوئی لڑے گی،ورنہ مر جائے گی۔“
”کیا تم نے آج تک کسی سے شکست نہیں کھائی؟“تتالہ ششدر رہ گئی تھی۔
”جان بوجھ کر کسی کو جیتنے کا موقع دینے کو نظر انداز کر دوں تو ہاں۔“
تتالہ مستفسر ہوئی۔”قصداََ ہارنے کی وجہ؟“
وہ صاف گوئی سے بولی۔”جھگڑے کا اختتام ملکہ قُتیلہ کی ہار میں مضمر تھا۔جیتنے کی صورت میں کسی ایسے کو قتل کرنا پڑتا جسے ملکہ قُتیلہ قتل نہیں کرنا چاہتی تھی۔“
تتالہ معنی خیز لہجے میں مستفسر ہوئی۔”کہیں وہ یشکر تو نہیں تھا۔“
”فضول سوال ….“قُتیلہ نظریں چرا گئی تھی۔
تتالہ نے قہقہ لگایا۔”ملکہ قُتیلہ برا نہ مانے تو میں کہنا چاہوں گی،یہ صرف جسمانی ہار نہیں تھی۔ کسی کی جان بچانے کے لیے شکست قبولناظاہر کرتا ہے ملکہ قُتیلہ دل پہلے سے ہارچکی تھی۔“
”یہ جھوٹ ہے۔“قُتیلہ نے درشتی سے جھٹلایا۔”اس نے کئی مرتبہ ملکہ قُتیلہ کی جان بچائی تھی۔ اور ملکہ قُتیلہ احسان فراموش نہیں ہے۔“
تتالہ تدبّر سے بولی۔”انسان کے ہر عمل کی ایک توجیہ اس کی عقل کرتی ہے،جسے وہ سب کے سامنے دہرا کر دل کی کارستانی چھپانا چاہتا ہے۔“
”ملکہ قُتیلہ بار بار معذرت کا موقع نہیں دیا کرتی۔“قُتیلہ بگڑ گئی تھی۔اس کے تلوار کے دستے پر دھرے ہاتھ نے تتالہ کو لرزا دیا تھا۔
اس نے صفائی سے موضوع تبدیل کیا۔”ملکہ قُتیلہ اگر چاہے تو اس کے شایانِ شان لباس مل جائے گا۔“
”کوئی ایسا لباس جو ملکہ قُتیلہ کی شمشیر زنی میں رکاوٹ نہ ڈالے۔“قُتیلہ نے گہرا سانس لیتے ہوئے تحمل کا دامن تھاما،کہ اسے بھی تتالہ کی اہمیت کا اچھی طرح اندازہ تھا۔
” خود پسند کر لو۔“تتالہ نے منقش کواڑ والی لکڑی کی وسیع الماری کی طرف اشارہ کیا۔
قُتیلہ سر ہلاتے ہوئے الماری کی طرف بڑھی۔الماری میں حریر، استبرق، سندس، دیباج، طیلسان،کمخاب،زربفت،خزاورململ وغیرہ کے بیسیوں لباس بھرے پڑے تھے۔تھوڑی کوشش کے بعد اس نے سیاہ رنگ کی کھلی قمیص اور سروال پسند کی کہ الماری اس سے سادہ لباس موجود نہیں تھا۔قمیص پر سفید ریشم کی کڑھائی کی گئی تھی۔تتالہ کی جانب پیٹھ موڑ کر اس نے لباس تبدیل کیا۔د سفید رنگ کا ریشمی نطاق کمر سے باندھا،تتالہ کی ایک مہین سرخ ریشمی اوڑھنی کو قساوا کی جگہ باندھا اور مسہری کی طرف بڑھ گئی۔
تتالہ بڑے غور سے اسے دیکھ رہی تھی۔جونھی وہ مسہری پر بیٹھی،تتالہ نے ہمت کرتے ہوئے پوچھا۔”تمھارے حسن کی تعریف کرنا تمھیں برہم تو نہیں کر دے گا۔“
وہ صاف گوئی سے بولی۔”ملکہ قُتیلہ کو ایسی تعریف زہر لگتی ہے،جس میں ملکہ قُتیلہ کی شکل و صورت کو زیر بحث لایا جائے۔“
” تمھیں دیکھنے سے پہلے میرا گمان تھا کہ مجھ سے خوب صورت لڑکی کم از کم صحرائے اعظم میں موجود نہیں ہو سکتی۔“اس کے منع کرنے کے باوجود تتالہ اعتراف کرنے سے باز نہیں آئی تھی۔
قُتیلہ عجیب سے لہجے میں بولی۔”تو پھر تمھیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ایسی شکل والی ملکہ قُتیلہ اکیلی نہیں ہے ،یشکر کی بیوی سردارزادی بادیہ ہو بہ ہو ملکہ قُتیلہ کی ہم شکل ہے،بلکہ رنگت میں قدرے بڑھی ہوئی ہے۔“
”کیا ….“تتالہ حیران رہ گئی تھی۔”اس کا مطلب ہے یشکر کو روکنے کی کوشش واقعی بے کار جانے والی ہے۔“
قُتیلہ نے کندھے اچکائے۔”ملکہ قُتیلہ نے تو پہلے سے آگاہ کر دیا تھا۔“
تتالہ بے نیازی سے بولی۔”کوئی بات نہیں۔“
قُتیلہ نے دماغ میں مچلنے والے سوال کو الفاظ کی شکل دی۔” اتنی دیر ہو گئی مگر کسی کنیز وغیرہ نے تمھارے یا جرہم کی خواب کی طرف آنے کی کوشش نہیں کی ہے۔“
”ایسے شغل میں مصروف ہونے سے پہلے جرہم کنیزوںکو اپنی خواب گاہ کی طرف آنے سے منع کر دیتا ہے۔“یہ کہتے ہوئے تتالہ نے بے حیائی سے دانت نکالے۔”ایسا ہی میں بھی کرتی ہوں۔“
گہرا سانس لے کر قُتیلہ نے غصے کو قابو کیا۔ساتھ ہی اس کے دماغ میں سوچ ابھری۔”اگر یشکر بروقت نہ پہنچا ہوتا توکیا وہ کسی سے آنکھیں ملانے کے قابل ہوتی۔“
یشکر کا نام اس کے دماغ میں گونجااور وہ اسی وقت دروازے کو دھکیلتے ہوئے اندرداخل ہوا۔ اس کے عقب میں قُتیلہ کے ہمراہ آنے والے تین محافظ موجود تھے۔
قُتیلہ نے بے ساختہ پوچھا۔”کافی دیر لگا دی۔“
یشکر کی نگاہیں سیاہ پوش دوشیزہ کی جانب اٹھیں ،فوراََ ہی تتالہ کی جانب رخ موڑتے ہوئے اس نے بے قابو ہوتی دھڑکنوں کو سنبھالااورتفصیل بتاتا ہوابولا۔
”گڑھی کے دونوں دروازوں پر اپنے محافظ متعین کر دیے ہیں۔خارجہ نے اپنے آدمیوں کو سونے کے لیے بھیج دیا ہے۔اقرم اور حوریہ بنت جرہم کو پڑاﺅ کی طرف روانہ کر دیا ہے تاکہ اسے باپ کی موت کا پتا نہ چلے۔سارے غلام گڑھی کے صحن میں اکٹھے ہو گئے ہیں اوراب رخصت ہونے کا وقت آگیا ہے۔“
”چلو….“قُتیلہ نے تتالہ کو چلنے کا اشارہ کیا۔جرہم کی خواب گاہ میں جاکر انھوں نے لاش اٹھا کر ایک کونے میں پھینکی اور اس پر مسہری رکھ دی۔جرہم کی لاش دیکھ کر تتالہ کے چہرے پر ہلکا سا افسوس بھی نمودار نہیں ہوا تھا۔
یشکر نے تہہ خانے کا دروازہ کھولااور وہ آگے پیچھے سیڑھیاں اترتے ہوئے اندر داخل ہو گئے۔اس سے پہلے ایک آدمی کو یشکر نے تمام غلاموں کو بلانے کے لیے بھیج دیا تھا۔
جرہم کا خزانہ مخنف بن فدیک کے خزانے سے کم نہیں تھا۔خزانے کو اونٹوں پر لادنے کے لیے انھوں نے زیادہ دیر نہیں لگائی تھی۔رات تین پہر بیت چکی تھی جب وہ اونٹوں کی قطار کے ساتھ گڑھی کے دروازے سے نکلے۔تمام غلام عمدہ گھوڑوں پر سوار تھے۔
گڑھی سے نکلتے ہی قُتیلہ ،یشکر کو مخاطب ہوئی۔”ملکہ قُتیلہ آگے جا کر تمام کو تیار کرتی ہے۔ کیوں کہ ہمارا فی الفور کوچ کرنا مناسب رہے گا۔“
یشکر نے اثبات میں سر ہلانے پر اکتفا کیا تھا۔
٭٭٭
رشاقہ کی لاش دیکھ کر بنو طرید کے باسی غم و غصے میں ڈوب گئے تھے۔پہلی فرصت میں آخری رسومات ادا کر کے انھوں نے تینوں کو دفن کردیا۔امریل اتنا جذباتی ہو رہا تھا کہ فوری طور پر بنو نوفل پر ہلہ بولنا چاہتا تھا۔حالاں کہ رشاقہ کے ساتھ سب سے زیادہ اسی کی توتو میں میں چلتی رہتی تھی۔
منقر نے حتمی انداز میں بولا۔”ملکہ قُتیلہ کی آمد سے پہلے اس قسم کا کوئی اقدام مناسب نہیں ہوگا۔یوں بھی بنو نوفل کی تعداد بہت زیادہ ہے ان کے خلاف بنو طرید کی لشکر کشی ،خودکشی کے مترادف ہو گی۔“
امریل جذباتی لہجے میں بولا۔”تو کیا رشاقہ کی موت کو حادثہ سمجھنا پڑے گا۔“
منقر نے اطمینان بھرے لہجے میں کہا۔”اس کا فیصلہ سردارن کرے گی۔“
امریل خفگی سے بولا۔”وہ تمھیں چچا جان کہتی تھی۔“
منقر گلو گیر ہوا۔”امریل!چند دن صبر کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ میں نے اپنی بیٹی کا قتل معاف کر دیا ہے۔“
ملکان بولا۔”منقر ٹھیک کہہ رہاہے امریل !ہمیں حوصلے اور سمجھ داری سے کام لینا ہوگا۔ملکہ قُتیلہ کی موجودی بہت ضروری ہے۔اور پھر یشکر بھی ہے۔“
امریل نے خاموشی سے سر جھکا لیا تھا۔
بادیہ اور عریسہ کو انھوں نے قُتیلہ کے خیمے میں ٹھہرا دیا تھا۔قُتیلہ کی ماں جی کی اہمیت ان کی نظر سے اوجھل نہیں تھی۔بادیہ کو پہلی بار دیکھنے والے تو دنگ رہ گئے تھے۔
بادیہ سارا راستاروتی آئی تھی اور اس وقت بھی عریسہ کی گود میں سر رکھے بے آواز آنسو بہا رہی تھی۔
اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے عریسہ نے شفقت بھرے لہجے میں کہا۔”بس کرو عریسہ کی جان کب تک روتی رہو گی۔“
وہ سسکی۔”قبیلے والے تو اغلب اور مروان بھائی کا انتظار کر رہے ہوں گے۔“
عریسہ نے اسے سمجھایا۔”موت تو اٹل حقیقت ہے بیٹی! دیوتاﺅں کی مرضی سے انکار تو ممکن نہیں ناں۔“
بادیہ متفکر ہوئی۔”ماں جی !رشاقہ کتنی پیاری تھی۔یشکر سوچے گا نہیں کہ اس کی سردار زادی نے اپنی سوکن کو رستے سے ہٹا دیا۔“
”چپ ،ایسا نہیں سوچتے۔“عریسہ نے شفقت سے ڈانٹا۔”رشاقہ بہت پیاری تھی۔اور اس نے اپنی جان دے کر ہمیں بچا لیا۔“
”وہ میری بزدلی کی وجہ سے مری ہے ماں جی۔“بادیہ سارا الزام اپنے سر لیے پڑی تھی۔
”اگر موقع ملتا تو کیاتم رشاقہ کے لیے ڈھال نہ بنتیں۔“
بادیہ کراہی۔”شاید نہیں۔“
عریسہ نے اس کے ماتھے پر بوسا دیا۔”یقینا ہاں ،میری بیٹی بہت بہادر اور ہمت والی ہے۔“
بادیہ نے نفی میں سر ہلایا۔”آپ کی بیٹی ملکہ قُتیلہ ایسی ہو سکتی ہے میں نہیں ماں جی۔“
خیمے کے دروازے سے منقر کے اجازت مانگنے کی آواز آئی ،عریسہ کے۔”آجاﺅ۔“کہنے پر وہ داخل ہوا۔
”ملکہ قُتیلہ کی ماں جی اور سردارزادی بادیہ کی دوپہر سلامتی والی ہو۔“
”تم پر بھی عزیٰ کی برکتیں ہوں۔“عریسہ نے جوابی سلام کہا۔
”مخبر خوش خبری لایا ہے کہ ملکہ قُتیلہ اور سردار یشکر واپس آرہے ہیں۔گھڑی بھر بعد وہ بنو طرید میں ہوں گے۔“
قافلوں کو لوٹنے کے لیے ان کی نقل وحرکت کے بارے جاننا ضروری ہوتاتھا۔ اور اس مقصد کے لیے انھوں نے دور دور تک اپنے مخبر پھیلائے ہوتے۔ایسا ہی ایک مخبر اپنے قافلے کو دیکھ کرپیشگی اطلاع دینے چلا آیا تھا۔
بادیہ تڑپ کر عریسہ کی گود سے نکلی۔”کتنی دیر میں پہنچیں گے چچا جان!“آنکھوں کو اوڑھنی سے صاف کرتے ہوئے وہ تابی سے مستفسر ہوئی۔
منقر بولا۔”مخبر نے انھیں منزل بھر دور دیکھا اور پہچانتے ہی اطلاع دینے دوڑ پڑا۔امید ہے یہاں پہنچنے میں گھڑی دو گھڑی سے زیادہ نہیں لگائیں گے۔“
”ماں جی !میں ان کے استقبال کے لیے جا رہی ہوں۔“پاﺅں میں جوتے ڈال کر وہ بے صبری سے کھڑی ہو گئی تھی۔
عریسہ شفقت سے مسکرائی۔”جاﺅ بیٹی۔“اور بادیہ ہوا کے جھونکے کی طرح خیمے سے نکل گئی۔
٭٭٭
اہل بنو جساسہ سخت مشکل میں گرفتار تھے۔انھیں بادیہ و غیرہ کی فکر کے ساتھ آنے والے لمحات کی سنگینی خوف میں مبتلا کیے ہوئے تھی۔بنو جساسہ کے مضافات میں گھومنے والے بنو نوفل کے جاسوس انھیں باور کرا رہے تھے کہ وہ قید ہیں۔ان کی سمجھ میں کوئی بہتر تجویز نہیں آرہی تھی۔شریم کو سب سے زیادہ فکر اپنی بیٹیوں کی تھی۔اور پھر کوئی مناسب تجویز سوجھنے سے پہلے مکروہ صورت قرضم بن جدن سواروں کی ٹولی کے ساتھ ان کے سامنے تھا۔پندرہ گھڑسوار نہایت ٹھُسّے اور طمطراق کے ساتھ ان کے سامنے کھڑے تھے۔
قرضم بن جدن نے گھوڑے سے اتر کرزبان کھولی۔”شریم بن ثمامہ !ہم جواب لینے آئے ہیں۔“اس کے ساتھی بھی نیچے اتر آئے تھے۔
شریم غصے پر قابو پاتے ہوئے نرم لہجے میں بولا۔”میرا جواب تو تم پچھلی باری پر ساتھ لے گئے تھے۔“
قرضم استہزائیہ لہجے میں بولا۔”وہ جواب نہیں انکار تھا۔“
شریم بے نیازی سے بولا۔”میرے پاس اب بھی وہی جواب ہے۔“
قرضم مکروہ انداز میں گویاہوا۔”سنا ہے اہل ثمامہ کی عورتیں حسن و خوب صورتی کے اعلیٰ معیار پرہمیشہ پورا اترتی ہیں۔اورسردار زادی بادیہ کی چچا زاد بہنیں ،وتینہ اور سلمیٰ بھی لاجواب ہیں۔“
شریم کا پارہ بلند ہوا۔”تم حد سے بڑھ رہے ہو قرضم!“
”میرا حد سے بڑھنا تمھیں اس وقت سمجھ میں آئے گا جب اہل بنو جساسہ وتینہ بنت شریم کی دردناک چیخیں سن رہے ہوں گے۔میں سردار شماس بن جزع سے ہر قسم کا اختیار لے کر آیا ہواہوں۔اور یاد رکھنا میرے ساتھ موجود پندرہ جنگجو بھی شہد کی مشکوں سے ضرور بہرہ مند ہوں گے۔“(مطلب وتینہ اور سلمیٰ سے حظ اٹھائیں گے)
شریم بہ مشکل غصے پر قابو پاتا ہوا تحمل سے بولا۔”تم اپنی ناکامیوں کو ہمارے کھاتے میں نہ ڈالو۔اگر بادیہ اور یشکر یہاں موجود ہیں تو تم ساتھ لے جا سکتے ہو۔ورنہ انھیں ڈھونڈنا تمھارا ذاتی مسئلہ ہے۔“
قرضم نے اپنے گندے منھ سے غلیظ الفاظ اگلے۔”تم نہ بتاﺅ،میں وتینہ سے پوچھ لیتا ہوں۔سنا ہے اسے عقب سے دیکھنے پر ابلق گھوڑی کا گمان ہوتا ہے اور سامنے سے دیکھیں تو مہ کامل کی دید ہوتی ہے۔نہ جانے بغیر لباس کے ….اوغ……..“وہ فقرہ پورا نہیں کر پایا تھا۔شریم کے پہلو میں کھڑے مالک بن شیبہ کی تلوار اس کے نرخرے سے پار ہو گئی تھی۔
لمحہ بھر کے لیے تمام ہکا بکا رہ گئے تھے۔قرضم گلے پر ہاتھ رکھے اذیت سے پھڑک رہا تھا۔
شریم کی غیظ و غضب میں ڈوبی آواز ابھری۔”کوئی بچ کر نہ جانے پائے۔“
بنو جساسہ کے طیش میں بھرے جوان تلواریں بے نیام کرتے ہوئے بنو نوفل کے سواروں پر پل پڑے تھے۔اہل بنو نوفل کے گمان میں بھی یہ صورت حال نہیں تھی۔وہ برتری کے زعم میں تھے۔اور جانتے تھے کہ بنو جساسہ والے ایسی کسی بھی حرکت سے پہلے ہزار مرتبہ سوچیں گے کیوں کہ بنو نوفل کے سواروں کو نقصان پہنچانا ان کے بچے کھچے لوگوں کا صفایا کر سکتا تھا۔ ان کا یقین رایگاں نہ جاتا اگر قرضم، وتینہ بنت شریم کے بارے واہیات گفتگو نہ کرتا۔اس احمق کے پاس وتینہ کے حسن و شباب کی معلومات تو موجود تھیں ،لیکن یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ اپنے شوہر مالک بن شیبہ کو کتنی عزیز ہے۔ مالک نے غصے میں ہوش و حواس سے کام لینے کے بجائے جوش و غیرت کو مقدم رکھا تھا۔اور قرضم کی موت کے بعد ان کے پاس صرف لڑکر مرنے کا انتخاب باقی رہا تھا۔
لڑائی نے زیادہ طول نہیں کھینچا تھا کیوں کہ بنو جساسہ کے غصے میں ابلتے تیس پینتیس جوانوں کے سامنے چودہ آدمیوں کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔بنو جساسہ کے صرف دو جوان زخمی ہوئے تھے۔
اہل بنونوفل کے خاتمے کے ساتھ شریم نے فی الفورتیاری کا حکم دے دیا تھا۔”ہم بغیروقت ضائع کیے بنو طرید کی جانب کوچ کریں گے،کسی کو اعتراض۔“
”کوئی اعتراض نہیں۔“جواب ان کے توقع کے مطابق آیا تھا۔
”مالک ،تین چار جوانوں کو لے کر مشرق کی جانب بنو نوفل کے جاسوسوں کی خبر لو۔جو نظر آئے ختم کر دو۔“
”جی چچا جان۔“کہہ کر مالک تین جوانوں کو ساتھ آنے کا اشارہ کرتا ہوابنونوفل کے گھوڑوں کی طرف بڑھ گیا۔
باقی تمام بھی تیزی رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ضروری سامان سمیٹنے لگے۔غیرضروری اور بھاری سامان انھیں وہیں چھوڑ کر جانا تھا۔ وہ گھڑی بھر بعد جانے کو تیار تھے۔اونٹوں اور گھوڑوں کے علاوہ تمام مویشیوں کو انھوں نے وہیں چھوڑ دیا تھا کہ مویشی ان کے تیزی سے حرکت کرنے میں رکاوٹ ڈالتے۔
اغلب،مروان اور رشاقہ وغیرہ سے شریم کو بنو طرید کے محل وقوع کے بارے معلومات حاصل ہوئی تھیں۔درست سمت کا انتخاب کر کے وہ تیز رفتاری سے روانہ ہو گئے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: