Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 61

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 61

–**–**–

وہ بنو طرید سے ایک برید دور (قریباََ بارہ میل )تھے جب قُتیلہ کی نگاہ ایک گھڑ سوارپر پڑی۔ٹیلے پر کھڑے ہو کر اس نے دور سے ہاتھ لہرا کر مخصوص اشارہ کیا اور گھوڑے کو بنو طرید کی جانب سرپٹ دوڑا دیا۔بنو طرید کے مخبر کو پہچانتے ہی اس کے لبوں پر تبسم کھل گیا تھا۔

یشکر کے پہلو میں گھوڑا دوڑاتے اقرم نے پوچھا۔”شاید یہ اپنا آدمی تھا۔“
”ہاں۔“جواب قُتیلہ نے دیا تھا۔
”مطلب اب پڑاﺅ نہیں ڈالیں گے۔“اقرم کی نگاہیں آگ برساتے سورج کی جانب اٹھیں اور پھر وہ کجاوے میں بیٹھی حوریہ کی جانب متوجہ ہوا،وہ چاہت بھری نظروں سے اسے گھور رہی تھی۔
یشکر نے کہا۔”بنو طرید جا کر ہی آرام کرنا مناسب ہوگا۔کیوں کہ شام تک ہم آگے روانہ ہوجائیں گے۔“
اقرم نے جھجکتے ہوئے مشورہ دیا۔”ہم مسلسل سفر میں ہیں ،بہتر ہوتا کہ ایک دن آرام کر لیتے۔“
قُتیلہ نے یشکر کی بات پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا۔
یشکر نے نفی میں سرہلایا۔”میرا جلد از جلد بنو جساسہ پہنچنا ضروری ہے۔“
اقرم ملتجی ہوا۔”ایک رات سے کیا فرق پڑے گا۔“
یشکر نے معنی خیز لہجے میں پوچھا۔”تمھارا اور حوریہ کا نکاح بنو طرید جا کر بھی ہو سکتا تھاپھر تم نے عجلت کا مظاہرہ کس لیے کیا؟“
اقرم شاکی ہوا۔” آپ وجہ نہیں جانتے ؟“
یشکر مسکرایا۔”جانتا ہوں اورتمھیں بھی وجہ معلوم ہونا چاہیے۔“
اقرم دبے لہجے میں مستفسر ہوا۔”کیا سچ میں سردار زادی بادیہ کی شکل ملکہ قُتیلہ سے ملتی ہے۔“
”نہیں۔“یشکر نے نفی میں سرہلایا۔”وہ اس گھمنڈن سے کئی گنا زیادہ خوب صورت اور پیاری ہے۔“
قُتیلہ نے یشکر کے الفاظ سن لیے تھے ،لیکن انجان بنی سامنے کی طرف متوجہ رہی۔جرہم بن قسامہ کی گڑھی سے نکلنے کے بعد اس نے ایک مرتبہ بھی یشکر سے تکرارنہیں کی تھی۔اور نہ خود سے بات چیت کی کوشش ہی کی تھی۔یشکر مخاطب ہوتا تو مختصر جواب دے دیتی ورنہ خاموش رہتی۔
یشکر کو معلوم تھا کہ خاموشی کے پس پردہ جرہم کی خواب گاہ میں پیش آنے والا واقعہ تھا۔ یشکر نے اس کی منت و زاری اپنے کانوں سے سنی تھی۔ اسے بندشوں میں جکڑے ہوئے بے بس و مجبور بھی دیکھاتھا۔اس کی ہمیشہ خشک رہنے والی دُنبالہ آنکھوں میں نمی کے ذخیرے کا مشاہدہ کیا تھا۔ اس کے پرکشش مستور بدن کا نیم برہنہ حالت میں نظارا بھی کیا تھااور یقینا یہ باتیں اس گھمنڈن، ہٹ دھرم اور اکھڑ کی انا کے لیے تازیانہ ثابت ہوئی تھیں۔اس کے غرور و تکبر کا بت کافی بلندی سے نیچے گرا تھا۔ بے بسی کی حالت میں اس کا رویہ بھی ایک نرم ونازک اور کمزور دوشیزہ کی طرح ہو گیا تھا۔
اقرم نے مدہم آواز میں دعوا کیا۔”مجھے نہیں لگتا کوئی لڑکی حوریہ سے پیاری اور ملکہ قُتیلہ سے خوب صورت ہو سکتی ہے۔“
”میری سردار زادی کو دیکھ کر تمھیں اپنے دعوے کا پھسپھسا پن معلوم ہوگا۔“
اقرم نے موضوع تبدیل کیا۔”حوریہ کو اس کے باپ کی موت کے بارے بتانا مناسب رہے گا یا پوشیدہ رکھوں۔“قُتیلہ انھیں مسلسل مصروف گفتگو دیکھ کر مشکی کی رفتار بڑھاتے ہوئے آگے بڑھ گئی تھی۔
اسے دور جاتے دیکھ کر یشکر نے تعریف میں مضائقہ نہیں سمجھا تھا۔”اس معاملے میں تمھاری گھمنڈی ملکہ کا دماغ بہت کام کرتا ہے اس سے مشورہ کر لینا۔“
اقرم ہنسا۔”آپ پیٹھ پیچھے تعریف کرتے ہیں اور سامنے اس کی توہین پر جری رہتے ہیں۔“
یشکر صاف گوئی سے بولا۔”بلاشبہ وہ قابلِ تعریف صلاحیتوں کی مالک ہے ،لیکن اس کا غرور و تکبّر ساری خوبیوں پر پانی پھیر دیتا ہے۔“
”میری تو محسنہ ہے۔“اقرم نے کھلے دل سے اعتراف کیا۔
”بلاشبہ۔“یشکر نے اثبات میں سر ہلادیا تھا۔
درمیانی رفتار سے آگے بڑھتے ہوئے ان کی گپ شپ جاری رہی۔یہاں تک کہ ایک مقام پر وہ وادی سے نکل کر دو اونچے ٹیلوں کے درمیانی خلا میں داخل ہوئے۔یشکر اسے بتانے لگا۔
”یہاں سے بنو طرید کا فاصلہ دو تین غلوے ہو گا۔“
ٹیلوں کے درمیانی خلا سے نکل کر وہ کھلے میدان میں پہنچے اس سے آگے چھوٹے ٹیلوں کی قطار تھی جس پر کافی لوگ نظر آرہے تھے۔وہ جونھی تھوڑا سا آگے بڑھے یشکر کی نظر ایک دوڑتے ہوئے وجود پر پڑی،اس کی ساری حِسّیں آنکھوں میں سمٹ آئی تھیں۔
”یہ کیسے ممکن ہے۔“وہ سخت متعجب تھا۔
اقرم نے فوراََ پوچھا۔”کیا ہوا؟“
یشکر نے ابلق کو ایڑھ لگاتے ہوئے کہا۔”لاریب یہ میری سردار زادی ہے۔“ابلق کمان سے نکلے تیر کی طرح سب کو پیچھے چھوڑتے ہوئے آگے بڑھی،بادیہ سے چند قدم دور یشکر نے لگام کھینچتے ہوئے گھوڑی کو روکااورنیچے چھلانگ لگادی۔بادیہ دوڑتے ہوئے یوں اس کی چھاتی سے ٹکرائی تھی جیسے کھینچی ہوئی تانت آزادہوتے ہی واپس کمان کی جانب لوٹتی ہے۔اس کا سانس پھولا ہوا تھا۔یشکر نے مضبوط بازوﺅں میں کومل وجود کو بھرتے ہوئے اسے زمین سے اوپر اٹھا لیا تھا۔
قُتیلہ حیرانی بھری نظریں بادیہ پر ڈال کر آگے بڑھ گئی تھی۔
بادیہ کی زوردار سسکیاں ابھریں۔
یشکر مسکرایا۔”میں لوٹ آیا ہوں سردار زادی۔“
”رشاقہ ……..“بادیہ پھولے سانسوں اوررقت بھری آواز میں بہ مشکل اتنا ہی کہہ پائی تھی۔
”کہاں ہے وہ۔“یشکر نے اس کے ماتھے پر بوسا دیا اور بازوﺅں میں بھر کر آگے بڑھ گیا۔
بادیہ اس کے گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے سسکی۔”وہ نہیں رہی ،اغلب بھائی اور مروان بھائی بھی ہمیں چھوڑ کر چلے گئے۔“
”کیا….“یشکر ششدر رہ گیا تھا۔”مگر کیسے؟“اس کے آگے بڑھنے والے قدم رک گئے تھے۔قافلے والے ان کے قریب سے گزرتے ہوئے آگے بڑھتے رہے۔
بادیہ کی آنکھوں سے پانی کا سیلاب ،برساتی چشمے کی طرح پھوٹ پڑا تھا۔”اس نے میری طرف بڑھتی تلوار کے سامنے اپنے جسم کی ڈھال پیش کی۔بنو نوفل کے سواروں نے اچانک ہی ہمیں آلیا تھا۔ہم …………“بادیہ نے سسکیاں بھرتے ہوئے اجمالاََ سارا واقعہ دہرا نے لگی۔
قُتیلہ کا مشکی سب سے آگے تھا۔بادیہ کی وہاں موجودی اسے حیرت زدہ کی ہوئے تھی لیکن جونھی اس کی نظر لوگوں کے مجمع میں کھڑی عریسہ پر پڑی،فرطِ مسرت سے مشکی کی لگام کھینچے بغیر اس نے نیچے چھلانگ لگائی اور بازو پھیلاتے ہوئے اس کی جانب دوڑ پڑی۔
”ماں جی!“عریسہ کو بانہوں کے حصار میں لیتے ہی وارفتگی سے بولی۔”ملکہ قُتیلہ جانتی تھی آپ ضرور آئیں گی۔“
”اس میں شک ہی کیا ہے۔“عریسہ شفقت بھرے انداز میں اس کے ماتھے ،آنکھوں اور گالوں پر بوسے دینے لگی۔
”اسے کیوں ساتھ لائی ہو؟“بادیہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قُتیلہ نے خفگی بھری حیرانی سے پوچھا۔
عریسہ مغموم لہجے میں بولی۔”صرف یہ نہیں کوئی اور بھی تھا….“
قُتیلہ قطع کلامی کرتے ہوئے بولی۔”رشاقہ کے متعلق ملکہ قُتیلہ کچھ بھی نہیں سننا چاہتی ماں جی ! اور آپ کو بھی سفارش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔اس نے ملکہ قُتیلہ پر فارسی غلام کو ترجیح دی،اب رہے اس کے پاس۔“
عریسہ کی آنکھیں چھلکیں۔”وہ باقی نہیں رہی بیٹی!“
وہ ہکلائی۔”کک….کیا ؟….ماں جی !ملکہ قُتیلہ سمجھی نہیں۔“
عریسہ نے مختصرالفاظ میں وضاحت کی۔”اہل بنو نوفل کو بادیہ کی سن گن مل گئی تھی۔ہم بنو طرید پناہ لینے آرہے تھے۔ ان کی ایک ٹولی کی نظر ہم پر پڑگئی۔دوران لڑائی بادیہ کی جان بچاتے ہوئے رشاقہ قتل ہو گئی۔“
عریسہ کے بازوﺅں سے نکلتے ہوئے قُتیلہ نے قہر آلود نظریں عقب میں دوڑائیں جہاں یشکر ،بادیہ کو بازﺅں میں بھرے مصروفِ گفتگو تھا۔
” حفاظت نہیں کر سکتا تھا تو اس نے ملکہ قُتیلہ کی سہیلی پر قبضہ جمانے کی ہمت کیوں کی تھی۔“ برہمی سے کہتے ہوئے وہ بگولے کی طرح یشکر کی طرف بڑھی۔وہ ڈیڑھ دو سو قدم دور ہی رکا ہوا تھا۔باقی قافلے والے ٹیلوں کو عبور کر کے بنو طرید کی حدود میں پہنچ گئے تھے۔جہاں اہل بنو طریدمسرت سے انھیں خوش آمدید کہہ رہے تھے۔
”قُتیلہ کہاں جا رہی ہو؟“عریسہ نے گھبرا کر اسے پکارا اور تیز قدموں سے اس کے پیچھے بڑھ گئی۔
وہ عریسہ کا استفسار ان سنا کرتے ہوئے برق رفتاری سے یشکر کے قریب پہنچی تھی۔چند قدم دور ہی سے دریدہ دہن(منھ پھٹ)کی یاوہ گوئی شروع ہو گئی تھی۔
”گھٹیا فارسی! سنبھال نہیں سکتے تھے تو اسے ملکہ قُتیلہ سے چھیناکیوں تھا۔کہا تھا ناں اسے کچھ ہواتو ملکہ قُتیلہ تمھیں اپنی ناک کی موت نہیں مرنے دے گی۔“(طبی موت نہیں مرنے دے گی، مطلب قتل کر دے گی)
یشکر،بادیہ کو ایک جانب کھڑا کرتے ہوئے متوجہ ہوا۔اتنی دیر میں اس نے قریب پہنچ کر یشکر کی چھاتی میں دوہتڑ رسید کر دیے تھے۔
یشکر جھلاتے ہوئے بولا۔”ہوش میں تو ہو۔“
اس نے یشکر کے گریبان میں ہاتھ ڈالا۔”تمھیں اس کی حفاظت کا انتظام کرنا چاہیے تھا۔“
”ملکہ قُتیلہ ،اس میں یشکر کا قصور نہیں ہے۔“بادیہ نے گھبرائے ہوئے انداز میں اس کے ہاتھ سے یشکر کا گریبان چھڑانا چاہا۔
قُتیلہ بپھرتے ہوئے بولی۔”اس کی ذمہ دار تم ہو قُطّامہ۔“(فاحشہ)یہ کہتے ہی اس کی طاقتور ٹانگ بادیہ کے پیٹ میں لگی ،وہ اڑتے ہوئے دور جا گری تھی۔
”تم ایک قابلِ نفرت اور منحوس عورت ہو۔“غضب ناک ہوکر دھاڑتے ہوئے یشکر کی بھرپور لات اس کی چھاتی میں لگی۔اس کا حال بھی بادیہ والا ہوا تھا۔
یشکر بھاگ کر بادیہ کے قریب پہنچا۔”سردار زادی۔“بے چینی و بے تابی سے کہتے ہوئے اس نے بادیہ کے کندھوں اور ٹانگوں میں ہاتھ دے کر اسے اوپر اٹھایا۔بادیہ کے چہرے پر اذیت دیکھ دیکھ کر وہ نڈھال ہو گیا تھا۔”درد ہو رہا ہے۔“اس نے وارفتگی سے اس کی نم آلودآنکھوں پرہونٹوں کا پھاہا رکھا۔
بادیہ کے چہرے پر اذیت بھری مسکان ابھری۔”میں ٹھیک ہوں سردار!“
قُتیلہ کولہوں کے بل گری تھی۔گرتے ساتھ وہ الٹی قلابازی کھا کر کھڑی ہوئی اور تلوار بے نیام کرتے ہوئے یشکر کی طرف دوڑی۔
”تلوار سونت لو بزدل فارسی!“قریب جاتے ہی اس نے یشکر کی چھاتی پر تلوار کی نوک رکھ دی تھی۔
یشکر نے اسے شعلہ برساتی نظروں سے گھورا۔”بہتر ہوگا کہ میرے سامنے سے دفع ہو جاﺅگھٹیا،احمق ،بے ہودہ عورت!نہ تمھیں بات کرنے کی تمیز ہے اور نہ کچھ سمجھنے کا سلیقہ۔“
وہ بگڑے ہوئے لہجے میں بولی۔”بکواس کرنے کے بجائے تلوار سونت لو کہ ملکہ قُتیلہ تمھیں اور اس فاحشہ کو رشاقہ کے پاس معافی مانگنے کے لیے بھیجنے لگی ہے۔“
اتنی دیر میں عریسہ۔”قُتیلہ ….قتیلہ ….“کرتی قریب پہنچ گئی تھی۔اس نے قُتیلہ کو پیچھے دھکا دیتے ہوئے برہمی سے کہا۔”یہ کیا بے وقوفی ہے قُتیلہ۔“
وہ غیظ و غضب سے چلائی۔”ماں جی !آپ بیچ میں نہ آئیں۔“
ایک دم عریسہ کا ہاتھ اٹھا اور۔”چٹاخ ….چٹاخ ….“کی آواز سے ماحول گونج اٹھاتھا۔ قُتیلہ کا ملیح چہرہ زوردار تھپڑا کھا کر سرخ ہو گیا تھا۔
عریسہ برہمی سے بولی۔”عشوا کی چال چلنا چاہتی ہو۔“( عشوا ایسی اونٹنی کو کہتے ہیں جسے صاف نظر نہیں آتا۔اور اس وجہ سے جب وہ چلتی ہے تو پاﺅں کہیں پڑتے ہیں اور نظر کہیں۔اس لیے بے بصیرت شخص کے لیے یہ محاورہ بولتے ہیں)
وہ عریسہ کے تھپڑوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے چلائی۔”یہ میرے دشمن ہیں ماں جی! اس غلام نے ملکہ قُتیلہ کی رشاقہ کو چھینااور اس وِشاق کی وجہ سے وہ قتل ہوئی۔اس لیے ملکہ قُتیلہ بدلہ لے گی، اونٹ کی دم پر سوار نہیں ہوگی۔“(اونٹ کے مقابلے میں اس کی دم بہت چھوٹی ہوتی ہے۔اس لیے کوئی شخص پورا اونٹ چھوڑ کر دم لینے پر راضی ہوجائے تو اسے کہتے ہیں اپنا حق چھوڑنے پر راضی ہو گیا۔یعنی اس کا حق تھا وہ اور لیتا مگر اس نے صرف دم پر اکتفا کر لیا۔اس طرح کسی شخص کا یہ کہنا کہ وہ اونٹ کی دم پر سوار نہیں گا۔اس کا صاف مطلب کہ وہ اپنا حق نہیں چھوڑے گا)
یشکر نے بادیہ کو نیچے کھڑا کرتے ہوئے صاعقہ کے دستے پر ہاتھ رکھا۔”ماں جی !چھوڑو اسے اگر یہ جنگ کا نقارہ بجانا چاہتی ہے تواس کا انجام بھیڑ کے بچے سے مختلف نہیں ہوگا۔“(جنگ کا نقارہ بجانے کا مطلب جنگ چھیڑنااور بھیڑ کے بچے کا انجام بھیڑیے کے سامنے آنے پر موت ہی ہوتا ہے )
”آپ ایسا کچھ بھی نہیں کریں گے۔“بادیہ فوراََ اس کے بازو سے چمٹ گئی تھی۔”میں نے رشاقہ کو زبان دی تھی کہ اس کی ملکہ کا خیال رکھوں گی۔“
قُتیلہ بگڑے ہوئے لہجے میں بولی۔”ماں جی کب تک تمھیں بچائے گی۔تم تیروں کی بوچھاڑ میں جھاڑی کی آڑ لے رہے ہو۔“(جھاڑی کی ٹہنیاں اور پتے نظری آڑ تو دے سکتے ہیں تیروں کو نہیں روک سکتے )
یشکر طنزیہ انداز میں بولا۔”واہ….بچھو ،افعی کو تکلیف دینے پر آمادہ ہے۔“(یعنی کمزور طاقتور سے ٹکر لینے پر آمادہ ہو گیاہے)
قُتیلہ چلائی۔”ملکہ قُتیلہ کی رشاقہ کا خون رایگاں نہیں جائے گا۔“
”وہ میری رشاقہ تھی سمجھیں۔اپنی بیماری مجھ پر تھوپ کے کھسکنے کی کوشش نہ کرو۔“( جب کوئی اپنی برائی یا غلطی دوسرے کے سر منڈھنے کی کوشش کرے) تمھیں پیاری ہوتی تو یوں نہ دھتکارتیں۔اس نے جان بوجھ کر موت کو گلے سے لگایا اور مرنے سے پہلے واضح کر گئی کہ وہ تم جیسی مغرور، متکبر اور گھمنڈی کی وجہ سے موت کو گلے سے لگا رہی ہے۔پوچھو ماں جی سے اس نے مرتے ہوئے کیا کہا تھا،شاید سردارزادی کی بات پر تمھیں یقین نہ آئے۔سانس نکلتے وقت بھی لبوں پر یہی الفاظ تھے کہ تم اسے معاف کر دو۔میں جب بنو جساسہ چھوڑ کر آرہا تھا تب بھی اس نے یہی درخواست کی تھی کہ کسی طرح تم سے صلح کرادوں۔مگرتم انا کے گھوڑے پر سوار تھیں،غرور و تکبر کے ہم رکاب،خود سری وضد کا دامن تھامے اسے قدم قدم پرذہنی تکلیف واذیت تم نے دی۔ہرمقام پراسے تم نے دھتکارا،اس کے آنسو تمھاری نظر میں بے وقعت تھے،اس کی سسکیوں کے لیے تم نے سماعتیں بند کیں، اس کی منت سماجت تمھارے لیے یاوہ گوئی تھی، اس کی خوشیاں تم پر گراں تھیں،اس کی مسکراہٹیں تمھیں قبول نہیں تھیں، اس کے سکھ تمھیں عزیز نہیں تھے اور تلوار ہم پر کھینچ رہی ہو۔کیا میں نے اس پر پابندی لگائی تھی کہ تم سے نہ ملے۔ کیا سردار زادی بادیہ نے اسے مکمل عزت اور احترام نہیں دیاتھا۔اگر اس کے دل میں کوئی گلہ شکوہ ہوتا تو اپنے جسم کو سردارزادی کے لیے ڈھال نہ بناتی۔اپنے گریبان میں جھانکو،کیا تم اس قابل ہو کہ اس کا نام بھی لے سکو۔وہ تمھاری ایک نظر کو ترستی رہی ،تمھارے دھتکارنے کے باوجود بار بار قریب آتی رہی، بلک بلک کر تمھیں آوازیں دیتی رہی۔ اب جبکہ تمھارا التفات اس کے کسی کام کا نہ رہا تو تم اس کے شوہر اوراس لڑکی پر تلوار سونت رہی ہوجوتمھاری جدائی کا غم سہنے میں اس کاسہارابنی رہی ،جس نے اسے عزت ، احترام اور محبت دی۔“یشکر کے درشت لہجے میں ، طنز واستہزاءکا عنصر نمایاں تھا۔وہ سانس لینے کو رکا اور پھر اس کی بات جاری رہی۔
” تلوار کی نوک میری چھاتی پر رکھنے کے بجائے اپنے نرخرے پر رکھو۔ہماری رشاقہ تمھاری نفرت،تکبر اور بے التفاتی کی بھینٹ چڑھی ہے۔اگر تم نے اس کی خوشیوں کو قبول کر کے اپنا لیا ہوتاتو وہ جان پر کھیلنے کافیصلہ کبھی نہ کرتی۔باقی دل میں کوئی ارمان رہتا ہے تو میں آج رات یہیں پرہوں، صبح مقابلے کامیدان سجا لینا۔“بات ختم کر کے وہ رکا نہیں تھا۔بادیہ کو ابلق پر بٹھایا اور لگام پکڑ کر چل پڑا۔ قُتیلہ بے حس و حرکت کھڑی اس کی گفتگو سنتی رہی۔یشکر کے الفاظ نہیں تازیانے تھے جو ”شڑاپ شڑاپ“ کی آواز سے اس کی سماعتوں پر برستے رہے۔
”روتے نہیں ہیں میری جان۔“عریسہ کی شفیق آواز نے احساس دلایا کہ اس کی آنکھوں میں آنسو ہیں۔”میری ملکہ قُتیلہ تو بڑی بہادر ہے۔“
آنکھوں پر الٹا ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ گلو گیر لہجے میں بولی۔”ماں جی !آپ بھی یہی سمجھتی ہیں کہ رشاقہ ،ملکہ قُتیلہ کی وجہ سے قتل ہوئی۔“
”رشاقہ کی زندگی ہی اتنی تھی عریسہ کی جان!اب چلو تھوڑا آرام کر لو۔“عریسہ اسے کھینچ کر خیمے کی طرف لے جانے لگی۔
اہل بنو طرید نئے آنے والوں کی مہمان نوازی کر رہے تھے۔امریل ،منقر اور ملکان وغیرہ نے دور سے سارا تماشا دیکھا تھا۔وہ قُتیلہ کی اشتعال آمیز طبیعت سے واقف تھے ،لیکن ساتھ ہی عریسہ کو دیکھ کر انھیں یہ اطمینان ضرور تھا کہ وہ معاملہ سنبھال لے گی۔
٭٭٭
”تم اس کے پاس نہیں جاﺅ گی۔“یشکر ہتھے سے اکھڑ گیا تھا۔
بادیہ منمنائی۔”مگررشاقہ……..“
یشکر برہمی سے بولا۔”وہی رشاقہ جسے وہ گھمنڈن ہمیشہ دھتکارتی رہی ہے۔“
”ہاں وہی۔“بادیہ کی گلوگیر آواز ابھری۔”وہی رشاقہ جس نے میری طرف بڑھتی قضا کے سامنے اپنے خون کی قربانی پیش کی ،وہی رشاقہ جس کے ہونٹوں پر آخری الفاظ یہ تھے کہ اس کی ملکہ کا خیال رکھوں ،وہی رشاقہ جو اپنی بے وفائی پر معافی کی طلب گار تھی ،وہی رشاقہ جو اپنی ملکہ سے دور جا کر شرمندہ تھی،وہی رشاقہ جو کہہ رہی تھی اس کی ملکہ کو گلے سے لگا پیار کروں،بتائیے کیا کروں؟اس کی وصیت پر عمل کروں یا اس کی ملکہ کے ہاتھوں ہلکی سی چوٹ کھا کر وعدہ خلاف بن جاﺅں۔“
گہرا سانس لے کر یشکر خاموش ہو گیا تھا۔بادیہ نے قریب ہو کر اس کے گلے میں ریشمی بانہوں کا ہار ڈالا۔”میرے سردار !وہ ایک دوسرے سے محبت کرتی تھیں۔ قُتیلہ بھی اسے اتنا ہی چاہتی تھی جتنا رشاقہ اسے چاہتی تھی۔چھوڑ کر رشاقہ گئی تھی ،بے وفائی رشاقہ نے کی تھی کیا قُتیلہ کو تھوڑا عرصہ ناراض رہنے کا حق بھی نہیں تھا۔اسے کیا پتا تھا رشاقہ کی زندگی اتنی مختصرہوگی۔ اور پھر آپ نے اسے اتنابرا بھلا کہا۔آپ کہتے تھے ناں اس کی دُنبالہ آنکھوں کے لیے اشکوں کا ذائقہ انجان ہے ، لیکن آج میں نے ان میں پانی دیکھاہے۔میں اچھی طرح جانتی ہوں آپ کو رشاقہ سے محبت نہیں تھی۔آپ نے صرف رشاقہ کی ضد کو دیکھ کر اس سے شادی کی تھی۔مگر قُتیلہ کو اس سے محبت تھی۔ہمیں اس کی دل جوئی کرنا چاہیے۔“
یشکرخفگی سے بولا۔”جو مرضی آئے کرو۔“
”اپنی سردار زادی سے خفا ہو جاﺅگے۔“یشکر کی ٹھوڑی اوپر اٹھاتے ہوئے بادیہ نے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔یشکریقینا اپنی بے مروتی اور رویے پر ڈٹا رہتا ،لیکن بادیہ سے آنکھیں ملانے کی غلطی کر بیٹھااور اس کے بعد ساری مزاحمت دم توڑ گئی تھی۔
”دھونسو….(بلیک میلر)“زیر لب بڑبڑاتے ہوئے وہ بے بسی سے مسکرا دیا تھا۔
”چلو گے۔“بادیہ نے جانا اس کی مرضی پر موقوف کر دیا تھا۔
یشکراس کی پیش قدمی کا جواب دیتے ہوئے نرمی سے بولا۔”تم ہو آﺅ،میرے جانے سے بد مزگی پھیل سکتی ہے۔اس کے دل میں میرے لیے کافی نفرت بھری ہے۔“
”ایسا بس آپ سوچتے ہیں۔“بادیہ اس کے ماتھے پر جھکی اور پھر وہ دھیرے سے علاحدہ ہو کراپنے سامان کی طرف بڑھی،رشاقہ کی دی ہوئی تلوار نکال کر وہ خیمے سے باہرنکل گئی تھی۔یشکر چٹائی پر لیٹ گیا تھا۔
قُتیلہ کے خیمے کے سامنے جا کر اس نے عریسہ کو آواز دی۔”ماں جی!“
عریسہ کا”آجاﺅبیٹی!“سن کروہ پردہ ہٹاتے ہوئے داخل ہوئی۔
عریسہ قُتیلہ کا سر گود میں رکھے بیٹھی تھی۔قُتیلہ کی آنکھیں بہ ظاہر بند تھیں لیکن انداز سے واضح تھا کہ جاگ رہی تھی۔
”آجاﺅ،رک کیوں گئی ہو۔“اسے دروازے پر ٹھہرا دیکھ کر عریسہ متبسم ہوئی۔
بادیہ دھیمے قدموں سے چلتے ہوئے تخت کے قریب پہنچی۔ان کے ساتھ نشست سنبھالتے ہوئے وہ نرمی سے بولی۔”ملکہ قُتیلہ کی طبیعت اب کیسی ہے ؟“
قُتیلہ کی گھنی پلکوں میں جنبش ہوئی۔حیرانی بھری سیاہ دنبالہ آنکھیں کھولتے ہوئے اس نے سامنے بیٹھے آئینے کو دیکھا۔وہ پہلی بار بادیہ کو اتنے قریب سے دیکھ رہی تھی۔
بادیہ نے فوراََ اس کا ہاتھ اپنے ملائم ہاتھوں میں تھاما،قُتیلہ کے ہاتھ نہ صرف اس سے بڑے تھے بلکہ سخت بھی تھے۔
بادیہ نے ملائمت سے پوچھا۔”خفا ہو؟“‘
قُتیلہ خاموش لیٹی رہی ،عریسہ بھی ہونٹوں پر تبسم سجائے چپ بیٹھی تھی۔لمحہ بھر اسے گھورنے کے بعد بادیہ ایک دم اس کے چہرے پر جھک گئی ،اس کی ریشمی بانہوں نے قُتیلہ کے وجود کو جکڑا اور ہونٹ ملیح چہرے پرالفت بھری مہریں لگانے لگے۔سیاہ گیسو ،کشادہ جبیں ،روشن آنکھوں ،ملائم گالوں کو چاہت سے چکھ کر بادیہ نے پوری قوت سے اسے بھینچ لیا تھا۔
قُتیلہ کی حیرانی سوا ہو گئی تھی۔لیکن اس نے بادیہ کودورکرنے کی کوشش نہیں تھی۔
بادیہ کے ہونٹوں سے رُنکھی آواز برآمد ہوئی ”رشاقہ نے مرنے سے پہلے کہا تھا میری ملکہ کو بازوﺅں میں بھر کر پیار دینا،اس کا بہت زیادہ خیال رکھنا اور کہنا بے وفا رشاقہ شرمندہ ہے، گناہ گار شاقہ معافی کی خواست گار ہے۔“
قُتیلہ کے ہونٹوں سے سسکی برآمد ہوئی ،ایک دم مضبوط بانہوں نے بادیہ کے وجود کو گھیر لیا تھا۔اس کے ہونٹوں سے رندھی ہوئی آوازنکلی۔
”ملکہ قُتیلہ کی رشاقہ اور کیا کہہ رہی تھی۔“
”یہی کہ اس کی خوشیوں کو ملکہ قُتیلہ کی ناراضی دیمک کی طرح چاٹ گئی ہے اور وہ آخری سانسوں تک ملکہ قُتیلہ کو نہیں بھلا پائی۔وہ نادم تھی اور تمھیں چھوڑ جانے کے فیصلے پر پچھتا رہی تھی۔“بادیہ نے بغیر لگی لپٹی رکھے ایمان داری سے رشاقہ کا پیغام قُتیلہ تک پہنچا دیا تھا۔
قُتیلہ کی بھرائی ہوئی آواز ابھری۔”وہ بھی ملکہ قُتیلہ کو کبھی نہیں بھولی،یونھی رویہ دکھاتی رہی۔ کاش ملکہ قُتیلہ اسے بتا سکتی کہ ملکہ قُتیلہ بھی پچھتا رہی ہے۔ “
”کہہ رہی تھی ،ملکہ قُتیلہ ایک وقت میں دو تیر چلا کر دو شکار کرتی ہے لیکن اس کی رشاقہ نے ایک تیر سے تین شکار کیے ہیں،یشکر کے احسانات کا بدلہ بھی چکا دیا،میری محبتوں کا قرض بھی لوٹا دیا اور اپنی ملکہ کی خواہش بھی پوری کر دی کہ وہ رشاقہ کو دیکھنا نہیں چاہتی تھی اس لیے اب رشاقہ اسے تو کیا کسی کو بھی نظر نہیں آئے گی۔“
دُنبالہ آنکھوں سے چند قطرے ٹپکے اور ملیح رخساروں سے ہوتے ہوئے پنکھڑی ہونٹوں کو نمکین ذائقے سے روشناس کرانے لگے۔
”یہ بتانے کی بھی تاکید کی تھی کہ ،تمھاری رشاقہ دشمنوں کے خاتمے سے پہلے نہیں گری۔“
ایک دم قُتیلہ کے ہونٹوں پر تبسم ابھرا۔بادیہ چہرہ بلند کیے غور سے دیکھ رہی تھی۔اسے متبسم پاکر وہ حیرانی پر قابو نہیں پاسکی تھی۔”سچ کہوں تو اس نے یہی کہا تھا کہ یہ سن کرتم ضرور مسکراﺅ گی۔اس کی پیشن گوئی بالکل درست تھی۔البتہ یشکر کا قیافہ غلط ثابت ہوا،کیوں کہ مجھے کہہ رہا تھاملکہ قُتیلہ کی آنکھوں کو رونا نہیں آتا۔“
وہ پھیکی مسکراہٹ سے بولی۔”ملکہ قُتیلہ ہمیشہ سے رلاتی آرہی ہے سردارزادی،مگر آج غم کی مقدار ملکہ قُتیلہ کے حوصلے سے بڑھ گئی ہے۔“
عریسہ بولی۔”بس کرو عریسہ کی جان،تمھیں اداس پا کر رشاقہ کی روح بھی بے چین ہو جائے گی۔اگر اسے سکون پہنچانا چاہتی ہوتو خوش رہا کرو۔“
قُتیلہ غضب ناک ہوئی۔”ماں جی !اس کی موت کے ذمہ داروں کو نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔“
بادیہ دھیرے سے بولی۔”اس نے کہا تھا میری موت کا ذمہ دار بنو نوفل کا سردار ہے۔“
اس نے دانت پیسے۔”رشاقہ کی ہڈیوں سے گوشت علاحدہ ہونے سے پہلے بنونوفل کے سردار کونسر دیوتا کی ضیافت بننا ہوگا۔“
”مجھ سے اب تک خفا ہو۔“بادیہ نے اس کا ملیح چہرہ ہاتھوں میں تھاما۔
قُتیلہ کے ہونٹوں پر پھیکی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔”ملکہ قُتیلہ نادم ہے۔تمھیں بہت زور سے مارا تھاناں۔“
بادیہ شوخی سے ہنسی۔”ہاں ،اب تک پیٹ میں درد ہو رہا ہے۔“
وہ ندامت سے بولی۔”ایسا نادانستگی میں ہوا۔ ملکہ قُتیلہ سے رشاقہ کاقتل برداشت نہیں ہورہا تھا اس لیے تمھیں زیادتی کا نشانہ بنا دیا۔کیا تم ملکہ قُتیلہ سے خفا ہو؟“
”نہیں۔“بادیہ نے نفی میں سرہلایا۔”رشاقہ نے کہا تھا میری ملکہ کو بہت پیار دینا۔اور پیار دینے کے لیے ہر قسم کی خفگیوں اور ناراضیوں کو نظر انداز کرنا پڑتا ہے۔“
قُتیلہ متبسم ہوئی۔”ملکہ قُتیلہ نہیں جانتی تھی کہ اسے رشاقہ کا نعم البدل مل جائے گا۔“
بادیہ صاف گوئی سے بولی۔”میں بھی رشاقہ کی باتیں سن کر حیران ہوتی تھی کہ تم اسے اتنی پیاری کیوں ہو۔“
قُتیلہ نے منھ بنایا۔”ملکہ قُتیلہ تو ہے ہی پیاری ،صرف فارسی غلام کو اچھی نہیں لگتی۔“
بادیہ کھل کھلا کر ہنسی۔”تم میرے شوہر کی توہین کر رہی ہو۔“
”ملکہ قُتیلہ کو بہت برا لگتا ہے۔تم بھی لگتی تھیں ،مگر اب نہیں۔“
عریسہ نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا۔ ”تم گپ شپ کرو مجھے نیند آرہی ہے۔“
قُتیلہ نے عریسہ کی گود سے سر اٹھایا۔”آپ سوجائیں ماں جی! ملکہ قُتیلہ اور سردارزادی نیچے بیٹھ جاتی ہیں۔“
عریسہ نے سر ہلاتے ہوئے آنکھیں موند لیں۔ دونوں نے چٹائی پرلیٹ کر چمڑے کے تکیوں پر سر دھرے اور ایک دوسرے کی طرف رخ موڑ لیا۔
”ملکہ قُتیلہ کی ایک بات مانو گی۔“اس کاملتجی لہجہ بادیہ کے لیے حیران کن تھا۔
”ضرور مانوں گی۔“
”ملکہ قُتیلہ جانتی ہے کہ تمھارا شوہر منتظر ہو گا ،تم اتنے عرصے بعد جو مل رہے ہو۔“
”بالکل۔“بادیہ نے اثبات میں سرہلایا۔
” آج رات اس کے پاس نہ جاﺅ۔یہیں لیٹ کر ملکہ قُتیلہ کے ساتھ رشاقہ کی باتیں کرو وہ ملکہ قُتیلہ کو بہت یاد آرہی ہے۔“
لمحہ بھر کے لیے بادیہ شش و پنج میں پڑ گئی تھی۔پھر اس کے لبوں پر دھیمی مسکان نمودار ہوئی۔”ٹھیک ہے۔“
”ملکہ قُتیلہ جانتی تھی تم انکار نہیں کرو گی۔“قُتیلہ کے چہرے پر سکون پھیل گیا تھا۔
”میں تمھارے لیے تلوار لائی تھی،رشاقہ نے دی تھی۔“بادیہ نے رشاقہ کی تلوار اس کی جانب بڑھائی۔
قُتیلہ نے چوکڑی مار کر بیٹھتے ہوئے تلوار بے نیام کی۔دستے کو محبت سے چوم کر وہ آہستہ سے بولی۔”یہ تلوار ملکہ قُتیلہ کو باباجان نے اس وقت دی تھی جب ملکہ قُتیلہ سات سال کی تھی۔تلوار کو صحیح طریقے سے اٹھا بھی نہیں سکتی تھی۔اور پھر یہ تلوار ہمیشہ ملکہ قُتیلہ کے پاس رہی یہاں تک کہ اسے رشاقہ جیسی سہیلی مل گئی۔اور ملکہ قُتیلہ نے تلوار سے جدا ہونا گوارا کر لیا۔“
”وہ بہت اچھی شمشیرزن تھی۔یشکر کی خواہش پر میں بھی اس سے تلوار بازی سیکھ رہی تھی۔“
”سچ۔“قُتیلہ کے ہونٹوں پر خوشگوار مسکراہٹ ابھری۔”یہ تم رکھ لو۔“اس نے تلوار بادیہ کی طرف بڑھادی۔
بادیہ نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔”خوشی سے دے رہی ہو۔“
قُتیلہ اثبات میں سر ہلایا۔”ملکہ قُتیلہ کے جو دل میں ہوتا ہے وہی لبوں پر ہوتا ہے۔“ اور چاہو تو ملکہ قُتیلہ تمھیں تربیت بھی دے سکتی ہے۔“
بادیہ نیام پر ہاتھ پھیرتے ہوئے چاہت سے بولی۔”مجھے سردار یشکر نے بہت عمدہ تلوار حق مہر میں دی تھی۔میں نے واپس کردی تاکہ میری حفاظت کرسکے۔“
”ملکہ قُتیلہ نے آج تک صاعقہ سے اچھی تلوار نہیں دیکھی۔اگر یشکر فروخت کرنے پر راضی ہوتا تو ملکہ قُتیلہ منھ مانگی قیمت دے سکتی تھی۔“
بادیہ فخر بولی۔”وہ اس کے باپ کا تحفہ ہے۔اور اب تو اس کی سردار زادی کا حق مہر ہے۔“
قُتیلہ کے چہرے پرکوفت نمودار ہوئی ،موضوع تبدیل کرتے ہوئے بولی۔”ملکہ قُتیلہ کو رشاقہ کی باتیں سناﺅ نا۔“
”رشاقہ اور ماں جی ہر وقت اپنی ملکہ قُتیلہ کو یاد کیا کرتی تھیں،سامع میں اکیلی ہوتی تھی۔ اور تب تمھیں بہت گہرائی تک جان گئی ،یہاں تک کہ مجھے محسوس ہونے لگاہم بہت عرصے سے اکٹھی رہ رہی ہیں ……..“بادیہ دھیمے لہجے میں بولنے لگی۔
٭٭٭
طلوع آفتاب کے ساتھ ہی قُتیلہ نے بنو طرید کے اہم افراد کی بیٹھک بلائی تھی۔اس میں بنو نسر کے دو تین معزّز افراد، بنو جساسہ کے دو تین معزّزین اور اقرم بن طریف بھی شامل تھے۔یشکر کے پاس بھی پیغام بھیجا ، لیکن اس نے آنے سے انکار کر دیا تھا۔
پیغامبر کے منھ سے یشکر کا انکار سن کر وہ منھ بناتے ہوئے بولی۔”یہ دن بھی آنا تھا،ملکہ قُتیلہ کو خود بزدل فارسی کے پاس جانا پڑے گا۔“
وہ اٹھ کر اس کے خیمے کی طرف بڑھ گئی ،ملکان منقر وغیرہ مسکرا پڑے تھے۔
دروازے پر قدم روکتے ہوئے اس نے اعلان کیا۔”ملکہ قُتیلہ ،اندر آرہی ہے۔“اور پھر اجازت ملے بغیر داخل ہوگئی۔بادیہ ساری رات اس سے باتیں کرتی رہی تھی اور اب تک قُتیلہ ہی کے خیمے میں سوئی تھی۔یشکرتکیے سے ٹیک لگائے خنجر کوانگلیوں میں گھمارہا تھا۔اس نے قُتیلہ کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا تھا۔
”یقینا تمھیں منت کروانا اچھا لگتا ہے اور شاید تم ملکہ قُتیلہ کے منھ سے معذرت سننے کے بھی خواہاں ہو گے ،لیکن ملکہ قُتیلہ کونہ تو منت کرنا آتا ہے اور نہ معذرت کرنے کی شُدبد ہے۔اس لیے اٹھو اور مشاورت میں حصہ لو، بہت ضروری معاملات طے کرنا ہیں۔“
یشکر طنزیہ لہجے میں بولا۔”دل دکھانااور تکلیف دینا تو اچھی طرح آتا ہے۔“
”ملکہ قُتیلہ کو کیا آتا ہے اور کیا نہیں یہ تمھارا درد سر نہیں ہے۔ جس کام کا بتایا ہے اس طرف دھیان دو۔“
وہ بے نیازی سے بولا۔”بنو طرید کے کسی معاملے سے میرا کیا تعلق۔“
وہ طنزیہ لہجے میں بولی۔”یہ بنو طرید کا نہیں رشاقہ کامعاملہ ہے ،اس کے قتل کے ذمہ داروں سے بدلہ لینے کی منصوبہ بندی ہے اور جہاں تک ملکہ قُتیلہ کی یاداشت کام کرتی ہے وہ تمھاری بیوی تھی۔“
”اپنی بیوی کا بدلہ میں لے سکتا ہوں تمھیں زحمت کی ضرورت نہیں۔میں جانوں اوراہل بنو نوفل جانیں۔تم اپنی سرداری کی ذمہ داریاں سنبھالو۔“
گہری خفگی لیے دُنبالہ آنکھیں اس کی طرف متوجہ ہوئیں۔”ملکہ قُتیلہ کو غصہ آگیاتھا اور جلد بازی میں سردارزادی بادیہ کو چوٹ پہنچانے کا باعث بن گئی۔رات کو سردارزادی سے معذرت کر لی تھی اور اس نے معاف بھی کر دیاہے۔“
یہ نک چڑھی قُتیلہ تو نہیں تھی۔اس کا یشکر کے خیمے میں آنا ہی حیران کن تھا کجا وہ لجاجت سے بات کرتی۔شاید رشاقہ کی موت اس رویے کی وجہ بنی تھی۔
خنجر نیام میں کرتا ہوا وہ اٹھااورمزید تکرار سے گریز کرتے ہوئے وہ دروازے کی طرف بڑھ گیاتھا۔
قُتیلہ کے ہونٹوں پر ہلکا سا تبسم نمودار ہوا جسے اس نے فوراََ ہی چہرے سے کھرچ دیا تھا۔
پہلو بہ پہلو چلتے ہوئے وہ نصف دائرہ کی صورت بیٹھے معزّزین کے پاس پہنچے۔ انھوں نے کھڑے ہو کر تعظیم دی تھی۔ بیٹھنے کا اشارہ کر کے دونوں نے ان کے سامنے چٹائی پر نشست سنبھال لی تھی۔
”یقینا تم لوگوں کا معلوم ہوگا کہ گزشتہ دنوں بنو نوفل کے سواروں نے بنو طرید کی باسی رشاقہ بنت زیادکو قتل کر دیا،گو مرنے سے پہلے اس نے حملہ آوروں کا صفایا کر دیا تھا ،لیکن اصل مجرم بنو نوفل کا سردار ہے۔وہ اب بھی ملکہ قُتیلہ کی سہیلی سردار زادی بادیہ کے درپے ہے اور اس کے سوارمسلسل سردارزادی کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔اس بیٹھک کا مقصد بنو نوفل کے خلاف کارروائی کی منصوبہ بندی کرنا ہے۔رشاقہ کو کھونے کے بعد ملکہ قُتیلہ، بادیہ سے ہاتھ دھونا نہیں چاہتی۔یشکر کا تعلق بھی بنو طرید سے رہ چکا ہے اور اس نے بنو طرید کی خاطر تلوار اٹھائی ہے۔اور اہل بنو طرید اپنے محسنوں کے لیے ہتھیار سونتنا جانتے ہیں۔یہاں تک تو بنو طرید کا معاملہ تھا۔بنو جساسہ والے بھی بنو نوفل کے ہاتھوں زک اٹھا چکے ہیں اس لیے وہ بھی بنو طرید کا ساتھ دینا چاہیں گے۔بنو جساسہ کا سردار یشکر خود اہل بنو نوفل سے چھپتا پھر رہا ہے۔“وہ لمحہ بھر کو خاموش ہوئی اور پھر تمام پر طائرانہ نگاہ دوڑا کر بولی۔”اب تمام معزّزین فرداََ فرداََ اپنی راے کا اظہار کر سکتے ہیں۔“
منقر بولا۔”بنو نوفل کی تعداد بنو جساسہ ،بنو نسر اور بنو طرید کے تمام افراد سے زیادہ ہے۔ہمیں مزید افراد کی ضرورت پڑے گی۔“
”اہل بنو نسر اس لڑائی میں شامل ہوں گے یا نہیں ،اس کا فیصلہ بنو نسر کے اصل سردار طرفہ بن جبلہ کی ماں کرے گی۔اور جہاں تک ملکہ قُتیلہ کا اندازہ ہے وہ اس لڑائی میں قبیلے کی شمولیت گوارا نہیں کرے گی اس لیے بنو نسر کو ہم سے علاحدہ سمجھو۔“
ملکان نے کہا۔”سردار نجار بن ثابت ہمارا حلیف ہے ،یقینا ہمارے ساتھ مل کر لڑنا چاہے گا۔“
قُتیلہ متبسم ہوئی۔”اور جنگ جیتنے کے بعد ملکہ قُتیلہ سے شادی کی رٹ لگا لے گا۔“
یشکر نے چوٹ کی۔”تم نے کسی سے تو شادی کرنا ہوگی ،سردار نجار بن ثابت سہی۔“
”ملکہ قُتیلہ نے تمھیں بکواس کرنے نہیں مشورے کے لیے بلایا ہے۔ اوریادرہے یہاں تم بنو جساسہ کے سردار کی حیثیت سے نہیں بنو طرید کے باسی کے حیثیت سے بیٹھے ہو۔“
”شروعات تم نے کی اور یہاں پر بنو جساسہ کا سردار تو کیا ہر ادنیٰ آدمی بھی بنو جساسہ کی نمائندگی کر رہا ہے۔“
قُتیلہ کے کچھ کہنے سے پہلے ایک آدمی بھاگتا ہوا وہاں پہنچا۔
”ملکہ قُتیلہ ،ایک قافلہ بنو طرید کے مضافات میں رکا ہے۔پوچھنے پر معلوم ہوا ہے کہ بنو جساسہ کے لوگ ہیں اور بنوطرید داخل ہونے کی اجازت مانگ رہے ہیں۔“
”کیا….؟“قُتیلہ کے لبوں سے حیرانی سے نکلا۔یشکر کھڑا ہو گیا تھا۔بیٹھک عارضی طور پر ملتوی ہوئی اور تمام قافلے کے استقبال کے لیے بڑھ گئے۔
OOO
تھوڑی دیر بعد یشکر ،شریم اور مالک سے گلے مل رہا تھا۔بنو جساسہ والوں کے لیے رشاقہ ،اغلب اور مروان کی موت کسی دھچکے سے کم نہیں تھی۔ مالک بن شیبہ کی آنکھیں بھائیوں کی موت کا سن کر نم آلود ہو گئی تھیں۔بادیہ اس کے گلے لگ کر رونے لگی تھی۔ شریم نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر تسلی دینے لگا۔
اہل بنو طرید قافلے والوں کی آﺅ بھگت میں مصروف ہو گئے تھے۔
سہ پہر کو دوبارہ بیٹھک ہوئی۔ اس مرتبہ شریم بھی موجود تھا۔مختلف افراد کے مشورے سننے کے بعد شریم نے کہا۔”گو ہماری تعداد ،بنو نوفل سے کم ہے ،مگر ہم ایک لحاظ سے فائق ہیں ،کہ اپنی عورتوں، بچوں ،مویشیوں اور سازوسامان کو محفوظ مقام پر منتقل کرسکتے ہیں۔چونکہ بنو نسر کا اس لڑائی سے کوئی تعلق نہیں ہے اس لیے آج رات کو اہل بنو نسر یہاں سے اپنے قبیلے کے پرانے مقام کی طرف کوچ کریں گے۔ان کے ہمراہ ہمارے بوڑھے ،بچے،عورتیں اور مویشی وغیرہ ہوں گے۔یوں ہم ایک طرف سے بے فکر ہو جائیں گے۔اورباقی بچیںگے ہمارے وہ جوان جو لڑائی میں حصہ لے سکتے ہیں۔پھر بنو نوفل کو دھوکے سے کسی ایسے مقام کی طرف لے جائیں گے جہاں ہم انھیں گھیر سکیں۔وہاں جب تک تیر اندازی سے ان کا نقصان کر سکے کریں گے آخر میں آمنے سامنے جائزہ لیں گے کہ وہ کتنے پانی میں ہیں۔“
شریم کے خاموش ہونے پر یشکربولا۔”ایک ایسی گھاٹی میری نظر میں ہے۔وہاں ہم نے بنو احمر کوگھیرنے کا منصوبہ بنایا تھالیکن پانی کی کمی اور عورتوں، بچوں کی موجودی نے ہمارے منصوبے پر پانی پھیر دیا تھا۔“
مالک بن شیبہ نے کہا۔”انھیں وہاں تک لائیں گے کیسے؟“
یشکر بولا۔”بنونوفل کی کافی ٹولیاں ،ہماری تلاش میں سرگرداں ہیں۔اور ان کی تلاش کا دائرہ بنو جساسہ کے مضافات سے شروع ہو کر چند منزلوں تک ہی بڑھ سکا ہوگا۔ہم پندرہ بیس اچھے لڑاکوں کے ساتھ ان کی ٹولیوں کا شکار کریں گے۔ملکہ قُتیلہ ،سردارزادی بادیہ بن کر ہمارے ساتھ ہی ہوگی۔ہم کوشش کریں گے کہ ان کا کوئی آدمی جان بچا کر بھاگ سکے اور جا کر قبیلے والوں کو ہماری کارروائی سے باخبر کرے۔اسی طرح دو تین قبیلوں کے مہمان بن کر ہم آپس میں یوں گفتگو کریں گے کہ سننے والوں کو پتا چل جائے ہم کہاں چھپے ہوئے ہیں۔دو تین دنوں میں یا تو بنو نوفل کا لشکر وہیں پر ہماری سرکوبی کے لیے پہنچ جائے گااور اسے اپنے تعاقب میں لگا کر ہم گھاٹی کی طرف بھاگیں گے۔نہیں تو یونھی دو تین دنوں بعد ہم گھاٹی میں لوٹ آئیں گے۔یقینابنو نوفل والے جلد ہی گھاٹی کا رخ کریںگے۔چچا شریم نے پہلے سے بنو نوفل کے استقبال کی تیاری کی ہو گی۔ہم گھاٹی کے درمیان میں چند خیمے لگا کر انھیں اندر داخل ہونے پر مجبور کریں گے ،جونھی ان کا لشکر اندرداخل ہوگا ہم تنگ راستے کو پتھروں سے پاٹ دیں گے۔گھاٹی کے شرقی راستے پر بھی ہم اپنے تیر انداز بٹھا دیں گے۔اور وہاں کھل کر بنو نوفل کا شکار کریں گے۔کیوں کہ ہم بلندی پر ہوں گے اوروہ نشیب میں۔دیکھتے ہیں کتنے دن پیاس اور تیر وں کی بارش برداشت کر سکتے ہیں۔“
قُتیلہ نے منھ بناتے ہوئے زبان کھولی تھی۔
”ملکہ قُتیلہ کی سمجھ میں نہیں آتا فارسی ہر منصوبے میں ملکہ قُتیلہ کو کیوں گھسیڑ دیتا ہے۔“
حاضرین قہقہ لگا کر مسکرا پڑے تھے۔یشکر کے ہونٹوں پر بھی تبسم کھل گیا تھا۔
تھوڑی دیر مزید بات چیت کے بعد انھوں نے منصوبے کی نوک پلک درست کی اور بیٹھک برخاست ہو گئی۔
٭٭٭
”میں وہاں نہیں جاﺅں گی۔“بادیہ منھ بسورتے ہوئے یشکرسے لپٹ گئی۔
”میں تمھاری حفاظت کروں گا یا دشمنوں سے نبٹوں گا۔“یشکر کے لبوں پر مسکان پھیل گئی تھی۔
بادیہ شاکی ہوئی۔”اتنے عرصے بعد ایک رات کی بھیک ملی ہے واہ جی واہ۔“
”گزشتا رات تم نے خود ضائع کی تھی، میراکیا قصورہے۔“
بادیہ نے مسمسی صورت بنائی۔”ملکہ قُتیلہ نے اتنی لجاجت سے رات گزارنے کا کہا کہ میں انکار نہ کر سکی۔“
یشکر چڑتا ہوابولا۔”اب اپنی ملکہ کے پاس جا کر کہو کہ اس مسئلے کا حل نکالے۔“
”ٹھیک ہے اسی کو کہہ دیتی ہوں وہ میری حفاظت کر لے گی۔“بادیہ کے لہجے میں ناراضی بھری تھی۔
یشکر جھلاتے ہوئے بولا۔”کیوں مجھے لڑائی سے باہر کرنا چاہتی ہو۔جب تک تم محفوظ مقام پر نہیں ہو گی میں تمھاری حفاظت کے علاوہ کچھ کرنا تو درکنا کچھ سوچ بھی نہیں سکوں گا۔“
بادیہ نے روٹھنے کے لیے پرتولے۔”بس ….بس جان گئی ہوں آپ کی محبت کو ،ذرااپنی سہیلی کے ساتھ چند لمحے کیا بِتا لیے شکایات کا پٹارا کھول لیا۔“
یشکر نے حتمی انداز میں کہا۔”تم صبح ،بنو نسر کے قافلے ساتھ جا رہی ہو اور بس۔“
وہ کسمساتے ہوئے اس کی گرفت سے نکلی اور پاﺅں میں جوتے ڈالنے لگی۔
”کہاں جا رہی ہو؟“یشکر کے لہجے میں حیرانی تھی۔
وہ خفگی سے بولی۔”ملکہ قُتیلہ کے پاس جا رہی ہوں ،یقینا وہ میری حفاظت کرے گی اور مجھے بنو نسر کے ساتھ نہیں جانا پڑے گا۔“
”کیا حماقت ہے سردارزادی!“یشکر اسے پکڑنے کواٹھا،لیکن وہ بھاگ کر خیمے سے نکل گئی تھی۔
”بادیہ ….بادیہ ….“وہ آوازیں دیتا ہوا سرعت سے باہر نکلا مگر بادیہ بھاگتے ہوئے قُتیلہ کے خیمے کی طرف بڑھ گئی تھی۔دروازے پر رک کر اس نے عریسہ کو آواز دی اور جواب کا انتظار کیے بغیر اندر گھس گئی۔
اسے دیکھتے ہی قُتیلہ مسکراتے ہوئے کھڑی ہوئی۔”سردارزادی آئی ہے۔“
”تم دونوں کی رات سلامتی والی ہو۔“بادیہ خوشگوار لہجے میں کہتے ہوئے آگے بڑھی۔
عریسہ شفقت بھرے لہجے میں بولی۔”تم پر عزیٰ کی برکتیں ہوں میری پیاری بیٹی۔“
”ملکہ قُتیلہ تمھاری ہی منتظر تھی۔“قُتیلہ نے ہاتھ دائیں بائیں پھیلا دیے تھے۔
”سوچا آپ عشاء(رات کاکھانا)سے فارغ ہولیں۔“ مضبوط بازوﺅں میں سماتے ہوئے بادیہ نے اس کے دونوں گالوں کو چوم لیا تھا۔
”عشاءہمارے ساتھ ہی کر لیتیں۔“قُتیلہ جوابی بوسے کے بعداسے ساتھ لیے چٹائی پر بیٹھ گئی تھی۔
بادیہ مزاحیہ انداز میں بولی۔”سردار ،میری گزشتا رات کے قیام پر ناراض ہورہے تھے تمھارے ساتھ عشاءکرنے پر تو ہتھے سے اکھڑ جاتے۔“
”ملکہ قُتیلہ کی سہیلی کو کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔“
بادیہ نے مطمح نظر بیان کیا۔ ”سردار کہہ رہے ہیں صبح مجھے ہر حال میں بنو نسر کے قافلے کا حصہ بننا ہوگا، کیوں کہ وہ میری حفاظت کے معاملے میں پریشان ہیں۔لیکن میں نہیں جانا چاہتی۔انھیں صاف کہہ دیا ہے کہ میری حفاظت ملکہ قُتیلہ کر لے گی۔“
قُتیلہ وارفتگی سے بولی۔”ملکہ قُتیلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تمھاری حفاظت کا ذمہ لینے کو تیار ہے لیکن فی الحال تمھیں یشکر کی بات ماننا ہوگی۔“
”کیا مطلب؟“بادیہ نے منھ بسورا۔
”مطلب یہ ہے میری بھولی سردار زادی!جنگ کے دوران ملکہ قُتیلہ دشمن سے لڑے گی یا تمھارا خیال رکھے گی۔اور سچ تو یہ ہے کہ تمھاری موجودی ملکہ قُتیلہ کو اطمینان سے لڑنے کے قابل نہیں چھوڑے گی۔“
بادیہ نے منھ بنایا۔”تم بھی سردار والے اندیشے دہرا رہی ہو۔“
”اسے اندیشے نہیں فکرمندی کہتے ہیں۔رشاقہ اتنی اچھی لڑاکا تھی لیکن ملکہ قُتیلہ اسے بھی لڑائی سے دور رکھتی تھی۔“
” پھر میں چلتی ہوں۔“بادیہ نے اٹھنے کے لیے پر تولے۔
قُتیلہ جُزبز ہوئی۔”اتنی جلدی،ملکہ قُتیلہ کا خیال تھا ہم ساری رات باتیں کریں گے۔“
بادیہ نے قہقہ لگایا۔” لگتا ہے سردار تلوار سونتے آتے ہی ہوں گے۔مجھے تو کچھ نہیں کہیں گے تمھارے ہی گلے پڑیں گے۔“
”تلوار سے کھیلنا ملکہ قُتیلہ کے لیے اتنا ہی پسندیدہ ہے جتنا کسی دلہن کے لیے شوہر کی بانہوں میں لیٹنا۔“قُتیلہ نے بے نیازی دکھائی۔
بادیہ نے معنی خیز لہجے میں کہا۔”گویا مانتی ہو کہ دلہن کے لیے شوہر کی بانہوں میں لیٹنا اتناخوشگوار ہے کہ اسے بہ طور مثال پیش کیا جائے۔“
”ملکہ قُتیلہ ،تم سے باتیں کرنا چاہتی ہے۔“قُتیلہ ملتجی ہوئی۔
”مجھے بھی ملکہ قُتیلہ سے باتیں کرنا اچھا لگتا ہے لیکن اسے خفا نہیں کر سکتی۔“بادیہ نے قُتیلہ کا ہاتھ تھام کر ہونٹوں سے لگایا اور جھپاک سے باہر نکل گئی۔
یشکرخیمے میں بے چینی سے ٹہل رہا تھا۔”کیا ضرورت تھی واپس آنے کی ،اپنی ملکہ کے پاس رات گزار لیتیں۔“
بادیہ منھ پھلاتے ہوئے بولی۔”اگر آپ کا خیال ہے کہ مجھے خفا ہونا نہیں آتاتو میں آپ کی غلط فہمی دور کر دوں گی۔“
یشکر کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیاتھا۔قریب آکروہ بے بسی سے بولا۔”ڈر گیا تھا کہ شاید آج رات بھی نہ لوٹو۔“
”ایسا کیوں سوچا؟“بادیہ دل مسوس کر رہ گئی تھی۔
”پتا نہیں۔“یشکر نے اداسی سے سرکودائیں بائیں ہلایا۔
بادیہ وارفتگی سے بولی۔”گزشتا رات مجھ پر بھی اتنی ہی بھاری گزری جتنی آپ پر۔بس ملکہ قُتیلہ کا دل نہ توڑا گیا۔وہ رشاقہ کی باتیں کر رہی تھی،پچھتاوں کے نرغے میں تھی،مجھے بھی رشاقہ کی یاد آرہی تھی۔یقینا آپ بھی اسے یاد کر رہے ہوں گے۔سوچا رات آپ کو رشاقہ کے ساتھ گزارنے دوں، خود بھی رشاقہ کے ساتھ رات گزاروں۔کم از کم اتنا تو اس کا حق بنتا تھا ناں سردار۔“
”ہاں۔“یشکر کے ہونٹ اس کی زلفوں میں پیوست ہو گئے تھے۔”تم سے خفا نہیں ہوسکتا ، بس ڈر جاتا ہوں سردارزادی۔“
”حالاں کہ ڈرنا تو مجھے چاہیے کہ ، مجھ سے بھی پیاری دوشیزہ سردار کے پاس موجود ہے۔“
یشکر منھ بناتا ہوا بولا۔”وہ سوکھی سڑی بدمزاج ،ہٹ دھرم و گھمنڈن میری سردارزادی سے کیسے خوب صورت ہے۔“
بادیہ شرارت سے مسکرائی۔”میرے جیسی تو ہے،سچ میں سردار ملکہ کا چہرہ دیکھتے ہوئے لگتا ہے آئینہ دیکھ رہی ہوں۔“
”چھوڑو کسی اور کے ذکر کو ہم بس اپنی باتیں کریں گے۔“یشکر اسے ساتھ لیے بستر پر بیٹھ گیا تھا۔ ان کے پاس کرنے کو بہت سی باتیں تھیں اور وقت نہایت محدود تھا۔وصل کی ایک شب محبت کرنے والوں کو لحظے کے برابر لگتی ہے۔اور ایک لمحے میں کتنی باتیں ہو سکتی ہیں……..

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: