Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 62

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 62

–**–**–

قُتیلہ نے منقر کو زبردستی بنو نسر کے قافلے کے ہمراہ بھیج دیا تھا۔جو غلام لڑنا نہیں جانتے تھے انھیں بھی منقر کے ہمراہ کر دیا تھا۔خزانے کے مقفل صندوقوں کے متعلق اس نے منقر کو خصوصی تاکید کی تھی۔ ان صندوقوں کی حقیقت سے منقراور رغال کے علاوہ کوئی واقف نہیں تھا۔
بادیہ بھی رو دھو کے رخصت ہو گئی تھی۔اب وہاں قُتیلہ کے علاوہ کوئی عورت باقی نہیں بچی تھی۔
قافلے کو رخصت کر کے انھوں نے از سرنو منصوبے کی نوک پلک درست کی۔بیس بہترین لڑاکے علاحدہ ہو گئے اور باقیوں کے ساتھ شریم گھاٹی کی طرف بڑھ گیاتھا۔چار پانچ افراد نے ہاتھوں میں سیاہ و سرخ دو رنگے جھنڈے پکڑے ہوئے تھے۔وہ قُتیلہ نے خصوصی طور پر بنو طرید کے امتیازی نشان کے طور پر بنائے تھے۔اس مرتبہ انھوں نے گزشتا غلطیاں دہرانے کی کوشش نہیں کی تھی تبھی تو عورتوں اور بچوں کوعلاحدہ مقام پر بھیج دیاگیا تھا۔
تمام کو رخصت کر کے انھوں نے دن کا بقیہ حصہ اورپوری رات وہیں قیام کیا تھا۔اگلے دن طلوع آفتاب کے ساتھ قُتیلہ اور یشکر اٹھارہ شہ سواروں کے ہمراہ بنو جساسہ کی طرف بڑھ گئے تھے۔
یشکر اس وقت عنبر پر سوار تھا اس نے ابلق بادیہ کے حوالے کر دی تھی۔ تمام ہلکی رفتار سے روانہ تھے کیوں کہ ان کی کوئی خاص منزل نہیں تھی۔امریل کا گھوڑا ،یشکر کے پہلو میں دوڑ رہا تھا۔بنو نوفل کی بکھری ہوئی ٹولیوں کے بارے گفتگو کرتے کرتے اچانک ہی امریل نے موضوع تبدیل کیا۔
”مالکن اور تمھاری صلح پر جتنی خوشی مجھے ہوئی شاید ہی کسی ہو ئی ہو۔“
یشکر استہزائیہ لہجے میں بولا۔”کیا وہ اس قابل ہے کہ صلح کی جائے۔“
”تم مالکن کی توہین کر رہے ہو۔“امریل سنجیدہ ہو گیا تھا۔
یشکر نے منھ بنایا۔”ملکہ ہو گی تمھاری۔میرے نزدیک وہ ایک گھمنڈی اور احمق عورت ہے۔“
”ایسا تو نہ کہیں سردار!“امریل شاکی ہوا۔”اس پر دیوتاﺅں کا خصوصی کرم ہے۔بہادر، دلیر ، سخی ،فہیم ،لا ثانی شمشیر زن اور اچھوتی تیر انداز،یقین کرو ایک ہی وقت میں دو تیر چلا کر دو شکار کرتی ہے۔“
”ایک وقت میں دو تیر….؟“یشکر نے سوالیہ انداز میں وضاحت چاہی۔
”ہاں۔“امریل پرجوش ہوا۔”پہلے تیر کو بلندی کا زاویہ دے کر پھینکتی ہے ، دوسرا براہ راست چلاتی ہے اوردونوں ایک ساتھ دو جانوروں کو نشانہ بناتے ہیں۔“
” جانتے ہو قدرتی صلاحیت اور مہارت دو علاحدہ چیزیں ہیں ۔اگر سچ کہوں تو تمھاری ملکہ با صلاحیت ضرور ہے ماہر نہیں ہے ۔کسی ماہر کی نظر میں اناڑی تیر انداز اور اناڑی شمشیر زن ہے۔“یشکر کی بلند آواز قُتیلہ کے کانوں تک پہنچ گئی تھی۔وہ سب سے آگے جارہی تھی۔ملکان کو خاموش ہونے کا کہہ کر اس نے مشکی رفتار ذرا کم کی اور یشکر کی باتوں پر کان دھر دیے۔
امریل دعوے سے بولا۔”ثابت نہیں کر سکو گے۔“
”تیر انداز ی کے رموز میں نے ایسے شخص سے سیکھے جو فارس کا مانا ہوا جنگجو اور لڑاکا ہے۔ایسا ماہر کہ بڑھاپے میں بھی مجھ جیسے لڑاکے کو انگلیوں پر نچاتا تھا۔اور تمھیں یقین دلاتا ہوں قُتیلہ میں صلاحیتیں ضرور ہیں ،اگر کسی مستند استاد سے سیکھ لے تو پہلے سے کئی گنا بہتر ہو سکتی ہے۔“
امریل نے منھ بنایا۔”تم کہو گے اور میں مان لوں گا۔“
”دلیل سنو،تیر کو ہمیشہ تین وجوہات کی بنا پر بلندی کا زاویہ دیا جاتا ہے۔پہلی وجہ جب ہدف اوپر ہو یعنی کسی بلند جگہ یا ہوا میں ہو۔دوسرا،جب ہدف دور ہو اور براہ راست تیر کی حد سے باہر ہو ا۔اور آخری وجہ جب ہدف کسی آڑ کے پیچھے ہو۔“
امریل زور دے کر بولا۔”اور چوتھی وجہ ہے جب ایک وقت میں ایک سے زیادہ ہدفوں کو نشانہ بنانا ہوتب بھی ایسا کیا جاسکتا ہے۔اور سچ تو یہ ہے کہ میں نے ملکہ قُتیلہ کو ایسا کرتے اپنی آنکھوں سے دیکھاہے۔“
یشکر نے بے پروائی ظاہر کی۔”دیکھا ہوگا،لیکن اس وقت تمھاری ملکہ کے ہاتھ میں ذاتی کمان ہو گی۔اگر ایک دم نئی کمان سے تیر پھینکنا پڑے تو وہ یقینا ایسا نہیں کر سکے گی۔اور جانتے ہو اس کی وجہ کیا ہے؟“یشکر نے سوالیہ نظروں سے امریل کو گھورا۔اس نے نفی میں سرہلادیا تھا۔یشکر کی بات جاری رہی۔”یاد رکھو ،ہر کمان کی تانت میں مخصوص کھنچاﺅ ہوتا ہے۔اور اس سے پھینکا جانے والاتیر سیدھا اوپر جا کر کتنی دیرمیں زمین کو چھوئے گااس کا اندازہ تبھی ہو سکتا ہے جب اس کمان سے اچھی خاصی مشق کی گئی ہو۔“
”تو….؟“
یشکر نے اطمینان سے کہا۔”مہارت کا تقاضا یہ ہے کہ ایک تیر انداز ہر کمان سے یہ مظاہرہ کر سکے،ورنہ اسے مہارت تسلیم نہیں کیا جائے گا۔“
امریل نے ہلکے سے طنز سے پوچھا۔”تم ایک وقت میں کتنے جانوروں کا شکار کر لو گے؟“
”اس کا انحصار جانوروں کی تعداد اور ان کے فاصلے پر ہے۔“
”سمجھا نہیں۔“امریل نے قدرے حیرانی سے وضاحت چاہی۔
”زیادہ دور ہونے کی وجہ سے دو سے زیادہ جانور شکار نہیں کیے جا سکتے کیوں کہ تیز حرکت کی وجہ سے وہ مار کی حد سے باہر نکل جاتے ہیں۔اور قریب ہونے کی حالت میں ایک ماہر تیر انداز کو کم از کم تین جانوروں کو نشانہ بنانا چاہیے۔“
امریل نے بے یقینی سے پوچھا۔”اور ایسا ہوگا کیوں کر۔“
یشکر نے وضاحت کی۔”صرف دو باتیں ،تیز رفتاری اور نشانے کی پختگی۔“
”تم مقابلہ کر کے اپنی غلط فہمی دور کر سکتے ہو۔“لگام کھینچتے ہوئے قُتیلہ نے مشکی کے قدم روکے اور یشکر کی جانب رخ کرتے ہوئے چنوتی دی۔
”ہار جاﺅ گی۔“یشکر کے لہجے میں اطمینان تھا۔
لگام کو ڈھیلا چھوڑتے ہوئے قُتیلہ مشکی کو عنبر کے پہلو میں دوڑانے لگی۔امریل نے اپنا نقرہ پیچھے کر لیا تھا۔
”ملکہ قُتیلہ کوہرانے والا ہنوز شکم مادر میں ہے۔“
یشکر اطمینان سے بولا۔”تمھاری پیدائش سے چند ماہ پہلے پیدا ہو چکا تھا۔“
قُتیلہ نے طنزیہ انداز میں کہا۔”تم شاید بنو جساسہ میں ہونے والی لڑائی پر اِترا رہے ہو۔“
”جانتا ہوں تم جان بوجھ کر ہاری تھیں ،لیکن یقین کرو ایسا کر کے تم اپنی نظر میں سر خرو ہو ئیں اور جان بھی بچا لی۔میری تلوار صرف اس لیے رکی تھی کہ تمھیں اس وقت تک شکست نہیں ہوئی تھی۔ ورنہ اب تک تمھارا سوکھا سڑا بدن کیڑوں کی خورا ک بن چکا ہوتا۔“
”کیوں نہ ابھی فیصلہ کر لیں۔“
یشکر نے بے پروائی سے کندھے اچکائے۔”مجھے کوئی اعتراض نہیں۔“
”ہار گئے تو ملکہ قُتیلہ تمھاری جان نہیں لے گی البتہ سردارزادی بادیہ سے دست بردار ہونا پڑے گا۔وہ ملکہ قُتیلہ کو ملے گی۔“
یشکر نے تیکھے لہجے میں پوچھا۔”اور مجھے کیا ملے گا؟“
اس نے فراخ دلی سے پیش کش کی۔”ملکہ قُتیلہ ،بنو طرید کی سرداری تمھارے حوالے کر دے گی۔“
یشکر نے نفی میں سرہلایا۔”اگر میں جیت گیا تو تمھیں میری باندی بننا ہوگا۔بولو منظور ہے۔“
”گھٹیا فارسی۔“دانت پیستے ہوئے وہ مشکی کو ایڑ لگا تے ہوئے آگے بڑھ گئی۔یشکر قہقہ لگا کر ہنس پڑا تھا۔
امریل دوبارہ یشکر کے پہلو میں گھوڑا دوڑانے لگا۔”ایسا تم نے اس لیے کہا کہ وہ غصہ کر کے بھاگ جائے۔“
یشکر کے لبوں پر مسکراہٹ ابھری۔”تمھارا کیا خیال ہے میں بادیہ کو داﺅ پر لگا کر اس بدروح سے مقابلہ کرنے کا خطرہ مول لوں گا۔“
امریل نے دور جاتی قُتیلہ پر نظریں جماتے ہوئے پوچھا۔”مالکن کے سامنے تو اس کی تنقیص پر جری رہتے ہو۔“وہ کافی آگے نکل چکی تھی۔مشکی کے قدموں میں گویا برقی رو دوڑ رہی تھی۔ تمام کو معلوم تھاکہ وہ وقتی اشتعال کے زیر اثر مشکی کو ایسے بھگا رہی تھی۔ باقیوں نے رفتار بڑھانے کی کوشش نہیں کی تھی۔
یشکر صاف گوئی سے بولا۔”کیوں کہ تمھاری ملکہ بھی میری صلاحیتوں کا انکار کرتی ہے ، بلکہ مجھ سے نفرت کرتی ہے۔تو میں کیوں اعتراف کروں۔“
امریل نے کافی دیر سے دماغ میں کلبلاتی الجھن کو سوال کی شکل دی۔”کیا ملکہ قُتیلہ حقیقت میں جان بوجھ کر ہاری تھی۔“
یشکر نے اثبات میں سرہلایا۔” بہت موقع شناس اور فہیم ہے۔اگر جیت جاتی تو مجبورامجھے قتل کرنا پڑتااور میرے قتل سے جہاں اس کی ماں جی خفا ہوتیں، وہیں اس کی پیاری سہیلی رشاقہ بھی بدظن ہو جاتی۔اور سب سے بڑھ کر وہ اظہار بے شک نہ کرے مگر مجھے اپنا محسن سمجھتی ہے۔ کیوں کہ میری وجہ سے نہ صرف دو تین بار اس کی جان بچی ہے بلکہ بنو طرید کو بھی میں نے دو بار تباہ ہونے سے بچایا ہے اور تمھاری ملکہ احسان لوٹانا جانتی ہے۔“
امریل ہنسا۔”گویا تم ذہنی طور پر اس کی برتری قبول کرتے ہو؟“
یشکر نے خفگی سے گھورا۔”ایسا میں نے کب کہا۔“
امریل الجھن آمیز لہجے میں بولا۔”یہی کہ مالکن جیت جاتی تو تمھیں قتل کرنا اس کی مجبوری بن جاتی اسی وجہ سے ہاری ہے۔“
”میں نے اس کا نقطہ نظر بیان کیا ہے محترم!“
امریل دعوے سے بولا۔”مالکن تمھیں پسند ہے۔“
یشکر نے پوچھا۔”کیاتمھاری ملکہ اورمیری سردار زادی کی شکل ایک جیسی ہے۔“
امریل نے اعتراف کرتے ہوئے کہا۔”اس میں شک ہی کیا ہے۔“
یشکر اسے شرمندہ کرتا ہوابولا۔”جب جانتے ہو کہ سردار زادی مجھے جان سے بڑھ کر عزیز ہے تو اس کی ہم شکل کے بارے ایسا دعوا کرناکون سا مشکل ہے۔“
امریل نے دانت نکالے۔”وہ تمھیں بالکل بھی پسند نہیں کرتی۔“
”جانتا ہوں ،تمھیں انکشاف کی ضرورت نہیں ہے۔یوں بھی نہ عورت ہے اور نہ مرد،کوئی درمیانی چیز ہے۔“
”اتنی پیاری اور خوب صورت ملکہ کوتیسری جنس کہہ کر تم قدرت کے شہ کار کی بے حرمتی کے مرتکب ہو رہے ہو۔“امریل نے دور وادی کاموڑ مڑتی قُتیلہ کو دیکھا،مشکی کمان سے نکلے تیر کی طرح فاصلے کو سمیٹ رہاتھا۔
یشکر نے منھ بنایا۔”پہلے رشاقہ اور اب میری سردارزادی کے پیچھے پڑ ی ہے۔ لڑکیاں تو ایسا نہیں کرتیں یار!“
امریل نے موضوع تبدیل کیا۔”خلیسہ ،سردارزادی بادیہ کی بڑی تعریف کر رہی تھی۔پہلے تو اسے بالکل پسند نہیں کرتی تھی۔سردارزادی نے ایک خوب صورت ہار بھی اسے تحفے میں دیا ہے۔“
”خلیسہ نے ہمیں زہر دینے کی کوشش کی تھی اس لیے بادیہ بھی اس کے قتل کی حامی ہوئی۔لیکن اس کے بچے کے بارے جاننے کے بعد اپنے موقف سے ہٹ گئی تھی۔بعد میں خلیسہ ہی کی وجہ سے میری جان بچی۔ میری محسنہ سردارزادی کے لیے کتنی معزز ،قابل احترام اور پیاری ہو سکتی ہے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔اور سردارزادی کی محبت پا کر خلیسہ کوبھی جوابی محبت پر مجبور ہوناپڑا۔“
باتیں کرتے ہوئے وہ وادی کے موڑ تک پہنچ گئے تھے۔وہاں سے وادی مغرب کی طرف مڑ کر سو قدم سیدھے جا کر دوبارہ شمال کی جانب مڑ رہی تھی۔بالکل حرف ”ک“ کی طرح کا موڑ تھا۔
جونھی دوسرا موڑمڑکر ان کا رخ دوبارہ شمال کی طرف ہوا ،قُتیلہ وادی کے کنارے بلند ٹیلے پر دونوں بازو گھٹنوں سے لپیٹے پرسکون بیٹھی دکھائی دی۔وہاں بیری کا گھنا درخت اور چند جھاڑیاں پھیلی تھیں۔ملکان نے گھوڑا موڑا۔باقی بھی اس کے پیچھے چل پڑے تھے۔ٹیلے کی بلندی پر پہنچتے ہی انھیں چاربے دھڑ لاشیں نظر آئیں جن کے سر دائیں بائیں یوں بکھرے پڑے تھے کہ اندازہ لگانا مشکل ہوگیا تھا کس سر کا تعلق کس دھڑ سے ہے۔یقینا بنونوفل کی پہلی ٹولی انجام کو پہنچ چکی تھی۔
”ان کے ساتھیوں کے بارے معلومات لینے کی کوشش نہیں کی۔“یشکر نے فوراََ ہی پوچھا۔
وہ بے نیازی سے بولی۔”تم پر غصہ آیا ہواتھا اور جب تک ملکہ قُتیلہ کا غصہ ٹھنڈا ہوتا یہ اس قابل نہیں رہے تھے کہ جواب دے سکتے۔“
یشکر چڑتے ہوئے بولا۔”اتنا تو معلوم کر لیا تھا ناں کہ ان کا تعلق بنو نوفل سے ہے۔ یا کسی اور قبیلے خلاف جنگ چھیڑ چکی ہو۔“
”ملکہ قُتیلہ کو دیکھ کر خوش ہوئے تھے ،اور سردارزادی کہہ کر پکار رہے تھے۔“
یشکر امریل کو مخاطب ہوا۔”لاشوں کو ریت میں دبا دو۔“
”ملکہ قُتیلہ تمھیں نسر دیوتا کارزق چھیننے کی اجازت نہیں دے سکتی۔“وہ اچھل کر مشکی پر سوار ہوئی۔”امریل !ان کی تلواریں اور گھوڑے رکھ لو لاشیں اسی طرح چھوڑ دو۔“
یشکر نے احتجاج کیا۔”اگر ان کا تعلق بنو نوفل سے نہ ہوا……..“
”کہہ دیا ناں ملکہ قُتیلہ کو بادیہ سمجھ کر خوش ہو رہے تھے۔“حتمی انداز میں کہتے ہوئے اس نے گھوڑا آگے بڑھا دیا۔
یشکر عنبر کو اس کے پہلو میں لاتے ہوئے بولا۔”منصوبے کے مطابق کم از کم ایک کو تو زندہ جانے دیا ہوتا۔“
وہ بے پروائی سے بولی۔”بتاتو دیا ملکہ قُتیلہ کو غصہ آیا ہوا تھا۔“
یشکر ہونٹ بھینچ کر خاموش ہو گیا تھا۔
سہ پہر ہونے والی تھی جب ان کا گزر ایک قبیلے پر ہوا۔وہ زبردستی کے مہمان بن کر وہاں جا گھسے۔بنو اسفان میں ان کی تواضع ضیاح(پانی ملا دودھ)اور گھی سے چپڑی جو کی موٹی روٹیوں سے کی گئی تھی۔ یشکر نے اپنا اور قُتیلہ کا تعارف یشکر اور بادیہ کے طور پر کرایاتھا۔ انھیں معلوم ہوا کہ اہل بنو نوفل ان کے متعلق استفسار کر کے جا چکے تھے۔تبھی ،قُتیلہ اور یشکر بہ ظاہر میزبانوں سے انجان بنتے ہوئے بنو جساسہ میں کسی مخصوص مقام پر دبے قیمتی زیورات کا ذکر کرنے لگے۔یوں جیسے ان کا مطمح نظر زیورات کا حصول اور پھر قبیلے کو واپسی ہو۔
توقع کے مطابق میزبان نے فوراََ انھیں مشورہ دیتے ہوئے احتیاط کی تلقین کی تھی۔
”قبیلے کے لیے ہم نے جو جگہ ڈھونڈی ہے وہ اہل بنو نوفل کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتی۔“ یہ کہہ کر یشکر ڈینگ مارنے کے انداز میں گھاٹی کے محل وقوع کے بارے بتانے لگا۔
سہ پہر ڈھلے وہ میزبانوں کا شکریہ ادا کر کے بنو جساسہ کی طرف بڑھ گئے تھے۔غروب آفتاب کے بعد انھوں نے ایک ٹیلے کے دامن میں پڑاﺅ ڈالا۔یشکر نے دو پہرے دار ٹیلے کی بلندی پر بٹھا دیے تھے۔دامن میں ایک آدمی کی ذمہ داری آگ جلانے کی تھی۔خشک لکڑیوں کا انبار انھوں نے پہلی فرصت میں جمع کر لیا تھا۔
تمام کے پاس رات گزارنے کا ایک ایک کمبل تھا۔امریل اپنا کمبل نیچے بچھا کرقُتیلہ کو مخاطب ہوا۔
”مالکن !یہاں لیٹ جائیں۔“
بغیر کسی حجت کے امریل کے کمبل پر لیٹتے ہوئے اس نے اپنا کمبل اوڑھ لیا تھا۔
یشکر شرارت سے بولا۔”اگر سردی لگے تو مجھے آواز دے لینا،اپنا کمبل تمھارے حوالے کر دوں گا۔“
خلاف توقع وہ خاموش رہی تھی۔یشکر، چچا زاد مالک بن شیبہ کے ساتھ بیٹھ کر گپ شپ کرنے لگا۔باقیوں کو اس نے سونے کا کہہ دیاتھا۔مالک کے پاس شُطب (کھجور کی شراب)کی بھری ہوئی چھاگل تھی۔دونوں باری باری چھاگل سے گھونٹ لے کرگزرے دنوں کو یاد کرتے رہے۔یشکر اسے سکندر بابا کی باتیں سناتا رہااور پھر مالک اسے بادیہ کے بچپن سے آگاہ کرنے لگا۔
”یہ بھی مجھے بادیہ کی طرح پیاری لگتی ہے۔“مالک نے سوئی ہوئی قُتیلہ کی جانب اشارہ کیا۔
”مجھے بھی۔“یشکرنے چھاگل سے آخری گھونٹ حلق میں انڈیل کر چھاگل نیچے رکھ دی تھی۔
” نیند آرہی ہے۔“مالک نے انگڑائی لیتے ہوئے اعلان کیا۔
”سو جاﺅ۔“ یشکرقریب ہو کر آگ پرلکڑیاں ڈالنے لگا۔ صحرا کی ٹھنڈی رات دبے پاﺅں سرک رہی تھی۔چاند طلوع ہوااور دور تک پھیلے ریت کے بلند اور بے ترتیب ٹیلے عجیب منظر پیش کرنے لگے۔قُتیلہ نے بڑبڑاتے ہوئے کروٹ تبدیل کی ،کچھ دور بندھا عنبر اپنا پاﺅں ریت پر مار کر بے چینی ظاہر کرنے لگا۔باقی گھوڑوں کی کنوتیاں بھی کھڑی ہو گئی تھیں۔یشکر نے الاﺅ سے جلتی لکڑی اٹھا کر گھوڑوں کی جانب پھینکی،دو جانور ڈر کر بھاگے تھے۔گھوڑے پرسکون ہوگئے۔
ٹیلے پر بیٹھے امریل نے آواز دے کر اگلے پہرے دار کو جگانے کا کہا تھا۔یشکر نے قریب لیٹے دو آدمیوں کو جگا کر ٹیلے کی طرف بھیج دیا۔تھوڑی دیر بعد ملکان اور امریل نیچے آگئے تھے۔
امریل نے مزاحیہ انداز میں پوچھا۔”لگتا ہے سردار زادی یادآرہی ہے۔“
یشکر شوخی سے بولا۔”نہیں ،کسی اور کو پھنسانے کے منصوبے سوچ رہا ہوں۔“
ملکان ہنسا۔”کون ہے ؟“
یشکر شرارت سے بولا۔”ہے ایک گھمنڈی،بڑبولی،ہٹ دھرم۔“
امریل پوچھنے لگا۔”خوبیاں بتا رہے یا خامیاں۔“دونوں نے اکٹھے لیٹ کر ملکان والا کمبل اوڑھ لیا تھا۔
یشکر نے جواب اگلا۔”خامیوں کا مجموعہ ہے ،لیکن کیا کروں اس کا چہرہ کسی خاص شخصیت کی یاد دلاتا ہے۔“
”فارسی غلام!تم ملکہ قُتیلہ کوبنو نوفل سے پہلے تمھارا حساب کتاب بے باق کرنے پر مجبور کر رہے ہو۔“نہ جانے وہ کس وقت جاگی تھی۔بپھرتے ہوئے اٹھ بیٹھی۔
”افف۔“یشکر نے بہ ظاہر جھلاتے ہوئے ماتھے پر ہاتھ مارا۔”تمھارا ذکر کس احمق نے کیا ہے۔اور کس بے وقوف نے تمھیں خوب صورت سمجھا ہے۔“
”ملکہ قُتیلہ بچی نہیں ہے۔“کمبل اوڑھ کر وہ آگ کے قریب سمٹ آئی۔”امریل! اپنا کمبل اٹھا لو، ملکہ قُتیلہ کی نیند پوری ہو گئی ہے۔“
امریل اٹھ کراپنے کمبل کی طرف بڑھ گیا۔قُتیلہ کی آواز سنتے ہی دونوں نے چپ سادھ لی تھی۔
یشکر ذومعنی لہجے میں بولا۔”ثابت کرو کہ بچی نہیں ہو۔“
قُتیلہ نے دانت پیستے۔”تمھاری گردن اتار کر۔“
یشکر ترکی بہ ترکی بولا۔”اتنے پاپڑ بیلنے کی ضرورت نہیں ،تم شادی کر کے بھی یہ ثبوت دے سکتی ہو۔“
”ملکہ قُتیلہ ،ایک فارسی غلام سے شادی کرنے کے بجائے زہر کھانا پسند کرے گی۔“
یشکر ہنسا۔”تو کس نے کہا ہے غلام سے شادی کرو، کسی سردار کی بیوی بن جاﺅ۔“
”ملکہ قُتیلہ تمھیں آج بھی فارسی غلام سے زیادہ اہمیت دینے پر تیار نہیں ہے۔“
”بات گھما پھرا کر مجھ پر کیوں لے آتی ہو۔اور سردار بھی تو ہیں،بنو احمر کاسردارنجار بن ثابت ہے ،بنو نوفل کا سردارشماس بن جزع ہے،بنو قطام کاسردارقیدوم بن اکتف ہے،بنوعطفان کاسردارربان بن ساعدہے ،بنو دیل کا سردارمسعدہ بن فرازی ہے وغیرہ وغیرہ تمھاری نظریں ہر وقت سردار یشکر بن شریک پر کیوں گڑی رہتی ہیں،حالاں کہ اچھی طرح جانتی ہو میں صرف بادیہ کو چاہتا ہوں۔“
وہ بگڑتے ہوئے بولی۔”ملکہ قُتیلہ کو ایسی بکواس سننے کی عادت نہیں ہے ،بہتر ہو گا لیٹ جاﺅ،یہ نہ ہو صبح گنتی کرنے والے کو بیسواں بندہ نظر نہ آئے۔“
”ایک خاص بات بتاﺅں۔“آلاﺅ سے ذرا فاصلے پر یشکر لیٹ گیا تھا۔
وہ منھ بگاڑ کر بولی۔”ضرورت نہیں۔“
یشکر نے اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا۔”میرے گھوڑے کی زین سے سرخ شراب کی چھاگل بندھی ہے۔بادیہ نے دی تھی۔ کہہ رہی تھی تھوڑی سی اس کی سہیلی کو بھی ضرور پلاﺅں۔اور تھوڑی کا مطلب ہوتا ہے زیادہ سے زیادہ چھاگل کا چوتھائی حصہ۔ایمان داری سے اپنا حصہ لے کر چھاگل کو واپس باندھ دینا۔“اس نے چہرہ کمبل میں کر لیا تھا۔لیکن اسے یقین تھا کہ چھاگل نے صبح خالی ہی ہونا تھا۔سرخ شراب پیتے وقت قُتیلہ مقدار کا حساب نہیں رکھ پاتی تھی۔
جھگڑنے والی سرخ شراب کی خبر ملتے ہی عنبر کی طرف بڑھ گئی تھی۔اس کے قدموں کی چاپ سنتے ہی یشکر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ گئی تھی۔
٭٭٭
اس کی آنکھ گوشت بھننے کی مہک سے کھلی تھی۔دوعدد دو شاخہ لکڑیاں ریت میں گاڑ کر ایک گیلی لکڑی ہرن کے پیٹ سے گزار کر اسے آگ پر لٹکایا گیا تھا۔سورج طلوع ہو کر اتنا اوپر آگیا تھا کہ ٹیلوں کے سائے غائب ہو گئے تھے۔وہ ازلی شکارن جانے کس وقت انھیں سوتا چھوڑ کر شکار کی تلاش میں نکلی تھی۔ناکام ہونا شاید اس نے سیکھا ہی نہیں تھا۔ اٹھتے ہی یشکر کی نظرخالی چھاگل پر پڑی۔توقع کے مطابق اس نے سرخ شراب کا ایک قطرہ بھی باقی نہیں چھوڑا تھا۔اسے چھاگل کو تکتے دیکھ کر قُتیلہ اطمینان بھرے لہجے میں بولی۔
”مشروب کے بدلے تمھیں ہرن کی بھنی ہوئی کلیجی ملے گی۔“اس نے تلوار کی نوک میں پروئی ،بھنی ہوئی ثابت گرم کلیجی یشکر کی جانب اچھال دی۔
کلیجی کو ہوا ہی میں تھام کر یشکر نے واپس اچھالا۔”میں نے چھاگل کا چوتھائی حصہ پینے کی اجازت دی تھی۔اور تمھاری اطلاع کے لیے عرض ہے ،سودا فریقین کی رضامندی سے ہوا کرتا ہے۔“ وہ خالی چھاگل اٹھا کر عنبر کی طرف بڑھ گیا۔دُنبالہ آنکھوں میں خفت نمودار ہوئی لیکن اس ندامت کو الفاظ کا جامہ نصیب نہیں ہوا تھا۔ہرن کی کلیجی اس کا پسندیدہ کھاجا تھاجو وہ سرخ شراب کے بدلے قربان کرنے پر تیار ہوئی تھی۔یشکر کے انکار پر وہ خود ہی کلیجی کو جڑ گئی۔
یشکر نے خرجی سے جو کی موٹی روٹی نکالی اور عنبر کو کھلانے لگا۔ہرن بھن گیا تھا۔قُتیلہ آواز دے کر سوئے ہوﺅں کو جگانے لگی۔یشکر نے مشکیزے سے چند گھونٹ پانی پیا اورتازہ دم ہونے کے لیے ٹیلوں کی جانب بڑھ گیا۔
واپسی پر تمام ہرن کے گوشت کے ساتھ انصاف کرتے نظر آئے تھے۔قُتیلہ نے اس کے لیے ران کا گوشت رکھ چھوڑا تھا۔وہ جونھی بیٹھا،امریل نے ران کا اوپر والا سالم ٹکڑا اس کی جانب بڑھایا۔
اس نے نفی میں سرہلایا۔”شکریہ ،مجھے حاجت نہیں ہے۔“
امریل نے قُتیلہ کی جانب دیکھا۔وہ ترشی سے بولی۔”ملکہ قُتیلہ ،دھیان نہیں رکھ سکی، اتنا رویہ دکھانے کی کیا ضرورت ہے۔واپسی پر تمھیں بھری ہوئی مَشک اس کا بدل مل جائے گا۔“
یشکر مسکراہٹ دبا کر مستفسر ہوا۔”میں نے کوئی ایسی بات کی ہے۔“
خفگی بھری دُنبالہ آنکھیں اس کی جانب اٹھیں۔”ملکہ قُتیلہ جانتی ہے تمھیں اپنی سردارزادی کے تحفے کا دکھ ہے۔لیکن جو کام ہو جائے اس پر منھ بنا کر بیٹھ جانا ایک سردار کو زیبا نہیں ہے۔“
یشکربہ ظاہر سنجیدہ لہجے میں بولا۔” غلطی تسلیم کر کے معذرت کروپھر گوشت کھاﺅں گا۔“
اس کی جانب نگران آنکھیں جھکیں اور پھر کچھ کہے بنا وہ اٹھ کر مشکی کی جانب بڑھ گئی۔ یشکر کے ہونٹوں پر تبسم نمودار ہوااور وہ امریل کے ہاتھ سے بھنا ہوا گوشت لے کر کھانے لگا۔
”معاملہ کیا ہے؟“اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے امریل نے دبے لہجے میں دریافت کیا۔
یشکر رونی صورت بنا کر بولا۔”میری سرخ شراب کی بھری ہوئی چھاگل پی گئی ہے۔“
”ہاہاہا….“امریل زوردار قہقہ لگاتے ہوئے آہستگی سے بولا۔”ملکہ کا پسندیدہ مشروب ہے۔اور یقین مانو خفیف نظر آرہی ہے ،لیکن ملکہ سے اظہارندامت نہیں ہوتا۔“
قُتیلہ مشکی کے گلے میں بانہیں ڈالے اس کے سر کو سینے سے لگا کر چوم رہی تھی۔ادھردیکھتے ہوئے یشکر نے منھ بنایا۔”نقصان ہمارااور نوازشات کی بارش مشکی پر۔“
امریل دوبارہ ہنسا۔”لگتا ہے سردار!لڑائی کی پوری تیاری کی ہوئی ہے۔“
”نہیں یار !فی الحال تو بنو نوفل سے نبٹنا ہے بعد میں دیکھیں گے۔“یشکر اٹھ کر عنبر کی طرف بڑھ گیا۔باقی بھی اپنے گھوڑے تیار کرنے لگے۔
٭٭٭
سہ پہر کے قریب ان کا ٹاکرا بنو نوفل کی ایک اور ٹولی سے ہوا۔”تم نہیں لڑو گی۔“انھیں چند قدم دورہی سے پہچانتے ہوئے یشکر قُتیلہ کو مخاطب ہوا۔
وہ بے پروائی سے بولی۔”تم کہو گے اور ملکہ قُتیلہ مان جائے گی۔“
”ان میں سے ایک آدمی کو ہم نے زندہ جانے دینا ہے۔اور میں نہیں چاہتا انھیں شک گزرے کہ تم سردار زادی بادیہ نہیں کوئی اور ہو۔“
قُتیلہ نے منھ بگاڑکر کہا۔”گھٹیا فارسی کی بے ہودہ تجاویز۔“لیکن اس نے تلوار نکالنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
”سنا ہے تمھیں یشکر اور بادیہ کی تلاش ہے۔“گفتگو کی ابتدا یشکر نے کی تھی۔
چھے افراد اپنے سامنے بیس ہتھیار بند سواروں کو دیکھتے ہی گھبرا گئے تھے۔ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ جس کی تلاش میں وہ زمین و آسمان ایک کیے ہوئے تھے وہ یوں ایک دم سامنے آجائیں گے۔لیکن ان کی بدقسمتی کہ وہ عددی لحاظ سے کم تھے۔سواروں کے جتھے کو دور سے دیکھنے پرانھیں ذرا بھی شبہ ہوا ہوتاکہ دشمن ہیں تو وہ بھاگنے میں دیر نہ کرتے۔
انھیں خاموش پاکر یشکر نے دوبارہ زبان کھولی۔” سامنے سردارزادی کھڑی ہے کسے چاہیے ؟“اس نے قُتیلہ کی طرف اشارہ کیا جو دلچسپ نظروں سے انھیں گھور رہی تھی۔
ایک آدمی نے جرات کرتے ہوئے دھمکی دی۔”سردارشماس بن جزع تمھیں چھوڑے گا نہیں۔“
قُتیلہ قہر آلود لہجے میں گویاہوئی۔”بزدل شماس بن جزع کو پتا ہوناچاہیے ملکہ قُتیلہ نے اس کی طرف متوجہ ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔“
یشکرماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے جلے کٹے لہجے میں بولا۔”شکریہ ،مہربانی،نوازش۔ اب تم بھی تلوار سونتے کا شوق پورا کر سکتی ہو۔“
قُتیلہ نے بے پروائی سے کندھے اچکا دیے تھے۔
یشکر دھمکی دینے والے کو مخاطب ہوا۔”تمھارا نام۔“
”اقرب بن جندع۔“
یشکر نے اگلا سوال پوچھا۔”اقرب !تمھاری کتنی ٹولیاں ہماری تلاش میں سرگرداں ہیں۔“
اقرب بولا۔”تمام ٹولیوں کو واپس بلایا جا رہا ہے۔“
”کیوں ؟“یشکر متعجب ہوا تھا۔
اقرب نے نفی میں سرہلایا”نہیں معلوم۔“
قُتیلہ نے تیز لہجے میں پوچھا۔”تمھیں واپسی کی اطلاع کس نے دی۔“
اقرب نے اپنے ساتھی کی طرف اشارہ کیا۔”محکم بن بلدہ ہمیں بلانے آیا تھا۔“
”اسے نیچے اتارو۔“امریل کو اشارہ کر کے قُتیلہ نے نیچے چھلانگ لگاتے ہوئے تلوار بے نیام کی۔
امریل کا گھوڑا محکم کے قریب ہی کھڑا تھا۔ذرا سا اچک کر امریل کی شہتیر جیسی ٹانگ محکم کی چھاتی سے ٹکرائی ،دردناک انداز میں چلاتا ہواوہ اڑتے ہوئے نیچے جا گرا تھا۔
بنو فوفل کے باقی سواروں نے مضطرب انداز میں پہلو بدلے۔اہل بنو طرید نے فوراََ ہی تلواریں بے نیام کر کے ان کی گردنوں سے لگا دی تھیں۔
قُتیلہ نے تلوار کی نوک محکم کی چھاتی پر رکھی۔”ملکہ قُتیلہ کوجواب دینے میں جتنی سستی دکھاﺅ گے اتنے اعضاءکی قربانی دینا پڑے گی۔“
محکم لرزتے ہوئے بولا۔”میں مرنا نہیں چاہتا۔“
”اس کا فیصلہ ملکہ قُتیلہ کرے گی، تمھیں سر کھپانے کی ضرورت نہیں ہے۔تم بس یہ بتاﺅشکاری ٹولیوں کوکیوں واپس بلایا جا رہاہے۔“
وہ خوفزدہ لہجے میں بولا۔”زیادہ تو معلوم نہیں مگر،سردار حملہ کرنے نکل چکا ہے۔“
”کہاں ؟“سوال پوچھتے ہوئے اس کی نظریں یشکر کی جانب اٹھی تھیں۔وہ بھی چھلانگ لگا کر قریب آگیا تھا۔
”معلوم نہیں ،البتہ کل ایک شخص سردار کو ملنے آیا تھا۔“
”کون تھا؟“قُتیلہ نے تلوار کی نوک اس کے بازو کے گوشت میں اتار دی تھی۔
”آہ ہ ہ ….“دردناک انداز میں چلاتے ہوئے اس نے دوسرے ہاتھ سے تلوار کی نوک زخم سے ہٹانے کی کوشش کی۔
قُتیلہ نے تلوار پیچھے کھینچتے ہوئے کہا۔” تاخیر کی صورت میں بازو جسم سے علاحدہ بھی ہو سکتا ہے۔“
محکم اندازہ لگاتے ہوئے بولا۔”شاید اس کانام غطیف بن مرثدہے۔“
” غطیف بن مرثد….“الجھن آمیز انداز میں دہراتے ہوئے قُتیلہ نے کہا۔”لمبا تڑنگا، بھاری جسامت کا جوان ہے۔کندھوں تک آتے گھنگرالے بال ،کیری آنکھیں ،گھنی اور لمبی مونچھیں، کلائی میں چاندی کے چوڑے کنگن….“
محکم ہکلایا۔”جج….جی کچھ ایسا ہی ہے۔“
یشکر نے حیرانی سے پوچھا۔”تم اسے جانتی ہو؟“
جواب دیے بغیر قُتیلہ نے تھکے تھکے انداز میں محکم سے پوچھا۔”اورکیا ہدایت ملی تھی؟“
محکم بولا۔”تمام ٹولیوں کو واپس قبیلے پہنچنے کا کہا گیا ہے ،میں طلوع آفتاب کے وقت قبیلے سے نکلا تھا اور اس لمحے سردارایک بڑے لشکر کے ساتھ غطیف بن مرثدکی رہنمائی میں قبیلے کو چھوڑ رہا تھا۔“
قُتیلہ نے تلوار نیام میں کرتے ہوئے خنجر نکالا،محکم کی دونوں کہنیوں پر پاﺅں رکھ کر وہ نیچے جھکی اوراس کے دونوں بازوﺅں کی رگ ہفت اندام کاٹ دی۔( بازو کی وسطی شریان جس کے کٹنے سے جسم کا تمام خون بہہ جاتا ہے۔ یہ مرگ آسان کی ایک مقبو ل صورت تھی)محکم کے چہرے پر موت کی زردی ڈیرے ڈال چکی تھی۔پیچھے ہٹتے ہوئے وہ اطمینان بھرے لہجے میں بولی۔
”ملکہ قُتیلہ تمھارے تعاون کو مدنظر رکھتے ہوئے اتنا ہی رحم کر سکتی ہے۔“یہ کہہ کر اس نے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھتے ہوئے مخصوص اشارہ کیا۔انھوں نے ایک دم اپنی تلواریں بنو نوفل کے سواروں کے جسموں کے آر پار کر دی تھیں۔گھوڑوں سے نیچے گر کر وہ ایڑیاں رگڑنے لگے۔
قُتیلہ یشکر کی طرف متوجہ ہوئی۔”تم کہتے تھے ملکہ قُتیلہ معذرت نہیں کرتی۔تو سن لو یشکر! ملکہ قُتیلہ شرمندہ ہے۔“
یشکر کے سر پر گویا پہاڑ آن گرا تھا۔”کیا ہوا؟“اس نے گھبرا کر پوچھا۔
وہ مایوسی بھرے لہجے میں بولی۔”ملکہ قُتیلہ ،ماں جی کے علاوہ جس سے بھی اظہار محبت کرتی ہے اس کی زندگی مختصر ہو جاتی ہے۔“
یشکر ہیجانی لہجے میں بولا۔”تم مجھے پریشان کر رہی ہو۔“
وہ تھکے تھکے لہجے میں بولی۔” ہم بازی ہار گئے ہیں یشکر۔“
اسے بازوﺅں سے پکڑ کر جھٹکا دیتے ہوئے یشکر دھاڑا۔”وضاحت کرو گی یا فضول بکواس کیے جاﺅگی۔“
قُتیلہ کے ہونٹوں پر اذیت بھری مسکراہٹ ابھری۔” غطیف بن مرثدکا تعلق بنو نسر سے ہے۔ اس کا بڑا بھائی جعثمہ بن مرثدبنو نسر کاوہ پہلا شخص تھا جو ملکہ قُتیلہ کے ہاتھوں قتل ہوا۔“
یشکر کے ہونٹوں سے سرسراتی آواز برآمد ہوئی۔”تمھارے کہنے کا مطلب ہے بنو نوفل کے سردارکو بادیہ کے چھپنے کی جگہ کے بارے علم ہو گیا ہے۔“
”ہاں ،ملکہ قُتیلہ یہی کہہ رہی ہے۔اب یہ معلوم نہیں کہ غطیف بن مرثدکے پیچھے کسی اورکا ہاتھ ہے یا وہ اپنے بل بوتے پر بنونوفل پہنچا تھا۔“
”کیا فائدہ۔“اس کے بازو آزاد کرتے ہوئے یشکر نے سرتھام لیا تھا۔
” اپنی مرضی سے آیا تھا تو اہل بنو نسر، بنو نوفل کا مقابلہ کریں گے۔اگر دوسرے بھی اس کے ساتھ ملے ہیں تو اہل بنو نوفل کا کام اور آسان ہو جائے گا۔“پریشانی کی حالت میں بھی قُتیلہ کے دماغ نے کام کرنا نہیں چھوڑا تھا۔
ملکان بولا۔”ہم باتوں میں وقت ضائع کر رہے ہیں۔“
یشکر کی شکست خوردہ آواز ابھری۔”کیا کرنا چاہیے؟“
امریل جرّات مندی سے بولا۔”دیکھتے ہیں ہم میں سے ہر ایک قتل ہونے سے پہلے بنو نوفل کے کتنے افراد کو قبر کا رستا دکھا سکتا ہے۔“
قُتیلہ اچھل کر مشکی پر سوار ہوئی۔”اصرم بن خسار!تم سیدھا گھاٹی کی طرف روانہ ہو جاﺅ۔چچا شریم کو ساری صورت حال بتا دینا۔اور یاد رکھنا ملکہ قُتیلہ کو رشاقہ کے پہلو میں دفن کیاجائے۔“
اصرم بن خسار کے لبوں پر لڑائی میں حصہ لینے کی خواہش مچلی۔”ملکہ !تم اپنی تعداد میں کمی کر رہی ہو۔“
”اپنے لشکر کو باخبر کرنا ضروری ہے اصرم!….اور فکر نہ کرو تمھیں لڑنے کا موقع ضرور ملے گا۔ملکہ قُتیلہ کوشش کرے گی کہ بنو نوفل کی کچھ سپاہ کوتم لوگوں سے مقابلے کے لیے زندہ چھوڑ دے۔“
اصرم گلو گیر لہجے میں بولا۔”ملکہ !مشکی کی رفتار میرے اشہب ( وہ گھوڑا جس کا سفید رنگ مائل بہ سیاہی ہو)سے بہت تیز ہے۔اور تمھاری زندگی مجھ سے کئی گنا قیمتی ہے۔میں اتنا باصلاحیت نہیں کہ ملکہ قُتیلہ کی موت کا بدلہ لے سکوں۔لیکن ملکہ اپنے لشکر کے ساتھ میری روح کو پر سکون کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔اصرم نے آج تک کچھ نہیں مانگا ملکہ قُتیلہ !آج اصرم کی مان لو اور گھاٹی کا رخ خود کرو، میں سردار یشکر کے ساتھ مل کر بنو نوفل کی پیش قدمی میں رکاوٹ ڈالتا ہوں۔“
قُتیلہ کے بے خوف چہرے پر خوب صورت تبسم نمودار ہوا۔”اصرم !….ملکہ قُتیلہ وعدہ کرتی ہے کہ مرنے سے پہلے تمھارا کام آسان کر جائے گی۔بنو نوفل کی اتنی ہی تعداد تمھیں زندہ ملے جس سے تم ملکہ قُتیلہ کی موت کا بدلہ لے سکو۔اور مزید بحث کا وقت نہیں ہے۔“ اس نے مشکی کو ایڑ لگائی۔مشکی برقی کوندے کی طرح آگے بڑھا تھا۔عنبر اس کے پہلو میں دوڑتا ہوااعلان کر رہا تھا کہ مشکی کامدّ مقابل بھی سرزمین عرب میں موجود ہے۔باقیوں کے پاس بھی عمدہ گھوڑے تھے۔انیس شہ سوار تیروں کی بوچھاڑ کی طرح بنو نسر کی طرف بڑھنے لگے۔ جبکہ بیسویں سوار کا رخ بنو طرید کی طرف تھا۔وہیں سے گزر کر وہ گھاٹی تک پہنچ سکتا تھا۔ اسے یقین تھا کہ یہ ملکہ قُتیلہ کے ساتھ ہونے والی اس کی آخری گفتگو تھی اور اس کے بعد اسے اپنی پیاری ملکہ کی آواز سننے کا موقع نہیں ملنا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: