Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 63

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 63

–**–**–

سرپٹ دوڑتے گھوڑے گھڑی کے دورانیے میں منزل کا فاصلہ طے کر رہے تھے۔وہاں سے بنو نسر کا فاصلہ زیادہ تھاوہ گھوڑوں کو مسلسل سرپٹ نہیں دوڑا سکتے تھے۔اور پھر رات بھی سر پر تھی۔ اندھیرے میں گھوڑوں کو انتہائی رفتار سے دوڑاناخطرے کا باعث بن سکتا تھا۔کیوں کہ جلدی پہنچنے کی لالچ میں انھیں وادی کاہموار رستا چھوڑنا پڑ گیا تھا۔
”رفتار کم کردو،تیز رفتاری باعثِ نقصان ہو سکتی ہے۔“یشکراونچی آواز میں قُتیلہ کو مخاطب ہواکہ گھوڑوں کے سر پٹ دوڑنے کی وجہ سے عام لہجے میں گفتگو کرنا بے فائدہ تھا۔
اس نے چیخ کر جواب دیا۔”سردارزادی کی عزت و زندگی خطرے میں ہے اس سے بڑا نقصان اور کیا ہوگا۔“
وہ بآواز بلند بولا۔”اس کی مدد تبھی کر سکتے ہیں جب خیریت سے وہاں تک پہنچ جائیں۔“
وہ صاف گوئی سے بولی۔”ملکہ قُتیلہ سے صبر نہیں ہورہا۔“
”بنو نوفل اور بنو نسر کے درمیانی فاصلے کو دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہ علی الصباح ہی وہاں پہنچ پائیں گے۔اگر پہلے پہنچ گئے تب بھی ترجیح گھیراﺅ مکمل کرنے کو دیں گے اور پھر روشنی کا انتظار کریں گے کیوں کہ وہ کبھی نہیں چاہیں گے اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر کوئی بھاگ سکے۔“اس کی تسلی کے لیے یشکر نے صورت حال کا بہترین تجزیہ کیا۔
قُتیلہ نے مشکی کی رفتار کم کرتے ہوئے گویا اس کی بات سمجھنے کا عندیہ دیا تھا۔
اگر چاروں قبیلوں کو کسی نقشے میں ظاہر کیا جاتا تو وہ ایک چوکور شکل بنا رہے تھے۔بنو جساسہ شمال مغرب میں ،بنو نوفل جنوب مغربی کونے پربنو طرید جنوب مشرقی کونے پر اور بنو نسر شمال مشرقی جانب۔ان کی ٹولی بنو جساسہ سے منزل بھر دور تھی اور وہاں سے بنو نسربالکل مشرق کی جانب واقع تھا۔ جبکہ بنو نوفل سے شمال مشرق کی سمت میں پڑ رہا تھا۔بنونوفل سے ایک منزل مشرق کی جانب جو وادی گزر رہی تھی وہ لہراتے بل کھاتے بنو نسر کے جنوب سے کوس بھر کے فاصلے پر گزرتے ہوئے آگے بڑھ جاتی تھی۔انھیں پورا یقین تھا کہ بنونوفل کے سواروں نے اسی وادی کی رہنمائی لیتے ہوئے بنو نسر تک پہنچنا تھا۔وہ براہ راست بھی بنو نسر کا رخ کر سکتے تھے لیکن ان کے تیزی کرنے کی بہ ظاہر کوئی وجہ نظر نہیں آرہی تھی۔ دوسرا ان کی تعداد بھی زیادہ تھی اور پورا لشکر ایک ساتھ دُلکی رفتار ہی سے آگے بڑھ سکتا تھا۔ رفتار بڑھانے کی کوشش میں لشکر تتر بتر ہو سکتا تھااور کوئی بھی سالار تیز رفتاری کی خواہش میں یہ خطرہ مول نہیں لے سکتا تھا۔ان کے برعکس یشکر اور قُتیلہ کے ساتھ گنے چنے اور ماہر شہ سوار تھے۔یوں بھی تعداد کی کمی نظم و ضبط اور اتحاد کے قیام کو آسان کر دیتی ہے۔
اچانک قُتیلہ مشکی کی لگام کھینچتے ہوئے رک گئی۔
”کیا ہوا؟“کمیت کو روکتے ہوئے یشکر کی سوالیہ آواز ابھری۔
قُتیلہ کی نظریں آسمان کی جانب اٹھیں۔قطب تارے اور ایک دوسرے مشہور جھمکے کو دیکھ کر اس نے کچھ حساب لگایا اور گھوڑے کا رخ مشرق کے بجائے شمال مشرق کی طرف موڑ دیا۔
” ٹھیک جا رہے تھے۔“یشکر نے احتجاج کیا۔
وہ اطمینان بھرے لہجے میں بولی۔”ملکہ قُتیلہ کو امید ہے نجار بن ثابت اسے مایوس نہیں کرے گا۔“
”کافی دیر سے خیال آیا ہے؟“عنبر کو مشکی کے پہلو میں دوڑاتے ہوئے یشکر نے اس تجویز کو خوشگواری سے قبول کیا تھا۔
”فاصلہ بڑھ گیا ہے رفتار بڑھانا پڑے گی۔“قُتیلہ نے مشکی کی لگام کو جھٹکا دیتے ہوئے رفتارمیں اضافہ کیا۔بائیس تیئس کے چاندنے مشرق سے سر ابھارا تو وہ بنو احمر کے جھونپڑوں کو سامنے دیکھ رہے تھے۔بنو احمر کا قُتیلہ کے حالات زندگی سے بہت گہرا تعلق رہا تھا۔وہ دو مرتبہ پہلے بھی وہاں آچکی تھی۔پہلی مرتبہ حملہ کرنے اور دوسری بار دلھن بن کر۔دونوں مرتبہ بنو احمر کا سرداراس کے ہاتھوں قتل ہوا تھا۔اورآج تیسری بار اس کا گھوڑا سردار کے جھونپڑے کی طرف بڑھ رہا تھا۔سرپٹ دوڑتے گھوڑوں کی ٹاپیں اور کتوں کے بھونکنے نے کافی لوگوں کو جگا دیا تھا۔وہ جونھی سردار کے جھونپڑے کے سامنے اترے، مختلف جھونپڑوں سے تلواریں سونتے مرد برآمد ہوئے تھے۔سردارنجار بن ثابت بھی چیخ و پکار سن کر بوکھلایا ہواباہر نکلا۔اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار تھی۔
قُتیلہ نے نیچے چھلانگ لگائی۔”یہاں مہمانوں کی چھاتی پر تلوار رکھ کر انھیں خوش آمدید کہا جاتا ہے۔“
سردار نجار بن ثابت کے کانوں میں قُتیلہ کی مترنم آواز پہنچی۔لگا وہ کوئی سپنا دیکھ رہا ہے۔ وہ بوکھلائے ہوئے انداز میں بولا۔”کیا میری سماعتیں ملکہ قُتیلہ کی آواز سننے کا شرف حاصل کر رہی ہیں۔“
”سردار نجار بن ثابت ،ملکہ قُتیلہ کے پاس ضائع کرنے کے لیے ایک لمحہ بھی نہیں ہے۔“ نجار سے مصافحہ کرتے ہوئے وہ بے تکلفی سے جھونپڑے میں داخل ہوگئی۔
یشکر سے معانقہ کر کے نجار اہل بنو احمر کو مخاطب کر کے چلایا۔”تلواریں ڈھانپ دو اور مہمانوں کا اکرام کرو۔“
ان کے تنے ہوئے اعصاب ڈھیلے پڑ گئے تھے۔ قریب آکر وہ ان کے ساتھیوں سے ملنے لگے۔
خیمے کے اندر چوڑے تخت پربیٹھی نجار کی بیوی حیرانی بھری نظروں سے قُتیلہ اور یشکر کو دیکھ رہی تھی۔
نجار بیوی کو مخاطب ہوا۔”رغیدہ!ملکہ قُتیلہ کے لیے جگہ خالی کرو۔“
وہ لحاف سے نکل کرلباس درست کرتے ہوئے تخت سے اٹھ گئی تھی۔قُتیلہ بے تکلفی سے نشست سنبھالتے ہوئے نجار کی طرف متوجہ ہوئی۔”ملکہ قُتیلہ کو پیاس لگی ہے۔“
نجار عجلت کا مظاہرہ کرتا ہوا کونے میں رکھی گھڑونچی کی طرف بڑھا جس پر دو مٹکے دھرے تھے۔ایک میں ٹھنڈا پانی جبکہ دوسرے میں شراب تھی۔شراب کے مٹکے سے دو آب خورے بھر کر اس نے قُتیلہ اور یشکر کو پیش کیے۔
گھونٹ بھرتے ہی قُتیلہ کی زبان کو سرخ شراب کا ذائقہ محسوس ہوا،بے ساختہ اس کے ہونٹوں سے نکلا۔”واہ۔“
نجار بن ثابت مسرت امیز لہجے میں بولا۔”میں جانتا ہوں ،ملکہ قُتیلہ کو سرخ شراب پسند ہے۔“
”اگر جانتے ہوتو ایک اور پیالہ بھر لاﺅ۔“خالی آب خورہ اس کی جانب بڑھاتے ہوئے اس نے مزید کا تقاضا کیا۔
دو آب خورے مزید حلق میں انڈیل کر وہ مطمح نظر پر آئی۔”سردارنجار بن ثابت !ملکہ قُتیلہ کو تمھاری مدد کی ضرورت پڑ گئی ہے۔“
نجار بن ثابت اس کے ملیح چہرے کوچاہت سے گھورتے ہوئے وارفتگی سے بولا۔”ملکہ قُتیلہ جانتی ہے اسے کیا سننے کو ملے گا۔“
وہ صاف گوئی سے بولی۔”زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔“
”اگر لڑائی میں زندہ بچ جانے پر منھ مانگے انعام کا لالچ ہو تو شاید مرنے کی تکلیف محسوس نہ ہو۔“اس کی تمنا سوال بن کر ہونٹوں پر مچلی۔
قُتیلہ کا سر یشکر کی طرف گھوما۔اسے گہری نظر سے دیکھتے ہوئے وہ مسکرائی۔”مردوں کی سوچ عورت کے حسن سے شروع ہو کر اس کے شباب کے حصول پر اختتام پذیر ہوتی ہے۔“
”شاید ملکہ قُتیلہ کسی اور کو زبان دے چکی ہے۔“اسے یشکر کی جانب متوجہ دیکھ کر نجار نے اندازہ لگایا۔
وہ بپھرتے ہوئے بولی۔”ملکہ قُتیلہ کسی ہوس پرست کے سامنے اپنے بدن کا چارہ پیش نہیں کر سکتی۔ ملکہ قُتیلہ سے محبت کے دعوے دار کو پہلے ثابت کرنا پڑے گا کہ وہ ملکہ قُتیلہ کا شوہر بننے کا اہل ہے۔“
نجار بن ثابت نے ندامت ظاہر کی۔”یہ شرط نہیں درخواست تھی ملکہ۔“
وہ ترشی سے بولی۔”جواب مل گیا ہے۔“
”کرنا کیا ہے۔“نجار بن ثابت نے موضوع تبدیل کرنے میں عافیت جانی تھی۔
یشکر نے اجمالاََ صورت حال پر روشنی ڈالی۔
نجار بن ثابت بولا۔”پچاس لڑاکوں کا بندوبست کر سکتا ہوں۔“
قُتیلہ اٹھتے ہوئے بولی۔”ہم نکل رہے ہیں۔تم اپنے آدمیوں کو تیار کر کے جتنا جلدی ہو سکے بنو نسر کی راہ پکڑو۔“
نجار یقین دہانی کراتا ہوا بولا۔”گھڑی بھر میں ہم تمھارے تعاقب میں روانہ ہو چکے ہوں گے۔“
خیمے کے دروازے پر رکتے ہوئے وہ نجار کو مخاطب ہوئی۔”تمھیں ٹھکرانے کی وجہ کسی دوسرے کی محبت نہیں ہے۔اور تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ ملکہ قُتیلہ سب سے زیادہ نفرت اس فارسی غلام سے کرتی ہے۔“اس نے انگلی سے یشکر کی جانب اشارہ کیا تھا۔”ہمیں حالات نے قریب کیا ہے، کسی خاص جذبے نے نہیں۔“
نجار خوش دلی سے مسکرایا۔”غلط فہمی دور کرنے کا شکریہ ملکہ۔“
وہ باہر نکل گئی۔یشکر نے کسی اظہار کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔
ان کے ساتھیوں نے چند لمحات کی فرصت کو غنیمت جانتے ہوئے گھوڑوں کو پانی پلالیا تھا۔
مشکی پر سوار ہوتے ہوئے وہ باآواز بلند بولی۔”سردار نجار بن ثابت ! اتنی دیر نہ کر دیناکہ ملکہ قُتیلہ تمھاری مدد کی ضرورت سے بے نیاز ہوجائے۔“(مطلب زندہ باقی نہ رہے)
نجار بن ثابت نے دعوا کیا۔”ملکہ قُتیلہ کے روشن چہرے کی قسم ،دُنبالہ آنکھوں کوانتظار کی زحمت نہیں اٹھانا پڑے گی۔“
قُتیلہ نے اثبات میں سرہلاتے ہوئے مشکی کو ایڑ لگا دی۔یشکر اس سے پہلے ہی کمیت کو آگے بڑھا چکا تھا۔
سپیدہ سحر نمودار ہو چکا تھا جب وہ بنو نسر کے مضافات میں پہنچے۔ایک اونچے ٹیلے کے عقب میں گھوڑا روک کر قُتیلہ پھرتی سے اوپر پہنچی۔چوٹی پراوندھے منھ لیٹ کر اس نے قبیلے کی سمت نگاہ دوڑائی۔ کوئی خاص ہلچل نظر نہیں آئی تھی۔دو تین لمحے جائزہ لے کر وہ پیچھے مڑنے ہی لگی تھی کہ اس کی نگاہ جنوبی ٹیلوں کے درمیانی خلا میں حرکت کرتے گھوڑوں پر پڑی۔ساتھیوں کی جانب رخ موڑتے ہوئے وہ اعلان کرنے والے انداز میں بولی۔
”دشمن پہنچ گیا ہے اوربنو نسر کے گھیراﺅ کی ابتداءہو چکی ہے۔“ساتھیوں کو مطلع کر کے وہ دوبارہ بنو نسر کے خیموں اور جھونپڑوں کی جانب متوجہ ہوئی۔درجن بھر آدمی اسے جنوبی ٹیلوں کا رخ کرتے نظر آئے تھے۔اتنی دور سے وہ انھیں پہچان تو نہیں سکتی تھی، لیکن یہ ضرور جان گئی تھی کہ سازش میں بنو نسر کے سرکردہ افراد شریک تھے۔
وہ اٹھ کر ساتھیوں کی طرف بڑھ گئی۔
”بات چیت کے ذریعے مہلت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ کیوں کہ اتنی کثیر تعداد کو ہم بزور بازو زیادہ دیر نہیں روک سکیں گے۔اب بقا کا انحصار ہمارے لشکر کی جلد آمد پرہے جو بہ ظاہر ممکن دکھائی نہیں دیتا۔“اس نے جھوٹی تسلی سے خود یا کسی دوسرے کو بہلانے کی کوشش نہیں کی تھی۔
امریل نے دانت پیسے۔”ان کی اکثریت ہماری لاشیں دیکھنے کی حسرت لیے دنیا سے رخصت ہوگی۔“
قُتیلہ نے انکشاف کیا۔”تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ بنو نسر کے آدھے سے زیادہ افراد کی ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں اور بقیہ لڑائی میں حصہ لینے سے احتراز برتیں گے۔“
یشکر مشورہ دیتے ہوئے بولا۔”پہلے ہم گفتگو کو طول دیں گے۔ لڑائی ناگزیر ہونے کے بعد ہی شروع کریں گے۔اور ایک جگہ پر جم کر لڑنے کی کوشش نہیں کرناورنہ گھیرے میں آجاﺅ گے۔بکھر کرلڑنامفید رہے گا۔“
قُتیلہ، ملکان کومخاطب ہوئی۔”تم یہیں رک کر نجار بن ثابت کا انتظار کرو،لڑائی شروع ہونے تک انھیں سامنے نہیں آناچاہیے۔“
یشکر ترتیب میں مناسب تبدیلی لاتے ہوئے بولا۔”بلکہ ایسا کرنا،نجار کے آدھے آدمی اسی جگہ کھڑے رہیں اور باقی نصف کو ٹیلوں کے عقب سے بنو نسر کے شرقی جانب کے ٹیلوں تک لے جانا۔جونھی میں تمھاری طرف رخ کر کے تلوار سر پر سے گھماﺅں تم لوگوں نے سامنے آجانا ہے۔اسی طرح جب مشرق کی جانب رخ کر کے تلوار سر سے گھماﺅں تو ان لوگوں کو ٹیلوں پرچڑھ کر اپنا آپ ظاہر کرنا ہے۔یوں ہم انھیں گھیرے میں آجانے کی غلط فہمی میں مبتلا کرکے لڑائی کو مزید لٹکائیں گے۔“
”جی سردار۔“اس نے اثبات میں سرہلادیا تھا۔
”فارسی کے بے ہودہ منصوبے۔“منھ بناتے ہوئے قُتیلہ نے ٹیلوں کے درمیانی خلا کی طرف گھوڑا دوڑا دیا۔یشکر زیر لب مسکراتے ہوئے اس کے ساتھ ہولیا۔باقی بھی عقب میں چل پڑے تھے۔بنو نسر کی حدود میں داخل ہوتے ہی جنوب کی طرف موجود دشمن نے انھیں دیکھ لیا تھا۔وہاں موجود گھڑ سوار فوراََ ہی صف بندی کرنے لگے تھے۔
ان سے چند قدم دور مشکی کو روکتے ہوئے قُتیلہ ،رغال بن ذواب طرف متوجہ ہوئی۔
”تمھیں کس لالچ نے ملکہ قُتیلہ کو دھوکا دینے پر جری کیارغال!“ بنو نسر کے درجن بھر افراد کے ہمراہ بنونوفل کاخرانٹ سردار شماس بن جزع اور اس کا محافظ دستہ بھی موجود تھا۔تمام دلچسپی سے قتیلہ کو دیکھنے لگے۔
”صرف اہل کنانہ ہی سرداری کے حق دار نہیں ہیں۔“رغال کی آنکھوں اور لہجے سے مروت غائب ہو چکی تھی۔”جبلہ بن کنانہ کے دس سالہ بیٹے کو کس اہلیت کی بنا پر سردارتسلیم کروں۔اور عورت کی سرداری توہمارے لیے یوں بھی باعثِ عار ہے۔“
” ملکہ قُتیلہ نے تو کھلے عام چنوتی دی تھی۔ خود کو سرداری کا اہل سمجھنے والے کو سامنے سامنے آنا چاہیے تھا۔“
رغال ڈھٹائی سے بولا۔”سرداری کے لیے صرف لڑائی بھڑائی میں مہارت نہیں عقل و شعور بھی درکار ہوتا ہے۔“
وہ نفرت بھرے انداز میں تھوکتے ہوئے بولی۔”جسے تم عقل و شعور سمجھ رہے ہواسے سادہ الفاظ میں دھوکااور غداری کہاجاتا ہے۔“
رغال ترکی بہ ترکی بولا۔”غدار تم ہو کہ اپنے باپ کے قاتل کے ساتھ عشق لڑا رہی ہو۔“
قُتیلہ کے چہرے پر زہریلی مسکراہٹ ابھری۔”اپنی موت کو تم نے پہلے ہی بہت اذیت ناک بنالیا ہے رغال!“
وہ استہزائی انداز میں بولا”کچھ بھی سمجھو،بنو نسر کا سرداررغال بن جزع ہی بنے گا۔“
قُتیلہ نے غصہ دباتے ہوئے پوچھا۔”غبشان بن عبشہ نظر نہیں آرہا۔“
”فی الحال وہ جبلہ بن کنانہ کی بیوہ اور بیٹوں کے ہمراہ نظر بند ہے ،ان کی زندگی کا فیصلہ بنو نوفل کے واپس لوٹ جانے کے بعد ہوگا۔“
دُنبالہ آنکھوں میں غیظ و غضب کا آلاﺅ روشن ہوا”مبارک ہو ،کہ تم معافی لینے کا ہر موقع گنوا چکے ہو۔“
رغال استہزائیہ انداز میں بولا۔”اورتمھیں بنونوفل کے عزت مآب سردار شماس بن جزع کی لونڈی بننے کی پیشگی مبارک ہو۔“
خاموش کھڑے شماس نے زبان کھولی۔”چھوکری!اگر تمھاری تفتیش اختتام پذیر ہو گئی ہو تواپنے مالک کی آغوش میں آنا پسند کرو گی۔“
قُتیلہ ،شماس بن جزع کی طرف متوجہ ہوئی۔”ہم صلح کر سکتے ہیں۔ملکہ قُتیلہ تمھیں اتنی دولت دے گی کہ اگلے چند سال اہل بنو نوفل کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔“
وہ پیش کش ٹھکراتے ہوئے بولا۔”میرے لیے بادیہ اور تمھاری قربت ہی کافی رہے گی۔“
یشکر بولا۔”سردار شماس بن جزع !تمھیں ڈرنا چاہیے۔“
”یقینا تم یشکر ہو۔“شماس بن جزع کی آنکھیں شعلے برسانے لگی تھیں۔“
یشکر نے تصحیح کی۔”حالانکہ تمھیں سردار یشکر بن شریک کہہ کر پکارنا چاہیے تھا۔“
”میں سردار رغال بن ذواب کا شکرگزار ہوں جس کی وجہ سے تم اور بادیہ میری گرفت میں آئے ہو۔بلکہ یہ چھوکری بھی رُوکن میں ملی ہے۔“اس نے قُتیلہ کی طرف اشارہ کیا۔(رُوکن مطلب، خریدی ہوئی چیز کے ساتھ جو تھوڑی زائد مقدار گاہک کو خوش کرنے کے دی جائے۔اسے جھونگا اور چھلونی بھی کہا جاتا ہے )
قُتیلہ کا نقرئی قہقہ گونجا۔”بہت سستا کر دیا ہے ملکہ قُتیلہ کو۔“
وہ نخوت سے بولا۔”شماس بن جزع کی لونڈی بننا قلیل معاوضا نہیں ہے۔“
یشکر بولا۔”سردار شماس!تم نے بنو جساسہ کو تباہ کیا،میرے چچا کو قتل کیا،ہمارے مردوں کو غلام بنا کر بیچا، عورتوں کو لونڈیاں بناکر پاس رکھااس کے بعد تمھارا بدلہ پورا ہوجانا چاہیے تھا۔“
”میرا بدلہ ،بادیہ کے لونڈی بننے اور تمھاری گردن کٹنے پر پورا ہوگا۔“
قُتیلہ شوخی بھرے لہجے میں بولی۔”تمھیں سردارزادی بادیہ کی صورت اچھی لگتی ہے ناں، ملکہ قُتیلہ کی شکل بھی ہو بہ ہوسردارزادی بادیہ کے جیسی ہے۔اور ملکہ قُتیلہ تم سے شادی کرنے پر تیار ہے۔ بس جھگڑا ختم،اپنے لشکر کو اکٹھا کرو واپس چلتے ہیں۔“
شماس بن جزع نے قہقہ لگایا۔”یشکر کی گردن کاٹنے کے بعد بادیہ اور تمھیں ایک ساتھ لونڈی بنا کر سرزمین عرب کا پہلا سردار کہلاﺅں گا جس کی دو ہم شکل سردارزادیاں لونڈیاں ہوں گی۔“
یشکر بولا۔”یاد ہے بنو جساسہ کے وفد نے تمھیں پیش کش کی تھی کہ اپنے کسی بھی اچھے جنگجو کا مقابلہ مجھ سے کروا کر یہ غلط فہمی دور کر لو کہ میں نے سردارزادے ہزیل کو سوتے میں قتل کیا تھا۔اس وقت تمھارے پاس میرے غلام ہونے کا بہانہ تھا،اب تو میرا اعلا نسب ہونا بھی طے ہوگیا ہے ،تو کیوں نا اب مقابلہ کرا کر جھگڑا ختم کیا جائے۔“
شماس غضب ناک ہوتے ہوئے بولا۔” اعلا نسب یا سردار ہوناتمھیں کسی کو بے گناہ قتل کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔“
یشکرتحمل سے بولا۔ ” چنوتی ملنے پر تلوار سونتنے والابے گناہ نہیں ہوتا۔ مقابلے میں میری جان چلی جاتی تو کیا تم ہزیل کو قصوروار سمجھتے۔“
شماس حقارت سے بولا۔”تمھارا مرنا اور بادیہ کا کنیز بننا طے ہو گیا ہے لونڈے۔“
قُتیلہ اطمینان بھرے لہجے میں بولی۔”تمھاری اکڑ اور نخوت اپنی کثیر تعداد کو دیکھ سوا ہو گئی ہے ،حالانکہ ملکہ قُتیلہ کو بنو نوفل میں ایک بھی مرد دکھائی نہیں دیتا۔“
شماس بن جزع نے دانت نکالتے ہوئے غلاظت اگلی۔”اگر آج رات کو تمھیں گنتی یاد رہی تو کل ضرور پوچھوں گا کہ بنو نوفل میں مرد کتنے ہیں۔“
قُتیلہ طنزیہ انداز میں بولی۔”بے بس عورت کو چارپائی پر مردانگی کا ثبوت دیناکسی نامرد ہی کا شیوہ ہو سکتا ہے۔ہمت ہے تو بنونوفل کے کسی شمشیر زن کو ملکہ قُتیلہ کے مقابل میدان میں اتارو۔“
شماس منھ بگاڑ کر بولا۔”تم جیسی وشاق کے لیے ایسے ہی ثبوت کی ضرورت پڑتی ہے۔“ اس کا قُتیلہ کی پیش کش نہ ماننا ظاہر کر رہا تھا کہ وہ اس سے اچھی طرح واقف تھا۔
”دو جوان لے آﺅ میدان میں۔“قُتیلہ کا انداز تاﺅ دلانے والا تھا۔”چلو تین کرلو…. نہیں۔“اس نے استہزائی قہقہ لگا یا۔”چار لے آﺅ….اب بھی ڈر رہو“ اس نے گنتی بڑھائی۔”اچھا پانچ کو بھیج دو۔“
”جانتی ہو،ایک بار خنزیر نے ابولحارث (شیر) کو مقابلے کے لیے للکاراتو اس نے کہا،تم سے جیت گیا تو بھی خلق ہنسے گی کہ شیر ہوکر ایک خنزیر سے جیتا بھی تو کیا تیر مارا۔اور ہار گیا تو ہمیشہ کی بدنامی۔تب خنزیر نے کہا،اگر تم نے مقابلہ نہ کیا تو میں سب کو بتاﺅں گا کہ شیر نے مجھ سے ڈر کر مقابلہ کرنے سے انکار کر دیا۔شیر اطمینان سے بولا،یہ جھوٹ گوارا کر لوں گا لیکن تم سے لڑنے کی ذلت برداشت نہیں کر سکتا۔“یہ کہہ کر شماس مکروہ انداز میں ہنسا۔”بنو نوفل کے جوانوں کے نزدیک عورت کا صرف ایک مصرف ہے اور اس بارے تمھیں جلد ہی معلوم ہوجائے گا۔“
شماس کا ہر فقرہ ایسا تھا جس پر قُتیلہ جیسی زودرنج کا بھڑکنالازم تھا۔لیکن وہ اطمینان بھرے انداز میں شماس بن جزع کی بے ہودہ گوئی برداشت کرتی رہی۔یشکر کے لیے اس بھڑکیلی کا ضبط حیران کن تھا۔
یشکر طعنہ زن ہوا۔”مجھ سے مقابلہ نہ کرنے کے لیے شیر کے پاس کون سا بہانہ ہے۔“
شماس بن جزع کا صبر جواب دے گیا تھا۔”تم ہتھیار پھینک کر اپنا انجام آسان بناسکتے ہولڑکے۔“
”یہی موقع ملکہ قُتیلہ تمھیں دینا چاہتی ہے بڈھے گیدڑ!“
شماس بن جزع نے منھ بگاڑکر غلاظت اُگلی۔”فکر نہ کرو لونڈیا!کل تک تمھیں شماس بن جزع سے بوڑھاپے کی شکایت نہیں رہے گی۔“
”تمھیں یقین ہے کل تک زندہ رہو گے۔“قُتیلہ کی آواز میں شامل غیظ و غضب اس کی اندرونی حالت کا پتا دے رہا تھا۔
رغال نے شماس بن جزع کے کان میں سرگوشی کی ،شاید معاملہ جلد از جلد نبٹانے کا کہا تھا۔
شماس بن جزع نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اپنے دائیں بائیں کھڑے پچاس کے قریب سواروں کو مخاطب ہوا۔”لونڈیا ،مجھے زندہ چاہیے ،باقیوں کے سر قلم کر دو۔“
یشکر نے اسے شش وپنج میں ڈالا۔”احمق بڈھے!اب بھی وقت ہے اپنی جان بچا لو،شاید تم ہمیں اکیلا سمجھنے کی کی غلط فہمی میں مبتلا ہو۔تمھارے پہلو میں کھڑا غدار اس بات سے ناواقف ہے کہ بے خبری میں ہمارا آلہ کار بن چکا ہے۔“
رغال جلدی سے بولا۔”جھوٹ بول رہا ہے۔“
”دیکھ لو۔“یشکر نے ملکان کی طرف رخ موڑ کر تلوار سر سے گھمائی۔مگر کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا تھا۔تمام اس طرف متوجہ ہو گئے تھے۔
یشکر نے اضطراری انداز میں دوبارہ ،سہ بارہ اور پھر چوتھی بار تلوار کو سر سے گھمایا۔ٹیلے کی چوٹی پر لمبے قد والا ملکان نمودار ہوااورہاتھوں کو سر سے بلند کر کے مخصوص انداز میں لہرانے لگا۔اس کا اشارہ سمجھنے میں یشکر کو دقت نہیں ہوئی تھی۔ سرسراتی سوچ کی تصدیق کرتی قُتیلہ کی مدہم آواز اس کے کانوں میں پڑی۔”یقینانجار بن ثابت کو لڑائی میں شمولیت کی وجہ نہیں مل سکی۔“
”تو یہ ہے تمھاری چھپی سپاہ۔“شماس بن جزع کو طنزیہ قہقہ بلند ہوا۔”گویا بنو نوفل کے پاس صرف پانسو افراد کا لشکر اور تمھارے پاس پورا ایک آدمی۔“
یشکر ڈھٹائی سے بولا۔”باقی ٹیلوں کے عقب میں ہیں۔“
”تو انھیں آواز دو کہ تمھیں بچا لیں۔“شماس بن جزع نے دائیں بائیں کھڑے پچاس محافظوں کو اشارہ کیا۔” لونڈیا اور ہتھیار پھینکنے والوں کے علاوہ کسی کا سرکندھوں پر نظر نہیں آنا چاہیے۔“
قُتیلہ بے خوف لہجے میں بولی۔”شماس بن جزع ! ہمارے مرنے تک تم اتنے افراد گنوا چکے ہو گے کہ لڑائی کا فیصلہ تمھاری زندگی کا سب سے بڑا پچھتاوا بن جائے گا۔“
شماس بن جزع بے پروائی سے بولا۔”لڑائی کا فیصلہ تمھارا ہے لونڈیا!مجھے تو بس یشکر کے سر اور دو سردارزادیوں کے شباب سے غرض ہے۔“
قُتیلہ نے سنجیدہ لہجے میں پیش کش دہرائی۔”کہہ دیا نایشکر اور بادیہ کورہنے دو،ملکہ قُتیلہ تم سے شادی کرنے پر تیار ہے۔“وہ اب بھی کسی امید پر گفتگو کو طول دے رہی تھی۔
اس نے استہزائی قہقہ بلند کیا۔”تمھاری شیخیاں اور ڈینگیں سننے کے بعد ،میں نے تمھیں بنو نوفل کی مشترکہ لونڈی بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے ملکہ قُتیلہ !“
”ایک بات طے ہے شماس!ملکہ قُتیلہ تمھاری آنکھوں کو جیت کے جشن کے لیے روشن نہیں چھوڑے گی۔“
شماس دھاڑا۔”اسے پکڑ کر میرے پاس لے آﺅ،دیکھوں تو کتنی برداشت ہے۔“
بنو نوفل کے شہ سوار تلواریں سونتے ان کی جانب بڑھے۔
تلوار بے نیام کرتے ہوئے وہ مدہم لہجے میں بولی۔”فارسی!چاہو توسردارزادی بادیہ کو لے کر بھاگ جاﺅ۔ملکہ قُتیلہ، مشکی تمھارے حوالے کرنے پر تیار ہے۔امید ہے یہ سورما کمیت اور مشکی کی گرد کو بھی نہیں پا سکیں گے۔“
”یہ یشکر کی جنگ ہے ،البتہ تمھیں گھاٹی کا رخ کر لینا چاہیے۔کیوں کہ تمھاری موت، تمھارے بھائیوں اور ماں کی بھی ہلاکت کا سبب بنے گی۔“
ملکہ قُتیلہ بھاگنے نہیں ،بھگانے کے لیے پیدا ہوئی ہے۔فتح یا موت….“نڈر لہجے میں اعلان کرتے ہوئے اس نے مشکی کو ایڑ لگائی۔بنو نوفل کے سب سے آگے والے سوار سے اس کی تلوار ٹکرائی ،اس کے عقب میں آنے والے کی تلوار کے سامنے ڈھال پکڑتے ہوئے تلوار برقی کوندے کی طرح اس کی گردن اور کندھوں کے بیچ سے گزر گئی۔اس کے آگے والا ساتھی یشکر کا شکار ہوچکا تھا۔ مالک،امریل اور اقرم کی تلواریں بھی پیاس بجھانے لگیں۔قُتیلہ بگولے کی طرح حرکت کرتے ہوئے رجزیہ اشعار پڑھنے لگی۔
”ملکہ قُتیلہ کی تلوار کے سامنے وہی آئے گا
جسے اپنے بچوں کی یتیمی کی پروا نہ ہو
کوئی ایسا جو اپنی موت کے فیصلے پریوں ڈٹ جائے
کہ کسی بھی قسم کی نصیحت کوخاطر میں نہ لائے۔“
دو لاشیں مزید گرا کروہ شماس بن جزع کو گھیرے ہوئے افراد سے ٹکرا گئی تھی۔اس کی کوشش تھی کہ ان کے سردار تک پہنچ جائے۔بوڑھے سردار کو پندرہ بیس افراد نے گھیرے میں لیا ہوا تھا۔ دو تین حملوں کے بعد جب اسے محسوس ہوا کہ ان کا گھیرا توڑنا نہ صرف مشکل تھا بلکہ ایک جگہ رکے ہوئے وہ گھیرے میں آسکتی تھی ،تبھی مشکی کو موڑکر پیچھے ہٹ گئی۔ان کے ہر ساتھی سے چار پانچ افراد بھڑے ہوئے تھے۔اچانک قُتیلہ کی نظر رغال پر پڑی جو مبارزت کے میدان سے دور بھاگ رہا تھا۔ایک مقابل کے نرخرے میں تلوار اتار کر اس نے قربوس پر ہاتھ ٹیکے اور اس کی دونوں ٹانگیں دوسرے مقابل کی چھاتی میں اس ستون کی طرح پڑیں جو فصیل کے مضبوط دروازے کو توڑنے کے لیے استعمال میں لایا جاتا ہے۔وہ اڑتا ہوا دور جاگرا تھا۔اسی دم ایک اور” شاں “کی آواز اس کے بازو کی طرف بڑھی۔تلوار کے سامنے ڈھال پکڑتے ہوئے اس نے اپنی تلوار مخالف کی کہنی پر چلا دی تھی۔اذیت بھری چیخ کے ساتھ ہی وہ اپنی کٹی ہوئی کہنی کو دوسرے ہاتھ سے پکڑنے لگا۔دوسرے وار سے قُتیلہ نے اسے کہنی کٹنے کی تکلیف سے نجات دلائی،اس کا سر دور جا کر گرا تھااور اس بے سر لاشہ پیاسی ریت پر گرکر سخاوت کا مظاہرہ کرنے لگاتھا۔
کسی اور مخالف کے قریب آنے سے پہلے اس نے مشکی کو ایڑ لگا کر رغال کے پیچھے دوڑادیا۔ وہ بنو نسر کے خیموں سے پندرہ بیس قدم دور تھا۔مشکی آسمان کی بلندیوں سے ننھی چڑیا پر جھپٹنے والے عقاب کی طرح آگے بڑھااوررغال کو خیموں کی حدود میں داخل ہونے سے پہلے آلیا،اس نے گھوڑے کی ٹاپ سنتے ہی مڑ کر دیکھا ،قُتیلہ پر نظر پڑتے ہی اس کی روح فنا ہونے لگی تھی۔اس کے دو تین ساتھی تیز رفتاری کا مظاہرہ کر کے خیموں کی حدود میں داخل ہو کر چھپ گئے تھے۔
قُتیلہ کے وار سے بچنے کے لیے وہ فوراََ اوندھے منھ گرپڑا تھا۔مشکی کی لگام کھینچے بغیر قُتیلہ نے نیچے چھلانگ لگائی۔رغال نے لرزتے ہوئے سر اٹھایا۔
”ملکہ قُتیلہ ادھار چکانے میں دیر نہیں لگاتی رغال۔“
وہ گڑگڑایا۔”م….مم ….مجھے مت ماروبیٹی!….میں نے تمھاری بڑی خدمت کی ہے۔“
قُتیلہ کے پاﺅں کی زور دار ٹھوکر اس کے منھ پر لگی۔وہ پیچھے کو الٹ گیا تھا۔
”وجہ بتاﺅ رغال!تم نے کیوں ملکہ قُتیلہ کو دھوکا دیا۔“
وہ خون تھوکتے ہوئے اذیت بھرے لہجے میں بولا۔”لالچ میں آگیا تھا بیٹی!خزانے کے صندوقوں نے برے بھلے کی تمیز چھین لی تھی۔“
تین چار گھڑ سواروں کو اپنے طرف آتے دیکھ کر وہ سرعت سے بولی۔”دونوں ہاتھ باندھ کے معافی مانگو۔“
”معاف کر دوبیٹ……..“رغال نے معافی کے انداز میں ہاتھ باندھتے ہوئے کہنا شروع ہی کیا تھا کہ قُتیلہ کی تلوار برقی کوندے کی طرح لہرائی ،رغال کے دونوں ہاتھ کلائیوں سے کٹ کر علاحدہ ہو گئے تھے۔
”معاف کیا….“اطمینان بھرے انداز میں کہتے ہوئے اس نے مشکی کی طرف بڑھنے کی کوشش کی جو چند قدم آگے جا کر رکا تھا،مگر بنو نوفل کے گھڑ سوار سر پر پہنچ گئے تھے۔پہلے گھڑ سوار کا وار زمین پر لوٹ لگاتے ہوئے اس نے خطا کیا اس کے پیچھے آنے والے کے گھوڑے کی ٹانگ پر تلوار چلاکر وہ کھڑی ہوئی اور تیسرے گھوڑے کے سوار کے وار کو ڈھال پر روکتے ہوئے وہ ہوا میں اچھلی۔تلوار کی نوک سوار کے بائیں پہلو سے گزر کر دائیں جانب نکل گئی تھی۔تلوار کو مخصوص جھٹکا دیتے ہوئے اس نے واپس کھینچا،سوار اپنی آنتوں کو سنبھالتا ہوا منھ کے بل گرا تھا۔اس اثناءمیں مزید پانچ چھے سواروں نے پہنچ کر اس کا مشکی کی طرف جانا مشکل بنا دیا تھا۔شماس بن جزع نے اسے زندہ پکڑنے کی ہدایت کی تھی۔تمام سوار گھوڑوں سے چھلانگ لگا کر نیچے اتر آئے تھے۔وہ شکاریوں کے نرغے میں آئی خونخوار شیرنی کی طرح پہلو بدل کر حملے کے لیے تیار ہو گئی۔وہ آوازیں دے کر اپنے دوسرے ساتھیوں کو قریب بلانے لگے۔
یشکر بگولے کی طرح میدان میں چکرا رہا تھا۔بنو نوفل کے سوار مسلسل اس کے پیچھے لگے تھے۔کمیت کٹھ پتلی کی طرح اس کے اشاروں پر ناچ رہا تھا۔آگے بڑھتے ہوئے وہ ایک دم رک کر گھوڑے کا رخ دائیں یا بائیں موڑتا اور اس اثناءمیں بنو نوفل کا کوئی ایک سوار سر سے محروم جسم لیے نیچے جا گرتا۔
”بیٹا !زیادہ افراد سے ایک ساتھ ٹاکرا ہوجائے توہمیشہ متحرک رہتے ہوئے لڑنا۔رکنے کی صورت میں پھنس جاﺅگے ،گھیرے میں آنے کے بعد دفاع کرنا مشکل ہو جاتا ہے ، چھاتی بچاﺅ گے تو پیٹھ پر وار کھا بیٹھو گے اور عقب کو محفوظ کرو گے تو سینے میں چھید کرا لوگے۔“باباسکندر کی شفقت بھری دھیمی آواز آج بھی اس کی رہنمائی کر رہی تھی۔اس کی نگاہ چھے سات افراد میں گھرے مالک پر پڑی،سیلابی پانی کی رفتار سے وہ اس کی جانب بڑھا۔دشمن کی توجہ مالک پر تھی ،پہلے ہلے میں اس نے دو کو گرا دیا تھا۔
”مالک بھائی !حرکت میں رہو۔“تیز آواز میں اسے مشورہ دیتے ہوئے اس نے تیسرے کا وار تلوار پر روکا،چوتھے کے نیزے کے سامنے ڈھال پکڑتے ہوئے صاعقہ کی نوک اس کی چھاتی کو چھیدتی ہوئی دوبارہ تیسرے کی تلوار کے سامنے پہنچ گئی۔اس کے دو وار یشکر نے تلوار پر روکے تیسرے وار کو ڈھال پر سہارتے ہوئے صاعقہ نے اس کا تلوار والا ہاتھ کلائی سے اڑا دیا تھا۔اذیت بھرے انداز میں چیختے ہوئے وہ کلائی کو تھامے جھکا۔صاعقہ کا اگلا وار اس کی گردن کے عقب میں پڑا تھا۔اسے قتل کر کے یشکر نے گھوڑا آگے بڑھایا اور پھر ایک دم دائیں جانب مختصر موڑ کاٹ کر اس نے تین سوار وں کو جُل دیا اور کمیت واپس جانے لگا۔اس کی نظروں نے شماس بن جزع کو ڈھونڈا،وہ ایک ٹیلے پر چڑھ گیا تھا۔ اسے دس پندرہ افراد نے گھیرا ہوا تھا۔
”مالک بھائی !اس طرف۔“یشکر نے تلوار کی نوک سے ٹیلے کی طرف اشارہ کیا۔ٹیلے کی طرف بڑھتے ہوئے اس نے امریل اور اقرم کو چنگھاڑتے ہوئے اہل بنو نوفل سے ٹکراتے دیکھا۔یشکر نے آواز دے کر انھیں بھی قریب بلا لیا تھا۔اس کے اشار ے پر دونوں کی نظریں ٹیلے کی جانب اٹھیں اور انھوں نے گھوڑے بڑھا دیے۔جونھی وہ ٹیلے کی جڑ میں پہنچے شماس کے محافظوں نے نیچے اتر کر مزاحمت شروع کر دی تھی۔تب تک ان پر حملہ آور افراد کی اکثریت قتل یا زخمی ہو کر ناکارہ ہو چکی تھی۔شماس کے محافظ چیخ چیخ کر اپنی گھیرے میں لگی سپاہ کو آواز دینے لگے۔گھیرے میں لگے افراد پہلے مطمئن تھے کہ وہ چالیس پچاس افراد ان پر قابو پالیں گے۔لیکن یشکر، قُتیلہ، امریل، مالک، اقرم اور ملکان کے ولولے اور جوش کے سامنے وہ جنگجو ریت کی دیوار ثابت ہوئے تھے۔یشکر کے آٹھ ساتھی بھی قتل ہو گئے تھے۔
ٹیلے کے دامن میں جنگ چھڑ گئی تھی۔پہلے والے محافظ طویل مزاحمت تونہیں کر سکے تھے، لیکن اتنی دیر تک بہ ہرحال انھوں نے یشکر کی ٹولی کو روک لیا جب تک کہ بنو نوفل کے مزید افراد وہاں پہنچ گئے تھے۔مخالفین کو بڑی تعداد میں قریب آتا دیکھ کر یشکر چلایا۔
”بکھر جاﺅ….“ساتھ ہی اس نے کمیت کو موڑا،قربوس کو تھامتے ہوئے اس کی ٹانگ ایک مخالف کی چھاتی میں لگی وہ اڑتا ہوادور جاگرا تھا۔نیچے گرتے ہوئے وہ اٹھا اسی اثناءمیں اس کے قریب سے گزرتے امریل کی تلوار اس کا حال پوچھ چکی تھی۔
یشکر کی آنکھیں قُتیلہ کی تلاش میں سرگرداں ہوئیں ،وہ کہیں بھی نظر نہیں آئی تھی۔بنو نسر کے خیموں کے قریب بنو نوفل کے دس بارہ افراد نے کسی کو گھیرا ہوا تھا۔اتنا تو یشکر بھی جانتا تھا کہ وہ انھی کا کوئی ساتھی ہو گا۔یشکر نے گھوڑے کو اس جانب موڑا۔قریب پہنچنے پر اسے قُتیلہ دکھائی دی۔وہ زخمی شیرنی کی طرح چاروں طرف گھوم کر مخالفین پر وار کر رہی تھی لیکن وہ دائرہ بنائے اس کے حملوں کو کامیاب نہیں ہونے دے رہے۔قُتیلہ کے لیے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ وہ گھیرے میں تھی۔اس کی کہنیوں اور بازوﺅں پر جوشن (تلوار سے بچنے کے لیے آہنی پوشش)چڑھے تھے۔ پیٹھ اور چھاتی پر بھی ہلکی زرہ تھی ،اس کے باوجود اس کا لباس خون سے تر نظر آرہا تھا۔کچھ خون اس کا اپنا تھا اور کچھ دشمنوں کے جسم سے نکلا ہوا۔
کمیت آندھی کی طرح حرکت کرتا ہواوہاں پہنچا۔وہ قُتیلہ کی طرف متوجہ تھے۔صاعقہ نے دو افراد کے سروں کو ایک ساتھ اڑایا،جبکہ ایک آدمی عنبر کی ٹانگوں کے نیچے کچلا گیا تھا۔
یشکر باآواز بلند پکارا۔”سردارزادی….“
وہ سرعت سے مڑی،عنبر پر بیٹھے یشکر کو دیکھتے ہی اس کے لبوں پر دل آویز تبسم نمودار ہوا۔ بجلی کی سی سرعت سے آگے ہو کر اس نے یشکر کا بڑھا ہوا ہاتھ تھاما اور اور اچھل کر اس کے عقب میں بیٹھ گئی۔
”فارسی!تمھیں اس حال میں بھی بادیہ کی ہم شکل کی پڑی ہے۔“
”مشکی سے کیوں اتری ہو۔“عنبر کو ایڑ لگاتے ہوئے یشکر نے آگے بڑھایا۔
”ملکہ قُتیلہ ایک غدارکو انجام تک پہنچا رہی تھی کہ ان گیدڑوں کے نرغے میںآگئی۔“
یشکر نے پوچھا۔”مشکی ہے کدھر؟“
”اُس طرف۔“قُتیلہ نے دور کھڑے مشکی کی طرف اشارہ کیا۔
یشکر نے عنبر کا رخ اس جانب موڑا،لیکن اسی وقت ایک نیزہ برقی کوندے کی طرح اڑتا ہوا آیا اور عنبر کی گردن میں پیوست ہو گیاتھا۔
عنبر گھٹنوں کے بل گرا اور لمبا لیٹ کر ایڑیاں رگڑنے لگا۔اس کے ساتھ ہی یشکر اور قُتیلہ بھی گرے اور لوٹ لگاتے ہوئے کھڑے ہوگئے۔بنو نوفل کے کافی افراد ان کی تاک میں تھے۔ حملہ کرنے کے بجائے انھوں نے گھیرا ڈال کر دونوں کا راستا مسدود کرنے میں سرعت دکھائی تھی۔گھوڑوں سے اتر انھوں نے گھیرا تنگ کرنا شروع کر دیا تھا۔
دونوں کی آنکھیں چار ہوئیں۔دُنبالہ آنکھوں میں خوف کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔
”فارسی!ملکہ قُتیلہ زندہ ان گیدڑوں کے ہاتھ نہیں لگنا چاہتی۔“
یشکر کے ہونٹوں پر پھیکا تبسم ابھرا۔”کہا تھا ناں تمھاری موت میرے ہی ہاتھوں ہو گی۔“
قُتیلہ نے جوابی تبسم اچھالا۔”ایسا ملکہ قُتیلہ نے کہا تھا۔“
”تھک جانا تو آواز دینا۔“یشکر کی آواز میں دکھ بھرا تھا۔وہ دشمنوں کی طرف متوجہ ہوا۔ان کے چہروں پر خوف وہراس دیکھ کر حیرانی ہوتی تھی۔تیس چالیس افراد دو آدمیوں سے خوفزدہ تھے۔ان کا گھیرا تنگ ہونے سے پہلے وہ دائیں جانب بڑھے اور آخری جنگ شروع ہو گئی۔پیٹھ سے پیٹھ جوڑتے ہوئے دونوں نے اپنے عقب کو محفوظ کیااور تلواریںبرقی کوندوں کی طرح لہرانے لگیں۔دشمن حملے سے زیادہ دفاع پر زور دے رہے تھے۔گھیراﺅ کا دائرہ بھی ایک مخصوص مقام پر پہنچ کر سمٹنا رک گیا تھا۔وہ جس جانب کا رخ کرتے دشمن گھیرے کے اس مقام کی افرادی قوت میں اضافہ کر دیتے۔ایک تلوار کے سامنے دس ڈھالیں دفاعی انداز میں اٹھتیں اور ایک ڈھال کو کئی تلواروں کا سامنا کرنا پڑتا۔وہ دونوں جتنے بھی جاندار ،طاقت ور،ماہر،تلوار کے دھنی اور نڈر ہوتے آخر کو انسان تھے۔مسلسل تلوار مشکل ترین کام ہے۔ان کے اعصاب بھی مضمحل ہونے لگے۔انسان کو اگر امید کی کرن دکھائی نہ دے،کوئی مدد آنے کا امکان نہ ہواور مدمقابل اتنے ہوں جن کا خاتمہ ممکن نہ ہوتو وہ بد دل ہو جاتا ہے۔تھکن سے زیادہ مایوسی اسے ناکارہ کرنے لگتی ہے۔ان پر بھی مایوسی طاری ہونے لگی۔وہ صرف موت کے انتظار میں لڑ رہے تھے۔لڑائی کا اختتام تبھی ہوتا جب وہ دشمن کے قابو میں آجاتے یا مر جاتے۔انسان پر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب اس کے اعصاب آرام کی تلاش میں موت کو ہنسی خوشی گلے لگانے پر تیار ہو جاتے ہیں۔جب اسے سکون قبر کے گڑھے میں دکھائی دینے لگتا ہے،جب وہ سکون خریدنے کے لیے جان کے سودے پر آمادہ ہوجاتا ہے اور ان پر بھی وہ وقت آگیا تھا۔
قُتیلہ کی مضمحل آواز ابھری۔”فارسی!ملکہ قُتیلہ آرام کرنا چاہتی ہے۔“دونوں گھیرے کے درمیان میں رک کر ہانپ رہے تھے۔ماضی میں اس سے زیادہ دیر تلوار گھما کر بھی وہ تازہ دم رہتے تھے لیکن آج مایوسی نے انھیں تھکا دیا تھا۔دشمن کی تعداد اس قدر تھی کہ ان کی تلواریں تمام کا صفایا نہیں کر سکتی تھیں۔بلا شبہ وہ دشمن کی توقع سے زیادہ ان کا نقصان کرچکے تھے لیکن جتنوں کو مار چکے تھے ان سے چار پانچ گنا تازدہ دم مقابل باقی تھے۔
یشکر نے قُتیلہ کی جانب رخ موڑا۔اس کے ہونٹوں پر پھیکی مسکراہٹ ابھری۔”جانتی ہو میں نے اہور مزدا سے ہمیشہ یہی مناجات کی کہ جب میرا سانس نکلے تو سردارزادی بادیہ کا چہرہ میری آنکھوں کے سامنے ہو۔اور دیکھ لو اہورمزدا نے میری تمنا کو پورا کر دیا۔“
وہ لجاجت سے بولی۔”فارسی ،مجھے ملکہ قُتیلہ کہہ کر پکارونا۔“
یشکر خلوص دل سے بولا۔”بلا شبہ تم ملکہ قُتیلہ ہو۔“
”یہاں پر۔“قُتیلہ نے صاعقہ کی نوک کو پکڑ کر بائیں جانب چھاتی کے نیچے ٹیکا۔ پھیکی مسکراہٹ اس کے پنکھڑی ہونٹوں پر نمودار ہوئی جو پیاس کی وجہ سے خشک ہو گئے تھے۔ملیح گال پر نمودار ایک خراش سے خون کی بوندیں ٹپک کر اس کے لبوں کو سرخ کر رہی تھیں۔ ”تلوار کو ایک جھٹکے سے دھکیلنا۔اور جب تلوار چھاتی سے آرپار ہو جائے تو تم ملکہ قُتیلہ کو گلے لگانے کی حسرت پوری کر لینا۔بوسا دینے کی خواہش بھی تشنہ نہ چھوڑنا۔اس کے بعد شاید آرام سے مر سکو۔“مرنے سے پہلے بھی وہ طنز کرنے سے باز نہیں آئی تھی۔
”میں بھی کسی ایسے کے ہاتھوں مرنا چاہتا ہوں جو قابل فخر شمشیر زن ہو۔“قُتیلہ کی تلوار کو یشکر نے اپنی چھاتی پر ٹیک دیا تھا۔”ایک ساتھ اور اپنے ہاتھوں سے نہ کہ ان کے ہاتھوں۔“یشکر کے ہونٹوں سے تاریخی محاورہ نکلا۔(یہ ملکہ الزّباکا قول ہے جو ضرب المثل بن گیا۔ملکہ کا قصہ اجمالاََ پہلے بیان ہوچکا ہے۔کہ کس طرح اس نے اپنے باپ کی موت کا بدلہ لینے کے لیے جذیمة الابرش کو پاس بلا کر قتل کیا اور جذیمہ کے غلام قصیر نے جذیمہ کا بدلہ لینے کے لیے بہت بڑی چال چلی۔الزّبا اس کی مکاری کے جال میں پھنس گئی اور جذیمہ کے بھانجے عمرو بن عدی کے ہتھے چڑھ گئی۔جب عمرو بن عدی نے اسے قتل کرنے کے لیے تلوار سونتی تبھی اس نے جلدی سے اپنی انگوٹھی میں موجود زہر کو چوسا اور بولی۔”خود اپنے ہاتھ سے نہ کہ عمرو کے ہاتھ سے۔“ اس قصے میں بہت سے ایسے اقوال ہیں جو تاریخ عرب میں ضرب المثل کی حیثیت سے دہرائے گئے)
”ملکہ قُتیلہ !ایک اعتراف کرنا چاہتی ہے۔“دنبالہ آنکھوں میں حسرت نمودار ہوئی۔
”میں بھی۔“یشکر کے ہونٹوں سے سرسراتی آواز نکلی۔
قُتیلہ بولی۔”پہلے تم۔“
یشکر نے دنبالہ آنکھوں کی گہرائی میں جھانکا،اس کی نگاہوں نے گھنی پلکوں کی جھالر سے ہوتے ہوئے روشن جبیں کو بوسا دیا،قساوا پسینے سے تر بتر تھی۔اس کی گھنی زلفوں کے پیچ و خم میں الجھتے ہوئے یشکر ماحول کو بھولنے لگا تھا۔سر کو جھٹک کر اس نے خود سنبھالا۔
”میں یہ اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ ……..“

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: