Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 64

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 64

–**–**–

”میں یہ اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ ……..“فقرہ مکمل ہونے سے پہلے اس کی آنکھیں دور ٹیلوں کی طرف متوجہ ہوئیں ،جہاں ٹیلوں کے خلاگھڑسوار اگلنے لگے تھے۔اتنی دور سے ان کی پہچان ممکن نہیں تھی ،لیکن تین چار افراد کے ہاتھوں میں سرخ و سیاہ دورنگے جھنڈے دیکھ کر اس کا دل مسرت سے دھڑکنے لگا تھا۔وہ جھنڈے قُتیلہ نے بنو طرید کے لیے بنوائے تھے۔ان کی مدد آپہنچی تھی۔
قُتیلہ بے چینی سے مستفسر ہوئی۔”بولوناں۔“
اس کی تلوار کی نوک کواپنی چھاتی سے ہٹاتے ہوئے یشکر نے ایک قدم پیچھے لیا۔”یہی کہ تم گھمنڈی ،ہٹ دھرم ،بڑبولی اور ضدی ہو۔“آنکھوں میں شوخی بھرتے ہوئے وہ چہکا۔”اب تمھاری باری۔“
قُتیلہ کے چہرے پر تعجب ابھرا۔اور پھر اس کی نظروں کے تعاقب میں وہ پیچھے مڑی۔بنو طرید کا جھنڈا دیکھتے ہی اس کے جسم میں نئی جان پڑی گئی تھی۔
وہ یشکر کی جانب مڑی۔”ملکہ قُتیلہ اعتراف کرتی ہے کہ اس کی آنکھوں نے تم جیسا قابلِ نفرت شخص نہیں دیکھا۔“جھک کر اس نے نیچے پڑی ڈھال اٹھائی اوربنونوفل کے گھیرا ڈالنے والوں کو مخاطب ہوئی۔
”ہتھیار پھینکنے والاسانسوں کو طوالت دے سکتا ہے۔“
اس کا بدلہ ہوا انداز اور جارحانہ لہجہ اہل بنو نوفل کے لیے حیران کن تھا۔اپنے تیئں تو وہ لڑائی جیت چکے تھے۔قُتیلہ کی ڈینگ سنتے ہی انھوں نے استہزائی قہقہے بلند کیے۔ ہنسی تھمنے سے پہلے ہی ان کے کانوں میں بنو طرید و جساسہ کے لشکریوں کے فلک شگاف نعرے گونجے۔وہ چونکتے ہوئے اس جانب متوجہ ہوئے ان کی بنو نسر کا گھیراﺅ کی ہوئی سپاہ پر تازہ دم لشکر حملہ آور ہو چکا تھا۔آنے والوں کی تعداد یقینا ان سے زیادہ نہیں تھی۔لیکن ان کی ایک دم آمد اور صحیح تعداد سے لا علم ہونے کی وجہ نے اہل بنو نوفل کوڈرا دیا تھا۔
قُتیلہ اور یشکر ایک دوسرے کو اشارہ کرتے ہوئے نئے حوصلے،ولوے اور جذبے سے گھیراﺅ کیے ہوئے افراد پر ٹوٹ پڑے۔ان کی پریشانی ،مایوسی اوراضمحلال کا خاتمہ ہو چکا تھا۔گھیرا ڈالنے والے منتشر ہو کر اپنے گھوڑوں کی طرف بھاگے۔بنو طرید و جساسہ کے شہ سوارمیدان جنگ میں بکھر کر بنونوفل کے لوگوں سے ٹکرا چکے تھے۔
قُتیلہ کی نظریں مشکی کی تلاش میں مطلوبہ سمت میں اٹھیں،بنو نوفل کا ایک فرد رکاب میں پاﺅں ڈالے مشکی پر سوار ہو رہا تھا۔اس جانب بگ ٹٹ دوڑتے ہوئے قُتیلہ نے نیام سے خنجر برآمد کیا،جونھی زین پر بیٹھتے ہوئے اس نے لگام تھامی ،قُتیلہ کے ہاتھ سے جمدھر(سیدھی نوک کا دودھاری خنجر) کمان سے چھوٹے تیر کی طرح نکلااور مشکی پر سوار ہونے والے کی گردن میں دھنس گیا تھا۔ اس کے ہاتھ اضطراری طور پر گلے کی طرف بڑھے اور پھر وہ جھکتے ہوئے منھ کے بل نیچے گرکر ایڑیاں رگڑنے لگا۔قریب جا کر قُتیلہ نے خنجر اس کے گلے سے کھینچتے ہوئے بغیر صاف کیے نیام میں ڈالااور مشکی پر سوار ہو گئی۔
بنو نوفل کے افراد میں بھگدڑ مچ گئی تھی۔بنو جساسہ اور بنو طرید کے ہر آدمی نے سر پر سفید رنگ کی پٹی باندھی ہوئی تھی۔یقینا ایسا شریم نے اپنے آدمیوں کی پہچان کے واسطے کرایاتھا۔
یشکر نے بنو نوفل کے ایک سوار کی گردن اتار کر اس کا گھوڑا ہتھیا لیا تھا۔اب مقابلہ تو برابر کا تھا لیکن بنو نوفل دماغی طور پر ہار تسلیم کرچکے تھے۔ان کا جارحانہ انداز دفاعی صورت اختیار کر گیا تھا۔
اچانک قُتیلہ کے کانوں میں ”بنو احمر زندہ باد….سردار نجار بن ثابت کی جے“ کا نعرہ گونجا۔ شمالی جانب کے ٹیلوں پر بنو احمر کا لشکر نمودار ہوا تھا۔قُتیلہ نے مشکی کو سرپٹ دوڑایا۔ان کے قریب پہنچنے ہی اس نے ہاتھ اٹھا کر بنو احمر کے لشکر کو روکا۔نجار بن ثابت سب سے آگے تھا۔
”ملکہ قُتیلہ!نجار بن ثابت دیر کرنے پر شرمندہ ہے۔“
”معافی تلافی کا وقت نہیں ہے ،اپنے آدمیوں کو کہوں اپنی چادریں اورقمیص کے دامن پھاڑ کر ماتھے پر قساوا باندھ لیں۔کوشش کرنا سفید پٹی باندھیں۔ہمارے لشکر کی پہچان سفید قساوے ہیں۔“اتنا کہہ کر وہ رکی نہیں تھی ،پیچھے مڑ کر لڑائی میں کود پڑی۔
میدان جنگ کا نقشہ تبدیل ہو گیا تھا،شکاری ،شکار بن گئے تھے،زیر ،زبر ہو گئے تھے،جیت کے منتظر وں کو ہار سے بچنے کی تگ و دو کرنا پڑرہی تھی اور موت کو گلے لگانے والے جیت کے ہما کو سر پر بیٹھا دیکھ رہے تھے۔بنو احمر کی آمد سے بنونوفل کی شکست ،گمان سے یقین کے درجے میں داخل ہو گئی تھی۔
زخموں سے چور امریل ،مالک بن شیبہ،اقرم اور ملکان کے جسموں میں نئی جان پڑ گئی تھی۔ اپنے لشکر کی آمد سے پہلے وہ اتفاق رائے سے گھوڑے دوڑاتے ہوئے ایک اونچے ٹیلے پر چڑھ گئے تھے۔وہاں ایک دوسرے کی پیٹھ سے پیٹھ جوڑے وہ موت کے پنجوں سے رہائی کی تگ و دو میں تھے۔ قُتیلہ اور یشکر کو دشمن کے نرغے میں دیکھ کر بھی وہ ان کی مدد سے قاصر تھے۔ان کے باقی ساتھی جوش و ولولے سے لڑتے ہوئے ختم ہو چکے تھے۔اور جب انھیں محسوس ہونے لگا کہ ہتھیار ڈال کر موت کو گلے سے لگانا ضروری ہو گیا ہے۔تبھی امریل کی نظر دور سے آتے گھڑسواروں پر پڑی۔ان کے ہاتھ میں سرخ و سیاہ جھنڈا دیکھتے ہی اس نے زوردار نعرہ لگایا۔
”ملکہ قُتیلہ کی جے….مدد آگئی ہے ساتھیو ،یقین کرو فتح کی دیوی کا ہاتھ ہمارے سروں پر ہے۔“
ان پر چڑھائی کرنے والوں نے بھی تازہ دم لشکر کو دیکھ لیا تھا۔اور پھر صورت حال پلٹ گئی۔ اہل بنو نوفل شش و پنج میں پڑ گئے۔جبکہ امریل اور اس کے ساتھیوں کی وہ حالت ہو گئی جیسے طوفان میں سمندر کی لہروں سے نبرد آزما تیراک کو کنارا نظر آجائے۔ان کی جدوجہد میں تیزی آگئی تھی۔
شریم کی قیادت میں ان کا لشکر نعرے مارتا قریب آرہا تھا۔پر جوش شہ سواروں کے لبوں پر رجزیہ کلام تھا اور ہاتھوں میں تلواریں و نیزے۔ساری جنگ خیموں سے باہر ہی ہو رہی تھی۔خیموں میں مستور عورتوں کو تو اہل بنو نوفل نے اپنی لونڈیاں سمجھ کر نظر انداز کیے رکھا تھا۔البتہ ان کے فرار میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے خیموں کا محاصرہ ضروری سمجھا تھا۔
اہل بنو نسرنے لڑائی میں شامل ہونا پسند نہیں کیا تھا۔ان میں رغال بن ذواب واحد فرد تھا جس کے دونوں ہاتھ قُتیلہ نے کاٹ دیے تھے۔اور پھر قُتیلہ کے وہاں سے ہٹتے ہی غطیف بن مرثدتڑپتے رغال کو سہارا دے کر خیمے میں لے گیا تھا۔اس نے رغال کی کلائیوں پر کس کر پٹیاں باندھ دیں تاکہ خون کا اخراج رک جائے۔رغال دردناک انداز میں کراہ رہاتھا۔
یشکر کا رخ شماس بن جزع کی کمین گاہ کی طرف ہو گیا تھا۔وہ ٹیلے پر چڑھا ہوا تھا۔بنو طرید کے لشکر کی آمد کے بعد اس کے گرد محافظوں کی تعداد میں خاطر خواہ کمی ہو گئی تھی۔ٹیلے کے دامن میں دھاڑتے ،چنگھاڑتے شریم کی تلوار برقی کوندے کی طرح بنونوفل کے افراد پر برس رہی تھی۔اس کے دائیں بائیں حاجب بن قارب ،صباع بن صرفہ ،حکیم بلتعہ بن قنعب اور بنو جساسہ کے بپھرے ہوئے کئی جوان موجود تھے۔یشکر کی آمد نے انھیں تقویت دی تھی۔ٹیلے کا دامن بنو نوفل کے افراد کی لاشوں سے اٹ گیا تھا۔یشکر کی آمد کے تھوڑی دیر بعد ہی قُتیلہ رجزیہ اشعار پڑھتی ان کے ساتھ شامل ہو گئی تھی۔ گھڑی بھر بعد ہی شماس بن جزع کے ساتھ فقط دو محافظ باقی رہ گئے تھے۔تینوں نے تلواریں پھینک کر ہاتھ سر سے بلند کر لیے تھے۔شریم،یشکر اور قُتیلہ ٹیلے کے اوپر پہنچے،شماس بن جزع کے چہرے پر موت کی زردی نے ڈیرے ڈال دیے تھے۔
قُتیلہ پھنکاری۔”بڈھے گیدڑ!ملکہ قُتیلہ نے تمھیں جان بچانے کا موقع دیا تھا۔“
شماس تھوک نگلتا ہوا بولا۔”صلح کے لیے میں تمھاری تمام شرائط ماننے کو تیار ہوں۔“
شریم ہنسا۔”کیا اب تک شک میں پڑے ہو۔“
قُتیلہ، شریم کو مخاطب ہوئی۔”چچا جان!ملکہ قُتیلہ کو اجازت دو۔“
شریم نے متبسم ہو کر اثبات میں سرہلایا۔”اجازت ہے ملکہ بیٹی۔“
رکاب سے پاﺅں نکالتے ہوئے قُتیلہ اچھلی،اس کی ٹانگ شہتیر کی طرح شماس کے سینے پر پڑی وہ اڑتا ہوا دور جا گرا تھا۔قُتیلہ الٹی قلابازی کھاتے ہوئے دونوں قدموں پر کھڑی ہو گئی تھی۔شماس کے محافظوں نے اضطراری انداز میں تلواروں کے دستے پر ہاتھ رکھا،تبھی شریم اور یشکر ایک ساتھ حرکت میں آئے تھے۔ان کے تلواریں بے نیام کر نے تک وہ بے سر ہو چکے تھے۔قُتیلہ ان سے بے پروا کارروائی میں لگی تھی۔شماس کے چہرے پر بھرپور ٹھوکر رسید کرتے ہوئے وہ اس کے گھوڑے کی طرف بڑھی۔ لگام اتار کر اس نے دواور گھوڑوں کی لگامیں بھی اتاریں اور تینوں لگاموں کو جوڑ کر ایک لمبی رسی بنائی لی۔ شماس کے کندھوں اور چھاتی سے رسی باندھ کراس نے دوسرا سرا مشکی کی زین سے باندھااور اچھل کر سوار ہو گئی۔
یشکر کے ہونٹوں سے بے ساختہ نکلا۔”اگر کوئی کہے کہ اس نے قُتیلہ سے ظالم شخص دیکھا ہے تو میں اسے جھوٹا سمجھوں گا۔“
وہ مشکی کو ایڑ لگارہی تھی۔یشکر کو گھورتے ہوئے برہمی سے بولی۔”فارسی غلام !ملکہ قُتیلہ کہتے ہوئے زبان درد کرتی ہے۔“اور پھر یشکر کا جواب سنے بغیر اس نے مشکی کو ایڑ لگا دی۔شماس بن جزع زمین پر گھسٹتاہوا گڑگڑا رہا تھا۔بنو نسر کے غربی جانب چھوٹی چھوٹی کانٹا دار جھاڑیاں تھیں وہاں پہنچتے ہی شماس کا واویلا سوا ہو گیا تھا۔قُتیلہ اس وقت تک اسے گھسیٹتی رہی جب تک وہ ختم نہ ہو گیا۔
٭٭٭
بنو نوفل کے پچاس ساٹھ افراد نے ہتھیار ڈال کر گرفتاری دینے کی کوشش کی تھی لیکن قُتیلہ معافی تلافی پر تیار نہیں ہوئی تھی۔بنونوفل کے کسی آدمی کی گردن سلامت نہیں رہی تھی۔سہ پہر تک جنگ ختم ہو چکی تھی۔اور میدان میں صرف زخمیوں کی کراہیں اور انھیں سنبھالنے والوں کی اونچی ،نیچی آوازیں گونج رہی تھیں۔
منقر ،یشکر کے پاس آکر تفصیل بتانے لگا۔جس کا لب لباب یہ تھاکہ رغال کو جونھی خزانے کی بابت معلوم ہوا اس کے دل میں لالچ پیدا ہو گیاتھا۔تبھی اس نے ایک تیر سے کئی شکار کرنے کا فیصلہ کیا۔ بنونوفل کے سردار کے پاس غطیف بن مرثد کو بھیج کر اس نے تمام منصوبہ انھیں بتا دیا۔اور ساتھ یہ بھی وعدہ لیا کہ بنو طرید و جساسہ کی عورتیں اور مویشی تو ان کے ہوں گے لیکن باقی سامان بنو نسر کاہوگا۔خزانے کے حصول کے ساتھ اس کی نظریں بنو نسر کی سرداری پر بھی تھیں۔قُتیلہ کو ناپسند کرنے والے افراد کو ساتھ ملا کر اس نے خود سردار بننے کا فیصلہ کر لیاتھا۔غبشان بن عبشہ اس کا دوست تھا ،لیکن وہ قُتیلہ کو دھوکا دینے پر آمادہ نہ ہوا تبھی اس نے غبشان ،قُتیلہ کی ماں اور چھوٹے بھائیوں کو نظر بند کر دیا۔لیکن اس کی بدقسمتی کہ بنو طرید سے آتے ہو ئے راستے میں پہلی ہی رات جب وہ غطیف بن مرثداور قُتیلہ کے چند کے دوسرے مخالفین کے ساتھ مل کر منصوبہ بنا رہا تھااتفاق سے شموس بنت سلول نے سب سن لیااور بغیر دیرکیے فوراََ ہی منقر بن اسقح کو ساری صورت حال سے بھی آگاہ کر دیاتھا۔ منقرکو قُتیلہ و یشکر کے بارے حتمی طور پرمعلوم نہیں تھاکہ کہاں ہوں گے،اس نے بغیر وقت ضائع کیے ایسے غلام کو جسے گھاٹی کا رستا معلوم تھااونٹنی دے کرشریم کے پاس روانہ کر دیا۔گھوڑے ان کے پاس فقط دو تھے۔بادیہ کی ابلق اور منقر کا اپنا گھوڑا۔اگروہ غلام کے حوالے گھوڑا کرتا تو رغال کو گھوڑا غائب ہونے پر شک ہو سکتا تھا۔شریم نے صورت حال معلوم ہوتے ہی سستی نہیں کی تھی۔
بنو احمر کے سردار نجار بن ثابت نے یشکر اورقُتیلہ کے سامنے صفائی پیش کر تے ہوئے بتایا تھا کہ بنو احمر کے چند سرکردہ افراد اس لڑائی میں شمولیت کے حق میں نہیں تھے۔اور کافی بحث و مباحثے کے بعد وہ راضی ہوئے تھے۔تبھی انھیں آنے میں دیر ہو گئی تھی۔
قُتیلہ بنو نسر کی طرف بڑھ گئی۔ان کے خیموں کو بنو طرید کے مسلح افراد نے گھیرے میں لیا ہوا تھا۔قُتیلہ نے پہلی ہی فرصت میں بنو نسر کے بیس سرکردہ افراد پر فرد جرم عائد کر کے ان کی گردنیں اڑا دی تھیں۔ اس ضمن میں اس نے ترس کھانا توسیکھا ہی نہیں تھا۔شموس بنت سلول کو اس نے سو طلائی سکے،دس اونٹ، سو بکریاں اور ایک عمدہ گھوڑی انعام دینے کا اعلان کیا تھا۔
بنو نسر کا معاملہ نبٹا کر وہ بنو طرید کی طرف بڑھ گئی۔بادیہ یشکر کے زخموں کو پر مرہم لگا رہی تھی۔
قُتیلہ ہنسی۔”سردار زادی !اپنی سہیلی کو بھلا ہی دیا ہے۔“
”تم مصروف تھیں۔“بادیہ نے جوابی مسکراہٹ اچھالی۔
”ملکہ قُتیلہ کی ماں جو موجود ہے۔“عریسہ اسے پکڑ کر خیمے میں لے گئی تھی۔سب سے پہلے اس نے قُتیلہ کا خون میں بھیگا ہوا لباس اتارا ،کپڑا گیلا کر کے اس کے زخموں سے خون صاف کیااور مرہم لگا کر صاف کپڑے پہنا دیے تھے۔جندلہ بھی اس کے چھوٹے بھائیوں کو ساتھ لے کروہیں پہنچ گئی تھی۔ پہلی بار اسے قُتیلہ کی اہمیت کا اندازہ ہوا تھا۔قُتیلہ کو بانہوں میں بھر کر ماتھے پر بوسا دیتے ہوئے اس نے وسیع الظرفی سے اعتراف کیا تھا۔”اگر میری ملکہ بیٹی نہ ہوتی تو نجانے باغی ہمارے ساتھ کیا سلوک کرتے۔“
”ماں جی! فکر نہ کریں۔جب تک طرفہ جوان نہیں ہو جاتا تم لوگ ملکہ قُتیلہ کی پناہ میں رہو گے۔اور طرفہ کے سردار بننے کے بعد بھی ملکہ قُتیلہ کی تلوار بنو نسر کے دشمنوں کے لیے بے نیام رہے گی۔“
شام تک وہ اپنے ساتھیوں کو دفنانے کے ساتھ بنو نوفل کے مقتولوں کو بھی گھسیٹ گھسیٹ کر خیموں کی حدود سے دور پھینکتے رہے۔
اندھیرا چھانے تک وہ زخمیوں کی مرہم پٹی سے فارغ ہو کر آرام کرنے لیٹ گئے تھے۔
اگلی صبح قُتیلہ اور یشکر نے نجار بن ثابت کو چاندی کے سکوں سے بھرا ایک صندوق انعام دیا تھا۔اس کے علاوہ اہل بنو نوفل کے گھوڑوں کا چوتھا حصہ بھی ان کے حوالے کیا تھا۔بنو احمر کے سواروں کو رخصت کر کے یشکر اور قُتیلہ ڈیڑھ سو افرادکے ہمراہ بنو نوفل کی سرکوبی کے لیے روانہ ہو گئے تھے ،جبکہ بقیہ افرادنے شریم کی زیر نگرانی بنو طرید کا رخ کیا تھا۔
بنو نوفل میں انھیں کسی خاص مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔دو تین درجن افراد کو تہہ تیغ کر کے انھوں نے بنونوفل کو قبضے میں لے لیا تھا۔بنو جساسہ کی عورتیں اور لڑکیاں اپنے لشکر کو دیکھ کر دھاڑیں مار کر رو رہی تھیں۔اتنے عرصے بعد انھیں مہربان چہرے نظر آئے تھے۔
لمحوں ہی میں لونڈیاں مالکن بن گئی تھیں اور ان پر حکم چلانے والیاںلونڈیاں۔ہفتے بھر بعد وہ بنونوفل کے مویشیوں اور سازو سامان کے ساتھ بنو طرید لوٹ آئے تھے۔مال و اسباب کی منصفانہ تقسیم کے بعد اہل بنو جساسہ نے رخصت ہونے کا ارادہ کرلیا تھا۔نصف شب تک وہ جشن مناتے رہے تھے۔
صبح اہل بنو جساسہ کی واپسی تھی۔وہ رات عریسہ اور بادیہ نے قُتیلہ کے ساتھ جاگ کر گزاری تھی۔
صبح عریسہ کو رخصت کرتے ہوئے قُتیلہ آبدیدہ ہو گئی تھی۔
عریسہ شفقت بھرے لہجے میں بولی۔”عریسہ کی جان!میں گاہے گاہے چکر لگاتی رہوں گی،بلکہ وعدہ کرتی ہوں ہر ماہ بعد چند دن اپنی بیٹی کے پاس گزاروں گی۔“
یہاں ان کا جذباتی ملاپ شروع تھا اور وہاں بادیہ ،یشکر کو ایک خیمے کی آڑ میں روکے ترغیب دے رہی تھی۔
”ایک دفعہ بات کر کے تو دیکھیں….“
یشکر بے بسی سے بولا۔”جانتی ہو موت کو آنکھوں کے سامنے دیکھنے کے بعد بھی اس نے یہی اعتراف کیا تھا کہ مجھ سے نفرت کرتی ہے۔“
بادیہ شاکی ہوئی۔”نہیں آپ بس مجھے رشاقہ کی روح کے سامنے شرمندہ کرانا چاہتے ہیں۔اس نے کہا تھا اس کی ملکہ کا خیال رکھوں۔“
یشکر ناراضی سے بولا۔”ٹھیک ہے پھرتم اسی کے پاس رہ جاﺅ۔“
”ایسا میں نے کب کہا ہے۔“بادیہ نے گھبرا کر اس کے سینے پر سر رکھ دیا تھا۔
یشکر نے صاف گوئی سے کہا۔”میں اسے کئی بار پیش کش کر چکا ہوں اور اس خوشی کے موقع پر میں کوئی بد مزگی نہیں چاہتا۔“
بادیہ ہچکچائی۔”میں بات کروں؟“
”تمھاری مرضی،مگر یاد رکھنا اسے لحاظ رکھنا نہیں آتا۔“
”چلیں ،وہ ہمیں ہی دیکھ رہی ہو گی۔“بادیہ ابلق کی لگام پکڑ کر خیمے کی اوٹ سے نکل آئی۔ ان کا قافلہ روانہ ہو چکا تھا۔اور قُتیلہ کی متلاشی نگاہیں بادیہ کو ڈھونڈ رہی تھیں۔
بادیہ کو دیکھتے ہی وہ تیر کی طرح اس کی جانب بڑھی تھی۔”ملکہ قُتیلہ کوملنے کب آﺅ گی۔“بادیہ لپٹاتے ہوئے اس نے بے صبری سے پوچھا تھا۔
بادیہ نے معنی خیز لہجے میں پوچھا۔”کیا میں تمھیں سچ میں پیاری لگتی ہوں۔“
”ملکہ قُتیلہ جھوٹ نہیں بولتی۔“
بادیہ نے فوراََ پیش کش کی۔”تو چلومیرے ساتھ،میں نے یشکر سے منوا لیا ہے وہ تم سے شادی کرنے پر تیار ہے۔“
قُتیلہ کے چہرے پر اذیت بھرا تبسم ا بھرا۔”ملکہ قُتیلہ کو تم سے اس توہین آمیز سلوک کی توقع نہیں تھی۔“
”کک….کیا ہوا؟“بادیہ پریشان ہو گئی تھی۔
”سردار زادی ،ملکہ قُتیلہ کی ایک حیثیت ہے ،ایک شناخت ،پہچان اور قیمت ہے۔ تم نے ملکہ قُتیلہ کو اتنا سستا کر دیا۔اب ملکہ قُتیلہ کسی ایسے کے ساتھ شادی کرے گی جو ملکہ قُتیلہ کے لیے قابل نفرت ہے اور ملکہ قُتیلہ اسے اچھی نہیں لگتی۔“
بادیہ ہکلائی۔”مم….میں تو بس یہ چاہتی تھی کہ ہم دونوں اکٹھے رہیں۔“
”ملکہ قُتیلہ بھی ایسا ہی چاہتی ہے۔اور تم بھی ملکہ قُتیلہ سے چاہت کی دعوے دار ہو تو تم کیوں نہیں یشکر کو چھوڑ دیتیں۔ملکہ قُتیلہ تمھیں بنو طرید کی سردارن بنا دے گی اور خود تمھاری محافظ بن جائے گی۔دونوں ہمیشہ اکٹھی رہیں گی۔“قُتیلہ نے کھلے دل سے پیش کش کی تھی۔
”مگر یہ ایک مصنوعی زندی ہو گی۔مرد و زن ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں۔“
قُتیلہ کے ہونٹوں پر پھیکی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔”آج تم وہی دلیل دے رہی ہو جو کبھی رشاقہ نے دی تھی۔“
بادیہ نے گھبرا کر پوچھا۔”مجھ سے بھی خفا ہو جاﺅ گی۔“
قُتیلہ نے نفی میں سرہلایا۔”رشاقہ کو کھونے کے بعد ملکہ قُتیلہ محتاط ہو گئی ہے۔“
بادیہ کے ہونٹوں پر پھیکا تبسم ابھرا۔”میں اور ماں جی اکٹھے تمھیں ملنے آیا کریں گی۔“
”کوشش کرنا کہ فارسی غلام کو ساتھ نہ لانا۔“چند قدم دور کھڑے یشکر کو قہر آلود نظروں سے دیکھتے ہوئے ،قُتیلہ نے بادیہ کے دونوں گالوں کو چوما اور اپنے خیمے کی طرف مڑ گئی۔
یشکر نے بادیہ کو بازوﺅں میں بھر کرابلق پر سوار کرایا۔عنبر کی موت پر اس نے اپنے لیے ایک دوسرا کمیت پسند کیا تھا۔
”تم جاﺅ میں دو باتیں کر کے آتا ہوں۔“بادیہ کو جانے کا کہہ کر وہ قُتیلہ کے عقب میں بڑھ گیا۔وہ بہ مشکل اپنے تخت تک پہنچ پائی تھی کہ یشکر گلا کھنکارتا ہوا داخل ہوگیا۔
وہ سرعت سے مڑی ،یشکر کو دیکھ کر اس نے کسی خاص ردعمل کا اظہار نہیں کیا تھا۔
یشکر نے بغیر تمہید باندھے مطلب کی بات بیان کی۔”تمھارا شکریہ ادا کرنے آیا تھا۔“
”ہوگیا ادا،اب تم جا سکتے ہو۔“بے نیازی سے کہتے ہوئے اس نے صراحی اٹھائی اور سرخ شراب کی دھار چاندی کا آب خورہ بھرنے لگی۔چاندی کے کافی برتن مخنف بن فدیک کے خزانے میں موجود تھے۔جن میں سے نصف قُتیلہ کے حصے میں آئے تھے۔
”تمھاری وجہ سے بنو جساسہ نے اپنا کھویا ہوا مقام واپس حاصل کیا ہے،ایک مضبوط اور قوی دشمن کا خاتمہ ہوا ہے ،مردوں کو اپنی بیویاں واپس ملی ہیں ،دولت کے انبار اور بہترین پہناوے ہاتھ آئے ہیں ،اہل بنو جساسہ ہمیشہ تمھارے احسان مند رہیں گے۔اور تمھیں ضرورت پڑنے پر دن و رات کو خاطر میں نہیں لائیں گے۔“
”ملکہ قُتیلہ نے یہ سب رشاقہ کے لیے کیا ہے۔اور اگر اس کی وجہ نہ ہوتی ملکہ قُتیلہ تب بھی بنو جساسہ کو مایوس نہ کرتی کیوں کہ بنو طرید تمھارا بھی احسان مند ہے۔باقی اگر تم بنو جساسہ کے سردار نہ ہوتے تو بنو طرید ضرور بنو جساسہ کا حلیف بننا پسند کرتا۔“
”یہ لو….“یشکر نے صاعقہ کی نیام کا تسمہ کمر سے کھول کر تلوار اس کی جانب بڑھائی۔ ”گزشتہ شب سردارزادی کو ایک صندوق زیورات اور دودرجن قیمتی ملبوسات کے عوض میں نے صاعقہ واپس حاصل کر لی ہے۔“
”شکریہ ،ملکہ قُتیلہ جانتی ہے تمھیں سردارزادی بادیہ نے ایسا کرنے کا کہا ہے۔بہ ہرحال اب ملکہ قُتیلہ کو اس کی حاجت نہیں رہی۔“ادھ بھرا آب خورہ حلق میں انڈیل کر وہ دوبارہ صراحی کی طرف مڑ گئی۔
یشکر ہلکی ناراضی سے بولا۔”یقینا تم سردار کے تحفے کو ٹھکرا کر اس کی توہین کر رہی ہو۔“
وہ بے نیازی سے بولی۔”کیوں کہ تم اسی لائق ہو۔“
گہرا سانس لے کر یشکر نے خود کو سنبھالا،صاعقہ کا تسمہ کمر سے باندھ کر وہ دروازے کی طرف چل پڑا۔قُتیلہ پیٹھ موڑے کھڑی رہی۔دروازے پر رکتے ہوئے یشکر نے گردن موڑ کر آخری نگاہ اس پر ڈالی اور باہر نکل گیا۔
شراب کا بھرا ہوا آب خورہ قُتیلہ نے خیمے کی دیوار پر کھینچ مارا اور مضمحل انداز میں بستر پر گر کر کمبل میں رینگ گئی۔دنبالہ آنکھوں میں نمی بھر گئی تھی۔
٭٭٭
مہینا بھر لگا کر انھوں نے بنو جساسہ کی تباہ شدہ عمارتوں کو دوبارہ تعمیر کر لیا تھا۔بنو نوفل کی تباہی کی خبر نے دوسرے قبائل کو انگشت بدنداں کر دیا تھا۔بنو جساسہ میں مردوں کے مقابلے میں عورتوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ہر مرد نے چار ،پانچ پانچ شادیاں کر رکھی تھیں۔بنو جساسہ کی اپنی عورتیں واپس حاصل کرنے کے ساتھ بنو نوفل کی بھی سیکڑوں لڑکیاں اور عورتیں ان کے ہاتھ آئی تھیں۔شاید یشکر وہ واحد مرد تھا جو اکیلی بیوی پر اکتفا کیے بیٹھا تھا۔دوسری شادی تو چھوڑواس نے کوئی لونڈی پاس رکھنے میں بھی دلچسپی ظاہر نہیں کی تھی۔
عریسہ کا زیادہ وقت بادیہ کے پاس ہی گزرتا تھا۔وہ اسے قُتیلہ کی طرح ہی پیاری تھی۔ایک شب وہ قُتیلہ کے پاس جانے کا منصوبہ بنا رہی تھیں جب یشکر دروازہ کھٹکھٹاتا حجرے میں داخل ہوا۔ دونوں ایک ہی کمبل اوڑھے زور و شور سے گفتگو میں مصروف تھیں۔
عریسہ پر شفقت لہجے میں بولی۔”آﺅ بیٹا!تمھیں ہی یاد کر رہی تھیں۔“
یشکر شوخ لہجے میں بولا۔”مجھے یا اپنی ملکہ بیٹی کو۔“
عریسہ متبسم ہوئی۔”تمھیں ،کیوں کہ بنو طرید تک ہمیں تم ہی چھوڑ کر آﺅ گے۔“
”ناں بھئی۔“یشکر نے کانوں کو ہاتھ لگایا۔”اس گھمنڈن کی بکواس سننے کا حوصلہ نہیں ہے۔“
”تم میری بیٹی کی توہین کر رہے ہو۔“عریسہ شاکی ہوئی۔
”ماں جی !سچ کہہ رہا ہوں ،اس نے مجھے دیکھتے ہی تلوار سونت لینا ہے۔“
عریسہ نے قہقہ لگایا۔”سچ تو یہ ہے کہ میری ملکہ بیٹی بہت بہادر اور نڈر ہے۔“
یشکر طنزیہ انداز میں بولا۔”ہاں ،بس پانی سے ڈرتی ہے۔“
”پانی سے ڈرتی ہے ؟“عریسہ کے لہجے میں حیرانی تھی۔”کیا بات کر رہے ہو بیٹا! اس جیسا اچھا تیراک تو شاید ہی صحرائے اعظم میں ہو۔“
”اچھا تیراک….“اب حیران ہونے کی باری یشکر کی تھی۔
”بالکل۔“عریسہ نے اعتماد سے گردن ہلائی۔”دس بارہ سال کی عمر میں وادی میں گزرنے والے سیل کو تیر کر عبور کر لیتی تھی ایسا سیل جو کہ بڑی بڑی چٹانوں کو خاطر میں نہیں لاتا۔اس کا باپ جبلہ بنو نسر کا واحد شخص تھا جو اس سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ کرتا۔مگر اکثر ہار جاتاتھا۔“
یشکر بے یقینی سے بولا۔”سنی سنائی بات کر رہی ہیں ماں جی!“
عریسہ نے نفی میں سرہلایا۔”آنکھوں دیکھا حال بتا رہی ہوں بیٹا۔“
بادیہ جھرجھری لیتے ہوئے بولی۔”قسم سے میں تو پانی سے اتنا زیادہ ڈرتی ہوں۔چھوٹے سے جوہڑ کو بھی دیکھ لوں تولگتا ہے ڈوب جاﺅں گی۔“
”تمھیں کس چیز سے ڈر نہیں لگتا۔“یشکر نے اسے چھیڑا۔
”صرف اپنے سردار سے۔“بادیہ نے قریب ہو کر اس کے کندھے پر سر ٹیک دیا۔
یشکر، عریسہ کو مخاطب ہوا۔”ٹھیک ہے ماں جی !چند دن ٹھہر جائیں پھر میں آپ دونوں کو بنو طرید لے جاﺅں گا۔“
”تم لوگ آرام کرو بیٹا!“اثبات میں سر ہلاتے ہوئے عریسہ حجرے سے باہر نکل گئی تھی۔
رات گئے یشکر ،بادیہ کی زلفوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔”سردارزادی !کیا تم دل سے چاہتی ہو کہ میں قُتیلہ کو تمھاری سوکن بنا لوں۔“
بادیہ نے منھ بنایا۔”وہ کب مانے گی؟“
یشکر نے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔”تمھاری مرضی پوچھی ہے۔“
بادیہ اداسی سے بولی۔”تین بار رشاقہ کو خواب میں دیکھا ہے ،خفا تھی۔میری کسی بات کا جواب نہیں دے رہی تھی۔“
یشکر نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔”صبح صادق کے وقت میں بنو طرید کے لیے نکل جاﺅں گا۔“
”مگر……..“بادیہ نے اعتراض کرنا چاہا۔
یشکر نے قطع کلامی کرتے ہوئے انکشاف کیا۔”فکر نہ کرو سردارزادی !وہ بھی ایسا ہی چاہتی ہے۔“
بادیہ نے منھ بنایا۔”پہلے توآپ کچھ اور کہتے تھے۔“
”بہت گہری ہے ،اتنی آسانی سے تھوڑا اس کی سوچوں تک رسائی ہو سکتی تھی۔“
بادیہ مصر ہوئی۔”بتاﺅ ناں تمھیں کیسے اندازہ ہوا؟“
”وہ تمھاری پیاری سہیلی ہے ناں ؟“یشکر نے تصدیق چاہی۔
”بے شک۔“بادیہ نے دعوا کیا۔
یشکر ہنسا۔”تو اسی سے پوچھ لینا۔میں کیوں کسی کا راز فاش کروں۔“
بادیہ نے منھ بنایا”دیکھ لو ،میری سوکن آئی نہیں اورآپ پہلے سے اپنی سردارزادی سے باتیں چھپانے لگے۔“
یشکر سرعت سے بولا۔”یہ میرا راز نہیں ہے سردارزادی!میری زندگی تو تمھارے سامنے کھلی ہتھیلی کی طرح ہے۔“
”اب تک اپنی سردارزادی سے ڈرتے ہو۔“ناز بھرے انداز میں کہتے ہوئے بادیہ نے اس کی چھاتی پر سر رکھ دیا تھا۔
٭٭٭
”بلایا تھا ملکہ !“منقر اجازت مانگ کر خیمے میں داخل ہوا۔
”بیٹھو۔“قُتیلہ نے ذرا سا کھسک کر اسے تخت پر بیٹھنے کی دعوت دی۔ شراب کا بھرا آب خورہ تھامے وہ کسی گہری سوچ میں گم نظر آتی تھی۔
”حکم کریں ملکہ !“منقر نے بیٹھنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
”ایک بات پوچھوں چچا منقر!“
”اجازت کی ضرورت نہیں تھی۔“
”کیا واقعی عورت مرد سے پہلے بوڑھی ہو جاتی ہے۔“
”سنا تو یہی ہے ،مگر تمھیں کیوں فکر لگ گئی۔“
”جب ملکہ قُتیلہ کمزور ہو جائے گی تو تم دوسرا سردار ڈھونڈ لو گے ہے نا۔“
”یہ کس نے کہا کہ ملکہ قُتیلہ صرف اچھی شمشیر زن ہے۔“
”تو ملکہ قُتیلہ کیا ہے؟“
منقر بن اسقح قطعیت سے بولا۔”ملکہ قُتیلہ بہت اچھی سردار ن ہے اور پھراچھی شمشیرزن ہے۔“
”ملکہ قُتیلہ ،بنو طرید کی سرداری تمھارے حوالے کرنا چاہتی ہے۔بنو نسر کی دیکھ بھال بھی تمھاری ذمہ داری ہو گی۔“قُتیلہ نے عام سے لہجے میں بہت بڑی بات کی تھی۔
”کک….کیا کہہ رہی ہیں ملکہ۔“منقر ہکلا گیا تھا۔
وہ اطمینان سے بولی۔”وہی جو سن رہے ہو۔“
منقر پریشانی سے بولا۔”سن تو رہا ہوں مگر سمجھ میں کچھ نہیں آرہا۔“
”ملکہ قُتیلہ ،دنیا کی سیر کو جانا چاہتی ہے منقر چچا!دیکھنا چاہتی ہے صحرائے اعظم سے باہر کیا ہے۔“
”اصل بات کچھ اور ہے ملکہ بیٹی!“منقر نے بیٹھتے ہوئے شفقت بھرے انداز میں اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیاتھا۔
”ملکہ قُتیلہ ،سرداری پا کر بھی خوش نہیں ہے منقر چچا!کوئی تو ایسی کمی ہے جو ملکہ قُتیلہ کو سکون لینے نہیں دے رہی۔“
منقر اسے سمجھاتے ہوئے بولا۔” یکسانیت سے اکتا گئی ہوملکہ بیٹی!ورنہ کیا کمی ہو سکتی ہے۔ بنو طرید کے لوگ تمھاری کی عزت کرتے ہیں،قدر کرتے ہیں،حکم کی تعمیل پر کمر بستہ رہتے ہیں۔اور کیا چاہیے؟“
وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی۔” کوئی چاہنے والا بھی تو ہو،کوئی ایسا جس کے لوٹنے کا ملکہ قُتیلہ انتظار کیا کرے ، جس کے زانو پر سر رکھ کر لیٹ سکے کہ اب اماں جان کے زانو پر سر رکھنے کو دل نہیں کرتا۔کوئی ایسا جو ملکہ قُتیلہ کی تلوار سے نہیں ناراضی سے خوف کھائے۔ملکہ قُتیلہ روٹھے تو پریشان ہو جائے۔منتیں کر کے منائے، وہ ملکہ قُتیلہ سے اچھا شمشیر زن ہو ،ملکہ قُتیلہ سے زیادہ بہادر ہو۔ کوئی ایساہے تمھاری نظرمیں ؟“
منقرنے جچے تلے لہجے میں پوچھا۔”شاید تمھیں سرداریشکر سے محبت ہو گئی ہے؟“
”یہ معنی نہیں رکھتا چچا!سوال یہ ہے کیا اسے ملکہ قُتیلہ سے محبت ہے؟“
”تمھاری صورت اتنی پیاری ہے کہ کوئی بھی مرد محبت کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔
””اسے محبت نہیں حسن پرستی کہیں گے چچا ! کوئی بھی حسین لڑکی مرد کو نظر آجائے تو وہ رال ٹپکانے لگتا ہے۔ایسی محبت ملکہ قُتیلہ کو نہیں چاہیے۔“
منقر الجھن آمیز لہجے میں بولا۔”تم کبھی اظہار کر کے تو دیکھتیں۔“
”ملکہ قُتیلہ کو بھیک مانگنے کی عادت نہیں ہے۔جوچاہیے ہوتا ہے ملکہ قُتیلہ چھین لیا کرتی ہے۔ اور محبت بھیک تو نہیں کہ مانگے سے مل جائے، نہ دھن دولت ہے کہ چھین لی جائے ،محبت تو محبت ہے۔ یا ہوتی ہے یا نہیں ہوتی۔“
”میں نہیں مانتا کہ تم کسی کو گھور کر دیکھو اور اسے محبت نہ ہو۔“
اس کے ہونٹوں پر پھیکی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔”اماں جان بھی یہی کہتی تھیں کہ ملکہ قُتیلہ جس کی طرف نگاہیں اٹھائے گی وہ ملکہ قُتیلہ کا اسیر ہو جائے گا اور جو ملکہ قُتیلہ کو ایک بار گلے سے لگا لے گا اسے ملکہ قُتیلہ کے سوا سب کچھ بھول جائے گا۔مگر ایسا نہیں ہے چچا!ملکہ قُتیلہ نے ان آنکھوں کو بہت دفعہ آزمایا پراسے اسیر نہ کر سکی۔اس سے لپٹ کر اپنے بدن سے روشناس کرایا، پر اس نے ملکہ قُتیلہ کو پرے دھکیل دیا۔ملکہ قُتیلہ نے اسے کئی بار کریدا مگر ہر دفعہ مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔“
منقر شفقت بھرے انداز میں بولا۔”ایسا نہیں ہے بیٹی!اس نے کئی بار تمھاری جان بچائی۔خود کو مشکل میں ڈالا……..“
قُتیلہ قطع کلامی کرتے ہوئے چلائی۔”اس لیے کہ ملکہ قُتیلہ کی صورت اس کی سردار زادی جیسی ہے اور بس۔جانتے ہیں،بنو احمر میں جب وہ ملکہ قُتیلہ کی مدد کو آیا تو واپسی پر قُتیلہ خود کو بے سدھ ظاہر کرتے ہوئے اس سے لپٹی رہی مگر اسے کوئی پروا نہیں تھی۔جب اس نے گھوڑے سے اتاراتو ملکہ قُتیلہ نے اسے جھوٹ موٹ مطعون کیا کہ شاید اعتراف سننے کو ملے۔کم بخت کہنے لگا، کوئی دوسرا بھی ملکہ قُتیلہ کو دیکھ لیتا تو اس کی جان بچا لیتا اور ملکہ قُتیلہ کی جگہ کوئی اور سردار ہوتا تو وہ اس کی جان بھی ایسے ہی بچاتا۔“گہرا سانس لیتے ہوئے وہ شاکی ہوئی۔” ایسے کہا جاتا ہے،کیا یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ مجبور تھا اس لیے ملکہ قُتیلہ کے پیچھے پیچھے چلتا رہا ، موت آجاتی جو کہہ دیتا کہ ملکہ قُتیلہ کومرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا۔اور پھر ملکہ قُتیلہ نے اسے سب سے علاحدہ لے جا کر بھی یہ بحث چھیڑی تھی۔اگر محبت ہوتی تو اس وقت اقرار کر لیتا۔نہیں تھی ناں، بس بادیہ…. بادیہ اور بادیہ۔ کیا ملکہ قُتیلہ کا کوئی وجود نہیں ہے۔ملکہ قُتیلہ میں بھی تو ایسی خوبیاں ہیں جو سردارزادی بادیہ میں نہیں ہیں۔اور….اورپتا ہے کیا کہتا تھا۔میری بادیہ تم سے خوب صورت ہے ، اس کی رنگت صاف ہے ، اس کا جسم ملائم اور فربہ ہے۔چچا !بتاﺅ کیا ملکہ قُتیلہ تھوڑا عرصہ خیمے میں بیٹھ جائے تو اس کا رنگ صاف نہیں ہوجائے گا۔اگر مشق کر نا چھوڑ دے توکیا فربہ نہیں ہو جائے گی۔ اس کے منھ میں جب مذاق میں بھی ایسی بات نکلتی ملکہ قُتیلہ اسے فوراََ کریدنے لگتی کہ کبھی تو غلطی ہی سے اعتراف کر لے تاکہ ملکہ قُتیلہ کی انا ذبح ہونے سے بچ جائے۔ملکہ قُتیلہ جانتی ہے اس نے ملکہ قُتیلہ کو اہمیت دی ہے لیکن ایسی اہمیت جیسی قریبی دوست کو دی جاتی ہے ، ایسی اہمیت جیسے اسے دی جاتی ہے جس سے کوئی غرض ہو۔“اس کی آواز بھرانے لگی۔
منقر اسے تسلی دیتے ہوئے بولا۔”تم خود ہی ہمیشہ اظہار نفرت پر تلی رہیں۔“
وہ دکھی دل سے بولی۔”ملکہ قُتیلہ نے کہا تم سے نفرت ہے اور اس نے اعتبار کر لیا۔اگر محبت کرتا تو الفاظ کے بجائے احساسات پر یقین رکھتا۔ ملکہ قُتیلہ کی آنکھیں پڑھتا،کیا کہہ رہی ہیں۔ملکہ قُتیلہ کے دل کی دھڑکنوں کو سنتا، کیا الاپ رہی ہیں۔ملکہ قُتیلہ کے افعال کو پرکھتا کہ کیسے اس کی قربت کے متمنی رہتے ہیں۔“
منقر دھیرے سے بولا۔”کبھی کبھی زبان کی سن کر یقین کرنا پڑتا ہے ۔“
”سردارزادی بادیہ بھی تو اس سے نفرت ظاہر کرتی تھی،اس سے کیوں عشق لڑایا۔اس کی خاطر تو بنو جساسہ کی سلامتی کو داﺅ پر لگا دیا،فارس کو چھوڑ دیا،خود موت کے منھ میں پہنچ گیا۔ملکہ قُتیلہ شکل بھی تو اس جیسی ہے۔ملکہ قُتیلہ کو کیوں نہیں اہمیت دی۔اور ملکہ قُتیلہ نے اس کے لیے کیا کچھ نہیں کیا۔یہاں تک کہ باباجان کے قتل کا بدلہ لینے گئی اور لڑائی ختم کرنے کے لیے جیت اس کی جھولی میں ڈال دی۔چچا! ملکہ قُتیلہ کا یقین کریں ،ملکہ قُتیلہ ہاری نہیں تھی، بس دل ہار گئی تھی۔“
منقر نے اس کی ذہنی رو بٹائی۔”تمھیں تو سردارزادی بادیہ بھی بہت پیاری ہے۔“
”بلا شبہ ہے،مگر جس کم بخت کو ملکہ قُتیلہ پیار کرے وہ اسی ظالم کی اسیر نکلتی ہے۔“
”بنو طرید میں کئی ایسے جوان موجود ہیں جو ملکہ قُتیلہ کی توقعات پر پورے اتر سکتے ہیں۔“
”اس جیسا ایک بھی ہوتا تو ملکہ قُتیلہ تمھارے سامنے نہ رو رہی ہوتی۔“
”اب کیا چاہتی ہو؟“منقر کو وہ بحث ختم ہوتی نظر نہیں آرہی تھی۔قُتیلہ جیسی سردارن سے وہ ایسے بچپنے کی توقع نہیں کر رہا تھا۔وہ تو انوکھی ،حیران کن اور بے نظیر تھی۔انھیں لگتا تھا کہ اس کے سینے میں دل تھا ہی نہیں۔کیوں کہ وہ ہمیشہ جذبات میں آئے بغیر فیصلہ کیا کرتی تھی۔اور آج منقر کوعام سے لڑکی لگ رہی تھی۔خفا خفا،اپنے محبوب سے شاکی،محبت کی طلب گار،تعریفیں سننے کی متمنی،مضبوط بانہوں کی متلاشی،چاہے جانے کی خواہش مند، منظور نظر بننے پر کمر بستہ،روٹھنے منانے کی شوقین اور شادی کے لیے تیار۔ ایک عام سی الھڑ دوشیزہ جو جوانی کی سیڑھی پر قدم رکھتے ہی ایک شہزادے کے خواب دیکھنے لگتی ہے۔
وہ پھیکی مسکراہٹ سے بولی۔”ملکہ قُتیلہ ،کسی فارسی غلام جیسے کی تلاش میں جابلسا سے جا بلقا تک کو کھوجنا چاہتی ہے۔اگر مل گیا تو لوٹ آئے گی۔نہ لوٹی تو سمجھ جانا نہیں ملا۔“(جَابلسا،مغرب کی جانب دنیا کی آخری مفروضہ حد اور مفروضہ شہر کا نام۔جبکہ جا بلقا،مشرق کی جانب دنیا کی آخری مفروضہ حد اور مفروضہ شہر کا نام )
منقر مایوسی سے بولا۔”ملکہ قُتیلہ کے بعد بنو طرید کو بکھرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔“
”فارسی غلام روک سکتا ہے،تم تمام قبیلے کو بنو جساسہ میں ضم کر لینا۔بنو نسر کے باسیوں کو بھی ساتھ رکھنا۔جب طرفہ بن جبلہ جوان ہوجائے توبنو نسر کی سرداری حوالے کر کے اس کی رسی اس کی گردن پر ڈال دینا۔“(مطلب اسے مرضی کرنے کے لیے چھوڑ دینا۔عرب کہتے اس کی رسی اس کی گردن پر یا اونٹ کی رسی اونٹ کی گردن پر ڈال دی۔مطلب اب جو مرضی آئے کرے)
منقر ملتجی ہوا۔”رکنے کی کوئی صورت؟“
”کل کاطلوع آفتاب ملکہ قُتیلہ رستے میں دیکھے گی۔ماں جی اور بادیہ سے الوداعی ملاقات کر کے ملکہ قُتیلہ اپنے مقصد کی تلاش میں نکل کھڑی ہو گئی۔تم ملکان ،امریل ،اقرم ،اصرم وغیرہ کو اعتماد میں لے کر تمام صورت حال سے آگاہ کر دینا۔اگر وہ بنو جساسہ کے ساتھ ضم نہ ہونا چاہیں تو مجبور نہ کرنا۔اور مشورے سے بنو طرید کے سردار کا انتخاب کر لینا۔“
منقر دکھی دل سے بولا۔”ایک بار پھر سوچ لو ملکہ!“
وہ قطعیت سے بولی۔”ملکہ قُتیلہ کا خیمہ اور سامان ،سردارزادی بادیہ کے پاس بھجوا دینا۔ اور اب ملکہ قُتیلہ آرام کرنا چاہتی ہے۔“
منقر مضمحل قدموں سے چلتے ہوئے خیمے سے نکل گیا۔
اگلی صبح دل میں امید کی شمع جلائے وہ قُتیلہ کے خیمے پاس پہنچا۔مگر مکین کو رخصت ہوئے کافی دیر ہو چکی تھی۔نمی کے دو قطرے اس کے گالوں پر لڑھکے اور وہ اپنے خیمے کی طرف لوٹ گیا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: