Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 65

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 65

–**–**–

یشکر کی روانگی کے بارے صرف بادیہ کو معلوم تھا۔طلوع آفتاب سے پہلے اس نے بنو جساسہ کو خیر باد کہا تھا۔بنو جساسہ سے نکلتے ہی کمیت ہوا سے باتیں کرنے لگا۔وہ شام تک بنو طرید پہنچ جانا چاہتا تھا۔موسم ٹھنڈا تھا۔اور ایسے موسم میں بغیر رکے سارا دن سفر کرنا مشکل نہیں تھا۔
سورج نصف النہار پر تھا جب اس کی نگاہیں کسی مناسب جگہ کی متلاشی ہوئیں تاکہ آرام سے بیٹھ کر کھانا کھاسکے۔تبھی اس کی نظریں دو تین غلوے دور ایک گھڑ سوار پر پڑیں۔رکنے کا ارادہ موّخر کرتے ہی وہ اس کی طرف بڑھ گیا تھا۔فاصلہ جب پہچان کی حد تک سمٹا تو اس کا دل خوش گوار انداز میں دھڑکنے لگاتھا۔مشکی گھوڑے اور اس پر سوار انوکھی حسینہ کی دید اسے حیران کر گئی تھی۔قُتیلہ نے بھی اسے پہچان لیا تھا۔دونوں نے چند قدم کا فاصلہ رکھتے ہوئے لگام کھینچ لی تھی۔
چند لمحے ایک دوسرے کو گھورتے ہوئے وہ خاموش بیٹھے رہے۔گفتگو کی ابتداءقُتیلہ نے کی تھی۔
”فارسی غلام! تمھارے گھوڑے کا رخ بنو طرید کی جانب لگ رہا ہے۔“
یشکر نے نیچے چھلانگ لگائی۔”ہاں ،ایک الجھن سلجھانا تھی۔“
”ملکہ قُتیلہ کو دیر ہورہی ہے۔“اس کی الجھن سنے بغیر قُتیلہ نے مشکی کو ایڑ لگانا چاہی۔
یشکر سرعت سے بولا۔”میں تم سے ملنے جا رہا تھا۔“
اس نے بے نیازی سے کہا۔”ملکہ قُتیلہ اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتی۔“
”مگر تم میری بات سنے بغیر نہیں جا سکتیں۔“
”زبردستی ہے کیا؟“
یشکر اسے للکارتا ہوابولا۔”ہاں ،ہمارے درمیان مقابلہ رہتا ہے۔“
”ملکہ قُتیلہ کے پاس وقت نہیں ہے۔“
”ڈر گئیں، جانتا تھاتم یشکر سے ٹکر نہیں لے سکتیں۔“
لگام کھینچتے ہوئے اس نے نیچے چھلانگ لگا۔”یاد رکھنا ،ملکہ قُتیلہ تمھاری لاش بنوجساسہ نہیں پہنچائے گی۔“کندھے سے لٹکی ڈھال اتار کر اس نے تلوار بے نیام کی۔
”مجھے ایک سوال کا جواب چاہیے۔“تلوار نکالے بغیر یشکر اس کے قریب ہوا۔
وہ درشتی سے بولی۔”جو بکواس کی ہے اس پر آﺅ۔“
”مجھے صرف ایک سوال کا جواب چاہیے،اس کے بعد تم جہاں چاہے دفع ہو جانا۔“
”ملکہ قُتیلہ کسی کو جواب دینے کی پابند نہیں ہے۔“
یشکر لجاجت سے بولا۔”اپنے لشکر کی مدد پہنچنے سے پہلے تم کوئی اعتراف کرنا چاہتی تھیں، میں بس وہی سننے آیا ہوں۔“
وہ منھ بناتے ہوئے بولی۔”ملکہ قُتیلہ نے اسی وقت بتا دیا تھا۔“
”اہومزدا کی قسم ،تم جانتی ہو تم جھوٹ بول رہی ہو۔“
قُتیلہ نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔”لڑنے کی حسرت پوری کرنا ہے یا ملکہ قُتیلہ اپنی راہ لے۔“
یشکر دھاڑا۔”تمھیں بتانا پڑے گا۔“
”ہمت ہے تو اگلوا لو۔“نفرت سے ایک جانب تھوکتے ہوئے وہ مشکی کی طرف بڑھی۔
یشکر نے ایک دم انکشاف کیا۔”مجھے معلوم ہو گیا ہے تم تیرنا جانتی ہو۔“
قُتیلہ کے قدم زمین میں گڑگئے تھے۔تلوار اور ڈھال اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گریں، وہ اپنی جگہ بے حس و حرکت کھڑی رہ گئی تھی۔ یشکر ہمت کرتے ہوئے قریب ہوا۔
”اہور مزدا کی قسم، آج تک معلوم نہ ہو سکا مجھے تم زیادہ پیاری ہو یا بادیہ۔البتہ ایک بات میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تم بادیہ سے کئی گنا زیادہ با صلاحیت ہو۔اورمیں نے کبھی تمھاری مدد اس لیے نہیں کہ تم بادیہ کی ہم شکل ہو۔سچ سننا چاہتی ہو تو اعتراف کرتا ہوں کہ تمھیں باصلاحیت جاننے کے باوجود تم پر نظر رکھے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ مجھے لگتا تھا تمھیں کچھ ہو گیا تو میرے غم کا مداوا نہیں ہو سکے گا۔اور یہ بھی حقیقت ہے کہ میں نے رشاقہ سے شادی تمھیں تکلیف پہنچانے کے لیے نہیں اس لالچ میں کی تھی کہ شاید اس بہانے تم مجھے قبول کر لو۔کئی بار مقابلہ کر کے تمھیں جیتنے کا ارادہ کیا مگر پھر تمھاری نفرت سے ڈر گیا۔میں ہمیشہ یہی سمجھتا رہا کہ تم مجھ سے نفرت کرتی ہو۔اگر ذرا سی بھی امید ہوتی توجان دے کر بھی تمھیں حاصل کرنے کی کوشش کرتا۔غلط فہمی میں رہا،مجھے معاف کر دو میری ملکہ قُتیلہ۔“یشکر نے اس کی ٹھوڑی اوپر اٹھائی۔دُنبالہ آنکھیں جھیل کا منظر پیش کر رہی تھیں۔
”تم کہتی تھیں ناں کہ: تمھیں پھانسنے کی کوشش کرتا ہوں ،ورغلانے کی کوشش کرتا ہوں ، ڈورے ڈالتا ہوں ، چھیڑتاہوں ،تمھیں نسوانی لباس میں دیکھنے کاخواہش مند ہوں، تمھارے سجنے سنورنے کا شائق ہوں،تمھارے بغیر رہ نہیں سکتا،تمھیں دیکھ کر خود پر قابو نہیں رکھ سکتا۔ دُنبالہ آنکھوں کی قسم یہ سچ ہے ،تمھارے روشن چہرے کی قسم اس میں ذرا بھر شبہ نہیں۔“
وہ پلکوں کی چلمن گرائے بے حس و حرکت کھڑی رہی۔آنکھوں کا جھرناپھوٹ پڑا تھا۔نجانے دکھ تھاشکر گزاری تھی یا خوشی کا احساس تھا۔ہمت کرتے ہوئے یشکرکے ہونٹ دنبالہ آنکھوں کی طرف بڑھے۔نمکین پانی کا ذائقہ چکھتے ہوئے وہ دھیرے سے بولا۔”میرا قصور ،میری غلطی،میری نالائقی کہ تمھیں بتا نہ سکا۔تم میری ملکہ ہو تب سے جب پہلی بار تمھیں دیکھا تھا۔“
”تم ملکہ قُتیلہ کو ملکہ قُتیلہ نہیں کہتے تھے۔“یشکر کی جسارت پر ناک بھوں چڑھائے بغیر اس نے سینے میں مقید شکووں کو آزاد کرنے کا آغاز کیا۔
”ہاں ۔“یشکر نے اثبات میں سر ہلایا۔”مگر اپنی ملکہ سمجھتا ضرور تھا۔“
”تم نے ملکہ قُتیلہ کو پانی میں خود سے دور دھکیلاتھا۔“
” تمھاری قربت نے میرے حواس چھین لیے تھے۔اگر دور نہ دھکیلتا تو دونوں ڈوب جاتے۔کیوں کہ میں سمجھ رہا تھا تمھیں تیرنا نہیں آتا۔“
”تم نے کئی بار ملکہ قُتیلہ کو سوکھا سڑا،جھگڑالو اوربدمزاج کہا۔“شکایتوں کا پٹارا اور گِلوں کا طومارکھل گیا تھا۔قُتیلہ اپنی صنف کی اچھی نمائندگی کر رہی تھی۔
”اگر اس وقت میری ملکہ میرے دل کی سنتی تو معلوم ہوتا کہ کس ڈھٹائی سے جھوٹ بول رہا ہوں۔“
اس نے منھ بسورا۔” ملکہ قُتیلہ کے سرخ شراب کی چھاگل پینے پر تم نے طعنے دیے تھے۔“
”صرف چھیڑ رہا تھا۔ورنہ ملکہ قُتیلہ کے حوالے پوری چھاگل کرنے کی وجہ فقط یہی تھی کہ وہ تمام شراب میری ملکہ کے لیے تھی۔“
”ملکہ قُتیلہ کی پیش کی ہوئی کلیجی بھی تم نے ٹھکرا دی تھی۔“گلے ،شکوے دھاگا ٹوٹی مالا کے دانوں کی طرح تسلسل سے گرنے لگے۔
یشکر وارفتگی سے بولا۔”کیسے کھا سکتا تھا جبکہ جانتا تھا ہرن کی کلیجی میری ملکہ قُتیلہ کا پسندیدہ کھاجا ہے۔“
اگلا شکوہ ظاہر ہوا۔”تم نے ملکہ قُتیلہ کی گردن پر تلوار رکھی تھی۔“
صفائی پیش ہوئی۔” کیوں کہ ملکہ قُتیلہ ایسا ہی چاہتی تھی۔“
”تم نے ملکہ قُتیلہ کو اناڑی کہا تھا۔“
”مذاق میں کہا تھا ،معاف کردو۔“
اس نے منھ بسورا۔”تم نے رشاقہ کو ملکہ قُتیلہ سے چھینا۔“
”وجہ بتا چکا ہوں۔“
”تم نے کہا تھا ملکہ قُتیلہ پر تھوکتے بھی نہیں ہو۔“
یشکر کا قہقہ بلند ہوا۔”سچ کہا تھا،کس کی جرّات کہ میری ملکہ پر تھوکے۔“
”جب موت کو گلے لگانے والے تھے تب بھی تم نے واضح انداز میں کہا تھا کہ ملکہ قُتیلہ کو ضدی، ہٹ دھرم اور گھمنڈی سمجھتے ہو۔“شکوﺅں کی برسات جاری رہی۔
”اپنی سپاہ کو دیکھ لیا تھا۔اورتب تم نے بھی تو کہا تھا مجھ جیسا قابل نفرت اور کوئی نہیں ہے۔“
وہ لاڈ بھری ہٹ دھرمی سے بولی۔”ملکہ قُتیلہ اب بھی کہے گی۔“
یشکر وارفتگی سے بولا۔”ہمیشہ کہتی رہے ،مگر میرے پاس رہ کر۔اور یاد ہے تم نے آخری وقت میں پیش کش کی تھی کہ میں مرنے سے پہلے تمھیں گلے سے لگانے کی حسرت پوری کر سکتا ہوں اور بوسا بھی دے سکتا ہوں۔“
”نہیں جی،ملکہ قُتیلہ نے ایسا کچھ بھی نہیں کہا تھا۔“وہ شرما گئی تھی۔
”سچ میں۔“یشکر کے بازوﺅں نے اس کے گرد گھیرامکمل کیا۔قُتیلہ نے سر اس کی فراخ چھاتی پر ٹیک دیا تھا۔ان کی زبانیں گنگ ہو گئی تھیں ،نہ جانے کتنی دیر گزر گئی تھی۔
کالی زلفوں کی مہک لیتے ہوئے یشکر نے پوچھا۔”جانتی ہو مجھے اپنی ملکہ کی کون سی بات سب سے اچھی لگتی ہے۔“
قُتیلہ نے چہرے کو اس کی چھاتی پر رگڑالیکن کچھ بولا نہیں تھا۔
اس کی خاموشی کو استفسار جانتے ہوئے وہ دھیرے سے بولا۔”تمام باتیں ،سب عادتیں ، سارے انداز۔اہورمزاد کی قسم تم میں کچھ بھی برا نہیں لگتا۔“
”کیوں ….؟“ بہت دور سے آواز آئی تھی۔
یشکر وارفتگی سے بولا۔”کیوں کہ تم میں کچھ بھی برا نہیں ہے۔“
قُتیلہ نے ہلکے سے کسمسا کر سر کو دھیرے سے اوپر اٹھایا۔دنبالہ آنکھوں میں وارفتگی کے دیپ جل رہے تھے۔
”اگر یہ سپنا ہے تو ملکہ قُتیلہ جگانے والے کی گردن اتار دے گی۔“
یشکر نے بازوﺅں کے گھیرے کو مزید تنگ کیا۔”اور اگر یہ حقیقت نہ ہوئی تو یشکر اپنی جان لے لے گا۔“
نقرئی قہقہ گونجا۔”بزدل فارسی۔“
”میری ملکہ کہاں جا رہی تھی۔“یشکر اسے ساتھ لیے نیچے بیٹھ گیاتھا۔
وہ صاف گوئی سے بولی۔”فارسی جیسا دھونڈنے۔“
مجھے ….یا میرے جیسا؟“یشکر حیران رہ گیا تھا۔
”تم سے تو ملکہ قُتیلہ نفرت کرتی ہے نا۔“منھ بناتے ہوئے وہ اس کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی تھی۔
یشکر نے سیاہ گھنی زلفوں کو قساوا کی قید سے آزاد کیا۔”سچ میں۔“وہ جھک کر دُنبالہ آنکھوں میں جھانکنے لگا۔
”ملکہ قُتیلہ کو بھوک لگی ہے۔“
”سردارزادی نے حریسہ بنا کر دیا تھا،اجازت ہو تو خرجی سے نکال لاﺅں۔“(گوشت، گیہو ں اور گھی وغیرہ سے تیار کیا ہوا ایک پکوان)
” سر کوزانو سے ہٹایا تو ملکہ قُتیلہ کی تلوار تمھاری گردن ناپنے میں ایک لمحہ ضائع نہیں کرے گی۔“
یشکر صاف گوئی سے بولا۔”ڈرفقط ملکہ کی ناراضی سے لگتا ہے۔“
وہ ہنسی۔”تو ملکہ قُتیلہ تمھاری گردن اتار کر ناراض بھی ہوجائے گی۔“
”ایک ساتھ دو دو دھمکیاں۔“مسمسی صورت بناتے ہوئے یشکر نے اس کے کندھوں و گھٹنوں میں ہاتھ ڈال کر بازوﺅں میں بھرا اور گھوڑے کی طرف بڑھ گیا۔اسے یوں خرجی سے توشہ دان اور مشکیزہ نکالتے دیکھ کر قُتیلہ کی نقرئی ہنسی سے ماحول گونج اٹھا تھا۔
”ملکہ قُتیلہ فارسی کو بزدل کہتی تھی ،آج ثابت بھی ہو گیا۔“
”بزدل کہلانا قبول ہے ،اپنی ملکہ کی ناراضی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔“ یشکر نے دوبارہ اس کا سر زانو پر رکھا اور توشہ دان کھول کر اسے حریسہ کھلانے لگا۔
نجانے کتنی دیر گزر گئی ،وقت کا شمار انھیں بھول گیا تھا۔سائے پھیلنے لگے ،یہاں تک کہ سورج نے سنہری لباس اتار کر سرخ جامہ زیبِ تن کیا۔تبھی یشکر کی سرگوشی گونجی۔
”اگر اجازت ہو تو تھوڑی لکڑیاں اکھٹی کر لوں ،یہ نہ ہو رات کو ملکہ قُتیلہ کو سردی لگے۔“
اس کی گود سے سر اٹھاتے ہوئے وہ شرارتی لہجے میں بولی۔”ملکہ قُتیلہ بھی ساتھ چلتی ہے، کہیں تم ملکہ قُتیلہ کی غفلت کا فائدہ اٹھا کر بھاگ نہ جاﺅ۔“
یشکر اس کی گھنی زلفوں کو ہونٹوں سے لگاتے ہوئے بولا۔”بھاگنے کی کوشش تو بہت کی مگر ان زلفوں کا پھندہ بہت مضبوط ہے۔“
قُتیلہ کے نقرئی قہقہے سے فضا گونج اٹھی تھی۔
اندھیرا گہرا ہونے تک انھوں نے لکڑیاں اکھٹی کر لی تھیں۔گھوڑوں کو جھاڑی سے باندھ کر یشکر نے جو گیلے کر کے توبڑے ان کے منھ پر چڑھا دیے تھے۔
آگ جلا کر اس نے اپنا کمبل نیچے بچھایااور دوسراکمبل قُتیلہ کے حوالے کر دیا۔قُتیلہ کمبل اوڑھ کر اس کے زانو پر سر رکھ کر لیٹ گئی تھی۔رات گئے تک وہ ڈھیروں باتیں کرتے رہے۔نجانے کتنے گلے، شکوے اور شکایتیں تھیں جو قُتیلہ کے سینے میں مقید تھیں۔نجانے کتنے اظہار ،اقراراور اعتراف تھے جویشکرنے سنبھال رکھے تھے۔سوال ہوئے ،جواب دیے گئے۔اعتراض ہوئے ،رد کیے گئے۔الزام لگے ، صفائی پیش کی گئی۔شکوے ہوئے ،قبول کر کے معافی مانگی گئی۔اظہار خفگی ہوا،منایا گیا۔مطالبے ہوئے، تسلیم کیے گئے۔آنسو نکلے ،چن لیے گئے ۔یہاں تک کہ بات اختتامی مراحل میں داخل ہوئی، تمہید انجام کو پہنچی،مطلب کی بات ظاہر ہوئی اور گفتگو کا نچوڑ برآمد ہوا۔
پوچھا گیا۔”ملکہ قُتیلہ سے شادی کرو گے ؟“
جواب آیا۔”دل وجان سے۔“
سوال ہوا۔”حق مہر کیا دو گے؟“
پیش کش ہوئی۔”بنو جساسہ کی سرداری۔“
اعتراض ہوا۔”کم ہے۔“
دعوت دی گئی۔”جو مانگو۔“
مطالبہ ہوا۔”ملکہ قُتیلہ ہمیشہ فارسی غلام کہہ کر پکارے گی۔“
سرتسلیم خم ہوا۔”قبول ہے۔“
تقاضا ہوا۔”ملکہ قُتیلہ کی سواری کے وقت زانو ٹیکو گے۔“
اثبات میں سر ہلا۔”منظور ہے۔“
طلب بڑھی۔”ملکہ قُتیلہ اپنی باری پرتکیے پر سر رکھ کر نہیں سوئے گی۔“(یعنی گود میں لٹانا پڑے گا)
دعوا ہوا۔”یاد دلانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔“
مزید مانگ ہوئی۔”ملکہ قُتیلہ کو ہاتھوں سے کھلانا پڑے گا۔“
مسرت بھرااقرار ہوا۔”یہ تو میری خوش نصیبی ہو گی۔“
روکا گیا۔”ملکہ قُتیلہ کے خلاف کبھی تلوار نہیں سونتوگے۔“
معصومیت بھرا اعتراف ہوا۔”اتنی جرّات بھلا مجھ میں کہاں ہے ۔“
تصدیق چاہی گئی۔”ملکہ قُتیلہ خوب صورت ہے ناں ؟“
اقرارہوا۔”اہورمزدا کی قسم !ہاں ہاں ہاں ۔“
استفسار ہوا۔”ملکہ قُتیلہ تمھیں کتنی پیاری لگتی ہے ؟“
جواب آیا۔”اتنی، جتنی ملکہ قُتیلہ خود کوبھی پیاری نہیں لگتی۔“
شک ظاہر کیا گیا۔”ملکہ قُتیلہ کو یقین نہیں آرہا۔“
اس مرتبہ جواب زبان نے نہیں ہونٹوں نے دیا تھا۔جوکافی طویل اور تفصیلی تھا۔اتنا کہ سارے خودساختہ شبہات کو بہا کر لے گیا تھا۔اعتبار کا اعلان دھمکی سے ہوا تھا….
”یاد رکھنا ملکہ قُتیلہ کو تمھاری چاہت میں کمی محسوس ہوئی توتمھیں قتل کر دے گی۔“
چاہت بھرا قہقہ گونجا۔”مزاحمت نہیں کروں گا۔“
دریافت ہوا۔”ملکہ قُتیلہ کے تیراکی جاننے کی بات کیسے پتا چلی؟“
”کل ماں جی اور سردارزادی تمھاری طرف آنے کا منصوبہ بنا رہی تھیں۔ باتوں باتوں میں ماں جی نے بتایا کہ تم بہت اچھی تیراک ہو۔ تبھی مجھے اپنی غلط فہمی کا پتا چلا۔صبح ہوتے ہی میں اپنی ملکہ کو منانے نکل کھڑا ہوا۔“
”سردار زادی بادیہ کو بتایا تھا کہ ملکہ قُتیلہ تیراکی جاننے کے باوجود پانی میں تم سے لپٹ گئی تھی۔“
یشکر کا سر نفی میں ہلا۔”یہ میری ملکہ کا راز ہے۔البتہ وہ پوچھ رہی تھی کہ مجھے کیسے پتا چلا تم شادی کے لیے مان جاﺅ گی۔میں نے بھی کہہ دیا اپنی ملکہ سے پوچھ لینا۔“
نازبھرے اندازمیں کہا گیا۔”ملکہ قُتیلہ کو نیند آرہی ہے۔“
”سو جاﺅ،جاگنے کی کوشش کی تو مجھے ڈانٹنے کا موقع مل جائے گا۔“
”کسی کی جرّات کہ ملکہ قُتیلہ کو ڈانٹے۔“نقرئی قہقہ گونجاجس میں خوشی، طمانیت، مدہوشی، خمار، سکون،اطمینان ،شوخی،فخر ،غرور، یقین ،بھروسااور نجانے کیا کیا شامل تھا۔کروٹ تبدیل کرتے ہوئے اس نے یشکر کی کمر میں ہاتھ ڈالے اور سو گئی۔
سپیدہ سحر نمودار ہو گیا تھا جب یشکر نے گرم شال لپیٹ کر احتیاط سے اس کا سر شال پر منتقل کیا۔ ہلکے سے بڑبڑا کر اس نے کروٹ تبدیل کی اور گہرے سانس لینے لگی۔ کمبل درست کر کے یشکر تیرکمان لیے شکار کی تلاش میں نکل پڑا۔اس کی واپسی دو عدد تیتروں کے ساتھ ہوئی تھی۔قُتیلہ جاگ گئی تھی۔بکھرے بالوں کو قساوا میں قید کر کے وہ آگ درست کرنے لگی تھی۔
”دو تیتر تو ملکہ قُتیلہ کھا جائے گی۔“
”تو ملکہ قُتیلہ ہی کے لیے لائے ہیں۔“تھوڑے فاصلے پر بیٹھ کر اس نے تیتروں کی آلائشیں صاف کیں اور خنجر میں پرو کر بھوننے لگا۔تیتربھون کر اس نے چمڑے کے ٹکڑے پر رکھ کر قُتیلہ کے سامنے رکھتے ہوئے کہا۔
’شادی سے پہلے مجھے کھلانا پڑے گایا نکاح کے بعد معاہدے پر عمل ہو گا۔“
شرمیلی مسکرا ہٹ سے اس نے بھنے ہوئے گوشت کا ٹکڑا یشکر کے منھ کی طرف بڑھایا۔”شادی سے پہلے ملکہ قُتیلہ تمھیں سکھائے گی نا۔“یشکر بھی قہقہ لگا کر ہنس پڑا تھا۔
بھنے تیتر کھا کر وہ گھوڑوں کی طرف بڑھ گئے تھے۔مشکی کے قریب پہنچتے ہی یشکر نے اسے بازوﺅں میں بھر کر اوپر اٹھایا۔وہ قہقہ لگاتے ہوئے بولی۔
”ملکہ قُتیلہ ،سردارزادی بادیہ پر ہنسا کرتی تھی کہ شوہر اسے بازوﺅں میں اٹھا کر گھوڑے پر سوار کراتا ہے۔“
یشکر نے پوچھا۔”کہاں جائیں گے؟“
وہ شرارتی لہجے میںبولی۔”ملکہ قُتیلہ کے سرپرست، چچا منقر بن اسقح اور ماں جی جندلہ بنت اثمر ہیں۔“
یشکر نے لہجے میں بے بسی سموتے ہوئے کہا۔”گویا کمان کی تانت ابھی ڈھیلی ہے۔“ (مطلب رشتے کی بات ابھی پکی نہیں ہوئی)
”جی جناب۔“ اس نے شوخی بھرے لہجے میں کہتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔ ”سردارزادی ملکہ قُتیلہ بنت جبلہ بن کنانہ کا رشتادو بھنے ہوئے تیتر یا حریسے کی رکابی کھلا کر تو نہیں مل سکتا ناں۔“
بنو طرید کی طرف گھوڑا موڑتے ہوئے وہ قطعیت سے بولا۔”انھوں نے انکار کیا تو میں اپنی ملکہ کواٹھا کر لے جاﺅں گا۔“
”اٹھا کر لے جاﺅں گا۔“منھ چڑاتے ہوئے اس نے مشکی کی رفتار میں اضافہ کر دیا تھا۔ دوپہر کے وقت وہ بنو طرید میں داخل ہوئے تھے۔ انھیں دور ہی سے دیکھ کر لوگ اکٹھے ہوگئے تھے۔
وہ حیاآلود لہجے میں بولی۔”تم ملکہ قُتیلہ کو بازوﺅں میں بھر کر نیچے نہیں اتارو گے۔“
یشکر نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔”کسی میں ہمت ہے تو روک کر دکھائے۔“
وہ پریشان ہوئی۔”ملکہ قُتیلہ کو شرم آئے گی۔“
”ٹھیک ہے پھرگھٹنے پر پاﺅں رکھ کر اترنا پڑے گا۔“یشکر نے آسان سی شرط پیش کی۔
”نہیں ناں۔“قُتیلہ نے نفی میں سرہلایا۔
یشکر مصر ہوا۔”دو میں سے ایک بات تسلیم کرنا پڑے گی۔“
”ملکہ قُتیلہ اسی لیے تم سے نفرت کرتی ہے۔“بیزاری بھرے انداز میں کہتے ہوئے اس نے منھ بنایا۔لیکن جب وہ مجمع کے قریب پہنچے اس نے گھوڑے سے اترنے کی کوشش نہیں کی تھی۔یشکر چھلانگ لگا کر نیچے اترا۔اس وقت امریل مشکی کے نزدیک ہو کر زانو حالت بنانے لگا تھا۔
”ایک طرف ہو جاﺅامریل !“یشکر نے اسے بازو سے پکڑ کرپیچھے کھینچا اور خود گھٹنا ٹیک کر بیٹھ گیا۔
قُتیلہ اس کے گھٹنے پر پاﺅں رکھ کر نیچے اتری اور تیز قدموں سے اپنے خیمے کی طرف بڑھ گئی۔ ملیح چہرے پر سرخی چھائی ہوئی تھی۔
ملکان ،امریل اور اقرم وغیرہ کے چہروں پر حیرانی بھراتبسم نمودار ہوا تھا۔زندگی میں پہلی بار انھوں نے قُتیلہ کو شرماتے ہوئے دیکھا تھا۔
یشکر تمام سے معانقہ کرنے لگا۔
امریل نے زبان کھولی۔”لگتا ہے کوئی خوش خبری ملنے والی ہے۔“
یشکر معصوم لہجے میں بولا۔”اس کا انحصار منقر چچا پر ہے۔“
”مجھ پر۔“منقر سچ مچ حیران ہو گیا تھا۔
”ہاں ،ملکہ قُتیلہ نے میرے رشتے کے پیغام پریہ راہ دکھائی ہے۔“
”مبارک ہو ….مبارک ہو….“اقرم ،ملکان و امریل نے فوراََ شور شروع کر دیا تھا۔
”تم لوگ جاﺅمجھے سرداریشکر سے اکیلے میں بات کرنا ہے۔“منقر سنجیدہ ہو گیا تھا۔
تمام سرہلاتے ہوئے دائیں بائیں ہو گئے تھے۔منقر ،یشکر کو لے کر اپنے خیمے میں گھس گیا۔
”سردار !جانتے ہو ملکہ بیٹی تمھیں کتنا چاہتی ہے۔“
یشکر اطمینان سے بولا۔”یہ ثانوی بات ہے۔اہمیت اس کی ہے کہ میں اسے کتنا چاہتا ہوں۔“
”اسے جائز مقام دے پاﺅ گے؟“منقر نے یوں پوچھا جیسے قُتیلہ اس کی سگی بیٹی ہی تو ہو۔
یشکر نے قہقہ لگایا۔”منقر چچا!حقیقت تو یہ ہے کہ گھمنڈن سب کچھ منوا کر راضی ہوئی ہے۔ اور اس کا ثبوت آپ لوگوں نے ملاحظہ کر لیا ہوگا۔بہت ساری شرائط کے علاوہ یہ بھی معاہدے کا حصہ ہے کہ میرے زانو پر پاﺅں رکھ کر ملکہ گھوڑے پر چڑھے اترے گی۔“
”اس معاملے میں وہ ایک عام لڑکی جیسی ہی ہے اور تمھیں شاید معلوم نہ ہوکل صبح وہ قبیلہ چھوڑ کر چلی گئی تھی۔کہہ رہی تھی ماں جی اور بادیہ کو مل کر دنیا دیکھنے نکلے گی۔شاید کوئی یشکر جیسا مل جائے نہیں تو واپس نہیں لوٹے گی۔“
یشکر صاف گوئی سے بولا۔”میں بس اس کی نفرت سے ڈرتا رہا۔اس نے کبھی بھی معلوم نہیں ہونے دیا کہ میں اتنا خوش قسمت ہوں۔“
”بہ ہرحال میں اس کی ماں جندلہ بنت اثمر اور خود ملکہ بیٹی کی رائے لے کر تمھیں حتمی فیصلے سے آگاہ کروں گا۔“
یشکر سنجیدہ لہجے میں بولا۔”میں منتظر ہوں منقر چچا۔“

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: