Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 7

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر- قسط نمبر 7

–**–**–

اقلیمہ بے چینی سے حویلی کے صحن میں ٹہل رہی تھی۔ دو باندیاں اس کے عقب میں پریشانی سے چل رہی تھیں۔ جنگ کے بارے انھیں اب تک کوئی خبر نہیں ملی تھی۔ اچانک حویلی باہرتیز دوڑتے گھوڑے کی ٹاپیں سنائی دیں۔ وہ آواز حویلی کے دروازے پر آکر رک گئی تھی۔
داخلی دروازے کی ذیلی کھڑکی کھول کر ایک شخص اندر داخل ہوا۔ اقلیمہ فوراََ اس کی طرف بڑھ گئی۔
”خانم!“آنے والے نے جھک کر اسے تعظیم دی۔ ”آپ کو اسی وقت یہاں سے نکلنا ہوگا۔“
اس نے گھبراتے ہوئے پوچھا۔ ”کک….کیا ہوا بلمان،میدانِ جنگ سے کوئی خبر آئی ہے۔“
”میرے پاس کوئی اچھی خبر نہیں ہے خانم ،بس ہمیں بھاگنا پڑے گا۔“
”سکندر کی کوئی خیر خبر۔“وہ سخت پریشان ہو گئی تھی۔
”خداوند فارس عرب قبایل کے نرغے میں آگئے تھے۔ وہ اور ان کے محافظ شاید باقی نہیں رہے۔“
”نہیں۔“وہ لہراتے ہوئے گرنے لگی تھی کہ دونوں باندیوں نے اسے تھام لیا تھا۔
”بہت سے سوار اس طرف آرہے ہیں۔“حویلی کا دربان چلایا۔ اس کے ساتھ اس نے بلمان کے گھوڑے کو اندر کھینچ کر دروازہ بند کر دیا۔
بلمان کے چہرے پر پریشانی نمودار ہوئی۔ ”کتنی دور ہیں۔“اس نے دربان سے پوچھا۔
مگر دربان کے جواب سے پہلے بہت سے گھوڑوں کی ٹاپیں ابھریں وہ حویلی کے دروازے پر رک گئے تھے۔ بلمان کو ملا کر وہا ں پانچ محافظ تھے۔
”خانم کو اندر لے جاﺅ۔“بلمان گھبرائی ہوئی باندیوں کو بولا۔
اس کے بازو کندھوں پر رکھ کر دونوں باندیاں اسے سہارا دے کر اندر لے جانے لگیں۔
دروازہ زور سے دھڑدھڑایا گیا۔ وہ پانچوں صحن میں اکھٹے ہو گئے تھے۔ اچانک ایک سر حویلی کے دروازے پر نمودار ہوا ،اگلے ہی لمحے ایک شخص اندر کودا۔ بلمان نے بھاگ کر اس پر تلوار کا وار کرنا چاہا۔ اس نے فوراََ اپنی تلوار سامنے پکڑ لی تھی۔ صحن میں کھڑے چاروں ملازموں ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کرتے ہوئے عقبی دیوار کی طرف بھاگ پڑے۔ عقبی دیوار میں موجود چھوٹا دروازہ کھول کر وہ سر پٹ بھاگ پڑے تھے۔
”یشکر کو بلاﺅ۔ اقلیمہ مسہری پر بیٹھتے ہی ایک باندی کو بولی۔ اور وہ بھاگ کر یشکر کے کمرے کی طرف بڑھ گئی جو صبح سے کمرے میں گھسا تھا۔
باندی بدحواسی میں دستک دیے بغیر اس کے کمرے میں داخل ہوئی۔ ”آپ کو خانم یاد کر رہی ہے۔“
اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑتی دیکھ کر اس نے حیرانی سے پوچھا۔ ”تم گھبرائی ہوئی کیوں ہو؟“
”چھوٹے مالک ،حویلی پر حملہ ہو گیا ہے۔“تیز لہجے میں کہتے ہوئے وہ واپس مڑ گئی۔ یشکر بھاگ کر کمرے سے نکلا۔ راہداری میں بھاگتا ہوا وہ ماں کے کمرے کے سامنے پہنچا اور دروازہ ہلکے سے کھٹکھٹاتا ہوا اندر داخل ہوا۔
اقلیمہ ہاتھ میں مشروب کا گلاس تھامے دروازے ہی کی جانب متوجہ تھی۔
”ماں جی کیاہوا۔“اقلیمہ کے چہرے پر چھائی پریشانی اور دکھ اسے حیران کر گیا تھا۔
ہاتھ میں پکڑے گلاس سے دو تین گھونٹ لے کر اس نے گلاس میز پر رکھا اور دونوں ہاتھ کھول دیے۔ یشکر بھاگ کر ماں کی شفقت بھری بانہوں میں سما گیا تھا۔
”میرے لال۔“ماں نے اس کا ماتھا چوما۔
”ماں جی آپ نے کیا پیا ہے۔“اقلیمہ کے منہ سے آتی ہوئی مہک سونگھتے ہی اس نے ایک دم میز پر رکھا گلاس اٹھا کر سونگھااور پھراس میں سے گھونٹ لیا۔
”یہ زہر ہے۔“گلاس کو نیچے پھینک کر اس نے ماں کے دونوں بازو تھام لیے تھے۔ اپنی تربیت کے آغاز سے بہت پہلے وہ زہر کا عادی ہو گیا تھا۔ وہ اس مخصوص مہک کو کیسے نہ پہچانتا۔ یوں بھی اسے معلوم تھا کہ اقلیمہ کے ہاتھ میں موجود ایک انگوٹھی ایسی تھی جس کا نگینہ شراب میں ڈبونے پر شراب کو زہریلا کر دیتا تھا۔
اقلیمہ کے ہونٹوں پر زخمی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ ”میں اپنے سکندر کے پاس جارہی ہوں بیٹا۔ وہ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔“
”ماں مجھے اکیلا چھوڑ کر۔“وہ رو دیا تھا۔
”اس کے بغیر زندہ نہیں رہا جاتا بیٹااور شاید فاتح سپاہ کے ہاتھوں میر ی بے حرمتی تم سے برداشت نہ ہو۔“اقلیمہ کی ناک سے خون کے قطرے رسنے لگے تھے۔ اور پھر اس کے منہ سے بھی خون نکلنے لگا۔
”ماں ….“وہ روتے ہوئے اقلیمہ سے لپٹ گیا تھا۔ دونوں باندیاں بھی زور زور سے رونے لگی تھیں۔
دروازے پر ہونے والی لڑائی جب طول کھینچنے لگی تو ایک اور آدمی دروازہ پھلانگ کر اندر آیا۔ بلمان اور اپنے ساتھی کو لڑتا چھوڑ کر اس نے دروازہ کھول دیا تھا۔ فوراََ عربوں کی ایک ٹولی اندر داخل ہوئی۔ اندرونی عمارت کا رخ کرنے سے پہلے انھوں نے بلمان کا کام تمام کر دیا تھا۔ تھوڑی دیر بعد وہ لوٹ مار کے لیے پوری عمارت میں پھیل گئے تھے۔ دو آدمی اس کمرے میں داخل ہوئے جہاں یشکر ماں کے ساتھ لپٹا رو رہا تھا۔
کمرے میں گھستے ہی انھوں نے سرسری نظر سے کمرے کا جائزہ لیا۔ پہلے داخل ہونے والے نے بھاگ کر نسبتاََ خوبصورت باندی کو پکڑ لیا۔ ”یہ میری ہوئی۔“اس کے ساتھ ہی اس نے دوسری باندی کو اپنے ساتھی کی جانب دھکیل دیا تھا۔
اس کا ساتھی باندی کی طرف توجہ کیے بغیر یشکر کی طرف بڑھا اور اسے گریبان سے پکڑ کر پیچھے کھینچتے ہوئے اقلیمہ کو دیکھنے لگا۔ اقلیمہ کے زیوارت دیکھتے ہی اس کی آنکھوں میں حرص ابھرا اور ساتھی سے پہلے ان زیورات پر قبضہ کرنے کی خاطر اس نے کانوں کے زیور اتارے بغیر اس تیزی سے کھینچے تھے کہ کان کی لوئیں چر گئی تھیں۔ اس کے ساتھ ہی اس نے گلے میں موجود موتیوں کے ہار اور طلائی کنگن بھی اتار لیے۔ اسی اثناءمیں اس کے ساتھی کی نظر اس طرف اٹھی ،اس نے جھپٹ کر اقلیمہ کا دایاں ہاتھ پکڑااور اس کی طلائی انگوٹھیوں کواتارنا چاہیں مگر انگلیوں میں پھنسی ہونے کی وجہ سے انگوٹھیاں نہ اتر سکیں۔ اس شقی القلب نے فوراََ خنجر نکال کرسفاکی سے انگوٹھی والی انگلیاں کاٹ دی تھیں۔
یشکر ہکا بکا ان کی درندگی دیکھ رہا تھا۔ جونھی اس نے اقلیمہ کی انگلیاں کاٹیں اس سے صبر نہیں ہوا تھا ایک دم اس سفاک کے لباس میں عقب سے ہاتھ ڈال کر اس نے پیچھے کھینچا ،وہ اکڑوں بیٹھا تھا کولہوں کے بل نیچے گرا اور پھر زمین پر لمبا ہو گیا۔
”تم ایک بزدل درندے ہو۔“یشکر عربی میں بولا تھا۔
ایک لمحے کے لیے تو وہ سن ہو گیا تھا ،ایک شکست خوردہ قوم کا لڑکا اور ایک عرب کو یہ کہے۔ وہ غصے میں پھنکارتا ہوا کھڑا ہو گیا۔
”مردے کے اعضاءکو کاٹنا وحشت نہیں ہوتی لڑکے ،زندہ کی جان لیے بغیر اس کے ٹکڑے کرنا وحشت ہوتی ہے۔ اور اس کانمونہ میں ابھی دکھاﺅں گا۔“وہ خنجر تول کر یشکر کی طرف بڑھا۔
اس کے دوسرے ساتھی نے قہقہ لگا کر ایک نظر پیچھے دیکھا اور پھر اقلیمہ کی جانب متوجہ ہوگیا۔ اب وہ اقلیمہ کاقیمتی لباس اتارنے کے چکر میں تھا۔ دونوں باندیاں ایک وحشی عرب کو یشکر کا رخ کرتے دیکھ کر تھر تھر کانپ رہی تھیں۔
یشکر کے چہرے پر خوف و ہراس کے بجائے غصے کے اثار تھے۔ وہ یک ٹک اس گرانڈیل وحشی کو اپنی جانب بڑھتا دیکھ رہا تھا۔
”جانتے ہو بیٹے ،لڑائی جیتنے کا پہلا اصول کیا ہے ؟“اس کے دماغ میں سکندر کی آواز گونجی۔ ”کبھی ڈر کر مقابلہ نہ کرنا۔“
عرب قریب پہنچ گیا تھا۔ اس نے ہاتھ لہرا کر خنجر کا وار کیا ،ہدف یشکر کا بازو تھا۔ لیکن وہ اس سے دگنی رفتار سے بھی وار کرتا تو اسے چھو نہیں سکتا تھا وہ ایک دم جھکائی دے کر ایک قدم پیچھے ہٹا۔ عربی کے دوسرے وار کو بھی اس نے جھکائی دے کر خطا کیا۔ عربی کی وحشت آسمان کو چھونے لگی تھی۔ اس نے غضب ناک ہوکرتیزی سے خنجر گھمایا،خنجر کی نوک یشکر کی گردن کی طرف بڑھی۔ ایک دم گھٹنوں میں خم ڈالتے ہوئے وہ نیچے جھکا ،عربی کا خنجر والا ہاتھ اس کے سر سے چار انگل اوپر گزر گیا تھا۔ وار خطا جانے پر وہ بے اختیار گھو م گیا تھا۔ اس کی پیٹھ یشکر کی جانب ہوئی اور اس سے پہلے وہ کچھ سمجھ پاتا اس کی کمر سے بندھی نیام پر یشکر کا ہاتھ پڑا اگلے ہی لمحے ”چھن“کی تیز آواز سے تلوار نیام سے باہر نکل آئی تھی۔
عربی ایک دم پیچھے پلٹا یشکر کے ہاتھ میں تلوار دیکھ کر ایک لمحے کے لیے اس کی آنکھوں میں خوف چھلکا ،لیکن اس سے پہلے کہ وہ کوئی کارروائی کرتا یشکر کا ہاتھ بجلی کی سی سرعت سے گھوماعربی کاخنجر والا ہاتھ کلائی سے اڑگیا تھا۔
ساتھی کی چیخ سن کر اس کا ساتھی بدحواسی میں پیچھے مڑا اس وقت تک یشکر نے ہاتھ پکڑ کر کراہتے ہوئے عربی کا دوسرا بازو بھی کاٹ ڈالا تھا۔ اس کے جسم سے خون دھاروں کی صورت ابل رہا تھا۔ اس کے ساتھی نے دھاڑتے ہوئے تلوار سونتی ،یشکر نے آخری وار کر کے زخمی عربی کی ٹانگ گھٹنے کے نیچے سے کاٹی اس کے ساتھ ہی اس نے ایک دم جھک کر خود پر ہونے والے وارسے اپنا بچاﺅ کیا اور اس سے پہلے کہ حملہ آور سنبھلتا یشکر کی تلوار اس کا نرخرہ ادھیڑ چکی تھی۔
دونوں باندیاں تھر تھر کانپ رہی تھیں۔
”کوشش کرو شاید بھاگنے کا موقع مل جائے۔“یشکر کی آواز پر وہ جیسے خواب سے بیدار ہوئیں اور دروازے کی جانب بھاگ پڑیں۔ ان کے نکلتے ہی یشکر نے کمرے کا دروازہ اندر سے بند کیا زخمی عربی تڑپتے ہوئے زور زور سے کراہ رہا تھا۔ دونوں کے قبضے سے اقلیمہ کے زیوارت لے کر اس نے کپڑے میں لپیٹ کر لباس کے نیچے کمر سے باندھے اور کمرے میں موجود قندیلوں کا تیل ماں کے جسم اور پورے کمرے میں چھڑکنے لگا۔ کمرے کے چاروں کونوں اور وسط میں پانچ بڑی قندیلیں لٹکی ہوئی تھیں۔ دروازے اور کھڑکیوں سے لٹکے دبیز پردے بھی اتار کر اس نے ماں کے جسم پر ڈھیر کر دیے تھے۔ اس وقت دروازے کو زور زور سے دھڑدھڑایا گیا ،مگر وہ اطمینان سے اپنے کام میں لگا رہا۔ ضروری کارروائی سے فارغ ہوتے ہی وہ ایک بار ماں کے چہرے پر جھکا ،اس کی آنکھوں اور ماتھے پر بوسا دے کر اس کا چہرہ بھی کپڑوں سے ڈھانپ دیا۔ باہر سے دروازہ توڑنے کی کوشش کی جارہی تھی۔ مسہری کے سر کی جانب دیوار میں بنے ایک آتش دان میں مقدس آگ جل رہی تھی۔ ایک ریشمی کپڑے کی مدد سے اس نے کمرے کے دروازے ،لکڑی کے سامان اور مسہری کو آگ لگا دی۔ صرف لکڑی کی کھڑکی اس نے چھوڑی دی تھی۔ آگ کے زور پکڑتے ہی وہ کھڑی کے رستے کمرے سے باہر نکلا اور نکلنے کے ساتھ کھڑکی کو بھی شعلہ دکھا دیا۔ اب اسے وہاں سے نکلنا تھا وحشی عرب کمرے کے دروازے پر جمع تھے۔ ان کے زخمی ساتھی کی دردناک چیخو ں سے حویلی گونج رہی تھی۔ یشکر عقبی دروازے کی جانب بھاگ پڑا۔ سکندر ایک سال بعد اسے میدان عمل میں اتارنا چاہتا تھا لیکن مقدر نے وقت سے پہلے اسے میدان میں اتاردیا تھا۔
٭٭٭
طیسفون کے درودیوار خون سے نہلا گئے تھے۔ فاتح سپاہ کو من مانیوں سے روکنے والا کوئی نہیں تھا۔ سابور کا خزانہ ،مال و اسباب اور عورتیں وغیرہ الیانوس کے قبضے میں آگئے تھے۔ طیسفون کے محل میں الیانوس نے ڈیرہ ڈال دیا تھا۔ فاتح فوجی لوٹ مار کے بعد فارسی خواتین کی عصمت دری کی جانب متوجہ ہو گئے۔ کوئی قائدہ قانون اور اصول تو تھے نہیں۔ وہ جنگ جیت گئے تھے، جیتنے والے حاکم بن جایا کرتے ہیں اور حاکموں سے رعایا بھلا کب کچھ پوچھ سکتی ہے۔ شکست کھانے والوں کی قسمت میں قتل ہونا یا غلام ہونا لکھا ہوتا ہے۔ رات کو مختلف مکانوں سے عورتوں کی چیخ وپکار اور بچوں کے رونے بلکنے کی آوازیں کثرت سے آتی رہیں۔ اگلے دن کا سورج طیسفون کی گلیوں میں کئی لاشیں دیکھ رہا تھا۔ یہ وہ بدبخت تھے جو فاتح فوج کی من مانیوں پر زبان کھولنے کے قصوروارتھے۔
٭٭٭
تین چار فرسخ مسلسل دوڑنے کے بعد سکندر نے گھوڑے کی رفتار دھیمی کی اور گھوڑے کو پیدل چلانے لگا۔ اس کی دیکھا دیکھی باقیوں نے بھی لگامیں کھینچ لی تھیں۔ دو اڑھائی سو کے قریب افراد جمع ہو گئے تھے۔ رفتار کم کرتے ہی سکندر نے اپنا گھوڑا شہنشاہ فارس کے گھوڑے کے پیچھے کر لیا تھا۔ کوس آدھا کوس پیدل چلنے کے بعد سابور نے گھوڑ روکا۔ سکندر فوراََ چھلانگ کر نیچے اترا اور سابور کے گھوڑے کے ساتھ ایک گھٹنا زمین پر ٹیک کر دوزانو ہو گیا۔ سابور اس کے کھڑے گھٹنے پر پاﺅں رکھ کر نیچے اتر ا۔ باقی بھی اپنی سواریوں سے اتر آئے تھے۔ گھوڑ ے دریا کنارے اگی گھاس پر منہ مارنے لگے۔ وہ اس وقت دریائے دیالی کے جنوبی کنارے پر موجود تھے۔ نہاوند جانے کے لیے انھیںشمال مشرق کا رخ کرنا تھا۔ گھڑی بھر آرام کے بعد جب گھوڑوں نے پانی وغیرہ پی کر تھوڑا دم لے لیا تووہ دوبارہ چل پڑے۔ اس مرتبہ ان کی رفتار پہلے کی طرح تیز نہیں تھی۔ وہ ریاست لُرستان کی حدود میں تھے۔ غروب آفتاب تک وہ چند کوس مزید سفر طے کر چکے تھے۔ وہ رات انھوں نے ایک بستی میں گزاری تھی۔ اہل بستی پہلے تو انھیں دیکھ کر ڈر گئے تھے کیوں ان تک بھی فارسی افواج کی شکست کی خبر پہنچ چکی تھی۔ جب انھیں معلوم ہوا کہ وہ فارسی سپاہ ہے اور ان کے ساتھ خود شہنشاہ فارس بھی موجود ہیں تو وہ کھل اٹھے تھے۔ انھیں فوراََ رات گزارنے کی جگہ مل گئی تھی۔ بادشاہ کے لیے بستی کا سب سے اچھا گھر خالی کر دیا گیا۔ شہنشاہ کے خصوصی محافظ اس کے ساتھ ہی تھے۔ صبح طلوع آفتاب سے پہلے وہ آگے بڑھ گئے۔ درمیانی رفتار سے چلتے ہوئے شام تک وہ خانقین پہنچ گئے تھے۔ رات وہاں گزار کر صبح سویرے وہ پھر چل پڑے۔ اگلی رات انھیں کرمان شاہ میں آئی تھی۔ ان دو تین دن میں سابور ذوالاکتاف کی طبیعت سنبھل گئی تھی اور وہ شکست کا بدلہ لینے کے لیے پرعزم ہو گیا تھا۔ کرمان شاہ کے حاکم نے شہر سے باہر نکل کر ان کا استقبال کیا۔ وہ رات کو شاہی محل میںٹھہرے تھے۔ حاکم کرمان شاہ کے ساتھ شہنشاہ فارس کافی دیرمحو گفتگو رہا تھا۔ موضوعِ گفتگو شکست کی وجوہات تلاشنا تھا۔
حاکم کرمان شاہ نے کہا۔ ”حضورِ والا ،ہماری افواج کی قلیل تعداد نے ہمیں یہ دن دکھایا ہے۔ آپ نے تمام صوبوں کی سپاہ کو اکھٹا کر کے میدان میں اترنا تھا۔“
” صحیح کہہ رہے ہو ،لیکن مجھے اندازہ نہیں تھا کہ رومن اتنی زیادہ سپاہ کے ساتھ میدان میں اتریں گے اور جب میں خود جائزہ لے چکا تو دیر ہو چکی تھی دوسرے علاقوں سے سپاہ کی آمد ممکن نہیں رہی تھی۔ مجبوراََ دستیاب سپاہ کے ساتھ میدان میں اترنا پڑا۔“
طیسفون دشمن کے قبضے میں جا چکا ہے اور اب روم کا حکمران دائیں بائیں کے علاقوں پر حملے کرے گا۔“
”میں اسے فنا کر دوں گا۔“
سابور کے لہجے میں شامل غصہ حاکم ِ کرمان کولرزا گیا تھا۔ وہ کہنے لگا۔ ”خداوند فارس کو چاہیے کہ اس بار پوری تیاری سے حملہ کریں تاکہ دشمن کو دوبارہ سر اٹھانے کے قابل نہ چھوڑا جائے۔“
سابور نے پوچھا۔ ”تم کتنی سپاہ ہمارے حوالے کر سکتے ہو ؟“
وہ جلدی سے بولا۔ ”پانچ ہزار شہسوار حضور کی خدمت میں ارسال کر دوں گا۔“
”دس ہزار سوار وں کو تیاری حالت میں رکھو۔ ہم نہاوند میں قیام کریں گے ،جونھی باقی ریاستوں کی افواج اکھٹی ہوگئیں تمھارے جنگجوﺅں کو نہاوندبلوا لیں گے۔“
”جو حکم حضور کا۔“حاکم کرمان شاہ نے تعظیماََ سر جھکا دیا۔
اگلی صبح سابور نہاوند کا رخ کر رہا تھا۔ طیسفون سے بھاگے ہوئے افراد کے لیے اس نے سپاہیوں کی چند ٹولیاں لرستان کے جنوب مشرقی اور جنوب مغربی علاقوں میں پھیلا دی تھیں تاکہ ان سپاہیوں کو نہاوند کا رستا دکھائیں۔ خود اس کا ارادہ بھی نہاوند میں قیام کرنے کا تھا۔

٭٭٭
شیبہ بن ثمامہ اس وقت اپنے چھوٹے بھائی شریم بن ثمامہ کے ساتھ دارلمشورہ میں موجود تھا۔ وہاں قبیلے کے اور معززین بھی جمع تھے۔
شیبہ نے تجارتی قافلے کے متعلق چند ضروری باتیں کہہ کر صامت بن منبہ کی طرف نظر اٹھائی جو تمام سے عمر رسیدہ تھا۔ وہ کہنے لگا۔ ”سردار ،دبا میں ضرورت کی مکمل اشیاءکا ملنا مشکل ہے۔ اور اگر ہم وہاں سے الخلیج العربی عبور کر کے فارس چلے جائیں تب بھی خلیج عبور کرنے اور واپس آنے کے لیے ہمارا کافی خرچہ ہو جائے گا۔ بہتر یہی ہے کہ حیرہ کا رخ کیا جائے۔ وہاں سے مدائن(طیسفون) زیادہ دور نہیں۔ اصفہان یا اصطخر کا رخ کرنا بھی مشکل نہیں ہو گا۔“
”فارس و روم پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔“شیبہ نے اندیشہ ظاہر کیا۔
”قسطنطین ثانی کی موت کے بعد سے یہ خبریں پھیلی ہوئی ہیں ،ہوسکتا ہے اب تک جنگ ختم بھی ہو چکی ہو۔ اور پھر وہاں تک ہمیں بنو ابطح کا ساتھ بھی مل رہا ہے۔“
شریم نے کہا۔ ”بنو ابطح والے بغیر معاوضا کے تو حفاظت کی ذمہ داری نہیں اٹھاتے۔“
صامت نے اثبات میں سر ہلایا۔ ”مگر یہ معاوضا خلیج البحرین کو عبور کرنے کے معاوضا سے زیادہ نہیں ہو گا۔“
”یمن کا رخ کرنا زیادہ بہتر رہے گا۔“مصدع بن عیسان نے مشورہ دیا۔
شیبہ نے نفی میں سر ہلایا۔ ”نہیں جاڑے میں یمن کا رخ کرنا بے وقوفی ہے۔“
وہب بن مرشد نے کہا۔ ”شنید ہے اگلے چاند کے نظر آتے ہی قریش مکہ کا قافلہ بھی اس جانب کا رخ کرے گا ہم یثرب(مدینہ) سے اس قافلہ کا پلو پکڑ سکتے ہیں۔“
صامت نے کہا۔ ”قریش کی مانگ بنو ابطح سے زیادہ ہے۔“
وہب نے جواب دیا۔ ”بے شک ،قریش کا مطالبہ زیادہ ہے لیکن قافلے کا حفاظت سے منزل مقصود تک پہنچنا بھی یقینی ہے۔“ (قریش چونکہ بیت اللہ کے مجاور تھے اور بیت اللہ زمانہ قدیم ہی سے عزت و احترام کا سر چشمہ رہا ہے اس لیے قریش کے تجارتی قافلے کے ساتھ کوئی چھیڑ خانی نہیں کی جاتی تھی۔ قبایل اپنے تجارتی سامان کو محفوظ طریقے سے منزل مقصود تک پہنچانے کے لیے قریش کے تجارتی قافلے کا ساتھ پکڑتے۔ قریش اس ضمن میں دوسرے قبائل سے خاطر خواہ معاوضا وصول کیا کرتے تھے )
”وہب نے دانائی کا دامن پکڑا ہے۔“شیبہ نے وہب بن مرشد کے مشورے کو سراہا۔
”گویا قریش کے قافلے کے ساتھ فارس کا رخ کریں گے۔“شریم کا انداز تصدیق چاہنے والا تھا۔
لمحہ بھر سوچنے کے بعد شیبہ نے اثبات میں سر ہلادیا۔ ”یہی بہتر رہے گا۔“
شریم نے کہا۔ ”اگلے چاند کو دو تین سورج ہی باقی ہیں۔“
شیبہ نے کہا۔ ”تین دن تیاری کے لیے کافی ہیں۔“
”سردار ساتھ جائیں گے ؟“مصدع بن عیسان مستفسر ہوا۔
”نہیں۔“سردار سے پہلے صامت نے نفی میں سر ہلایا۔ ”ہم ابھی تک سردار شریک کا زخم نہیں بھولے۔“
”یہ ذمہ داری شریم نبھائے گا۔“شیخِ قافلہ کے لیے سردارشیبہ نے اپنے چھوٹے بھائی شریم کا انتخاب کیا۔
دارالمشورہ میں موجوددس معزیزین قبیلہ نے اثبات میں سر ہلا کر فیصلے کا خیر مقدم کیا تھا۔
٭٭٭
حویلی کے عقبی دروازے کو کھلا دیکھ کر یشکر کو اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگی تھی کہ دونوں باندیاں وہیں سے نکل کر گئی تھیں۔ فاتح افواج پورے شہر میں پھیل چکی تھی۔ ان کی نظر سے بچ کر نکلنا ممکن نہیں رہا تھا۔ سامنے سپاہیوں کی ٹولی دیکھ کر وہ دائیں جانب مڑا۔ گلی میں گھستے ہی وہ تھوڑا سا ہی آگے بڑھا تھا کہ ایک گھر کا دروازہ کھول کر چند اعرابی نکلے انھوں نے دو جوان عورتوں اور یشکر کی عمر کے ایک لڑکے کو پکڑا ہوا تھا۔ یشکر پر نظر پڑتے ہی ان میں سے ایک ٹوٹی پھوٹی فارسی میں بولا۔
”اوئے لڑکے ،بھاگنے کی کوشش کی تو جان سے جاﺅ گے۔“
ایک دو کی بات ہوتی تو یشکر ٹکرا بھی جاتا مگر ساتھ آٹھ مسلح افراد سے خالی ہاتھ ٹکرانا مشکل تھا۔ شکست کی صورت میں اسے ناقابل تلافی نقصان بھی اٹھانا پڑ سکتا تھا۔ مصلحت اسی میں تھی کہ وہ مسکینوں کی طرح گرفتاری دے دیتا۔ وہ سرجھکا کر کھڑا ہو گیا۔ انھوں نے اس کے ہاتھ پشت پر باندھ کر اسے باقیوں قیدیوں کے ساتھ نتھی کر دیا تھا یوں کہ وہ تمام اکھٹے ہی بھاگ سکتے تھے اکیلے بھاگنا ممکن نہیں رہا تھا۔ یشکر ان دونوں لڑکیوں اور لڑکے کو جانتا تھا کہ وہ اس کے محلے ہی کے تھے۔ وہ ٹولی انھیں لے کر آگے بڑھی۔ ایک بڑی حویلی نظر آتے ہی وہ انھیں دھکیل کر حویلی کے صحن میں لے گئے۔ قیدیوں کے ساتھ دو آدمی چھوڑ کر باقی لوٹ مار کرنے اندرونی عمارت میں گھس گئے تھے۔ دو مردوں اور ایک ادھیڑ عمر کی عورت کی لاش صحن میں پڑی تھی جبکہ ایک کمرے سے لڑکی کے چیخنے اور رحم کی التجاﺅں کی آوازظاہر کر رہی تھی کہ وہاں فاتح سپاہ موجود ہے۔ چند مردوں کے وحشیانہ قہقہے اور اوباش فقروں کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی۔ وہ آرامی زبان بول رہے تھے گویا وہ شامی سپاہی تھے۔ یشکر کے ساتھ بندھی ہوئی دونوں لڑکیوں کے چہرے خوف سے فق ہو گئے تھے ،جبکہ جسم رعشے کے مریض کی طرح لرز رہے تھے۔
ان کی نگرانی کرنے والوں میں سے ایک بولا۔ ”ہماری میزبان ڈر رہی ہیں۔“
دوسرے ساتھی نے قہقہ لگا کر کہا۔ ”ان کی باری چند گھنٹوں بعد ہی آئے گی فی الحال مال غنیمت اکھٹا کر لیں۔“دونوں عربی میں بات کر رہے تھے۔ یشکر تو آسانی سے ان کی باتوں کو سمجھ رہا تھا البتہ دونوں لڑکیوں اورلڑکے کے پلے کچھ نہیں پڑا تھا۔
ان کے ساتھی اندرونی کمرے سے مختلف سازو سامان لا کر صحن میں ڈھیر کرنے لگے۔ اسی اثناءمیں بند کمرے کا دروازہ کھول کر ایک مرد نے باہر جھانکا۔ عرب سپاہیوں کو سامان اکٹھا کرتے دیکھ کر وہ باہر نکل آیا تھا۔ اس کے عقب میں تین اور شامی سپاہی باہر آئے۔ آخری والے نے ایک جواں سال لڑکی کو بازو سے پکڑ کر باہر پھینکا۔ لڑکی کے جسم پر لباس کے نام پر کپڑے کی چند دھجیاں ہی لپٹی ہوئی تھیں۔ چہرے اور جسم کے مختلف حصوں پر نظر آنے والے زخم ظاہر کر رہے تھے کہ اسے کس طرح درندگی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس کا جسم اب تک کانپ رہا تھا اور زخمی چہرے پر آنسو ایک تسلسل سے رواں تھے۔ یشکر اسے اچھی طرح جانتا تھا۔ وہ سبرینہ تھی۔ ایک متمول شخص بہروز کی بیٹی جو سابور کی فوج میں دہ ہزاری سالار تھا۔ وہ کبھی کبھار والد کے ساتھ تربیتی میدان میں بھی نظر آجایا کرتی۔ سکندر اس کے حوالے سے یشکر کو چھیڑتے ہوئے پوچھا کرتا کہ اس کی بیوی کے لیے سبرینہ کیسی رہے گی۔ چند گھنٹے پہلے تک وہ معزز بہروز کی صاحبزادی سبرینہ تھی اور اب فقط ایک لونڈی جس کے ساتھ فاتححین ہر طرح کا سلوک کرنے کے مجاز تھے۔
”یہاں پہلے ہم آئے ہیں اس لیے حویلی میں موجود سامان پر تم لوگوں سے زیادہ ہمارا حق ہے۔“ ایک شامی ،آرامی زبان میں عربوں کو مخاطب ہوا تھا۔
وہ دونوں آرامی زبان نہیں جانتے تھے اس لیے حیرانی سے مستفسر ہوئے۔ ”کسی ایسی زبان میں بات کرو جو انسان بولتے ہوں۔“
اسی وقت اندر سے ان کے ساتھی سامان اٹھائے باہر آئے۔
”یہ سامان ہمارا ہے۔“شامی سپاہی نے اپنی بات دہرائی۔
سامان اکٹھا کرنے والے عربوں میں ایک آرامی زبان جانتا تھا۔ وہ کہنے لگا۔
”یہ غنیمت کا مال ہے اگر تمھیں مال کی اتنی ہی ضرورت تھی تو اس لڑکی کو اپنی مردانگی کا ثبوت بعد میں دیتے اور پہلے مال پر ہاتھ صاف کرتے۔“
شامی معنی خیز انداز میں مسکرایا۔ ”ٹھیک ہے حویلی میں موجود تمام سامان تم لے لو ،یہ لڑکی بھی تمھاری ہوئی۔“اس نے لٹی پٹی سبرینہ کو سر کے بالوں سے پکڑ کر عربوں کی طرف دھکیلا۔ ”لیکن یہ دو پھول ہمیں چاہئیں۔“اس کا اشارہ یشکر کے ساتھ بندھی ہوئی لڑکیوں کی جانب تھا۔
ایک لمحہ سوچ کر وہ عرب اپنے ساتھیوں سے مشورہ کرنے لگا۔ تمام نے اثبات میں سر ہلادیا تھا۔ دونوں لڑکیوں کے ہاتھ کھول کر عربی نے شامی سپاہیوں کی طرف دھکیل دیا۔ وہ قہقہے لگاتے ہوئے خوفزدہ لڑکیوں کو لے ساتھ لے کر چل پڑے۔ ان کے باہر نکلتے ہی عربوں نے حویلی کو اندر سے بند کیا تین آدمی وہیں چھوڑے اور باقی دوسرے مکانوں کو لوٹنے کے لیے باہر نکل گئے۔ یشکر ،سبرینہ اور اشمل نامی لڑکے کو ایک خالی کمرے میں بند کر کے وہ غالباََ سامان اکھٹا کر نے لگ گئے تھے۔ اشمل بالکل سہما ہوا اور خاموش تھا۔ شامیوں کی درندگی کا شکار سبرینہ بھی گھٹنوں میں سر دے کر سسکیاں بھر رہی تھی۔ یقینا یہ اس کی مصیبتوں کی شروعات تھی جو ختم ہوتی نظر نہیں آرہی تھی۔ کیوں کہ جنگ مرد ہارتے ہیں نتیجہ ان کی بہنوں اور بیٹیوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔
اندھیرا چھانے کے تھوڑی ہی دیر بعد سبرینہ کے ہاتھ کھول کر اسے باہر لے جایا گیا۔ اور اس کی جگہ کمرے میں چندلوگوں کا اضافہ ہو گیا تھا۔ اندھیرے کی وجہ سے یشکرنئے قیدیوں کے چہرے نہیں دیکھ پایا تھا۔ جلد ہی اس کے کان مظلوم سبرینہ کی چیخیں سن رہے تھے۔ اس کے علاوہ بھی چند عورتوں کی درد میں ڈوبی کراہیں اعلان کررہی تھیں کہ اس حویلی میں ذلت و رسوائی کا شکار ہونے والی وہ اکیلی لڑکی نہیں تھی۔ ان کی وہ رات اسی جگہ بیٹھے خواتین کا رونا پیٹنا سنتے گزر ی تھی۔ نہ کسی نے کھانے پینے کا پوچھا تھا اور نہ انھیں کوئی حاجت محسوس ہو رہی تھی۔ طلوع آفتاب کے کافی دیر بعد چار لٹی پٹی لڑکیوں کو کمرے میں دھکیل کر دروازے کو باہر سے بند کر دیا گیا۔ حویلی کے صحن میں کافی شورو غوغا سنائی دے رہا تھا۔ لگتا تھا کہ ان کے مزید ساتھی بھی وہاں پہنچ گئے ہیں۔ دوپہر کو قیدیوں کے سامنے تھوڑی سی خوراک پھینکنے کے انداز میں رکھ ان کے ہاتھ کھول دیے گئے۔ لیکن دکھ،درد و خوف میں مبتلا قیدی سرجھکائے بیٹھے رہے۔ آزاد آدمی کے لیے غلامی کی ذلت آمیز زندگی کو اتنی جلدی قبول کرنا آسان نہیں تھا۔
یشکر بھی سکندر اور اقلیمہ کو یاد کرکے سخت افسردہ تھا۔ وہ اس کے حقیقی والدین نہیں تھے لیکن انھوں نے اسے بہت محبت دی تھی۔ اسے کبھی محسوس نہیں ہوا تھا کہ وہ لے پالک ہے۔ ہوش سنبھالنے کے بعد جب پہلی بار اسے معلوم ہوا تھا کہ وہ لے پالک ہے تبھی سکندر نے اس کی ڈھارس بندھاتے ہوئے کہا تھا۔
”یاد رکھنا بیٹا، مشکلات دائمی نہیں عارضی ہوتی ہیں، لیکن ہمت ہار نے والے اور مایوسی کا شکارلوگ انھیں اپنا مقدر بنا لیتے ہیں۔ اگر ساری زندگی اپنے والدین کو یاد کرتے رہو گے تو بچپن سے نہیں نکل پاﺅ گے۔ جان جاﺅ اب تم عرب میں نہیں فارس میں ہو ،میں تمھارا باپ ہوں ، اقلیمہ تمھاری ماں ہے اور یہی تمھارا مستقبل ہے۔“
اب وہ مستقبل اس کے ہاتھوں سے نکل گیا تھا۔ سولہ سال پہلے اسے غلام بنا کر بیچا گیا تھا اور اس کے مقدر میں لکھی غلامی آج حقیقی معنوں میں اس کے سامنے آگئی تھی۔
اس کے دماغ میں سکندر کی آخری ملاقات میں کہی ہوئی باتیں گونجیں۔ نصیحت کرنا اور سننا نہایت آسان ہے لیکن جب عمل کا وقت آئے تو ہمت ساتھ چھوڑ جاتی ہے۔ برا وقت آنے پر سوچنے سمجھنے کی قوتیں ناکارہ ہونے لگتی ہیں۔
سکندر نے کہا تھا۔ ”مصائب اور پریشانیوں کا سامنا کرنا مرد کی شان ہوتی ہے۔“اور اب جب مشکلیں سر پرپڑی تھیں تو اسے مرد بننا بہت مشکل لگ رہاتھا۔
انھوں نے کہا تھا۔ ”وقتی طور پرحالات سے سمجھوتہ کرکے مناسب موقع کا انتظار کرنا چاہیے۔“ اور قید میں گزرنے والی ایک رات ہی سے وہ اتنا بددل ہو گیا تھا کہ قید سے موت آسان نظر آرہی تھی۔
انھوںنے کہا تھا۔ ”کسی کے ہونے نہ ہونے کو قابلِ توجہ نہ سمجھا جائے تو کامیابیاں سمیٹنا مشکل نہیں ہوتا۔“لیکن وہ کیسے سکندر کو بھلا دیتا۔ کیسے شفقت کرنے والی اقلیمہ کی یاد کو دل سے کھرچتا۔ یہ اتنا آسان نہیں تھا جتنا اسے سنتے وقت لگا تھا۔ سکندر اور اپنے اتالیق کی باتوں کو کافی دیر ذہن میں دہرانے کے بعد وہ کھسک کر قالین پر گری خوراک کے قریب ہوا۔ چند موٹی موٹی روٹیوں کے ساتھ ایک کٹورے میں گوشت کا سالن نظر آرہا تھا۔ روٹیاں اور سالن بالکل ٹھنڈ اہو چکا تھا لیکن وہ جبر کر کے کھانے لگا۔ دو تین نوالے لیتے ہی اسے احساس ہوا کہ وہ بھوکا تھا۔ دکھ اور پریشانی بھوک سے غافل تو کر سکتی ہے ، بھوک ختم نہیں کر سکتی۔ اس کی دیکھا دیکھی ایک دو اور مردوں نے بھی ہمت کی اور قریب آکر کھانے میں شامل ہو گئے۔ وہ وہاں موجود تمام افراد کو جانتا تھا کیوں کہ وہ اس کے محلے دار ہی کے تھے۔
”سبرینہ ،تھوڑا سا کھا لو۔“اس نے سبرینہ کو آواز دی۔ وہ سبرینہ جو کبھی اعلیٰ لباس پہنے شوخ و چنچل جملے کہتے ہوئے اس کے پاس سے گزر جایا کرتی تھی آج چند دھجیوں میں لپٹی کسی بھکارن کی طرح نظر آرہی تھی۔
یشکر کی آواز پر اس نے سر گھما کر زخمی نظروں سے اس کی جانب دیکھا اور پھر سرجھکالیا۔
یشکر نے ایک روٹی پر چند بوٹیاں رکھیں اور اس کے قریب جا بیٹھا۔ ”سبرینہ غلامی ہمارا مقدر ہے اس بات کو جتنی جلدی پلے سے باندھوگی اتنے فائدے میں رہو گی۔ بھوکا رہنے سے گیا وقت نہیں لوٹے گا۔ لو شاباش تھوڑا سا کھالو۔“اس نے نوالہ بنا کر اس کے منہ کی طرف بڑھا دیا۔ وہ بے دلی سے نوالہ چبانے لگی۔
سہ پہر تک قیدیوں کی تعداد دگنے سے بھی زیادہ ہو گئی تھی۔ سہ پہر ڈھلے قیدخانے سے باہر کسی کی آواز گونجی وہ دروازے پر کھڑے نگران کو کہہ رہا تھا کہ تین چار عورتوں کو کھانا پکانے کے لیے باہر لایا جائے۔ اس وقت دروازہ کھل گیا۔ دراز قد عربی نے آگے بڑھ کر چار عورتوں کو ٹھوکر لگا کر باہر چلنے کا اشارہ کیا۔ وہ لرزتی کانپتی چل پڑی تھیں ان بے چاریوں کے دماغ میں اپنا ایک ہی مصرف تھا۔ حالانکہ وہ انھیں کھانا پکانے کے لیے باہر لے جا رہے تھے۔
رات کا کھانا بھی دن کی طرح دو طشت سالن کے بھر کر کمرے کے وسط میں رکھ کر ساتھ موٹی موٹی روٹیوں کا ڈھیر رکھ دیا تھا۔ یقینا اہل طیسفون کے مویشی ان کی ضیافتوں کے کام آرہے تھے۔ جو کے بغیر چھنے موٹے آٹے کی روٹی خشک روٹی کھانے والوں کو چھنے ہوئے باریک آٹے کی روٹیاں اور مختلف قسم کے سالن میسر تھے۔ خاص کر گوشت تو عربوں کا پسندیدہ کھاجاتھا۔
اندھیرا چھانے کے کچھ دیر بعدتمام قیدی عورتوں کوباہر لے جایا گیا۔ اس کے ساتھ ہی صحن سے بربط کے تاروں کو چھیڑنے کی دلکش آواز اٹھی۔ پھر اس کے ساتھ دف کی آواز شامل ہو گئی۔ ایک خوش آواز عربی گارہا تھا۔
سورج نے ہم سے بہادر زمین پر چلتے ہوئے نہیں دیکھے۔
ستارے ہمیں تاریکی میں بھی دشمن کا سامنا کرتے ہوئے دیکھتے رہتے ہیں۔
جنگ کے اندر ہمارے گھوڑے سب سے آگے ہوتے ہیں۔
اورقتال سے ہاتھ روکنے والے ہم آخری ہوتے ہیں۔
جنگ کے دنوں میں ہم اپنی جانوں کو سستا کر دیتے ہیں۔
وہ جانیں جن کا سودا امن کے دنوں میں کیا جائے تو کوئی مول نہ چکا سکے۔
امن کے دنوں میں اپنی تلوار کی تیزی کا علاج ہم اپنے مال سے کرتے ہیں (یعنی قتل کر کے خون بہا دیتے ہیں )
لیکن جنگ میں ہمیں روکا نہیں جا سکتا۔
ایسے جیسے برسات کی مسلسل تیز بارش سے ہنے والے پانی کے سامنے بند باندھنا بے فائدہ ہوتا ہے۔
دشمن کی عورتیں ہمیں دیکھ کر اپنے مردوں کو بھول جاتی ہیں
کیوں کہ زندگی میں ان کا پہلی بار کسی مرد سے واسطہ پڑتا ہے۔
یقینا دشمن ایسا ہے کہ ان کی عورتوں اور مردوں میں تمیز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
گانا بجانا اور شور وغوغا رات گئے تک شروع رہا۔ اس دوران ڈانٹ ڈپٹ کر وہ عورتوں کو بھی ناچنے پر مجبور کرتے رہے۔ ان کی گفتگو سن کر یشکر کو معلوم ہوا کہ ان کا تعلق بنو کاظمہ سے تھا۔ فارس کے ساتھ ملحق سرحدی قبایل اور دوسرے ممالک کے بارے اسے اپنے اتالیق اور سکندر سے معلومات ملتی رہتی تھیں۔ وہ جانتا تھا کہ بنو کاظمہ خلیج الفارس (خلیج العربی)کے جنوب مغربی کنارے پر واقع تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: