Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 8

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر- قسط نمبر 8

–**–**–

طیسفون پررومن قبضے کو مہینہ گزر گیا تھا۔ طیسفون کی ملحقہ بستیاں اور گاﺅں وغیرہ یا تو فاتح افواج کے ہاتھوں برباد ہو گئے تھے یا اہل بستی گھروں کو چھوڑ کر نقل مکانی کر چکے تھے۔
الیانوس باشاہ روم اس وقت طیسفون کے تخت پر بیٹھا تھا۔ اب وہ فارس کے باقی علاقوں پر قبضے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ اس کے سامنے مختلف قبایل کے سردار اور شام و روم کے سالار جمع تھے۔
ایک شامی سالار نے کھڑے ہو کر کہا۔ ”حضور والا ،فارس کا حکمران نہاوند میں چھپا بیٹھا ہے اور ہمیں بلا تاخیر نہاوند کی طرف کوچ کر دینا چاہیے۔“
ایک رومی سالار بولا۔ ”بادشاہ سلامت ،اصفہان اور اصطخر فارس کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اگر ہم نہاوند سے پہلے ان پر قبضہ کر لیں تو بقیہ فارس کو زیرنگیں کرنا کوئی مشکل نہیں ہوگا۔“
بنو کاظمہ کے سردار نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا۔ ”ہم سابور کو قتل کر کے ہی فارسی افواج کی کمر توڑ سکتے ہیں۔“
”رومی سالار دوبارہ کھڑا ہوا۔ ”حضور،فارس کا حکمران اپنی افواج کو نہاوند میں اکٹھا کر رہا ہے ، اگر ہم نہاوند کا رخ کرتے ہیں تو اسے ہمارا مقابلہ کرنے میں آسانی ہو گی کیوں کہ وہ اپنی ساری قوت کو ایک ہی مقام پر اکٹھا کر لے گا۔ جبکہ اصفہان و اصطخر کی فتخ کے بعد ایک تو اس کی زیادہ قوت ختم ہو چکی ہو گی کہ اسے زیادہ کمک یہیں سے حاصل ہو سکتی ہے۔“
ایک اور سالار نے کھڑے ہو کر کہا۔ ”طیسفون کو خالی چھوڑ دینے سے وہ دارلحکومت دوبارہ حاصل کر لے گا۔“
پہلے والا رومی سالار اس خیال کو رد کرتا ہوابولا۔ ”اگر ہم اسطخر و اصفہان پر قابض ہو جائیں تو اس کے لیے انتخاب کرنا مشکل ہو جائے گا کہ اسے کہاں حملہ کرنا چاہیے۔“
الیانوس نے خاموش بیٹھے سپہ سالار یوسانوس کی طرف نظر گھمائی۔ وہ اٹھ کرتعظیم دیتا ہوا بولا۔ ”حضورِ والا سب سے بہتر یہی ہے کہ ہم طیسفون میں رہ کر اردگرد کے چھوٹے شہروں پر قبضہ جماتے رہیں۔ ہمارا رخ اصفہان اور اصطخر کی طرف رہے گا۔ یقینا ان سلطنتوں کے حکمران اپنے تخت کو بچانے کے لیے بادشاہ ِفارس کو زیادہ افرادی مدد نہیں بھیج سکیں گے کیوں کہ انھوں نے اپنے علاقے کے دفاع کے لیے بھی فوج رکھنا ہو گی۔ یوں فارس کا بادشاہ اتنی افرادی قوت اکٹھی نہیں کر پائے گا کہ کسی میدان میں ہمارے سامنے ٹھہر سکے۔ اور اگر اہل فارس دوسرے معرکے میں شکست کھا جاتے ہیں تو ان کے لیے ہتھیار ڈالنے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں رہے گا۔“
”ایک دو دن تک سوس کی طرف پیش قدمی کی تیاری کی جائے۔ ہم چاہتے ہیں طیسفون کے نزدیک شہروں کو پہلے قبضے میں لیا جائے اور اس طرح دشمن کو بھی فیصلہ کرنا پڑے کہ اسے اصفہان و اصطخر کو بچانا ہے یا طیسفون واپس لینا ہے۔“حاکم روم الیانوس کے حتمی فیصلے کے بعد دربار رکاست ہو گیا تھا۔
٭٭٭
”کل پرسوں تک دشمنوں کا لشکر سوس کی طرف پیش قدمی کرے گا۔“دیوار سے ٹیک لگا کر یشکر ساتھ بیٹھی سبرینہ سے محو گفتگو تھا۔ اب سبرینہ پہلے سے کافی بہتر تھی۔ غلامی کی زندگی کو وہ مقدر کا لکھا سمجھ کر قبول کر چکی تھی۔
یشکر کا ہاتھ اپنے دوونوں ہاتھوں میں جکڑتے ہوئے وہ پوچھنے لگی۔ ”ہمیں بھی ساتھ لے جائیں گے ؟“
”نہیں۔“یشکر نے نفی میں سر ہلایا۔ ”عرب مال غنیمت اور غلاموں کو اپنے علاقے میں بھیج رہے ہیں۔ لشکر سوس کی طرف حرکت کرے گا اورعرب سواروں کی ایک ٹولی ہمیں لے کر اپنے علاقے کا رخ کرے گی۔“
سبرینہ کی آنکھوں میں آنسو نمودارہوئے۔ ”گویا اپنا وطن بھی چھوٹ جائے گا۔“
”ایک بات بتاﺅ ؟“یشکر کی آواز سرگوشی میں ڈھل گئی تھی۔
”کیا ؟“سبرینہ حیرانی سے اس کی طرف متوجہ ہوئی۔
”تمھارے گھر میں کوئی ایسی جگہ ہے جو ان وحشیوں کی دسترس میں نہ آ سکی ہو۔“
”ہاں۔“اس مرتبہ سبرینہ کی آواز اتنی مدہم تھی کہ یشکر کوبات سننے کے لیے اس کے ہونٹوں کے ساتھ کان لگانا پڑ گیا تھا۔ ”حویلی میں تہہ خانہ موجود ہے جس کے بارے کسی کو معلوم نہیں۔ وہاں ابو جان زیورات اور دوسری قیمتی چیزیں چھپا کر رکھتے تھے۔“
”ایسا کرو رات کا کھانا بنانے والی خواتین کے ساتھ چلی جانا۔ عورتوں پر ان کی نگرانی اتنی سخت نہیں ہوتی ہے۔ اور تمھارے ہاتھ پاﺅں بھی آزاد ہوتے ہیں۔ نظر بچا کر تہہ خانے میں گھس جانا۔ یہ وحشی زیادہ سے زیادہ کل کا دن ادھر ہوں گے۔“
”بہت مشکل ہے کیوں کہ تہہ خانے کا رستا جس کمرے سے ہو کر جاتا ہے وہاں ان کا سردار آرام کرتا ہے۔ اور جب عورتیں کھانا بنا رہی ہوتی ہیں تو یہ ملعون ان پر کڑی نگاہ رکھتے ہیں۔“
”گویا تم روزانہ اسی کمرے میں ہوتی ہو۔“یشکر نے دکھ دینے والا سوال پوچھا۔ سبرینہ نے اسے بتایاہوا تھا کہ اب وہ صرف سردار کے لیے مخصوص تھی۔ اور اس کی وجہ اس کی کمسنی اور خوب صورتی تھی۔
سبرینہ نے اداسی سے آنکھیں جھکاتے ہوئے سر کو اوپر نیچے حرکت دے دی۔
”تمھیں خود کیوں تہہ خانے میں گھسنے کا خیال نہیں آیا۔“یشکر نے بے خیالی میں کہہ تو دیا مگر پھر اسے محسوس ہوا کہ وہ بے تکا سوال تھا۔
وہ دھیرے سے بولی۔ ”تہہ خانے میں گھسنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ بھوکی پیاسی جان سے جاتی۔“
”آج رات کوشش کرنا۔“
سبرینہ نے نفی میں سر ہلایا۔ ”مشکل ہے ،بہت زیادہ شراب نوشی کے باوجود وہ کمینہ مدہوش نہیں ہوتا۔ اور جب نیند آنے لگتی ہے تو مجھے واپس بھیج دیتا ہے۔“
”ایک ترکیب ہے مگر ہمت کرنا پڑے گی۔“
وہ عزم سے بولی۔ ”آزادی کی خاطر میں جان کی قربانی دے سکتی ہوں۔“
یشکر نے کپڑوں کے نیچے ہاتھ لے جاکر پیٹ سے بندھی پوٹلی میں سے ٹٹول کر اقلیمہ کی انگوٹھیاں نکالیں۔ ایک نظر ان پر ڈال کر اس نے ایک انگوٹھی سبرینہ کے حوالے کر دی۔
”اسے سنبھال کر رکھنا یہ میری ماں کی ہے۔ شراب کے جام میں اسے لحظہ بھر ڈبو دو تو تمام شراب زہریلی ہو جائے گی۔ اور اسے پینے والا فی الفور ختم ہو جائے گا۔“
انگوٹھی اپنے لباس میں چھپاتے ہوئے وہ پریشانی سے بولی۔ ”ہو سکتا ہے تمام یہاں سے نہ جائیں۔ اور بالفرض چلے بھی جائیں تو میں کتنے دن حویلی میں چھپ کر گزار سکتی ہوں۔“
”میں نے ان کی باتیں سنی ہیں ،کل پرسوں تک حویلی خالی ہو جائے گی۔ لشکر سوس کی طرف حرکت کرے گا۔ اور یہ دجلہ کا کنارہ لے کراپنے علاقے کا رخ کریں گے۔ ہر دو کا رخ مشرق کی طرف ہی ہو گا۔ تم رات کے اندھیرے میں طیسفون سے نکل کر شمال کی سمت آگے بڑھ جانا۔ شہنشاہ فارس اس وقت نہاوند میں رونق افروز ہے۔ راستے میں زیادہ تر بستیاں تمھیں خالی ملیں گی۔ لیکن امید ہے تین چار منزل کے بعد کوئی ہم سفر تمھیں مل ہی جائے گا۔“
سبرینہ نے پوچھا۔ ”میرے بھاگ جانے سے تمھیںکیا فائدہ ملے گا۔“
”شہنشاہ فارس کے بچ جانے کا سن کر میرے دل میں پدرِ محترم کی زندگی کی امید بھی جاگ اٹھی ہے۔ اگر وہ زندہ ہیں تو انھیں بتا دینا کہ میں بنو کاظمہ کی قید میں ہوں۔ باقی بندوبست وہ کر لیں گے۔“
وہ عجیب سے لہجے میں بولی۔ ”اگر میں خیریت سے پہنچ گئی تو انھیں ضرور مطلع کروں گی۔ اور پھر تمھاری واپسی کا انتظار کروں گی۔“
وہ اس کا ہاتھ سہلاتا ہوا بولا۔ ”مجھے خوشی ہو گی۔ لیکن پدرِ محترم مجھے تلاش نہ کر سکیں تو اپنے انتظار کو طول نہ دینا۔ کسی ایسے کا ہاتھ تھام لینا جسے تمھاری فکر ہو۔“
”باباجان کہا کرتے تھے تم اپنے باپ سے اچھے تیغ زن اور تیر اندازہو۔“
”معلوم نہیں۔“یشکر اداس ہو گیا تھا۔
”انھیں کوئی اور پیغام دینا ہے۔“
”کہنا میری تلاش انھیں فرض سے غافل نہ کر دے۔ اور یہ میری ماں کے زیورات ہیں۔ ان کے حوالے کر دینا۔“یشکر نے کچھ سوچ کر کمر سے بندھے ماں کے زیورات بھی اس کے حوالے کر دیے تھے۔
وہ زیورات کو جلدی سے کمر سے باندھتے ہوئے بولی۔ ”کچھ اور کہنا ہو۔“
”نہیں، لیکن تم تہہ خانے میں گھستے وقت کمرے کی کھڑی کھول دینا تاکہ انھیں لگے تم کھڑکی کے رستے نکل بھاگی ہو۔ اگر کھڑکی نہ ہوتو کمرے کا داخلی دروازہ ضرور کھول دینا۔“
وہ جلدی سے بولی۔ ”کمرے میں دو کھڑکیاں ہیں ایک شمال کی جانب اور دوسری عقبی جانب۔“
کچھ کھانے پینے کو میسر ہو تو وہ بھی اپنے ساتھ تہہ خانے میں لے جانا تاکہ تم ایک دو دن آسانی سے گزار سکو۔ اور نکلتے وقت بہت احتیاط کرنا۔“
سبرینہ اس کا ہاتھ پکڑ کر ہونٹوں سے لگاتے ہوئے اعتماد سے بولی۔ ”فکر نہ کرو۔“
مطمئن انداز میں سر ہلا تے ہوئے یشکر اسے مزید ہدایات دینے لگا اور وہ اس کے ہونٹوں سے کان جوڑے اس کی باتیں سنتی رہی۔
٭٭٭
یثرب سے وہ قریش کے قافلے کے ساتھ شامل ہو گئے تھے۔ شریم کے ساتھ اس بڑا بھتیجا مالک بن شیبہ بھی قافلے کے ساتھ جا رہا تھا۔ قافلہ چند دن یثرب میں ٹھہرا رہا کیوں کہ فارس و روم کی جنگ کی وجہ سے شیخ قافلہ کو جانے میں تردد ہو رہا تھا۔ مشورہ کرنے پر کچھ شام جانے کا مشورہ دے رہے تھے اور کچھ فارس جانے پر بہ ضد تھے۔ ایک دو قبیلے تو قافلے کی روانگی کو موخّر کرنے کے حق میں تھے۔ مختلف مشوروں کی بدولت شیخ قافلہ کوکچھ طے کرنے میں دشوار پیش آرہی تھی اور اسی وجہ سے قافلے نے یثرب کے مضافات میں پڑاﺅ ڈالا ہوا تھا۔ کیوں شام جانے کے لیے قافلے کو خیبر ،تیمائ،دومة الجندل، اور وادی سرطان سے ہوتے ہوئے شام پہنچنا تھا۔ شمال کی جانب حرکت کرتے ہوئے وہ بادیة السماوة (صحرائے نفود)کا بایاں کنارہ یعنی شمال مغربی جانب آگے بڑھتے۔ جبکہ فارس جانے کے لیے انھیں یثرب سے براستہ نجد ،بنو کلاب ،تمیم و مضر سے ہوتے ہوئے بادیة السماوةکا دایاں یا شمالی کنارہ لے کر بنو کاظمہ اور وہاں سے اصطخر و اصفہان تک جاناتھا۔ گویا شام و فارس کی طرف جانے کے راستے یثرب سے علاحدہ ہو رہے تھے۔
اور پھر ان کی خوش قسمتی ہی تھی کہ انھیں حیرہ سے آئے چند سوار غیبی امداد کے طور پر مل گئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ رومی لشکر فتح یاب ہو چکا تھا اور امید یہی تھی کہ فارس کے بادشاہ کو سر اٹھانے کا موقع نہ ملتا۔
آخری مشاورت میں شیخ قافلہ نے یہی طے کیا تھا کہ وہ قافلہ وہاں سے بنوکاظمہ کا رخ کرے گا۔ اس کے بعد جو قبیلے شام کو جانا چاہتے وہ حیرہ کے راستے وہاں جا سکتے تھے اور جو بلاد فارس جانا چاہتے وہ خلیج الفارس کے مغربی کنارے سے اس طرف بڑھ جاتے۔ گو شام جانے والوں کا راستا طویل ہو جاتا لیکن قافلہ چونکہ بلاد فارس جانے کے ارادے سے نکلا تھا اس لیے انھوں نے پہلی ترجیح اسی کو دی تھی۔ اگلے دن قافلہ پڑاﺅ اٹھا کر نجد کے راستے آگے بڑھ گیا۔
٭٭٭
قیدی رات کا کھانا کھاکر بہ مشکل فارغ ہوئے تھے کہ حسب معمول قیدی عورتوں کا بلاوا آ گیا۔ وحشی عرب سارا دن طیسفون کے مضافات میں موجود مختلف بستیوں کی طرف لوٹ مار کرنے نکل جاتے اور شام ڈھلے لوٹ کے مال کے ساتھ ان کی واپسی ہوتی۔ رات کے پہلے پہر وہ قیدی عورتوں کے ساتھ رنگ رلیاں مناتے اور پھر آرام کرنے لیٹتے۔ تین چار خوب صورت لڑکیاں قبیلے کے بڑوں نے اپنے لیے مختص کر لی تھیں اس لیے ان کی منظور نظر ان کے آرام کی وقت واپس قید خانے میں پہنچا دی جاتی تھیں جبکہ باقی خواتین کو ایک رات میں مختلف مردوں کی خدمت کرنا پڑتی۔
سبرینہ نے جاتے ہوئے خوفزدہ نظروں سے یشکر کی سمت دیکھا۔ اس کے مطمئن چہرے پر نظر پڑتے ہی سبرینہ کو ڈھارس ملی تھی۔ سردار کے کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے وہ خود کویہ باو رکراتی رہی کہ ناکامی کی صورت میں زیادہ سے زیادہ اسے جان سے جانا پڑتا اور ذلت آمیز زندگی سے موت ہی بھلی تھی۔ لیکن ایک بار وہ آزاد ہونے کی کوشش کرلینا چاہتی تھی۔
سردار اس وقت بھنے ہوئے گوشت کو جڑا تھا۔ سبرینہ کو دیکھتے ہی اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور وہ خاموشی سے میز پر پڑی صراحی سے جام بھرنے لگی۔ گوشت کو دانتوں سے کاٹتے ہوئے وحشی سردار کی پر ہوس نظریں سبرینہ پر گڑی تھیں۔ کوشش کے باوجود وہ انگوٹھی کو جام میں نہیں ڈبو سکی تھی۔ جونھی اس نے جام سردار کے حوالے کیا۔ جام اس کے ہاتھ سے پکڑتے ہوئے اس نے سبرینہ کو بھی گود میں گھسیٹ لیا تھا۔ اس کے بدبودار جسم سے سبرینہ کو از حد کراہیت محسوس ہو رہی تھی مگر وہ کسی قسم کے احتجاج کی حالت میں نہیں تھی۔ اسے کمر سے بندھے ہوئے زیورات کا بھی ڈر تھا کہ کہیں اس وحشی کا ہاتھ ان زیورات کو نہ ٹٹول لے۔ شراب پینے کے ساتھ اس نے سبرینہ کے ساتھ چند نازیبا حرکات کیں اور جام خالی ہوتے ہوئے اسے گود سے دھکا دے دیا۔ سبرینہ خاموشی سے صراحی کی طرف بڑھ گئی کہ یہ توہین آمیز سلوک وہ پچھلے ایک ماہ سے جھیل رہی تھی۔ اور اب تو اس کے بدن اور روح پر اتنے چرکے پڑچکے تھے کہ تکلیف کا احساس بھی ختم ہونے لگا تھا۔ جیسے ہی اس نے جام بھرنے کے لیے صراحی اٹھائی دروازے پر آہٹ ہوئی۔ سردار کے توجہ اس طرف مبذول ہوئی اور اس نے جلدی سے انگوٹھی انگلی میں ڈال کر وہ انگلی صراحی سے نکلنے والی دھار کے سامنے پکڑ لی جو بڑے آب خورے کو بھر رہی تھی۔
دروازے پر سردار کا دست راست وہب بن مرقدتھا۔ وہ اندر آکر سردار کو کل کے کوچ کے بارے کچھ بتانے لگا۔ سبرینہ نے جام بھر کر سردار کے سامنے رکھ دیا۔
سردار گوشت چباتے ہوئے وہب بن مرقد کی طرف متوجہ تھا۔ اور سبرینہ دل ہی دل میں دعا مانگ رہی تھی کہ سردار اس کے جانے کے بعد جام کو منہ لگائے۔ ورنہ اس کے پکڑے جانے میں کوئی شبہ نہ رہ جاتا۔ وہ خود کو کوسنے لگی کہ اس نے جلد بازی سے کام کیوں لیا تھا۔ سردار نے ہاتھ کے اشارے سے وہب بن مرقد کو بیٹھنے کو کہا اور سبرینہ کا دل ڈوب گیا۔ ا ب تو ناممکن تھا کہ وہ بچ پاتی۔ اچانک اس کے دل میں ایک خیال آیا اور وہ عمل کر گزری۔ فوراََ ایک خالی جام اٹھا کر وہ صراحی سے بھرنے گی۔ انگوٹھی والی انگلی اس نے شراب کی دھار کے سامنے پکڑی ہوئی تھی۔ وہ دونوں ایک دوسرے کی جانب متوجہ تھے۔ سبرینہ نے جام بھر کر وہب بن مرقدکے سامنے رکھ دیا۔
اس نے بھرپور نظر سبرینہ پر ڈالی اور سردار کو مخاطب ہوا۔ ”میں شدت سے منتظر ہوں کہ سردار اس حسینہ کو کب اپنی خدمت سے فارغ کرتے ہیں۔“
سردار نے بھرپور قہقہ لگاتے ہوئے کہا۔ ”امید ہے سوس پر قبضے کے بعد اس سے خوب صورت لڑکی ضرور ہاتھ آئے گی تب تمھارے حوالے کر دوں گا۔“
وہب بن مرقد نے حیرانی سے پوچھا۔ ”کیا اسے مال غنیمت کے ساتھ قبیلے نہیں بھجوانا ؟“
سردار معنی خیز لہجے میں بولا۔ ”اس کے بغیر اداس ہو جاﺅں گا۔“اور وہب بن مرقد نے قہقہ لگاتے ہوئے جام اٹھا لیا تھا۔ ان کی باتیں سبرینہ کی سمجھ میں نہیں آرہی تھیں مگر اتنا اندازہ اسے ضرور تھا کہ گفتگو اسی کے متعلق ہو رہی تھی۔
وہب بن مرقدنے جام منہ سے لگایا ،اسی وقت سردار نے بھی بکرے کی ران کی نچوڑی ہو ئی ہڈی منہ سے ہٹا کر جام ہونٹوں سے لگالیا۔ تین چار بڑے بڑے گھونٹ بھر کر اس نے جام نیچے رکھا اور ایک اور بڑی سی بوٹی اٹھا لی۔ قوی ہیکل سردار گوشت کا بھرا ہو طشت خالی کر جاتا تھا۔ سبرینہ دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ ان دونوں کے چہروں کو تک رہی تھی۔ وہب بن مرقدجام خالی کر چکا تھا جام خالی کر کے وہ جانے کی اجازت مانگنے لگا۔ سردار نے بوٹی چباتے ہوئے بغیر منہ سے آواز نکالے اوپر نیچے سر ہلا دیا تھا۔ سبرینہ کے دل میں مایوسی بھرنے لگی۔ شاید یشکر انگوٹھی کے بارے کسی غلط فہمی میں مبتلاتھا۔ یہ خیال اس کے دل رینگ ہی رہا تھا کہ اس نے سردار کی ناک سے خون کی پتلی سے لکیر نکلتے دیکھی۔ وہب بن مرقدبھی بہ مشکل کھڑا ہوا تھا کہ لڑکھڑا کر دوبارہ بیٹھ گیا۔ اس کی ناک سے بھی خون کی دھار نکلنے لگی۔ سبرینہ کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا۔
”تم ….“سردار نے غضب ناک ہوتے ہوئے سبرینہ کو دیکھا اور اٹھنے کی کوشش کی مگر وہ بھی لڑکھڑا کر مسہری پر ڈھیر ہو گیا۔ اس نے کسی کو آواز دینے کے لیے منہ کھولنا چاہا مگر آواز کے بجائے اس کے حلق سے خون کی دھار برآمد ہوئی تھی۔
گہرے سانس لیتا ہوا وہ سبرینہ کو نفرت بھری نگاہوں سے دیکھنے لگا۔ وہ پچھلے ایک ماہ سے اس کے نازک بدن کو بھنبھور رہا تھا۔ سبرینہ آگے بڑھی اور سردار کے منہ پر تھوکنے لگی۔ مرنے سے پہلے وہ اسے احساس دلانا چاہتی تھی کہ ایک مظلوم حوا زادی نے اپنا بدلہ لے لیا تھا۔ سردار کے مرنے تک وہ اس کے سامنے کھڑی اس پر تھوکتی رہی۔ اور اس کے ہلاک ہوتے ہی اس نے بھاگ کر کمرے کا دروازہ اندر سے بند کیا۔ اگلے مرحلے میں عقبی کھڑکی کی چٹخنی کھول کر اس نے طشت میں بچا ہوا گوشت ایک کپڑے میں ڈال کر اٹھایا اور دیوار سے لٹکا مشکیزہ بھی کندھے سے لٹکا لیا۔ اس پانی اور گوشت کے ساتھ وہ چند دن آرام سے تہہ خانے میں گزار سکتی تھی۔ کمرے کی مشرقی دیوار میں آتش دان بنا ہوا تھا۔ آتش دان کا منہ سامنے سے تو اتنا کھلا نہیں تھا لیکن جیسے بندہ اندر گھستا تو آرام سے کھڑا ہو سکتا تھا۔ آتش دان کی دائیں دیوار میں ڈیڑھ فٹ چوڑا چور رستا تھا۔ جس کو لوہے کے دروازے نے چھپایا ہوا تھا۔ دروازے کا رنگ اور آتش دان کی بقیہ دیواروں کا رنگ گہرا کالا تھا غور سے دیکھنے پر بھی دروازے کے بارے پتا نہیں چل سکتا تھا۔ دروازے کھولتے ہی نیچے سیڑھیاں جاتی ہوئی دکھائی دیتی تھیں جو بتدریج تین گز تک گہرائی میں چلی جاتی تھیں۔ اندر گھستے ہی اس نے دروازے کو بھیڑ کر بند کیا گھپ اندھیرا چھا گیا تھا۔ دروازہ کھول کر وہ واپس پلٹی اور کمرے میں آکر دیوار سے لٹکی مشعل اتار کر سرعت سے جلائی اور دوبارہ آتش دان میں گھس گئی۔ تھوڑی دیر بعد وہ سیڑھیاں اتر کر تہہ خانے کے فرش پر پہنچ گئی تھی۔ کمرے کا رقبہ چار پانچ گز چوڑا اور اتنا ہی لمبا تھا۔ مربع شکل میں بنے اس کمرے کی دیواروں میں الماریاں بنی ہوئی تھیں۔ اور ان الماریوں میں زیورات اور سونے چاندی کے سکے رکھے ہوئے تھے۔ اس تہہ خانے کے بارے صرف اس کے والدین اور اسے معلوم تھا۔ جلتی ہوئی مشعل سے اس نے دیوار میں لگی ہوئی ایک قندیل روشن کی اور مشعل کو بجھا کر دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔ اس کا دل مطمئن انداز میں دھڑک رہا تھا۔ ایک درندے کو کیفر کردار تک پہنچانے میں یشکر نے اس کی مدد کی تھی۔ وہ خیالوں میں اس کا شکریہ ادا کرنے لگی۔
٭٭٭
سردار اور وہب بن مرقد کی ہلاکت زیادہ دیر چھپی نہیں رہی تھی۔ سردار کا بھائی ،جریح بن خیر ، وہب بن مرقد کو ملنے اس کے کمرے میں پہنچا تو اسے معلوم ہوا کہ وہ سردار کے پاس تھا۔ وہ بھائی کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ دروازے کو بند دیکھ کر اس نے دستک دی مگر کمرے میں موجود افراد اس قابل نہیں تھے کہ دروازہ کھول سکتے۔ بار بار دستک کے جواب میں بھی دروازہ نہ کھلا توجریح کو تشویش ہوئی اور اس نے دروازہ توڑنے کا حکم دے دیا۔ دروازہ ٹوٹتے ہی انھیں سردار اور وہب بن مرقد کی مسخ شدہ لاشیں نظر آئیں۔ وہ ہر قسم کی مدد سے بہت دور جا چکے تھے۔ کمرے کی عقبی کھڑی کھلی دیکھ کر انھیں سمجھنے میں دیر نہیں لگی تھی کہ سردار کی قاتل کس طرف سے فرار ہوئی ہے۔ فوراََ ہی یہ خبر ساری حویلی میں پھیل گئی تھی۔ سردار کی غیر موجودی میں جریح ہی سردار تھا۔ گو بنو کاظمہ کا اصل سردار ان کا بڑا بھائی تھا جو قبیلے ہی میں موجود تھا مگر وہاں سرداری کی ذمہ داری جریح پر آن پڑی تھی۔ سردار اور اس کا دست راست ایک ساتھ ہلاک ہو گئے تھے۔ سب سے پہلے تو انھوں نے حویلی میں سبرینہ کو ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن چپہ چپہ چھان مارنے کے باوجود انھیں اس کا کوئی سراغ نہیں ملا تھا۔ اس نے فوراََ سواروں کی دو تین ٹولیاں حویلی سے باہر بھیج دی تھیں۔ اس رات بقیہ قیدی عورتوں کی سختی آگئی تھی۔ انھیں تشدد کا نشانہ بنا کر سبرینہ کے متعلق پوچھا گیا مگر کسی کو معلوم ہوتا تو جواب دیتا۔ قیدی مردوں کی پیٹھ بھی ہنٹروں سے ادھیڑ دی گئی مگر سبرینہ کے بارے کچھ معلوم نہ ہوسکا۔ ایک قیدی نے یہ بھی پھوٹ دیا کہ وہ ہر وقت یشکر کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرتی رہتی تھی۔ اس وجہ سے یشکر کی کچھ زیادہ ہی پٹائی ہوئی تھی ،لیکن اس کا واسطہ پٹائی سے پہلی بار نہیں پڑرہا تھا کہ وہ زبان کھول دیتا۔ سکندر نے خالی ہاتھ کے پینترے سکھاتے ہوئے بہت دفعہ اس کی دھلائی کی تھی۔ مار کھانے کے باوجود سبرینہ کے غائب ہونے کا سن کر وہ بہت اطمینان محسوس کر رہا تھا۔ جاتے جاتے وہ قبیلے کے دو بڑوں کا کام تمام کر گئی تھی۔ ماں کے زیورات بھی سبرینہ کے حوالے کر کے اس نے عقل مندی کا مظاہرہ کیا تھا ورنہ پٹائی کے دوران وہ یقینا ان وحشیوں کے ہاتھ لگ جاتے۔
صبح کے قریب سبرینہ کی تلاش میں جانے والی ٹولیاں ناکام واپس لوٹ آئی تھیں۔ قیدیوں کو واپس کمرے میں گھسیڑ دیا گیا اور اس کے ساتھ ہی ان کی نگرانی پہلے سے سخت کر دی گئی تھی۔ سردار اور وہب بن مرقدلاشیں حویلی کے صحن میں رکھ دی گئی تھیں۔ اس اثناءمیں رومی لشکر کی روانگی کا اعلان ہو گیا تھا۔ قائم مقام سردار جریح بن خیر نے تیس سواروں کی ایک ٹولی کہ جن افراد کو مال غنیمت قبیلے میں لے جانے کے لیے پہلے سے منتخب کیا گیا تھا انھیں حویلی میں چھوڑا اور خود باقی قبیلے کے ہمراہ لشکر کے ساتھ چل پڑا۔ پہلے وہ مال غنیمت قبیلے میں لے جانے والوں کے ساتھ خود بھی جا رہا تھا مگر بھائی کی موت کے بعد لشکر کے ساتھ جانا اس کی مجبوری بن گئی تھی۔
لشکر کی روانگی سہ پہر کے بعد ہی ہو سکی تھی۔ الیانوس نے طیسفون میں چند ہزار آدمی چھوڑے اور باقی کے ہمراہ سوس کی جانب بڑھ گیا۔
بنو کاظمہ کا رخ کرنے والی ٹولی نے سردار اور وہب بن مرقدکی لاش کو حویلی کے صحن میں دفنایا اور غنیمت کا مال اونٹوں پر باندھنے لگے دوپہر تک وہ روانہ ہونے کے تیار تھے۔ قیدیوں کو انھوں نے دس دس کی ٹولیاں بنا کر باندھا تھا۔ قیدیوں کی تعداد چالیس سے بھی تجاوز کر گئی تھی۔ وہاں مویشی بھی کثیر تعداد میں ہاتھ آئے تھے۔ جن میں آدھوں کو تو وہ کھا گئے تھے بقیہ وہ قبیلے میں لے جا رہے تھے۔ دجلہ کا پل پار کر کے وہ دریا کے شرقی کنارے دریا کے بہاﺅ کے ساتھ روانہ ہو گئے۔ بنو عبد قیس کی غنیمت کا مال لے جانے والی ٹولی ان سے چند فرلانگ آگے تھی۔ روم کا بادشاہ عربوں کی لوٹ مار کی فطرت سے اچھی طرح واقف تھا۔ اس لیے ان مالِ غنیمت اکٹھا کر کے اپنے قبیلوں میں بھجوانے کا اس نے بالکل برا نہیں منایا تھا۔
٭٭٭
تہہ خانے میں اسے وقت کا اندازہ نہیں ہو پارہا تھا۔ وہ رات کے وقت اندر داخل ہوئی تھی، گھڑی دو گھڑی وہ کسی انہونی کی منتظر رہی اور پھر دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے اسے اونگھ آنے لگی۔ مگر سردی کی وجہ سے اسے بے چینی محسوس ہو رہی تھی۔ خزانے کی الماریوں کے سامنے لٹکے پردے اتار کر اس نے چادر کی طرح جسم کے گرد لپیٹ لیے تھے۔ سردی کا احساس زائل ہوتے ہی وہ نیند میں ڈوب گئی۔ جاگی تو اچھی خاصی بھوک محسوس ہو رہی تھی۔ وہ بھنے ہوئے گوشت کو جڑ گئی۔ مشکل سے وہ ایک ہی ٹکڑا کھا پائی تھی۔ پانی سے شکم سیر ہو کر اس نے مشکیزے کا منہ بند کیا اورالماری کھول کر اس میں موجود سونے اورچاندی کے سکوں کو شمارنے لگی۔ اس شغل میں وہ کافی دیر لگی رہی۔ اور پھر تھک کر سوچنے بیٹھ گئی۔ وہ والد کے ساتھ ایک بار اصطخر جا چکی تھی لیکن نہاوند کی طرف جانے کا اسے اتفاق نہیں ہوا تھا۔ راستے کی مشکلات کو سوچتے ہوئے اسے دوبارہ نیند آگئی تھی۔ جاگنے پر اس نے بھنے ہوئے گوشت سے پیٹ پوجا کی اور تہہ خانے میں ٹہلنے لگی۔ ابھی تک اسے تہہ خانے سے نکلنے کی جرّات نہیں ہو رہی تھی۔ اندازے کے مطابق اس نے دو تین دن تہہ خانے میں گزاردیے۔ اس دوران بکرے کے بھنے ہوئے گوشت اور پانی کے مشکیزے نے اسے بھوک پیاس سے محفوظ رکھا تھا۔ آخر وہ باہر نکلنے پر تیار ہو گئی۔ نکلنے سے پہلے اس نے سونے کے سکوں کی ایک تھیلی اپنے پاس رکھ لی تھی۔ یشکر کے زیورات بھی اس کے پاس ہی تھے۔ محتاط انداز میں سیڑھیاں چڑھ کرتہہ خانے کے دروازے کے قریب پہنچی اور دروازے سے کان لگا کر کھڑی ہو گئی۔ کسی بھی قسم کی آہٹ نہ پا کر اس نے دھڑکتے دل سے دروازہ کھولا اور آتش دان کے اندر بیٹھ کر کمرے کا جائزہ لینے لگی۔ کمرے میں آدمی تو درکنار سازو سامان بھی غائب تھا۔ بھوکے لوگ کمرے میں بچھا قالین اور مسہری تک اٹھا کر لے گئے تھے۔ وہ آتش دان سے باہر نکل آئی۔ کمرے میں خوب روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ مزید ہمت کر کے وہ کمرے سے بھی باہر نکلی تھوڑی دیر بعد وہ پوری حویلی گھوم چکی تھی۔ حویلی کا بیرونی دروازہ کھلا تھا۔ محتاط انداز میں دروازے سے باہر جھانک کر اس نے گلی کے خالی ہونے کا یقین کیا اور پھر دروازہ بند کر دیا۔ حویلی میں کوئی کام کی چیز اس کے ہاتھ نہیں آسکی تھی کہ عرب وہاں جھاڑو پھیر گئے تھے۔ غروب آفتاب تک وہ ایک اندرونی کمرے میں چھپی رہی۔ اندھیرا چھاتے ہی وہ ڈرتے ڈرتے حویلی سے باہر نکلی اورشمال کی جانب چل پڑی۔ حویلی سے ایک لاٹھی کے علاوہ اس کے ہاتھ کوئی کام کی چیز نہیںلگی تھی۔ مختلف گلیوں سے گزرتی ہوئی وہ مطلوبہ جانب بڑھتی گئی۔ اگر کسی مکان میں روشنی کی چمک نظر آتی تو وہ رستا تبدیل کر لیتی۔ شہر سے باہر نکلتے ہی اسے کچھ اطمینان محسوس ہوا تھا۔ یشکر نے اسے دریائے دیالی کے مشرقی کنارے کے ساتھ چلتے ہوئے شمال کا رخ کرنے کو کہا تھا۔ طیسفون کے نواح میں وہ کئی مرتبہ گھوم چکی تھی اس لیے وہاں اسے سمتوں کا اندازہ کرنے میں دشواری نہیں ہو رہی تھی۔ اس کا رخ شمال مغرب کی طرف ہو گیا کہ دریائے دیالی اسی جانب موجود تھا۔ طیسفون کے خوب صورت محل کی روشنیاں جل رہی تھیں۔ اس کے علاوہ بھی اکادکا حویلیوں میں روشنی ہورہی تھی ورنہ پورا شہر اندھیرے میں ڈوبا تھا۔ دریاکے کنارے سے فرلانگ بھر پہلے ہی اسے پانی کا شور سنائی دینے لگا تھا۔ کنارے پر کافی جھاڑیاں سرکنڈے اور گھاس پھونس اگی تھی۔ وہ دریا سے فاصلہ رکھ کر اس کے متوازی چلنے لگی۔ اندھیرے کا ایک اپنا خوف ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ جنوں بھوتوں کی خیالی شکلیں ،موذی جانوروں سے مڈبھیڑ کا ڈر ،دشمنوں کے آجانے کاخطرہ اور ان جیسے دوسرے ڈراﺅنی سوچوں کو ساتھ لیے وہ لرزتی کانپتی آگے بڑھتی رہی۔ گیدڑوں کی بھیانک آوازیں اسے مسلسل سنائی دے رہی تھیں۔ ساری رات وہ رکے بغیر چلتی رہی۔ مسلسل چلنے کی وجہ سے اسے پیاس محسوس ہو رہی تھی لیکن دریائے کے قریب جانے حوصؒہ اسے نہیں ہوا تھا۔ اسی طرح ایک دو چھوٹی چھوٹی آبادیاں اسے نظر آئی تھیں لیکن کسی گھر میں گھسنے کی جرات وہ نہیں کرسکی۔ طلوع آفتاب کے وقت وہ ایک ایسی جگہ پہنچی جہاں درختوں کا جھنڈ نظر آرہا تھا۔ روشنی ہونے پر اس کے دل کو ڈھارس ملی۔ لب دریا جا کر اس نے اوک سے پانی پیا اور دن گزارنے کے لیے جگہ ڈھونڈنے لگی۔ مسلسل چلتے ہوئے وہ سخت تھک گئی تھی۔ تھوڑی دیر تلاش کے بعد اسے درختوں کے درمیان ایک ہموار تیلا نما ابھری جگہ نظر آگئی جہاں سورج کی روشنی اچھی طرح لگ رہی تھی۔ زمین پر لیٹ کر اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ جلد ہی اسے نیند آگئی تھی۔ لیکن وہ زیادہ دیر سو نہیں سکی تھی۔ گھوڑے ہنہناہٹ سے اس کی آنکھ کھلی تھی اور یہ دیکھ کر اس کا خون خشک ہونے لگا تھا کہ تین گھڑ سوار اس کے گرد کھڑے دلچسپی سے اسے گھور رہے تھے۔
وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ ایک گھڑ سوار نیچے اترکر اس کی جانب بڑھا۔ ”کون ہو تم ….“
جواب دیے بغیر وہ الٹے قدموں پیچھے ہٹی اور پھر ایک دم مڑ کر بھاگ پڑی۔
”جانے نہ پائے۔“وہ بھاگ کر گھوڑے کے پاس پہنچا اور رکاب میں پاﺅں ڈالتے ہوئے سوار ہو گیا۔ اس کے ہمرائیوں نے سبرینہ کے پیچھے گھوڑے دوڑا دیے تھے۔ سبرینہ جان توڑ کر بھاگ رہی تھی لیکن گھوڑوں کا مقابلہ کرنا اس کے بس میں کہاں تھا۔ لمحوں ہی میں انھوں نے اسے آلیا تھا۔ اس کے دائیں بائیں گھوڑے دوڑاتے ہوئے وہ اس کی حالت پر قہقہے لگانے لگے۔ ٹھوکر لگنے سے وہ نیچے گری اور وہ بھی گھوڑوں سے چھلانگ لگا کر نیچے آگئے۔
سبرینہ کا سانس دھونکنی کی مانند چل رہا تھا۔ وہ اس کے گرد پاﺅں کے بل پر بیٹھ کر اسے دلچسپی سے گھورنے لگے۔
ایک نے پوچھا۔ ”خوب صورت لڑکی کہاں بھاگ کر جا رہی تھی۔“
وہ گڑگڑائی۔ ”مم….مجھے جانے دو۔ خداوند یزادن کا واسطہ ….“
ایک معنی خیز لہجے میں بولا۔ ”اتنی خوب صورت لڑکی کے ملنے پر ہم خداوند یزدان کا شکرہی ادا کر سکتے ہیں۔“
”مم….میں شہنشاہ فارس کے سالار کی بیٹی ہوں ….مجھے نہاوند پہنچانے پر تمھیں انعام مل سکتا ہے۔“
”تم سے بڑا انعام کیا دیں گے خانم ….“ہوس ناک اندا زمیں کہتے ہوئے ایک نے اس کے بازو سے پکڑلیا۔ اس نے احتجاج کرنا چاہا مگر تینوں ایک دم اس پر پل پڑے تھے۔ وہ چیختے ہوئے ان سے جان چھڑانے لگی۔ مگر نرم و نازک اکیلی لڑکی ،تین مسٹنڈوں کا کیا مقابلہ کرتی۔ انھوں نے لباس کو پھاڑ کر اس کے بدن سے علاحدہ کر دیا تھا۔
”ارے اس نے تو سونے کے سکوں سے بھری تھیلی چھپائی ہوئی ہے۔“ایک آدمی نے اس کے لباس میں چھپائی ہوئی تھیلی نکال کر کھولی۔ ان باچھیں کھل گئی تھیں۔
دوسرے نے اس کی کمر سے بندھا کپڑا کھول کر نعرہ لگایا۔ ”ارے یہ تو چلتا پھرتا خزانہ ہے۔ یہ زیورات بھی ہیں۔“
”گویاتگنا معاوضا مل گیا ہے۔“
وہ گڑگڑائی۔ ” سارے سکے اور زیورات لے لو اور مجھے جانے دو۔“
”اتنی جلدی بھی کیا ہے خانم۔“ایک نے مکروہ انداز میں کہا۔ اس کے ساتھ ہی وہ غلیظ انداز میں اس کے قریب ہوا۔
وہ مچلتے ہوئے چیخنے لگی۔ دو آدمیوں نے اس کے بازوﺅں سے پکڑ کر اس کے اٹھنے کی کوشش ناکام بنا دی تھی جبکہ تیسرا اپنے لباس کی طرف متوجہ ہوا۔ اور اس سے پہلے کہ وہ اپنے بدن سے زیریں لباس علاحدہ کرتا۔ ایک تیر سنسناتا ہوا اس کی کھوپڑی میں پیوست ہو گیا تھا۔ اوندھے منہ نیچے گرتے ہوئے وہ اذیت سے پھڑکنے لگا۔ اس کے ساتھیوں کے چہرے پر خوف بھری حیرانی ابھری۔ سبرینہ کے بازوﺅں کو چھوڑتے ہوئے وہ کھڑے ہو کر اپنے گھوڑوں کی طرف لپکے۔ دو قدم اٹھاتے ہی ایک کی پیٹھ میں اتنی شدت سے تیر پیوست ہواکہ تیر کی انّی سامنے چھاتی سے باہر نکل آئی تھی جبکہ دوسرے کو گھوڑے کی رکاب میں پاﺅں ڈالتے ہوئے داعی اجل نے سلام کہا تھا۔ تیر اس کی گردن سے گزر گیا تھا۔
سبرینہ خوفزدہ ہو کر وہیں لیٹی رہی۔ تینوں کے گرتے ہی ایک درخت کی اوٹ سے تنومند جوان نکل کر اس طرف بڑھا۔ وہ لباس کی دھجیاں اپنے جسم پر لپیٹ کر خود کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔
اس کی کمر سے نیام میں بندھی تلوار لٹکی ہوئی تھی جبکہ پیٹھ پر تیروں سے بھرا ترکش لدا تھا۔ ہاتھ میں لمبی کمان تھامے وہ گہری نظر سے سبرینہ کودیکھتا ہوا قریب آیا۔ لیکن جونھی اسے سبرینہ کے ناکافی لباس کا احساس ہوا لاشوں کی جانب متوجہ ہو گیا۔ سبرینہ کے قریب پڑی لاش کی کھوپڑی سے تیر کھینچ کر اس نے واپس ترکش میں ڈالا اور اس کے بدن سے لپٹا بالائی چوغہ اتار کر سبرینہ کی طرف بڑھا دیا۔
”یہ پہن لو۔“نرم لہجے میں کہہ کر وہ گھوڑوں کی طرف بڑھ گیا۔ سبرینہ کے بدن پر وہ چوغہ کافی ڈھیلا تھا۔ چوغہ پہن کر اس نے لاش کے بدن سے زیریں لباس اتار کر بھی پہن لیا تھا۔ اس دوران نووارد لاشوں کی تلاشی لے کر ان کے لباس سے سکوں والی تھیلی اور زیورات برآمد کر چکا تھا۔
”یہ تھیلی اور زیورات انھوں نے مجھ سے چھینے ہیں۔“اجنبی کے ہاتھ میں اپنی چیزوں کو دیکھتے ہوئے اس نے ڈرتے ڈرتے انکشاف کیا۔
”یہ لو۔“اس نے شرافت سے تھیلی اور زیورات اس کی طرف بڑھا دیے۔
”اگر مجھے نہاوند تک پہنچا دو تو یہ تھیلی آپ کو مل سکتی ہے۔“اجنبی کی شرافت کو دیکھتے ہوئے اسے پیشکش کرنے کی جرات ہوئی۔
وہ مسکرایا۔ ”اگر چاہتا تو تمھیں نہاوند پہنچائے بغیر بھی یہ تھیلی اور زیورات میرے ہو سکتے تھے۔“
وہ جلدی سے بولی۔ ”نہاوند جا کر اس سے دگنے سونے کے سکے دوں گی۔ میرے والد محترم شہنشاہ فارس کی فوج میں دہ ہزاری سالار ہیں۔ البتہ یہ زیورات کسی کی امانت ہیں۔“
”کیا نام ہے تمھارے والد کا ؟“اس مرتبہ اجنبی کے لہجے میں دلچسپی تھی۔
”بہروز۔“
اجنبی کے چہرے خوشی نمودار ہوئی۔ وہ تعظیم کے انداز سر جھکاتا ہوا بولا۔ ”خانم!…. میں معزز سالار بہروز کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ اورآپ کو یہ جان کر خوشی ہو گی کہ مجھے خداوند فارس کے خصوصی محافظ سکندر نے طیسفون کے حالات جاننے کے لیے روانہ کیا ہے۔ ادھر کا رخ کرتے وقت آپ کے والد محترم نے بھی اپنی حویلی کی خیر خبر لینے کا کہا تھا۔“
والد کی زندگی کی نوید پا کر وہ خوشی سے رو پڑی تھی۔ چند لمحے اسے اپنی حالت پر قابو پانے میں لگے۔ سنبھلتے ہوئے وہ کہنے لگی۔ ”میرا نام سبرینہ ہے۔ آپ کو کس نام سے مخاطب کر سکتی ہوں۔“
”بہرام ،میں یک صد سواروں کا کمان دار ہوں۔“
”ٹھیک ہے آپ کو طیسفون کا رخ کرنے کی ضرورت نہیں ،وہاں کے حالات مجھے اچھی طرح معلوم ہیں۔“
”خانم۔“بہرام نے تائیدی انداز میں سر جھکا کر ایک گھوڑا پکڑکر اس کے قریب لایااور ایک گھٹنا زمین پرٹیک کر بیٹھ گیا۔ یہ سبرینہ کو گھوڑے پر سوار ہونے کی دعوت تھی۔
وہ اطمینان سے اس کی ران پر پاﺅں رکھ کر گھوڑے پر بیٹھ گئی۔ ایک دم اس کے اندر اعتماد در آیا تھا۔ اسے سوار کرا کر وہ باقی دونوں گھوڑوں کی لگامیں پکڑ کر اس طرف بڑھ گیا جہاں اس کا اپنا گھوڑا موجود تھا۔ سبرینہ گھوڑے کو پیدل چلاتی اس کے پیچھے ہو لی۔ تھوڑ دیر بعد ان کے گھوڑے نہاوند کی جانب درمیانی رفتار سے بھاگ رہے تھے۔ فالتو گھوڑوں کی لگامیں بہرام کے گھوڑے کی زین سے بندھی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: