Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 9

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر- قسط نمبر 9

–**–**–

ان کا قافلہ سہ پہر کے وقت بنو کاظمہ کے مضافات میں پہنچا تھا۔ شیخ قافلہ نے ایک دن وہیں آرام کرنے کا حکم جاری کر دیا تھا۔ اگلے روز دن چڑھے شریم اپنے بھتیجے کے ساتھ بنو کاظمہ میں داخل ہوا۔ دوسرے قافلے والے بھی گھوم پھر رہے تھے۔ خلیج فارس کے کنارے آباد یہ ایک بڑا قبیلہ تھا۔ دو پہر کوچچا بھتیجا واپس لوٹے تو قافلے درمیان نیلامی ہوتی دکھائی دی۔ بنو کاظمہ والے کچھ غلام بیچ رہے تھے۔ ایک آدمی سے انھیں معلوم ہوا کہ بنو کاظمہ والوں کو فارس و روم کی حالیہ جنگ سے جو قیدی ہاتھ لگے تھے وہ انھیں بیچ رہے تھے۔
”مالک کیا خیال ہے ؟“شریم نے بھتیجے کی مرضی معلوم کی۔
مالک اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولا۔ ”ہمارے پاس سامان زیادہ ہے۔ اونٹوں پر لادنے ، اتارنے میں کافی وقت خرچ ہوتا ہے۔ اگر دو تین غلام خرید لیں تو واپسی پر اچھی قیمت پر بک بھی جائیں گے۔“
”سردار کے بیٹے ہو ،نظر منافع ہی پر رہتی ہے۔“شریم مسکراتے ہوئے نیلامی جگہ بڑھ گیا۔
بیس مرد اور تین خواتین بکنے آئے تھے۔ عورتو ںمیں ایک کافی خوب صورت اور جوان تھی۔ اسے تو ایک قریشی سردار نے بیس اوقیہ چاندی (اوقیہ تین تولے چار ماشے کے بہ قدر وزن ہوتا ہے )میں فوراََ خرید لیا تھا۔ باقی دو عورتیں دس دس اوقیہ چاندی میں بکی تھیں۔ جبکہ مردوں کی قیمت وہ سات اوقیہ چاندی مانگ رہے تھے۔
غلام ایک قطار میں کھڑے تھے۔ شریم نے تین تنو مند مرد پسند کیے۔ بیچنے والے نے جونھی ان کی رسیاں کھول کر شریم کی طرف دھکیلا اچانک اس کی نظریں سب سے آخر میں بندھے ہوئے ایک لڑکے پر پڑیں۔ گندمی رنگ کا وہ لڑکا قد کاٹھ کا اچھا تھا لیکن کم عمر تھا۔ اس کا چہرہ دیکھتے ہی شریم کا دل یوں دھڑکا جیسے وہ بہت اپنا ہو۔ اس کی سمجھ میں اپنی کیفیات نہیں آئی تھیں لیکن ایک دم اس نے ایک تنو مند غلام کو پیچھے دھکیلتے ہوئے بنو کاظمہ کے بیوپاری کو کہا۔
”یہ والا۔“
اس کے چہرے پر ہلکی سی حیرانی ابھری اور خوش دلی سے سر ہلاتے ہوئے اس نے لڑکے کی بندشیں کھول کر اس کی طرف دھکیل دیا۔
”چچا جان پہلے والا ٹھیک تھا یہ اس جتنا تنومند نہیں ہے۔“
شریم اطمینان سے بولا۔ ”جانتا ہوں ،یہ میں نے کام کے لیے نہیں اپنی خدمت کے لیے خریدا ہے۔“
تینوں غلاموں کو ساتھ لے کر وہ اپنے پڑاﺅ کی جانب بڑھ گئے۔ وہ سر جھکائے خاموشی سے ان کے ساتھ روانہ تھے۔
مالک بن شیبہ منہ بناتے ہوئے بولا۔ ”پہلے تو انھیں عربی سکھانا پڑے گی تاکہ یہ ہماری بات سمجھ سکیں۔“
شریم ہنسا۔ ”فکر نہ کرو اتنی فارسی مجھے آتی ہے کہ انھیں کام سمجھا سکوں۔“
پڑاﺅ میں لے جا کر شریم نے تینوں غلاموں کو بھاگنے کی کوشش کرنے کے خطرناک نتائج سے آگاہ کیا۔ اور پھر جواں سال لڑکا جو یقینا یشکر تھا کو اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کر کے باقیوں کو آرام کرنے بھیج دیا۔
”تمھارا نام کیا ہے ؟“اپنے خیمے میں جاتے ہی وہ نرم لہجے میں پوچھنے لگا۔ اس کے لہجے اور اندازمیں ایسی کوئی بات ضرور تھی کہ وہ یشکر کو بہت اچھا لگا تھا۔
”یشکر۔“
شریم نے سوالیہ لہجے میں کہا۔ ”یشکر بن ….؟“
”یشکر بن سکندر۔“
”یشکر میرا نام شریم ہے ،میں بنو جساسہ کے سردار کا چھوٹابھائی ہوں۔ اور تمھیں میں نے اپنی خدمت کے لیے خریدا ہے۔“
”اس کے چہرے پر نظریں جماتے ہوئے یشکر عربی میں بولا۔ ”جی محترم سردار۔“
”تمھیں عربی آتی ہے۔“شریم حیران رہ گیا تھا۔
یشکر نے اثبات میں سر ہلایا۔ ”اس سے زیادہ جتنی آپ فارسی جانتے ہیں۔“
شریم نے تحسین آمیز لہجے میں کہا۔ ”عربوں کے انداز میں بول رہے ہو۔“
یشکر اطمینان سے بولا۔ ”کیوں کہ میری جڑوں نے اسی ریت سے نمی چوسی ہے۔“(یعنی میرے اجداد کا تعلق عرب سے تھا )
شریم نے دلچسپی سے پوچھا۔ ”تو فارس کیوں جا بسے ؟“
”ہجرت کی وجوہات میں مجبوریاں مقدم ہوتی ہیں۔“
”ہونہہ۔“گہرا سانس خارج کرتے ہوئے شریم نے پوچھا۔ ”بھوک لگی ہے ؟“
”ہاں۔“یشکر نے بے تکلفی سے سر ہلا دیا۔
”تو آجاﺅ۔“شریم نے ایک رکابی میں عمدہ تمر نکال کر اسے قریب بلایا۔ (کھجور کو عربوں کے ہاں بہت اہمیت حاصل ہے۔ کھجور کو مختلف مرحلوں کے لیے مختلف نام دیے گئے ہیں۔ مثلاََ کچی کھجور کو”لون“ادھ کچری کو ”بُسر“ پکی ہوئی تازہ کھجور کو ”رُطب“اور خشک کھجور کو ”تمر “کہتے ہیں )
٭٭٭
”خانم ،وہ آبادی نہاوند کی ہے۔“بہرام نے کچھ فاصلے پر نظر آنے والی فصیل کی طرف اشارہ کیا۔ انھیں رستے میں چار دن لگ گئے تھے۔ سبرینہ کے آرام کی خاطر بہرام نے رفتار بہت زیادہ تیز نہیں رکھی تھی۔ اس نے ہر سبرینہ کو آرام پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔ اور اس کا بہترین سلوک سبرینہ کی نگاہ سے اوجھل نہیں تھا۔
”یہ رکھ لو۔“سبرینہ نے طلائی سکوں کی تھیلی اس کی جانب اچھال دی۔
تھیلی پکڑتے ہوئے بہرام پھیکے انداز میں مسکرادیا۔
اس کے چہرے کو غور سے دیکھتی سبرینہ نے تسلی دیتے ہوئے کہا۔ ”نہاوند پہنچ کر مزید انعام بھی ملے گا۔“
بہرام بے دلی سے بولا۔ ”جانتا ہوں۔“
سبرینہ نے حیرانی سے پوچھا۔ ”پھر دکھی کیوں ہو گئے ؟“
وہ سر جھکاتے ہوئے بولا۔ ”یہ میری زندگی کا خوشگوار سفر تھا۔ اور خداوند یزادن سے میں نے یہ دعا کی ہے کہ اس سفر کی طوالت اور میری زندگی کا اختتام اکھٹے ہو۔“
سبرینہ چند لمحے اسے گھورتی رہی پھر نرم لہجے میں بولی۔ ”مجھے عرب وحشیوں کی قید سے چھڑانے والا معزز سکندر کا بیٹا یشکر ہے۔ اس سے الوداع ہوتے وقت میں نے کہا تھا کہ اس کی منتظر رہوں گی۔“
”جانتا ہوں میری خواہش کی راہ میں میری حیثیت آڑ ہے۔“
اس جوان رعنا کا دکھ بھرا لہجہ سبرینہ کو عجیب سی خوشی سے ہمکنار کر گیا تھا۔ وہ مسکرائی۔ ”یشکر نے کہا تھا کہ ، اپنے انتظار کو طول نہ دوں اور کسی ایسے کا ہاتھ تھام لوںجسے میری فکر ہو۔ یقینا اس کا مشورہ رد کرنے کے قابل نہیں ہے۔“
بہرام بے چارگی سے بولا۔ ”چاہے خیال رکھنے والے کی حیثیت ایسی کیوں نہ ہو کہ آپ کے والد کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہوئے اسے ہاتھ کے کٹ جانے کا اندیشہ لاحق ہو۔“
وہ وارفتگی سے بولی۔ ”محبت حیثیت و مرتبہ نہیں پہچانتی۔“
بہرام نے حقیقت کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا۔ ”مگر صاحب اختیار پہچانتے ہیں۔“
”میں سولہ سال کی ہوں اور مزیددو تین سال تک اپنی شادی موخّر کرنے کے لیے وا لدِ محترم پر زور دے سکتی ہوں۔ اور دعا کرتی ہوں کہ اس عرصے میں آپ کوئی ایسا کارنامہ سر انجام دے سکیں کہ خداوند فارس سے منہ مانگا انعام پانے کے اہل بن جائیں۔“
”اپنے وعدے پر قائم رہو گی سبرینہ۔“بہرام نے پہلی بار اسے نام سے پکارا تھا۔
”بہ شرطِ زندگی۔“دھیمے لہجے میں کہتے ہوئے وہ آگے بڑھ گئی۔
بہرام کے چہرے پر چھائی بیزاری اور اداسی خوشی میں ڈھل گئی تھی۔ فصیلِ شہر کے دروازے پر موجود دربان اسے پہچانتے تھے۔ اسے دیکھتے ہی انھوں نے دروازہ کھول دیا تھا۔ وہ نہاوند کے شاہی محل کی جانب بڑھ گیا۔ محل کے قریب بنے ہوئے مکانات میں سبرینہ کا والد رہایش پذیر تھا۔ وہ گھڑی بھر پہلے ہی دربارشاہی سے لوٹا تھا۔ مکان کے دروازے پر متعین دربان سبرینہ کو نہیں جانتے تھے۔ بہرام نے مکان کے سامنے گھوڑا سے اتر کر فوراََ سبرینہ کے گھوڑے کے ساتھ دو زانو ہوا۔ اس کے گھٹنے پر پاﺅں رکھ کر وہ نیچے اتری۔ بہرام دربانوں کو مخاطب ہوا۔

”یہ محترم سالارکی صاحبزادی سبرینہ خانم ہیں۔“
دربانوں نے رکوع کے بل جھکتے ہوئے اسے تعظیم دی اور دروازہ کھول دیا۔
”میرے ساتھ آﺅ۔“بہرام کو کہتے ہوئے وہ آگے بڑھ گئی۔ درمیانے سے مکان کا صحن عبور کر کے وہ برآمدے میں داخل ہوئی اور اس کمرے کے سامنے رک گئی جہاں دو دربان متعین تھے۔ وہ دونوں بھی اسے جانتے نہیں تھے۔
بہرام گلا کھنکار کر تعارف کرانے ہی لگا تھا کہ وہ ہاتھ کے اشارے سے دربانوں کو ایک جانب ہونے کا اشارہ کرتی ہوئی دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوئی۔ اس کا پر اعتماد انداز ایسا نہیں تھا کہ دربان روکنے کی جرّات کرتے۔ بہرام وہیں رک کر دربانوں کو اس کے متعلق بتانے لگا۔
بہروز لکڑی کی منقش کرسی پر بیٹھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں چاندی کا آب خورہ تھا جو ارغوانی رنگ کے مشروب سے بھرا ہوا تھا۔ سبرینہ کو دیکھتے ہوئے ایک لمحے کے لیے تو اسے خواب کا گمان ہوا۔
سبرینہ دوڑتے ہوئے اس کی جانب بڑھی۔ جام کو میز پر رکھتے ہوئے وہ ایک دم کھڑا ہو گیا۔
سبرینہ قریب جاتے ہی اس کے ساتھ چمٹ گئی تھی۔
وہ شدت جذبات سے بولا۔ ”سرور چشم ،یہ سپنا تو نہیں ہے۔“
وہ سسکی۔ ”پدرِ محترم ،مادرِ مہربان ہمیں چھوڑ کر چلی گئی ہیں۔“
بہروز شفقت بھرے انداز میں اس کا سرسہلانے لگا۔ یہ جذباتی ملاپ کچھ دیر جاری رہا۔ پھر اسے خود سے علاحدہ کرتے ہوئے بہروز نے مسہری پر بٹھایااور شراب سے بھر اہوا جام اس کی طرف بڑھا دیا۔
وہ جام تھامتے ہوئے بولی۔ ”پدرِ محترم ،انعام کا ایک صحیح حق دار دروازے پر کھڑا آپ کی سخاوت کا منتظر ہے۔“
بہروز نے فوراََ اپنے دربانوں کو آواز دی۔ ”بہادر جوان کو اندر بھیج دو۔“
بہرام اندر داخل ہو ا اور رکوع تک جھک کر بہروز کو تعظیم دیتے ہوئے سیدھا کھڑا ہو گیا۔
”بہرام ،تم میری امید سے بڑھ کر کارآمد ثابت ہوئے۔ اور اس وقت تم منہ مانگے انعام کے مستحق قرار پا چکے ہو۔“
بہرام کا دل زور سے دھڑکا۔ اس نے سوالیہ نظریں سبرینہ پر ڈالیں۔ لیکن اس نے خفیف انداز میں دائیں بائیں سر ہلا کر اسے منع کر دیاتھا۔
بہرام دل میں چھپی خواہش پر پردہ ڈالتے ہوئے بولا۔ ”یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ میں محترم سالار کی توقعات پر پورا اتراہوں۔ میں یک صدی کمان دار ہوں اور محترم سالار کی پیشکش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گزارش کروں گا کہ مجھے محترم سالار کا خصوصی محافظ بننے کی عزت سے نوازا جائے۔“اس کی بات سنتے ہی سبرینہ کے ہونٹوں پر دل آویز تبسم نمودار ہوا۔ بہرام نے اسے روزانہ دیکھنے کا بہانہ تلاش لیا تھا۔
”کل طلوع آفتاب کے ساتھ تم یہ ذمہ داری نبھانے پہنچ جانا۔“خوشگوار انداز میں مسکراتے ہوئے بہروز نے گلے میں ڈالی خوب صورت موتیوں کی مالانکال کر اس کی طرف اچھال دی۔
مالا کو ہوا میں پکڑتے ہوئے بہرام دوبارہ رکوع کے انداز میں جھک کر سیدھا ہوا اور الٹے قدموں پیچھے ہٹنے لگا۔ بہروز کے سبرینہ کی طرف متوجہ ہوتے ہی اس کی نگاہوں نے سبرینہ کے رخِ روشن کو حصار میں لے لیا تھا۔ وہ بھی دل آویز مسکراہٹ ہونٹوں سے چپکائے اسے گھورتی رہی۔
٭٭٭
شہنشاہ فارس کو آرام پر آمادہ دیکھ کر سکندر اس کے شبستان سے جونھی باہر نکلا،دروازے پر کھڑے محافظ نے اسے بہرام کی آمد کا بتایا۔
”اسے میرے کمرے میں بھیج دو۔“کہتے ہوئے وہ آگے بڑھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد بہرام اس کے سامنے موجود تھا۔
”کیا خبر لائے ہو ؟“اس نے چھوٹتے ہی پوچھا۔
جواباََ اس نے سبرینہ سے سنی ہوئی معلومات بیان کر دیں۔
اسے جانے کا اشارہ کر کے سکندر نے اپنے دربان کو اندر بلا کر بہروز کی بیٹی کو بلانے حکم دیا۔
شہنشاہ فارس کا خصوصی محافظ ہونے کی وجہ سے اس کے اختیارات سالارِ اعظم جتنے تھے۔ باپ بیٹی کی آمد تک وہ شراب سے شغل کرتا رہا۔
جونھی بہروز اپنی بیٹی کے ساتھ اندرداخل ہوا وہ فوراََ اٹھ کھڑا ہوا۔ ”یقینا میری بیٹی تھکی ہوئی ہوگی ،مگر مجھ سے صبر نہ ہو سکا۔“اس نے آگے بڑھ کر سبرینہ کے کندھوں کے گرد بازو ڈال کر اس کی پیشانی چوم لی تھی۔
”محترم چچا جان ،میں کافی بے چینی سے آپ کے بلاوے کی منتظر تھی۔ آپ دیر کر کے مجھے خفا ہی کرتے۔“
سکندر نے اسے ہاتھ سے پکڑ کر کرسی پر بٹھایااور بہروز کو نشست سنبھالنے کا اشارہ کرتا ہوا خود بھی بیٹھ گیا۔ خدمت گار نے ارغوانی مشروب کے جام بھر کر انھیں پیش کیے اور ایک جانب مودّب کھڑا ہو گیا۔
”محترم چچا جان ،میرے پاس آپ کی امانت ہے۔“سبرینہ نے اقلیمہ کے زیورات احترام سے اس کی جانب بڑھائے۔ زیورات کو دیکھتے ہی سکندر کی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی۔
سبرینہ بولی۔ ”انھیں لگا آپ باقی نہیں رہے۔“
سکندر نے پوچھا۔ ”آخری وقت میں یشکر اس کے ساتھ تھا ؟“
”ہاں ،انھوں نے یشکر کی بانہوں میں دم توڑا ہے۔ ان کی لاش کی بے حرمتی کرنے والے عربی کو یشکر نے ان کی لاش کے ساتھ زندہ جلا دیاتھا۔ لیکن طیسفون میں فاتح فوج کی کثیر تعداد متحرک تھی کہ وہ گرفتار ہونے سے نہ بچ سکا۔“
سکندر کے چہرے پر تحسین آمیز مسکراہٹ ابھری۔ ”مجھے اس سے یہی امید تھی۔“
”وہ بنو کاظمہ والوں کی قید میں ہے۔ اور یہ پیغام دیا ہے کہ اس کی تلاش آپ کو فرض سے غافل نہ کر دے۔“ایک لمحہ ٹھہر وہ بولی۔ ”یہ انگوٹھی بھی مجھے یشکر نے دی تھی۔“اس نے ہچکچاتے ہوئے وہ قیمتی انگوٹھی بھی اتار کر سکندر کے حوالے کر دی۔ جس کی وجہ سے اس کی جان بچی تھی۔
سکندر نے پوچھا۔ ”یہ انگوٹھی اس نے زیورات سے علاحدہ تمھارے حوالے کی تھی۔“
”ہاں۔“کہہ کر سبرینہ نے تمام واقعہ کہہ سنایا۔
”مجھے فارس کی بیٹی پر فخر ہے۔“تحسین بھرے لہجے میں کہتے ہوئے سکندر نے انگوٹھی اس کی طرف بڑھائی۔ ”تم اس کی صحیح حق دار ہو۔“
سبرینہ کے چہرے پر خوشی نمودار ہوئی دونوں ہاتھوں سے انگوٹھی تھامتے ہوئے اس نے سکندر کے ہاتھ کو بوسا دیا۔ ”محترم چچا جان ،یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔“
تھوڑی دیر مزید بات چیت کے بعد سکندر نے انھیں جانے کی اجازت دے دی تھی۔
٭٭٭
بنو کاظمہ میں انھیں فارس کے تازہ حالات کی جان کاری مل گئی تھی۔ شکست کھانے کے بعد شہنشاہ فارس کوئی جوابی حملہ نہیں کر پایا تھا۔ رومن افواج اب تک فارس میں موجود تھیں اور طیسفون کی فتح کے بعد سوس کو گھیرے ہوئے تھیں۔ بنو کاظمہ سے خشکی کے رستے اصطخر اور اصفہان جانے کاخیال انھیں دل سے نکالنا پڑ گیا تھا۔ وہاں سے انھوں نے حیرہ کا رخ کیا کہ اب یہی رستا باقی تھا۔ حیرہ جاتے ہوئے انھیں چند دن لگ گئے تھے۔ اس دوران شریم، یشکر سے کافی گھل مل گیا تھا۔ یشکر کو بھی ایک عجیب سی کشش اس کی طرف مائل رکھتی تھی۔ حیرہ پہنچتے ہی انھیں اپنے سامان کے اچھے گاہک مل گئے تھے۔ ایک دو قبیلوں نے حیرہ سے بابل کا رخ کیا تھا۔ بنو جساسہ والے البتہ حیرہ سے آگے نہیں بڑھے تھے۔ حیرہ جا کر یشکر کو ”صاعقہ “یاد آئی۔ دوسرے دن اس نے شریم کے سامنے اس کا اظہار کر دیا۔
”محترم سردار ،اگر اجازت دیں تو یہاں ایک آدمی کے پاس میری امانت پڑی ہوئی ہے۔ وہ لے آﺅں۔“
شریم نے حیرانی سے اس کی جانب دیکھا۔ اور لمحہ بھر سوچنے کے بعد بولا۔ ” میں ساتھ چلتا ہوں۔“
”جی ضرور۔“یشکر نے خوشی سے سر ہلایا۔
پڑاﺅ سے نکل کر وہ لوہار کی دکان کی طرف بڑھ گئے۔ سفید ریش لوہار نے اسے دیکھتے ہی پہچان لیا تھا۔ خوب صورت نیام میں بند ،دیوار سے لٹکی صاعقہ اتار کر اس نے یشکر کی طرف بڑھا دی۔ تلوار کے دستے پر ہاتھ رکھتے ہی یشکر کا دل عجیب انداز میں دھڑکنے لگا تھا۔ اسے اپنی طاقت بڑھتی ہوئی محسوس ہوئی۔ شریم نے اس کے ہاتھ سے تلوار لے کر میان سے نکال کر دیکھی۔ اس کی آنکھوں میں ستائش ابھر آئی تھی۔ وہ بے ساختہ بولا۔
”بیچنے کا ارادہ ہو تو میں منہ مانگی قیمت ادا کر سکتا ہوں۔“
”نہ کوئی مرد بیوی کو بیچتا ہے اور نہ جنگ جو اپنے ہتھیار کو۔“
شریم ہنسا۔ ”غلام اور جنگ جو….“
”محترم سردار،انسان سے آزادی چھینی جا سکتی ہے اس کا علم اور صلاحیت نہیں۔“
شریم نے پیش کش کی۔ ”میرے پاس کالے رنگ کا ایک گھوڑا ہے ،یقینا اس کی سواری تمھیں محظوظ کرے گی۔“وہ لوہار کی دکان سے نکل کر پڑاﺅ کی طرف چل پڑے۔
یشکر ہنسا۔ ”وہ اَرجل ….“(ایسا گھوڑا جس کاکوئی ایک پچھلا پاﺅں گھٹنوں تک سفید ہواور یہ منحوس خیال کیا جاتا ہے )
”تو گھوڑوں کو جانتے ہو۔“شریم کے لہجے میں حیرانی اور تحسین کا عنصر بھی شامل تھا۔
” جس کُمیت پر سواری کرتے ہو یہ اس کے بدلے بھی ناں دوں۔“(کُمیت،سرخی مائل گھوڑا جو سفر کی تکالیف میں بہت متحمل ہوتا ہے )
شریم طنزاََ بولا”تلوار کوبہت مہنگا کر دیا ہے لڑکے ،بہ ہرحال اس کے بدلے آزادی حاصل کرنا برا سودا نہیں ہے۔“
وہ عزم سے بولا۔ ”صاعقہ کے بدلے آزادی کے حصول کے بجائے ،صاعقہ کے استعمال سے آزادی کا حصول مجھے زیادہ پسند ہے۔“
شریم ہنسا۔ ”تو تم مکاتب بننا چاہتے ہو۔“(مکاتب ایسے غلام کو کہتے ہیں جو اپنے مالک کو اپنی قیمت چکاکے آزادی حاصل کر لے)
”ہاں۔“یشکر نے اثبات میں سر ہلایا۔ ”میں نے سنا ہے کہ عرب میلوں میں تیغ زنی کے مقابلے ہوتے ہیں اور جیتنے والے کو انعام ملتا ہے۔“
”اچھی تلوار کے لیے ،اچھا لڑاکا بھی ہونا چاہیے بر خوردار۔“شریم طنزیہ انداز میں کہتے ہوئے اپنے خیمے کی طرف بڑھ گیا۔ یشکر غلاموں کے خیمے میں جا کر صاعقہ کا جائزہ لینے لگا۔ لوہار نے اس کے شایان شان نیام تیار کی تھی ۔تلوار کے دستے پر ہاتھ رکھتے ہی اس کے دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئی تھیں ۔ یوں جیسے تلوار اس نے باتیں کر رہی ہو۔ اسے بتا رہی ہو کہ وہ کتنے سروں شانوں سے جدا کر چکی ہے۔ تھوڑی دیر بعد اس نے اپنی پرانی چادر سے کپڑے کا ٹکڑا پھاڑ کر نیام کے گرد لپیٹ دیا۔ خوب صورت نیام اب بدرنگ کپڑے میں چھپ گئی تھی ۔
٭٭٭
شہنشاہ ِ فارس کے پاس اصطخر و اصفہان کے امدادی دستے پہنچ گئے تھے ۔کچھ ریاستوں کی کمک اب تک راستے میں تھی لیکن قاصد ان کے بارے اطلاعات لے کر آگئے تھے ۔
اس وقت وہ تخت شاہی پر بیٹھا تھا ۔فوج کے بڑے سالار ،وزیر و مشیر اس کے سامنے عہدوں کی ترتیب سے بیٹھے اس کے بولنے کے منتظر تھے ۔تمام کو گہری نگاہ سے دیکھتا ہوا وہ کہنے لگا ۔
”طیسفون سے موصول ہونے والی تازہ اطلاعات کے مطابق وہا ں رومن افواج کی قلیل تعداد موجود ہے ۔لشکر کا بڑا حصہ سوس کے مضافات میں پڑاﺅ ڈالے ہوئے ہے اور ہمارے لیے پہلی ترجیح طیسفون کے محلات ی واپسی ہو گی ۔“
سپہ سالار اٹھ کر تعظیم میں جھکتا ہوا بولا ۔”بالکل بجا فرمایا حضور طیسفون پر قبضہ جما کر ہم دشمن کو جوانب سے گھیر سکتے ہیں ۔ان کے مشرق میں اصفہان و اصطخرکی بقیہ افواج اور غربی جانب ہم موجود ہوں گے ۔“
”کرمان ،شیراز ،یزد وغیرہ سے آنے والے دستے رستے میں ہیں اور ہمارا خیال ہے ان کا انتظار کرنے کے بجائے ہمیں طیسفون پر ہلہ بول دینا چاہیے ۔“
ایک مشیر نے اٹھ کر کہا ۔”حضورِ والا ،دشمن کاطیسفون میں قلیل تعدادمیں افرادی قوت رکھنا ایک چال بھی ہو سکتی ہے تاکہ ہم بغیر تیاری کے ان پر چڑھ دوڑیں ۔ہماری حرکت کی خبر ملتے ہی وہ سوس کا گھیراﺅ چھوڑ کر واپس لوٹ سکتے ہیں اور ہماری افواج دوسری شکست کی متحمل نہیں ہو سکے گی ۔بہتر یہی ہو گا کہ ہم کرمان و شیراز وغیرہ سے آنے والے دستوں کو لشکر کا حصہ بنا کر طیسفون کا رخ کریں ۔ پھر چاہے دشمن واپس بھی لوٹ آئے شکست اس کا مقدر بنے گی اور اس کے کمک کے رستے بند ہو جانے کے بعد فارس کی مقدس سر زمین اس کے لیے چوہے دان ثابت ہو گی ۔“
”کسی اور نے کچھ کہنا ہو۔“شہنشاہ فارس نے باقیوں کو دعوت دی ۔تمام خاموش بیٹھے رہے ۔
”سکندر….“بادشاہ نے عقب میں کھڑے اپنے خصوصی محافظ کو بولنے کی دعوت دی ۔
سکندر مودّبانہ لہجے میں بولا ۔”خداوند فارس کو طیسفون کی طرف جلد از جلد کوچ کر لینا چاہیے ۔اس کے ساتھ کرمان و شیراز وغیرہ کے دستوں کو حکم ارسال فرماد یں کہ وہ بجائے نہاوند آنے کے اپنا رخ طیسفون کی طرف موڑ دیں ، اگر دشمن سوس سے اٹھ کر طیسفون کا رخ کرتا ہے تو ہم حملے سے رکے رہیں گے جب تک کہ کمک ہمیں نہیں مل جاتی دوسری صورت میں ہم طیسفون پر قبضہ کر کے دشمن کے تعاقب کو بڑھ جائیں گے ۔“
سابور ذوالاکتاف نے پسندیدگی کے انداز میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔”اردبل سے آنے والے دستے دو دن تک نہاوند پہنچ جائیں گے ۔ان کی آمد کے اگلے دن لشکر طیسفون کی طرف کوچ کرے گا۔ اور شاہی کاتب ….“شہنشاہ نے کاتب کی طرف نگاہ اٹھائی ۔”کرمان و شیراز وغیرہ کے دستوں کو مراسلے بھجوادوکہ وہ نہاوند کے بجائے ہم طیسفون کے مضافات میں ان کے منتظر ہوں گے ۔“
”جی حضور ۔“کہتے ہوئے شاہی کاتب رکوع کے بل جھک گیا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: