Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Last Episode 66

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – آخری قسط نمبر 66

–**–**–

بنو طرید اور بنو نسر کے باسی بھی بنو جساسہ میں سما گئے تھے۔بہت سارے مکانات ،مکینوں کی راہ تک رہے تھے۔تینوں قبائل نے مشکل وقت اکٹھا گزارا تھا اب خوشی کے لمحات میں ایک ساتھ ہونا ان کی خوشیوں کو دوبالا کر گیا تھا۔ثانیہ بنت شریک بڑے اہتمام سے بھائی کی شادی میں شریک ہونے آئی تھی ۔یشکر اور قُتیلہ کی شادی میں خوب ہلا گلا مچا رہا۔رات بھر کے جشن اور ہنگامے کے بعدکہیں طلوع آفتاب کے وقت یشکر کو دلھن کے پاس جانے کا موقع ملا تھا۔
وہ دھیرے سے حجرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔چوڑی مسہری پر سر جھکائے وہ دلھن بنی بیٹھی تھی۔گلابی رنگ کے پھولدار دوپٹے کا گھونگٹ نکالے وہ کسی اور ہی جہاں کی مخلوق نظر آہی تھی۔
گلا کھنکارتے ہوئے یشکر مسہری پر بیٹھا اور نیام میں لپٹی صاعقہ نکال کر قُتیلہ کے ہاتھ پر رکھ دی۔
”میری ملکہ!جب میں نے سردارزادی بادیہ سے شادی کی تو اس سے قیمتی چیز میرے پاس نہیں تھی۔اور آج بھی ایک شمشیرزن ہونے کی حیثیت سے دعوا کرتا ہوں کہ میرا قیمتی اثاثہ یہی تلوار ہے۔ سکندر بابا کی آخری نشانی۔سردارزادی بادیہ نے مجھے واپس کر دی تھی کہ وہ نہ تو اس کی اہمیت کو جانتی تھی اورنہ تلوار چلانے سے واقف تھی۔لیکن تمھیں یقینا اندازہ ہوگا میں اس سے قیمتی تحفہ تمھاری حوالے نہیں کرسکتا تھا۔ اگرمیری ملکہ کو یہ تحفہ پسند آیا ہے تو مجھے شربت دیدار سے سیراب کر دے۔“
تلوار پر اس کے ہاتھوں کی گرفت مضبوط ہوئی لیکن چہرہ مزید جھک گیا تھا۔ بے باک و بے پروا حسینہ کا شرمانا یشکر کو محظوظ کرنے لگا۔
”خاموشی کو بھی اقرار گنا جاتا ہے۔“یشکر سے مزید صبر نہیں ہوسکا تھا۔اس نے گھونگٹ الٹ دیا۔اسے مشاطہ نے ویسے ہی سنوارا تھا جیسے وہ زنبر بن خربہ کی حویلی میں جانے کے لیے تیار ہوئی تھی۔
لمبی گھنی پلکوں کی جھالر سے دُنبالہ آنکھوں کو ڈھانپے وہ خاموش بیٹھی رہی۔
یشکر شرارت سے بولا۔”عریسہ ماں نے ہم دونوں کے لیے سرخ شراب کا مشکیزہ بھیجا تھا، سردارزادی بادیہ نے تلبینہ تیار کرے کے دیا تھا،ثانیہ بہن نے شہدکی بھری کپی دی تھی،امریل ہرن کی کلیجی بھون لایا تھا۔ لیکن افسوس سے بتانا پڑ رہا ہے ،شراب میں نے دوستوں کو پلا دی، شہد گر کر ضائع ہو گیا اورکلیجی و تلبینہ خود کھا لیاہے……..“
”کیا….“دُنبالہ آنکھوں میں حیرانی و برہمی بھری تھی۔”تمھیں پتا نہیں ملکہ قُتیلہ نے کل سے کچھ نہیں کھایا۔“
”پتا تھا لیکن ……..“
یشکر کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی۔”چھن “کی آواز کے ساتھ صاعقہ بے نیام ہوئی۔ اس کے تلوار لہرانے سے پہلے یشکر اچھل کر پیچھے ہٹا۔اور فوراََ ہی حجرے کی دیوار سے لٹکی ڈھال اتار لی۔
قُتیلہ دوپٹا پھینکتے ہوئے مسہری سے اتری ،اس کے دووار ڈھال پر سہارتے ہوئے یشکر زور سے چلایا۔”بچاﺅ ….بچاﺅ….“
چند لمحوں بعد ہی سردارزادی بادیہ،عریسہ یشکر کی بہن ثانیہ ،وتینہ اورسلمیٰ حجرے کا دروازہ دھکیلتے ہوئے اندر داخل ہوئیں۔
”قُتیلہ کیا بے وقوفی ہے۔“عریسہ نے آگے بڑھ کر بپھری ہوئی قُتیلہ کو پکڑا۔
وہ غصے سے چلائی۔”ملکہ قُتیلہ سے نہیں ،فارسی غلام سے پوچھیں ماں جی!“
”کیا ہوا بیٹا۔“عریسہ ،یشکر کی طرف متوجہ ہوئی۔
یشکر مسمسی صورت بنائے معصومیت سے بولا۔”پتا نہیں ماں جی!….میں نے تو بس یہ بتایا کہ ماں جی نے سرخ شراب ،سردار زادی نے تلبینہ ، امریل نے ہرن کی بھنی ہوئی کلیجی اور ثانیہ نے شہد کی کپی بھیجی ہے۔اور اس نے تلوار سونت لی۔“
قُتیلہ چلائی۔”اس سے پوچھیں ماں جی !یہ تمام چیزیں کہاں ہیں؟“
”وہ پڑی ہیں ناں۔“یشکر نے سرہانے کی طرف رکھے لکڑی کے تخت کی طرف اشارہ کیا۔“
قُتیلہ کی نظریں اس طرف گھومیں ،تخت پر شراب کی صراحی،شہد کی کُپّی بھنی ہوئی کلیجی کی رکابی اور تلبینہ کا طشت دیکھ کر ایک لمحے کے لیے تو قُتیلہ کے چہرے پر خجالت نمودار ہوئی اور پھر وہ درشتی سے چلاتے ہوئے یشکر کی طرف بڑھی۔”ملکہ قُتیلہ کا مذاق اڑاتے ہو ….“
عریسہ نے جلدی سے اس کا بازو تھام لیا تھا۔جبکہ یشکر نے سرعت سے ڈھال کو سامنے پکڑ لیاتھا۔بادیہ ،ثانیہ وغیرہ کھلکھلا کر ہنس دی تھی۔
”ماں جی !ملکہ قُتیلہ ،سردار زادی کے حجرے میں رہے گی۔“تمام کو ہنستے دیکھ کر اس نے فوراََ فیصلہ صادر فرمایا تھا۔
”دیکھ لیا ماں جی !غلطی بھی اس کی اور سزا بھی یہ سنا رہی ہے۔“
وہ بپھرتے ہوئے بولی۔”جھوٹ بول رہا ہے ماں جی!اس نے کہا تھا شراب دوستوںکوپلا دی ہے ، کلیجی و تلبینہ کھا لیا ہے اور شہد ضائع ہو گیا ہے۔بس ملکہ قُتیلہ کو غصہ آگیا۔“
ثانیہ نے اس کاہاتھ پکڑا اور نرمی سے سہلاتے ہوئے بولی۔”مگر یہ سارا سامان تو تھوڑی دیر پہلے لونڈی اندر رکھ کر گئی تھی کیا تم نے نہیں دیکھا تھا۔“
وہ خفیف ہوئی۔”ملکہ قُتیلہ کو شرم آرہی تھی ،اس لیے کسی کی طرف نہیں دیکھ رہی تھی۔“
”چلو معافی مانگومیری بیٹی سے۔“عریسہ نے یشکر کو حکم دیا۔
”اس نے مجھے قتل کرنے کی کوشش کی ہے اور معافی بھی میں مانگوں۔“یشکر نے بھرپور احتجاج کیا تھا۔
قُتیلہ نے آنکھیں نکالیں۔”معافی مانگتے ہو یا ملکہ قُتیلہ سردارزادی کے ساتھ چلی جائے۔“
یشکر بے بسی بھرے انداز میں بولا۔”مانگتا ہوں…. مانگتاہوں ….“
قُتیلہ قطعیت سے بولی۔”مانگو….“
یشکر کے بولنے سے پہلے عریسہ نے دھمکی دیتے ہوئے کہا۔”اگر دوبارہ لڑائی جھگڑے کی آواز آئی اور غلطی جس کی بھی ہوئی میں قُتیلہ کو بنو طرید کے ہمراہ واپس بھجوا دوں گی۔“یہ کہہ کر اس نے بادیہ کا ہاتھ تھاما ثانیہ وغیرہ کو اشارہ کیااور ان کا جواب سنے بغیر حجرے سے باہر نکل گئیں۔
یشکر نے اس کے ہاتھ سے تلوار لے کر نیام میں ڈالی اور پھر اسے بازﺅں میں بھر کر مسہری پر بٹھا دیا۔
”ملکہ قُتیلہ ذرا سا مذاق بھی برداشت نہیں کر سکتی۔“منھ بناتے ہوئے اس نے بھنی ہوئی کلیجی کا ٹکڑا اس کے منھ کی طرف بڑھا دیا تھا۔
ذرا سا کھسک کر وہ اس کے کندھے پر سر رکھتے ہوئے بھرائی ہوئی آواز میں بولی۔”ہرن کی کلیجی سے دست برداری،تلبینہ سے لاتعلقی،سرخ شراب سے بے نیازی ،شہد سے علاحدگی اور فارسی سے جدائی کی بات ملکہ قُتیلہ مذاق میں بھی برداشت نہیں کر سکتی۔“
یشکر نے سرگوشی کی۔”جانتی ہو،میں تمھیں کیوں پسند کرتا ہوں۔“ہلکے سے توقف کے بعد اس نے خود ہی جواب دیا۔”کیوں کہ تمھیں سب سے زیادہ جانتا ہوں،تمھیں جذبات پر قابو رکھنا نہیں آتا۔جو دل میں ہوتا ہے وہی ہونٹوں پر ہوتا ہے۔حیرانی ہوتی ہے کہ تم نے اتنا عرصہ میری چاہت پر کیسے پردہ ڈالے رکھا۔“
قُتیلہ نے بانہوں کا ہار اس کے گلے میں ڈالتے ہوئے کہا۔”ملکہ قُتیلہ نے پردہ نہیں ڈالا تھا، بلکہ مسلسل اپنی انا،خودداری اور فطرت کے ساتھ لڑتی رہی۔یہاں تک کہ بزدل فارسی کی محبت جیت گئی اور ملکہ قُتیلہ کا فخر و غرور ہار گیا۔“
یشکر نے نفی میں سرہلایا۔”غلط،اب بھی ملکہ قُتیلہ ہی جیتی ہے۔“
قُتیلہ قہقہ لگا کرہنس پڑی تھی۔
٭٭٭
واگا بنتا پر ناکام حملے کے بعد سابو رذوالاکتاف نچلا نہیں بیٹھا تھا۔طیسفون لوٹ کر اس نے تھوڑا انتظار کیا لشکر کو از سر نو اکٹھا کیا اور دوبارہ روم پر چڑھ دوڑا۔لیکن دوسرا حملہ بھی بغیر کسی کی واضح شکست یا فتح کے انجام پذیر ہواتھا۔روم و ایران کی باہمی کشمکش اسی طرح شروع رہی۔یہاں تک کہ دونوں حکمرانوں نے تنگ آکر پھر صلح کی گفت و شنید شروع کی۔آخر 376ءمیں یہ معاہدہ طے پایا کہ دونوں حکومتیں آرمینیا اور گرجستان کی خود مختاری کو تسلیم کر لیں اور ان کے داخلی معاملات میں دخل اندازی نہ کریں۔اس معاہدے پر عمل ضرور ہوا۔لیکن ان دونوں ممالک کے باشندوں کا مذہب چونکہ ایران سے مختلف تھا اس لیے ان کے دلوں میں ایران سے مغایرت بدستور قائم رہی اور ان کا میلان روم کی طرف رہا۔
سابور ذوالاکتاف اس معاہدے کے بعد تین سال مزید زندہ رہا۔اور 379ءمیں لمبی حکمرانی کر کے جہان فانی کو خیر باد کہا۔وہ ایک شجاع اور صاحب تدبیر بادشاہ تھا۔اس نے مملکت ایران کو چار چاند لگادیے تھے۔رعایا اس سے محبت کرتی اور اس کا دم بھرتی تھی۔اس نے روم سے جو معاہدہ کیا تھاوہ ایران کے لیے باعث فخراور روم کے لیے انتہائی توہین آمیز تھا۔وہ پانچ صوبے جو ڈیو کلیشن نے اس کے دادا نرسی سے چھینے تھے واپس لے لیے تھے۔اور یہی سابور کا سب سے بڑا کارنامہ تھا۔اگر تاریخ کو کھنگالیں تو بلاشبہ یہ سابور کا عظیم کارنامہ نظر آتا ہے کیوں جب 297ءمیں اس کے دادانرسی کو شکست ہوئی اور اس نے اپنا سفیررومی افواج کے سپہ سالار گلیرئس کے پاس بھیجاتو اس نے پہلے تو سفیر کی بات توجہ ہی سے نہ سنی اور بتا دیا کہ ایرانی بادشاہ کو صلح کی شرائط بعد میں بتا دی جائیں گی۔بعد جو صلح کی شرائط پیش ہوئیں وہ بہت کڑی تھیں۔
۱۔ ایرانی حکومت دریائے دجلہ کے دائیں ساحل کے پانچ صوبوں سے دست بردار ہوجائے۔ جو ارزون،مک،زاہدہ،رحیمہ اور کرود تھے۔ایک دوسرے محقق نے مک اور رحیمہ کی جگہ آنگل اور سفن کا نام تحریر کیا ہے۔
۲۔ روم و ایران کے مابین فرات کے بجائے دجلہ کو مشترکہ حد تسلیم کر لیا جائے۔
۳۔ آرمینیا سے لے کر آذر بائی جان کے قلعہ زبنٹا تک کا علاقہ رومیوں کے تسلط میں رہے۔
۴۔ آئیبیریا(گرجستان) پر روم کا تسلط برقرار رہے گا۔
۵۔ نصیبین ہی ایسا علاقہ ہو گا جہاں روم و ایران کے تجارتی مال کا تبادلہ ہو سکے گا۔
نرسی کی التجا پر آخری شرط معاہدہ سے حذف کر دی گئی۔اس ذلت آمیز معاہدے کے بعد نرسی تخت و تاج سے دست بردار ہو گیا تھا۔سابور نے یہ صوبے واپس لیے اور نصیبن بھی حاصل کر لیا جو رومی تہذیب کا قدیم مرکز تھا۔اس کے علاوہ اس نے آذر بائیجان ،خوزستان اورکردستان کو رومی تسلط سے آزاد کرایا۔ہن قبائل کو کامیابی سے زیر کیا۔وہ ایک دانش مند ،زیرک ،شجاع اور معاملہ فہم بادشاہ تھا۔انھی وجوہ کی بنا پرتاریخ نے اسے سابور اعظم کا لقب دیاہے۔
ساسانی حکمرانوں میں سابور کا ذاتی کردار واضح طور پر نظر آتا ہے۔ رومی موّرخ ”امیاں “ جس نے فوجی افسر کی حیثیت سے سابور کے خلاف جنگ میں حصہ لیا تھااور اسے سابور سے طبعی نفرت تھی۔ وہ بھی اپنی تاریخ میں سابور کی شخصیت اور دلیری کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکا۔ چناں چہ وہ لکھتا ہے…. ”قدوقامت میں وہ ہمیشہ اپنے گردو پیش کے آدمیوں سے بقدر سر و گردن بلند نظر آتا تھا۔ بزابدی اور آمدہ کے محاصروں میں وہ بے دھڑک ہو کر خندق کے قریب پہنچ گیا تھا۔ تیروں اور پتھروں کی بوچھاڑ کی پروا نہ کرتے ہوئے وہ قلعے کی چہار جانب کا معائنہ کرتا رہا۔
سابور نے متعدد عیسائیوں کو قتل کرایا تھالیکن یہ مذہبی تعصب کی بنا پر نہیں تھا۔بلکہ سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے تھا۔امیاں ،”سینٹ اوجین“کی سوانح عمری کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتا ہے۔
”سوانح عمری کی قدیم روایات سے صاف پایا جاتا ہے کہ سابور کے دل میں عیسائیوں کے بارے کوئی معاندانہ احساسات نہ تھے۔بات یہ تھی کہ ایران کے عیسائی ،جن کے دلوں میں حکومت کے خلاف خفیہ عداوت تھی ،سلطنت کے لیے ایک مستقل خطرے کا باعث تھے۔خصوصاََ جب سے کہ روم کے حکمرانوں نے صلیب کو جہاد کی علامت قرار دیا تھا۔اس اندرونی دشمنی کے خلاف سابور ذوالاکتاف نے بلا کسی لحاظ کے کارروائی کی۔عیسائیوں پر تعدی اس کے طویل عہد حکومت کے آخر تک جاری رہی۔
امیاں کی تاریخ میں جہاں سابور کی تند خوئی اور بربریت کا ذکر ہے وہاں بعض آثار یہ بھی نظر آتے ہیں کہ سابور مروت اور رحم دلی سے بے بہرہ نہ تھا۔ایک موقع پر جب اس نے دو چھوٹے چھوٹے رومی قلعے فتح کیے تو قیدیوں میں چند عورتیں بھی گرفتار ہوکر اس کے سامنے آئیں۔انھی عورتوں میں رومی کونسلرکروگاسیوس کی بیوی بھی تھی۔جو نہایت حسین تھی۔وہ خوف کے مارے کانپ رہی تھی۔کہ مبادا فاتحین کی طرف سے اس پر کسی قسم کی زیادتی ہو۔بادشاہ نے اسے اپنے حضور طلب کیااور وعدہ کیا۔”تمھارا شوہر تم سے جلد آن ملے گا اورکوئی شخص تمھاری توہین نہیں کرے گا۔“
نیز موّرخ نے یہ بھی لکھا ہے کہ سابور ہمیشہ ان عیسائی لڑکیوں کو ،جو کلیسا کی خدمت کے لیے وقف ہوتی تھیں اپنی حمایت میں لے لیتا تھا۔اور حکم دیتا تھاکہ انھیں اپنے فرائض منصبی کے ادا کرنے کی پوری آزادی دی جائے۔ لیکن یہاں امیاں نے اپنا خیال جو ظاہر کیا ہے اس کے مطابق یہ رحم وانصاف سابور کا مکر و حیلہ تھا۔
سابور ذوالاکتاف نے امن و صلح کے زمانے میں نئے شہر بسانے کی طرف بھی خصوصی توجہ دی۔طبری لکھتا ہے۔”سابور نے عراق میں ایک شہر بسایا جس کا نام برزخ تھا۔اہواز میں جو شہر آباد کیا اس کا نام انشاسابور تھا۔قدیم شہر سوس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ بغاوت کی وجہ سے اس نے برباد کیا اور پھر دوبارہ تعمیر کرایا۔اور اس کانام ”خورہ کردسابور “ رکھا۔سابور کے زمانے کے ایک محل کے آثار اب بھی وہاں نظر آتے ہیں جسے ”ایوان کرخ “ کہتے ہیں۔
اس کے علاوہ اس نے آب پاشی کے لیے نہریں کھدوائیں اور آمدورفت کے لیے بہت سے پل بنوائے۔مجموعی طور پر اس نے رفاعِ عامہ کے بہت کام کیے۔
سابور کی وفات کے بعد اس کا معمر بھائی اردشیر تخت نشیں ہوا،لیکن اس کی حکومت چار سال سے زیادہ قائم نہیں رہ سکی تھی۔سابور ذوالاکتاف وہ واحد بادشاہ تھاجو ماں کے پیٹ میں تھا تو بادشاہ تصور کیا گیا اور اس کے بعد ساری زندگی بادشاہ رہایہاں تک اسے موت نے آلیا۔
٭٭٭
تھکا ماندہ گھڑ سواربنو جساسہ کی حدود میں داخل ہوا۔گھوڑے کی زین کے ساتھ ایک اور گھوڑے کی لگام بندھی تھی جس پر کچھ سامان لدا تھا۔اس کے بالوں میں جھانکتی سفیدی اعلان کر رہی تھی کہ جوانی کو خیر باد کہہ چکا ہے ،لیکن اس کا کڑیل جسم ،اٹھی ہوئی چھاتی،مضبوط ہاتھ پاﺅں دعوا کر رہے تھے کہ وہ اب بھی کئی جوانوں کو خاک چٹا سکتا ہے۔
ذرا سا آگے بڑھتے ہی اس کی نظر دو بچوں پر پڑی جو لکڑی کی چھوٹی چھوٹی تلواروں سے ایک دو سرے پر وار کر رہے تھے۔ ایک بچہ عمر میں دوسرے سے دو تین سال چھوٹا نظر آرہا تھا لیکن تلوار اس مہارت سے چلا رہا تھا کہ بڑا بچہ اس کا مقابلہ صحیح طور پر نہیں کر پا رہا تھا۔
اجنبی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ان کے قریب گھوڑا روکتے ہوئے اس نے نیچے چھلانگ لگائی۔تماشا دیکھنے والے بچے اس کی طرف متوجہ نہیں ہوئے تھے۔وہ ان کے پیچھے کھڑا ہوا کر دلچسپی اور اشتیاق سے مقابلہ دیکھنے لگا۔بڑے بچے کا ایک وار خطا کر کے چھوٹے بچے نے لکڑی کی چھوٹی سی ڈھال اس کے تلوار والے ہاتھ پر رسید کی ،لکڑی کی تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر دور جا گری تھی۔ اس نے تلوار کی نوک بڑے بچے کی گردن سے لگا دی تھی۔
تماشائیوں نے زور دار نعرہ لگایا۔”شاباش سکندر۔“اور تالیاں بجا کر چھوٹے بچے کو داد دینے لگے۔
”بہت خوب۔“اجنبی تحسین آمیز لہجے میں بولا۔اس کی آواز سن کر بچے چونک کر اس کی طرف متوجہ ہو گئے تھے۔چند قدم مزید لے کر وہ جیتنے والے بچے کے قریب ہوا اورگھٹنوں کے بل بیٹھتے ہوئے مستفسرا۔
”شاباش سکندر!اتنی اچھی تلوار بازی کس سے سیکھی ہے۔“
بچہ اعتماد سے بولا۔”اپنی چھوٹی ماں جی سے۔“
”یہ تمھارا انعام ہوا۔“اجنبی نے ہمیانی سے سونے کا سکہ نکال کر اس کی جانب بڑھایا۔
”سکند ر کو چھوٹی ماں جی نے اجنبیوں سے کچھ بھی لینے سے منع کیا ہے۔“اس نے سکہ لینے کے لیے ہاتھ نہیں بڑھایا تھا۔
”میں اجنبی تو نہیں ہوں بیٹا!تمھارا سرنام ہوں۔میرا نام بھی سکندر ہے۔“
”سکندر….سکندر….“اچانک ایک عورت پکارتے ہوئے اس طرف آنے لگی۔اجنبی نے نظریں اٹھائیں ،پرکشش چہرے کی ایک عورت قریب آئی جس نے آنکھوں میں ضرورت سے زیادہ ہی سرمہ تھوپا ہوا تھا۔اس کی کمر سے تلوار بندھی تھی۔اجنبی کھڑا ہوگیا تھا۔بچہ بھاگ کر خاتون کے پاس پہنچ گیاتھا۔
”اجنبی کہاں سے آرہے ہو۔“بچے کا بازو پکڑ کر وہ خاتون مسافر کے قریب آگئی تھی۔
وہ تھکی ہوئی آواز میں بولا۔”بہت دور سے آرہا ہوں بیٹی!“
”آپ عرب نہیں لگتے۔“اس کے بولنے سے خاتون سمجھ گئی تھی کہ عربی اس کی مادری زبان نہیں تھی۔
وہ مسکرایا۔”ہوتا تو لگتا۔“
روایتی مہمان نوازی کا مظاہرہ ہوا۔”یقیناآپ کو بھوک لگی ہوگی۔“
”سردارِ قبیلہ کے مکان تک میری رہنمائی کر دوبیٹی! باقی ذمہ داری اس کی ہو گی۔“
خاتون مسکرائی۔”آپ سردار ِ قبیلہ کے سامنے ہی کھڑے ہیں چچاجان!“
مسافر حیرانی سے بولا۔”میں نے تو سنا ہے سردارِ قبیلہ یشکر بن شریک ہے۔“
”وہ ملکہ قُتیلہ کا شوہر ہے۔اور اس کا صرف نام چلتا ہے ورنہ بنو جساسہ کی سرداری اس نے ملکہ قُتیلہ کو مہر میں دے دی تھی۔ یہ علاحدہ بات کہ ملکہ قُتیلہ جہیز میں بھی پورا قبیلہ لائی تھی۔“دلا آویز مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر ابھری۔ ” آپ کو ملکہ قُتیلہ پہلی بار دیکھ رہی ہے۔“
”ایسا ہی ہے ،مگر ذکر ضرور سنا ہوگا۔“
”ملکہ قُتیلہ کا خیال ہے ایسا نہیں ہے۔“
وہ متبسم ہوا۔”تو میری بہوملکہ قُتیلہ کا خیال بالکل غلط ہے۔اگر ایسا ہوتاتو اس کے بیٹے کا نام میرے نام پر نہ رکھا گیا ہوتا۔“
”سکندر بابا….“قُتیلہ زور سے چیخی۔اور آگے بڑھ کر سرجھکا دیا۔
سکندر نے اس کے سر پر دونوں ہاتھ رکھ بالوں پر بوسا دیا۔”اس بے وفا نے بابا کے بغیر جینا سیکھ لیا ہوگا،مگر اس بوڑھے کے پاس اس کی یادوں کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔“
”نہیں باباجان!وہ آپ کو بہت یاد کرتا ہے۔بس فارس جانے سے ڈرتا تھا کہ اگر وہاں گیا تو واپس لوٹنا مشکل ہو جائے گا۔“
سکندر نے جھک کر ننھے سکندر کو بازوﺅں میں بھرا۔”ننھے تلوار باز،اب تو میں اجنبی نہیں رہا۔“
قُتیلہ محبت سے بولی۔”ملکہ قُتیلہ کی جان ،یہ تمھارے داداجان ہیں۔“
بچے نے پرجوش لہجے میں پوچھا۔”وہی دادا جان جن کی کہانیاں باباجان سناتے ہیں۔“
”ہاں وہی داداجان جو تمھارے بابا جان کی پٹائی لگایا کرتے تھے۔“سکندر نے اثبات میں سرہلایا۔
بچے نے معصومیت سے پوچھا۔”اب بھی پیٹیں گے۔“
قُتیلہ قہقہ لگا کر ہنسی۔سکندر بھی مسکرا دیا تھا۔”ہاں ،اگر تم نے اس کی طرف داری نہ کی تو دیکھنا کیسے خبر لیتا ہوں۔“
بچے نے نفی میں سرہلایا۔”بڑی اماں خفا ہو جائیں گی۔“
ان کے دائیں بائیں کھڑے بچے شور مچاتے ہوئے گھروں کی طرف بھاگ پڑے تھے۔ ”سکندر کا دادا آیا ہے ….سردار کا باباجان آیا ہے ….“
”چلیں باباجان۔“ گھوڑے کی لگام تھام کر قُتیلہ نے دعوت دی۔اور پھر وہ حویلی سے تھوڑا دور ہی تھے کہ یشکر بھاگتا ہوا حویلی سے نکلا۔دو تین بچوں نے حویلی میں جاکر اسے یہ خوشخبری سنائی تھی۔ قُتیلہ کے ساتھ سکندر بابا کو دیکھتے ہی اس کی آنکھوں میں نمی نمودار ہوئی۔مگر اس کے قریب پہنچنے سے پہلے سکندر نے چھوٹا سکندر، قُتیلہ کے حوالے کیا اور نیام سے تلوار کھینچ کر اس کی طرف سیدھی کردی۔
”جوان!شکست تسلیم کرتے ہویا مقابلہ کرو گے۔“
”بوڑھوں کو للکارنا زیب نہیں دیتا باباجان!“یشکر نے رک کر قُتیلہ کو تلوار پھینکنے کا اشارہ کیا۔ وہ خود تو ایسی حالت میں گھر سے برآمد ہوا تھا کہ تلوار نہیں اٹھا سکا تھا۔البتہ قُتیلہ کی آج بھی وہی عادت تھی کہ گھر سے نکلتے وقت کمر سے تلوار باندھی ہوتی تھی۔
قُتیلہ نے مسکراتے ہوئے صاعقہ بے نیام کی اور یشکر کی طرف اچھال دی۔بنو جساسہ کے کافی لوگ وہاں جمع ہو گئے تھے اور دلچسپی سے انھیں دیکھ رہے تھے۔تلوار کو ہوا ہی میں تھام کر وہ چوردھج سے کھڑا ہو گیا۔( دشمن کے سامنے تلوار ڈھال لے کرٹانگوں میں خم کر کے ایسے کھڑا ہونے کا انداز جس میں دشمن کے وار سے بچنے کے لیے پیچھے بھی ہٹا جا سکے اور دشمن پر دھاوا بھی بولا جاسکے)
”جوان !تمھاری ٹانگوں کے درمیان ضرورت سے چار انگل کم فاصلہ ہے۔جس سے معلوم یہی ہوتا ہے آج بھی اناڑی کے اناڑی ہی ہو۔“
یشکر ترکی بہ ترکی بولا۔” چہرے سے معلوم ہو رہا ہے کہ آپ بوڑھے ہو گئے ہیں اسی وجہ سے بادشاہ نے اپنی خدمت سے بھی علاحدہ کر دیا ہے۔“
”سنبھلو پھر۔“سکندر پینترا بدلتے ہوئے قریب ہوادونوں کی تلواریں ٹکرائیں،ساتھ ہی سکندر نے یشکر کے تلوار والے ہاتھ کو پکڑا،یہی کام یشکر نے بھی کیا تھا۔اگلے ہی لمحے دونوں گلے لگ چکے تھے۔
”بہت بے وفا نکلے یار!“سکندر کی سسکی گونجی۔
سکندر کے عقب میں کھڑی قُتیلہ کو وارفتگی سے گھورتے ہوئے یشکر بھرائی ہوئی آواز میں بولا۔ ”نہیں باباجان !بس دل لگانے کی غلطی کر بیٹھا تھا۔“
اسے زور سے بھینچتے ہوئے سکندر نے کہا۔”بہت پیاری ہے مگرمیرے کانوں تک کوئی اور نام پہنچا تھا۔“
یشکر بولا۔”دو ہیں ….“
”اور ایک جیسی ….“سکندر نے قطع کلامی کرتے ہوئے اس کی بات مکمل کی۔اس کی نظر یشکر کے عقب میں نمودار ہونے والی بادیہ پر ٹکی تھیں۔
یشکر پھیکے انداز میں ہنسا۔”اب بھی میرا قصور مانیں گے۔“
”ایک جیسی ڈھونڈی کہاں سے ہیں ،مجھے تو آج تک اقلیمہ جیسی نہ ملی۔“
یشکر نے پوچھا۔”کیسی لگیں؟“
سکندرنے سر پیچھے کر کے اس کے ماتھے اور گالوں پر بوسا دیتے ہوئے کہا۔”جتنا تم سوچ رہے ہو اس سے کچھ زیادہ ہی اچھی ہیں۔اور یہ تلوار والی جنگجو بھی لگ رہی ہے۔شاید اسی لیے تم سے صاعقہ بھی ہتھیا لی۔“
یشکر نے منھ بسورا۔”منھ دکھائی میں صاعقہ لی،مہر میں بنو جساسہ کی سردارلی اور سچ تو یہ کہ آپ کے شاگرد کے بھی چھکے چھڑا دیتی ہے۔“
”یاد آیا ،اس کا ذکر بہرام نے کیا تھا۔“سکندر نے پیچھے ہو کر اس کے مضبوط بازو تھامے اور چاہت بھری نظروں سے اسے گھورنے لگا۔
”بالکل وہی ہے۔“
”باباجان!“ان کے جذباتی ملاپ کے بعد بادیہ نے آگے ہو کر اس کے سامنے سر جھکادیاتھا۔
سکندر نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔”لازماََیہ میری وہ بیٹی ہے جس نے سب سے پہلے میرے یشکر کا دل چرایا تھا ہے نا؟“
بادیہ کے چہرے پر حیاآلود مسکراہٹ نمودار ہوئی۔اسی اثناءمیں بنو جساسہ کے دوسرے افراد باری باری سکندر کو ملنے لگے۔ملاپ کا سلسلہ ختم ہوتے ہی وہ حویلی کی طرف بڑھ گئے تھے۔
”دو بیویاں اورایک بیٹا، مجھے نہیںلگتا لڑائی کی طرح تم اس میدان میں بھی کوئی اچھی کارکردگی دکھا سکے ہو۔“چھوٹے سکندر کو گود میں اٹھاتے ہوئے وہ یشکر کو مخاطب ہوا۔
”سکندر سات سال کا ہے ،ملکہ اقلیمہ پانچ سال کی اور شریک چارسال کا۔“
”ملکہ اقلیمہ….“سکندر کے چہرے تبسم نمودار ہوا۔
یشکر نے وضاحت کی۔”ملکہ قُتیلہ کی بیٹی، ملکہ ہی کہلائے گی نا۔البتہ سکندر اور شریک سردارزادی بادیہ کے بیٹے ہیں۔اور سچ تو یہ ہے دونوں اپنی چھوٹی ماں کے لاڈلے ہیں اور ملکہ اقلیمہ بڑی ماں کی جان ہے۔“
باتیں کرتے ہوئے وہ حویلی میں داخل ہوئے۔وسیع صحن میں تین چار بچے کھیل رہے تھے۔ عریسہ بھی وہاں موجود تھی۔قریب ہو کر بولی۔
”خوش آمدید معزز سالار۔“
”شکریہ بہن۔“سکندر نے اس پر اچٹتی ہوئی نظر ڈالی۔
عریسہ ہنستے ہوئے مستفسر ہوئی۔”نہیں پہچانا….“
”چھوڑیں ماں جی!بوڑھوں کی یاداشت کا امتحان نہیں لیتے۔“یشکر چوٹ کرنے سے باز نہیں آیا تھا۔
”ایمانداری سے بتاﺅ کیا یہ اس قابل ہے کہ اس پر بیس سکے خرچ کیے جاتے۔“سکندر نے جواب دینے میں دیر نہیں لگائی تھی۔
تمام ہنس پڑے تھے۔اتنی دیر میںشریم اور مالک وغیرہ بھی پہنچ گئے تھے۔بادیہ سب کے لیے نبیذ لے آئی تھی۔دوران گپ شپ قُتیلہ نے پوچھا….
”باباجان!اب تو آپ ہمارے ساتھ ہی رہیں گے نا،ملکہ قُتیلہ آپ کی شاگرد بننا چاہتی ہے۔کیوں کہ فارسی غلام آپ کی بیٹی کو اناڑی کہتا ہے۔“
سکندر نے فوراََکہا۔”ایک شرط پر….“
”کون سی….“قُتیلہ اور بادیہ نے بیک زبان پوچھاتھا۔
سکندر نے بادیہ اور قُتیلہ کو قریب کرتے ہوئے شرط بتائی۔”اگر یشکر سچ سچ بتادے کہ ان دونوں میںا سے کون سی زیادہ پیاری لگتی ہے۔“
یشکر بے بسی سے بولا۔”لڑانا چاہتے ہو….“
سکندر نے نفی میں سرہلایا۔”نہیں برخوردار بس جاننا چاہتا ہوں۔حالانکہ معلوم ہے دونوں سردارزادیاں ہیں ،دونوں کی صورت ایک جیسی ہے،دونوں انوکھی اور بے مثال ہیں۔پھر بھی طبی میلان کسی ایک کی جانب زیادہ تو ہو سکتا ہے نا۔“
یشکر فوراََ بولا۔”وہی جسے میں نے منھ دکھائی میں صاعقہ دی تھی….“
سکندر قُتیلہ کے کندھوں پر بازو رکھ کر مسکرایا۔”گویامیری جنگجو بیٹی۔“
قُتیلہ فوراََ بولی۔”دھوکا دے رہا ہے باباجان!ملکہ قُتیلہ سے پہلے اس نے صاعقہ، سردار زادی بادیہ کو منھ دکھائی میں دی تھی۔“
سکندر نے کہا۔”نہ برخوردار!یہ چالاکیاں نہیں چلیں گی۔اگر نہیں بتانا تو صبح طلوع آفتاب سے پہلے میری روانگی کے منتظر رہنا۔“
اس نے باری باری دونوں بیویوں کو دیکھاگہرا سانس لے کر لمحہ بھر توقف کیااورپھر سنجیدہ لہجے میں انکشاف کیا۔”وہی جس نے کہا تھا مجھے پانی میں ڈوبنے سے ڈر لگتا ہے۔اب پتا نہیں سچ میں اسے ڈر لگتا ہے یا جھوٹ بول رہی تھی۔اور یاد آیا اس کے حوالے صحرائے عرب کا بہترین گھوڑا بھی کیا تھا۔“
سکندر نے احتجاج کیا۔”واضح بتاﺅ ناں؟“
”اس سے زیادہ وضاحت نہیں کر سکتا کہ اسے ایک مرتبہ سانپ سے بھی بچایا تھا۔“
یہ علاحدہ بات کہ دونوں بیویوں نے اس کے سامنے پانی سے ڈرنے کا اعتراف بھی کیا تھا ، دونوں کو یشکرنے سانپ سے بھی بچا چکا تھا۔اور ایک کے حوالے مشکی اور دوسرے کے حوالے عنبر کیا تھا۔
”کوئی چال چل رہے ہو برخوردار۔“سکندر نے باری باری دونوں بہوﺅں کو دیکھا جو چاہت بھری نظروں سے یشکر کو گھور رہی تھیں۔
یشکر نے منھ بنایا”جسے بتاناچاہتا تھا اسے معلوم ہو گیا ہے۔“
”اچھا یہ کیسی لگتی ہے؟“سکندر نے قُتیلہ کا ہاتھ پکڑ کر اوپر کیا۔
یشکرفوراََ بولا۔”یہ تو ایک آنکھ نہیں بھاتی….“
”کیا….“ہنستی ہوئی قُتیلہ کے چہرے پر برہمی نمودار ہوئی۔اگلے ہی لمحے۔”چھن“ کی تیز آواز کے ساتھ صاعقہ بے نیام ہوئی۔
یشکر حویلی کے بیرونی دروازے کی طرف بھاگتے ہوئے سکندر کو مخاطب ہوا۔
”یہی دیکھنا چاہتے تھے ناں….اب اس مرکھنی کو سنبھال بھی لینا۔“(سینگ مارنے کو تیار لڑاکاجانور)
اونچے قہقہے بلند ہوئے،قُتیلہ بھی خفیف انداز میں مسکراتے ہوئے تلوار کونیام میں ڈالنے لگی۔تین بچے تالیاں بجاتے ہوئے ایک ساتھ نعرے لگانے لگے۔ ”باباجان ڈر گئے ….باباجان بھاگ گئے….“
سکندر نے بادیہ کے کان میں سرگوشی کی۔”تم سے بھی اتنا ہی ڈرتا ہے؟“
وہ لجاتے ہوئے مدہم لہجے میں بولی۔”اس سے تھوڑا زیادہ باباجان!“
اورسکندر بے ساختہ ہنس دیا تھا۔
ختم شد

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: