Be sakhta novel by Suhaira Awais – Episode 1

0
بے ساختہ از سہیرا اویس- قسط نمبر 1

–**–**–

حازم! حازم بیٹا اٹھ جاؤ….!!!!
دیکھو آٹھ بج گئے ہیں..!!
، حازم ‘جو’ اتنی دیر سے اپنے بیڈ کے پاس کھڑی امی کی آوازوں پر ہل کر بھی نہیں دے رہا تھا،
وہ ٹائم کا سن کر بجلی⚡ کی تیزی سے اٹھا، “امی میں نے آپ کو بولا تھا کہ مجھے سات بجے اٹھائیے گا” وہ چہرے پر پریشانی سجائے ناراضگی 😒😒سے بولا،
جبکہ امی اس کی بات کا جواب دیے بغیر مسکراتے😁 ہوئے کمرے سے چلی گئیں۔
حازم نے اٹھ کر سائڈ ٹیبل پر پڑے سیل فون📱 کو اٹھا کر ٹائم ⏲️دیکھا تو چھ بج کر پینتیس منٹ ہو رہے تھے،اسے ایک دم اپنی امی پر ڈھیروں پیار آیا😚😘، خیر وہ اپنی آنکھیں مسلتا مسکراتے ہوئے اٹھا اور حسبِ عادت نہانے کے لیے واشروم کی طرف بڑھ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہاتھ میں ایک انداز سے اپنا سیل فون پکڑے سیڑھیوں سے نیچے اترا اور
ناشتے کی میز کی طرف بڑھا، سامنے بیٹھی آئلہ کو دیکھ کر اچھے بھلے موڈ کا ستیاناس ہوگیا۔
دوسری طرف کے حالات بھی کچھ ایسے تھے۔
آئلہ نے انتہائی ناگواری سے ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور پھر سے ناشتہ کرنے میں مشغول ہو گئی۔
حازم نے بھی اسکا رویہ اسکو لوٹاتے ہوئے ناشتہ شروع کیا۔
کوئی دوسری لڑکی ہوتی تو ضرور اس ڈارک براؤن کلر کے گھنے بالوں والے لڑکے پر فدا ہوجاتی،اوپر سے اسکی رنگت میں آتا، ہلکا سا سانولا پن، ہلکی ہلکی داڑھی، کھڑی ہوئی ناک اور بالوں کی ہم رنگ، چھوٹی چھوٹی آنکھیں مقابل کا چین اور قرار چھیننے کے لیے کافی تھی۔
لیکن آ ئلہ سجاد پر تو جیسے حازم شہزاد کی شخصیت کا ذرّہ برابر بھی اثر نہیں ہوتا۔
۔۔۔۔
وہ ناشتے کے بعد کچن میں موجود امی کو اللہ حافظ کہنے گیا، اور کہتے ہی انتہائی عجلت میں کچن سے باہر جانے لگا کہ امی نے آواز دے کر اسے روکا۔
“جی امی، کوئی کام تھا؟” حازم نے نرمی سے پوچھا، وہ ہمیشہ سے ایسا ہی تھا، اپنی امی کا حد سے زیادہ فرمانبردار۔
“ہاں بیٹا۔۔ وہ آئلہ کو یونیورسٹی چھوڑ آؤ، تمہارے تایا ہم پر بچی کی ذمہ داری چھوڑ کر گئے ہیں،اب اچھا نہیں لگتا کہ وہ بسوں میں خوار ہوتی پھرے۔۔!😊
“جی امی۔۔😊” وہ انتہائی سعادت مندی سے بولا۔
‌لیکن اسکا دل❤️ بالکل بھی نہیں چاہ رہا تھا کہ وہ اسے اپنے ساتھ لے کر جائے، بقول حازم، آئلہ ایک بددماغ لڑکی ہے جس سے بات کرنے سے بہتر ہے کہ انسان اپنا”سر” دیوار میں مار لے۔🤣🤣🤣
‌پر بے چارہ امی کی حکم عدولی تو نہیں کر سکتا نا!!!۔۔۔۔
‌وہ باہر کار پورچ کیطرف بڑھا تو آئلہ وہیں کار کے پاس کھڑی تھی۔
‌حازم کی ناگواری مزید بڑھی مگر اس نے کچھ کہے بغیر کار unlock کی تو آئلہ منہ بگاڑتی front seat پر بیٹھ گئی۔
حازم مزید تلملا گیا۔ اسے رہ رہ کے آئلہ کی کل والی حرکت یاد آرہی ت
ھی جسے سورچ کر اسکا غصہ مزید بڑھ گیا۔
مگر پھر اپنے غصے کو کنٹرول کرتے ہوئے اس نے اپنی driving seat سنبھال لی اور کار اسٹارٹ کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حازم کل رات 🌃 جب گھر آیا تو۔۔۔
خلافِ معمول آئلہ جاگ رہی تھی اور غالباً اسکا ہی انتظار کر رہی تھی۔
آئلہ اس کی طرف بڑھی۔۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا،،، ابھی وہ حیران ہونے والا تھا کہ آئلہ بول پڑی “کھانا کھاؤ گے؟؟”
“ضروررر۔۔” حازم نے خوش دلی سے کہا،،
وہ آئلہ کے منہ کے بگڑے زاویے دیکھ کر مزے لے رہا تھا،
“اچھا پھر جاؤ، منی ہاتھ دھو لو، فریش ہو جاؤ،میں کھانا گرم کرتی ہوں۔” اس نے کوفت والے لہجے میں جواب دیا..
جبکہ حازم “okay” کہتا اپنے روم کیطرف بڑھ گیا۔
وہ جانتا تھا کہ امی نےہی اسکو کہا ہوگا کیونکہ آج اسکی امی کی طبیعت صبح ہی سے کچھ خراب تھی،،
سو وہ اندازہ کر سکتا تھا کہ اب وہ جلدی سو گئی ہوں گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انتہائی سست رفتاری سے وہ کھانا گرم کرنے لگی،،
پھر cupboard سے پلیٹس نکال کر وہ ٹیبل پر سیٹ کر رہی تھی،
حازم کا کوئی بھی کام کر کے اسے کوئی کبھی خوشی نہیں ہوئی بلکہ وہ تو الٹا اس کے کاموں سے چڑ جاتی تھی۔
اب بھی وہ یہ سب کرتے سوچ رہی تھی۔۔۔۔
“بھوکا کہیں کا!!!.. کیا تھا ۔۔۔۔۔ جو آج کا کھانا skip کر دیتا، خوامخواہ دو گھنٹے سے جگایا ہوا ہے مجھے…!!! موٹا کہیں کا، ہر وقت کھانے کی پڑی رہتی ہے اسے،،،( حالانکہ وہ کہیں سے بھی موٹا نہیں تھا بلکہ اچھا خاصہ handsome😍😍✌️⁩ لڑکا تھا )
اتنا کھانے کا شوق تھا تو جلدی آجا تا یا پھر باہر سے کھا کر آتا۔۔۔ ( اگر وہ باہر سے کھا کر آ تا تو آئلہ صاحبہ کو اپنا انتظار ضائع جانے کا دکھ علحیدہ ہوتا )

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: