Be sakhta novel by Suhaira Awais – Episode 2

0
بے ساختہ از سہیرا اویس- قسط نمبر 2

–**–**–

۔ ( اگر وہ باہر سے کھا کر آ تا تو آئلہ صاحبہ کو
اپنا انتظار ضائع جانے کا دکھ علحیدہ ہوتا )..
وہ کھانا ٹیبل پر لگا چکی تھی کہ حازم پیچھے
سے ایک دم آیا ،،
آئلہ بری طرح۔۔۔!! چونک گئی..!!!
اس نے بروقت اپنی چیخ کا گلا گھونٹا…،،
جو کہ اس کے اس طرح چونکنے پر منہ سے نکلنے ہی والی تھی،،
ساتھ ہی ایک “قہر آلود”😠 نظر اس ” بد تمیز ” (یہ بھی صرف
آئلہ کا خیال تھا)
انسان پر ڈالی اور خاموشی سے ایک کرسی کھینچ کر وہیں بیٹھ گئی۔
🍃🍃🍃
() ورنہ آئلہ کی چچی جان یعنی حازم کی امی اور
شہزاد چچا نے آکر حازم کی خوب خبر لینی تھی،،
ایسا نہیں تھا کہ وہ اسے بچانا چاہتی تھی بلکہ اپنے
پیارے چچا ، چچی کے آرام میں مخل ہونا اسے پسند نہیں تھا()
حازم بھی اس کے سامنے کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا،،
آج اسکا موڈ کافی اچھا تھا،،
کیونکہ آج اسکی ایک بہت مشہور “شوز برینڈ” کی طرف بہت بڑا آرڈر ملا تھا…
اور آگے چار سال تک کیلئے اُس برینڈ سے آرڈرز
ملنے کا contract بھی سائن ہوا تھا،
اس کام کے لیے وہ بہت عرصے سے کوشش اور محنت
کر رہا تھا اور بلآخر آج یہ ہو چکا تھا⁦✌️💯
(حازم کے والد کی شہر میں ایک معمولی سی shoes manufacturing factory تھی جسے حازم نے shoes designing میں گریجویٹ ہونے کے بعد دو سال پہلے سنبھالا تھا اور اب ان کے اس business کی ترقی دیکھنے لائق تھی،،
یہ سب اسکی ، کام سے محبت اور محنت کی وجہ سے ہوا تھا،
اب اس نے فیکٹری کی کچھ ری کنسٹرکشن بھی کروائی تھی،، اپنے لیے انتہائی خوبصورت 😍 ، نیا آفس🏢 بھی بنوایا، اور فیکٹری کیbuilding اندر ،
باہر سے ایسی تھی کہ کام کرنے والے کو کام کرنے کا مزہ آجاتا۔۔۔
ان دو سالوں میں اسکی
فیملی کا “upper middle class” سے ایلیٹ
کلاس میں منتقل ہونا ، صرف اور صرف حازم کی
کمال صلاحیتوں کے استمعال کا نتیجہ تھا )
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
حازم کھانا کھانا شروع کر چکا تھا ، ، ، شاید اسے
ماحول کا سکون گوارا نہیں تھا اس لیے آئلہ کے ساتھ
ہم کلام ہوا۔۔۔۔۔۔ “””مجھے تو چلو اپنے گھر آنے میں دیر
ہو گئی اسلیے کھانا نہیں کھا سکا، مگر تم بتاؤ۔۔!! کہ اب تک بھوکی کیوں بیٹھی تھی۔۔؟؟
ہائے اللّٰہ ۔۔!! کہیں میرے انتظار تو نہیں کر رہی تھی،،۔۔
جیسے بیویاں شوہروں کا کرتی ہیں،،۔۔ اُفف!!،،”””
حازم نے شرمانے کی بہت بری پلس بھونڈی ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا۔۔
😝😛😉🤭🤭😋😝😝😛😉🤭🤭😋😝
آئلہ کو اسکی آخری بات سن کر ایک دم کھانسی آئی،،
غالباً نوالہ اسکے گلے میں اٹک گیا تھا،، اس کی آنکھیں
سرخ ہو گئی تھی، اس نے پانی کے گلاس کی طرف
ہاتھ بڑھایا تو حازم نے جلدی سے ، اس سے پہلے ہی گلاس🍷 پکڑ لیا،،
اب آئلہ کو شدید غصہ 😠😠👿 آ رہا تھا، اس کا چہرہ غصے میں لال ٹماٹر🍅 ہو گیا،،
حازم یہ سب بڑے مزے لے کر دیکھ رہا تھا،،
“”حازم مجھے پانی دو”” وہ کھانسی کی وجہ بس اتنا ہی کہہ پائی،،
اس کی آواز بھی بمشکل پھنس کر نکل رہی تھی،،
جبکہ ” حازم ” یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اسکی اس
حرکت کا انجام کس قدر سنگین ہو سکتا ہے۔۔ اپنی
ضد پر اڑا رہا،،اور گلاس اس کے حوالے نہ کیا،،
آئلہ اسکی حرکت پر مزید تلملا گئی،،
اب اس کا تیز دماغ فوری انتقام کی تدبیر کرنے لگا،،
اور اس نے فوراً،، اپنے ذہن میں آنے والے پہلے انتقامی idea کو عملی جامہ پہنایا،،
اس نے سرعت سے،، اپنی سالن سے بھری پلیٹ حازم
کے آگے پڑے چھوٹے سے کانچ کے خوبصورت 😍 Bowl میں موجود میووں اور جیلی سے بھرے،،
لذیذ vanilla 🍮 custard ،، پر الٹ دی،،
حازم نے گہرے صدمے سے کسٹرڈ کی طرف دیکھا ، جو کہ اب نجانے کیا بن گیا تھا،،
“ونیلا کسٹرڈ” حازم کا favorite ڈیزرٹ تھا،، صرف
اسے پتہ تھا کہ آج یہ کھانے کا، اُسکا کس قدر دل ❤️ تھا ۔۔
پر اب ” پچھتاوے ” کا کیا فائدہ۔۔۔!!
آئلہ اب چھوٹے چھوٹے گھونٹ بھر کر سکون سے پانی پی رہی تھی،،
اور ساتھ میں اپنی قہر برساتی ،،،
غصیلی نظروں سے اسے گھور رہی تھی،،
ساتھ میں اپنے کارنامے سے حاصل ہونے والے “دلی سکون” کے بھی مزے لوٹ رہی تھی،،،
“” اب بولو ذرا۔۔!! کیا بکواس کر رہے تھے..؟؟””
“” زیادہ پھولنے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں،،
اور اپنی یہ تھرڈ کلاس۔۔۔ خوش فہمیاں پالنا بند کرو،،
آئے بڑے۔۔ !! ہنہ۔۔۔
میرے پاس بار بار کھانا گرم کرنے کا وقت نہیں تھا،،
اس لیے سوچا کہ،،
ایک ہی دفعہ تمہارے ساتھ کر لوں گی،،
ڈنر ٹائم پر اسلیے نہیں کھا یا کیونکہ بھوک نہیں تھی،،””
وہ باقاعدہ تفصیل بتا رہی تھی کہ،، کہیں وہ عقل سے پیدل لڑکا ( یہ بھی خاص آئلہ کی ذہنی ایجاد تھی )،، سچ میں ہی وہ عجیب خوش فہمیاں نہ پال لے۔۔!!
یہ کہ کر وہ رکی نہیں بلکہ آئیڈیا نمر دو پر عمل کرتے ہوئے،،
گلاس میں پانی بھر کر زور سے حازم کے منہ پر پانی پھینکا اور اپنے روم کی طرف بھاگ گئی،،
جبکہ حازم بے بسی اور غصے کی تصویر بنے، ہکا بکا،، اسے جاتا دیکھ رہا تھا،،
اور اب ایک اور نقصان جو اس کے حصے میں آیا تھا وہ یہ تھا کہ اسے خود ہی برتن سمیٹنے پڑے،،
وہ کچن سے باہر نکلا تھا کہ اسے امی ۔۔۔۔ آتی دکھائی دیں،، جو غالباً ہاتھ میں خالی جگ لیے، پانی لینے کے لیے کچن کی طرف آ رہی تھیں،،
اس نے رک کر ان سے سلام دعا کی اور صبح جلدی جگانے کا بول کر بھاگ گیا۔۔
کہ کہیں وہ اس سے اسکا ، اوپر کی طرف سے گیلی ٹی شرٹ دیکھ کر کوئی سوال ہی نہ پوچھ لیں۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: