Be sakhta novel by Suhaira Awais – Episode 3

0
بے ساختہ از سہیرا اویس- قسط نمبر 3

–**–**–

اس نے رک کر ان سے سلام دعا کی اور صبح جلدی جگانے کا بول کر بھاگ گیا۔۔
کہ کہیں وہ اس سے اسکا ، اوپر کی طرف سے گیلی ٹی شرٹ دیکھ کر کوئی سوال ہی نہ پوچھ لیں۔
_________________________
اب آئلہ اور حازم ساتھ ہوں،،،
اور آپس میں چونچیں نہ لڑائیں۔۔۔
ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔
آئلہ نے سونگ پلے کیا،،
کیونکہ اسے سونگ سنے بغیر ٹریولنگ میں مزہ نہیں آتا۔
اور یہاں حازم ویسے تو چلو، کبھی کبھار سن بھی لیتا ہوگا،
لیکن آئلہ کے ساتھ ہونے پر اسے سونگز زہر لگتے تھے،،
کیونکہ آئلہ کو جو پسند تھے، (وہ بھی حد سے زیادہ)
آئلہ نے جیسے سونگ پلے کیا، حازم نے ویسے ہی آف کر دیا۔
ایسا تین باری ہوا،، ” جاہل انسان !! کیا مسلہ ہے؟؟””
“”کیوں تنگ کر رہے ہو،؟؟””
اب اگر تم نے میوزک بند کرنے کی کوشش کی نا..!!!!
😠😠😠
تو میں نے۔۔!! ایسا حلیہ بگاڑنا ہے میں نے،،
👿👿
کہ اپنی آج والی میٹنگ اٹینڈ کرنے کے قابل نہیں رہو گے…!!
دھمکی اثر کر گئی،،
حازم نے اپنے ایک بار پھر، میوزک پلیئر کی طرف،،
بڑھتے ہوۓ روکے،،
چہرے پر سخت بیزاری تھی،
ابھی تک اس نے اپنا رات 🌃 والا بدلہ بھی نہیں لیا تھا۔۔۔
!!!!!
کہ اسے ایک اور دھماکی مل گئی،،
وہ ہمیشہ بدلہ لینے کے چکر میں آئلہ کے نئے حملے کا شکار ہو جاتا،،
حازم بس سوچ کر ہی رہ جاتا،،
آئلہ اب سونگ پلے کر چکی تھی،،
جس کی وجہ سے حازم انتہائی بیزاری کا شکار تھا،،
سونگ کے lyrics کچھ یوں تھے،،
🎶🎶
“تو سفر میرا،،
ہے تو ہی مری منزل،،
تیرے بنا گزارا اے دل ❤️ ہے مشکل،،
تو میرا خداا،،
تو ہی دعا۔۔!! میں شامل۔۔
تیرے بنا گزارا اے دل ❤️ ہے مشکل،،
مجھے… آزماتی ہے تیری کمی۔۔!!
میری.. ہر کمی کو ہے تو لازمی۔۔۔
جنون ہے میرا بنوں میں تیرے قابل۔۔
تیرے بنا گزارا اے دل ❤️ ہے مشکل،،
🎶🎶
🎶🎶🎶🎵
🎵🎵🎧🎧
🎧🎧🎵🎵
🎵🎶🎶
یہ روح بھی میری یہ جسم بھی میرا،،
اتنا میرا نہیں،،
جتنا ہوا تیرا،،
تونے دیا ہے جو….!
وہ درد ہی سہی۔۔۔
تجھ سے ملا ہے تو انعام ہے میرا۔۔!!
میرا آسماں ڈھونڈے تیری زمیں،،،
میری ہر کمی کو ہے تو لازمی۔۔۔۔
🍃🍃🍃🍃🍃🍃🍃🍃🍃
گانے کے بول دونوں پر اپنا اثر ثبت کر رہے تھے،،
کار میں حازم کے کلون کی مہک،،
اور خنکی میں بدلتے موسم کی ایک خوبصورت 😍⁦ صبح،،کار کے اندرونی ماحول کو سحر انگیز کر رہی تھی،،
اس سے ماحول میں فسوں اور سحر پیدا ہوتا،،
اور دونوں کی دل کی دھڑکنوں کا ارتعاش مزید بڑھتا،
،
اور دونوں کسی نئے سفر پر یا یوں کہہ لیں کہ محبت کے سفر پر گامزن ہوتے،،
حازم نے بے ساختہ چہرے پر جلانے والی مسکراہٹ سجائے،، اپنے منہ سے یہ بکواس پھوٹی۔۔
” او ہو۔۔!! آئلہ میڈم کیا سونگ سلیکشن ہے آپکی،،
آپ مجھے بتا دیتیں،،
کہ آپ مجھ سے اتنا خوبصورت 😍 اظہار محبت کرنا چاہتی ہیں،،
میں کبھی مداخلت نہ کرتا،،”
😁😁😁😘
آئلہ کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا،،،
اس نے فوراً سے پہلے گانا بند کیا،،،
اوئے۔۔۔۔!! حازم کے بچے ۔۔۔!!!
دماغ تو سیٹ ہے تمہارا،،، یہ کیا۔۔ کل سے بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو،،
آنے دو مما، بابا اور فرحان بھائی کو عمرے سے،،
تمہاری تو …. اچھی خاصی کلاس لگوانی پڑے گی،،
( آئلہ کی ساری فیملی عمرے پر گئی تھی،، آئلہ اپنے exams کی وجہ سے نہیں گئی، اسکی فیملی کو گئے اٹھارہ دن ہو چکے تھے،، اور اسکے exams بھی ختم ہو چکے تھے،، روزانہ اسے اسکی فرینڈ ماہرہ اس پک کرنے آتی تھی لیکن آج ماہرہ نے کسی کام کی وجہ سے یونیورسٹی نہیں جا رہی تھی سو آئلہ نے ندا چچی یعنی حازم کی امی کو بتا دیا تھا ، اسلیے اسے حازم کے ساتھ آنا پڑا،، او اب اس بد دماغ کی الٹی سیدھی باتوں کو برداشت کرنا پڑ رہا تھا،، ایک لمحے کو اس نے سوچا کہ اس سے اچھا تھا کہ میں میٹرو بس میں چلی جاتی،، مگر اب افسوس کا کیا فائدہ،،!!😒😒)
سلسلہ کلام وہیں سے جوڑا گیا جہاں سے آئلہ نے توڑا تھا،،
“کیا کہ رہی ہو تم۔۔؟؟ میری کلاس لگواؤ گی،،
دھیان سے رہنا کہیں تمہاری اپنی کلاس نہ لگ جائے،،
اور کچھ ان ایکسپیکٹڈ ٹریجڈی نہ ہو جائے ہو جائے تمہارے ساتھ،،
حازم نے معنی خیز لہجے میں ایک نرم مسکراہٹ آئلہ کی طرف اچھالتے ہوئے کہا،،
آئلہ کا اسکی اسکی ان الٹی سیدھی باتوں پر حیران ہونا جائز تھا کیونکہ حازم صاحب خود ہی اپنی کہی باتوں پر حیرت زدہ تھے،،
“اوہ۔۔! تو تم اب، مجھے،، دھمکی دو گے؟؟” آئلہ نے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔
“”آئلہ میڈم میں آپ کو دھمکی دوں گا نہیں بلکہ دے چکا ہوں۔”” حازم نے آئلہ کی پریشان ہوتی شکل سے محظوظ ہوتے ہوئے کہا،،
اب واقعی آئلہ کو تشویش ہو رہی تھی کہ نجانے وہ کیا کرنے والا ہے،،
“اچھا ..! یہ سب چھوڑو،، بس مجھے بتاؤ ۔۔
کہ تمہیں کیسے پتہ چلا۔۔
کہ آج میری میٹنگ ہے؟؟”” اس نے سادہ لہجے میں پوچھا۔
“وہ تم جس طرح dress up ہوئے ہو،،
ایسے کسی خاص موقع یا میٹنگ وغیرہ میں ہی ہوتے ہو””
آئلہ نے گڑبڑا کر جلدی میں جواب دیا۔
حازم کے چہرے پر شرارتی مسکراہٹ دوڑ گئی۔۔
“اوہ ہو۔۔۔!! تم مجھے اتنا observe کرتی ہو،،
ہائے اللّٰہ۔۔ !!!
میں اتنا ایمپورٹینٹ ہوں تمہارے لیے”” اس بڑے مزے لے کر کہا،،
اسے اپنے سب حساب برابر ہوتے نظر آئے۔
آئلہ کی بند ہوتی بولتی نے
سے اس کے اندر تک خو شی پھیلا دی،،
ویسے تو وہ کچھ نہیں کہنا چاہ رہی تھی یا یوں کہ لیں کہ اس سے پہلے وہ کچھ کہتی ،
یونیورسٹی کا گیٹ سامنے تھا،
وہ جلدی سے اتر کر گیٹ کی طرف بڑھ گئی۔
حازم بھی اپنی میٹنگ ڈیسٹینیشن کی طرف بڑھا،،
ساتھ ہی ساتھ آئلہ سے سارے بدلے لینے کے لیے ایک اعلیٰ قِسم کے idea پر غور وفکر بھی کر رہا تھا،،
آخر کو ،، آئلہ کی بولتی بند کروانے کی زبردست technique پلس trick اس کے ہاتھ آئی تھی،،
اسکو تو آئیڈیے پر عمل ہونے کے نتیجے میں ہی آئلہ کی متوقع حالت سوچ سوچ کر مزہ آرہا تھا،،
بس اب اسے تایا ، تائی کے آنے کا انتظار تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: