Be sakhta novel by Suhaira Awais – Episode 4

0
بے ساختہ از سہیرا اویس- قسط نمبر 4

–**–**–

بس اب اسے تایا ، تائی کے آنے کا انتظار تھا۔
🍃🍃🍃🍃🍃🍃🍃
آج وہ جلدی گھر آیا تھا ،
آخر کار اپنے آئیڈیے پر عمل بھی تو کرنا تھا،،
وہ کھانا وانا کھا کر پہلے تو اپنے روم میں ریسٹ کی نیت سے بیڈ پر لیٹ گیا،
وہ کچھ دیر قیلولہ کرنے کی غرض سے آنکھیں بند کیے لیٹا تھا۔۔
تو آئلہ کا چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے آگیا،،
اب وہ آگے کا لائحہ عمل تیار کر رہا تھا،،
سب سے پہلے تو اسے اپنے والدین کو راضی کرنا تھا،،
اس کے بعد تایا تائی کی رضامندی حاصل کرنی ہوگی،،،
آئلہ کو پتہ چلے گا تو وہ انکار کے لیے خوب ہنگامے اور ایموشنل بلیک کا سہارا لے گی۔۔
اور ہو سکتا ہے اس کا انکار تسلیم کر لیا جائے ۔۔
لیکن اس کے انکار کے خلاف مجھے میرے جگری یار “فرحان” اور جویریہ آپی کے ساتھ مل کر ٹیم بنانی ہوگی۔
(جویریہ، آئلہ کی بڑی بہن جس کی ایک سال پہلے شادی ان کی ہی کالونی میں رہنے والے ایک restaurant کے owner سے ہوئی تھی)
وہ تیزی سے خیالی پلاؤ بنانے میں مگن تھا،
ایک اور سوچ جو اس کے ذہن میں آئی وہ یہ تھی کہ جلدی سے آئلہ سے زبردستی نکاح کر کے۔۔۔۔۔
اس کو خوب تنگ کروں گا،
اور اپنے سارے بدلے لوں گا،،
پھر بے چاری۔۔!!
میرا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکے گی۔۔!!
یہ سوچتے ہوئے اس کی آنکھ لگ گئی اور حازم صاحب خوابِ خرگوش کے مزے لوٹنے لگے۔
😴😴😴😪💤💤💤
حازم اٹھا تو شام ہو گئی تھی،
تقریباً عصر کی نماز کا وقت بھی ختم ہونے کو تھا،
اس لیے وہ جھٹ سے اٹھا اور وضو کرنے بھاگا اور ساتھ ہی سونے سے پہلے سوچی گئی باتوں کو پھر سے سوچ کر مسکرانے لگا۔
وضو کر کے جلدی سے اپنے ہی روم میں جائے نماز بچھا کر نماز پڑھنے لگا ،
نماز پڑھ کر وہ باہر آیا اور امی کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے برآمدے میں آگیا ،
وہاں امی برآمدے میں بچھے دیوان پر بیٹھیں آئلہ کو اپنی نگرانی میں نماز پڑھوا رہی تھیں،،
حازم نے آکر امی سے سلام دعا کی اس امی کے ساتھ بیٹھ گیا،،
وہ معاملہ سمجھ گیا تھا کیونکہ اسے یاد تھا کے اس کی تائی نے اس کی امی کو خاص اپنی آنکھوں کے سامنے آئلہ سے نماز پڑھوانے کی تلقین کی تھی،
کیونکہ نماز کے معاملے میں وہ بہت سست تھی،،
تائی امی کی تلقین و تاکید یاد کر کے اس کے چہرے پر شرارتی مسکراہٹ دوڑ گئی جو سلام پھیرتی آئلہ کو دیکھ کر مزید گہری ہو گئی،
آئلہ نے اس کی طرف دیکھنے پر اُسے اپنے اوپر ایسے مسکراتا پا کر ، کھا جانے والی نظروں سے گھورا،،
حازم امی کی طرف متوجہ ہوا اور باتیں کرنے لگا،،
آئلہ دعا مانگ کر اٹھی اور جائے نماز لپیٹ کر اندر کی طرف بڑھنے لگی تھی کہ حازم کی آواز پر وہیں ٹھہر گئ،،
” یار،، ذرا میرے لیے اچھی سی چائے تو بنا دو،”
حازم نے شرارت سے اسے اپنا حکم سنایا،
وہ جانتا تھا کہ آئلہ کو اس کے کام کرنا کس قدر زہر لگتے ہیں،
آئلہ وہیں کھڑی ناک اوپر چڑھاتی اور منہ کے ر
زاویے بگاڑتی،
کوفت زدہ سی ہو کر اسے دیکھ رہی تھی،
مریم شہزاد یعنی حازم کی امی آئلہ کی شکل دیکھ کر اس کی بیزاری سمجھ گئیں تھیں تبھی اپنی جگہ سے اٹھتی مسکراتے ہوئے بولیں،،
” بیٹا آئلہ کو ابھی اپنی اسائنمنٹ بنانی ہے، وہ پہلے ہی مصروف ہے ، میں تمہیں چائے بنا دیتی ہوں، تم بچی کو تنگ مت کرو۔”
حازم نے وہیں سے امی کو ہاتھ کھینچ کر بیٹھا لیا اور کہنے لگا کہ نہیں امی آپ کیوں بنائیں گی بھلا،،
اس اناج کی دشمن سے بھی ہاتھ پیر ہلوا لیا کریں،،
اور جسے آپ بچی کہ رہیں ہیں وہ اگلے مہینے پورے بائیس سال کی ہو جائے گی۔
امی کو اسکی باتیں بسن کر اور ان باتوں کے ری ایکشن میں آئلہ کی شکل دیکھ کر ہنسی آئی ،،
انہوں نے حازم کو ٹوکا بھی مگر وہ تو اور بھی بہت کچھ بول رہا تھا جسے سننے کے لیے آئلہ رکی نہیں بلکہ غصے میں چائے بنانے پیر پٹختی اندر بھاگ گئی۔
اب حازم کے بابا بھی وہاں آگئے جو غالباً باہر سے چہل قدمی کر کر آئے تھے،،
حازم نے کھڑے ہو کر ان کو سلام کیا اور پھر واپس بیٹھ گیا،،
شہزاد صاحب بھی وہاں لکڑی سے بنے دیوان کے سامنے پڑی اسی ڈیزائن کی دو کرسیوں میں سے ایک کو ذرا آگے کھسکا کر بیٹھ گئے،،
موقع اچھا تھا، حازم نے فوراً ہی آئلہ سے نکاح کی خواہش کا اظہار کیا،،
جسے سننے پر حازم کے والدین کے چہرے پر خوشی صاف جھلک رہی تھی جسکا اظہار، انہوں نے حازم کی ہاں میں ہاں ملا کر کیا۔
انہیں حازم کے فیصلے پر بہت خوشی ہوئی کیونکہ وہ خود بھی اس کے متعلق یہی سوچ رہے تھے،
اتنے میں آئلہ تیز قدموں سے چلتی ہوئی حازم کے لیے چائے لارہی تھی ،
شہزاد چچا کو دیکھ کر اس نے اپنی اسپیڈ کو بریک لگائی،،
انکو ادب سے سلام کیا۔ اور حازم کے ہاتھ میں چائے کا کپ تھمانے لگی،
حازم سمیت اسکے امی ابو بھی آئلہ کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے،
جنہیں دیکھ کر آئلہ کچھ پزل ہوئی اور پھر ان سے ایکسکیوز کرتی اپنے روم میں اسائنمنٹ بنانے چلی آئی،
چچا چچی کا رویہ اسے غیر معمولی لگا تھا لیکن اس نے اسے محض وہم قرار دے کر اگنور کر دیا۔
جبکہ مریم بیگم تو آئلہ کو اپنی بہو بنانے کی خوشی میں خوب چہک چہک کر باتیں کر رہی تھیں ،،
وہیں حازم نے جب آئلہ کی بنائی چائے کا پہلا گھونٹ لیا تو بے ساختہ ویسے کا ویسا ہی جلدی سے اٹھ کر برآمدے کے آگے بنے لان میں موجود کیاری کے اندر تھوکا،،
اس چائے میں بہت سارا نمک ،، ہلکی ہلکی مرچوں اور چینی کا ٹیسٹ تھا،
حازم کو بے حد افسوس ہوا کہ اس نے آخر آئلہ کو چائے کا کہا ہی کیوں،،
حازم کی امی نے بھی آئلہ کی حرکت سمجھ آنے پر حازم کی حالت دیکھ کر بھر پور قہقہہ لگایا۔
جس پر حازم نے انکو خفگی سے دیکھا
اور ساری چائے کیاری میں انڈیل کر ،
ہاتھ میں خالی کپ لیے اندر چلا گیا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: