Be sakhta novel by Suhaira Awais – Episode 5

0
بے ساختہ از سہیرا اویس- قسط نمبر 5

–**–**–

آئلہ اسائنمنٹ بنا کر فارغ ہوئی تو اسے یاد آیا آیا کہ کل تو ماہرہ کا برتھ ڈے ہے اور اسے اپنی سہیلی کے لیے اچھا سا تحفہ خریدنا تھا،،
اب مارکیٹ جانے کے لیے اسے حازم کی سروسز چاہئیے تھیں،،
اسے پورا یقین تھا کہ وہ اسکی کچھ دیر پہلے والی حرکت پر ہنسی خوشی تو لے جانے رہا،،
بلکہ قوی امکان تھا کہ وہ اسے لے کر ہی نہ جاتا،،
وہ یہ سوچتے ہوئے بیڈ سے اٹھی جہاں وہ بیٹھی اسائنمنٹ بنا رہی تھی اور ندا چچی 😜 (انکا پورا نام ندا مریم تھا جو شادی کے بعد مریم شہزاد ہو گیا اس لیے اب کوئی انہیں ندا کہتا تو کوئی مریم) کے کمرے کی طرف بڑھ گئی،،
وہ خوب جانتی تھی کہ حازم سے کام نکلوانا ہو تو اس کی امی کے پاس آنا چاہیے ۔
اب وہ ندا چچی کو اپنا سارا مسئلہ بتا چکی تھی جس پر انہوں نے ایک بھرپور مسکراہٹ آئلہ کی طرف اچھالتے ہوئے کہا “” اچھا بیٹا، میں جاکر دیکھتی ہوں اسے،، لے جانے گا وہ تمہیں”” انہوں نے اسے اطمینان دلایا۔
اور اٹھ کر حازم کے کمرے میں جانے لگی ،
آئلہ بھی ان کے ساتھ کمرے سے نکلی۔
🍃🍃🍃
تھوڑی دیر بعد وہ اپنے روم میں ڈریسنگ ٹیبل کے آگے کھڑی اپنے 19 انچ کی لمبائی والے خوبصورت بالوں کو سلیقے سے سیٹ کرتی پونی ٹیل بنا چکی تھی اور خود پر ایک بھرپور نظر ڈال کر پیڈ سے اپنی چادر اٹھا کر اوڑھنے لگی،،
اس نے چادر اوڑھ کر پھر سے آئینے کیطرف رخ پھیرا کہ دروازہ ناک ہوا،،
وہ دروازہ کھولنے آئی تو باہر حازم تھا وہ انتہائی خوش مزاجی اسے جلدی ریڈی ہونے کا بول رہا تھا،،
ایک لمحے کو اس نے گہرائی سے آئلہ کے قدرتی حسن سے بھر پور، انتہائی خوبصورت 😍، چہرے کو دیکھا،،
آئلہ کو اسکی حرکت ذرا عجیب لگی کہ اسے، حازم کے چہرے پر چائے والی بات پر غصے کے کوئی تاثرات نظر نہیں آئے، جنکی وہ توقع کر رہی تھی۔
خیر وہ سر جھٹکتے واپس روم میں جاکر ڈریسنگ ٹیبل سے اپنا کلچ اٹھا کر باہر آئی،
حازم نے اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے استفسار کیا کہ چلیں؟
جس پر آئلہ نے اثبات میں سر ہلایا اور اس کے ساتھ چل دی۔
⚡⚡⚡
انکی کار کالونی سے نکل کر اب مین روڈ پر تھی، کار میں چھائ خاموشی کو آئلہ نے توڑا ” یہ تم آج کل مجھ پر زیادہ مہربان نہیں ہو رہے؟”
نہیں، ایسی تو کوئی بات نہیں، تمہیں ایسا کیوں لگا؟ حازم نے سادگی سے پوچھا،
“وہ تم نے ابھی تک مجھ سے لڑائی نہیں کی نہ میری مصالحے والی چائے پر” آئلہ نے کافی دیر آبزرو کرنے کے بعد اپنے دماغ میں اٹھنے والا سوال آخر پوچھ ہی لیا،
“محترمہ اب تو میں تم سے اپنے سارے بدلے ایک ساتھ اور بڑے زبردست طریقے سے پورے کروں گا”
اس نے شرارت سے مسکراتے ہوئے کہا،
آئلہ نے ناسمجھی سے اس کی طرف دیکھا، پھر ایک خیال کے تحت ، انتہائی رازداری والے انداز میں اس سے مذاق میں سوال کیاکہ ،”” کہیں تم مجھے اپنی سچ مچ کی بیوی بنا کر بدلے لینے کا تو نہیں سوچ رہے؟؟”
حازم کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا،،
“تمہیں کیسے پتہ چلا؟”
حازم ہکا بکا ہو کر پوچھ رہا تھا۔
آئلہ اچھل کر رہ گئی، “مطلب تم سچ میں یہی سوچ رہے ہو؟؟ ” اس نے ڈبل حیرانی سے پوچھا،
“مطلب تم تکے مار رہی تھیں؟” اب حازم نے آئلہ کی شکل کے اڑتے رنگ دیکھ کر relax ہو کر پوچھا۔
آئلہ نے اس کی بات کا جواب دیے بغیر ، افسوس بھرے لہجے میں سوال کیا”حازم!! تم کس قدر گھٹیا آدمی ہو،، مجھ معصوم سے میرے ناکردہ گناہوں کا بدلہ لینے کے لیے اب تم نکاح جیسے مقدس رشتے کا استعمال کرو گے؟؟”
“ہاں بالکل” حازم نے ڈھٹائی سے دانت نکالتے ہوئے کہا،
‌”اور تم نے یہ بھی سوچ رکھا ہوگا کہ میں نکاح کیلئے راضی نہیں ہؤں گی، اور تم کوئی سکیم لڑا کر مثلاََ آپی، بھیا ، ماما اور بابا کو الٹی سیدھی پٹیاں پڑھا مجھ سے زبردستی نکاح کرو گے،، اور بعد میں اپنا cheap رومینس جھاڑ کر مجھے ستاؤ گے، ہیں نا؟؟” اسنے پورے یقین سے اپنے اندازے ،، حازم کے گوش گزار کیے۔
اب کی بار ، رنگ حازم کے چہرے سے اڑے تھے، اور وہ سخت حیرانی کے عالم میں بس اتنا ہی پوچھ سکاکہ “”تمہیں کیسے پتہ چلا؟؟”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: