Be sakhta novel by Suhaira Awais – Episode 6

0
بے ساختہ از سہیرا اویس- قسط نمبر 6

–**–**–

اب کی بار ، رنگ حازم کے چہرے سے اُڑے تھے،
اور وہ سخت حیرانی کے عالم میں بس اتنا ہی پوچھ سکاکہ
“”تمہیں کیسے پتہ چلا؟؟”
“”مطلب تم سچ میں یہ سب کرنے والے تھے؟؟””
آئلہ نے افسوس بھرے لہجے میں صدمے سےکہا۔
“ہاں، بٹ تمہیں کیسے پتہ چلا، بتاؤ نا؟”
اسکی سُوئی ابھی بھی یہیں اٹکی ہوئی تھی،،
وہ اسے حیران ہو کر دیکھ رہا تھا۔
اسے لگا کہ وہ اس کی سوچویں پڑھنے لگی ہے۔
“تم کس قدر گھٹیا انسان ہو،،،
ابھی تک تو میں صرف اندازہ لگا رہی تھی۔””
حازم اس کی بات سن کر ریلیکس ہوا۔
“اوہ۔۔ تو محترمہ کے اندازے تھے یہ،،”
حازم اب بالکل نارمل تھا،
“”ویسے تمہیں شرم نہیں آرہی اپنے اس قدر گھٹیا ارادوں پر؟؟””
آئلہ نے تجسّس سے حازم کے چہرے پر شرمندگی کے آثار ڈھونڈتے ہوئے پوچھا،
“شرم بھلا کس بات کی نکاح کرنا کونسی غلط بات ہے؟” حازم نے آئلہ کا ٹھنڈا،نارمل اور غصے سے پاک لہجہ پاکر ،
ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جواب دیے بغیر الٹا سوال داغا۔
“”بے شک نکاح کرنا کوئی غلط بات نہیں،
پر تمہارا یوں گھٹیا ارادے بنانا، اور نکاح جیسے رشتے
کو استعمال کرتے ہوئے ان کی تکمیل کرنا بے حد غلط بات ہے،””
آئلہ نے انتہائی سیریس ہو کر لیکچر جھاڑا جس سے حازم کی عقل پر ذرّہ برابر بھی اثر نہیں ہوا۔
“”اور ایک بات میں تمہیں بتادوں کہ یہ تمہاری خوش فہمی ہے کہ میں یا میرے والدین کسی بھی صورت تمہارے جھانسے میں آئیں گے یا میرا تم سے زبردستی نکاح کریں گے””آئلہ اب بالکل سنجیدہ تھی۔
حازم کے پاس اب کہنے کو کچھ نہیں تھا،
وہ لوگ مارکیٹ پہنچ گئے تھے ،
آئلہ نے گفٹ شاپ سے ماہرہ کے لیے اچھا سا تحفہ خریدا اور مارکیٹ سے اپنے لیے بھی کچھ چیزیں خریدیں۔
حازم شاپنگ کے دوران چپ چاپ، خاموشی سے اسکے ساتھ چلتا رہا۔
😒😒😒😒
وہ لوگ گھر پہنچے تو حازم اپنا خراب موڈ لیے سیدھا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا جبکہ آئلہ اپنی شاپنگ دکھانے ندا چچی کے پاس چلی گئی۔
وہاں روم میں شہزاد چچا بھی تھے،
آئلہ نے ہنسی خوشی اپنی ساری شاپنگ دکھائی اور چچا،چچی سے داد بھی وصول کی۔
ساتھ ہی اس نے اپنی اور حازم کی ساری گفتگو من و عن ، چچا،چچی کے گوش گزار کر دی۔ مزید کچھ باتیں کر کے ،دونوں کو اللّٰه حافظ کہتی ان کے روم سے
نکل گئ۔
اب آئلہ نے بھی تو حازم کو سبق سکھانا تھا۔
✌️⁩⁦✌️⁩⁦✌️⁩⁦✌️⁩⁦✌️
وہاں حازم اپنے کمرے میں لیٹے ،افسوس سے مرا جا رہا تھا کہ آخر اس نے آئلہ کے متعلق ایسا سوچا ہی کیوں اور اگر سوچ ہی لیا تھا تو اعتراف کی کیا ضرورت تھی!!
آخر کو وہ مُکر بھی سکتا تھا،
پھر اس نے سوچا چلو کوئی نہیں آئلہ کا پیچھا چھوڑ دیتا ہوں، مجھے شادی ہی تو کرنی ہے،،
کسی اور سے کر لوں گا!!
بھلا مجھے لڑکیوں کی کوئی کمی ہے،،😎😎
ویسے بھی آئلہ جیسی چِھتِی اور چِنڈال لڑکی کے ساتھ میں ساری زندگی کیسے گزارتا!!
اچھا ہی ہوا جو اسے سب پتہ چل گیا۔۔!!
یہ سب سوچتے سوچتے دل کے کسی کونے سے آتی آوازوں نے اسے حیران کر دیا۔
اسے محسوس ہوا کہ جیسے کسی نے اسکا دل ⁦❤️
نکال کر اس کے سامنے کھڑا کردیا ہو،،
اور اسے چیخ چیخ کر بتا رہا ہو کہ
“ہاں،، خوب کہی تم نے میاں کہ کسی اور سے شادی کر لو گے۔۔!!
اپنے آپ سے پوچھو کہ کیا تم اس کے بغیر سکون سے رہ سکتے ہو؟؟
جب تک دن میں اسے چار دفع دیکھ نہ لو تو تمہارادن نہیں گزرتا،،
جب تک اس سے لڑائی نہ کر لو یا اس کی کسی شرارت کا نشانہ نہیں بنتے تو تمہیں چین نہیں ملتا،،
چوبیس گھنٹے اس کی کسی حرکت کا بدلہ لینے کی سکیم سوچنے کے بہانے اسے سوچتے رہتے ہو،،
خود سے پوچھو کہ وہ تمہارے لیے کتنی اہمیت رکھتی ہے۔۔!!”
پسینےکے ننھے قطرے اس کے ماتھے پر نمودار ہونے لگے،،
وہ خود اپنے آپ پر حیران تھا..!!
آگہی کا لمحہ آیا اور گزر گیا۔۔!!
اس پر اس کے دل میں چُھپی آئلہ کے لیے بے پناہ محبت کا راز آشکار ہوا۔
وہ اب تڑپ کر رہ گیا تھا کہ انجانے میں وہ آئلہ کے لیے بہت کچھ برا سوچ چکا تھا اور اسے آئلہ کو جلد از جلد منانا تھا۔
وہ ان لوگوں میں سے نہیں تھا کہ جو اپنی غلطی کا احساس ہونے پر بھی معافی کے لیے آگے نہ بڑھیں۔
اب اس نے پکا ارادہ کر لیا تھا کہ وہ آئلہ کو صبح ہی جا کر منائے گا اور اس سے اپنے کیے کی معافی مانگ کر ، بالکل صاف نییت سے اور محبت سے نکاح کے مناؤں گا۔۔
“اگر وہ پھر بھی نہیں مانی تو،”
ایک منفی سوچ نے اس کا دل دہلایا۔
کیونکہ اب کسی بھی قسم کی زبردستی کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا،،
اور آئلہ کی خوشی کے خلاف جانا بھی اب اسکے بس میں نہیں تھا۔
وہ خود پر ابھی تک بہت حیران تھا کہ کیسے چند لمحوں میں اس کے دل ⁦❤️⁩ کی دنیا، اس کے خیالات، سوچ، ترجیحات سب کچھ بدل گیا تھا۔
پر وہ اس نئے احساس کے زیر اثر بے حد مسرور بھی تھا،
خود پر حیرت اور تعجب کے با وجود بھی ایک دھیمی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر جم گئی۔
دل ⁦❤️⁩ تھا کہ الگ ہی انداز میں دھڑکنوں کو دوڑا رہا تھا۔
اور وہ بے ساختہ، بے تحاشا اس کے متعلق خوش کن خیالات میں گِھر گیا اور مسلسل اسے سوچتا چلا گیا۔
وہ اسکا اٹھنا ، بیٹھنا، چلنا، پھرنا ، بات کرنا اور ہر انداز ایک نئے طرز سے یاد کر رہا تھا۔
اسکا چہرہ تھا کہ حازم کے تصورات پر چِپک کے رہ گیا تھا۔
جو بھی تھا ،
پر اب وہ سونے کے قابل نہیں تھا،
آئلہ نے بری طرح اس کے حواسوں پر قبضہ کر لیا تھا۔
__________
وہاں آئلہ میڈم نے کمرے میں داخل ہوتے ہی اپنی آپی کو فون لگایا اور حازم کی عقل ٹھکانے لگانے کا پلان بتایا جو وہ کچھ دیر پہلے اپنے چچا چچی کے ساتھ مل کر بنایا تھا۔
اور ساتھ ہی اس کے متعلق فرحان بھائی کو بھی کال کر کےساری بات بتائی اور ساتھ میں ان سے پلان پر عملدرآمد کرنے کے لیے مما بابا کو کنوینس کرنے کی request بھی کی ، جسے اس کے بھائی نے بخوشی مان لیا۔
اس کے بعد باری تھی پلان کے سب سے اہم حصے کو انجام دینے والے میمبر کو اعتماد میں لانے کی۔۔!!
سو۔۔ اس نے فوراً سے پہلے اپنی خالہ کے بیٹے اظفر کو کال ملا کر ساری بات بتائی،
وہ اس کا کزن ہونے کے ساتھ ساتھ ، بچپن سے ہی،
اسکا بہت اچھا دوست بھی تھا۔
یہ سب کر کے وہ سکون سے سونے کی تیاری کرنے لگی،،
وہ اس بات سے یکسر بے خبر تھی کہ حازم کا قرار اور اس کی نیند وہ بہت اچھے سے اپنی تحویل میں لے کر خود آرام و سکون سے سونے لگی ہے۔
اگر وہ حازم کی موجودہ حالت سے باخبر ہوتی تو اس وقت اس نے لڈیاں ڈالنی تھی۔۔!!

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: