Be sakhta novel by Suhaira Awais – Episode 7

0
بے ساختہ از سہیرا اویس- قسط نمبر 7

–**–**–

اگر وہ حازم کی موجودہ حالت سے باخبر ہوتی تو اس وقت اس نے لڈیاں ڈالنی تھی۔۔!!
_______________
حازم نے اللّٰه اللّٰه کر کے رات گزاری،۔۔
وہ بمشکل ایک ،، دو گھنٹے ہی سویا ہوگا۔
صبح خلافِ معمول وہ جلدی اٹھا اور فجر کی باجماعت نماز بھی ادا کی ورنہ اکثر وہ فجر کی تو قضاء نماز ہی پڑھا کرتا تھا۔
وہ ناشتہ کرنے آیا تو پہلی مرتبہ دانسہ ہی ادھر اُدھر آئلہ کی تلاش میں نظریں دوڑا رہا تھا کہ آئلہ سیڑھیوں سے اترتی ہوئی دکھائی دی،،
وہ میرون کلر کی فلیرڈ کُرتی ،
گولڈن کلر کے دوپٹے اور ہم رنگ کیپری زیب تن کئے ،
حازم کے دل کے کی حالت سے بے پروا اس کی دھڑکنیں مزید تیز کر رہی تھی۔
اس سے پہلے کہ وہ اپنے اوپر طاری اس عجیب کیفیت سے نکلتا،،،
آئلہ اس پر ایک ناراض نگاہ ڈالتی کچن کی طرف بڑھ گئی اور اپنی چچی کو اللّٰه حافظ کہتی گھر سے باہر نکل گئی،
حسبِ معمول ماہرہ اپنے ڈرائیور کے ساتھ گیٹ پر موجود تھی۔
آئلہ نے کار میں بیک سیٹ پر ماہرہ کے ساتھ بیٹھتے ہوئے برتھ ڈے کی ڈھیروں wishes دیں اور ساتھ میں اپنے ہاتھ میں موجود خوبصورت سا تحفہ اسے تھمایہ۔
جس پر ماہرہ نے اسے تہے دل سے”شکریہ” کہا۔
__________
وہاں حازم کی نظروں میں بار بار آئلہ کے چہرے کا ناراض تاثر ، ٹھہر سا گیا تھا۔
وہ بے دلی سے ناشتہ کر کے اٹھا اور بوجھل قدموں سے چلتا آفس جانے کی تیاری کرنے لگا۔
_________
وہ جب گھر آیا تو آئلہ گھر پر نہیں تھی،،
ماہرہ نے اپنے گھر میں اپنی دوستوں کے لیے برتھ ڈے پارٹی ارینج کی تھی اور شاید اسی سلسلے میں آئلہ یونیورسٹی سے سیدھا اس کے ساتھ اس کے گھر ہی چلی گئی تھی۔
حازم نے ادھر اُدھر، اندر باہر اسے ڈھونڈا،،
جب کہیں نہیں دکھائی دی تو تھک ہار کے آخر امی سے پوچھا۔
امی نے بتایا کہ وہ ماہرہ کے ہاں گئی ہے،،
اسے ان کے لہجے میں ناراضگی محسوس ہوئی، تو پوچھا “امی کیا آپ ناراض ہیں مجھ سے؟”
“ہاں بیٹا ایسا ہی سمجھ لو۔۔!”
انہوں نے بغیر لگی لپٹی کہے ، سیدھا سیدھا جواب دیا۔
“لیکن کیوں؟” اس نے تڑپ کر پوچھا کیوں کہ وہ بچپن سے ہی اپنی امی کے لیے بہت حساس تھا اور ان کی ناراضگی برداشت کرنا تو اس کے بس میں ہی نہیں تھا۔
“مجھے آئلہ نے کل ، تمہاری نکاح کی خواہش کے پیچھے چھپی…،
تمہاری نیک نیتوں کے متعلق بتایا،
یقین کرو بے حد افسوس ہوا مجھے وہ سب سن کر،،
میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ تمہاری سوچ اس حد تک گر سکتی ہے،” حازم کی امی نے جی بھر کر اسے شرمندہ کیا اور وہ حقیقتاً بہت شرمندہ لگ رہا تھا۔
وہ اپنی امی کی بات سن کر ایک لمحے کی بھی دیر کیے بغیر بولا “امی پلیز۔۔!! مجھے معاف کر دیں،، وہ تو میں نے غلطی سے وہ سب کہ دیا تھا،، یقین کریں میں بہت شرمندہ ہوں اپنی اس حرکت پر اور میں آئلہ سے معافی بھی مانگنا چاہتا ہوں، پر پلیز آپ مجھ سے ایسے ناراض مت ہوں،” اس نے بہت عاجزی سے کہا۔
“بیٹا، یقیناً تمہاری معافی کی اصل حقدار تو آئلہ ہے،، بہت بری طرح دکھایا ہے تم نے اس بچی کا،” ندا نے اسے مزید شرمندہ کیا۔
“جی امی ۔۔! میں کہ رہا ہوں نا کہ اس سے معافی مانگوں گا، اچھا چلیں اب میں چلتا ہوں مجھے کچھ کام ہے،” یہ کہ کر وہ سیدھا اپنے روم کی طرف بڑھا۔
آئلہ کے واپس آنے کے بعد حازم نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی تو اس نے فوراً اس کی کوئی بھی بات سننے سے انکار کر دیا۔
اب حازم زبردستی تو کچھ کہ نہیں سکتا تھا سو چپ چاپ اپنے روم کی طرف چل دیا۔
😒😒😒😒
حازم دو دن تک یوں ہی اس کے آگے پیچھے پھرتا رہا پر آئلہ نے بھی اسے گھاس نہ ڈالنے کی قسم کھا رکھی تھی۔
پھر حازم کو کسی ضروری میٹنگ اور چند ایک دوسرے ضروری کاموں کے سلسلے میں کچھ دن کے لیے آؤٹ آف سٹی جانا پڑا۔
وہاں جا کر بھی آئلہ مکمل طور پر اس کے خیالات کا لازمی حصہ بنی رہی۔
وہ اسے منانے کے مختلف آئیڈیاز کے متعلق بھی بہت کچھ سوچتا رہا۔
_________
جب حازم واپس گھر آیا تو اس کی تایا اپنی فیملی سمیت عمرہ کر کے گھر واپس آچکے تھے ، اس لیے گھر میں کافی رونق لگی تھی۔
وہ سب لوگوں سے مل ملا کر اپنے روم میں آیا۔
دوپہر کا وقت تھا، اس نے کھانا بھی اپنے روم میں ہی منگوا کر کھایا۔
اور تھکن اتارنے کی غرض سے بیڈ پر لیٹ گیا۔
آئلہ بدستور اس کے تصورات کا حصہ بنی ہوئی تھی۔
گھر آنے پر بھی اسے آئلہ نہیں نظر نہیں آئی ،شاید وہ اپنے روم میں تھی۔
اس کے متعلق سوچتے سوچتے وہ پھر سے سو گیا۔
عجیب معاملہ تھا کہ کبھی وہ اس کے ذہن سے ایسے کھیلتی کہ
منٹوں میں اسے نیند کی وادیوں میں دھکیل دیتی
اور کبھی حازم کے چاہنے کے باوجود اس کی آنکھوں سے نیند کھینچ لیتی۔
⚡⚡⚡
وہ شام کو اٹھا تو فریش ہو کر باہر آیا۔
آئلہ کے علاوہ سب لان میں بیٹھے شام کی چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔
اس نے بھی سب کو جوائن کیا۔
باتوں کے دوران ہی اسے اندر سے آئلہ آتے دکھائی دی،
آئلہ سب کو السلام و علیکم کہتی فرحان کے پاس آئی اور اپنے آنے کا مقصد بیان کیا،،،
“بھائی۔۔! میں نے اظفر سے بات کر لی ہے، ان کو میرا اپنی پسند سے برائیڈل ڈریس لینے پر کوئی اعتراض نہیں اس لیے آپ مجھے ابھی شاپنگ پر لے کر چلیں۔”
جہاں فرحان آئلہ کی بات مانتے ہوئے اسے جلدی سے شاپنگ پر جانے کے لیے تیار ہونے کا کہ رہا تھا وہیں حازم کا حیرت کے مارے آنکھیں جھپکانا بھی مشکل ہو رہا تھا۔
آئلہ چہکتی ہوئی اپنا فون، چادر اور پرس اٹھانے اپنے روم کی طرف بھاگی۔
حازم نے بہت مشکل سے،،
، اپنے شدت سے دھڑکتے دل کے کو سنبھالتے ہوئے۔۔۔
اپنے لبوں کو جنبش دی۔۔!!
اور اپنے دماغ میں آتا سوال کہ ڈالا۔۔۔
“یہ آئلہ برائیڈل ڈریس کی کیا بات کر رہی تھی؟؟ کس کی شادی ہے۔””
“ارے بیٹا تمہیں نہیں پتہ؟؟ آئلہ اور اظفر کا نکاح ہے اگلے ہفتے۔۔ لو۔۔!!
یہاں سب کی تیاریاں عروج پر ہیں اور تمہیں علم ہی نہیں۔۔!!
پھر تو تم نے اس کی بات پکی ہونے کی مٹھائی بھی نہیں کھائی ہوگی۔۔
صبر کرو۔۔
یہیں بیٹھے رہو،،،
میں ابھی تمہارے لیے تمہارے فیورٹ گلاب جامن لاتی ہوں.” حازم کی نائلہ تائی نے حازم کے سوال سے بڑھ کر اس کے سارے جوابات ایک ہی سانس میں دیے۔
حازم وہیں بیٹھے بیٹھے خود کو ختم ہوتا محسوس کررہا تھا۔
اس کی پہلی محبت اس کے اظہار کرنے سے پہلے ہی کسی اور کی ہونے جارہی تھی۔
اسے اپنا دم گھٹتا محسوس ہوا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: