Be sakhta novel by Suhaira Awais – Episode 8

0
بے ساختہ از سہیرا اویس- قسط نمبر 8

–**–**–

اسے اپنا دم گھٹتا محسوس ہوا۔
وہ ایک لمحے کی دیر کیے بغیر اندر کی طرف بھاگا۔
آئلہ اپنے روم سے نکل ہی رہی تھی کہ حازم نے اس کا راستہ روکا۔
“آئلہ تم اس نکاح کے لیے انکار کر دو،” اس نے بغیر تمہید کے اپنا مدعا بیان کیا۔
“میرے دماغ پر چوٹ لگی ہے یا چہرے پر پاگل لکھا نظر آرہا ہے،
جو میں فضول میں اتنا اچھا پروپوزل ریجکٹ کر دوں،” آئلہ نے سلگ کر حازم کے مفت مشورے کو بے مول کرتے ہوئے اپنا جواب دیا۔
“آئلہ۔۔!!
میری بات سنو۔۔!!
دیکھو میں نے کہا تھا ناں کہ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں تو تم اظفر کے لیے راضی کیوں ہوئیں؟؟” حازم اس کی منت کی۔
“ہنہ۔۔ شادی۔۔!! تم مجھ سے شادی کرنا چاہتے تھے یا اپنے بدلے پورے کرنے کے لیے ڈھونگ رچانے کی کوشش میں تھے؟؟” آئلہ نے طنز سے بھرپور لہجے میں اس کو جتایا۔
“آئلہ میں اپنے ان لفظوں کے لیے تم سے معافی مانگتا ہوں، یقین کرو وہ صرف ایک مزاق تھا،
میں سچ میں تمہیں دل سے اپنانا چاہتا ہوں،،
پلیز کیا تم مجھے میری غلطی کے لیے معاف نہیں کر سکتیں؟؟؟؟؟۔” حازم نے لجاجت بھرے لہجے میں،آئلہ سے معافی کی، تقریباً بھیک ہی مانگی تھی۔
آئلہ کو لگا کہ اگر وہ مزید اسے سنتی رہی تو وہ رو دے گی اور فوراً سے پہلے ہی اس کی ہر بات پر ایمان لے آئے گی،،
حازم کی آنکھوں میں،اس کے انداز میں موجود سچائی کو وہ محسوس کر سکتی تھی،
اس کے دل کی حالت بھی عجیب ہو رہی تھی مگر اس نے خود کو سنبھالا اور حازم کو اپنے راستے سے ہٹا کر ، بغیر کوئی جواب دیے وہاں سے نکل گئی۔
حازم بے بسی سے اسے جاتا دیکھ رہا تھا۔
________________
وہاں آئلہ کا شاپنگ کے دوران دل ہی نہیں لگ رہا تھا اس لیے اسے اچھے سے اچھا ڈریس بھی اسے پسند نہیں آرہا تھا۔
وہ حازم کو ایسے پریشان کر کے خوش نہیں تھی،
جہاں حازم اس کے لیے دیوانہ ہوا جا رہا تھا وہیں وہ بھی اس پر دل ہارے بیٹھی تھی۔
بس اپنی شادی کو یادگار پلس مزیدار بنانے کے چکر میں اس نے حازم کی حالت خراب کی ہوئی تھی۔
_______________________
اس کی وہ بدلے والی بات سن کر اسے واقعی برا لگا تھا لیکن اس کے لیے وہ بات کوئی اہمیت بھی نہیں رکھتی تھی۔
بعد میں اسے حازم کی معصومیت بھری(جنہیں وہ حازم کے سامنے گھٹیا کہ رہی تھی) سوچوں پر پیار بھی آیا جو اس نے کسی پر ظاہر نہیں ہونے دیا۔
اسے یہ بات جان کر نہایت خوش بھی ہوئی تھی کہ حازم سچ میں اس کی حرکتوں سے بہت تنگ تھا اور بے چارے نے ان سے بچنے کا کتنا معصومانہ سولیوشن
نکالا تھا۔
وہ ، ویسے بھی اسے جان بوجھ کر تنگ کرتی تھی اور اسے ناپسند کرنے کا ڈرامہ کرتی تھی ورنہ حازم تو ہمیشہ سے اس کے دل کی سب سے اونچی مسند پر براجمان تھا۔
وہ واقعی اپنی حرکتوں کے ذریعے اس کی سوچوں کا واحد مرکز بننا چاہتی تھی تاکہ وہ کبھی کسی دوسری لڑکی کے متعلق سوچ ہی نہ سکے اور اس میں وہ سو فی صد کامیاب رہی تھی۔
وہ چاہتی تو بہت پہلے ہی اپنی محبت کا اظہار حازم سے کر سکتی تھی اور اپنی طرف مائل بھی کر سکتی تھی کیونکہ یہ سب اس جیسی خوبصورت 😍 اور کانفیڈینٹ لڑکی کے لیے مشکل نہ تھا۔
مگر پھر بھی اسے اپنی قسمت اور اپنی محبت پر بھروسہ تھا کہ حازم ایک نہ ایک دن خود سے ہی اس سے محبت کرنے لگے گا۔
اور اس کا یہ کامل یقین ہی تھا جس نے پلوں میں حازم کے جذبات کو ایک نیا رنگ دیا تھا۔
__________
اسے ایک آؤٹ لیٹ سے دوسری آؤٹ لیٹ اور ایک بوتیک سے دوسری بوتیک پھرتے دو گھنٹے ہو چکے تھے،،،
پر اسے کوئی ڈریس ہی پسند نہیں آ کے دے رہا تھا۔
فرحان بھی اچھا خاصہ تپ چکا تھا اور ساتھ ہی میں آئلہ پر غصہ بھی کر رہا تھا،
ایک تو اس کو خود کچھ پسند نہیں آرہا تھا اور اوپر سے نائلہ، ندا یا فرحان کی رائے کو وہ اہمیت نہیں دے رہی تھی۔
فرحان آئلہ کو ڈریسز الٹ پلٹ کر دیکھنے میں مصروف پا کر شاپ سے باہر نکلا۔
اس نے حازم کو کال ملائی اور بوتیک کا نام بتا کر فوراً پہنچنے کا کہا،
کیونکہ ان خواتین کی عقل پر تو فرحان کو کوئی بھروسہ نہیں تھا اور شاپنگ سے متعلقہ ایسے مسئلے ،، حازم کے ایک مشورے پر solve( سالو ) ہو جاتے تھے۔
تھا تو وہ شو ڈیزائنر پلس بزنس مین لیکن شاپنگ کے معمالات میں اسکی چوائس کو بہت اہمیت دی جاتی تھی۔
اب حازم بجھے دل کے ساتھ مارکیٹ جانے لگا کیونکہ فرحان نے اسے یہ کہ کر بلایا تھا کہ ندا چچی بلا رہی ہیں۔
ویسے تو وہ فرحان کی بات بھی کم ہی ٹالتا تھا لیکن اگر اسے اس کی امی کا حوالہ دے دیا جائے تو وہ پھر وہ بات ماننا تو جیسے اس پر فرض ہو جاتا تھا۔
______________
تھوڑی دیر بعد حازم اس بوتیک میں تھا جہاں آئلہ صاحبہ اب تک مختلف ڈریسز میں کیڑے نکالنے میں مشغول تھی۔
فرحان اسے لے کر آئلہ کے پاس آیا،،
آئلہ کا موڈ ایک دم بدل گیا،،
تھوڑی دیر پہلے اسے حازم کو پریشان کر کے جو افسوس اور ملال ہو رہا تھا اب وہ حازم کی سڑی ہوئی اور دکھ بھری شکل دیکھ کر اندر تک سرشار کر گیا۔
اس لیے اب وہ مسکرا مسکرا کر کپڑوں کے معائنے کر رہی تھی اور حازم اس کی مسکراہٹ دیکھ کر مزید جل بھن رہا تھا۔
“تم یہاں کیوں آئے ہو؟؟” آئلہ نے اس سے پوچھا۔
حازم نے فرحان کی طرف دیکھ کر آئلہ کے سوال کا جواب طلب کیا۔
“میں نے بلایا ہے اسے، تمہیں تو کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا کہ کیا لینا ہے اور دو گھنٹے سے یہاں سے وہاں پھرا پھرا کر میری چٹنی بنا دی ، اب تم چپ کر کھڑی رہو اور جو بھی جوڑا حازم سلیکٹ کرے گا،، چپ چاپ وہی پیک کروانا،، سمجھی؟؟؟؟””
فرحان، جو آئلہ کی حرکتوں پر کافی دیر سے بھرا بیٹھا تھا، موقع ملنے پر اچھی خاصی سنانے لگا۔
آئلہ کو فرحان کی تپی ہوئی شکل دیکھ کر بری طرح ہنسی آئی اور وہ اس کے الفاظ کی سختی بھلائے اس کی شکل دیکھ کر پیٹ پکڑ کر ہنس رہی تھی،
کچھ ہنسی تو اسے حازم کی اجڑے عاشقوں والی شکل دیکھ کر بھی آرہی تھی جس کو باہر نکالنے کا موقع اسے فرحان کی وجہ سے ملا۔
“اب یہ دانت کس خوشی میں نکل رہے ہیں؟؟؟ ایک سوٹ تک تو پسند کرنا نہیں آتا ، بس دانت نکلوالو تم سے۔۔۔!!” فرحان کا پارہ ابھی بھی high تھا۔
“بھائی آپ اتنی دیر سے زچ ہو رہے تھے؟؟؟ مجھے بتادیتے میں ذرا جلدی کچھ پسند کر لیتی،”” آئلہ نے بمشکل اپنی ہنسی کو بریک لگاتے ہوئے کہا۔
“میرا دماغ نہیں خراب جو میں تمہیں جلدی کرنے کو کہتا ورنہ تم سارا ملبہ مجھ پر ڈال کر کل پھر سے چینچ کرانے لاتیں اور میرے کل کے چار قیمتی گھنٹے ضائع ہوتے،”” فرحان آئلہ کو اسکی پرانی عادت اچھے سے یاد دلائی۔
فرحان اور آئلہ چپ ہوئے تو حازم ہاتھ میں ایک روز گولڈ کلر کی انتہائی خوبصورت ، برائیڈل میکسی فراک لیے ان دونوں کے اپنی طرف متوجہ ہونے کا انتظار کر رہا تھا۔
آئلہ نے اس کی طرف دیکھا تو لپک کر اس کے ہاتھ سے وہ میکسی لی اور پھٹی پھٹی آنکھیں لیے ستائشی نظر سے اسے دیکھ رہی تھی۔
یقیناً وہ میکسی اسے بے حد پسند آئی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: