Be sakhta novel by Suhaira Awais – Episode 9

0
بے ساختہ از سہیرا اویس- قسط نمبر 9

–**–**–

یقیناً وہ میکسی اسے بے حد پسند آئی تھی۔
۔۔۔😍😍😍
آئلہ۔۔ وہ میکسی لیے فوراً ٹرائینگ روم کی طرف گئ۔
وہ میکسی پہن کر باہر آئی تو حازم کی نظر ۔۔۔ جیسے پلٹنے سے انکاری ہو گئیں،،
ندا چچی اور نائلہ نے بھی حازم کی پسند کو داد دی اور فرحان نے بھی پہلی مرتبہ بالکل سچی تعریف کر کے آئلہ کا دل خوش کیا۔
اب وہ واپس ڈریس چینچ کر کے میکسی پیک کروا رہی تھی۔
_____________
حازم کی تو جان ہی نکلی ہوئی اسے ایسے کسی اور کے لئے خوش دیکھ کر،
ہفتہ گزر چکا تھا،
وہ بے تحاشا منتیں کر چکا تھا،
وہ بارہا اپنی محبت کا واضح اظہار کر چکا،،
اپنی اس معمولی سی غلطی سے کہیں بڑھ کر وہ اعتراف کرتا رہا اور بار بار آئلہ سے معافی مانگتا رہا،،
لیکن اس وقت تو ساری دنیا اس پر جیسے تنگ ہی ہو گئی تھی ، کسی نے اس کی ایک نہ سنی۔
_______________
وہ رات کو اپنے بستر پر لیٹا، آج سارے دن کے گزرے واقعات اپنے ذہن میں دہرا رہا تھا۔
ساتھ ہی آئلہ کے نکاح کے متعلق سوچ سوچ کر ہلکان ہو رہا تھا جو کہ کل ہونا تھا۔
اور پھر سے اسے آج والا واقعہ یاد آیا کہ کیسے آئلہ ہنس ہنس کر اظفر سے باتیں کر رہی تھی اور حازم کو شدید اگنور کر رہی تھی۔
پھر اسے تایا ، تائی کا پروٹوکول یاد آیا جو وہ اظفر کو دے رہے تھے۔ جسے دیکھ کر حازم کو پہلی بار اس سے نفرت، جلن ، حسد محسوس ہوا۔
دراصل اظفر اپنی فیملی کے ساتھ آج ہی آگیا تھا جبکہ نکاح کل ہونا تھا۔
حازم یہ سوچ سوچ کر کہ آئلہ ہمیشہ کے لیے، کل کسی اور کی ہو جائے گی، اپنا آپ ختم ہو تا محسوس کرتا رہا۔
اس کا ضبط بے بسی کی انتہا پر تھا،،
آخر وہ ہمت ہار بیٹھا اور پھوٹ پھوٹ کر رو دیا،
اس نے ایک آخری کوشش کرنے کی ٹھانی،،
وہ ایک آخری التجاء کرنا چاہتا تھا اور یہ التجاء وہ کسی اور کے سامنے نہیں بلکہ اپنے رب کے حضور پیش ہو کر کرنا چاہتا تھا۔
سو وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور وضو کرکے جائے نماز بچھا کر چند نفل برائے حاجت ادا کرنے لگا۔
وقت تقریباً رات کے دو بجے کا تھا۔
اب وہ ہاتھ اٹھائے، اپنی گردن کو جھکا کر ، اپنی نظریں خالی ہتھیلیوں پر جمائے ، اپنی عرضیاں اپنے رب کو سنانے لگا۔
وہ اپنی محبت کو کھونے کے ڈر کے زیر اثر ، زاروقطار رو رہا تھا۔
وہ جن جن الفاظ میں اسے اپنے لیے مانگ سکتا تھا ، اس نے طلب کیا۔
نجانے اس کے لاشعور میں ایک یقین تھا کہ آئلہ اس کی ہے اور کوئی اسے حازم سے نہیں چھین سکتا۔
_______________
وہ صبح اٹھا تو سارے گھر میں کافی گہما گہمی تھی، سب یہاں سے وہاں بھاگ رہے تھے،
اصل میں وہ صبح نہیں بلکہ سوا دس بجے اٹھا تھا۔
گھر میں مزید مہمان بھی تھے،
فرحان اور اظفر ناشے کی ٹیبل پر بیٹھے بریڈ اینڈ جیم کے ساتھ انصاف کر رہے تھے،
حازم نے بھی انہیں جوائن کیا۔
“”بڑی خدمتیں ہو رہی ہیں بہنوئی کی”” حازم نے خود کو لاکھ روکنے کے باوجود بھی طنز کرنے کرنے لگا۔
“ارے کہاں بھائی۔۔!! ابھی تک موقع ہی نہیں ملا ، بہنوئی کی خدمتیں کرنے کا۔”فرحان نے اظفر کو آنکھ مارتے ہوئے کہا،
اور ساتھ میں دونوں نے فلک شگاف قہقہے لگائے، جو حازم کو ایک آنکھ نہیں بھارہے تھے۔
حازم نے اپنے غصے اور دکھ کر کنٹرول کرتے ہوئے ناشتے کی طرف اپنی توجہ مبذول کی۔
😌🍃❤️😒😒😒
وہ بریڈ کی لاسٹ بائٹ لے رہا تھا کہ آئلہ وہاں سامنے آ کر کھڑی ہوئی،
ہاتھ میں بڑا سا بیگ تھا جس میں غالباً اسکی برائڈل میکسی ، ہیلز اور جیولری وغیرہ تھے۔
اس نے ٹیبل پر بیٹھے تمام نفوس کو سلام کیا اور اظفر کی طرف متوجہ ہوئی۔
“میں ریڈی ہوں، چلو مجھے بیوٹی پارلر چھوڑ کر آؤ، تم نے بولا تھا تم لے کر جاؤ گے”، آئلہ نے ایک ادا سے کہا۔
حازم کی شکل کے بگڑے زاویے دیکھنے والے تھے، فرحان کی تو یہ دیکھ کر ہنسی چھوٹنے والی تھی کہ اس نے خود پر کنٹرول کیا۔
“یہ کیا بات ہوئی، دولہا خود ہی چھوڑنے جائے گا، دولہے نے خود تیار نہیں ہونا کیا؟؟” حازم پھر سے جلی بھنی پھوپھی بنا ہوا تھا۔
“مسٹر حازم !! دلہن کی مرضی وہ جس کے ساتھ بھی جائے، آپ کون ہوتے ہیں مفت مشورے دینے والے اور بھلا دولہے کی کیا تیاری ہونی ہے۔۔!! ہاتھ منہ دھو کر بس کپڑے ہی تو چینج کر نے ہوتے ہیں”””,,, آئلہ نے تڑخ کر جواب دیا جس پر حازم نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔
_____&&_______&&___
اسے آئلہ پر بھی بے تحاشا غصہ آرہا تھا کیونکہ اتنے دن سے وہ اس کی کسی بات کو سیریس نہیں لے رہی تھی،،
اور نہ ہی اپنی ضد سے باز آرہی تھی،،
نہ ہی اس نے حازم کی کسی ریکویسٹ پر کوئی کان دھرے تھے۔
ایک دفع تو اس کا دل کیا کہ آئلہ کو کڈنیپ کر کے ، زبردستی ہی نکاح کر لے،،
لیکن اس کی تربیت اور کردار اسے اس بات کی اجازت نہیں دے رہے تھے کہ وہ کوئی غلط راستہ اپنا کر اپنی خواہش پوری کرے۔
سو،،وہ اب اپنے دل کو قسمت کے لکھے پر راضی کرنے کی کوششیں کر رہا تھا۔
وہ اپنے کمرے میں بند ہو کر، یہاں سے وہاں ٹہل رہا تھا،،
کبھی تو بار بار خود کو کول ڈاؤن کرنے کی کوشش کرتا کیونکہ آئلہ کے ڈھیٹ اور ضدی پن پر اسے ابھی تک غصہ آرہا تھا اور کبھی اپنے بے حد بے بس ہونے کا سوچ کر بے ساختہ رو دیتا۔
ابھی بھی وہ ٹہل رہا تھا کہ دروازہ ناک ہونے کی آواز سن کر آگے بڑھا،
اپنی ہتھیلی سے آنکھیں رگڑ کر آنسو صاف کیے، ایک گہری سانس اندر کی طرف لے کر خود کو کیا اور دروازہ کھولا ۔
باہر فرحان ہاتھ میں ایک زبردست سا ٹو پیس لیے کھڑا تھا۔
اس نے وہ ٹو پیس حازم کے ہاتھ میں دیا اور تیار ہونے کا کہا۔
چونکہ نکاح ظہر کی نماز کے فوراً بعد ہونا تھا اس لیے سب جلد از جلد تیار ہو رہے تھے۔
“پر میں نے تو یہ ڈریس نہیں منگوایا،، یہ میرا نہیں ہے!!” حازم نے حیرت سے ڈریس دیکھتے ہوئے کہا،، اس کی آنکھیں ابھی بھی سرخ تھیں۔
“جانتا ہوں تم نے نہیں منگوایا، لیکن یہ تمہارا ہی ہے،،
آئلہ نے تمہارے لیے آرڈر کیا تھا،” فرحان نے اس کی حیرت کم کرنے کی کوشش کی۔
“لیکن آئلہ نے میرے لیے کیوں آرڈر کیا؟؟” اب حازم مزید سرپرائزڈ تھا۔
“وہ تم نے بھی اس کی ڈریس سلیکشن میں ہیلپ کی تھی ناں اس لیے اس نے یہ تمہارے لیے لیا تھا ، تاکہ حساب برابر ہو جائے۔” فرحان نے آئلہ کی کہی ہوئی لائن اس کے سامنے رٹ دی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: