Be sakhta novel by Suhaira Awais – Last Episode 10

0
بے ساختہ از سہیرا اویس- قسط نمبرآخری 10

–**–**–

فرحان نے آئلہ کی کہی ہوئی لائن اس کے سامنے رٹ دی۔
“بٹ پھر بھی۔۔!!
تم یہ سوٹ لے جاؤ ،،
میں کچھ اور پہن لوں گا۔۔!!”
اب حازم باقائدہ ضد کرنے لگا تھا۔
“اوہ بھائی۔۔۔!! کیوں اپنی خوشیوں کا دشمن بنا ہوا ہے..””
“”پہن لے یہ سوٹ پھر آئلہ کو پارلر سے تو نے پک بھی کرنا ہے،،
اور وہاں سے سیدھا ہال میں ڈراپ کرنا۔””
“دیکھ بھائی، تیرے دل کی حالت میں سمجھ سکتا ہوں،،
ایک آخری موقع ہے میری بہن کو ایمپریس کرنے کا،،
کیا پتہ!! وہ اپنا فیصلہ بدل دے۔” فرحان نے ایک آنکھ دباتے ہوئے حازم کو شرارت سے مسکراتے ہوئے کہا۔
جبکہ حازم کو لگا کہ وہ اس کی بے بسی کا مذاق اڑا رہا ہے۔
اس لیے اور وہ غصے سے اپنی آنکھیں بڑی کرتا، کھا جانے والی نظروں سے فرحان کو کھور رہا تھا۔
“اوہ بھائی تھوڑا قہر کچھ دیر بعد کے لیے بچا کر رکھ لے،،
اور ہاں۔۔!! میں مہمانوں اور باقی فیملی کو ہال میں ڈراپ کر دیتا ہوں،،
اور اظفر ذرا اپنی تیاری میں بزی ہے،،😉
آئلہ کی کال آئی ہے کہ وہ ریڈی ہو چکی ہے،،🤗
اس لیے تم اسے پک کر لینا ،، اور جلدی سے ہال پہچنا،،
اس لیے اب جلدی سے ریڈی ہو جاؤ۔””😘😘
فرحان نے حازم کے غصے کو خاطر میں لائے بغیر اپنی بات جاری رکھی۔
“اوہ بھائی میں نے نہیں پک کرنا اسے،،
تم خود جا کر لے آؤ،،
عجیب بھائی ہو تم،،
کبھی ہونے والے شوہر کے ساتھ بہن کو بھیج رہے ہو،،
اور کبھی بہن کے ایک عدد امیدوار کو لانے کے لیے کہ رہے ہو،،
یہ سروسز تمہیں خود دینی چاہئیں۔۔ بے شرم انسان””
حازم نے فرحان کے ڈھیٹ پن اور ایسی اعلیٰ ظرفی کو دیکھ کر کھری کھری سنائی،،
جسکا فرحان کی صحت پر کوئی اثر ہوتا دکھائی نہیں دیا،،
“ہاں بھائی،، ہوں میں ۔۔۔ بے شرم۔۔
پر میری شرمی کا کوئی علاج نہیں،،
اس لیے چپ چاپ تیار ہو، اور آئلہ کو لینے جا””
فرحان نے بھی ڈھیٹ ہونے کے سارے ریکارڈ توڑتے ہوئے حازم کو مزید جلایا۔
اس سے پہلے کہ حازم انکار کا کوئی اور جواز پیش کرتا۔۔۔
اس کی امی وہاں آگئیں۔
“ارے،، فرحان بیٹا تم نے ابھی تک حازم کو اس کے کپڑے ہینڈ آور نہیں کیے؟؟؟
جلدی دو اس کو اور نیچے چلو ،، سب تمہارا ویٹ کر رہے پہلے ہی اتنی دیر ہو چکی ہے،،” انہوں نے فرحان کے ہاتھ میں ڈریس دیکھتے ہوئے ، جو حازم اسے واپس تھما چکا تھا، عجلت میں کہا۔
فرحان، وہ ڈریس حازم کے ہاتھ میں دوبارہ سے تھما کر جلدی سے کھسک گیا،،
“بیٹا تم بھی ذرا جلدی ریڈی ہو،،،
آئلہ کو بھی پک کرنا ہے تم نے،،
وہ کب سے انتظار کر رہی ہے،،
اسے جلدی سے لے کر ہال پہنچو۔۔!!”
ندا اسے آرڈر دیتی وہاں سے چلی گئیں۔
حازم تنتناتا ہوا واشروم میں گھسا،،
اور شاور لے کر ڈریس چینج کیا۔
وہ حالانکہ بالکل دل سے تیار نہیں ہوا تھا،،
مگر پھر بھی اس کی فائنل look ایسی تھی کہ دیکھنے والوں کے جذبات مشتعل کر دیتی۔
بلاشبہ وہ بے تحاشا حسین لگ رہا تھا،،
وہ کار کی کیز اٹھائے روم سے باہر نکل گیا۔
____________
☺️⁩⁦☺️⁩⁦☺️⁩⁦☺️⁩⁦☺️
وہ پارلر پہنچا تو وہاں تیار ہوئی آئلہ ، قیامت ڈھا رہی تھی،
وہ وہاں ایک صوفے پر بیٹھی تھی،
حازم اس کے قریب گیا،،
وہ اپنی ناراض نظروں سے اس کا بھر پور جائزہ لے رہا تھا،،
دل تھا کہ پھر سے بے لگام دوڑنے لگا،،
اس پل دونوں کی حالت ایسی ہی تھی،،
آئلہ اپنی جگہ سے کھڑی ہو چکی تھی،،
وہ دونوں ایک دوسرے کی نظروں میں بے ساختہ اپنی اپنی محبت کی کہانی سناتے گئے،،
ایک سحر تھا کہ جس نے دونوں کو مضبوطی سے جکڑ لیا تھا۔
یہ سحر تب ٹوٹا کہ جب آئلہ نے پزل ہو کر اپنی نظریں نیچے جھکائیں،،
حازم کی ہاڑٹ بیٹ پھر سے اس کی اس ادا پر بے ترتیب ہوئی۔
اس سے پہلے کہ وہ اپنا کنٹرول کھو کر کوئی گستاخی کرتا،،
اس نے اپنی نظریں آئلہ سے ہٹا کر اسے چلنے کو بولا۔
آئلہ اثبات میں سر ہلاتی اس کے ساتھ، اس کا ہاتھ پکڑ کر چلنے لگی۔
آئلہ کے نرم ہاتھوں کا لمس اسے عجیب سا احساس بخش رہا تھا۔
وہ بیک وقت اس کے انداز سے اپنائیت اور اجنبیت محسوس کر رہا تھا۔
حازم نے جواب طلب نظروں سے آئلہ اور یکجا ہاتھون کو دیکھا۔
“وہ میں ہائی ہیلز میں کمفرٹیبل نہیں رہتی ناں،،
اس لیے بیلنس نہیں ہو پارہا صحیح سے،،
اس لیے اپنے ہاتھ کا سہارا لینے دو مجھے۔””
آئلہ نے اس کی نظروں کا مفہوم پا کر جواب دیا۔
حازم اس کی بات سمجھتے ہوئے مضبوطی سے اپنا ہاتھ تھامے آگے بڑھ گیا۔
_____$$$____
وہ دونوں کار میں بیٹھ چکے تھے،
آئلہ آج بھی فرنٹ سیٹ پر اس کے ساتھ بیٹھی تھی۔
حازم ابھی بھی شکوہ کناں آنکھوں سے اس کے دل پر وار کر رہا تھا۔
“تم نے اچھا نہیں کیا میرے ساتھ،، کیا تھا جو تم مجھے معاف کر دیتیں۔” وہ اپنی طرف سے ایک پھرپور شکایت کرتا گاڑی اسٹارٹ کر چکا تھا۔
“آئی تھنک۔۔!! تم نے کچھ ایسا نہیں کیا جس کے لیے تمہیں معافی کی ضرورت ہو۔۔۔۔!!
اور میں نے بھی تمہارے ساتھ کچھ برا نہیں کیا جس کے لیے تم مجھ سے شکایت کرتے پھر رہے ہو۔۔””
آئلہ نے چہرے پر معصومیت بھرے انجان ہونے کے تاثرات پیدا کرتے ہوئے پر سوچ انداز میں کہا۔
“اوہ۔۔ رئیلی،، یہ تم نے طنز کرنے کا اور مقرنے کا
کوئی نیا طریقہ ڈھونڈا ہے۔۔” حازم نے تپ کر کہا۔
“میں طنز نہیں کر رہی،،
آئی مین….!!
وہ بات جس کے لیے تم نے ایک ہفتے سے معافیاں مانگ مانگ کر میرے کام پکائے ہوئے ہیں،،
اس میں معافی مانگنے کی کوئی تک ہی نہیں بنتی،،
اب اتنے اتنے سے مذاق تو کزنز میں ہوتے رہتے ہیں،،
اس لیے میں نے تمہیں معاف نہیں کیا کیونکہ اس بات کے لیے میرے لحاظ سے تو معافی مانگنا بنتا ہی نہیں تھا،، ہی ہی ہی”” 😁😁😁😁
آئلہ نے اپنے دانت نکالتے ہوئے ،اپنی ایک بالکل ہی نئی لاجک حازم کے سامنے پیش کی۔
حازم کے کان تک غصے سے سرخ ہو چکے تھے،،،،
“یہ بات تم مجھے اب بتا رہی ہو۔۔۔!!!! تمہیں شرم نہیں آتی؟؟؟ ایک ہفتے سے اس بات پر تم مجھ سے تگنی کا ناچ نچوا رہی ہو!!!!😩😵😠😠😠😠😠😠😤😤
“اوہ۔۔ مسٹر۔۔!! میں نے تمہیں دعوت نہیں دی تھی کہ تم میرے ترلے کرو،،،
، اب چپ چاپ کار ڈرائیور کرو اور میرا موڈ خراب مت کرو،،
اور خبر دار میرے نکاح کے حوالے سے کوئی بات کی تو۔۔۔!!!
یہ میرا پرسنل میٹر ہے،،
میری مرضی میں کسی سے بھی کروں۔۔۔”‘
آئلہ نے حازم کو چپ کرانے کی اپنی سی کوشش کی۔
“یہ بھی خوب کہی تم نے کہ تمہارا پرسنل میٹر ہے۔۔!!!
اور یہاں جو میرے دن رات میرے لیے عذاب بنے ہوئے ہیں،،
ان کا کیا۔۔!! آئلہ الله نہ کرے ۔۔ ! الله نہ کرے۔۔! کہ تمہیں وہ اذیت ملے۔۔ جس سے میں گزرا ہوں،،
وہ بھی تمہارے لیے۔” حازم نے انتہائی کرب سے کہا۔
آئلہ ، حازم کے چہرے پر درد دیکھ کر محظوظ ہوئی،،،
اپنے بے حد خوشنصیب ہونے کا یقین کیا اور ساتھ میں اس بات پر دل ہی دل میں اللّٰه کا ڈھیروں شکر ادا کیا،، کہ اس نے کیسا پیار کرنے والا شخص اس کے نصیب میں لکھا ہے۔
“آمین..! اور تم بھی حوصلہ رکھو،،
تمہیں تمہارے صبر کا صلہ ضرود ملے گا””
آئلہ نے شرارت سے حازم کی طرف دیکھ کر کہا،،
وہ اس کے چہرے پر چھائے ان شریر تاثرات کا مطلب نہیں سمجھ پایا۔
😁😁😁😁
____________________
وہ لوگ ہال پہنچ چکے تھے،،
اور ہمارے اس بدھو سے حازم کا دل آئلہ کو کھونے کے خوف سے دھک دھک کر رہا تھا،
یقیناً اس بار اس نے اپنے نام کے مطلب یعنی ” ہوشیار اور دانا” ہونے کا کوئی مظاہرہ نہیں کیا،
ایک گھر میں رہتے،،
اسے اپنے خلاف ہونے والی سازشوں کی بھنک بھی نہیں پڑی اور ایک یہ آئلہ ہے کہ جس نے حازم کے بن بتائے ہی اس کے اندر تک کے راز جان لیے،، اس کی سوچیں تک پڑھ لیں۔
________________
حازم کار سے نکل کر دوسری سائیڈ پر آیا،،
آئلہ کی کار سے نکلنے میں مدد کی،، کیونکہ ڈریس ذرا زیادہ ہی ہیوی تھا اور اسے خود سے نکلنے میں مشکل ہو رہی تھی۔
پھر آئلہ ویسے ہی اس ہاتھ تھامے چل رہی تھی کہ ایک خیال کے تحت ،، اس نے اپنا بازو، حازم کے بازو سے کراس کیا،، اور کسی بہت ہی loving couple
کی طرح چلنے لگی،،
حازم اس کی ان عجیب حرکتوں پر جتنا حیران ہوتا وہ کم تھا۔
____________
وہ لوگ ہال میں اینٹر ہوئے تو سب ہاتھوں میں پھولوں کی پلیٹیں لیے ان پر پھول نچھاور کر رہے تھے،
اس مجمعے میں اظفر بھی شامل تھا جو مسکراتے ہوئے شرارت سے حازم کو دیکھ رہا تھا۔
ادھر ادھر سے آئلہ اور حازم کے کزنز اور آئلہ کی فرینڈز کی ہوٹنگ کا شور بھی بلند ہورہا تھا۔
حازم بے حد حیران ہو رہا تھا,،،
اس کے لیے، نکاح کے پیپر پر سائن کرتے وقت، یہ یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا کہ اس کی ہر دعا ایسے بھی قبول ہو سکتی ہے۔
وہ دل سے اللّٰه کا شکر گزار تھا کہ آئلہ ہمیشہ کے لیے اس کی ہو گئی۔
اور تو اور اسے سب کا یہ سرپرائز بھی بہت پسند آیا تھا۔
_______________
جو بھی تھا آئلہ نے اسے بہت ستایا تھا،،
اس لیے اسکی ایک کلاس لینا تو بنتا تھا،،
اس لیے اس نے نکاح کے بعد۔۔ آئلہ کو بہت اگنور کیا،،
سارے فوٹو سیشن میں بھی photographer کے کہنے کے علاوہ، اس نے ایک دفع بھی آئلہ کی طرف نہیں دیکھا،،،،
آئلہ بس اپنی یوں نظر انداز ہونے پر جلی بھنی بیٹھی تھی،،
تھوڑی دیر پہلے والی ایکسائیٹمنٹ اب غصے میں بدل گئی تھی۔
سارے مہمان بھی جا چکے تھے۔
گھر واپس آنے کے بعد بھی حازم نے اسے کوئی لفٹ نہیں کرائی بلکہ اسے وہیں ہال میں چھوڑ کر خور اکیلا ہی گھر واپس آیا۔
_____________
آئلہ کا تو بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ حازم کا کلیجہ نکال کر چبا ڈالے۔
وہ سب تقریباً شام کو گھر پہنچے،،
حازم نے گھر آتے ہی سب سے پہلے چینج کرکے شکر کے نوافل ادا کیے اور پھر گھر سے باہر اپنے دوستوں کو ٹریٹ دینے نکل گیا،،
کیونکہ تھوڑی دیر پہلے والے نکاح کی پکچرز وہ اپنے واٹس ایپ اسٹیٹس پر اپلوڈ کرنے کی غلطی کرچکا تھا جس پر اس کے دوستوں نے مبارکباد کے ساتھ ساتھ ٹریٹ کی فرمائش کر کر کے دماغ چاٹ لیا۔
____&&&____
یہاں آئلہ،، حازم کا اپنے پاس آنے کا انتظار کر رہی تھی تاکہ وہ اس کے ایسے اگنور کرنے پر اسکا سر پھاڑ سکے،،
پر حازم میاں کہاں ہاتھ آنے والے تھے۔۔۔۔!!
حازم تو گیارہ بجے گھر واپس آیا،،
وہ امی کو کہ کر گیا تھا کہ اس کا رات کے
کھانے پر ویٹ نہ کیا جائے کیونکہ وہ دوستوں کے ساتھ باہر سے ہی ڈنر کر کے آئے گا۔
اس لیے امی سمیت سب سو رہے تھے اور وہ سیدھا اپنے روم میں گیارہ،،
ہاتھ منہ دھو کر فریش ہوا اور آکر بیڈ پر لیٹ گیا،،
اسے ایسے لیٹے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ اس نے سوچا کیوں نا ایک حاضری آئلہ بیگم (اب تو وہ اس کی بیگم ہی تھی) کے پاس لگا لی جائے۔۔!!
یہ خیال آتے ہی وہ اٹھا،،
ٹائم دیکھا تو پونے بارہ ہو رہے تھے۔۔
وہ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے آئلہ کے روم کی طرف بڑھا۔
____________
وہ اس کے روم کی طرف گیا تو دروازہ کھلا اور لائٹس آن تھیں،،
آئلہ یہاں سے وہاں، ناک منہ پھلائے اپنے روم میں ہی ٹہل رہی تھی۔
حازم آرام سے روم میں گیا اور دروازہ اندر سے لاک کر لیا۔
آئلہ کا تو اسے دیکھ کر پارہ ہی چڑھ گیا،،
گویا وہ اس ہی کے آنے کا انتظار کر رہی تھی اور جیسے اسے یقین تھا اس کے آنے کا۔۔!!
“اب کیوں آئے ہو یہاں؟؟؟ ہیں۔۔۔!! بتاؤ؟؟؟
اور اترا کیوں رہے ہو اتنا۔۔۔!!! تین دفع ⁦❤️⁩قبول ہے⁦❤️⁩ کیا بول دیا۔۔ تمہارے تو مزاج ہی نہیں مل رہے””
آئلہ نے حازم کو دیکھتے ہی اپنا سارا غصہ نکالا،،
اس نے یہ سب کہتے ہوئے اپنا لہجہ سخت اور آواز دھیمی رکھی،،
وہ ہر لفظ خوب چبا چبا کر بول رہی تھی،،
جبکہ حازم اس کی حالت سے بہت محظوظ ہورہی تھی،،
“بس اتنی سی دیر کا نظر انداز ہونا برداشت نہیں ہورہا،، اور میں نے جو پورا ہفتہ تم سمیت ساری فیملی کا یہ رویہ برداشت کیا ،، وہ تو کسی کھاتے میں ہی نہیں،،، ہیں نا؟؟”
حازم نے بھی اسی کی طرح نسبتاً ٹھنڈے لہجے میں اسے جواب دیا۔
😠😠😠
“تو کیا ہوا ۔۔ جو تم نے تھوڑا برداشت کر لیا،،
لوگ تو پتہ نہیں کیا کیا برداشت کر کے شکوہ تک نہیں کرتے اور ایک تم ہو کب سے ایک ہفتے کے رونے روئے جا رہے ہو،، تمہیں تو شکر کرنا چاہیے کہ جو تم چاہتے تھے وہ ہو گیا اور بائی دا وے تم اس وقت میرے روم میں کیوں آئے ہو؟؟؟ ” آئلہ اپنی اصلی ٹون میں واپس آتی آرام سے کہ رہی تھی،،
“پہلی بات تو یہ کہ میں رونا نہیں رو رہا بلکہ تمہارے دونوں کا جواب دے رہا تھا اور…
دوسرا یہ میں شکر ادا کر چکا ہوں اور آئیندہ بھی کرتا رہوں گا۔۔اورررر،۔۔۔۔۔۔۔
تیسرا یہ کہ میرا دل چاہ رہا تھا کہ میں اپنی بیگم سے ذرا اچھی سی صلح کر لوں،،
کچھ اپنی زوجہ محترمہ کی سنوں کچھ اپنی سںناؤں۔۔”
یہ تیسری بات اس نے آئلہ کے قریب آتے ہوئے ، خاصے رومینٹک انداز میں کہی۔
_______
آئلہ پیچھے ہوتی گئی، وہ قریب آتا گیا،،
آخر پیچھے دیوار آگئ اور آئلہ دیوار سے جا لگی،،
حازم نے دونوں بازو دیوار پر ، اس کے دائیں بائیں رکھ کر فرار کا راستہ بند کیا۔
“یہ جو رومینس کا کیڑا تمہارے اندر سر اٹھا رہا ہے ناں۔۔!! اس کو فوراً مار دو ورنہ تمہارے ساتھ اچھا نہیں ہوگا!!۔۔۔” آئلہ نے اپنی لڑکھڑاتی آواز میں کمزور سی دھمکی دی،،
اس کا سارا کانفیڈینس بھاپ بن کر اڑ گیا تھا۔
اس کا گھبرایا چہرہ حازم کو بہت مزہ دے رہا تھا۔
“نہیں آلو ڈارلنگ،، یہ کیڑا تو تاحیات مجھ میں زندہ رہے گا،” حازم نے اپنا چہرہ اس کے چہرے کے قریب لاتے ہوئے کہا،
“یہ آلو ڈارلنگ کیا ہوتا ہے،،” آئلہ دھیمے سے غصے میں بولی،،
اسے اپنا یہ نیا نام بالکل پسند آیا تھا۔
“تم ہو آج سے میری آلو ڈارلنگ،،
اور زیادہ resist کیا ناں،، تو ایسے دس اور نام رکھ دوں گا،،” اب وہ اچھی طرح سے اسے ستا رہا تھا۔
“اچھا ٹھیک ہے۔۔ نہیں کرتی resist لیکن تم مجھ سے ذرا دور ہو کر مجھ سے بات کرو ناں۔۔!” آئلہ نے ہار مانتے ہوئے کہا،،
“واہ!! تم تو بہت اچھی بچی بن گئی ہو،، ساری باتیں ماننے لگی ہو ،، چلو شاباش اب جلدی سے میرے گال پر ایک کس کر کے proper صلح کرو ،، ورنہ میرے رومینس والے کیڑے نے اچھی طرح سے جاگ جانا ہے،، پھر جو کچھ ہوگا،، اس کی ذمہ دار ہو گی۔۔”
حازم نے اچھی طرح سے آئلہ کو ڈرایا دھمکایا اور اپنا گال اس کے ہونٹوں کے سامنے کیا۔
آئلہ نے بھی فوراً اپنے نرم ہونٹ اسکے گال پر رکھے کہ کہیں جو وہ کہ رہا ہے سچ مچ میں کر ہی نہ دے،،
اور اپنی جان چھڑانے کی کوشش کی۔
حازم بھی اسے مزید تنگ کرنے کا ارادہ ترک کے پیچھے ہوا۔
اس نے اس شرمائی ہوئی آئمہ کو مسکرا کر تھینکس بولا۔
اور جیب سے ایک انگوٹھی نکال کر اسے پہنائی ،
ایک محبت اور احترام سے بھرپور بوسہ اس کے ماتھے پر دیا،، اور گڈ نائٹ کہ کر جانے لگا ۔
“Listen..!!
آئلہ کی آواز پر وہ دوبارا مڑا۔
“تمہارا بھی بہت بہت شکریہ،، اور سوری بھی۔۔ میں نے بہت تنگ کیا ہے ناں اب تک۔۔”” آئلہ نے نظریں جھکا کر، انتہائی نرمی سے کہا،،
“تھینکس تک تو ٹھیک تھا بٹ سوری کی ضرورت نہیں۔” حازم نے مسکرا کر آئلہ کو ہگ کرتے ہوئے کہا اور پھر سے گڈ نائیٹ کہتا باہر نکل گیا۔
اب دونوں کی تا حیات خوشیاں ان کی منتظر تھیں۔
الله سںب کو ایسی ہنستی مسکراتی زندگی عطا کرے۔🤣😁

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: