Beauty and the Vampire Novel by Zaha Qadir – Episode 1

0
بیوٹی اینڈ دی ویمپائر از ضحٰی قادر – قسط نمبر 1

–**–**–

رات کا پہر سنسان سڑک جس کو سٹریٹ لائٹ کی پیلی لائیٹ نے روشن کیا ہوا تھا ۔۔ آس پاس کوئی گھر نہیں تھا ۔۔
ایسے میں ایک گاڑی فل والیم میں میوزک لگائے وہاں سے گزری ۔۔ گاڑی میں بیٹھا لڑکا میوزک کے ساتھ جھومتا اور ساتھ وائین پیتا ہوا مستی میں گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا ۔۔
ابھی وہ گاڑی چلا ہی رہا تھا کہ اسے لگا کہ کوئی گاڑی کے سامنے آیا اس نے ہڑبڑا کر جلدی سے بریک لگائی ۔۔ ایک دم گاڑی کو بریک لگانے کی وجہ سے اس کا سر سٹیرینگ ویل سے ہلکا سا ٹکرایا ۔۔ لیکن سیٹ بیلٹ کی وجہ سے بچت ہوگئی ۔۔
وہ جلدی سے سیدھا ہوا لیکن وہاں کوئی نہ تھا (کہیں گاڑی کے نیچے تو نہیں آگیا ۔۔۔ ) اس کے ہاتھ کپکپاۓ ۔۔۔لیکن پھر ہمت کر کے اپنے خدشے کی تصدیق کے لیے خود کو سیٹ بیلٹ سے آزاد کر کے وہ گاڑی سے نکلا ۔۔ اور گاڑی کے سامنے آیا ۔۔ لیکن وہاں کوئی نہیں تھا ۔۔ سر پر ہاتھ پھیر کر اس نے دائیں بائیں دیکھا لیکن پوری سڑک خالی تھی وہاں درختوں کے علاؤہ کچھ نہیں تھا ۔۔ اس سے پہلے وہ وہم سمجھ کر گاڑی میں بیٹھتا اسے یوں لگا جیسے اس کے پیچھے کوئی کھڑا ہے ۔۔ ابھی تو اس نے سر دیکھا ۔۔ لیکن کوئی بھی نہ تھا ۔۔ اسے شدت سے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔۔۔
‘ کسی کو ڈھونڈ رہے ہو ۔۔۔” برف سے بھی سرد لہجے میں کہے گئے یہ جملے اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑا گئے تھے ۔۔اس کے رونگھٹے کھڑے ہو گئے ۔۔ اسے شدت سے رات کی تاریکی ۔۔ اور سنسان سڑک کا احساس ہوا ۔۔ دماغ میں گزشتہ عرصے کے حاداثت کی نیوز گھومنے لگی جو اسی طرح سنسان سڑک پر ہوئے تھے ۔۔
ہمت کر کے پلٹا ۔۔
اور پیچھے موجود شخص دیکھ اس کی سانسیں گلے میں پھنس گئی ۔۔ اسے اس شخص کی آنکھوں میں اپنی موت نظر آ رہی تھی ۔۔
زوردار چیخ سڑک پر گونجی ۔۔ پھر مکمل خاموشی چھا گئی ۔۔ ہر طرف پھر سے سناٹا چھا گیا تھا ۔۔
_______________________
کلاس میں طوفان مچا ہوا تھا ۔۔
کوئی موبائل کے کیمرے سے اپنا میک آپ ٹھیک کر رہی تھی ۔۔۔کوئی گانا گا رہا تھا ۔۔ کوئی کسی کو تنگ کر رہا تھا ۔۔ پروفیسر ابھی کلاس میں نہیں آئے تھے ۔۔
ایوا ان سے بے نیاز موبائل یوز کر رہی تھی ۔۔ اس کی ہیزل آنکھیں موبائل کی اسکرین پر آتی خبر پر ساکت ہوئی ۔۔ جہاں جنگل کے قریب سے گذرتی سڑک پر ایک لاش ملنے کی خبر تھی ۔۔۔ اس نے جلدی سے مزید تفصیل کو پڑھا ۔۔ جہاں اس کو بھی جانوروں کا کام کہا جا رہا تھا ۔۔ اسے افسوس ہوا تھا ۔۔۔
اسے اس شہر میں شفٹ ہوے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا ۔۔۔اس کے ڈیڈ پولیس میں تھے ۔۔ جن کا کام قتل کی تحقیقات کرنا تھا ۔۔ ان کا اس شہر آنا کے پیچھے بھی یہی مقصد تھا ۔۔
اسے اب سمجھ آئی کہ ڈیڈ آدھی رات کو کیوں گھر سے گئے تھے ۔۔۔
یکدم کلاس میں خاموشی چھا گئی ۔۔ جس کا مطلب تھا کہ سر آگے ۔۔ اس لیے اس نے بھی جلدی سے موبائل سے سر اٹھایا ۔۔ لیکن یہ کیا ۔۔۔ وہ سر تو نہیں تھے ۔۔
بلیک ٹی شرٹ جس میں سے اس کی مضبوط جسم کا دور سے پتا لگ رہا تھا ۔۔ ساتھ جینز ۔۔ سرد گرے آنکھیں ۔۔ کالے بال ۔۔ چہرے پر ہلکی بیرڈ ۔۔ ۔۔۔ اس کا پہلا تاثر جو دماغ میں آتا تھا وہ ۔۔ خطرہ تھا ۔۔ اور جو آخری آتا تھا وہ بھی خطرہ تھا ۔۔ لیکن ایوا اسے یہ شخص زہر لگتا تھا ۔۔ اس کی وجہ سے ہی تو اسے یونی کے پہلے دن کتنی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔۔ کسی سینئر نے شرارت سے اسے پیچھے دھکا دیا تھا ۔۔ جس کی وجہ سے وہ اس سے ٹکرائی تھی ۔۔ اور جواب میں اس نے کیسے اسے دھکا دے کر پیچھے کیا تھا جیسے وہ کوئی اچھوت ہو ۔۔۔ اس کے دھکے کی وجہ سے وہ زور سے زمین پر گری ۔۔ وہ اپنی ناک پر ہاتھ رکھ کر وہ جلدی سے چلا گیا ۔۔ وہ جو پہلے ہی اتنے سٹوڈنٹس کے سامنے گرنے کی وجہ سے شرمندہ ہوئی تھی اس کے اس طرح ناک پر ہاتھ رکھنے پر اور شرمندہ ہوگئی ۔۔۔
وہ شہرام الیکس تھا ۔۔۔۔ اس کی شہرت اچھی نہیں تھی ۔۔ وہ ہینڈسم تھا ۔۔لیکن پھر بھی لڑکیاں اس سے دور رہتی تھیں ۔۔ یہ چیز تو ایوا نے خود بھی دیکھی تھی ۔۔ وہ صرف لینگویج کی کلاس اٹینڈ کرتا تھا ۔۔ لیکن پھر اس کے نمبر سب سے زیادہ ہوتے تھے ۔۔ آج بھی کلاس اس لیے خاموشی تھی کیونکہ وہ پہلی بار اس کلاس میں آیا تھا ۔۔
ایوا نے صرف ایک نظر پر ڈالی تھی اس کے بعد وہ دوبارہ اپنے سابقہ مشغلے میں مصروف ہوگئی ۔۔۔
شہرام نے سپاٹ چہرے کے ساتھ ایک نظر کلاس پر ڈالی ۔۔ اس کلاس کے اس طرح خاموش ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا وہ وہاں موجود سب سٹوڈنٹس کی دھڑکنوں کی تیز آواز سن کر سمجھ گیا تھا کہ وہ گھبرا گئے ہیں لیکن پھر جو چونکا دینے والی بات تھی کہ ایک دھڑکن ایسی تھی جس کی رفتار نارمل تھی ۔۔ وہ قدم اٹھتا اس سیٹ کی جانب آیا ۔۔ اس کے چلنے کا انداز بھی کسی بادشاہ کی طرح کا تھا ۔۔ سٹوڈنٹس بھی اب آہستہ آہستہ شاکڈ نکل آئی تھی ۔۔ لیکن اس کے آنے میں جو فضا میں ایک روب سا قیام ہوا تھا وہ ہماز قیام تھا ۔۔
وہ درمیان رو کے پاس آکر روکا ۔۔ جہاں گولڈن بالوں والی لڑکی جھکے سر کے ساتھ اپنا موبائل یوز کر رہی تھی ۔۔ یہ واحد تھی جس نے اس کے آنے پر کوئی ریکشن نہیں دیا تھا ۔۔
اب بھی وہ سب سے بے نیاز تھی ۔۔ شاید اس نے اس کی موجودگی محسوس کرلی تھی ۔۔ اس لیے ۔ اب موبائل سے سر اٹھا کر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔ وہ اس کی نظر میں نظر آتی ناپسندیدگی دیکھ رہا تھا ۔۔
یہ لڑکی اسے بری طرح اپنی جانب متوجہ کر رہی تھی ۔۔
” سیٹ ۔۔ !!!” اس کی بات پر اس لڑکی ایک نظر اپنے ساتھ والی سیٹ پر ڈالی ۔۔ پھر سامنے بینچ پر پڑی اپنی بکس اٹھا کر اس سیٹ کر رکھی ۔۔۔
” ناٹ فری ۔۔۔۔ ” بےنیازی سے جواب دیتی وہ اب اپنی آنکھوں میں تمسخر لیے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔ ایک بار پھر سے خاموشی چھا گئی ۔۔ سب دم سادھے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے ۔۔
شہرام کو اس کی یہ حرکت اچھی نہیں لگی ۔۔ اس لیے اب وہ ایک ہاتھ بینچ پر اور دوسرا اس کی چئیر کی بیک پر رکھ کر اس پر جھکا ۔۔ اور اس کی آنکھوں میں اپنی آنکھیں ڈالتا ہوا ۔۔ سرسراتے ہوے لہجے میں بولا ۔۔
” سیٹ ۔۔۔!!” اس کی آنکھوں کا گرے کلر بولتے ہوئی ایک دم زیادہ ہوا ۔۔
ایوا معمول کی طرح سیٹ سے اٹھی اور ساتھ والی چیئر سے اپنی بیکس اٹھا کر وہاں بیٹھ گئی ۔۔ لیکن پھر وہ حیران ہوئی ۔۔ آخر کیوں اس نے اس کی بات مانی ۔۔
وہ اب اس کی ساتھ والی سیٹ پر بیٹھا سیگریٹ پی رہا تھا ۔۔۔ ایوا کو غصہ آیا ۔۔ کلاس میں سگریٹ نوشی سختی سے منا تھی ۔۔ اور اس کا انداز دیکھ کر یوں لگ رہا تھا جیسے وہ یہ کرنے آیا ہو ۔۔۔
اس نے اپنی چیزیں سمیٹیں اس کا ارادہ کہیں اور جا کر بیٹھنے کا تھا ۔۔ اسے سگریٹ کی سمیل سے سخت چڑ تھی ۔۔ لیکن سر کو کلاس میں آتے دیکھ کر وہ وہیں رک گی ۔۔
(سر خود نمبٹ لییں گے اسے ۔۔۔ ) اس خیال کے ساتھ وہ بیٹھ گئی ۔۔
شہرام جو بظاہر سیگرٹ پی رہا تھا ۔۔ لیکن وہ اس کی سب حرکتیں سمجھ رہا تھا ۔۔ اسے پتا تھا کہ وہ کیا سوچ رہی ہے کیونکہ پروفیسر کے آنے پر جو اطمینان اس کے چہرے کا آیا تھا ۔۔ وہ اسے لطف دے گیا تھا ۔۔
” آپ کلاس سے نکل جائیں ۔۔ ” اور وہی ہوا جو ایوا نے سوچا تھا ۔۔ پروفیسر نے کلاس سے نکلنے کا کہا ۔۔ اس کے دل پر گدگدی ہوئی ۔۔
شہرام ایسے ہی بیٹھا رہا ۔۔ جیسے اس سے نہیں کسی اور سے کہا جا رہا ہے ۔۔ اس نہ ہلتے دیکھ کر پروفیسر نے مارکر کا کپ اتارا کر اس کی طرف پھینکا ۔۔ جسے اس نے بن دیکھے آرام سے دو انگلیوں میں کیچ کر لیا ۔۔۔
اس کی اس پھرتی پر ایوا حیران ہوئی ۔۔۔
” آئی سے اسٹینڈ اپ ۔۔ اور گیٹ آؤٹ فروم دی کلاس ۔۔۔ ” انہوں نے کافی غصے سے کہا ۔۔
اس نے سگریٹ ہونٹوں سے نکالا ۔۔ اور سیٹ سے اٹھ کر پینٹ کی دنوں جیبوں میں ہاتھ ڈال کر چلتا بلکل پروفیسر کے قریب جا کر کھڑا ہوگیا ۔۔
اور پروفیسر کے سامنے اس نے پہلے والی سگریٹ زمین پر پیھنکا اور پھر پروفیسر کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ اس نے اپنے جوگرز سے مسالا ۔۔ اس کی اس حرکت پر پروفیسر کے ماتھے پر ٹھنڈا پیسنا آیا ۔۔
اس کی سرد آنکھیں ان کی ریڑھ کی ہڈی میں سرد سی لہر دوڑا گئیں تھیں۔۔
اس نے دوبارہ سیگریٹ نکالی اور اب وہ پروفیسر کے سامنے نئی سگریٹ کے کش لے رہا تھا ۔۔ اور دھواں جان کر اس طرف چھوڑ رہا تھا جہاں پروفیسر کھڑے تھے ۔۔
اب کی بار وہ کچھ نہیں بولے ۔۔ اور اسے نظرانداز کرتے ہوئے ۔۔ لیکچر دینے لگے ۔۔ ان کی جانب تمسخر آمیز نظروں سے دیکھتے ہوے ۔۔ وہ دوبارہ اپنی سیٹ پر آگیا ۔۔ اور ڈیسک پر پاؤں رکھے ۔۔۔ اور لیٹنے کے انداز میں بیٹھ گیا ۔۔۔ ارگرد سے بےنیاز ۔۔
ایوا نے ناگوار نظر اپنے ساتھ بیٹھے وجود پر ڈالی جو پہلے ہی اسے دیکھ رہا تھا ۔۔ اس کے دیکھنے پر بھی اس نے اس پر سے نظریں ہٹائی بس سنجیدگی سے اسے دیکھتا رہا۔۔
اس کا چہرہ ۔۔ آنکھیں سب کچھ بےتاثر تھے ۔۔ لیکن کچھ تو ایسا تھا ۔۔ جو اسے اپنی۔طرف متوجہ کر رہا تھا ۔۔ اس کا دماغ خطرے کے سائیرن دے رہا تھا ۔۔
لیکن دل اکسا رہا تھا اس کی پراسرار ذات کے بارے میں جانے کے لیے ۔۔ وہ اس پر سے نظر ہٹا چکی تھی ۔۔ پھر بھی اس کی سرد نظروں کی تپش وہ محسوس کر رہی تھی ۔۔۔
ایک تو اسے دیکھتے ہی خطرے کا احساس ہوتا تھا ۔۔ دوسرا اس کی عجیب حرکتیں ۔۔
جو بھی تھا لیکن اس کی ذات میں ایک پراسراریت تھی ۔۔۔
اور پراسرار چیزوں کے راز جانا اس کی کمزوری تھا ۔۔
لیکن اس بار اس کا تجسّس اس کو کتنے بڑے خطرے میں ڈالنے والا تھا اس کا اس کو اندازہ تھا
_______________________
۔۔ گھر میں رات کے پہر ٹی وی لانج کی لائٹ جل رہی تھی ۔۔ جس سے ٹیبل پر پڑے کافی کے دو کپ اور کاغذ بکھرے پڑے صاف نظر آ رہے تھے ۔۔ صوفے پر بیٹھے ۔۔ ماتھے پر بل ڈالے روبرٹ اگلے پیچھے تمام کیسز سٹیڈی کر رہا تھا ۔۔۔ اور جسے جیسے وہ سٹڈی کرتا جا رہا تھا اس کے ماتھے پر پڑے بلوں میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا ۔۔۔
آج جو لاش اس کی لیباٹری سے ٹیسٹ ہو کر گئی تھی ۔۔ جس میں موت کی وجہ خون کی خطر ناک حد تک کی کمی بتایا گیا تھا ۔۔ پیچلے کیسز کی بھی یہی رپورٹ تھی ۔۔
اب وہ ان ساروں میں کامن چیزیں بورڈ پر لکھ رہا تھا ۔۔
خون کی کمی ۔۔۔
سنسان جگہ ۔۔۔
مرنے والے سارے مرد ہی تھے ۔۔
جانوروں کے کاٹنے کے نشان۔ ۔۔
وہ مارکر کا کیپ بند کر کے رکھنے لگا کہ فائل پر لگی وکٹم کی تصویر پر گئی ۔۔ اس نے تصویر اٹھا کر دیکھا ۔۔ غور سے ۔۔
پھر اگلے ۔۔۔ ایسے ایسے کرتے اس نے سارے تصویریں دیکھیں ۔۔ پھر وہ جلدی سے اٹھ کر اندر اپنے کمرے میں گیا جب واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک سیاہ کور کہ موٹی سی ۔۔ کتاب تھی جس کی خستہ حالت اس کے خاصے پرانے ہونے کا بتا رہی تھی۔۔
وہ بک کھولے جلدی جلدی صفحے آگے کر رہا تھا ۔۔ کہ ایک جگہ رک گیا ۔۔ جہاں تصویر بنی ہوئی تھی۔۔۔اس نے جلدی سے کتاب میں بنی تصویر کو ۔۔۔ ان تصویروں کے ساتھ رکھا ۔۔
اس کا شک سہی نکلا تھا ۔۔
یہ کسی جانور کا کام نہیں تھا ۔۔
ویمپائر کا تھا ۔۔
وہ ان دانتوں کے نشان کو دیکھ رہا تھا ۔۔ نفرت سے حقارت سے ۔۔ اس کی آنکھیں لال ہو رہی تھی ۔۔اچانک ایوا کا وہاں آنا ہوا ۔۔ وہ اب ان کے ساتھ ہی صوفے پر بیٹھ رہی تھی ۔۔انہیں وہ الجھی ہوئی لگی تھی۔۔
” تم سوئی نہیں ابھی تک ۔۔۔” نرمی سے اس کو خود سے لگاتے ہوے انہوں نے اس کے ماتھے پر بوسا دیا ۔۔
” ڈیڈ یہ ۔۔۔ ” ان کی جواب کی بجائے اس کی نظر جب سامنے ٹیبل پر پڑی تصویروں پر گی جہاں لاش خون میں لپٹی ہوئی تھی تو کانپ اٹھی ۔۔
اس کی حالت دیکھ کر انہوں نے جلدی سے سب سمٹ کر ایک طرف کیا ۔۔ انہیں خود پر غصہ آرہا تھا کہ پہلے کیوں نہیں سمٹا جب انہیں پتا تھا کہ ان کی بیٹی کو خون سے کتنا خوف آتا ۔۔۔
” ڈیڈ ۔۔۔ مام ۔۔۔ ” وہ کانپ رہی تھی ۔۔ آنکھوں میں منظر سا تازہ ہوا ۔۔۔ درخت پر جھولتی مام کی لاش اور اس سے ٹپکتا خون ۔۔۔
” ہاےےےے۔۔۔ ششش ۔۔۔ کچھ نہیں ہوا میں ہوں نا ۔۔۔ ” وہ اس کے بالوں پر ہاتھ پھیر کر اسے ریلکس کر رہے تھی ۔۔ یہ اور بات ہے اندر سے وہ خود بھی ٹوٹ رہے تھے ۔۔
کافی دیر وہ ایسے ہی بیٹھے اسے بہلاتے رہے پھر جب اس کی بھاری سانسوں کی آواز پڑی تو انہوں نے پہلے اس کے سونے کی تسلی کی۔۔ پھر اسے گود میں اٹھایا جیسے بچپن میں اٹھاتے تھے ۔۔ اور آرام سے اس کو اس کے کمرے میں لٹا کر واپس آگئے ۔۔ وہ نارمل ہونے میں اب ٹائم لے گی ۔۔۔ انہیں اندازہ تھا اس بات کا ۔۔ اور اپنی غفلت پر غصہ بھی ۔۔
گھر سے نکل کر تھورا آگے جنگل کی طرف آوُ تو رات کے اندھیرے میں درخت کے نیچے کھڑا وجود جو اس اندھیرے کا حصہ ہی لگ رہا تھا ۔۔ اپنے شکار کا انتظار کر رہا تھا ۔۔
اندھیرا میں صرف اس کی گرے آنکھیں ہی نظر آ رہی ہیں ۔۔ جو دھیرے دھیرے رنگ بدل کر اب کالی ہوچکی تھی ۔۔ جو اس بات کا اشارہ تھا کہ کوئی انسانی وجود ہے پاس ہی ۔۔ جس کو وہ دیکھ اور محسوس کر چکا تھا
سڑک پر بائک چلنے کی آواز آ رہی تھی اگرچہ وہ ابھی دور تھی لیکن وہ آواز اس کے لیے بلکل واضح اور صاف آ رہی تھی ۔۔
جوں جوں آواز قریب آرہی تھی ۔۔ ویسے ویسے اس کی پیاس زیادہ ہو رہی تھی ۔۔ اس کے دانت شکار کو چیرنے کے لیے تیار تھا ۔۔۔
بائیک تھورا آگی آئی تو اس کی روشنی سے اس کا وجود واضح ہوا۔۔
وہ شہرام تھا ۔۔ جو اس وقت ایک سفاق درندہ تھا ۔۔ جسے کسی کہ جینے یا مرنے ۔۔۔یا التجاؤں سے کوئی سروکار نہیں تھا ۔۔ اسے بس خون چاہیے تھا ۔۔
ہاں بس خون ۔۔ سڑک پر آج بھی چیخیں گونج رہی تھی ۔۔ ایک اور زندگی کا باب آج چٹکی میں بند ہوگیا تھا ۔۔
کیا بنے والا تھا ۔۔
ایک طرف خون آشام درندہ تھا ۔۔
تو دوسری ۔
خون سے خوفزدہ ۔۔ ایک معصوم بیوٹی ۔۔
کیا وہ بیوٹی بھی اس ویمپائر کا شکار بنے والی تھی۔۔۔
اس کا جواب وقت کے پاس تھا ۔۔ اور وقت کا جواب تھا انتظار۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: