Beauty and the Vampire Novel by Zaha Qadir – Episode 10

0
بیوٹی اینڈ دی ویمپائر از ضحٰی قادر – قسط نمبر 10

–**–**–

لیکن اسے پتا تھا کہ اب اسے کوئی کچھ نہیں کہہ پائے گا ۔۔
آنے والے کی اس کی جانب پشت تھی ۔۔ لیکن اس کی پشت سے اس کو پتا لگ گیا تھا کہ وہ شہرام تھا ۔۔
خود کو گھسیٹتے ہوئے اس نے درخت کے پاس کیا اور اپنی پشت اس سے ٹکا دی۔ ۔۔۔
شہرام نے اپنی خونی آنکھوں سے ان سب کو دیکھا ۔۔
اسے دیکھ کر وہ سب بھی پیچھے ہوگئے ۔۔۔
لیکن جولیا ۔۔ وہ ابھی کھڑی تھی ۔۔ اس کی نظریں اب بھی ایوا پر تھی ۔۔ اس کی نظروں میں عجب سا تاثر تھا ۔۔۔
” لارڈ شہرام ۔۔۔ ” ان سب ویمپائر نے جھک کر اسے تنظیم دی ۔۔ لیکن اس کے اندر تو جیسے آگ لگی تھی ۔۔ اسے تو یہی بات آگ لگا رہی تھی کہ اگر وہ اس وچ کی موجودگی محسوس کر کے ایوا کو ڈھونڈنے نہ آتا تو وہ ویمپائرز اس کی بیوٹی کے ساتھ کیا کرتے ۔۔
یہی بات اس کے غصے میں اضافہ کر رہے تھی ۔۔ وہ سینے پر ہاتھ باندھے یوں کھڑا ہوا کہ ایوا کا نازک وجود اس کے پیچھے چھپ گیا ۔۔
ان ویمپائرز میں سے ایک نے بولنے کی ہمت کی ۔۔
” لارڈ مارک کا حکم ہے ۔۔ کہ رائل بلڈ کو ان کے پاس لایا جائے ۔۔ لارڈ شہرام سے درخواست ہے کہ ہمیں ہمارا کام کرنے دیں ۔۔۔ ” موداب انداز میں بولتے اس نے باقی ساتھیوں کو اشارہ کیا اور وہ آگے بڑھے ہی تھے کہ شہرام کی سرد آواز پر ان کے بڑھتے قدم رکے ۔۔
اگرچہ رائل بلڈ کا لفظ سن کر وہ چونکا تھا ۔۔ لیکن ان پر اس نے ظاہر ہونے نہیں دیا ۔۔
” اگر ۔۔ تم میں سے ایک بھی آگے بڑھا ۔۔ تو انجام کا زمہ دار خود ہوگا ۔۔ ” وہ لوگ تو برا پھنسے اگر شہرام کی مانتے تھے مارک نے نہیں چھوڑنا تھا ۔۔ اور اگر مارک کی مانتے تو شہرام نے نہیں چھوڑنا تھا ۔۔ انہوں بےبسی سے جولیا کی طرف دیکھا ۔۔ جو ایک طرف ان سے بےنیاز کھڑی تھی ۔۔
” لارڈ مارک کی بات ہم نہیں ٹال سکتے ۔۔ ” بولتے ساتھ ہی انہوں نے اسے چاروں طرف سے گھیر لیا ۔۔ شہرام نے یوں سر ہلایا جیسے ان کے فیصلے پر افسوس ہو ۔۔
وہ سب اس کی طرف بڑھ رہے تھے لیکن وہ اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نہیں ہلا ۔۔ کہ اس وقت وہ ایوا کے لیے حفاظتی دیوار تھا ۔۔۔
وہ سب ایک ساتھ اس کی طرف بڑھے ۔۔۔
پھر جیسے بجلی سی کوندی جیسے ہی وہ لوگ اس کے قریب پہنچے ۔۔ ایک پل کھڑے رہنے کے بعد وہ سب کٹی ہوئی ٹہنی کی طرح زمین پر گرے تھے ۔۔ان کے جسم سے گہرا لال رنگ کا نکل رہا تھا ۔۔ اور پاس ہی ان کے دل پڑے تھے ۔۔
اس کے خون آلودہ ہاتھ میں ان میں سے کسی کا دل تھا ۔۔ جسے اس نے زمین پر پھینکا ۔۔ اور جیب سے سفید رنگ کا رومال نکال کر اپنے ہاتھ صاف کرنے لگا ۔۔ اس سب کے دوران بھی وہ اپنی جگہ سے نہیں ہلا ۔۔
” مارک سے کہنا ۔۔ اب کی بار اس نے بہت غلط جگہ ہاتھ مارا ہے ۔۔ ” ہاتھ صاف کرتے ہوے وہ جولیا سے بولا ۔۔ ساتھ ہی وہ اپنی بیوٹی کی ہلکی ہوتی دھڑکن سن رہا تھا لیکن اس وقت اسے ان سب کا کام تمام کرنا تھا ۔۔
جولیا نے ۔۔ ایوا سے نظر ہٹا کر اب اسے دیکھا ۔۔ اور سر جھکا کر وہاں سے غائب ہونے لگی کہ شہرام نے اگلے حکم پر رکی ۔۔
” اور ہاں یہ مارک کے چمچے بھی اپنے ساتھ لے کر جانا ۔۔۔ ” اس نے ان سب کی مردہ لاشوں کی طرف اشارہ کیا ۔۔
جولیا جھکی ۔۔ اگلے پل وہ جگہ بلکل خالی تھی ۔۔ لیکن خون اب بھی وہاں تھا ۔۔۔
ان سب سے فارغ ہوکر شہرام نے ٹھنڈی سانس لے کر اس کی جانب موڑا ۔۔ جو خوفزدہ نظروں سے نیچے وہ گہرے لال رنگ کو دیکھ رہی تھی اس کا چہرہ خطر ناک حد تک سفید تھا ۔۔
شہرام جھکا تو اس کی نظر اس کی کندھے سے پھٹی شرٹ اور اس آدھے چاند کے بنے نشان پر گئی ۔۔۔ اسے جاننا تھا کہ کیا ہوا مگر اس وقت وہ خوفزدہ تھی ۔۔ اور جب تک اسے جواب نہیں مل جاتے اسے بھی چین نہیں آنا تھا ۔۔
اپنی شرٹ اتار کر پہلے اس نے اس کے کندھے کو ڈھانپا ۔۔پھر اس کی نظروں میں اپنی آنکھیں ڈال کر اس کے دماغ کو اپنے سحر میں جکڑا کہ اسے پتا تھا اس کے علاؤہ ابھی کوئی حل نہیں ۔۔
پھر ایوا سارے دن کی روداد مشینی انداز میں بتاتی گئی ۔۔ شہرام جیسے جیسے سن رہا تھا ۔۔ ویسے ویسے اس کا خون کھول رہا تھا ۔۔
جب سب بول کر وہ چپ ہوئی تو ۔۔ شہرام نے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیا ۔۔ اور اس کی آنکھوں میں اپنی گرے سحرانگیز آنکھیں ڈال کر بولا ۔۔
” تم نے روٹین کی طرح لیکچر لیے ۔۔ کیونکہ تمہاری طبیعت سہی نہیں تھی اس لیے تم جلدی گھر چلی گئی ۔۔ راستے میں درخت کی ٹہنی کی وجہ سے شرٹ پھٹ گی ۔۔ اور نہ کچھ ہوا نہ تم نے کچھ دیکھا ۔۔ اب یہ سب دہراؤ ۔۔ جو میں بولا ۔۔ ” بے تاثر نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے ایوا نے مشینی انداز میں دوہرایا ۔۔
جبکہ وہ لب بھینچے سن رہا تھا ۔۔
اس کے دماغ میں بہت کچھ چل تھا ۔۔
جس میں سب سے پریشان کرنے والا تھا ۔۔ وہ یہ کہ اس کی بیوٹی کہ جان خطرے میں تھی ۔۔
اسے اس کی حفاظت کرنے تھی ۔۔
وہ ایوا کو اس کے گھر چھوڑ کر واپس آیا ۔۔
کیونکہ ۔۔ کچھ لوگوں کو ان کے انجام تک پہنچانا تھا ۔۔۔
________________________________
یہ خالی گھر تھا ۔۔
جہاں نہ کوئی فرنیچر تھا ۔۔
نہ ہی کچھ اور ۔۔
لکڑی کا بنا یہ گھر جگہ جگہ سے ٹوٹا ہوا تھا ۔۔ اگر اس پر ایک قدم بھی رکھو تو ۔۔ چوں کی آواز آتی تھی ۔۔ فضا میں تیرتی دھول اس بات کا واضح اشارہ تھی کہ یہاں ایک عرصے سے کوئی نہیں آیا تھا ۔۔۔
جولیا ۔۔ نے سامنے لکڑی کے فرش پر ہی کینڈل رکھی ہوئی تھی ۔۔ ٹوٹی کھڑکی سے روشنی اندر آرہی تھی ۔۔۔
جولیا نے آس پاس دیکھا ۔۔ یہ وہ جگہ تھی ۔۔ جہاں بہت ساری جادوگرنیوں کو اکھٹا کر کے قید کیا گیا ۔۔ پھر آگ جلا دی گئی ۔۔ ان سب کی روحیں اب بھی یہیں تھی ۔۔ وہ واپس نہیں گئی تھیں ۔۔ اسے جو سوال پریشان کر رہا تھا ۔۔ اس کا جواب بس یہیں سے مل سکتا تھا ۔۔
اس نے بند کینڈل کے اوپر سے ہاتھ گزرا تو وہ جل اٹھی ۔۔ پھر کینڈل کے فلیم پر ہاتھ رکھے ہی اس نے تھوک نگلی ۔۔ اور آنکھیں بند کر کچھ پڑھنے لگی ۔۔ اسے گھبراہٹ بھی ہو رہی تھی ۔۔ کیونکہ وہ پہلی بار مری ہوئی روحوں سے رابطہ کرنے لگی تھی ۔۔
لیکن جیسے جیسے وہ پڑھتی جا رہی تھی اس کا ڈر جاتا جا رہا تھا ۔۔
پھر اس کے ہلتے لب بند ہوئے ۔۔ اور جسم ساکت پتھر کی مورت کی طرح ۔۔ اس کی سانس بھی نہیں چل رہی تھی ۔۔
کمرے کی کھڑکیاں بند کھل رہی تھیں ۔۔ جس سے چوں چوں کی آواز آرہی تھی ۔۔
تیز ہوا چل رہی تھی ۔۔ جس سے کینڈل کا فیلم مسلسل حرکت میں تھا ۔۔ پھر کینڈل کا فیلم بند ہوا ۔۔ اور اس سے ہلکا سے دھواں نکلا جس کے ساتھ ہی بند کھلتی کھڑکیاں ۔۔۔
اور چلتی ہوا پھر سے ساکت ہوگئی ۔۔
جولیا نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں ۔۔۔ اسے اس کے جواب مل گئے تھے ۔۔
اس کے چہرے پر اس وقت ہر درجہ سنجیدگی تھی ۔۔۔
کیونکہ جو چیز اس معلوم ہوئی ۔۔ اس کے بارے میں تو کبھی اس نے سوچا ہی نہیں تھا ۔۔
لیکن ایک بات تھی ۔۔
اسے یہ بات راز کی طرح رکھنی تھی ۔۔ قیمتی راز کی طرح ۔۔
اور سہی وقت کا انتظار کرنا تھا ۔۔
جو کہ زیادہ دور نہ تھا ۔۔
_______________________________
شام کے گہرے سایوں نے رات کی آمد کی اطلاع دینا شروع کر دی تھی ۔۔
ایسے میں وہ آٹھ لوگوں کا گروپ ہسی مزاج کرتا ڈانس کلب میں داخل ہوا ۔جہاں میوزک کی اتنی تیز آواز میں بج رہا تھا کہ اس کی آواز باہر دور تک آرہی ۔۔ شاید اس لیے یہ کلب آبادی سے دور کر کے بنایا گیا تھا ۔۔
اندر کلب میں آئیں تو ۔۔ نیلے ۔۔ لال رنگ کی روشنی میں لڑکے لڑکیاں ناچ رہے تھے ۔۔ کچھ شراب پینے میں مست تھے ۔۔ اور وہ آٹھ لوگوں کا گروپ جو ابھی اندر آیا تھا ۔۔ وہ بھی ایک طرف اکھٹے بیٹھے باتیں کر رہے تھے ۔۔ اس بات بے خبر سے کہ موت ان کے سر پر پہنچ چکی تھی ۔۔۔
” ویسے یار ۔۔ لڑکی بری مست تھی ۔۔۔ ” ان میں سے ایک لڑکا ۔۔ وائن کا سیپ لے کر بولا ۔۔
” کہہ تو سہی رہے ہو ۔۔ واقعی بہت ٹائیٹ پیس تھا ۔۔۔ ” دوسرے بھی ان کی تاکید کی تو ۔۔ اس کے پاس بیٹھی لڑکی نے زور سے اس کے کندھے پر ناراضگی سے ہاتھ مارا ۔۔۔ تو وہ دنوں قہقہ لگا کر ہنسنے لگے ۔۔ جس کا ساتھ باقیوں نے بھی دیا ۔۔۔
” ویسے ۔۔ روز ۔۔ تجھے اس کے ساتھ یہ نہیں کرنا چاہیے تھا ۔۔ ” اسی لڑکے نے ہنسی روکتے ہوے اس لڑکی سے جس نے ادائے بےنیازی سے اپنے بال جھٹکے مصنوئی مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہوئی بولی ۔۔
” بکل ٹھیک کہا تم لوگوں نے مجھے اس کے ساتھ ایسے نہیں کرنا چاہیے تھا ۔۔ ” یہ بول کر وہ چپ ہوئی تو وہ سب بھی خاموش ہوکر اسے دیکھنے لگے ۔۔” بلکہ اس کے ساتھ مجھے اس کے منہ پر ایک لگانی بھی چاہیے تھی ۔۔ ” اس کی بات پر وہ سب پھر سے قہقہ لگا اٹھے ۔۔
“ویسے یار کسی نے اس کی ویڈیو نہیں بنائی ۔۔ قسم سے اتنے لائیک ملنے تھے اس مکھن ملائی کے ۔۔۔ ” اس بات کے بعد باقی سب نے ایک دوسرے کو دیکھا کہ کسی پاس ہے جواب ۔۔
” نہیں یار ۔۔ وہ بھاگ گئی تھی ۔۔ اسی وقت ۔۔۔ ” ان میں سے ایک بےزرای سے بولا ۔۔
اور وہیں بار کانٹر پر جاؤ تو کالی ٹی شرٹ جس کے ہائف سلیفس سے نظر آتی کسرتی بازؤں اور ان پر ابھری ہوئی نیلی نسیں تنی ہوئی تھیں ۔۔ اس کی پشت ان لوگوں کی جانب تھی اس کے ہاتھ میں پکڑا گلاس جس میں وائن تھی ۔۔ اس پر اس کی پکڑ اتنی سخت تھی کہ گلاس چھنا کی آواز سے ٹوٹا ۔۔ وہ ان لوگوں کا اپنی بیوٹی کے بارے میں بولا ایک ایک لفظ اتنے شور میں بھی بڑے واضح اور صاف طریقے سے سن چکا تھا ۔۔
ان کا انجام ان کے بولے ایک ایک لفظ سے بھیانک ہونا تھا ۔۔ اتنا کہ اگر ان لوگوں کو پتا چل جاتا تو وہ اپنی زبائیں ہی کاٹ لیتے لیکن وہی بات ۔۔ ان کو پتا ہی نہیں تھا ۔۔
اس نے اپنے ہاتھ کو دیکھا جہاں شیشہ گھسا ہوا تھا اور وہاں سے خون نکل رہا تھا ۔۔ اس نے آرام سے کانچ کا وہ ٹکرا نکالا تو ساتھ ہی وہ زخم بلکل سہی ہو گیا ۔۔
اب وہ اٹھ کھڑا ہو اور اس گروپ کے پاس جاکر اس سور نامی لڑکے کے سامنے کھڑا ہو گیا ۔۔
وہ لوگ جو نشے میں دھت ہوگئے تھے اور ان میں سے کچھ ڈانس فلور پر ناچ رہے تھے ۔۔ وہ لوگ اس کا چہرہ نہ پہچان پائے ۔۔۔
روز تو اتنی وجیہہ اور مضبوط مرد کو اپنی جانب راغب پاکر مغرور ہوئی ۔۔
” مجھے جوائن کروں گی ۔۔۔ ” ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں ڈال کر اس نے اس کی جانب جھکتے ہوئے دلکشی سے کہا ۔۔ کہ وہ فدا ہی ہوگئی ۔۔ اور اٹھ کر اس کے ساتھ چل دی ۔
جبکہ اس کی باقی ساتھی لڑکیاں ۔۔ جل گئی ۔۔۔
بامشکل 5 منٹ بعد وہ واپس آیا ۔۔ تو وہ سب اکھٹے بیٹھے ہوئے تھے ۔۔ ڈانس کرنے جو گئے تھے ۔۔ وہ بھی وہی تھیں ۔۔
وہ ان کے پاس آیا
” تمہاری دوست ۔۔ تم لوگوں کو بلا رہی ہے ۔۔ ” بےتاثر انداز میں انہیں اطلاع کر کے وہ جیسے آیا تھا ۔۔ ویسے ہی چلا گیا ۔۔
جبکہ وہ لوگ برے برے منہ بناتے اس کے پیچھے چلنے لگے ۔۔۔
وہ آگے آگے چلتا ان کو ڈانس کلب سے کافی دور لے آیا تھا پھر ایک دم ان کی نظروں سے اوجھل ہوگیا ۔۔ ان سب نے بوکھلا کر ادھر ادھر دیکھا ۔۔۔ اندھیرا بھی کافی تھا ۔۔ اوپر سے جنگل ۔۔ ان نے اپنے موبائیل کی لائیٹ آن کی ۔۔ انہیں پاس کے درخت کے قریب اپنی دوست کا پاؤں نظر آیا ۔۔ تو وہ لوگ اس طرف آئے ۔۔
لیکن وہاں جاکر انہوں نے جو دیکھا ۔۔ اسے سے ان کا سارا نشہ ہرن بن کر اڑ گیا ۔۔ جسم پر کپکپی سی طاری ہوگئی ۔۔
وہ ان کی دوست کے پاؤں تھے ۔۔ جس کے اوپر اس کا چہرہ تھا ۔۔ جس کی آنکھیں نکلی ہوئی تھیں ۔۔ اور پاس ہی اس کے جسم سے اس کا دل ۔۔ اترنیاں سب کچھ باہر نکال کر پھیکنا ہوا تھا ۔۔ وہ سب چیختے ہوئے ۔۔ واپس جانے کے لیے مڑے تو پیچھے ہی وہ کھڑا تھا ۔۔ وہ لوگ دوسری طرف مڑے تو وہاں بھی وہ ۔۔ غرض کے جس طرف بھی مڑتے اس طرف وہ پہلے سے ہی کھڑا ہوتا۔۔
” دیکھو ۔۔ہمیں جانے دو ۔۔۔ ” ان لڑکوں نے اس دیکھتے ہوئے گزارش کی ۔۔ جس کی آنکھیں کالی تھیں ۔۔ وہاں کوئی رحم نہیں تھا۔۔ ان میں سے لڑکیاں تو روئی جا رہی تھیں ۔۔
شہرام نے ان کی بات نہیں سنی بلکہ اس کے کان میں تو وہ جملے اور قہقہے گونج رہے تھے جو تھوڑی دیر پہلے وہ اس کی بیوٹی پر لگا رہے تھے ۔۔۔
پھر جیسے جنگل میں ہولناک اور دل خراش چیخیں گونج اٹھی ۔۔
مگر سننے والا کوئی نہ تھا ۔۔
کچھ دیر بعد خاموشی چھا گئی ۔۔ موت سی خاموشی۔۔ جس میں بس پتے پر پاؤں رکھنے سے چر کی آواز پیدا ہوتی تھی ۔۔
اس نے ایک پرسکون نظر ۔۔ اپنی بیوٹی کو تکلیف دینے والوں پر ڈالی ۔۔
درخت کی ٹہنیوں پر ان سب کے منہ گردن سمت لٹکے تھے ۔۔ تو ٹانگیں سب کی کسی الگ ٹہنی پر ۔۔۔ دل کہیں ۔۔ تو کچھ کہیں ۔۔
غرض کے وہ درخت ۔۔ پتوں کی بجائے انسانی اجزاء سے بھرا لگ رہا تھا ۔۔
شہرام کو اب بھی سکون نہیں مل رہا تھا۔۔ اس نے مٹی کے تیل کی کین پکڑی اور درخت پر چھڑکنے لگا ۔۔ اس نے ساری کین درخت پر خالی کر دی ۔۔
اور جیب سے لائٹر نکلا کر درخت کو آگ لاگ دی ۔۔
پھر ان کے جسم کو جلتے دیکھ کر وہ یہی سوچ رہا تھا ۔۔
اسے اتنی آسان موت نہیں دینی چاہئے تھی ۔ ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: