Beauty and the Vampire Novel by Zaha Qadir – Episode 11

0
بیوٹی اینڈ دی ویمپائر از ضحٰی قادر – قسط نمبر 11

–**–**–

ہال نما کمرہ جس کے بیچ میں لمبی سی ڈائینگ ٹیبل پڑی تھی ۔۔ ٹیبل کے درمیان کینڈل سٹینڈ میں جلتی کینڈلز نے ٹیبل کو روشن کیا ہوا تھا ۔۔ اور ٹیبل کے گرد کرسیاں پڑی ہوئی تھی ۔ہر خالی کرسی کے آگے گلاس پڑے ہوے تھے ۔۔
وہاں کوئی ٹیوب لائیٹ یا بلب نہ تھا ۔۔ بس موم بتیوں کی روشنی سے ہی اس جگہ کو روشن کیا گیا تھا ۔۔۔
بائیں دیوار پر قطار کی طرح نفیس سے سونے کے فریم میں تصویریں لگی تھی ۔۔۔ نیچی ان تصویر میں موجود اشخاص یا جگہ کے بارے میں تفصیل لکھی ہوئی تھی ۔۔ جبکہ بائیں دیوار پر مختلف اوزاروں سے بھری ہوئی تھی ۔۔ وہاں ہر قسم کے دھات کے اوزار تھے سواۓ چاندی کے ۔۔۔۔
وہ سربراہی کرسی پر بیٹھا ہوا تھا ۔۔ اس کے آئیں بائیں تین تین ویمپائر ہاتھ باندھے سر جھکائے تنظیم سے کھڑے تھے ۔۔
جبکہ وہ خون سے بھرے گلاس سے اپنا ڈنر کر رہا تھا ۔۔ کہ دروازہ کھلا ۔۔ اور اسے جولیا کے آنے کا بارے میں بتایا گیا ۔۔
اس نے پاس کھڑے ویمپائر کو ہاتھ سے جانے کا اشارہ کیا تو غائب ہوگئے ۔۔۔ تھوری دیر بعد ۔۔ جولیا اندر آئی تو وہ بڑی سی کھڑی کے آگے ہاتھ میں گلاس پکڑ کر کھڑا ہو گیا اور ۔۔ چاند کو دیکھنے لگا ۔ ۔
” لارڈ ۔۔مارک ۔۔۔ ” جولیا نے پہلے جھک کر اسے تعظیم دی ۔۔۔
” بتاؤ ۔۔ کامیاب آئی ہو ۔۔۔ ” اسی طرح باہر دیکھتے ہوے اس نے جیسے اس مطلع کردیا کہ اگر جواب اس کی منشاء کا نہ ہوا تو انجام کے لیے تیار رہے ۔۔
جولیا ۔۔ سنجیدہ چہرہ لیے اس کے قریب آکر کھڑی ہوگی ۔۔
“رائیل بلڈ کا پتا لگ گیا ۔۔۔ ” اس کی خبر پر وہ مسکرایا ۔۔ اور گلاس سے سیپ لے کر اب اس کی جانب مڑا ۔۔۔
” کہاں ہے ۔۔۔ ” جولیا نے خاموش نظروں سے اسے دیکھا پھر دھیرے سے بولنا شروع ہوئی ۔۔
” لارڈ شہرام کے پاس ۔۔۔ ” مارک نے چونک کر اسے دیکھا ۔۔۔
” وہ انسان ہے ۔۔ اور لارڈ شہرام نے سب ویمپائر جو آپ نے میرے ساتھ بھیجے تھے ۔۔ ان کو مار دیا ۔۔ ان سب کی لاشیں باہر پڑی ہوئی ہیں ۔۔ ” اس کی جانب سپاٹ نظروں سے دیکھتے ہوے جولیا نے تفصلی جواب دیا ۔۔ جس سے مارک کی آنکھوں میں تعجب ابھرا ۔۔
اور ماتھے پر بل پڑے ۔۔۔
” انسان ۔۔۔ !! یہ کیسے ہوسکتا ہے ۔۔ پھر شہرام کا اس کو بچانا ۔۔۔ یعنی شہرام اور انسان ۔۔” وہ حیرت سے گویا ہوا ۔۔ جولیا نے سر ہلا کر پھر سے بولنا شروع کیا ۔۔
” یہ چیز کہنی لکھی ہوئی ۔۔ رائیل بلڈ ۔۔۔ ضرور ویمپائر ہی ہوگا ۔۔ کوئی بھی ہوسکتا ہے ” وہ اب پر سوچ انداز میں سر پر ہلکے ہلکے ہاتھ کا مکا مارتا ٹہلنے لگا ۔۔جبکہ جولیا ۔۔۔
گہری نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔۔
” اب کیا حکم ہے آپ کا اس لڑکی کو اٹھا لائیں ۔۔۔ ” وہ اب اس کے حکم کی منتظر تھی ۔۔
لڑکی لفظ پر وہ سیدھا ہوا ۔۔۔پھر جیسے سب واضح ہوتا گیا ۔۔
رائیل بلڈ ۔۔۔
شہرام کا اسے بچانا ۔۔ بات کی تہہ میں جب وہ پہنچا تو مسرور انداز میں مسکرایا ۔۔
یعنی انسانوں سے نفرت کرنے والا اس کا بھائی ایک انسان سے محبت کرنے لگا ۔۔۔
” انٹرسٹینگ ۔۔۔ “
” نہ ۔،اب میں خود جاؤں گا ۔۔ کوئی بھی اس کو نقصان نہیں پوھنچائے گا ۔۔ ” اتنا بول کر وہ دوبارہ کھڑکی جانب مڑگیا جس کا صاف مطلب تھا کہ وہ اب یہاں سے جا سکتی تھی ۔۔
کمرے سے باہر نکل کر جولیا نے پر سکون نظر بند دروازے پر ڈالی ۔۔
اسے اس سے آزادی کی راہ نظر آگی تھی ۔۔
یہی چیز اس کو مطمئن کر گی تھی ۔۔
جبکہ اندر کمرے میں مارک چاند کی طرف دیکھتے ہوے سوچ رہا تھا ۔۔
” تو آمنے سامنے ہونے کا وقت آگیا ۔۔ ڈیئر برادر ۔۔۔ “
لیکن شہرام سے زیادہ اسے وہ دیکھنے کا تجسس تھا جس پر شہرام کا دل آگیا تھا ۔۔
کچھ تو خاص ہوگا نا ۔۔ اس میں ۔۔
آخر اس کی بھائی کی پسند ہمشہ سے آعلیٰ ہوتی ہے ۔۔۔
___________________________
بک کو سینے سے لگائے وہ کلاس روم میں داخل ہوئی تو شہرام اپنی وجاہت کے ساتھ وہاں پہلے سے موجود ۔۔۔ بلیک شرٹ اور جینز میں بےزار سا بیٹھا وہاں موجود سٹوڈنٹس کو دیکھ کم گھور زیادہ رہا تھا ۔۔ جس سائیڈ پر وہ بیٹھا تھا وہاں کی کرسیاں ساری خالی تھی ۔۔ بھئی دہشت ہی اتنی تھی ہماری شہرام کی ۔۔۔
( مجھے بلیک سے منع کرتا ہے ۔۔ اور خود بلیک کی جان نہیں چھوڑتا ۔۔ )
ایوا نے غصے سے اسے دیکھتے ہوئے سوچا ۔۔ اور اس کے بلکل مخالف سمت جاکر بیٹھ گی ۔۔ صبح سے وہ یوں کر رہا تھا ۔۔ سائے کی طرح وہ اس کے ساتھ پھر رہا تھا ۔۔ وہ جو پہلے ایک ہی لیکچر لیتا تھا اب وہ ساری لیکچر اینڈ کر رہا تھا جو اس کے تھے بھی نہیں ۔۔
ایوا کو بیٹھے مشکل سے منٹ بھی نہیں ہوا ہوگا جب وہ اس کے پاس آیا اور اس کی ساتھ والی جگہ پر بیٹھے لڑکے کو وہاں سے رفوچکر کر کے خود بیٹھ گیا ۔۔
اس کے ایسے کرنے سے اس نے تنگ آکر اپنا سر ڈیسک پر رکھ دیا ۔۔
شہرام نے اس کا جھکا سر دیکھا ۔۔ پھر کندھے آچکا کر جیب سے ببل نکال کر منہ ڈال کر چبانے لگا۔۔ اب اس کے چہرے پر پہلے والی بےزرای نہیں تھی ۔۔ جبکہ باقی اسٹوڈنٹس مشکوک نظروں سے ان دنوں کی جانب دیکھنے لگے ۔۔ شہرام کو کہاں پرواہ تھی ۔۔
لیکن ایوا وہ تو سارے لیکچر میں اس کی نظروں سے پریشان ہوتی رہی ۔۔
کلاس سے نکل بھی وہ اس کے پیچھے آیا تو ایوا نے غصے سے مڑکر اسے دیکھا ۔۔
جو دلچسپ نظروں سے اس کی لال ہوتی ناک دیکھ رہا تھا ۔۔
” کیا ہے ۔۔ آپ کا اپنا کوئی لیکچر نہیں ۔۔ ” کیا تیش تھا اس کی نظروں میں ۔۔ شہرام کو وہ غصے میں اتنی کیوٹ لگ رہی تھی کہ دل کر رہا تھا کھا جائے اسے ۔۔۔
” میں اپنا لیکچر ہی لے رہا تھا ۔۔ ” جیبوں میں ہاتھ ڈال کر ۔۔ کندھا دیوار سے ٹکا کر وہ مزے سے بولا ۔۔
” جی نہیں۔۔ یہ میرا لیکچر تھا ۔۔ ” ایوا نے فوراً تصدیق کی ۔۔
” تم بھی تو میری ہو ۔۔ اس کا مطلب جو تمہارا وہ میرا ۔۔۔ ” ببل چباتے ہوے اس نے آج جیسے اسے زچ کرنے کی قسم کھائی ہوئی تھی ۔۔
ایوا پاس سے گزرتے سٹوڈنٹس کی مشکوک نظروں سے بچنے کی خاطر اسے نظرانداز کرتے ہوے باہر گروانڈ کی جانب آگی ۔۔ تو وہ بھی پیچھے پیچھے آگیا ۔۔
اسے تو بھئی مزہ آرہا تھا ۔۔ اس کی بیوٹی تو غصے میں اور پیاری لگتی تھی ۔۔
” آپ نے میری بےبی سیٹنگ کی زمیداری لے لی ہے کیا ۔۔۔ ” اب کے اس نے پنترہ بدلہ ۔۔۔
” ہاں بھئی ۔۔ ہو تو تم میری بے بی ہو ۔۔ اور اپنی بےبی کی کیئر کرنی چاہئے نہیں تو وہ بگڑ جاتے ہیں ۔۔ ” اس کے گالوں کو کھینچتے ہوے شہرام نے مسکراہٹ روک کر جواب دیا ۔۔
مگر اس کی آنکھوں میں چمکتی شرارت اس کی نظروں سے اوجھل نہیں تھی ۔۔ اور ایوا وہ تو اس کا یہ روپ دیکھ کر حیران ہی ہوتی جا رہی تھی ۔۔
یہ اور بات ہے ۔۔ وہ نظر لگ جانے کی حد تک پیارا لگ رہا تھا ۔۔
پھر کیا سارا دن وہ جہاں جہاں شہرام وہاں وہاں ۔۔
ایک دفعہ تو حد ہی ہوگی ۔۔ وہ واشروم جانے لگی کہ وہ وہاں بھی پیچھے آنے لگا ۔۔
” اب یہاں بھی آئیں گے ۔۔۔ ” اس نے حیرت سے پوچھا ۔۔ لیکن شہرام صاحب کے جواب نے اس کا دماغ بھک سے اڑا دیا ۔۔
” ہاں نا ۔۔ ” ایک نظر باتھ روم پر ڈال کر اس نے مطمن انداز میں جواب دیا ۔۔
ایوا شاکڈ ۔۔۔ شہرام روکڈ
” پلیز ۔۔ اندر نہ آنا ۔۔ ” اس نے اس عاجزانہ انداز میں گزارش کی کہ شہرام کو بھی آخر اس پر ترس آگیا ۔۔ اور وہی کھڑا اس کا انتظار کرنے لگا ۔۔
کچھ دیر پہلی والی شرارت اس کی نظروں سے غائب تھی ۔۔ وہ دوبارہ سرد ہوگی تھی ۔۔ کسی کو نہیں پتا تھا کہ وہ کیا سوچ رہا ہے ۔۔
مگر اندر سے وہ ایوا کے لیے پریشان ۔۔ تھا
وہ اسے زرہ بھی پریشان نہیں دیکھنا چاہتا تھا ۔۔ اس لیے بنا اس پر ظاہر کیا وہ اس کی حفاظت کر رہا تھا ۔۔
بقول ایوا کے بےبی سیٹنگ۔۔۔۔
____________________________
پارکنگ میں جاکر وہ گاڑی کے پاس کھڑی ہوکر بیگ سے چابیاں نکال رہی تھی ۔۔ آج ڈیڈ نے گاڑی اس کو دی تھی ۔۔ خود وہ اپنی میمبر کے ساتھ چلے گیے تھے ۔۔۔
ابھی وہ لاک میں چابی گھما ہی رہی تھی کہ پیچھے سے کوئی ہارن پر ہارن دینے لگا ۔۔ وہ تھوڑی دور جا کے ایک طرف ہر کر کھڑی ہوگی ۔۔ اس کو لگا اسے راستہ چاہئے ہوگا ۔۔۔ اس نے مڑ کر نہیں دیکھا کون تھا ۔۔ وہ جو بھی تھا اس نے ہارن دینا بھی بند کردیا تھا ۔۔
اپنے دیھان میں وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھنے لگی کہ کسی نے اس کی کلائی پکڑی ۔۔ اور ساتھ گاڑی کا دروازہ ٹھاہ کر کے بند کیا۔۔۔۔
ایوا نے بوکھلا کر یہ کرنے والے کو دیکھا تو وہاں شہرام صاحب تھے ۔۔
پہلے ہی سمجھ جانا چاہیے تھا کہ کون ہوگا ۔۔ اس نے دل میں سوچا ۔۔ وہ تو سمجھی تھی کہ وہ چلا گیا ہے ۔۔
شہرام ایوا کی کلائی تھام کر اپنی گاڑی کی طرف لایا ۔۔۔ تو وہ بے ساختہ بول اٹھی ۔۔
” میرے پاس ہے گاڑی ۔۔۔ ” شہرام نے کوئی جواب نہیں دیا ۔۔۔ اسے گاڑی میں بیٹھا کر ۔۔ اب گاڑی کو پارکنگ سے نکال رہا تھا ۔۔
” میں نے کچھ کہا ۔۔۔ ” اسے گاڑی چلتے دیکھ کر وہ پھر بول اٹھی ۔۔
” میں نے سن لیا ۔۔ ” بےنیازی سے جواب آیا ۔۔
” تو پھر ” ایوا نے اسے گھورا ۔۔۔
” پھر یہ کہ مجھے اس بےبی کو کڈنیپ کرنا ہے ۔۔۔ ” شہرام نے اس کے گال کھینچے ۔۔
” سی ۔۔۔ اتنی ضرور سے کھینچتے ہو ۔۔ ” گال کو سہلاتے ہوے وہ ناراضگی سے گویا ہوئی ۔۔
” اب سہی ہے ۔۔ ” ایک ہاتھ سے ڈرائیو کرتے ہوے اس نے اب ہلکے سے چٹکی کاٹی ۔۔۔
” نہیں بلکل نہیں ۔۔۔ اور اب دوبارہ نہیں ۔۔۔ ” اسے کا پھر سے ہاتھ بڑھتا دیکھ کر اس نے فورن ٹوک دیا ۔۔
شہرام نے فرمابرداری سے ہاتھ پیچھے کر لیے ۔۔۔
ایوا نے شکر کیا ۔۔ ورنہ آج پکا اس نے اس کے گال کھنج کھنچ کر کھینچ ہی لینے تھے ۔۔ اس نے بیگ سے موبائل نکالا اور ڈیڈ کو دوست کے ساتھ ہوں کا میسج کرنے لگی ۔۔۔
ساتھ ساتھ باہر بھی دیکھنے لگی ۔۔۔ جہاں دنوں طرف سبز لہلہاتے کھیت تھے ۔۔ جن پر سورج کی روشنی یوں معلوم ہو رہی تھی جیسے وہ سونے میں نہائے ہوں ۔۔۔ وہ بہت سپیڈ سے گاڑی چلا رہا تھا ۔۔ جس کی وجہ سے اس کے بال اڑ اڑ کر بار بار چہرے پر آرہے تھے ۔۔ جہنیں وہ بار بار پیچھے کرتی تو پھر آگے آجاتے ۔۔۔
” ہم کہاں جا رہے ہیں ۔۔۔ ” اتنا تو اسے یقین تھا کہ وہ اسے نقصان نہیں پہنچائیں گا ۔۔ لیکن پھر بھی تجسّس تھا کہ وہ کہاں جا رہے ہیں ۔۔۔
” میری ایک دوست ہے ۔۔ اس کے پاس ۔۔ ” سنجیدگی سے جواب آیا ۔۔
ایوا نے سر ہلا پھر اشتیاق سے باہر دیکھنے لگی۔۔ کہ کانوں میں ایسے آواز پڑی جیسے کوئی کچھ پی رہا ہو ۔۔
اس نے مڑ کر دیکھا تو شہرام بلڈ بیگ میں اسٹرا ڈال کر ایک ہاتھ سے ڈرائیو کر رہا تھا ۔۔
” کتنی بڑی بات ہے نا ۔۔ کسی کہ خون کے لیے اسے مارنا۔۔۔ ” ایوا جھرجھری لے کر بولی ۔۔۔
” نہیں تو ۔۔ اتنی زیادہ آبادی ہے ۔۔ اسی بہانے کم ہو جائے گی ۔۔۔ ” اسے جواب دے کر وہ دوبارہ پینے مصروف ہوگیا ۔۔۔
” تو ۔۔ جس کے خون کے لیے اس مارتے ہیں ۔۔اس کی فیملی بھی ہوگی نا ۔۔۔ ” اب کہ بار وہ طنزیہ انداز میں ہنسا ۔۔ اور ایک بڑا سا سیپ لے کر تمسخر آمیز انداز میں بولا ۔۔
” جب ۔۔ انسان ۔۔ مرغیوں کے انڈے کھاتے ہیں ۔۔ تب بھول جاتے ہیں کہ وہ بھی کسی جاندار کے بچے ہیں۔۔۔ جب پرندوں کا شکار کرتے ہیں تب بھی بھول جاتے ہیں کہ وہ بھی جاندار ہیں ان کی فیملی ہوگی ۔۔ تو پھر انسان بھی ہمارے لیے یہی ہیں ۔۔۔ “
ایوا لاجواب سی اسے دیکھتی رہ گی ۔۔۔ اب اس بات کا کیا دے سکتی تھی وہ اسے

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: