Beauty and the Vampire Novel by Zaha Qadir – Episode 12

0
بیوٹی اینڈ دی ویمپائر از ضحٰی قادر – قسط نمبر 12

–**–**–

انہیں سفر کرتے ہوئے کافی وقت گزرا گیا تھا ۔۔
ایوا تو آدھے راستے میں ہی اپنی سیٹ سے سر ٹکا کر سو گئی ۔۔ جبکہ شہرام لب بھینچے سنجیدگی سے گاڑی چلتا رہا ۔۔ ساتھ ایک آدھ نظر اس سوتے وجود پر بھی بھی ڈالتا
جو آنے والے خطرات سے بے خبر پرسکون انداز میں سوئی کوئی سلیپنگ بیوٹی ہی لگ رہی تھی ۔۔ لیکن سلیپنگ بیوٹی بننا بھی کہاں آسان ہوتا ۔۔
کانٹوں پر سفر طے کرنا پڑتا ہے ۔۔ ایک عرصہ دنیا سے ۔۔ اپنے آپ سے بیگانہ ہو کر تنہائیوں کو اپنا ساتھی بنانا پڑتا ہے ۔۔ پھر کوئی امید کی کرن ۔۔ شہزادے کے روپ میں آتے ہیں ۔۔ لیکن صدیوں بعد ۔۔۔ مگر جو گزری صدیاں ہوتی ہے نا ۔۔ یہ توڑ دیتی ہیں ۔۔
اور وہ اپنی بیوٹی کو ایسے اذیت میں دیکھنا تو دور کی بات سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا ۔۔
اس نے جھک کر پانچواں بلڈ بیگ نکلا ۔۔ جو پورے سفید رنگ کے پیپر سے کور تھا ۔۔ اس لیے تو ایوا نے جب اسے دیکھا تو وہ ڈری نہیں تھی ۔۔ کہ وہ پہلے ہی سب اہتمام کر چکا تھا ۔۔
وہ صرف 6 بلڈ کے بیگ لایا تھا ۔۔ لیکن جس طرح ایوا کی خون کی خوشبو اس کے حواسوں پر چھا رہی تھی اس حساب سے یہ بہت کم تھے ۔۔
اس نے اب سٹرا ڈالنے کی زحمت نہیں کی ۔۔ اوپر سے ہی پھاڑ کر اس نے منٹ میں پیکٹ خالی کر کے پھینکا اور پھر آستین سے منہ پر لگے خون صاف کیا ۔۔ پریشانی میں اسے اور بھوک محسوس ہوتی تھی ۔۔ اس نے گاڑی کی رفتار اور تیز کردی ۔۔ وہ بس جلد از جلد اپنی منزل تک پہنچنا چاہتا تھا ۔۔اس پہلے کہ آخر پیکٹ بھی ختم ہو جائے اور ۔۔وہ خود ایوا کے لیے خطرہ بن جائے ۔۔۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد آخرکار وہ لوگ پہنچ ہی گئے تھے ۔۔ بس تھورا فاصلہ اور تھا ۔۔
گاڑی کی کھلی کھڑکی سے تیز ٹھنڈی ہوا گاڑی کو اندر سے کافی سرد کرچکی تھی ۔۔ اسے تو کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا ۔۔ مگر اس کے ساتھ موجود فرد اتنی سردی برداشت نہیں کرسکتا تھا ۔۔ اس لیے اس نے شیشے اوپر کردئیے ۔۔۔
تھوڑی دیر بعد گاڑی ایک کاٹج کے طرز کے گھر کے سامنے رکی ۔۔ یہ گھر ان کھیتوں کے درمیان اکلوتا تھا ۔۔ آس پاس اور کوئی گھر نہیں بنا ہوا تھا ۔۔ گھر گھنے درخت کے سائے میں بنا تھا ۔۔
شہرام نے پرسوچ نظروں سے اس گھر کو دیکھا ۔۔۔ پھر ایوا کی جانب ۔۔۔ جو ہاتھ کی مٹھی گال کے نیچے ٹکائے گہری نیند میں تھی ۔۔
شہرام نے ہولے سے اس کے گال اپنے انگوٹھے سے سہلائے ۔۔ پھر جھک کر اس کے ماتھے پر بوسہ دے کر پیچھے ہوا۔۔
” ہےےےے سلیپنگ بیوٹی ۔۔ ” یوں ہی سوتے ہوے ایوا نے ناک چھڑائی۔۔۔ ماتھے پے بل ڈال کر چہرہ دوسری طرف کر گئی ۔۔
اس کے بچوں جیسا انداز دیکھ کر وہ پھر سے مسکرایا ۔۔ کچھ سوچ کر اس کی آنکھوں میں چمک آئی وہ اس کے چہرے پر جھکا اس کی سانسیں روک چکا تھا ۔۔
گھٹن کے احساس سے ایوا نے فوراً آنکھیں کھولیں ۔۔۔ کچںی نیند کا خمار لیے وہ اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی ۔۔ جبکہ اسے جاگتا دیکھ کر وہ بھی دلکشی سے مسکراتا ہوا پیچھے ہوا ۔۔
” یہ کیا تھا ۔۔۔ ؟” سانسوں کی رفتار جب نارمل ہوئی تو اس نے حیرت سے پوچھا ۔۔
” سلپنگ بیوٹی کو ایسے ہی اٹھاتے ہیں ۔۔۔ ” بےنیازی سے جواب دے کر وہ گاڑی سے نکل گیا ۔۔ ایوا بھی اس کے پیچھے منہ بناتی اتری ۔۔
لیکن جب جگہ دیکھا تو جیسے کھو گئی ۔۔ اتنی پیاری جگہ تھی ۔۔ ڈھلتا سورج ۔۔ اور چاروں طرف کھیت جن پر سے گزرتی مست ٹھنڈی ہوا جو اپنے ساتھ پھولوں کی خوشبو لاتی تھی ۔۔ کے سب اعصاب پرسکون ہو جاتے تھے ۔۔
” چلنا نہیں ۔۔۔ ” شہرام نے جب اسے یونہی روکے دیکھا تو تعجب سے پوچھا ۔۔ ایک تو وہ اس کی پریشانی میں اسی کو نظر انداز کر رہا تھا ۔۔ اسے اب خود پر غصہ آیا ۔۔
” ہاں ۔۔ مگر کہاں ۔۔ ” اس نے شہرام کی طرف منہ کیا جو کچھ قدم دور ہی اس سے کھڑا تھا ۔۔ سورج کی جانب اس کی پشت تھی ۔۔ جبکہ ایوا وہ پوری سورج میں نہائی روشن تارے کی ماند لگ رہی تھی ۔۔۔ وہ اس کے پاس گیا ۔۔
” لسن مائی شائینگ سٹار ۔۔ اگر وہ بندر یہاں خود آگئی ۔۔ تو اس نے خود بھی ناچنا ہے ۔۔ اور ہمیں بھی نچائے گی ۔۔۔ ” سنجیدگی سے بولتے ہوئے اس نے اسے بات سمجھانی چاہی ۔۔
ایوا کو اس سے پہلے اس کی بات کا مطلب سمجھ آتا کہ ایک لڑکی پیلے رنگ کے فراک میں ملبوس۔۔ سر پر لال رومال باندھے اور ہاتھ میں پھولوں کی ٹوکری پکڑے ان کے قریب کھڑی تھی ۔۔
ایوا کو سمجھ نہ آرہی تھی وہ یکدم کہاں سے نمودار ہوگئی ہے ۔۔ دوسری طرف شہرام نے اسے دیکھ کر اپنی آنکھیں میچ لیں ۔۔
” او تیری ۔۔ شہرام ۔۔ ” وہ دانت نکالتی شہرام کو دیکھ کر بولی ۔۔
” نہیں ۔۔ وہ میری ۔۔ شہرام کا بھوت ۔۔ ” شہرام نے چڑ کر جواب دیا جس پر وہ ڈھیٹوں کی طرح ہنسنے لگی ۔۔ شہرام نے کوفت سے اسے دیکھا جسے اسے پتا نہیں اور کتنی دیر برداشت کرنا پڑنا تھا ۔۔ اگر کام نہ ہوتا اور ایوا کو کوئی خطرہ نہ ہوتا تو وہ مر کر بھی ادھر آنے کا سوچتا بھی نہ ۔۔
” بھوتوں کو کیوں بدنام کر رہے ہو ۔۔ تم تو ان سے بھی اوپر کی چیز ہو ۔۔ ” اس کی جانب زرا سا جھکتے ہوے وہ آنکھ دبا کر بولی پھر اپنی بات پر خود ہی ہنسنے لگی ۔۔ کیونکہ شہرام سے تو اسے امید نہیں تھی ۔۔
شہرام نے سپاٹ نظروں سے اسے دیکھا کم گھورا زیادہ تو اس نے روک لی ۔۔ مگر ہونٹوں پر مسکراہٹ اب بھی تھی ۔۔
” اوپسس ۔۔۔ ” اب وہ ایوا کی طرف متوجہ ہوا ۔۔ جو حیرت سے آنکھیں پوری کھولے اس عجوبے کو دیکھ رہی تھی ۔۔
” یور بلڈ پٹ ۔۔ “اس کے سوال نے شہرام کا میٹر گھما دیا ۔۔ وہ ایوا کے پاس آیا اور اسے کندھے سے پکڑ کر اپنے ساتھ لگاتے ہوئے بولا ۔۔
” ایوا ۔۔ مائی بیوٹی ۔۔” اس کی بات پر وہ لڑکی اچھلی اور پھر اونچی ہوتی ہوا میں غائب ہو گئی ۔۔ اور ایوا کی آنکھیں تو جیسے پھٹنے کو تھیں ۔۔
” حیران نہ ہو ۔۔ ابھی تو یہ کچھ نہیں ۔۔ یہ اس کا نام ریہ ہے ۔۔ لیکن کہتے اسے آر ہیں ۔۔ ” شہرام نے اس کا تعارف کروایا ۔۔ مگر ایوا یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ بی بی مخلوق کیا تھی ۔۔ وہ دنوں آگے چل رہے تھے ساتھ ساتھ جب یکدم ایوا کو اپنی طرف سے اس کی آواز آئی تو وہ ڈر کر بدکی ۔۔
” مجھے لگا کہ تم میرا لمبا چوڑا تعارف کراؤ گے ۔۔۔ ” ایوا کے ڈرنے کا نوٹس لیے بغیر اس نے کافی ناراضگی سے شہرام کو کہا ۔۔ یہ اور بات تھی کہ ناراضگی مصنوعی تھی ۔۔
” پہلے اسے تمہاری اوٹ پٹانگ حرکتیں تو ہضم کرنے دو ۔۔ ” سر جھٹکتے ہوئے شہرام نے اس پر طنز کیا ۔۔ مگر بھئی مجال ہو جو آر عروف ریہ نے زرا بھی اثر لیا ہو ۔۔۔
وہ لوگ اس کے کاٹج کے دروازے تک پہنچے تو ایوا نے دیکھا آر پھر غائب تھی ۔۔ اس نے سوالیہ نظروں سے شہرام کی طرف دیکھا ۔۔مگر وہ کافی غصے سے دروازے کو گھور رہا تھا ۔۔ ایوا کو الجھن ہوئی ۔۔ اگر انہیں اندر جانا ہے تو وہ نوک کیوں نہیں کر رہا ۔۔ اسے آگے ہوتا نہ دیکھ کر اس نے خود ہی نوک کیا ۔۔ بس نوک کرنے کی دیر تھی اور فوراً سے دروازہ کھل گیا ۔۔ جیسے اندر موجود شخص اس ہی کے انتظار میں تھا
” میں سوچا مہمان کے لیے دروازہ میزبان کو ہی کھولنا چاہیے ۔۔لیکن میزبان کو اتنی سستی نہیں کرنی چاہیے ۔۔ اوہ میں بھی نا ۔۔ اپنا تعارف ہی نہیں کروایا ۔ ” وہ دروازے میں یہ نام سٹاپ شروع ہوگئی تو شہرام نے خود آگے بڑھ کر اسے سائڈ پر کر کے اندر داخل ہوگیا ۔۔۔
ایوا نے جھجک کر اسے دیکھا کہ کہیں برا تو نہیں لگا ۔۔ مگر اسکے چہرے پر ایسے کوئی تاثرات نہیں تھے ۔۔
” ایوا ۔۔ تم بھی آجاؤ۔۔ ورنہ یہ سارا دن تمہیں دروازے پر کھڑا رکھے گی ۔۔۔
شہرام کی بات پر وہ جھجکتے ہوئے اندر آئی اور اس کے ساتھ والے صوفے پر بیٹھ گئی ۔۔ جبکہ آر پھر غائب ۔۔
” شہرام ۔۔ ہم یہاں کیوں آئے ہیں ۔۔ ” ایوا نے سنجیدگی سے پوچھا پتا نہیں لیکن اسے کسی گڑ بڑ کا احساس ہو رہا تھا ۔۔
شہرام نے گہری نظروں سے اسے دیکھا ۔۔ وہ فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ آیا اسے بتائے کہ نہیں اگرچہ لا علمی اس کے لیے نعمت تھی ۔۔ مگر وہی خطرہ بھی ۔۔
اس کو یوں خود کو پرسوچ انداز میں دیکھنا ایوا کو بتا گیا کہ کوئی بات ہے ۔۔ورنہ وہ جتنا اسے سمجھی تھی ۔۔ وہ اسے یہاں نہیں لانا چاہتا تھا ۔۔ لیکن پھر بھی لایا تھا ۔۔ اور یہ آر جو بھی تھی انسان نہیں تھی اتنا تو اسے پتا لگ گیا ۔۔
” یہ لو بھئی ۔۔ آر کی کوکنگ کے مزے لو ۔۔۔ ” ہاتھ میں ٹرے لیے وہ پھر سے نمودار ہوئی ۔۔
” واش روم کہاں ۔۔ میں فریش ہونا ۔۔ ” اسے دیکھتے ہوئے ایوا نے سنجیدگی سے پوچھا ۔۔ جواب میں آر نے اسے دیکھتے ہوئے راستہ سمجھایا ۔۔
ایوا کے منظر سے غائب ہوتے ہی آر کی مسکرہٹ غائب ہو گئی اور اب اچھے خاصے غصے سے شہرام کو دیکھ رہی تھی ۔۔
” یہ لڑکی ۔۔۔ رائل بلڈ ۔۔ ہے یہاں کیوں لائے ہو ۔۔ اگر مارک کو پتا لگا ۔۔ تو وہ کیا تباہی مچائے گا یہ مجھے تمہیں بتانے کی ضرورت نہیںں۔۔ ” وہ خاصے تیش سے بولی تھی ۔۔ جس کا اثر اس کے چہرے کے ساتھ ساتھ ہلتے ٹیبل بھی بتا رہی تھی ۔۔
شہرام کی نظر اسی ہلتی ٹیبل پر تھی ۔۔ لب بھینچے اس نے آر کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا ۔۔ اسے پتا تھا وہ سہی کہہ رہی ہے ۔۔
اس کو یوں ہی خلافِ توقعہ خاموش دیکھ وہ بھی ٹھنڈی ہوئی اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔۔
” دیکھو ۔۔شہرام تم میرے دوست ہو ۔۔ میں سچی بات کہوں گی ۔۔ مارک اسے کسی بھی صورت زندہ نہیں رہنے دے گا ۔۔ ہو سکے تو ابھی سے خود کو تیار کر لو ۔۔۔ “
شہرام نے آنکھیں اوپر کر کے اس طرف دیکھا جہاں ایوا گئی تھی ۔۔ اس کی آنکھیں اس وقت لال ہو رہی تھیں ۔۔
” ایوا ۔۔۔ !! ۔۔۔ اندر آجاؤ ۔۔۔ ” ایوا وہاں سے نکل کر سامنے آئی اور صوفے پر بیٹھ گئی ۔۔ لیکن ان دنوں کو یہ جاننے میں دیر نہیں لگی کہ وہ سن چکی تھی ان کی باتیں ۔۔
اب وہاں خاموشی تھی ۔۔ تین نفوس کی موجودگی میں بھی ۔۔ لیکن وہ دو لوگ ایوا کی بے ترتیب دھڑکن سن رہے تھے جن میں ایک شور برپا تھا ۔۔۔
” رائیل بلڈ کیا ۔۔۔ ؟” آخر ایوا نے ہی خاموشی کو توڑا ۔۔۔جس سے ان دنوں کے درمیان نظروں کا تبادلہ ہوا ۔۔
آر کی نظروں میں تجسّس تھا ۔۔
اور شہرام کی تیش ۔۔ وہی بات ہوئی جتنا وہ چھپانا چاہتا تھا اس باتونی لڑکی کی وجہ سے سب کھل گیا تھا ۔۔ اب مزید چھپانے کا بھی کوئی فائدہ نہ تھا ۔۔
___________________________
جولیا اپنے خاص کمرے میں موم بتیاں جلا کر بیٹھی تھی ۔۔ ہاتھ میں کتاب تھی جس سے ساتھ ساتھ وہ کچھ پڑھ رہی تھی جب مارک وہاں آیا ۔۔۔
” یہ کیا ہے ۔۔۔ ” آس پاس کا جائزہ لیتے ہوے اس نے تعجب سے پوچھا ۔۔
” مجھے رائیل بلڈ کے بارے میں پتا لگا کہ کچھ ۔۔۔ ” جولیا نے جواب دیتے ہوئے کتاب نیچے رکھی اور چاک سے زمین پر کچھ بنانے لگائی ۔۔ مارک اس کے قریب آیا اور گہری نظروں سے اس کے زمین پر مہرک ہاتھ دیکھنے لگا ۔۔۔
جو دائرے کے اندر دائرے بنائی جا رہی تھی ۔۔
” کیا پتا لگا ۔۔۔ ” اس کے پاس ہی پنجوں کے بل بیٹھتے ہوئے اسنے پوچھا ۔۔
” کیونکہ رائل بلڈ انسان ہے ۔۔ تو اس کا خون پی کر ۔۔ آپ اس کی پاورز حاصل کر سکتے ہیں ۔۔۔ ” مارک چونکا ۔۔ آنکھوں میں شاطرانہ چمک پیدا ہوئی ۔۔ یہ بات ہی کتنی پر فریب تھی کہ وہ اتنی طاقتوں مالک ہوسکتا ہے پھر پوری دنیا پر اس کا راج ہوگا ۔۔
” اچھا یہ کیسے ہوگا ۔۔ ” جولیا نے چاک نیچے رکھا ۔۔ لمبی سانس لی اور اسے دیکھتے ہوئے بولنا شروع کیا ۔۔۔
” کیونکہ رائل بلڈ بہت نایاب اور خالص ہوتا ہے ۔۔ کہ اس کو پینا کسی بھی ویمپائر کی بس کی بات نہیں اگر کوئی کوشش کرے بھی تو اس کا سانس بند ہو جائے گا ۔۔مگر اگر اس کے بلڈ میں یہ نیچرل جڑی بوٹیاں ایڈ کریں تو ہوسکتا ہے کہ اس کی ساری قوتوں کو اپنے قبضے میں کیا جا سکے ۔۔ لیکن اگر اس فل مون ہم نہ کر سکے تو وہ لڑکی کو اس کی ساری پاور مل جائیں گی ۔۔پھر اسے روکنا ممکن نہیں ۔۔۔ ” تھوڑا سا وقفہ لے کر اس نے اس کا چہرہ دیکھا ۔۔
جو اب سنجیدہ تھا کچھ بھی اخذ کر پانا مشکل تھا کہ وہ کیا سوچ رہا ہے ۔۔۔
” وہ لڑکی ہمارا چانس ہے ۔۔۔ ” جھجکتے ہوئے اس نے آخری بات کی ۔۔ اور مارک خوشی میں محسوس نہیں کر پایا کہ اس نے ہمارا کہا ہے ۔۔
(وچ جب بھی ہمارا کہتی ہیں تو اس سے مطلب تو ہے ساری وچ کمیونٹی ۔۔)
وہ جانے کے لیے اٹھا ۔۔ پھر رکا مڑا اور اس طرف انگلی وران کرنے والے انداز میں کرتے ہوے بولا ۔۔۔
” اگر یہ ہوگیا تو تم جو مانگو گی تمہیں مل جائے گا ۔۔ لیکن ایک بات مجھے دھوکہ دینے کی کوشش کی تو یاد رکھنا اپنا انجام ۔۔ ” جانے سے پہلے وہ تنبیہ کرنا نہیں بھولا ۔۔
اس کے جانے کے بعد جولیا نے لمبی سانس لی ۔۔ اور ماتھے پر آیا پیسنہ صاف کیا ۔۔ پھر آنکھیں بند کر کے خود کو یقین دلایا کہ اس نے آخر کر ہی لیا ۔۔ ورنہ مارک کو گمراہ کرنا آسان نہ تھا ۔۔ اسے لیے اس نے طاقت کا لالچ دیا تھا ۔۔
طاقت کا نشہ ہی ایسہ ہوتا ہے جسے ایک بار اس کی عادت ہو جائے تو مزید سے مزید کی چاہ کرتا ہے ۔۔ اور مارک بھی طاقت کے نشے کا عادی تھا۔۔۔
اب بس ایک اور سب سے مشکل کام تھا ۔۔۔
شہرام سے ملاقات ۔۔۔
______________________________
اس کے ہاتھ میں کتاب تھی لال رنگ کی ۔۔ وہ اکیلی صوفے پر بیٹھی تھی شہرام اور آر باہر کھڑے باتیں کر رہے تھے ۔۔
وہ جیسے جیسے پڑھتی جا رہی تھی اس کا رنگ اڑ رہا تھا ۔۔ چہرے پر پیسنہ آرہا تھا۔۔۔
یہ انکشاف اس کے لیے جان لیوا تھا کہ وہ عام ہوتے ہوے بھی عام نہیں ۔۔
وہ نشان جو بچپن سے برتھ مارک سمجھتی رہی تھی ایک نائٹ میئر بن کر سامنے آیا تھا ۔۔
اس کتاب میں اس کی ہر بات کا جواب تھا ۔۔
پہلے وہ تو عام انسان کی بیٹی تھی ۔۔ اس کا جواب بھی تھا ۔۔ کہ یہ قدرت کا فیصلہ ہے وہ کسی کو بھی چن سکتی ہے ۔۔۔
کوئی جادو ۔۔ اس پر عمل نہیں کر سکتا تھا ۔۔ اس کی آمد اورنجنل ویمپائر کا اینڈ ہوگی ۔۔
اس بات پر اس کا دل بند ہوا ۔۔ یعنی شہرام بھی ویمپائر تھا کس قسم کا یہ اگر چہ اسے نہیں معلوم تھا لیکن پھر بھی یہ خیال بھی جان لیوا تھا کہ شہرام کو کچھ ہو ۔۔۔
وہ ابھی مزید پڑھنا چاہتی تھی کہ کتاب کا باقی سارا حصہ جس میں رائیل بلڈ کے بارے میں لکھا ہوا تھا ۔۔
اس نے کتاب پرے پھنک کر سر ہاتھوں میں تھام لیا ۔۔ یہ سب اکسیپٹ کرنا اس کے لیے آسان نہیں تھا ۔۔
باہر آؤ تو شہرام اور وہ درخت کے سائے میں کرسی میں بیٹھے ہوئے تھے ۔۔
” تو تم اب مجھ سے کیا چاہتے ہو ۔۔۔ ” آر نے سنجیدگی سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔
” ایوا کی سیفٹی ۔۔ ” شہرام نے بھی اپنے بھینچے لب کھولے ۔۔۔
” تم ہوتے ہوئے بھی ۔۔۔ ؟؟” آر کے سوال پر وہ زخمی سا مسکرایا ۔۔۔
” میں تو جان دینے کو تیار ہوں لیکن ۔۔ یہ بات بھی سچ ہے کہ اب مارک جب بھی آئے گا اپنی فوج لے کر آئے گا ۔۔ اور میں اکیلا ان سب سے نہیں لڑ سکتا ۔۔ ” اس نے تصویر کا دوسرا رخ سامنے کیا تو چپ ہوگئی ۔۔
” تمہارے پاس کوئی حل نہیں ۔۔۔ ” وہ تھوڑا آگے ہو کر ہاتھوں کو باہم جوڑتے ہوئے گویا ہوا ۔۔۔
” ہے تو ۔۔ لیکن میرے بس کا نہیں ۔۔ !!” وہ زرا الجھ کر بولی ۔۔
شہرام فورا سیدھا ہوا ۔۔
“کیا حل ۔۔۔ ” آر نے لب بھینچے ۔۔
شہرام جھکٹے سے اپنی سیٹ سے اٹھا ۔۔ اور اس کے گلے کو اپنے ہاتھوں کے شکنجے میں جکڑتے ہوئے دھاڑا ۔۔۔
آر نے خود کو آزاد کروانے کی کوشش نہیں کی کیونکہ اسے عادت تھی شہرام کے ان حملوں کی ۔۔
لیکن ایوا جو اس کی دھاڑ سن کر باہر آ ئی تھی ۔۔۔ فورا اس کی طرف لپکی ۔۔
” شہرام چھوڑو اسے ۔۔۔ ” اسے بازوؤں پر ہاتھ رکھ کر ایوا نے روتے ہوے التجاء کی ۔۔
شہرام جھکٹے اسے چھوڑا تو کھانستے ہوے چیئر پر بیٹھ گئی ۔۔
شہرام نے ایوا کو زور سے گلے لگایا ۔۔ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی ۔۔ کہ وہ کیا کرے ۔۔
بار بار مختلف خوفناک سوچیں دماغ میں آتیں کہ اس کا دماغ منشتر ہو جاتا ۔۔۔۔
کبھی وہ خود کو ایوا کا مردہ وجود تھامے دیکھتا ۔۔
تو کبھی مارک کو ایوا کا دل تھامے ۔۔۔
اس کا سہارا پاتے ایوا بھی مزید بکھر گئی ۔۔ اس کے آنسو شہرام کی شرٹ گیلی کر رہے تھے ۔۔ شہرام سرخ نظروں سے آر کو دیکھ رہا تھا ۔۔ جو منہ کھولے ان دنوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔
” آر ۔۔ میں ریکویسٹ کرتا ہوں ۔۔ کیسے بھی کر کے ۔۔ لیکن ایوا کو اس سب نکالو ۔۔۔ ” اور یہ سب سے بڑا جھٹکا تھا ۔۔ شہرام اور ریکویسٹ ۔۔۔ یہ امپاسبل تھا لیکن آج یہ بھی پاسبل ہوگیا تھا ۔۔۔
وہ خاموشی سے اٹھی ۔۔ اور اندر چلی گئی ۔۔ شہرام نے سرخ ہوتی نظروں سے اسے جاتا دیکھا ۔۔ اور آنکھیں بند کر کے اپنا چہرہ اس کے بالوں میں چھپا کر اسے مزید خود میں بھینچ لیا ۔۔۔
کتنا وقت گزرا انہیں پتا تھا ۔۔جہاں ایوا خود کو اس کی بازوؤں میں محفوظ محسوس کر رہی تھی ۔۔وہیں شہرام خود کو پرسکون محسوس کر رہا تھا ۔۔
آر واپس آئی ۔۔اس کے ہاتھ میں چھری اور چاندی کی کٹوری تھی ۔۔۔
” شہرام ۔۔ ایوا ۔۔ مجھے تم دنوں کا خون چاہئے ۔۔۔ ” شہرام نے نرمی سے خود سے الگ کیا ۔۔
اور آر کے ہاتھ سے چھری لے کر اپنا ہاتھ چاندنی کے پیالے کے اوپر کر کے چھری پکڑے ہاتھ کی مھٹی بند کر لی ۔۔ خون بند ہاتھ سے ہوتا پیالے میں جانے لگا ۔۔ ایوا نے آنکھیں بند کرلیں ۔۔
آر کے اشارے پر اس نے مٹھی کھولی ہاتھ پیچھے کر لیا ۔۔ اس کا زخم دومنٹ میں سہی ہوگیا ۔۔
اس نے ایوا کا ہاتھ پکڑا ۔۔ تو کانپی ۔۔
” آنکھیں مت کھولنا ۔۔۔۔ ” اس کی ہدایت پر ایوا نے اور زور سے آنکھیں بند کیں ۔۔شہرام نے پہلے اس کے ہاتھ پر بوسہ دیا پھر نرمی سے اس کے ہاتھ پر کٹ لگایا ۔۔ اب ایوا کا خون پیالے میں گر رہا تھا ۔۔
شہرام نے لب یوں بھینچے جیسے درد ایوا کو نہ اسے ہو رہا ہو ۔۔
آر نہ اشارہ کیا تو شہرام نے اس کے زخم پر اپنا انگوٹھا رکھ کر خون کو روکا ۔۔ اور آر کو اشارہ کیا ۔۔ آر اس کی بات کو سمجھتے ہوئے غائب ہوئی پھر واپس آئی تو اس کے ہاتھ میں پٹی تھی۔۔
اس نے پٹی اس لی ۔۔ اور خود ہی باندھنے لگا ۔۔۔آر اندر چلی گئی ۔۔
پٹی باندھنے کے بعد وہ کتنی دیر لب بھینچے اس کے ہاتھ کو دیکھتا رہا ۔۔ پھر جھک کر اس کے ہاتھ پھر ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے بولا ۔۔۔
” سوری ۔۔۔ ” ایوا نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا ۔۔
” یہ کھا لو ۔۔ پھر تم لوگوں کو واپس بھی جانا ہے ۔۔ ” آر کھانے کا سامان ان کے سامنے رکھتی ہوئے بولی ۔۔۔ یعنی منہ پر ہی جانے کا کہہ رہی تھی ۔۔
” مجھے بھی کوئی شوق نہیں ۔۔ تمہارے اس بندر خانے میں رکنے کا ۔۔ ” شہرام نے فوراً سے جواب دیا۔۔۔ آر منہ بناتی اس کو گھورتے ہوئے اندر چلی گی ۔۔
ایوا ان دنوں سے بےنیاز کھانے کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔ مگر اس کی سوچیں کسی اور طرف تھیں ۔۔ اس کے چہرے پر آنسو کے نشان تھے ۔۔ جبکہ چہرہ سپاٹ ۔۔
“تم کھاؤ ۔۔ میں آتا ہوں ۔۔۔ ” اسے کہتا وہ اندر چلا گیا ۔۔ ایوا نے بےزار نظر کھانے پر ڈالی ۔۔ اس کا دل نہیں کر رہا تھا ۔۔ لیکن کمزوری سی ہو رہی تھی ۔۔ اس نے نہ چاہتے ہوئے کھانا شروع کیا ۔۔۔
” تم ان کا کیا کرو گی ۔۔۔ ” شہرام آر کے سر پر کھڑا اس سے پوچھ رہا تھا ۔۔ جس نے وہ چاندی کا پیالہ ٹیبل پر رکھا اور اس کے پاس موم بتی بھی پڑی تھی ۔۔
” کچھ تو ہوگا نہ ۔۔ نہیں تو میں وچ کی روح سے کنٹیکٹ کرنے کی کوشش کروں گی ۔۔۔ ” آر نے جواب دیتے ہوئے مزید کینڈل ٹیبل پر رکھی ۔۔۔
شہرام باہر نکل گیا ۔۔ تھوڑی دیر بعد اسے گاڑی سٹارٹ ہونے کی آواز آئی یعنی وہ نکلنے لگے تھے ۔۔ اس نے لمبی سانس لی اور عمل شروع کیا جو بھی تھا ۔۔
اس نے اب جب شہرام کی مدد کا فیصلہ کر ہی لیا تھا تو وہ پیچھے نہیں ہو سکتی تھی ۔۔
موبتیاں جلا کر اس نے کچھ پڑھنا شروع کیا ۔۔
کتنی دیر اس کے ہونٹ کچھ پڑھنے میں مصروف رہے ۔۔
اسے اپنا سانس بھاری ہوتا پھر روکتا محسوس ہوا ۔۔
لیکن وہ پھر بھی نہیں رکی ۔۔ پڑھتی رہی ۔۔
اب کہ اسے جھٹکا لگا اور اس کی ناک سے خون نکلنے لگا ۔۔
اس نے ہاتھ ہونٹ کے اوپری حصے کو چھوا ۔۔ پھر ہاتھ آنکھوں کے سامنے کیا ۔۔ وہاں خون لگا تھا ۔۔
اس نے چندی کے پیالے کو دیکھا اب کے اونچی اونچی آواز میں پڑھنے لگی ۔۔
دیکھتے ہی دیکھتے پیالے کو آگ لگی ۔۔
اس کے ہونٹ مسکراہٹ میں ڈھلے ۔۔ مگر پھر اس کی مسکراہٹ تھمی جب پیالہ واپس ٹھنڈا ہوا ۔۔
اس نے رک کر پیالے کو دیکھا ۔۔۔ خون بلکل ویسے کا ویسا تھا ۔۔ مگر آر اس پر وہ نظر نہ آنے والی حفاظتی لہر دیکھ سکتی تھی ۔۔ جس کی وجہ سے اس کا کوئی بھی جاود اس خون پر نہیں چل رہا تھا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: