Beauty and the Vampire Novel by Zaha Qadir – Episode 13

0
بیوٹی اینڈ دی ویمپائر از ضحٰی قادر – قسط نمبر 13

–**–**–

کمرہ پورا اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔ کھڑکی سے آتی چاند کی روشنی نے کھڑکی کی دہلیز کو اپنی سفید روشنی سے روشن کیا تھا ۔۔
وہ سینے پر ہاتھ باندھے لیٹی یک ٹک چھت کو دیکھ رہی تھی ۔۔
دماغ میں مختلف سوچیں چل رہی تھیں ۔۔ اسے ابھی یوں لگ رہا تھا ۔۔ جیسے سب ایک خواب ہے ۔۔
ایک ویمپائر کا اس کی زندگی میں آنا ۔۔
اس سے محبت کرنا ۔۔
اس کا وہ عجیب قسم کا بلڈ ہونا ۔۔
” سوئی نہیں ۔۔۔ !!” شہرام کھڑکی کے ساتھ والی دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑا اس سے پوچھ رہا تھا ۔ اس کا پورا وجود اندھیرے میں تھا ۔۔ لیکن اس اندھیرے میں اس کی گرے آنکھیں کھڑکی سے آتی چاند کی روشنی کی طرح چمک رہی تھیں ۔۔
ایوا نے چھت سے نظر ہٹا کر اب اس کی طرف کر لی ۔۔
شہرام کو اس وقت وہ اپنے حواسوں میں نہیں لگ رہی تھی ۔۔ جب سے وہ لوگ واپس سے آئے تھے ۔۔ شہرام نے ایک پل کو بھی اکیلا نہیں چھوڑا لیکن وہ ایوا کی اتنی لمبی خاموشی اسے چب رہی تھی ۔۔۔
وہ چل کر اس کے پاس آیا ۔۔ اور وہیں اس کی بیڈ کے پاس پنجوں کے بل بیٹھ گیا ۔۔ پھر اس نے ایوا کے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لیا ۔۔
ایوا نے کوئی مزاحمت نہیں کی ۔۔ بس چپ سی اپنے ہاتھوں کو اس کے ہاتھ میں دیکھ رہی تھی ۔۔۔
ایک سے اس کا ہاتھ تھامے اب دوسرے سے وہ اس کے بال سہلا رہا تھا ۔۔
” جب تک میں ہوں ۔۔ تمہیں کسی بھی چیز کو سر پر سوار کرنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔ ” نرمی سے بولتے ہوئے اس نے اس کے دماغ میں چلتی پریشان سوچوں کو سٹاپ لگانے کے لیے کہا ۔۔
ایوا نے اس کے ہاتھ سے نظر ہٹا کر اس کی آنکھوں میں اپنی آنکھیں ڈالی ۔۔ اس کی آنکھوں میں نظر آتے خوف کو دیکھ کر اسے اچھا نہیں لگا ۔۔۔ اوپر سے اس کی خاموشی ۔۔
” کچھ بولو گی نہیں ۔۔۔؟؟ ” شہرام نے سنجیدگی سے پوچھا ۔۔ ایوا نے نہ میں سر ہلایا ۔۔۔
” میرے لیے بھی نہیں ۔۔۔؟؟” اس کے سوال پر ایوا کا دل زور سے دھڑکا پلکیں لز اٹھیں ۔۔
ہونٹوں کو دانتوں سے چباتے ہوئے اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا بولے ۔۔
اس کا اس طرح ہونٹوں پر تشدد کرنا اسے پسند نہیں آیا ۔۔۔ اس نے انگوٹھے سے اس کے ہونٹ کو دانتوں کے ظلم سے آزاد کرواتے ہوئے بولا۔۔۔
” میں بولنے کا کہا ۔۔ ان پر تشدد کرنے کا نہیں ۔۔ ” ایوا نے نظریں چرا لیں لیکن بولی اب بھی کچھ نہیں ۔۔۔
” ایوا تمہاری خاموشی میرے اندر وحشت پھیلا رہی ہے ۔۔ جس کا کوئی بھی شکار ہو سکتا ہے ۔۔۔ ” اب کے اس نے سرد لہجے میں کہا ۔۔ ایوا نے ڈر کر اسے دیکھا ۔۔
اس کا ہاتھ چھوڑ کر وہ اٹھا تو ایوا نے دوبارہ اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے اس کا نام لیا ۔۔
” شہرام ۔۔۔۔ ” بس یہی تو وہ چاہتا تھا کہ وہ کچھ بولے ۔۔
اس کے سرہانے کے پاس بیٹھتے ہوئے وہ دوبارہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا ۔۔
” ایک بات پوچھوں ۔۔۔ ” ایوا نے ہچکچاتے ہوئے اس سے سوال کیا ۔۔
” ہممم ۔۔۔ “
” اگر میں رائیل بلڈ ہوں ۔۔ اور میرے آنے سے ویمپائر اینڈ ہے تو پھر تم ۔۔۔ بھی ” اس نے بات مکمل نہیں کہ پھر بھی شہرام اس کی ادھوری بات کا مطلب سمجھ چکا تھا ۔۔
وہ اس کو کھونے کے خوف سے خوفزدہ تھی ۔۔ اس خیال نے اسے مسرور کر دیا تھا ۔۔۔
ایوا کو اس طرح خاموش رہنا عجیب لگ رہا تھا ۔۔ اس نے چہرہ اوپر کر اسے دیکھا جو آنکھوں میں بےشمار چمک اور ہونٹوں پر مسکراہٹ لیے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔
اس کے چہرے پر پڑتے ڈمپل ۔۔
افف ایوا نے فوراً نظریں چرائیں ۔۔ دل تو پہلے ہی اس پر لٹو تھا ۔۔ اس وقت وہ حواسوں پر بھی چھا رہا تھا ۔۔
تھوڑی دیر پہلے وہ کس بات پر پریشان تھی اسے سب بھول گیا ۔۔۔
وہ اس کی گرم سانسیں اپنے کانوں پر محسوس کر رہی تھی ۔۔
” جب تک ۔۔ اس ویمپائر کی بیوٹی اس کے ساتھ ہے ۔۔۔ اسے کچھ نہیں ہو سکتا ۔۔ ” اس کے کان کے پاس جھکا وہ سرگوشی کر رہا تھا ۔۔
ایوا کے گال اس کے اتنے قریب ہونے سے لال ہوگئے تھے ۔۔
پلکیں لرز اٹھی ۔۔ اس نے خشک ہوتے ہونٹوں کو زبان سے تر کیا ۔۔
شہرام جس کی نظریں اس کی ایک ایک حرکت پر تھیں اس کو یوں کرتا دیکھ کر اس کی آنکھوں میں چمک آئی ۔۔
انگلی سے اس کے ہونٹ کو ٹریس کرتے ہوئے اس نے گہری نظروں سے اسے دیکھا ۔۔
تو ایوا کو لگا اس کا دل ڈوب کر ابھرا ہو ۔۔
یکدم نجانے کیا ہوا اس کے تاثرات سرد ہوئے چہرے کے تاثرات تن گئے۔۔۔ وہ اسے دور کر کے اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔ اس کے یوں کرنے سے ایوا بھی گھبرا کر اٹھ کے بیٹھ گی۔۔۔
” سب ٹھیک ۔۔۔ ” وہ پریشانی سے بولی ۔۔ اس کے جب جب یہ تاثرات اس نے دیکھے تھے تب تب کوئی ہسپتال پہنچا ہوتا تھا ۔۔
” تم ۔۔ سو جاؤ ۔۔ میں ابھی آتا ہوں۔۔۔۔ ” بولنے کے ساتھ ہی وہ کھڑکی سے کود کر باہر نکل گیا ۔۔
جبکہ ایوا الجھن سے کھڑکی سے باہر درخت کی ہلتی ٹہنیاں دیکھتی رہ گئی ۔۔
__________________________
جنگل میں بنی اس جھیل کے کنارے وہ اپنا مخصوص کالے رنگ کا چوگا پہنے کھڑا تھا ۔۔ اس کا چہرہ ہوڈی میں چھپا تھا ۔۔ چاند کی روشنی اس پر پڑ رہی تھی ۔۔ لیکن کالے رنگ کے چوگے کی وجہ سے نہ تو اس کا چہرہ سہی نظر رہا تھا ۔۔ نہ ہی کچھ اور ۔۔ وہ اپنے پراسرار شخصیت سمیت کھڑا جیسے کسی کا انتظار کر رہا تھا ۔۔
تیز ہوا کا جھونکا آیا ۔۔ اور ساتھ ہی اسے اپنے پیچھے پتوں پر کسی کے چلنے کی آواز ۔۔ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی ۔۔
اس نے مڑ کر دیکھا ۔۔۔ جہاں شہرام سینے پر ہاتھ ۔۔ چہرے پر سخت سرد تاثرات لیے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” ہیلو برادر ۔۔۔ ” جنگل کی پہلی خاموشی کو اس کی آواز توڑا ۔۔۔
شہرام نے جواب نہیں دیا لیکن اس کے تاثرات مزید سرد ہوگئے تھے ۔۔
وہ اس کے مقابل آکر کھڑا ہوگیا ۔۔ دنوں کا قد ایک جتنا تھا ۔۔
” یہاں کیا کرنے آئے ہو ۔۔۔ ” اس نے سرد انداز میں پوچھا ۔۔
” کیا ہوگیا ۔۔ میں تو اپنے بھائی سے ملنے آیا تھا ۔۔۔ ” اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے مارک نے دوستانہ انداز میں کہا ۔۔۔ یوں جیسے ان میں بہت اچھے تعلقات چل رہے ہوں ۔۔
شہرام نے جھٹکے سے اس کے ہاتھ کو اپنے کندھے سے جھکٹا ۔۔۔ تو مارک بجائے برا ماننے کے ہنس دیا یوں جیسے اس کو اس سے اسی رویے کی امید تھی ۔۔
” تم بلکل بھی نہیں بدلے ۔۔۔ ” اب کے اس کے انداز میں ستائش تھی ۔۔ لیکن محسوس کرنے والا جان سکتا تھا کہ یہ ستائش نہیں حسد تھا ۔۔
” مجھے اچھی طرح پتا ہے کہ تم یہاں کیوں آئے ہوے ۔۔۔ ” شہرام چبھتی ہوئی نظروں سے اسے دیکھتے ایک ایک لفظ چبا کر بولا ۔۔
ایک بار پھر مارک کی ہنسی جنگل میں گونجی ۔۔۔ لیکن شہرام سنجیدہ کھڑا اسے دیکھتا رہا ۔۔
” مان گیا ۔۔ میرے آنے کی وجہ واقعی بہت دلفریب ہے ۔۔۔ ” اس کی بات پر شہرام نے ضبط سے مھٹیاں بینچ لی ۔۔
” اس کا نام کیا ۔۔ خیال بھی اپنے دماغ سے نکال لو ۔۔ ورنہ تمہیں میرا پتا ۔۔۔ ” اس سب کے دوران یہ پہلی بار تھا مارک سنجیدہ ہوا ۔۔
” تمہیں پتا ہے ۔۔ یہ لڑکی کیا ہے ۔۔ ہم سب کے لیے کتنا خطرہ ہے ۔۔ ” اس نے جیسے اسے آگاہ کرنا چاہا جس کے بارے میں وہ پہلے سے جانتا تھا
” اگر اسے کچھ بھی ہوا ۔۔ تو میں کتنا بڑا خطرہ بن جاؤں گا تمہیں اس کا نہیں پتا …”اس کی بات نظر انداز کرتے ہوئے شہرام نے جیسے اسے وران کیا ۔۔۔
مارک نے یوں سر ہلایا جیسے کہنا چاہتا ہو ۔۔۔ تم نہیں جانتے ۔۔
” شہرام تم بات کو نہیں سمجھ رہے ۔۔۔ ” مارک نے پھر اسے سمجھانے کی کوشش کی…
” بسسسس ۔۔۔ خاموش ۔۔۔ مزید ایک لفظ نہیں ۔۔۔ ” شہرام نے ہاتھ اٹھا کر اسے مزید بولنے سے روکا ۔۔ اس کے لہجے میں شعلوں کی سی لپک تھی ۔۔
مارک نے لب بینچ لیے ۔۔۔
” تو پھر ٹھیک ہے ۔۔ جنگ کے لیے تیار رہنا ۔۔۔ ” مارک کہہ کر جانے لگا کہ شہرام کی اگلی بات پر اسے رکنا پڑا ۔۔۔
” آئندہ ۔ اگر تم نے اپنی گندی نظر اس پر ڈالی تو مجھ سے مت کہنا ۔۔ امید ہے تمہارے بھائیوں جیسے دوست جیک کا دل تمہارے پاس محفوظ ہوگا ۔۔۔۔ ” یہ واضح دھمکی تھی اور بات تھی کہ جیک کے ذکر سے اس کے منہ میں جیسے زہر گھل گیا تھا۔۔
مارک بنا کچھ بولے وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔
شہرام بھی سر کو جھٹکتے واپسی کے لیے نکل گیا ۔۔
اس نے واپس آ کر کھڑکی سے دیکھا تو ایوا سو چکی تھی ۔۔
وہ وہیں اس کے کمرے میں کھڑکی کے پاس پڑے صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔
اور کھڑکی سے باہر نظر آتے چاند کو دیکھنے لگا ۔۔
آنکھوں کے سامنے ماضی فلم کی طرح چلنے گا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ماضی ۔۔۔ )
کھلا میدان جہاں ہر طرف گولیاں توپ کبھی ٹینک کے گولے چل رہے تھے ۔۔ سورج کی تپتی روشنی ۔۔ میں وہ سب جنگ میں لگے تھے ۔۔
کتنی ہی لاشیں زمین پر گولیاں کھا کر گری ہوئی تھیں ۔۔
کچھ ساتھی زخمی تھے جن کو ٹینٹوں میں لے جا کر ان کی مرہم پٹی کی جا رہی تھی ۔
یونی فورم پہنے ٹیبل پر نقشہ پھیلا ہوا تھا ۔۔ جس پر جھکا وہ باقیوں کو بتا رہا تھا کہ کس کو کس طرف سے حملہ کرنا ہے ۔۔۔
” شہرام ۔۔۔ ” اپنے نام کی پکار پر اس نے مڑ کر دیکھا جہاں اس کا بھائی اسے بلا رہا تھا ۔۔
اس نے ان سب سے ایکسکیوز کیا ۔۔ اور اس کے پاس آیا ۔۔
” کیا بات ہے مارک ۔۔ ” اس کے چہرے پر پھیلی پریشانی کو بھانپتے ہوئے وہ سمجھ گیا کہ بات کوئی بڑی ہے ۔۔
” ہماری فوج بری طرح مر رہی ہے ۔۔ اور ہمارا جیتنا مشکل ہے ۔۔ ” اس کے ماتھے پر بل پڑے اسے پتا تھا وہ سہی کہہ رہا ہے ۔۔ لیکن اس نے بھی آخری دم تک ہار نہ ماننے کی ٹھانی ہوئی تھی ۔۔
ان کو تین دن ہوگئے تھے اس جنگ پر آئے ہوے ۔۔ لیکن دوسری طرف کے سپاہی ان پر حاوی ہو رہے تھے ۔۔ اس نے مارک کی طرف دیکھا ۔۔ جو پریشانی سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔
اس نے خود کمپوز کیا ۔۔ ان حالات میں وہ وہی تو ان کی امید اور حوصلہ تھا ۔۔ اس کا خود کو سنبھالا ۔۔ اور مارک کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے حوصلہ دیا ۔۔
” پریشان نہ ہو ۔۔ جیت ہمارا مقدر ہی ہو گی ۔۔۔ ” اسے حوصلہ دیتے ہوے واپس مڑ گیا ۔۔ لیکن اس کے ماتھے پر اب تفکر کی لکریں تھی ۔۔
اس کے جانے کے بعد مارک کے چہرے پر پھیلے پریشانی کے تاثرات ختم ہوئے اور ان کی جگہ ناگوری نے لے لی ۔۔وہ اب چبھتی نظروں سے دور کھڑے شہرام کو دیکھ رہا تھا ۔۔ جو وہاں باقی سپاہیوں کو ہدایت دے رہا تھا ۔۔
” کیا کہہ رہا تھا ۔۔ ” اس کا دوست جیک اس پاس آکر بولا ۔
” یہی ۔۔ جیت ہمارا مقدر ہوگی ۔۔ ” تلخی سے بولتے ہوئے اس نے سر جھٹکا ۔۔ تو جیک نے گہری نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔
” میں پہلے ہی کہتا ہوں ۔۔ تم اس سے زیادہ بہتر ہو ۔۔ لیکن پھر بھی شہرام کو فوج کا سربراہ بنانا تمہارے ساتھ زیادتی تھی ۔۔ “
مصنوعی افسوس سے بولتے ہوئے اس نے مارک کے دل میں زہر بھرا ۔۔ یہ کام وہ کافی عرصے سے کر رہا تھا ۔۔۔
جس کی وجہ سے وہ دنوں بھائی دور ہو رہے تھے ۔۔۔
مارک اب شعلہ جوالہ بنی نظروں سے شہرام کر دیکھ رہا تھا جو گن پکڑے میدان کی طرف جا رہا تھا ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: