Beauty and the Vampire Novel by Zaha Qadir – Episode 14

0
بیوٹی اینڈ دی ویمپائر از ضحٰی قادر – قسط نمبر 14

–**–**–

کھلے آسمان تلے وہ سب زمین پر ادھر ادھر لیٹے ہوئے تھے ۔۔ درمیان میں لکڑیاں جمع کر کے آگ لگائی ہوئی تھی ۔۔ جن میں لکڑیاں چٹکنے کی آواز وقفے وقفے سے آ رہی تھی ۔۔۔
بازؤں کا تکیہ بنائے وہ بھی آسمان کو دیکھ رہا تھا ۔۔ دماغ میں عمل ترتیب دے رہا تھا جس سے جنگ جیتی جائے ۔۔
اس کے ساتھ ہی کوئی آکر لیٹا تو اس نے گردن موڑ کر دیکھا ۔۔ اس کا جونئیر جو پہلی بار کسی جنگ میں آیا تھا ۔۔اس کی بہادری اور پھرتی دیکھ کر لگتا تو نہیں تھا لیکن جو بھی تھا اسے وہ بہت عزیز تھا ۔۔
” جب یہ جنگیں ختم ہوئیں گی ۔۔ اور ہم جیت جائیں گے تو پتا میں کیا کروں گا ۔۔۔ ” اس کے ساتھ اسی کے انداز میں بازؤں کا سرہانا بنا کر لیٹے وہ بول رہا تھا ۔۔
شہرام نے کچھ نہیں کہا اسے بولنے دیا ۔۔۔
” میں واپس جاؤں گا ۔۔ اپنی چھوٹی بہن کو اس کی من پسند گڑیا لے کر دوں گا ۔۔ پھر امی میں اور میری گڑیا ہم سیر کریں گے ۔۔ ” وہ شاید مایوس کن حالات میں خود کے لیے امید کی کرن تلاش کر رہا تھا ۔۔ شہرام کو اس کا انداز اچھا لگا ۔۔
” تمہیں خوش قسمت ہو کہ تمہاری ماں بہن ہے ۔۔ جبکہ میرے تو ماں باپ اسی طرح ایک جنگ میں ہار کے نتیجے میں مخالف ملک کے ہاتھوں جان گنواہ گئے تھے ۔۔ ” اس کا انداز بےتاثر سا تھا جیسے اپنے ماں باپ کی نہیں کسی اور کے بارے میں بات کر رہا ہوں ۔۔۔ اس کی بات سے مائک کو ڈر لگا ۔۔ وہ اچھی طرح کی بات کا مطلب سمجھ گیا تھا کہ جنگ ہارنے کی صورت میں وہ تو جان سے جائے گا ہی جائے گا لیکن جان سے اس کے پیارے بھی جائیں گے ۔۔۔
” سر پھر آپ نے کیا کیا تھا ۔۔۔ ؟؟” مائک نے نظر اس کے چہرے کی جانب کی ۔۔ اسے اپنا کمانڈر پسند تھا ۔۔ جو بھی حالت ہوں ۔۔ وہ انہیں مایوس نہیں ہونے دیتا تھا ۔۔
” پھر میں اور میرا بھائی بڑی مشکل سے جان بچا کر یہاں آ گئے ۔۔” کندھے اچکاتے ہوئے اس نے بات ختم کر کے اسے دیکھا جو اشتیاق سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔
شہرام نے چہرہ سیدھا کر کے آنکھیں بند کر لیں ۔۔ تھوری دیر ہی گزری ہوگی اس کے کانؤں میں مائک کی پرسوچ آواز آئی ۔۔
” سر مجھے ان کے ساتھ گڑبڑ لگتی ہے ۔۔۔” شہرام کے ماتھے پر ہلکے ہلکے بل پڑے ۔۔مگر آنکھیں اب بھی بند تھی اس کی ۔۔
” کیسی گڑبڑ ۔۔۔ ” کوئی جواب نہیں آیا ۔۔ تو مجبوراً اس نےاس آنکھیں کھول کر اسے دیکھا ۔۔ جو بیٹھا محتاط نظروں سے چاروں طرف دیکھ رہا تھا ۔۔
شہرام نے بھنوؤں کو اوپر کر کے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا ۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی اٹھ کر بیٹھ گیا ۔۔
” آپ کو نہیں لگتا جیسے ۔۔ ” اس کے قریب ہوتے اس نے سرگوشی کی ۔۔
اس کی ادھوری بات پر شہرام نے اسے گھورا جیسے بات پوری کرنے کا کہہ رہا ہو ۔۔۔
مائک نے لمبی سانس لی ۔۔۔
” جیسے ۔۔ جادوگرنی ہے ان کے ساتھ ۔۔ ان کے لڑنے کا انداز ۔۔ اتنا پھرتیلہ پن ۔۔ ” شہرام چپ سا ہوگیا کیونکہ اسے بھی یہی لگ رہا تھا ۔۔ لیکن وہ بار بار اس بات کو جھٹک دیتا تھا کہ اس کے دماغ کا فتور کے ۔۔ لیکن اب مائک کا بھی وہی بات کرنا یعنی ضرور کوئی بات ہے وہ ابھی یہی سوچ رہا تھا کہ اس کے مائک کی آواز سن کر اسے دوبارہ متوجہ ہونا پڑا ۔۔
” ایک اور بات بھی ہے ۔۔ ” اب کی بار اس کی سرگوشی پہلے کے مقابلے اور ہلکی تھی ۔۔
” یہاں کوئی ہے ۔۔ جو ادھر کی خبر ادھر کر رہا ہے ۔۔۔ ” شہرام کو یوں لگا جیسے وہ جانتا ہے کہ کون ہے ۔۔ کسی کو اس نے دیکھا ہے ۔۔
” تمہیں کسی پر شک ہے ۔۔۔ ؟؟؟” وہ بولنے لگا پھر رگ گیا ۔۔
” نہیں بس ۔۔۔ اندازہ ہے ۔۔ ” وہ لیٹتے ہوئے بولا ۔۔
شہرام دومنٹ تک گہری نظروں سے اسے دیکھتا رہا ۔۔ اسے یوں لگا جیسے وہ نام جانتا ہے لیکن بتانے سے کترا رہا ہے ۔۔۔
وہ کتنی دیر بیٹھا آگ کو دیکھتا رہا تو کبھی مائک کو دیکھتا جو اس کی نیند اڑا کر خود پرسکون انداز میں سو رہا تھا ۔۔
____________________________
( حال )
کھٹکنے کی آواز سے وہ حال میں واپس آیا ۔۔
باہر سورج نکلنا شروع ہوگیا تھا ۔۔ یعنی رات ختم ہوگئی تھی ۔۔ کل رات پورا چاند نکلنا تھا ۔۔ یعنی آج کو کل کا دن ایوا کی جان خطرے میں ڈالنے والا تھا ۔۔۔
کوئی اوپر آرہا تھا ۔۔
شہرام نے ایک نظر سوئی ہوئی ایوا پر ڈالی ۔۔۔ پھر اس کے سر پر بوسہ دیتے ہوئے کھڑکی سے باہر کود گیا ۔۔
اس کے کودتے ہی ۔۔ ایوا کے کمرہ کا دروازہ کھلا ۔۔ اور روبرٹ اندر آیا ۔۔
اسے کمرہ کافی ٹھنڈا لگا ۔۔۔ اس نے دیکھا کھڑکی کھلی ۔۔ آہستہ سے کھڑکی بند کر کے وہ اب ایوا کی جانب مڑا ۔۔ اس کا کمبل سہی کرنے کے بعد سیدھے ہو کر ایک گہری نظر اس کے کمرے پر ڈالی ۔۔
سب چیزیں اپنی جگہ پر تھی ۔۔ ایوا بھی ٹھیک تھی ۔۔ ورنہ اس کو جب سے اس کی گردن سے وہ دانت کے نشان ملے تھے وہ پریشان ہوگیا تھا ۔۔ اکثر وہ اس وقت دیکھنے اٹھتا تھا کہ وہ ٹھیک ہے کہ نہیں ۔۔ لیکن دوبارہ اسے ایسا کچھ نہیں ملا ۔۔ بلکہ اس کی جگہ اس نے محسوس کیا تھا جیسے ایوا پہلے زیادہ پرسکون اور خوش رہنے لگی ہے ۔۔
ایک آخری نظر ایوا اور اس کے کمرے پر ڈالنے کے بعد وہ نکل گئے ۔۔
دروازے بند ہونے کی آواز ایوا کے ہونٹ مسکراہٹ میں ڈھلے ۔۔۔ عجیب سرد سی مسکراہٹ تھی ۔۔
اس نے آنکھیں کھولیں تو ان کا رنگ لال تھا ۔۔
خود پر سے کمبل ہٹا کر وہ شیشے کے سامنے جاکر کھڑی ہوئی ۔۔۔
وہاں پڑے ڈرسنگ ٹیبل پڑے نیل فائر کو اس نے پکڑا اور غور سے دیکھنے لگی ۔۔ پھر ایک نظر اس نے ہاتھ پر ڈالی ایک فائلر پر پھر شیشے میں دیکھتے ہوئے اس نے اپنے ہاتھ پر پوری طاقت سے وہ فائلر پھیر دیا ۔۔
خون نکلنے لگا ۔۔ وہ سرشاری سے خون دیکھ رہی تھی ۔۔
” کل ۔۔ آخری دن ۔۔ تمام ویمپائرز کا ۔۔ کوئی بھی نہیں روک سکتا مجھے ” خون کو دیکھتے ہوئے وہ بڑبڑائی ۔۔
پھر اس نے آنکھیں بند کر لیں ۔۔
تھوری دیر بعد اس نے آنکھیں کھولیں تو وہ اپنی اصلی حالت میں تھی ۔۔
وہ حیران کھڑی کبھی بیڈ دیکھ رہی تھی ۔۔ تو کبھی خود کو ۔۔
اسے ہاتھ پر چھبن ہوئی تو ہاتھ اٹھا کر دیکھا تو اچھا خاصہ بڑا کٹ لگا تھا ۔۔۔ جبکہ دوسرے ہاتھ میں موجوں فائلر اس بعد کا واضح اشارہ تھا کہ یہ اس نے خود کیا ۔۔
فائلر اس نے جلدی سے پھینکا ۔۔۔ جیسے کوئی اچھوت ہو ۔۔
” دوبارہ نہیں ۔۔۔ ” پہلے بھی ہر مہینے اس کو اس طرح ہوتا تھا جیسے وہ خواب میں چل کر کچھ کر رہی ہو ۔۔ لیکن جب اٹھتی تو یاد نہیں رہتا تھا ۔۔ پھر اس میں میں کمی آگئی ۔۔
اور آج ۔۔ اس نے اپنے پھر اپنے زخمی ہاتھ کی طرف دیکھا ۔۔
آج اس نے خود کو بھی نقصان پہنچایا تھا
_______________________________
اسی وقت جو ایوا نے اپنا ہاتھ زخمی کیا تھا ۔۔
آریہ کے گھر کی طرف آؤ ۔۔۔
وہ ایک بار پھر کوشش کر رہی تھی کہ کچھ ہو جائے ۔۔
ایوا اور شہرام کا خون پیالے میں اس کے سامنے تھا ۔۔
وہ آنکھیں بند کر کے کچھ منہ میں پڑھ رہی تھی۔۔۔ کہ کسی عجیب احساس کے تحت اس نے آنکھیں کھولیں اور سامنے نظر آتے منظر نے سہی معنوں میں اس کی دماغ کی چولیں ہلا دی ۔۔
اس نے اپنا سانس روک لیا۔۔۔
سامنے ہی تو ۔۔
وہ جو خون تھا چاندی کے پیالے میں تھا ۔۔
وہ ہوا میں منتقل تھا ۔۔۔
چھوٹی چھوٹی اور باریک باریک بہت سی سوئیوں کی شکل میں ۔۔ ان سب سوئیوں کی سمت اس کی جانب تھی ۔۔
وہ آہستہ سے یونہی سانس روکے اپنی جگہ سے اٹھی ۔۔ اور ایک قدم پیچھے کی جانب لیا ۔۔
پر دوسرا ۔۔ دھیرے سے ۔۔
لیکن وہ سوئیاں اپنی جگہ سٹل تھیں ۔۔ نہ کی ہل رہی تھی ۔۔۔
مگر وہ پھر بھی محتاط انداز میں اپنے اور ان کے درمیان فاصلہ بنا رہی تھی ۔۔۔
ان سے تھوڑا دور ہو کر اس نے اپنی پشت ابھی ان کی جانب کر کے شکر کا سانس بھی نہیں لیا تھا کہ اس کے جسم کو جھٹکا لگا ۔۔۔
آنکھیں پھوری کھل گئیں ۔۔
اس کے ناک اور منہ سے خون نکلنے لگا ۔۔
اور پھر وہ تڑپتے ہوئے جھٹکا کھا کر زمین پر گری ۔۔
اس کے گرتے ہی پیچھے کا منظر واضح ہوا ۔۔ وہ سوائیں جن کی جانب اس نے پشت کی تھی وہ اب وہاں نہیں تھیں ۔۔
بلکہ اس کے جسم میں پیوست ہوگئی تھیں ۔۔ اور اندر اس کے خون میں جاکر تباہیاں کر رہی تھیں ۔۔
اور تب تک کرتی رہی تھیں جب تک اس کے جسم سے جان بلکل نکل نہیں گئی ۔۔
پھر جب اس کے جسم نے جھکٹے کھانے بند کیے تو وہ خون اس کے جسم سے نکل گیا ۔۔
اور واپس چاندنی کے اسی پیالے میں چلا گیا ۔۔۔
کھڑکی سے آتی سورج کی کرنوں نے اس کے مردہ وجود پر روشنی ڈالی ۔۔ وہ بے حرکت پڑا تھا ۔۔
اور ہمیشہ کے لیے خاموش ہوچکا تھا ۔۔
____________________________
اپنے مخصوص چوگے میں وہ کھڑا تھا ۔۔
اور اپنے سامنے ویمپائر کی بڑی سی تعداد سے مخاطب تھا ۔۔
اس کے ایک طرف جولیا ۔۔ کھڑی تھی بے تاثر چہرے لیے ۔۔۔
لیکن اندر سے وہ بے چین تھی بہت زیادہ ۔۔۔
” ہم سب خطرے میں ہیں ۔۔۔ رائیل بلڈ جو کہ انسان ہے ۔۔ اور آپ کے لارڈ شہرام اس کی حفاظت کر رہے ہیں ۔۔۔ یعنی وہ غداری کر رہے ہیں ۔۔ ویمپائر کمیونٹی کے ساتھ ۔۔ سو اب کی بار جو جنگ ہے وہ اس میں ہمارے مخالف ہیں ۔۔ تم میری طرف سے آپ کو اجازت ہے کہ کوئی بھی اس کی جان لے سکتا ہے ۔۔۔ ” وہ بڑی سفاکت کے ساتھ بول رہا تھا ۔۔لگ ہی نہیں رہا تھا کہ وہ اپنی بھائی کے بارے میں بول رہا ہے ۔۔۔
یا تو اس کے سارے جذبات مر گئے تھے ۔۔
یا پھر ۔۔ وہ شروع ہی سے ایسا تھا ۔۔
وہ تقریر ختم کر کے اندر آیا تو جولیا بھی اس کے پیچھے پیچھے تھی ۔۔
اس کے مخصوص کمرے کے آگے آکر کے وہ ویمپائر جو اس کے ہمہ وقت ساتھ رہتے تھے رک گئے ۔۔ بس جولیا اور مارک اندر داخل ہوئے تھے ۔۔
” لارڈ مارک ۔۔ آپ شہرام نے ملنے گئے تھے ۔۔۔ ان کو خبردار کرنے کے لیے ۔۔۔ ” اپنے ذہن میں آتے سوال کو آخر اس نے زبان دے دی ۔۔
” ہممم ۔۔ اور اس نے ہمیشہ کی طرح ۔۔ میری بات کی نفی کی ۔۔۔ ” وہ نفرت سے پھنکارا تھا۔
” تو کیا اب ۔۔ واقعی ہی ۔۔ لارڈ شہرا ۔۔۔ ” اس کی بات ابھی مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ مارک نے اسے بیچ میں ٹوک دیا ۔۔
” اب اسے مزید لارڈ شہرام کوئی نہیں کہے گا ۔۔ ” اس کے ٹوکنے پر جولیا نے فوراً زبان اندر کی ۔۔
” اور ہاں ۔۔ اب وہ واقعی میں مرے گا ۔۔۔ ” اس نے جولیا کی بات کا جواب دے کر اپنے منہ کا رخ دوسری جانب کر لیا ۔۔۔ جس کا مطلب تھا کہ اب وہ اکیلا رہنا چاہتا ہے ۔۔
جولیا اشارہ پاتے ہی فوراً کمرے سے باہر نکلی ۔۔ پھر اپنے کمرے میں آنے کے بعد ۔۔
ادھر ادھر دیکھنے کے بعد چٹکی بجا کر وہاں سے غائب ہوگئی ۔۔
اس کے جانے کے بعد مارک نے آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔ دماغ میں ماضی کسی فلم کی طرح چلنے لگا ۔۔ ایک کے بعد ایک تصویر ۔۔۔
(ماضی۔۔۔۔۔ )
اندھیرے میں دو سائے درخت کے پیچھے جھکتے ہوئے کہیں جا رہے تھے ۔۔۔
” ہے ۔۔۔ شی ۔۔۔ جیک ۔۔۔ ” ان میں سے ایک سائے نے اپنے آگے چلتے سائے کو اپنی جانب متوجہ کیا ۔۔
” کیا ہے ۔۔ ” وہ پھاڑ کھانے کے انداز میں اس کی جانب مڑ کر سرگوشی میں بولا ۔۔ یہ اور بات تھی کہ اس کی سرگوشی سے بھی اس کا غصہ پتا لگ رہا تھا
” تمہیں یقین ہے ۔۔ کہ وہ لوگ اپنا وعدہ پورا کریں گے ۔۔ ہمیں سب سے طاقتور بنانے والا ۔۔” اس کے سوال پر جیک کا دل کیا اپنا ماتھا پیٹ لے ۔۔
وہ وہثی اسے لے کر درخت کی اوٹ میں ہوا ۔۔ پھر احتیاطٌ مڑ کے پیچھے دیکھا ۔۔ فاصلے سے وہ جگہ نظر آ رہی تھی جہاں سے وہ لوگ نکلے ۔۔ لکڑیوں سے نکلتا دھواں اوپر کی طرف جا رہا تھا ۔۔ تسلی کرنے کے بعد وہ مارک کی جانب مڑا ۔۔
” دیکھ اب میں آخری بار بتا رہا ہوں ۔۔ اس کے بعد پکا تو میرے سے ہاتھوں گیا ۔۔۔ ” مارک نے فورا سر ہلایا ۔۔
” ان کی فوج کے سربراہ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ اگر میں ساری خبریں ان تک پہنچاؤں تو ان کے پاس ایک ایسی چیز ہے جس سے ہم بہت زیادہ طاقتور ہو جائیں گئے کہ کوئی بھی ہمیں روک نہیں سکے گا ۔۔۔ میں چاہتا تو اکیلا خبریں پہنچا کر وہ حاصل کر سکتا تھا ۔۔ مگر مجھے تمہارا خیال آیا ۔۔ اس لے تمہیں بھی ساتھ لے کر جا رہا ہوں ۔۔۔۔ ” اس نے ساری بات اس کے سامنے رکھی ۔۔ لیکن اسے ساتھ لے کر جانے کی وجہ سہی نہیں بتائی ۔۔ جتنی خبر مارک کو تھی کہ کیا پلین ہے اب کا اتنی اسے نہیں تھی اس لیے وہ اسے ساتھ لے کر جا رہا تھا ۔۔۔
مارک نے سر کو ہلایا اور وہ دنوں سایوں کی ماند چلنے لگے ۔۔۔
رات کا اندھیرے ۔۔
اور پراسراریت میں آہستہ آہستہ اضافہ ہونے لگا ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: