Beauty and the Vampire Novel by Zaha Qadir – Episode 15

0
بیوٹی اینڈ دی ویمپائر از ضحٰی قادر – قسط نمبر 15

–**–**–

ناشتے کی ٹیبل پر سر جھکائے بیٹھی وہ بے دھیانی مث سلائس کے اس ٹکڑے کو گھوری جارہی تھی جس پر ربراٹ نے جیم لگا کر اس کی پلٹ میں رکھا تھا ۔۔ ہاتھ پر اس نے بینڈچ کرلی تھی خود ہی ۔۔ لیکن کیونکہ کٹ سیدھے باتھ پر تھا ۔۔ اس لیے وہ ہاتھ استمال نہیں کر رہی تھی کہ اسے پتا تھا کہ ڈیڈ اس کا زخمی ہاتھ دیکھ کر پریشان ہو جائیں گے ۔۔
ربراٹ جو اس کے ساتھ ہی ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھا تھا کب سے اس کی بے توجہی نوٹ کر رہا تھا ۔۔ نہ تو وہ سہی سے ناشتہ کر رہی تھی ۔۔
بلکہ وہ پریشان تھی ۔۔۔جب ان سے اس کی خود سے یہ بےتوجہی برداشت نہ آسکی تو اسے پکار اٹھے ۔۔
” ایوا ۔۔۔!!!” ان کی پکار میں اس کے لیے فکر تھی ۔۔
ایوا نے پلیٹ سے نظر اٹھا کر انہیں دیکھا جو فکر مندی سے اسے دیکھ رہے تھے ۔۔
اس نے جلدی خود کو کمپوز کیا ۔۔ اسے خود پر غصہ آیا کہ اس کے ڈیڈ اس کی وجہ سے پریشان ہو رہے تھے ۔۔۔
” یسس۔ ۔۔۔ ” چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ لاتے ہوئے اس نے ان کی جانب دیکھا ۔۔
ربراٹ نے سنجیدگی سے اس کی مسکراہٹ کو دیکھا جو اس کی ویران آنکھوں کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔
” تم ٹھیک ہو۔۔۔ ناشتہ بھی نہیں کر رہی ۔۔ چہرہ بھی مرجھایا ہوا ہے ۔۔۔” تشویشناک نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے انہوں نے پوچھا ۔۔
ایوا نے ہونٹوں کو زبان سے تر کیا ۔۔
” ڈیڈ میں بلکل ٹھیک ہوں ۔۔۔ ” نظریں چراتے ہوئے اس نے جواب دیا ۔۔۔
رابرٹ دو منٹ اس کو خاموشی سے دیکھتے رہے پھر اس کے ٹیبل پر رکھے ہاتھ کو اپنی ہاتھ میں لیا ۔۔
“ایوا ۔۔۔ !!! اگر کوئی ۔۔ بات ہے ۔۔ تم مجھ سے شیئر کر سکتی ہو ۔۔ ” اس کے ہاتھ کی پشت کو تھپتھپاتے ہوئے انہوں حوصلہ دینے کے انداز سے کہا ۔۔
ایوا کا ایک پل کو دل کیا ۔۔ کہ سب بتا دے ۔۔ لیکن پھر ان کی پریشانی کا سوچ کر خود کو روک لیا ۔۔
لیکن ہم اکثر یہ بات بھول جاتے ہیں کہ جو بات ہم اپنوں کی پریشانی کا سوچ کر ان سے چھپاتے ہیں ۔۔ وہ دراصل ہم ان کے ساتھ اپنے لیے بھی مشکلات کھڑی کر رہے ہوتے ہیں ۔۔
کیونکہ اپنوں کے ساتھ آپ کی طاقت ہوتا ہے ۔۔
“ڈیڈ ۔۔ کوئی بات ہوگی تو میں سب سے پہلے آپ کو ہی بتاؤں گی ۔۔۔ ” بے دھیانی میں اپنا زخمی ہاتھ ان کے ہاتھ پر رکھ کر اس نے ان کی تسلی کرنی چاہیے ۔۔ جو یک ٹک اس کا ہاتھ دیکھ رہے تھے ۔۔
ایوا کی نظر جب اپنے ہاتھ پر گئی اس کو شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا ۔۔۔
” یہ کیا ہوا ہے ۔۔۔ ” انہوں نے اس کے ہاتھ کو بغور دیکھتے ہوئے کہا
جس پر بڑے عجیب طریقے سے پٹی کی گئی تھی ۔۔ پوچھنے کے ساتھ ہی انہوں نے پٹی کھولنا شروع کر دی ۔
” ڈیڈ کچھ نہیں ۔۔۔ باتھ لیتے ہوئے سلیپ ہوئی تو ہاتھ پر چھوٹا سا کٹ لگ گیا ۔۔ آپ چھوڑ دیں ۔۔ ” اس نے انہیں روکنے کی کوشش کی ۔۔
لیکن وہ بغیر اس کی سنے ماتھے پر بل ڈالے کھولتے رہے ۔۔۔
” یہ چھوٹا ہے ۔۔۔۔ ” جیسے ہی ان کی نظر اس کے ہاتھ پر لگے گہرے کی کٹ پر پڑی ۔۔ تو انہوں نے کڑی نظروں سے اسے استفادہ کیا ۔۔۔ ایوا نے نظریں چرائیں ۔۔۔
خفگی سے اس کو دیکھتے ہوئے وہ چیئر سے اٹھے ۔۔ اور کچن کی مخصوص کیبنٹ سے فرسٹ ایڈ نکال کر اب خود احتیاط سے اس کی پٹی کر رہے تھے ۔۔
ان کے چہرے پر بھرپور سنجیدگی تھی اس وقت جو ان کی اس سے سخت ناراضگی کی نشانی تھی ۔۔
ان کی ناراضگی ایوا کو کہاں برداشت تھی ۔۔
” ڈیڈ ۔۔۔ ” اس نے ہولے سے بلایا ۔۔ لیکن ادھر سے کوئی جواب نہیں ۔۔۔
” ڈیڈ۔۔۔ !!!! ” اب زرہا تیز آواز میں پکارا ۔۔۔ وہاں کوئی رسپانس نہیں ۔۔۔ بس وہ توجہ سے پٹی کو باندھ کر اب کینچی سے اس کا ایکسٹرا حصہ کاٹ رہے تھے ۔۔
ایوا نے وہیں ہاتھ کھینچا ۔۔۔ مقصد ان کو اپنی جانب متوجہ کرنا تھا ۔۔ وہ نے آرام سے اس کا ہاتھ چھوڑ کھڑے ہوگئے ۔۔۔
” ڈیڈ ۔۔۔۔ !!!” اب کی اس آواز میں نمی تھی ۔۔
انہوں نے لب بھینچ کر اس کی طرف سے پشت کر لی ۔۔
وہ اپنی گن وغیرہ چیک کر رہے تھے کہ ۔۔۔
پیچھے سے سوں سوں کی آواز سے سمجھ گئے کہ وہ رونا شروع ہوگئی ہے ۔۔
انہوں نے آنکھیں بند کیں ۔۔ ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پر آئی ۔۔ جسے چھپاتے ہوئے دوبارہ چہرے پر سنجیدگی کا خول چھڑا کر وہ اس کی جانب مڑے ۔۔ جو ان کی جانب دیکھ رہی تھی ۔۔ آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو نکل کر گال پر آگے تھے ۔۔
ان کو اپنے جانب دیکھتا پاکر اس نے فوراً آنکھیں نیچے کر لیں ۔۔۔
یعنی ۔۔ اب وہ بھی ناراض تھی ۔۔
چیئر گھسیٹ کر وہ اب دوبارہ بیٹھے اسے گھور رہے تھے۔۔۔
” یہ بلیک میلنگ ہے ۔۔ ” اسے یوں ہی گھورتے ہوئے انہوں نے سلائس اٹھا کر اس کے منہ کر قریب کیا ۔۔۔
“جو آپ کر رہے تھے ۔۔ ؟؟؟” سلائس کی بائٹ لیتے ہوئے اس نے آنسو بھری آنکھوں سے ان سے شکایت کی ۔۔
” وہ فکر تھی ۔۔۔ ” ان کے جواب پر دو منٹ چپ ہوئی پھر بولی ۔۔
” تو یہ بھی فکر تھی ۔۔۔ ” اب وہ کیا کہتے ۔۔ اس لیے ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گئے ۔۔
پھر اپنے ہاتھوں اسے ناشتہ کروا کر اسے یونی چھوڑ کر وہ کام کی طرف چلے گئے ۔۔
یہ اور بات ہے کہ ایوا کی حرکتیں یاد کر کے ایک مسکراہٹ سارے راستے ان کے چہرے پر رہی ۔۔
_____________________________
آج کی کلاس کینسل تھی ۔۔ لیکن پھر بھی وہ بلکل اکیلی بینچ پر بیٹھی تھی ۔۔۔ باقی ساری کلاس خالی تھی ۔۔
وہ کھڑکی سے باہر ۔۔ لوگوں کو خود میں مگن ۔۔ ہنسی مزاق کرتے دیکھ رہی تھی ۔۔ موسم کافی اچھا ہوا تھا ۔۔ بادل چھائے ہوئے تھے ۔۔۔ جن کے پیچھے سے سورج کبھی کبھی چھپ کر دیکھتا کر پھر بادلوں کی پیچھے غائب ہوجاتا ۔۔۔
وہ اس منظر میں ہی مگن رہتی لیکن ڈور لوک ہونے کی آواز سے یکدم دم سیدھی ہو کر دروازے کی جانب دیکھا ۔۔ جہاں شہرام دروازے سے پشت ٹکائے ۔۔۔ سینے پر ہاتھ باندھے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔
ایوا نے صبح سے اسے اب دیکھا تھا ۔۔ ورنہ تو وہ اس کے آگے پیچھے ہی رہتا تھا ۔۔
ایوا خود اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کی جانب آئی ۔۔۔ مگر وہ اپنی جگہ سے ہلا بھی نہیں ۔۔۔ بس اپنی جگہ پر سٹل کھڑا تھا ۔۔ لیکن اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی ۔۔ عجیب سے ۔۔
اس کا انداز بھی عجیب تھا ۔۔ جن کی وجہ سے ایوا کو رکنا پڑا ۔۔
اس رکتا دیکھ کر وہ جو دروازے سے ٹیک لگا کر کھڑا تھا سیدھا ہوا ۔۔پھر کوٹ پتہ نہیں کہاں سے اس نے چھری نکالی ۔۔
وہ اس کی جانب آیا ۔۔
” شہرام ۔۔۔ ی۔۔یہ ۔۔۔ ک۔۔ کیا کر۔۔۔ رہے ۔۔۔ ہو ۔۔ ” قدم پیچھے کی جانب لیتے ہوئے اس نے لرزتے لہجے میں اٹکتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
اس کے چہرے پر چھائی دہشت اسے مزہ دے گئی ۔۔۔
ایک ہی جست میں اس نے اسے قابو کیا اور چھری اس کی گردن پر رکھی ۔۔
” میں تو سب پریشانیوں کو ایک ہی بار ختم کرنے آیا ہوں ۔۔۔ ” چھری کا دوباو اس کی گردن میں تیز کرتے اس نے سرگوشی کی ۔۔
ایوا مزمت کرتی خود کو اس سے آزاد کروانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔ اس کی پشت شہرام کے سینے سے لگی تھی ۔۔ لیکن عجیب بات تھی ۔۔
کہ شہرام کی دھڑکنیں ساکت تھیں ۔۔ وہ جو کبھی اس کے قریب آنے سے دھڑکنے لگتی تھیں اب یوں تھیں جیسے ۔۔ انہیں زمانے گزر گئے ہوں ۔۔ کہ وہ دھڑکی نہیں ۔۔۔
ایوا کو اپنی سانس رکتی محسوس ہوئی۔ ۔۔ اس سے پہلے کہ وہ چھری سے اس کے گلے میں پھیر کر اس کا کام تمام کرتا ۔۔۔ دروازہ زور سے بجا جس کی وجہ سے اسے رکنا پڑا ۔۔
اس نے غصے سے دروازے کی جانب دیکھا ۔۔ پھر ایوا کی جانب ۔
دروازہ جتنے زور سے بج رہا تھا۔۔ اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ اگر دروازہ نہ کھلے کا تو بجانے والا تور دے گا ۔۔
شہرام نے چھری اس کے گلے سے ہٹائی ۔۔ تو ایوا وہاں دھیرے دھیرے بیٹھتی گئی ۔۔
کہ چھنا سے شیشہ ٹوٹنے کی آواز آئی ۔۔ یعنی وہ کھڑکی کا شیشہ توڑ کر نکل گیا تھا ۔۔
دروازہ اب بھی بج رہا تھا ۔۔ ایوا نے ہمت کر کے خود کو کھڑا کیا ۔۔ یہ اور بات کے کے اس کی ٹانگیں کپکپا رہی تھیں ۔۔۔
بڑی مشکل سے اس نے کنڈی کھولے ۔۔ اس کی کنڈی کھولتے کوئی آندھی کی طرح اندر آیا ۔۔ اسے اپنے حصار میں لیا ۔۔
ایوا نے خود کو اس سے دور کرنا چاہا لیکن نہیں کر پائی ۔۔ اس میں ہمت نہیں ہو رہی تھی ۔۔
یہ کیا ڈرامہ تھا
ابھی تھوڑی دیر پہلے وہ اس کو مارنا چاہتا تھا ۔۔
اب اسے اپنے حصار میں لیے ہوئے تھے ۔۔
وہ دھڑکنیں جو پہلے ساکت تھیں اس کے قریب آنے سے اب وہ دھڑک رہی تھیں ۔۔۔
لیکن یہ سب اکسیپٹ کرنا اس کے بس کی بات نہیں تھی ۔۔
اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا رہا تھا ۔۔ اور وہ وہیں اس کے حصار میں جھول گئی ۔۔
شہرام نے لب بھینچ کر ایک نظر اس کے گلے پر پڑے چھری کے نشان پر ڈالی ۔۔ پھر اس کی کلائی پر ۔۔۔
اب بس بہت ہوگیا ۔۔ مزید نہیں ۔۔
اس کو یونی کی ڈسپنسری چھوڑ کر ۔۔ اس کے ڈیڈ کو فون کروایا ۔۔ کہ اسے اتنا یقین تھا کہ وہ ان کے پاس سیف تھی ۔۔ پھر ان کے آنے تک وہیں اس کے پاس کھڑا رہا ۔۔۔
جیسے ہی وہ آئے وہ وہاں سے چلا گیا ۔۔
________________________________
لب بھینچے وہ بڑی تیزی سے گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا ۔۔ اسے جلدی سے آریہ تک جانا تھا ۔۔ تاکہ معلوم کر سکے کہ اس نے ایوا کی سیفٹی کے لیے کچھ کیا کہ نہیں ۔۔۔
جتنے تیزی سے گاڑی چل رہی تھی ۔۔ اسے تیزی سے ماضی کے منظر اس کی آنکھوں کے سامنے چلنے لگے ۔۔۔
(ماضی ۔۔۔ ) ۔۔
ارگرد چاروں طرف میدان میں لاشیں تھی ان کی فوج کی ۔۔
وہ خود بھی زخمی تھا اس کی ٹانگ پر گولی لگی تھی ۔۔ پتا نہیں کیسے لیکن دشمن ۔۔ ان کی ساری چالوں کو جانتے تھے ۔۔
تبھی تو ان پر ہر طرف سے ۔۔
ہر طرح سے بھاری تھے ۔۔
اپنی زخمی ٹانگ کو بڑی مشکل سے گھسیٹتے ہوئے وہ اس جانب آیا ۔۔ یہ جگہ تھوڑی ڈھلوان تھی ۔۔
مائک پہلے ہی وہاں تھا ۔۔ اس کے بازو پر گولی لگی ہوئی تھی ۔۔ لیکن وہ پھر اٹھا اس نے شہرام کو سہارا دے کر بیٹھایا ۔۔۔
” سر ۔۔ آپ ٹھیک ہیں ۔۔۔ ؟؟؟” مائک نے اس کی ٹانگ کو دیکھا ۔۔ جہاں سے خون بڑی تیزی سے نکل رہا تھا ۔۔
” نہیں ۔۔ مائک ۔۔۔ میں نہیں ٹھیک ۔۔ ‘” اس کی زخمی آواز سن کر اس نے چونک سر اٹھا حیرانی سے دیکھا ۔۔ جو بھی حالت ہو ۔۔وہ کتنی بھی زخمی کیوں نہ ہو ۔۔ لیکن آج تک یہ الفاظ اس نے اس کے منہ سے نہیں سنے تھے ۔۔
لیکن جب اسے اپنے ساتھیوں کی لاشیں تکتے پایا تو وہ سمجھ گیا کہ اس نے یہ کیوں کہا اس لیے مزید کچھ نہیں پوچھا ۔۔
” میں مر رہا ٹکروں میں ۔۔ میری وجہ سے ۔۔ ان سب کی جانیں گئی ۔۔ اور ابھی تو اور بھی جانے کتنوں کی جانی ہیں ۔۔ ” وہ سر پیچھے کی طرف مارتے ہوئے خود کو دوش دے رہا تھا ۔۔ اس کے چہرے پھر مٹی اور خون تھا ۔۔ گرے آنکھیں بھی زخمی تھثی ۔۔
” سر اس میں آپ کی غلطی نہیں ۔۔۔ ” مائک نے اسے سمجھانا چاہا ۔۔
مگر شہرام وہ تو جیسے ٹوٹ گیا تھا ۔۔
مائک کو سمجھ آئی کہ وہ کیا کرے ۔۔ شام ہو رہی تھی ۔۔ یعنی مخالف فوج بھی آنے والی تھی ۔۔ پھر وہ مرے ہوں فوجیوں پر پھر سے گولیاں چلائی گئیں کہ اگر ان میں سے کوئی زندہ ہو تو وہ وہی مر جائیں ۔۔ اور ایسے میں شہرام کی یہ مایوسی ۔۔ جان خطرے میں ڈال سکتی تھی ۔۔۔
اس نے ایک نظر گلے میں ڈالی لاکٹ پر ڈالی ۔۔ پھر اسے امید کی کرن نظر آئی ۔۔ اس نے لاکٹ کو تین بار انگلیوں سے رب کیا پھر چھوڑ دیا ۔۔
” سر ۔۔ آپ کو میں ایک بات بتانی ہے ۔۔ ” اس نے ساکت لب بھینچے بیٹھے شہرام کو کہا ۔۔ جس کی نظریں لاشوں سے ہٹ ہی نہیں رہی تھیں ۔۔
” سر میری موم یہاں آتی ہونگی ۔۔ پھر یہاں سے نکلیں گے ۔۔۔” اس کی ساکت وجود میں ہلچل ہوئی ۔۔
” تم پاگل ہو ۔۔ ان کو کیوں یہاں بلایا ۔۔۔ ان کی جان کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہوں ۔۔۔” وہ اس پر غصہ تھا ۔۔
” وہ جادوگرنی ان کو کچھ نہیں ہوگا ۔۔ ” وہ جو اسے بول رہا تھا ۔۔ یکدم چپ ہو کر مشکوک نظروں سے اس کو دیکھنے لگا ۔۔
” اس کا مطلب تم بھی ۔۔ ” اس کی بات کا مطلب سمجھ کر اس جلدی سے نہ میں سر ہلایا ۔۔
” کہاں ۔۔ سر ابھی تک تو بس عورت یا لڑکیاں ہی بنی ہیں ۔۔ کوئی مرد نہیں ۔۔ آگے جاکر ہوسکتا ہے کوئی ہو ۔۔ لیکن ابھی تو میں عام انسان ہوں آپ کی طرح ۔۔۔ ” مائک نے جلدی سے صفائی دی ۔۔
” تو تمہاری مام نے تمہیں بتایا کہ اس جنگ میں وچ بھی ہیں ۔۔۔ “دوبارہ اپنی سابقہ پوزیشن میں بیٹھتے ہوئے اس نے پرسکون انداز میں پوچھا ۔۔ اور اس کے اتنی جلدی بات کی تہ پر پہنچنے پر وہ حیران ہوا ۔۔
” جی ۔۔ ” پھر بھی اپنی حیرت پر قابو پاتے ہوئے اس نے مختصر جواب دیا ۔۔
دو منٹ ان دونوں میں خاموشی رہی۔ ۔۔
” مائک میری بات مانوں گے ۔۔” سامنے دیکھتے ہوئے شہرام نے اس سے پوچھا ۔۔ اس کا انداز بڑا محتاط تھا۔
” سر آڈر دیں ۔۔ ” مائک بھی فوراً سنجیدہ ہوا ۔۔
” وہ لوگ کسی بھی وقت یہاں آجائیں گئے ۔۔ تم اپنی جان بچا کر بھاگو ۔۔۔ ” شہرام کی بات پر وہ چپ ہوا لیکن پھر اس نے مضبوط لفظوں میں منع کردیا ۔۔۔
شہرام نے اسے سمجھنا چاہا اسی وقت بڑے قریب سے گولیوں کی آواز آئی ۔۔
شہرام نے فوراً اپنے وجود کو اس پر گرا دیا ۔۔جس سے مائک محفوظ ہوگیا ۔۔
” سر یہ کیا کر رہے ہیں ۔۔۔ ” وہ بوکھلا گیا ۔۔ شہرام کا یہ کرنے کا مقصد وہ اچھی طرح سمجھ رہا تھا ۔۔
” مائک ۔۔ یہ میرا آڈر ہے ۔۔ تم یہاں سے ایک انچ بھی نہیں ہلو گے ۔۔ نہ کوئی آواز نکالو گے ۔۔ ” اس نے بڑے سخت لہجے میں آڈر دیا ۔۔
مائک نے پھر کچھ بولنا چاہا لیکن شہرام نے سختی سے چپ کروا دیا ۔۔
تھوڑی آگے بڑھ کر شہرام نے گن اٹھائی ۔۔ پھر آنکھیں بند کر کے یوں لیٹ گیا جیسے کوئی لاش ہو ۔۔۔
جب وہ لوگ ان کے بندوں پر گولیاں چلاتے ان کے قریب آ رہے تھے ۔۔ شہرام نے یوں ہی لیٹے ان کا نشانہ لیا ۔۔
پھر فائیر کر کے ۔۔ ان کے دوتین بندوں کو پار لگا دیا ۔۔ لیکن زیادہ دیر تک وہ نہیں ۔۔
جلد ہی اس کی گن سے گولیاں ختم ہوگئیں ۔۔ اور وہ لوگ بھی قریب پہنچ گئے ۔۔ پھر انہوں نے اس پر گولیوں گی برسات کر دی ۔۔۔
لیکن مائک اس کے پیچھے محفوظ تھا ۔۔
مرنے سے پہلے اس کے چہرے پر پرسکون مسکرہٹ تھی ۔۔ آخر اس نے بزدلوں کی موت نہیں مری تھی ۔۔
اس کا خون مائک کو خون آلودہ کر رہا تھا ۔۔
مگر وہ ہلا نہیں ۔۔ کہ آڈر تھا ۔۔ اس کے سر کا ۔۔
مگر ایک آنسو چپکے سے اس کی انکھوں سے نکل کر مٹی میں جذب ہوگیا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(حال) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ اس کی انسانی زندگی کا باب ۔۔ اس کی موت کی وجہ ۔۔ پھر جب وہ اٹھا تو وہ ویمپائر تھا ۔۔
آریہ کا گھر آگیا تھا ۔۔ اس نے گاڑی روکی ۔۔
لیکن ہر طرف خاموشی تھی ۔۔۔
آریہ کی موجودگی میں وہ بھی ۔۔
اسےکچھ غلط ہونے کا احساس ہوا ۔۔
وہ جلدی سے اندر آیا ۔۔
لیکن اندر پڑے بےجان وجود نے تو جیسے اس کی جان پھر سے نکلا دی ۔۔
وہ وہیں دروازے کے پاس دیوار سے لگ گیا ۔۔
آنکھوں کے سامنے ۔۔ آریہ کا مردہ وجود تھا ۔۔
کانوں میں مائک کی آواز ۔۔
(” میں واپس جاؤں گا ۔۔ اپنی چھوٹی بہن کو اس کی من پسند گڑیا لے کر دوں گا ۔۔ پھر امی میں اور میری گڑیا ہم سیر کریں گے ۔۔ “)

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: