Beauty and the Vampire Novel by Zaha Qadir – Episode 16

0
بیوٹی اینڈ دی ویمپائر از ضحٰی قادر – قسط نمبر 16

–**–**–

کتنے دیر اسی طرح اس کی لاش کو دیکھتے گزری اسے نہیں پتا تھا ۔۔
ایک درد تھا ۔۔ جو اندر ہی اندر اسے یوں لگ رہا تھا اسے ختم کر رہا ہے ۔۔
” یہ تو ہونا ہی تھا ۔۔۔ ” جولیا کی آواز سن کر بھی وہ اپنی جگہ سے نہیں ہلا ۔۔ اس کی آنکھیں لہو ہو رہی تھیں ۔۔
اسے اس بات سے کوئی سروکار نہیں تھا کہ وہ کب کیسے اور کیوں یہاں آئی تھی ۔۔۔
جولیا آریہ کی لاش پر آئی پنجوں کے بل اس کے پاس بیٹھی ۔۔اور اس کے قریب جھک کر کچھ سونگھا ۔۔ پھر چونک کر اپنی جگہ سے اٹھی اور ادھر اُدھر دیکھنے لگی جیسے کچھ تلاش کر رہی ہو ۔۔ جلد ہی اس کی تلاش ختم ہوئی اور اسے چاندی کا پیالا مل گیا جس میں خون تھا ۔۔
اس نے ٹھنڈی سانس لے کر افسوس سے آریہ کی لاش دیکھی ۔۔ اس نے اس پیالے کو ہاتھ نہیں لگایا ۔۔
بس قریب رکھے صوفے پر بیٹھ گئی ۔۔
شہرام نے جب اسے یہیں ٹکے دیکھا تو اس کے ماتھے پر بل پڑ گئے ۔۔
” یہاں سے جاؤ ۔۔۔ ” اس نے سرد لہجے میں جانے کا کہا ۔۔۔ وہ بس اس وقت تنہائی چاہتا تھا ۔۔
” میری برادری کی تھی یہ یہ ۔۔ اور تمہیں تو پتا ہے کہ ہم سب ایک دوسرے کو بہنوں کی طرح عزیز رکھتے ہیں ۔۔۔ ” جولیا نے کندھے اچکاتے ہوئے جواب دیا ۔۔
شہرام دومنٹ اس کو گھورتا رہا ۔۔ پھر دیوار سے سر ٹکا کر آنکھیں بند کر لیں ۔۔
جولیا نے گہری نظروں سے اسے دیکھا۔۔
” ویسے ۔۔ کیا لگتا ہے ۔۔ کیسی اس کی ڈتھ ہوئی ہوگی ۔۔۔ ؟؟؟” شہرام کے چہرے پر نظریں جمائے اس نے سوال پوچھا ۔۔
شہرام نے جواب کوئی نہیں دیا ۔۔ لیکن ماتھے پر پڑے بلوں میں اضافہ اس بات کی طرف واضح اشارہ تھی کہ اسے اس وقت جولیا کی یہاں موجودگی زرا نہیں پسند ۔۔۔
” مجھے تو پتہ ہے ۔۔۔ یہ تمہاری وجہ سے مری ۔۔ ” اس ساری عرصے میں پہلے بار تھا کہ وہ غصے سے اپنی جگہ سے اٹھا اور اگلے ہی پل جولیا کی گردن اس کے ہاتھوں میں تھی ۔۔
لیکن جولیا اس سب کے باوجود پرسکون تھی ۔۔
” دوبارہ بکواس کی تو مجھے تمہیں مارنے میں زرا افسوس نہیں ہوگا ۔۔۔ ” وہ بولا نہیں دھاڑا تھا ۔۔ ساتھ ہی اس کی گرفت اس کی گردن پر مضبوط ہوئی ۔۔۔
جولیا نے چلینج انداز میں اس کیا آنکھوں میں دیکھا ۔۔ اس کے ہونٹوں پر پراسرار سی مسکراہٹ تھی اس کے چہرے پر شہرام کے اس طرح گلے کو پکڑنے کی وجہ سے کوئی تکلیف دہ تاثرات نہیں تھے ۔۔
اس کا یہ انداز شہرام کو چونکا رہا تھا ۔۔
” جو سچ اس سے تم منہ نہیں موڑ سکتے اور نہ ہی سب کبھی چھپ سکتا تھا ۔۔ ” اس کا پراعتماد انداز ۔۔ اسے کچھ غلط ہونے کا اشارہ دے رہا تھا ۔۔
” تمہاری اس بات کا کیا مطلب ۔۔۔ کوئی ثبوت ہے تمہارے پاس ۔۔۔ ” اس کے گلے کو اپنی ہاتھ کی گرفت سے آزاد کرتے اس ٹھنڈے انداز سے پوچھا ۔۔
جواب میں جولیا معنی خیزی سے مسکراتی ہوئی اس طرف آئی جہاں وہ چاندی کا پیالہ پرا ہوا تھا ۔۔
” وجہ ۔۔ یہ ہے ۔۔ ” اس نے پیالے میں موجود خون کی طرف اشارہ کیا کیا ۔۔
” تم سیدھے طریقے سے بات کرو گی ۔۔۔ ” سینے پر ہاتھ باندھے ہوئے شہرام نے اس سے کہا ۔۔
” تم ہی تھے جس نے اسے کہا تھا ۔۔ کوئی حفاظتی اقدامات کرنے کے لیے ۔۔ اس لڑکی کے لیے ۔۔ ؟؟” اس نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا جیسے اپنی بات درست ہونے کی تصدیق مانگ رہی ہو ۔۔ شہرام نے اطمینان کندھے اچکائے جس کا مطلب وہ سہی ہے ۔۔
اب آگے بولے ۔۔ لیکن وہ کچھ کچھ بات کی تہہ تک پہنچ گیا تھا ۔۔
” یہ کام ۔۔ پھر اس پیالے میں موجود اس نایاب خون کا ہی ہے ۔۔۔ جو اس نے تم لوگوں کی مدد کرنے کے خیال سے لیا تھا ۔۔۔ ” جولیا کے انکشاف نے دو منٹ تو اسے ہلنے کے قابل بھی نہیں چھوڑا تھا ۔۔
” تم کہنا چاہتی ہو کہ یہ ایوا ۔۔ نے کیا ہے ۔۔ ” اس نے حیرت سے پوچھا ۔۔لیکن اس کے جواب سے پہلے وہ خود بول پڑا ۔۔
” تمہارا دماغ تو سہی ہے ۔۔ وہ تو خود خوفزدہ رہتی ہے خون سے ۔۔ وہ کرے گی ۔۔۔ وہ بھی اتنی دور میلوں کے فاصلے پر ۔۔ اگر یہ بات بھی نظر انداز کردوں ۔۔
پھر بھی آر کو دیکھ کر کوئی بھی یہ نہیں ماننے کو تیار نہیں ہوگا کہ ایک انسان یہ کر سکتا ہے ۔۔۔ ” تیش میں ایک ایک لفظ کو چباتے اس نے جولیا کی طعیبت صاف کی ۔۔
جواب میں جولیا دو منٹ تک تو سنجیدگی سے اسے دیکھتی رہی ۔۔۔
” کس نے کہا کہ یہ انسان کا کام ہے۔ ۔۔ ؟؟؟” اس نے بڑی سنجیدگی سے سوال کیا ۔۔
” تمہاری بات کا صاف مطلب تو یہی ہے ۔۔۔ !!!
” شہرام نے بھی تمسخر آمیز انداز میں مسکراتے ہوئے سر جھکٹا ۔۔ اور مڑ کر آریہ کہ قریب جانے لگا لیکن جولیا کی اگلی بات نے اس کے قدم روک دیے ۔۔۔
” میں تمہاری ایوا کی تو بات ہی نہیں کی ۔۔۔!!” جولیا نے بھی شہرام کے انداز میں سینے پر بازو باندھتے ہوئے اسے جواب دیا ۔۔۔
” اوہ ۔۔ جسٹ شٹ اپ ۔۔ میں مزید ۔۔ ” شہرام یونہی اس کی جانب پشت کر کے بولا۔۔۔لیکن اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی جولیا بول اٹھی ۔۔
” میں رائیل بلیڈ کی بات کی ۔۔۔ ہے لارڈ شہرام ۔۔۔ ” آخری میں وہ تھوری طنزیہ انداز میں جتاتے ہوئے بولی ۔۔۔
” ایوا اور رائیل بلیڈ ایک ہی تو ہیں ۔۔۔ ” اپنا رخ دوبارہ اس کی جانب کرتے ہوئے شہرام نے جیسے اس کے علم میں اضافہ کیا ۔۔
اس کی بات پر جولیا ایسے ہنسی جیسے شہرام نے اسے کوئی لطیفہ سنایا ہوا ۔۔
شہرام بس سرد تاثرات چہرے سجائے اسے گھورنے لگا ۔۔
” وجود ایک ہے ۔۔لیکن ۔۔ وہ دنوں الگ ہیں ۔۔۔ ” شہرام نے آبرو کو اونچا کر کے اسے دیکھا جیسے اس کی بات کا مطلب پوچھ رہا ہو ۔۔
جولیا نے ٹھنڈی سانس لی ۔۔ اور بولنا شروع ہوئی ۔۔۔
” ایوا بے شک ایک عام انسان ہے ۔۔ جو اپنے اندر موجود طاقتوں سے بے خبر ہے ۔۔ لیکن رائیل بلڈ وہ نہیں بے خبر ۔۔ اس کے بچپن سے لے کر اب تک ۔۔ ہر پورے چاند کی رات وہ ۔۔ ایوا کے وجود پر تسلسل بناتی رہی ۔۔ جس سے وہ خود بے خبر تھی ۔۔ پہلے ایوا کا کنٹرول تھا اس کے جسم پر ۔۔ لیکن آہستہ آہستہ ۔۔۔ وہ اس کے وجود پر قابض ہوگئی ہے ۔۔ اور اس پورے چاند کی رات ۔۔ وہ مکمل طور پر اس پر قابض ہوجائی گی ۔۔۔ یا یوں کہہ لو ۔۔۔ کہ تمہاری ایوا مر جائے گی ۔۔ اور اس کا وجود رائیل بلڈ کا ہوگا ۔۔ جو سفاکیت اور بے رحمی کی نئی مثال قائم کرے گی ۔۔ اور اپنی راہ میں آنے والے ہر انسان ۔۔ہر چیز کو وہ بے رحمی سے ختم کر دے گی ۔۔ آریہ بھی اسی وجہ مری کہ وہ ایوا کی حفاظت کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔”
بات کے اختتام پر اس نے شہرام کے چہرے کی جانب دیکھا تاکہ اس کے تاثرات سے جان سکے کے اب وہ کیا سوچ رہا ہے ۔۔۔لیکن اس کا چہرہ سپاٹ تھا ۔۔
” تمہیں یہ سب کیسے پتا ہے ۔۔ ؟؟ ” شہرام کے سوال پر وہ پراسرا انداز میں مسکرائی ۔۔۔
” مجھے تو اور بھی بہت کچھ پتا ہے ۔۔ لیکن کیا تمہیں یاد ہے کہ تم ویمپائر کیسے بنے ۔۔ ؟؟؟” اس کے سوال پر شہرام نے الجھ کر اس کی جانب دیکھا ۔۔
” اس سوال کا مقصد جب کہ یہ بات تو تمہیں بھی اچھی طرح معلوم ۔۔۔ دوسری اوریجنل کی طرح مجھے بھی تم لوگوں نے وہ خون پالیا تھا ۔۔ جس پر تم جادوگرنیوں نے اپنا جادو کیا تھا ۔۔۔ ” شہرام کو واقعی اس کے سوال کا مقصد سمجھ نہیں آیا تھا ۔۔
جولیا کو شہرام سے اسی جواب کی امید تھی ۔۔ اس لیے اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی ۔۔
” اگر میں تمہاری مدد کروں ۔۔ تمہاری بیوٹی کو بچانے میں تو بدلے میں تم مجھے کیا دو گے ۔۔۔ ” اپنی بات کا بلکل الٹ جواب پانا شہرام کو الجھا گیا ۔۔ لیکن بات اب اس کی بیوٹی کی تھی ۔۔ جسے وہ چاہ کر بھی نہ ناراض ہو سکتا تھا کہ اس نے آریہ کو مارا ۔۔ جس کا اسے پتا بھی نہیں تھا ۔۔ اور نہ نظر انداز کر سکتا تھا ۔۔۔
اس نے گہری نظروں سے جولیا کو دیکھا جیسے پڑھنا چاہتا ہو کہ آخر اس کا مقصد کیا ہے ۔۔۔
” تمہیں کیا چاہیے ۔۔۔ ؟؟؟” آخری کچھ دیر سوچنے کے بعد شہرام نے اس سے پوچھا ۔۔
” ابھی نہیں بتا سکتی ۔۔ لیکن ابھی تمہارا وعدہ چاہیے کہ تم اپنی بات سے نہیں مکرو گئے ۔۔۔ ” ہاتھ پر کٹ لگا کر اس نے وہیں ہاتھ اس کی جانب بڑھایا ۔۔ جواب میں شہرام نے ایک نظر اس کے ہاتھ کو دیکھا ۔۔ پھر اپنے ہاتھ پر بھی کٹ لگا کر اس کے ہاتھ سے ہاتھ ملایا ۔۔ اور آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔
” میں اپنی وعدے پر سے نہیں ہٹوں گا ۔۔ لیکن تمہیں بھی مجھ سے وعدہ کرنا ہوگا کہ ایوا کو بچانے میں تم انت تک میرا ساتھ دو گی ۔۔۔ “
” منظور ہے ۔۔ ” جولیا نے بھی اس کی آنکھوں میں دیکھ کر جواب دیا ۔۔
پھر دنوں نے ہاتھ پیچھے کر لیے ۔۔۔ اب ان میں سے جو بھی وعدہ توڑتا اس نے جان سے جانا تھا ۔۔ یہ بات دنوں ہی جانتے تھے ۔۔
” آؤ میرے ساتھ ۔۔۔ ” جولیا نے اسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا ۔۔۔ اور ساتھ ہی اس طرف گئی جہاں کتابوں کا ڈھیر تھا ۔۔
شہرام نے پہلے آریہ کو زمین سے اٹھا کر اسے صوفے پر لٹایا پھر جولیا کہ پیچھے آیا ۔۔ جو وہیں کتاب پکڑے کھڑی تھی ۔۔۔ جس میں رائیل بلڈ کے بارے میں لکھا ہوا تھا ۔۔ لیکن اس میں سے کافی صفحات غائب تھے ۔۔
اور وہ وہی غائب صفحات والا حصہ کھولے ہوئے ایک ہاتھ ان کے اوپر رکھے جبکہ دوسرا ہاتھ اس کی جانب بڑھائے ہوئی تھی ۔۔۔
” کہاں ۔۔ ؟؟؟” اس کا ہاتھ پکڑنے کی بجائے اس نے الٹا سوال کیا ۔۔
” ماضی کی ابھی بہت سی ایسی باتیں ہیں ۔۔ جن سے پر ابھی پردہ اٹھنا باقی ہے ۔۔۔ ” یوں کھڑی سنجیدگی سے اس نے جواب دیا ۔۔۔
” اگر ایسا ہے تو تم پہلے کیوں نہیں کیا ۔۔ ” ہاتھ کو پشت پر باندھتے ہوئے اس نے اسے کہا ۔۔
“پہلے مجھے کتاب کا وہ حصہ نہیں معلوم تھا جو غائب ہے ۔۔ لیکن جب معلوم ہے تو میں جاسکتی ہوں ۔۔
اب مزید سوال مت کرنا ۔۔ باقی کے جواب تمہیں خود معلوم ہو جائیں گئے ۔۔۔” اب کی بار شہرام نے کوئی سوال نہیں کیا ۔۔ خاموشی سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں رکھا ۔۔۔
جولیا نے اسے آنکھیں بند کرنے کا کہا ۔۔ اور خود بھی آنکھیں بند کرکے منہ میں کچھ پڑھنے لگی تیزی سے ۔۔
پانچ منٹ بعد کتاب سے سفید رنگ کی روشنی نکلی ۔۔وہ اتنی تیز تھی کہ کچھ دکھائی ہی نہیں دے رہا تھا ۔۔
پھر آہستہ آہستہ کر کے وہ روشنی کم ہوتے ہوتے آخری میں ختم ہوگی ۔۔
کتاب اب بھی وہیں پڑی تھی ۔۔
ہر چیز اپنی جگہ پر تھی ۔۔
آریہ کی لاش جو شہرام نے صوفے پر لٹائی تھی وہ بھی وہی تھیں ۔۔
لیکن شہرام اور جولیا وہ دنوں اب وہاں نہیں تھے ۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: