Beauty and the Vampire Novel by Zaha Qadir – Episode 17

0
بیوٹی اینڈ دی ویمپائر از ضحٰی قادر – قسط نمبر 17

–**–**–

پاؤں اوپر کیے ٹانگوں کے گرد ہاتھ باندھے گھٹنوں پر سر رکھے سٹل ایک ہی زوایے میں صوفے پر بیٹھی تھی ۔۔ اس کے سامنے والے صوفے رابرٹ سر پکڑ کے بیٹھا ہوا ۔۔
جیسے ہی اسے ایوا کی یونی سے فون آیا تو وہ سب کام چھوڑ کر اسے گھر لے آئے ۔۔
ایوا اس سب کے دوران گم سم تھی ۔۔
یہی بات انہیں پریشان کر رہی تھی ۔۔
نہ کچھ بول رہی تھی کہ کیا ہوا ہے ۔۔ نہ کسی بات کا جواب دے رہی تھی ۔۔
فون کی بیل نے ان کی سوچوں کی منجدھار کو روکا ۔۔ انہوں نے ٹیبل پڑا پرا اپنا سیل اٹھاتے ہوئے ایوا کو دیکھا وہ اسی پوزیشن میں بیٹھی ہوئی تھی ۔۔ انہوں نے گہری سانس لے کر جیسے موبائل کی سکرین پر بلنک ہوتے نمبر جو دیکھا ۔۔ ان کو یوں لگا جیسا کسی نے بہت بڑا بوجھ ان کے کندھوں پر لاد دیا ہو ۔۔ ایک بےنام سی تھکن جو انہیں اپنے وجود پر چھائی محسوس ہونے لگی ۔۔
انہوں نے آنکھوں کو زور سے بند کر کے کال اٹینڈ کی ۔۔ جیسے وہ اس کال کو اٹھانے سے راہِ فرار چاہ رہے ہو ۔۔لیکن پھر کچھ دیر بعد دل نہ چاہنے کے باوجود انہوں نے کال اٹینڈ کر کے موبائل کان سے لگایا گھر سے باہر نکل گئے ۔۔۔
ایوا اس سارے عرصے کے دروان ایسے ہی بیٹھی رہی ۔۔ ساکت کسی پتھر کی طرح ۔۔ایک ہی زاویے میں ۔۔۔
” تیار ہو ویمپائر ہنٹر ۔۔۔ ” فون کے دوسری طرف رعب دار آواز گونجی ۔۔۔ انھوں نے مڑ کر ایک نظر پیچھے دروازے کی طرف جانب دیکھا ۔۔ جس کے پیچھے ایوا تھی ۔۔ پھر گہری سانس لے کر خود کو کمپوز کیا ۔۔۔
” میں ہر طرح سے تیار ہوں ۔۔ لیکن مجھے شیورٹی چاہیے کہ میری بیٹی کو کچھ نہیں ہوگا ۔۔۔ ” انہوں نے حتیٰ الامکان اپنی آواز کو کم رکھا ۔۔ وجہ کہ ایوا نہ سن لے ۔۔۔
دوسرے طرف خاموشی چھا گئی ۔۔ بس سانس لینے کی آواز آرہی تھی ۔۔ جو وہ سانس روکے سن رہے تھے ۔۔
” ہم نے تمہیں شروع سے آگاہ کر دیا تھا ۔۔ لیکن یہ تمہاری ہی خواہش تھی کہ تم اسے سنبھال لو گے ۔۔ اگر وہ ہماری پاس ہوتی تو ہم شروع سے ہی اس کو تیار کر سکتے تھے ۔۔ مگر تمہاری ضد کے آگے ہم نے گھٹنے ٹیک دیئے ۔۔ اب جو بھی ہوگا ۔۔ اس کا ذمہ دار تم ہمیں نہیں ٹھہرا سکتے ۔۔۔ ” لب بھینچے انہوں نے ساری بات سنی ۔۔ ان کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا ۔۔
وہ بھی طرح ان کی باتیں اچھی سمجھ رہے تھے ۔۔۔
” مجھے وقت چاہیے ۔۔۔ !!” کچھ دیر سوچنے کے بعد وہ دھیمی آواز میں بولے ۔۔
” نہیں ہے ۔۔۔ ” دوسری طرف سے فوراََ ان کی بات رد کر دی گئی۔۔۔
اب کہ دنوں طرف خاموشی چھا گئی ۔۔
” دیکھو ۔۔ تم اپنی بیوی کی قربانی کو ایسے جانے دو گے ۔۔ اس طرح اتنی آسانی سے ۔۔ “
جب انہوں نے دیکھا کہ خاموشی کا دورانیہ طویل ہوتا جا رہا ہے اور رابرٹ بھی نہیں مان رہا تو انہوں نے اس کی کمزوری پر وار کیا ۔۔۔بلاشبہ وہ ان کی کمزوری جانتا تھا اسے لیے تو اب کی بار انہوں نے اس کا ہی استمعال کیا تھا ۔۔
ان کے چہرے پر درد بھرے تاثرات ابھرے ۔۔ دل میں درد سا اٹھا تھا ۔۔
تصور میں محبوب بیوی کا چہرہ آیا ۔۔ لیکن پھر وہ چہرہ تبدیل ہوا ۔۔ اب اس کی جگہ ایوا کا چہرہ تھا ۔۔
ہنستی مسکراتی ۔۔۔ وہ اس چہرے کو خون میں رنگا نہیں دیکھ سکتے تھے ۔ن۔
” بیوی کو کھو دیا ۔۔ اب بیٹی کو نہیں کھو سکتا ۔۔۔” ان کی بات سن کر دوسری طرف وہ تپ اٹھا تھا کتنے دیر سے وہ اسے منانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن وہ تھا کہ وہی مرغی کی ایک ٹانگ ۔۔ اس لیے اب بولے تو آواز سرد تھی ۔۔ ہر احساس سے آری
” بس ہم مزید تمہاری نہیں سنیں گے ۔۔ تم راضی ہو اچھی بات ہے ۔۔ لیکن ہمارے پاس دوسرا حل بھی ہے ۔۔” کہتے ساتھ ہی انہوں نے فون کھٹ سے بند کیا ۔۔
وہ اسی طرح فون کان سے لگائے کھڑے رہے ۔۔ پھر ہاتھ نیچے کر کے وہیں پڑے لکڑی کے جھولے پر بیٹھ گئے ۔۔۔
وہ دنوں طرف سے بری طرح پھنسے تھے ۔۔
اگر وہ ہنٹر کمیونٹی کو منع کرتے تو وہ بھی پیچھے نہیں ہٹنے والے تھے ۔۔
دوسری طرف سے انہیں اندازہ تھا کہ ویمپائر بھی ایوا کے پیچھے ہیں ۔۔
کافی دیر سوچنے کے بعد وہ فیصلہ کرتے ہوئے اندر آئے ۔۔ ان کے چہرے پر سنجیدگی تھی ۔۔
وہ واپس آئے تو ایوا کو ویسے ہی بیٹھا پایا ۔۔
انہیں تشویش ہوئی ۔۔ انہوں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی جانب۔ متوجہ کرتے ہوئے اس کا نام پکارا
” ایوا ۔۔۔ ” اس کے ساکت وجود میں حرکت ہوئی ۔۔۔ اس نے دھیرے سے سر اٹھا کر انہیں دیکھا ۔۔۔
اس کا چہرہ دیکھ رابرٹ بے ساختہ دو قدم پیچھے ہٹے ۔۔۔
ایوا کی آنکھیں لال تھیں ۔۔ چہرے پر اتنی سرد مہری تھی کہ ان کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ محسوس ہوئی ۔۔ اس کی خون آشام آنکھوں سے ان کو خوف آ رہا تھا ۔۔ جس میں دور دور تک شناسائی کی کوئی رمق نہ تھی ۔۔۔ اور یہی چیز ان کا دل ہولا رہی تھی ۔۔
زبان کو تر کرتے ہوئے انہوں نے ہمت کی اور پھر سے اس کا نام پکارا ۔۔ اب کی بار آواز ان کی اونچی تھی ۔۔
” ایوا ۔۔۔ ” ایوا نے ان کی جانب دیکھا پھر آنکھیں جھپکائیں ۔۔۔ تو وہ اپنی اصل حالت میں آگئی تھی ۔۔
وہ حیرت سے ادھر اُدھر دیکھ رہی تھی ۔۔ سر میں ٹیس اٹھ رہی تھی ۔۔ اسے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ کسی خواب سے جاگی ہو ۔۔
خواب میں بھی اس نے خود کو برف سی کسی جگہ قید پایا تھا ۔۔ جہاں آسمان کا رنگ لال تھا ۔۔ وہاں چاند بھی تھا لیکن وہ بھی لال ۔۔ وحشت زدہ سا ماحول تھا ۔۔
وہ وہاں بھاگتی جا رہی تھی اس جگہ اس نکلنے کے لیے لیکن کیا راستہ تھا ۔۔ آخر وہ تھک کر وہیں برف پر جب گری تو اسے اپنے چاروں طرف کسی کے ہنسنے کی آواز آئی ۔۔۔
جیسے کوئی اس کی بےبسی کا مزاق بنا رہا ہو ۔۔م
اتنی تیز آواز کہ اسے کانوں کے پردے پھٹتے محسوس ہوئے ۔۔ اس نے آنکھیں بند کر کے کانوں پر ہاتھ رکھ لیے ۔۔۔لیکن آواز پھر بھی آ رہی تھی ۔۔۔
اسی آواز میں اسے ایک آواز آئی ۔۔ جیسے کسی نے اس کا نام پکارا ہو ۔۔۔ ہاں وہ اس آواز کو پہچانتی تھی وہ اس کے باپ کی تھی ۔۔۔جیسے ہی اس نے آواز کو پہچانا اس کے ساتھ ہی ہنسنے کی آواز بھی بند ہوگئی ۔۔
اور جب اس نے آنکھوں کھولیں تو خود کو لاونج میں صوفے پر بیٹھے پایا ۔۔ وہ لال خوفناک ماحول غائب تھا ۔۔
اور ڈیڈ کو خود کو حیرت سے دیکھتے پایا۔۔۔ان کو دیکھتے ہی اس کی آنکھوں میں آنسو جمع ہونا شروع ہوگے ۔۔اس نے گلوگیز آواز میں انہیں پکارا
“ڈیڈ ۔۔۔ ” اس پکار پر انہوں نے فوراً آگے بڑھ اسے گلے لگایا ۔۔
” ڈیڈ ۔۔ مجھ یہ برداشت نہیں ہوتا ۔۔ وہ ہنستی ہے مجھ پر ۔۔ میں بہت بھاگتی ہوں ۔۔ لیکن میں خود کو قید سے نہیں نکال پاتی ۔۔۔اور وہاں ۔۔ ڈیڈ سب لال ہے ۔۔۔ خ۔۔ خو ۔۔۔ن جیسسا لال ” ان کی شرٹ کو مٹھی میں بھینچے وہ خوف سے انہیں اپنی کیفیت بتا رہی تھی ۔۔ اس کے چہرے پر بھی خوف ہی خوف تھا ۔۔
ربراٹ نے سے مزید خود میں بھینچتے ہوئے اس کے بالوں پر بوسہ دیا ۔۔
” کچھ نہیں ہوگا ۔۔ میں ہوں نا ۔۔ کچھ نہیں ہونے دوں گا اپنی پرنسز کو ۔۔ ” اس کے سر پر بوسہ دیتے ہوئے جیسے انہیں فیصلہ کرنے میں آسانی ہوئی ۔۔
انہوں نے ایوا کو تیار ہونے کا کہا اور خود گاڑی میں جا کر بیٹھ گئے ۔۔ وہ جو پہلے فیصلہ کرنے میں الجھن کا شکار تھے ۔۔ ایوا کی اس حالت میں وہ یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہوگئے تھے ۔۔
اس لیے وہ اب اسے لے کر ہنٹرز کے مین ہاؤس جا رہے تھے ۔۔۔
اُنہوں نے اپنے ساتھ کی سیٹ پر بلیک ٹی شرٹ اور بلیک جینز پر بلیک ہی لیدر کی جیکٹ پہنے اپنی سیٹ سے سر ٹکائے آنکھیں بند کیے بیٹھی ایوا پر ڈالی ۔۔ جس کے چہرے کی رونق گم سی گئی تھی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یکدم روشنی اتنی روشنی کی وجہ سے اس کی آنکھیں چندیا سی گئیں ۔۔ جس کی وجہ سے اس نے ہاتھ کی پشت سے اپنی آنکھوں کو ڈھانپ لیا ۔۔ پھر جیسے ہی اسے احساس ہوا کہ روشنی تھم گئی ہے تو اس نے آنکھوں سے ہاتھ ہٹایا ۔۔ خود کو اسی جنگ کے میدان میں پایا ۔۔ یہ جگہ وہ کیسے بھول سکتا تھا ۔۔۔
لیکن زمین پر عجیب سے دھواں تھا ۔۔
رات پوری طرح چھائی ہوئی تھی ۔۔ آسمان پر چاند چمک رہا تھا ۔۔
” پیچھے آؤ ….” وہ جو آس پاس کا جائزہ لے رہا تھا جولیا کے کہنے پر اس کے پیچھے چل دیا ۔ یہ اور بات تھی کہ اس کی آنکھیں مسلسل آس پاس کا جائزہ لے رہی تھیں ۔۔۔
جولیا اسے لے کر جنگل کی طرف آئئ۔
پھر ایک جگہ آکر وہ رکی تو شہرام کے بھی چلتے قدموں کو بریک لگی اس نے جولیا کو دیکھا جو سامنے دیکھ رہی تھی ۔۔
شہرام نے اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا ۔۔ جہاں مائیک ایک عورت کے ساتھ کھڑا تھا ۔۔ان کے پاس ہی درخت کے ساتھ اس کی خون آلودہ لاش پڑی ہوئی تھی ۔۔
” مائک … ” زیر لب اس کا نام لیتے ہوئے وہ پرجوش انداز میں اس کی جانب بڑھا ۔۔ مگر جولیا نے اپنا بازو آگے کر کے اس کا راستہ روکا ۔۔۔ اس کا اس طرح روکنا اسے ناگور گزرا لیکن پھر بھی وہ رکا اور ماتھے پر بل ڈالے وہ اب سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔ ۔۔ جیسے روکنے کی وجہ پوچھ رہا ہو ۔۔
” یہ صرف پرچھائیاں ہیں ۔۔ جو نہ ہمیں سن سکتی ہیں ۔۔ اور نہ دیکھ سکتی ہیں ۔۔۔”
جولیا کے بتانے پر اس نے دوبارہ ان دنوں کی جانب دیکھا لیکن اب کی بار وہ پرجوش نہیں ہوا ۔۔ چپ ہوگیا ۔۔
وہ دنوں ان کے قریب جا کر کھڑے ہو گئے ۔۔۔
” دیکھیں مام مجھے نہیں پتا لیکن جیسے بھی کر کے آپ ان کو بچائیں ۔۔۔ ” اس نے مائک کو اس عورت سے کہتا سنا ۔۔
شہرام نے محسوس کیا کہ وہ عورت الجھن کا شکار تھی ۔۔
” تم یہ بات کیوں نہیں اکسیپٹ کر لیتے کہ وہ مر گیا ہے۔ ۔۔ ” اس عورت نے مائک کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے سمجھانے کی کوشش کی ۔۔۔لیکن مائک نفی میں سر ہلاتے ہوئے دوبارہ بار بار وہی بات بولی جا رہا تھا ۔۔
” یہ عورت ۔۔ ہم میں سب سے طاقتور اور عقل مند تھی ۔۔ ہم نے کوئی بھی فیصلہ کرنا ہوتا ان کے پاس ہی جاتے تھی ۔۔۔ ” جولیا اس عورت کو دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔ جو مائک کو سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔ اس عورت کے لیے شہرام نے جولیا کی آواز میں موجود احترام واضح محسوس کیا تھا
” یہ انہیں میں تھی ۔۔ جن کو گھر میں بند کر کے آگ لگائی گئی تھی ۔۔ ؟؟” شہرام نے سوال کیا یا بتایا تھا اسے نہیں پتا تھا لیکن اسے چہرے پر غصے کے تاثرات ابھرے تھے ۔۔
” ہاں یہ وہی ہے ۔۔ جہنیں ویمپائر نے آگ لگا کر جلایا تھا ۔۔۔” وہ طنزیہ انداز میں جواب میں بولی تھی ۔۔ شہرام اب کی بار کچھ نہیں بولا بس کندھے اچکا دئے ۔۔ وہ لوگ پھر ان دنوں کی جانب متوجہ ہوگئے تھے ۔۔۔
شہرام نے دیکھا کہ مائک لکڑیاں اکٹھی کر کے لایا ہے اور اب آگ لگا رہا ہے ۔۔ وہ عورت کتاب کھولے اس میں کچھ لکھ رہی تھی ۔۔ شہرام نے دیکھا کہ یہ وہی کتاب تھی جس کے اندر وہ لوگ تھے ..
آگ جل اٹھی ۔۔۔ اس کا دھواں اوپر فضا کی طرف اٹھ رہا تھا ۔۔۔ مائک آگ پر پھونکیں مار کر آگ تیز کر رہا تھا ۔۔۔
پھر وہ اٹھا اور شہرام کی ڈیڈ باڈی کے پاس جاکر کھڑا ہوگیا ۔۔اسے دیکھنے لگا ۔۔
اس کی آنکھوں میں اس کے لیے عزت ہی عزت تھی وہ جھکا اور اس کا ہاتھ تھام کر اس کی پشت پر بوسہ دے کر احترام سے آنکھوں سے لگایا ۔۔یہ کرتے ہوئے اس کی آنکھوں سے پانی نکل رہا تھا ۔۔ شہرام یہ سب دیکھ کر کنگ ہوگیا۔۔
اتنی عزت ۔۔۔
اتنا احترام ۔۔
مائک کی ماں اٹھی اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے حوصلہ دینے لگی ۔۔۔
جولیا نے مڑ کر شہرام کو دیکھا جو بس مائک کو عجیب نظروں سے دیکھی جا رہا تھا ۔۔۔
وہ لوگ اب اس کی باڈی اٹھا تھوڑا آگے لائے ۔۔ پھر وہ عورت اس کی باڈی کے گرد لکڑی پکڑ کر مٹی پر چکر بنانے لگی ۔۔۔ ایک کے بعد ایک ۔۔ ابھی اس نے چار چکر بنائے تھے کہ ایک طرف سات آٹھ قدموں کی آواز اور پتوں کی سرسراہٹ کی آواز آئی ۔۔
مائک اور اس عورت کے ساتھ ان دنوں نے بھی چونک کر دیکھا تو وہ مخالف فوج کے سپاہی تھے ۔۔۔
انہیں دیکھ کر مائک گن سنبھالتے ہوئے اٹھا ۔۔
” میں دیکھتا ہو ۔۔ لیکن آپ بس ان کا خیال رکھنا ۔۔۔ ” وہ عورت سر ہلا کر پھر سے چکر کاٹنے لگی ۔۔۔ یکدم ان کے انداز میں پھرتی سی آ گئی تھی ۔۔۔
مائک چلا گیا ۔۔ جب شہرام بولا ۔۔
” تو ایسے بنا میں ویمپائر ۔۔۔ ” جولیا نے کوئی جواب نہیں ۔۔۔
فائرنگ کی تیز آواز سے جنگل گونج اٹھا ۔۔۔
پھر ایک دم بلکل خاموشی چھا گئی ۔۔ وہ جہنوں نے آخری چکر بنایا ہی تھا کہ یکدم بے چین ہوکر اس طرف گئی جہاں مائک گیا تھا ۔۔ شہرام بھی اس طرف گیا ۔۔۔
اور جو اس دیکھا تو اس کے قدم لڑکھڑائے ۔۔۔
وہ جس کے لیے اس نے اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں کی تھی ۔۔ وہ بے جان زمین پر گرا ہوا تھا خون تیزی سے اس کے جسم سے نکل کر مٹی کو سرخ کر رہا تھا ۔۔ لیکن مرنے سے پہلے وہ اپنے دشمنوں کو ختم کر گیا تھا مرتے وقت بھی اس نے ہار نہیں مانی۔۔ شہرام کی آنکھوں میں لال ڈورے تیرنے لگے ۔۔ اس نے مٹھیاں بھینچ لی ۔۔۔
” شہرام یہاں دیکھو ۔۔۔ ” جولیا کی آواز پر اس نے اس طرف دیکھا ۔۔
جہاں اس کی ڈیڈ باڈی پڑی تھی ۔۔ وہاں روشنی ہوئی تھی بہت زیادہ ۔۔ یا پھر یوں لگ رہا تھا ۔۔ جیسے چاند کی روشنی اس کے وجود کو اپنے ہالے میں لیا ہو ۔۔۔ جیسے کوئی سپاٹ لائٹ نے اس کے جسم کو اپنی گرفت لے لیا ہو ۔۔
مائک کی ماں جو اپنے بیٹے کا سر گود میں رکھے بیٹھی تھی ۔۔ وہ بھی چونک کر یہ دیکھنے لگی ۔۔۔
اس نے حیرت سے پہلے اپنے بیٹے کو دیکھا پھر شہرام کو جس کا وجود روشنی میں نہایا تھا ۔۔
ان دنوں نے ہی ایک دوسرے کے لیے اپنی جان قربان کی تھی ۔۔ دنوں ہی مرتے دم تک ثابت قدم رہے اور آخر تک وفا نبھائی ۔۔۔
” یہ کیا ہو رہا ہے ۔۔۔ !!” حیرت سے یہ سب دیکھتے ہوئے اس نے جولیا سے پوچھا ۔۔
” تم ایسے ویمپائر بنے تھے ۔۔ نیچرل طریقے سے ۔۔ کسی بھی جادو کے بغیر یا خون پیئے بغیر جبکہ تمہارے بھائی مائک اور دوسرے لوگوں کو جادوگرنیوں نے جادو کیا ہوا خون پیلایا تھا۔۔ تم قدرت کی تحقیق ہو ۔۔۔ ” جولیا نے اس کے بے چینی اور حیرت سے دائیں بائیں چکر کاٹے دیکھ کر کہا ۔۔
” مجھے اب بھی سمجھ نہیں آئی ۔۔” اسے تو شروع سے لگتا تھا ۔۔ کہ وہ بھی مائک کے ساتھ ویمپائر بنا تھا ۔۔ جو اس نے مخالف فوج سے سودا کیا تھا ۔۔ وہ یہ اپنے پر بھی یہ کرسکتے تھے لیکن اس سے کیونکہ جان جانے کا خطرہ اس لیے انہوں نے ڈبل گیم کھیلی ۔۔ انہوں نے مائک سے طاقت کا وعدہ کیا اور پھر جنگ میں کامیابی کے بعد جادوگرنیوں کے حوالے کر دیا ۔۔ اور جب اسے ہوش آیا تو مائک نے اس سے سب چھپاتے ہوئے اسے یہی بتایا کہ ان لوگوں نے ان کی مردہ جسموں پر کچھ کیا ۔۔ جس سے وہ اسے ہوگئے ہیں ۔۔ شہرام نے اپنا بھائی سمجھ کر اس پر یقین کیا اور ان کی فوج پر حملہ کر کے ان دنوں بھائیوں نے ان کا صفایا کرنا شروع کردیا ۔۔ اسی دوران اسے پتا چلا تھا کہ مائک بھی ان کے ہاتھوں مر گیا تھا ۔۔ تو وہ اور بے رحمی سے ان کو مارنے لگا ۔۔ لیکن مارک وہ لوگوں کو ویمپائر بھی بنا رہا تھا ۔۔ آہستہ آہستہ کر کے یہ ریاست ان کے پاس آگئی ۔۔ لیکن شہرام اس کو اس سے کوئی سروکار نہیں تھا ۔۔ وہ تو ان کا بس صفایا کرتا رہا ۔۔ تب تک جب تک اسے اپنے بھائی کا سب معلوم نہیں ہوا اور سچ جاننے کے بعد وہ سب کچھ چھوڑ کر چلا گیا تھا ۔۔ وہ تمام سوچوں کو جھٹکتے ہوئے اس کی جانب متوجہ ہوا ۔۔
” مگر ان جادگونیوں نے تو کہا تھا کہ انہوں نے مجھے بنایا ہے ۔۔۔ ” شہرام نے الجھ کر جولیا کی جانب دیکھا ۔۔ اسے اب بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی بات ۔۔۔
جولیا نے ہاتھ باندھ کر درخت سے اپنی پشت ٹکائی اور سنجیدگی سے سامنے مائک کی ماں دیکھتے ہوئے بولنا شروع ہوئی ۔۔
” یہ سب مائک کی ماں ۔۔ یعنی انہوں کا کام تھا ۔۔ انہوں نے باقی جادوگرنیوں کو یہ کہنے کا کہا تھا ۔۔ سب کا خیال تھا کہ انہوں نے تمہیں بنایا ہے ۔۔ جو کہ ہم سب کے لیے حیرت کی بات کیونکہ وہ اس بات کہ حق میں نہیں تھیں ۔۔ انہوں نے سب کو منع کیا لیکن کوئی نہیں مانا یہ پہلی بار تھا کہ سب جادوگرنیاں ۔۔ ان کے مخالف تھیں ۔۔ باقی سب کا خیال تھا کہ کوئی ایسا ہونا چاہیے جو ہم جادوگرنیوں کی نگرانی یا حفاظت کرے ۔۔ لیکن وہ شاید اس کے نتائج سے واقف تھیں اس لیے منع کرتی ۔۔ اور وہی ہوا ۔۔ ویمپائر نے ہم پر اپنی اجادگرری قائم کر دی ۔۔ ” تلخی سے بولتے ہوئے اس نے سر جھٹکا ۔۔ پھر دوپل کے وقفے کے بعد اپنی بات کو پھر جاری کیا ۔۔
” تم سہی ۔۔ اوریجنل ویمپائر ہو ۔۔ اس بات سے صرف وہ واقف تھی ۔۔ اور ان کی کتاب لیکن ۔۔ جب ویمپائر ان کو مارنے والے تھے ۔۔ تو انہوں نے کتاب کے وہ سارے صفحات پھاڑ دیے جن میں اس کے بارے میں لکھا تھا ۔۔ ایسے یہ راز ان کے ساتھ ہی خاموش ہوگیا ۔۔ تم اور رائل بلڈ نیچرل ہو ۔۔ جیسے ہی ویمپائر آئے ۔۔ انہیں اندازہ تھا ۔۔ کے بیلنس کرنے کے لیے قدرت کچھ کرے گی ۔۔ اس لیے انہوں نے حساب کیا ۔۔ پھر اسے رائل بلڈ کا معلوم ہوا ۔۔ ہم سب تو یہ جانتے تھے کہ اسے کوئی نہیں روک سکتا ۔۔ لیکن ہم غلط تھے اسے روکا جاسکتا ۔۔۔ ” اس کے خاموش ہونے پر شہرام نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا ۔۔ اس کے خاموش ہونے سے شہرام کو بےچینی ہوئی ۔۔
“کون !!!!”
” ایوا خود ۔۔۔ ” جولیا کے جواب نے اسے پرسکون کیا ۔۔ یعنی ایوا کو بچایا جاسکتا ہے ۔۔ اگر ایوا نے خود ہی بچنا وہ اسے تیار کر دے گا ۔۔
” مگر یہ مشکل ہے ۔۔ بلکل اب تو نا ممکن ہی سمجھو ۔۔ ” جولیا نے اس کے پرسکون تاثرات کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔ شہرام کو اس کی بات ناگور گزری ۔۔۔جس کا ثبوت اس کے ماتھے پر پڑے بل تھے ۔۔۔ اسے جولیا کا ناممکن کہنا برا لگا تھا ۔۔
” کیوں ناممکن ہے۔ ۔ “
” یہ تب ممکن تھا جب اس کا خود پر کنٹرول ہوتا لیکن اب اس پر اس سے رائل بلڈ کا کنٹرول ہوگا ۔۔ اصل ایوا یوں سمجھو اپنے ہی وجود میں قید ہو جائے گی ۔۔ یا پھر دیھرے دھیرے کر کے رائیل بلڈ اسے ختم کر دے گا ۔۔ “
شہرام کو اب نئی فکر نے گھیر لیا ۔۔
” کوئی تو طریقہ ہوگا جس سے رائیل بلڈ ایوا پر اپنا تسلسل قائم نہ کرسکے ۔۔۔
جولیا نے گہری نظروں سے اس کا فکرمند چہرہ دیکھا ۔۔۔
” پہلے یہاں سے نکلو پھر بتاتی ہوں میں ۔۔۔۔
شہرام نے ایک بار پھر سے اس کا ہاتھ تھاما ۔۔
پھر سے تیز آنکھوں میں چبھنے والی روشنی چھائی لیکن اس بار اس نے آنکھوں پر ہاتھ نہیں رکھا ۔۔
____________________________
“ڈیڈ ۔۔۔!!! یہ ہم کہاں آئے ہیں ۔؟؟؟” تعجب سے اس نے آس پاس کا جائزہ لیا ۔۔۔
ان لوگ پورا ایک دن سفر کی حالت میں رہے تھے اور اب شام کو آکر اپنی منزل پر پہنچے تھے ۔۔۔۔
یہ کوئی بہت پرانا قبرستان تھا ۔۔ شام کے اندھیرے میں قبرستان کی خاموشی اور وحشت میں اضافہ کر رہے تھے ۔۔ درختوں پر بیٹھے کوے کی کائیں کائیں وہاں کی ویرانی میں ایک عجیب سا خوفناک تاثر دے رہی تھی ۔۔
ایوا نے اپنے ڈیڈ کو دیکھا جو بنا کوئی جواب دیئے گاڑی وہیں گیٹ پر چھوڑ کر اندر چلے گئے۔۔ انہوں نے اسے پیچھے آنے کا کہا نہ ہی اندر بیٹھنے کا لیکن اس ماحول میں ایوا کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہو رہا تھا ۔۔ اس لیے وہ بھی گاڑی سے اتر کے ربراٹ کے پیچھے چل دی ۔۔
ٹوٹی ہوئی قبروں کے درمیان سے گزرتے ہوئے اس کی کوشش تھی کہ وہ آس پاس نہ ہی دیکھے ۔۔ اس کے دل کی دھڑکنیں حد سے زیادہ تیز تھی ۔۔ ہاتھ پاؤں بھی ٹھنڈے پڑ رہے تھے ۔۔
ہاتھ کی انگلیوں کو چٹکتے ہوئے ااس کے قدم اس جگہ رک گئے جہاں ابھی اس نے رابرٹ کو اندر جاتے دیکھا ۔۔
وہ ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جو کونے میں کر کے ایک گھنے درخت کے نیچے تھا ۔۔ اندر کھڑکی کے پاس ایک دیا جل رہا تھا ۔۔ اس نے پیچھے دیکھا جہاں ویران قبریں تھیں اسے یوں لگ رہا تھا جیسے ابھی کوئی قبروں سے نکل کر اس پکڑ لے گا ۔۔
اس نے اب پیچھے دیکھنے کی غلطی نہیں کی اور سیدھا اندر چلی گئی ۔۔۔ اندر کافی اندھیرا تھا مگر ڈیڈ کو وہاں دیکھ کر اسے حوصلہ ہوا ۔۔
رابرٹ نے اسے دیکھا پھر بائیں طرف بنی دیوار پر نیچے کر کے اپنا ہاتھ رکھا ۔۔
ٹوں ٹوں کی آواز کے ساتھ وہ دیوار سرکنے لگی ۔۔ ایوا نے حیرت سے یہ سب دیکھا ۔۔
” آؤ ۔۔۔ ” رابرٹ کے بلانے پر وہ ہچکچاتے ہوئے ان کے پاس آئی ۔۔ انہوں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اندر آگئے ۔۔۔
پیچھے وہ دیورا دوبارہ سکڑتے ہوئے اپنی اصل حالت میں آگئی ۔۔۔
اندر ایک چھوٹی اور تنگ سی سرنگ تھی جو نیچے کی طرف جا رہی تھی ۔۔۔ اندھیرا وہاں اتنا تھا کہ کچھ سہی سے دیکھائی ہی نہیں دے رہا تھا ۔۔۔
رابرٹ نے وہاں سے دیا روشن کر کے اٹھایا اور اسے آگے چلنے کا اشارہ کیا ۔۔ دیے کی روشنی میں اس نے آگے قدم بڑھائے ۔۔۔
کچھ ہی قدم چلنے کے بعد ایک جگہ ہتھکڑیوں سے باندھے ڈھانچے کو دیکھ کر اس کا کلیجہ منہ کو آیا ۔۔ دل کیا یہیں سے پلٹ جائے لیکن ڈیڈ کے اشارے کی وجہ سے اسے چلنا پڑا ۔۔ اور آگے بھی جگہ جگہ ایسے ڈھانچے تھے کچھ نیچے زمین پر تھے تو کچھ بندھے ہوئے تھے جن پر مکڑیوں کے جالے تھے ۔۔ اس نے بڑی مشکل سے اپنی چیخوں کا گلہ گھونٹا ہوا تھا ۔۔
اب آہستہ آہستہ کر کے سرنگ کی چوڑائی زیادہ ہو رہی تھی ۔۔ وہاں پر بلب بھی جل رہے تھے ۔۔ لیکن وہ سرنگ اب چار حصوں میں تقسیم تھی ۔۔۔ اس پہلے کہ وہ مزید آگے بڑھتے وہاں پر ایک آواز گونجی۔۔۔
” رابرٹ ۔۔ مین روم میں آجاؤ۔۔۔ ” اس آواز پر ربراٹ اسے لیے 3 نمبر والی سرنگ میں چل پڑا ۔۔ تھوڑی دیر بعد وہ لوگ ایک آفس میں موجود تھے جہاں اسلہ دیواروں پر لگا ہوا تھا ۔۔۔
ایک ٹیبل جس کے ایک طرف وہ دنوں اور دوسری طرف ایک آدمی تھا جس کے بال سفید تھے ۔۔ عمر میں بھی وہ کافی بڑا لگ رہا تھا ۔۔ لیکن چاکو چوبند تھا ۔۔ وہ گہری نظروں سے ایوا دیکھ رہا تھا جس سے اسے الجھن ہو رہی تھی ۔۔۔
” تم نے اسے کچھ بتایا ۔۔۔ ؟؟؟” اس کی طرف دیکھتے ہوئے انہوں نے ڈیڈ سے پوچھا ۔۔
” نہیں !!!” ربراٹ نے سامنے دیوار پر لگی شیر کی تصویر پر نظریں جمائے جواب دیا ۔۔۔
ایوا کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کس بارے میں بات کر رہے ہیں ۔۔
وہ آدمی چیئر سے اٹھا اور ان دنوں کو لئیے آفس میں بنے دروازے سے ایک دوسرے کمرے میں داخل ہوا ۔۔
جو تصویروں اور مختلف سکیچس سے بھرا ہوا تھا ۔۔
” تو ایوا ۔۔۔ تمہیں پتا ہے کہ تمہاری موم کی ڈیتھ کیسی ہوئی ۔۔۔ ؟؟ ” اس شخص نے چلتے ہوئے اس سے پوچھا ۔۔ ایوا نے ربراٹ کی طرف دیکھا لیکن وہ تو ایسے سپاٹ چہرے لیے سامنے دیکھ رہے تھے جیسے انہیں کچھ معلوم نہ ہو ۔۔۔
” سوسائیڈ ۔۔۔ ” ایوا نے مدھم آواز میں جواب دیا ساتھ ہی دماغ کی سکرین پر درخت سے جھولتی ماں کی لاش آئی ۔۔
اس کے جواب پر وہ ہنسنے لگے جیسے ایوا نے کوئی لطیفہ سنایا ہو ۔۔ ایوا نے ڈیڈ کی جانب دیکھا جو لب بھینچے ہوئے تھے ۔۔۔
” رئیلی ربراٹ سوسائڈ ۔۔۔ ” اب کے وہ ہنسی روکتے ہوئے طنزیہ انداز میں گویا ہوئے ۔۔۔
” شیٹ آپ ۔۔۔ فلکس ۔۔۔ ” ان کی شٹ اپ کہنے پر برا ماننے کی بجائے وہ پھر سے ہنسنے لگا ۔۔ ایوا کو اب پتا لگا تھا کہ اس شخص کا نام فلکس سا ۔۔ ایوا کو وہ کھسکھا ہوا لگا ۔۔۔
ایوا نے دیکھا کہ فلکس ایک جگہ رک کر دراز سے کچھ ڈھونڈھنے لگا تھا ۔۔پھر ایک گرے سی رنگ کی فائل نکال کر وہ سیدھا ہوا ۔۔
گرے کلر دیکھ کر اسے شہرام کی یاد آئی لیکن آج جو اس نے کیا ۔۔ اس سے وہ اُس سے خوفزدہ ہوگئی تھی ۔۔۔
” یہ کھول کر دیکھو ۔۔ ” وہ گرے فائیل اس کی جانب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تو ایوا نے رابرٹ کے سپاٹ چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے وہ فائل پکڑی اور ہچکچاتے ہوئے کھولی اندر اس کی مام کی تصویر تھی ساتھ میں کچھ تفصیل ۔۔ جیسے جیسے وہ پڑھتی جا رہی تھی ویسے ویسے اس کی آنکھوں میں حیرت کے ساتھ بے یقینی اترتی جا رہی تھی ۔۔
اس کی مام کو ویمپائر نے مارا ۔۔ وہ کیا تھا ویمپائر ہنٹر ۔۔۔ کس سفاکی سے ان کا قتل کیا گیا سب ۔۔ اور آخر میں موجود سکیچ دیکھ کر اس کا دل کیا کہ سب جھوٹ ہو اس نے آنکھیں بند کیں پھر کھولی لیکن سب کچھ ویسا تھا ۔۔
‘” یہ ک۔۔ کون۔۔۔ ہے ۔۔ ؟؟” وہ سکیچ کو دیکھتے ہوئے اس نے اٹکتے ہوئے پوچھا ۔۔
آنکھوں میں بے یقینی ہی بے یقینی تھی ۔۔
“یہ وہ ویمپائر ہے جس نے تمہاری موم کو مارا ۔۔۔ اور اب آزاد پھرتے ہوئے مزید پتا نہیں کتنے لوگوں کا شکار کر رہا ہے ۔۔ اسکا سکیچ بھی تمہارے ڈیڈ نے بنوایا تھا ۔۔۔ ” اس کے فق ہوتے چہرے کی جانب بغور دیکھتے ہوئے فلکس نے جواب دیا ۔۔
ایوا کا چہرہ مزید سفید ہوگیا ۔۔
” جانتی ہو اسے ۔۔۔ ؟؟” فلکس نے گہری نظروں سے اس کے چہرے تاثرات کے جائزہ لیتے ہوئے پوچھا۔ ۔۔ ربراٹ نے بھی اس کے طرف دیکھا
” شہرام ۔۔۔۔ !!!” اس نے شاکڈ سی حالت میں کھڑے جواب دیا ۔۔
تو ان دنوں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا ۔۔
فلکس کچھ بولنے لگا پھر رک گیا ۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: