Beauty and the Vampire Novel by Zaha Qadir – Episode 18

0
بیوٹی اینڈ دی ویمپائر از ضحٰی قادر – قسط نمبر 18

–**–**–

فلکس اسی فوج کے لیڈر کی نسل سے تھا جہنوں نے مارک اور جیک کو غداری پر اکسایا تھا ۔۔ اور اپنے اس مقصد کے لیے انہوں نے جادوگرنیوں کو بھی بہلا پھسلا کر اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا ۔۔ یہ اور بات ہے جب وہ لوگ ویمپائر بن کر انہیں ہی ختم کرنے لگے۔۔
جب انہوں نے لوگوں کو یہ بات بتائی تو وہ ان کو پاگل کہتے اس لیے انہوں نے ایک تنظیم بنائی ۔۔ ویمپائر کا خاتمہ کرنے کے لیے ۔۔ جو نسل در نسل منتقل ہوتی رہی اس میں نئے لوگ شامل ہوتے رہے ۔۔۔ وہ لوگ ویمپائر کی ہر کمزروی اور طاقت کو جاننے کے لیے کوشش کرنے لگے ۔۔ کتنے ویمپائر کا وہ شکار کر چکے تھے ۔۔۔ جن کے ڈھانچے اب بھی یہیں گل رہے تھے ۔۔ ایوا کیا تھی ان کو پتا تھا ۔۔ وہ ایک ایسا ہتھیار تھی جو ویمپائر کے لیے ایک بم کا سا کام کرتی تھی ۔۔ ایوا ان کو اپنی اور شہرام کی ملاقات کا بتا چکی تھی ۔۔ جب اسے پتا چلا تھا کہ اس کی ماں کو مارنے والا شہرام ہے تو وہ انتقام چاہتی تھی ۔۔ لیکن اس ایک بات چھپائی کہ وہ بھی اسے محبت کرتی تھی ۔۔ بلکل جیسے اس نے یہ بات چھپائی ایسے فلکس نے اس سے بات چھپائی ۔۔ کیونکہ وہ یہ بات سمجھ گیا تھا کہ اس محبت کی آگ میں شہرام اکیلا نہیں تھا ۔۔
مگر اسے ایوا کو کمزرو کرنا تھا ۔۔ توڑنا تھا اندر تک تاکہ رائیل بلڈ طاقت ور ہوسکے ۔۔
ربراٹ بھی یہ سب سن کر شاکڈ تھا لیکن اس نے ایوا سے کوئی باز پرس نہیں کی ۔۔
ایوا اس وقت ایک چیئر پر بیٹھی تھی ۔۔ اس کا جسم مضبوطی سے جدید سٹل کی کرسی سے باندھا ہوا تھا ۔۔ اس کے بازؤں پر ۔۔ گردن پر تاریں لگی ہوئی تھیں ۔۔ جو اس کی ہارٹ بیٹ کا بتا رہی تھی ۔۔ جس جگہ اس کی کرسی تھی اس کے بلکل اوپر گول دائرے کی شکل کا شیشے کا روشن دان تھا ۔۔ ایوا کی نظریں اسی پر تھیں ۔۔
ربراٹ اس کے پاس آیا ۔۔ جس کی آنکھیں بلکل خالی تھیں ۔۔۔ چہرہ بےتاثر۔۔۔
وہ ٹوٹی تھی ۔۔ ربراٹ اس کے لیے پریشان تھا ۔۔ لیکن یہ فیصلہ ایوا کا اپنا تھا اس لیے وہ بےبس تھا ۔۔
” ربراٹ ۔۔ !! پیچھے ہو جاؤ ۔۔۔ ” فلکس کے کہنے پر ربراٹ کا دل کیا کہ وہ ایوا کو لے کر کسی ایسی جگہ چلا جائے جہاں اس کی بیٹی محفوظ رہے ۔۔ خود پر قابو پاتے ہوئے اس نے جھک کر اس کے ماتھے پر بوسہ دیا ۔۔ ایک آنسو نکل کر ایوا کے ماتھے پر بھی گرا تو ایوا نے ان کو دیکھا ۔۔ ہلکی سے سمائل پاس کی ۔۔ لیکن وہ سمائل بھی اتنی اذیت والی تھی کہ وہ جھرجھری لے کر رہ گئے۔۔۔۔
اب وہاں کی ساری لائٹ اوف تھی ۔۔ روشن دان سے نظر آ رہا تھا کے رات ہوگئی ہے مطلب چاند نکل گیا ۔۔ انہوں روشن دان کے آگے سے وہ شیشہ بھی ہٹا دیا ۔۔ چاند کی روشنی اب ڈیریک اس پر پڑ رہی تھی ۔۔
چاند کی روشنی اس کے پاؤں سے ہوتی آہستہ آہستہ سے اوپر ہورہی ۔۔۔۔ جہاں جہاں وہ سفید روشنی پر رہی تھی ۔۔ ایوا کو جسم کو وہ وہ حصہ نکارہ ہوتا لگ رہا تھا ۔۔
پتا نہیں کیوں لیکن اس پل تکلف کے پل دماغ کی سکرین پر شہرام کا چہرہ آیا کیونکہ پچھلے کچھ عرصے سے جب بھی وہ کسی مصبت یا تکلف میں ہوتی تو وہی اس کی حفاظت کرتا اور اس کے زخم مرہم رکھتا تھا ۔۔ مگر پھر جیسے ہی اپنی ماں کا خون آلودہ چہرہ یاد آیا تو اس نے ہر سوچ کو دماغ سے جھٹکنا چاہا ۔۔کہ یکدم اس کے جسم کو جھکٹا لگا ۔۔ کمپوٹر پر اس کی ہارٹ بہت تیز ہو رہی تھی ۔۔
چاند کی روشنی اوپر ہو رہی تھی ویسے اس کو اپنا دم گھٹتا محسوس ہو رہا تھا ۔۔ اب روشنی اس کے پیٹ تک آگئی تھی ۔۔ اس کو اپنا پیٹ جلتا محسوس ہو رہا تھا ۔۔
آخر میں وہ چیخ پڑی ۔۔ خود کو آزاد کروانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔
میشن پر اس کی ہارٹ بیٹ بہت ڈسٹرب نظر آرہی تھی ۔۔
ربراٹ اس کی طرف بڑھا وہ کب سے خود پر جبر کیے اس کی یہ حالت دیکھ رہا تھا جب مزید برادشت نہ کر پایا تو اس کو نکالنے گیا ۔۔ مگر فلکس اور باقی لوگوں نے بروقت اس کو روک دیا ۔۔۔
” پاگل ہوگئے ہو ۔۔ اگر اس کو ابھی چھوڑا تو وہ ویمپائر کے ساتھ ہمیں بھی نہیں چھوڑے گی ۔۔ ” فلکس اسے روکتے ہوئے تیش میں بولا ۔۔ ربراٹ کی ذرا سی بے احتیاطی کتنی خطرناک ثابت ہو سکتی تھی ان کے لیے اس کا رابرٹ کو نہیں پتا تھا لیکن فلکس کو اچھی طرح پتا تھا ۔۔۔
اب چاند کی روشنی اس کی گردن تک آگئی تھی ۔۔ اس کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لیکن وہ لال رنگ کے تھے ۔۔
یعنی خون کہ آنسو ۔۔۔۔
” سٹاپ روکو ۔۔ میں کہا روکو یہ سب ۔۔ ” ربراٹ بےقابو ہورہا تھا ۔۔ اس سے ایوا کی یہ حالت پاگل کر دینے کے در پر تھی ۔۔ فلکس ان ایک آدمی کو اشارہ کیا جسے سمجھتے ہوئے اس نے اس کے بازو پر انجیکشن لگیا ۔۔۔جس سے اس کا مزمت کرتا جسم آہستہ آہستہ کر کے بلکل ساکت ہوگیا تھا ۔۔۔ وہ لوگ اسے لے کر چلے گیے ۔۔۔
میشن پر ایوا کی دھرکین اب ساکت تھی ۔۔ جیسے دیکھنے کے بعد وہ ایوا کی جانب آیا ۔۔ جو پوری طرح چاند کی روشنی میں نہائی ہوئی تھی ۔۔ اس کی مزمت رک گئی تھی ۔۔ آنکھیں بند تھیں ۔۔
جیسے ہی وہ قریب گیا تو ایوا نے آنکھیں کھولیں ۔۔ اس کی آنکھیں لال تھیں جس سے وہ فلکس کو گھور رہی تھی ۔۔
” رائیل بلڈ ۔۔۔ !!” فلکس نے احتیاط سے کہا
” جگانے کا مقصد ؟؟؟” ایوا کے ہونٹوں سے سرد آواز نکلی ۔۔۔ فلکس گڑبڑایا ۔۔
” ایڈیٹ ۔۔۔ ” وہ تلخی سے بولتی چاند کو دیکھنے لگی ۔۔
” آپ کو جگانے کا وقت آ گیا تھا ۔۔ ” فلکس نے زبان کو تر کے کہا ۔۔ جس پر ایوا طنزیہ انداز میں مسکرائی ۔۔۔
” میرے جاگنے کا وقت بتانے والے تم کون ہوتے ہو ۔۔۔ !!” آبرو اوپر کرتے ہوئے اس نے تمسخر آمیز انداز میں پوچھا ۔۔۔
فلکس کو غصہ آیا ۔۔ کچھ دیر پہلے جو لڑکی اس نے اتنی آسانی سے قابو ہو گئی تھی اب وہ لڑکی اس کو ذلیل کی جا رہی تھی ۔۔ اس کا مقصد رائیل بلڈ کو اپنے قابو میں کرنا تھا لیکن یہ کام اسے ہوتا نظر نہیں آرہا تھا ۔۔
” نہیں میرا یہ مطلب نہیں تھا ۔۔ ” فلکس نے صفائی دی ۔۔
” مجھے اچھی طرح پتا تمہارا مقصد ۔۔ لیکن اتنا جان لو ۔۔ جو بھی میرے راستے میں آتا ہے ۔۔ جان سے جاتا ہے ۔۔ ” اسے اوپر سے نیچے دیکھتے اس نے دھمکی دی ۔۔۔
” کرنا ہوگا تمہیں ورنہ ۔۔ ” فلکس بھی اپنے اصل رنگ میں آیا ۔۔۔
اور کمرے میں پھر سے ایوا کا قہقہہ گونجا ۔۔۔
” ورنہ ۔۔۔؟؟” اس نے مسکراتی نظروں سے طنزیہ انداز میں پوچھا۔۔
” ورنہ تم ہمارے قبضے میں ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ ۔۔ ” اگرچہ وہ اس کے اس طرح ہسنے سے گھبرایا تھا لیکن اس پر ظاہر نہیں کیا ۔۔
” یہ بات ہے ۔۔۔ ” اس نے ہونٹ کو گول کر پرسوچ انداز میں مصعوم سی شکل بنا کر پوچھا ۔۔۔
” ہاں ۔۔ یہی بات ہے ۔۔ ” اس نے سنجیدگی سے اسے دیکھا ۔۔
پھر اپنی نظروں کا رخ ان مشینوں کی طرف کیا جس پر اس کی ہارٹ بیٹ کا پتا آرہا تھا ۔۔
اس کے دیکھتے ہی دیکھتے ان میں آگ لگ گئی ۔۔
جس پر وہاں سب گھبرا کر آگ بجھانے لگے ۔۔ آگ بجھا کر وہ جیسے ہی مڑے وہ کرسی خالی تھی ۔۔ راسیاں بھی زمین پر پڑی ہوئی تھیں ۔۔ ان دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا ان کو جلایا گیا ہے ۔۔۔ وہ سب اب اسے ڈھونڈ رہے تھے ۔۔ لیکن کہیں بھی اس کا نام و نشان نہیں تھا ۔۔
آخر تھک کر وہ واپس اپنے آفس آیا ۔۔ باقی سب مخلتف جگہ اسے ڈھونڈ رہے تھے ان کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ پل بھر بھی میں کہاں غائب ہوگئی ہے ۔۔
” مجھے ڈھونڈ رہے ہو ۔۔۔ ” وہ سر ہاتھوں میں گرائے بیٹھا تھا جب یہ آواز سن کر کرنٹ کھا کر سیدھا ہوا ۔۔۔ جہاں اس کے بلکل پاس وہ ٹیبل کے کانر پر بیٹھی سیب کھا رہی تھی ۔۔ اسے دیکھ کر وہ خوفزدہ ہوا ۔۔۔ پل بھر میں اس کا چہرہ سفید ہوا ۔۔
” ارےے۔۔ چہرے کا رنگ دیکھو ۔۔۔ سفید ہو رہا ۔۔ کھانے سہی سے نہیں کھاتے لو ۔۔ یہ سیب کھاؤ ۔۔ ” مصنوعی پریشانی سے کھاتے ہوئے اس نے وہ سیب اس کی جانب بھڑایا جو کچھ دیر پہلے وہ خود کھا رہی تھی ۔۔
فلکس پیچے ہوا اور نامحسوس انداز میں اس نے ٹیبل کے نیچے بنے ایمرجنسی کے بٹن کو دبا ۔۔
” ارے کھاؤ ۔۔۔ میں نہیں چاہتی میرا دشمن کمزور ہو ۔۔ ” اس کو سیب نہ پکڑتے دیکھ کر اس نے زبردستی وہ سیب پورا اس کے منہ میں ٹھونسا جس سے اس کو اپنا سانس روکتا محسوس ہوا ۔۔وہ سیب کو نگلنے کی کوشش کرنے لگا لیکن اس نے اس کے سامنے اس کی ایک نہ چلی ۔۔ اسی وقت دروازہ کھول کر پانچ چھے بندے ہتھیاروں سے لیس اندر آئے ۔۔
تو وہ اسے چھوڑتے ہوئے پیچھے ہوئی ۔۔
” ارے میں تو تمہارا خیال کرتے ہوئے تمہیں سیب دے رہی تھی ” مصنوعی افسوس سے بولتے ہوئے اس نے فکلس کو دیکھا ۔۔ جو سیب کو منہ سے نکلا کر لمبی لمبی سانس لے رہا تھا ۔۔۔
” پک۔۔ڑ۔۔۔و ا۔۔س کو ۔۔۔۔” وہ بڑی مشکل سے بولا تھا ۔۔ وہ وہی سینے پر ہاتھ باندھے کھڑی رہی۔ ۔۔ وہ سب آہستہ آہستہ کر کے اس کی طرف بڑھ رہے تھے ۔۔
اور وہ پرسکون انداز میں ان کو اپنی جانب بڑھتا دیکھ رہی تھی ۔۔ اس کے چہرے پر خوف یا ڈر کوئی بھی تاثر ڈھونڈنے سے بھی نہ مل رہا تھا ۔۔
” ہاتھ اوپر کرو ۔۔۔ ” ان آدمیوں میں سے ایک نے کہا تو اس نے بڑی شرافت سے ہاتھ اوپر کر دیئے ۔۔
اس کی اتنی شرافت سے مان جاننا ان کی توقعہ کے برخلاف تھا ۔۔ فلکس بھی حیران پریشان یہ دیکھ رہا تھا ۔۔
ایوا نے نظریں فلکس کی طرف کر کے ایک آنکھ دبائی اور پھر اگلی ہی پل وہ فلکس کو چھوڑ کر باقی ساری آدمی ہوا میں تھے ۔۔ کرچ کرچ کی آواز اور چیخوں کی آواز آئی پھر خاموشی چھا گئی ۔۔
جیسے ہی اس نے ہاتھ نیچے کیے وہ سب ٹھاہ کر کے زمین پر گر گئے ۔۔ ان میں سے کوئی بھی نہیں ہل رہا تھا ۔۔ پل بھر میں اس نے ان کا کام تمام کر دیا تھا ۔۔
فلکس پھٹی ہوئی آنکھوں سے یہ سب دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” لائک اٹ ۔۔۔ ” اس کی جانب مڑتے ہوئے اس نے چہکتے ہوئے پوچھا ۔۔اور فلکس کو اپنا دم گھٹتا محسوس ہو رہا تھا ۔۔
ایک چیخ گونجی ۔۔ اور وہاں خاموشی چھا گئی ۔۔
اس نے بدمزہ ہوکر چیئر کی طرف دیکھا جہاں وہ بیٹھا تھا وہ اب بھی بیٹھا تھا بس گردن کے اوپر سے چہرہ غائب تھا۔۔ ۔۔ اس نے سر اٹھا کر اس کے چہرہ کی طرف دیکھا ۔۔ اس نے آنکھیں شکاڈ سے پوری کھولیں ہوئی تھیں ۔۔
اس نے ہاتھ نیچے کیا تو اس کا چہرہ بھی نیچے زمین پر گر گیا ۔۔ وہ مطمئن انداز میں ہاتھ جھاڑتے ہوئے مزے سے لاشوں کو پھلانگتی باہر کی طرف جانے لگی ۔۔۔
پھر جو بھی اس کے راستے میں آتا گیا ۔۔ اور اسے روکنے کی کوشش کرتا۔۔۔۔
وہ جان گنوا رہا تھا ۔۔
خون سے خوفزدہ رہنے والی نے پل بھر میں خون کی ندیاں بہا ری تھی۔۔۔
اور ابھی نہ جانے کتنی اور بہانی تھیں ۔۔۔
لیکن یہ طہ تھا کہ اپنے راستے میں آنے والے کو وہ نہ چھوڑ رہی تھی ۔۔۔
__________________________________
جولیا کی باتیں سننے کے بعد وہ ایوا کے گھر آیا لیکن وہ کہیں نہیں تھی ۔۔ وہ ہر اس جگہ کو دیکھ چکا تھا جہاں اس کے ہونے کے امکان تھے لیکن وہ تو ایسے تھی جیسے زمین کھا گئی اس کو یا آسمان نگل گیا ہو ۔۔ اس کا دھیان مائک کی طرف گیا ۔۔ تو اب وہ اس جگہ تھا جسے چھوڑنے کے بعد اس نے مڑ کر نہیں دیکھا تھا لیکن اب اس جگہ آیا تھا صرف اپنی بیوٹی کے لیے ایوا کے لیے ۔۔ اور جب وہ وہاں پہچا اور وہاں اتنی ویمپائرز کو نگرانی کرتے دیکھا تو اس کا شک بھی یقین میں بدل گیا ۔۔۔
” ایوا کہاں ہے ۔۔۔ ؟؟” اندر جاتے ہی فوراََ مارک کے گریبان پکڑا اسے اپنے سامنے دیکھ کر وہ گھبرا گیا ۔۔ اور اس کا گھبرانا اس کی نظروں سے چھپا نہ تھا ۔۔۔
” کیا مطلب کہاں ہے ۔۔ ” اپنے حواس کو قائم کرتے ہوئے اس نے الٹا اس سے پوچھا ۔۔
شہرام نے اس کا سر زور سے دیوار سے مارا ۔۔ باقی ویمپائرز نے جب آگے بڑھنا چاہا شہرام کی رعبدار آواز سن کر وہیں روک گئے ۔۔
” ڈرامے مت کرو۔ ۔۔ بتاو کہاں ہے وہ ۔۔ ” اس نے دوبارہ اس پر حملہ کرنا چاہا لیکن وہ کسی طرح خود کو بچا کر اس کی گرفت سے نکلا ۔۔
” تمہیں پتا ہو ۔۔ مجھ سے کیا پوچھ رہے ہو ۔۔ ” شہرام اس کی جانب مڑا لیکن مارک بھی اب تیار اور چوکنا تھا ۔۔ اس کو اپنی جانب آتا دیکھ کر اس نے جیب سے بوتل نکالی اور اس میں موجود پانی اس پر پھینکا ۔۔۔
شہرام کو اپنے گردن اور بازوں کی جلد جلتی محسوس ہو رہی تھی اس کو یہ جاننے میں دیر نہیں لگی کہ مارک نے کیا چیز اس پر استمال کی ہے ۔۔ تکلیف ناقابلِ برداشت تھی وہ وہیں کھڑا ضبط کرنے لگا ۔۔ کہ مارک نے موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شہرام کے اسی بازو پر حملہ کیا جہاں وہ پانی جھلسہ گیا تھا ۔۔۔
شہرام پیچھے دیوار سے ٹکرا کر نیچے زمین پر بیٹھ گیا ۔۔۔
مارک اس کے پاس آیا ۔۔۔
” جس کی تمہیں بے چینی ہے نا ۔۔ اسے تمہارے سامنے ہی موت کے گھاٹ اتاروں گا ۔۔۔ ” طنزیہ انداز میں بول کر وہ سیدھا ہو کر کھڑا ہوا اپنے ماتحتوں کی جانب مڑا تاکہ ان کو ایوا کو یہاں لانے کا کہے جیسے اس کو اس کے ویمپائرز تھوری دیر پہلے ہی اٹھا کر لائے تھے ۔۔مگر اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتا اس کو اپنا دم گھٹتا محسوس ہوا ۔۔
” پہلے ۔۔۔ اپنے آپ کو تو بچا لو ۔۔۔ ” شہرام اس کے گلے کو اپنے گرفت میں لیے بولا ۔۔ اور ساتھ ہی گرفت اور مضبوط کر دی ۔۔۔ اب کی بار وہ بری طرح کھانسنے لگا ۔۔۔ آنکھیں باہر کو ابل گئیں ۔۔ اس نے ایک بار پھر اس جگہ وار کرنا چاہا جہاں وہ پانی گرایا تھا ۔۔۔ مگر وہ جگہ بلکل سہی تھی ۔۔ یہ ناممکن تھا۔۔ اسے پانی سے بنے زخم کو بھرنے میں دنوں لگتے تھے لیکن وہ کیسے اتنی جلدی زخم بھر گیا ۔۔۔
” بت۔۔۔ تا ۔۔ ہو۔۔ ں ۔۔ ” شہرام نے گرفت ہلکی کی چھوڑا اب بھی نہیں ۔۔۔ مارک نے لمبی سانس لی ۔۔۔
” بتاؤ۔۔۔۔ ” شہرام نے گرفت اور ہلکی کی ۔۔ یہی وہ پل تھا جس سے وہ پھر اسکی گرفت سے نکل کر وہاں سے بھاگ گیا ۔۔ شہرام بھی اس کے پیچھے ہوا ۔۔
وہ باہر کی طرف جا رہا تھا ۔۔۔لیکن پھر اس نے مارک کو سٹیچو کی طرح سیڑھیوں کے پاس مجسمے کی طرح کھڑا پایا ۔۔ اس کا ارادہ مارک کی گردن اڑا کر جان سے مارنے کا تھا ۔۔
لیکن وہاں اس کے پاس جا کر اسے بھی رکنا بھی پڑا ۔۔
اس کے قدموں کے ساتھ ۔۔
دل بھی رک گیا ۔
آنکھوں کو گویا اقرار آیا ۔۔
سامنے ہی وہ کھڑا تھی ۔۔ بلیک شرٹ ۔۔ بلیک پینٹ ۔۔ ان کی جانب اس کی پشت تھی لیکن وہ پھر بھی جان گیا تھا یہ اس کی بیوٹی تھی ۔۔۔
مگر کچھ گربر تھی ۔۔ اس نے دیکھا کہ وہ پوری جگہ لاشوں سے بھری ہے ۔۔
اور ویمپائرز کے سر اور دھر الگ الگ پڑے تھے ۔۔۔
اس کا انہونی کا احساس ۔۔ اس نے دوبارہ ااس کی طرف غور سے دیکھا۔۔
جس کے قدموں کے پاس لاشیں تھیں ۔۔ وہ سارے ویمپائر اس محل کی رکھوالی کرتے تھے ۔۔ اتنا خون تھا لیکن اس سب کے باوجود ۔۔۔ وہ اتنے ریلکس انداز میں کھڑی تھی ۔۔
” ایوا۔ ۔۔ ” اس نے سرسراتے ہوئے اس کا نام لیا ۔۔
وہ مڑی ۔۔ مگر اس کی آنکھیں لال تھیں ۔۔ اور اس کے ہاتھ میں کسی ویمپائر کا سر تھا جسے اس نے ایک طرف پھنک دیا ۔۔
شہرام کو دیر نہ لگی یہ جاننے میں کہ اس نے اس کے پاس پہنچے میں دیر کردی ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: