Beauty and the Vampire Novel by Zaha Qadir – Episode 2

0
بیوٹی اینڈ دی ویمپائر از ضحٰی قادر – قسط نمبر 2

–**–**–

خون آلودہ کپڑے بدل کر ہاتھ میں ریڈ مارکر تھامے وہ لکڑی کی الماری کے سامنے کھڑا تھا ۔۔
کمرے میں بیڈ کے پاس لیمپ روشن تھا ۔۔ جس کی روشنی اتنی نہ تھی کہ اس میں پورا کمرہ روشن ہو ۔۔۔ لیکن پھر بھی اس کو بلکل صاف نظر آ رہا تھا ۔۔ دن کے اجالے کی طرح صاف ۔۔۔
اب الماری کھولے وہاں کچھ لکھ رہا تھا یہ غالباً شراب کی الماری تھی کیوں کہ پوری الماری میں جابجا شراب کی بھری ہوئی بوتلیں پڑی تھی ۔۔
وہ لکھ کر پیچھے ہوا تو الماری کے دروازے والی سائڈ مختلف ناموں سے بھری تھی ۔۔ وہ اتنے نام تھے کہ مزید لکھنے کے لیے بھی جگہ نہیں تھی حالانکہ نام بہت چھوٹے چھوٹے کر کے لکھے گئے تھے ۔۔ اور سب نام مرادنہ تھے ۔۔ یہ سب وہ لوگ تھے جن کا اس نے شکار کیا تھا ۔۔ وہ جب بھی کسی کا شکار کرتا اس کا نام یہاں آکر لکھ دیتا ۔۔ اسے عورتوں کا خون نہیں پسند تھا ۔۔ اس نے اپنی اب تک کی زندگی میں صرف ایک عورت کا خون چھکا تھا ۔۔ جو عجیب سا کڑوا تھا ۔۔ اس خون کی خوشبو بھی ناقابلِ حد تک ناگور تھی اس کے لیے ۔۔
وہ اب کھڑکی کے سامنے سینے پر ہاتھ باندھےکھڑا ہوگیا۔۔ کھڑکی پوری دیوار کے جتنی تھی ۔۔ جس پر گلاس لگا ہوا تھا ۔۔ کھڑکی سے نظر آتے آدھے چاند کی سفید روشنی سے اس کا وجود نہا گیا تھا ۔۔
اس کی گرے آنکھیں چاند پر جمی تھی لیکن دماغ میں کسی اور کا عکس تھا ۔۔
ہیزل آنکھیں ۔۔ اور گولڈن بالوں والی وہ لڑکی جو اسے بری طرح اپنی جانب متوجہ کر رہی تھی ۔۔ اس کے خون کی خوشبو ۔۔اس نے آنکھیں بند کر کے لمبی سانس لی جیسے وہ خوشبو اندر اتار رہا ہو ۔۔ حواسوں پر چھا جانے والی میٹھی سی مہک ۔۔ جیسے سارے جہاں کی خوشبو نے اس کے وجود میں بسرا کر لیا ہو ۔۔
اس نے اپنی آنکھیں کھولی تو وہ پھر سے کالی تھیں ۔۔ اس رات کے اندھیرے سے بھی زیادہ گہری کالی ۔۔
” بیوٹی ” اس کو سوچتے ہوئے اس کے ہونٹوں سے بےساختہ یہ الفاظ نکلے ۔۔۔
ہاں وہ واقعی بیوٹی تھی ۔۔ اس چاند سے بھی زیادہ خوبصورت لیکن اسے خوبصورتی سے نہیں ۔۔۔ خون سے مطلب تھا ۔۔۔
اس کی طلب اس کے بارے میں سوچتے ہوے پھر سے سر اٹھا رہی تھی ۔۔
اس نے وائین کی بوتل کھولی اور منہ کو لگا لی ۔۔۔ اپنی طلب پر قابو پانے کے لیے اب وہ یہی کرسکتا تھا ۔۔۔
چاند کی چاندنی اسے دیکھتی خاموشی سے پلگتی جا رہی تھی ۔۔
بہت دور ایک غار میں جہاں ایک عورت زمین پر ستارہ بنا کر اس کے کونے پر ایک ایک کینڈل رکھے بلکل درمیان میں آنکھیں بند کر کے بیٹھی ہوئی تھی ۔ اس کے ہونٹ تیزی سے ہل رہے تھے جیسے وہ کوئی منتر پڑھ رہی ہو ۔۔۔ کینڈل کی شعاعیں تیز اور لمبی تھیں ۔۔
اس دائرے کے سامنے تین لوگ کالے رنگ کا چوگا پہنے کھڑے تھے ۔۔ انہوں نے اپنے چوگے کی ہوڈی سے اپنا منہ چھپایا ہوا تھا صرف ان کے ہونٹ نظر آرہے تھے ۔۔ لیکن درمیان والے کا چوگا باقی دنوں سے مختلف تھا ۔۔ اس کے چوگے سونے سے M لکھا ہوا تھا ۔۔
کینڈل کی فلیم چھوٹی ہوتی اپنی سابقہ اس حالت میں آئی اور اس عورت کے ہلتے ہونٹ بھی اب ساکت ہوگئے تھے ۔۔۔اس نے آنکھیں کھول کر ان تینوں کو دیکھا۔۔۔
” کیا پتا لگا ۔۔۔ ؟؟” درمیان میں کھڑا وجود بولا ۔۔
” تمہارا وقت جلد ہی ختم ہونے والا ہے ۔۔۔ ” وہ عورت کھڑی ہوکر چٹکی بجا کر بولی جس سے وہ غار ایک عالیشان کمرے میں تبدیل ہونے لگا ۔۔ یہ کمرہ اتنا بڑا تھا ۔۔ جیسے محل کا کوئی کمرہ ہو ۔۔۔ یا وہ واقعی ہی کسی محل کا کمرہ تھا۔۔
درمیان میں کھڑے شخص کے پیچھے کھڑے دونوں وجود آگے آۓ اور احترام کے ساتھ اس کا چوگا اتار کر پیچھے ہوگئے ۔۔۔
اس عورت نے خاموشی سے یہ سب دیکھا۔۔۔
چوگا اتارا تو وہاں لمبا چوڑا مضبوط جسامت کا ایک وجیہہ شخص کھڑا تھا ۔۔ اس کی رنگت حد سے زیادہ سفید تھی ۔۔ آنکھوں میں سفاکی تھی ۔۔ وہ اب کمرے میں پڑے تخت پر بیٹھا کر اس عورت کی جانب متوجہ ہوا ۔۔۔
” تفصیل بتاؤ ۔۔۔ ” اس نے عورت نے ایک نظر اسے دیکھا پھر اس کے پاس کھڑے ان دو وجود کو ۔۔ اس کی نظروں کا مفہوم سمجھ کر اس نے ہاتھ سے مخصوص اشارہ کیا ۔۔ اگل ہی پل کمرے میں صرف وہ دنوں تھے ۔۔۔
” رائیل بلڈ ۔۔۔!!!” وہ بس اتنا بولی تھی کہ وہ شخص چونک کر کھڑا ہوا ۔۔۔
” تمہیں پتا ہے تم کیا کہہ رہی ہو ۔۔۔جولیا ۔۔۔۔ ” وہ غضب ناک ہوا ۔۔
” لارڈ مارک مجھے اچھی طرح پتا ہے کہ میں کیا کہہ رہی ہوں ۔۔۔ ” وہ بھی چبھتی ہوئی نظروں سے اسے دیکھ کر بولی ۔۔ اس کی بات سن کر مارک نے نہ میں سر ہلایا اور اضطرابی انداز میں کمرے میں چکر کاٹنے لگا ۔۔۔
” یہ نہیں ہوسکتا ۔۔۔ میں نے اس تاریخ پیدا ہونے والے ہر بچے کو مار دیا تھا ۔۔۔ ” جولیا کہ بلکل سامنے کھڑا ہوکر وہ پریشانی سے بولا ۔۔
جولیا نے اسے دیکھا پھر اطمینان سے پاس پڑی باسکٹ سے سیب نکال کر کھانے لگی ۔۔
” یہ قدرت کا فیصلہ تھا ۔۔ اور اس کی پیشن گوئی بہت پہلے ہوچکی ہے ۔۔ تم اسے ٹال نہیں سکتے ۔۔۔ ” وہ صوفے پر مزے سے بیٹھے اس کی حالت کا لطف اٹھا رہی تھی ۔۔۔
” نہیں ۔۔ میں کبھی نہیں یہ ہونے دوں گا ۔۔ اس کے لیے اگر مجھے قدرت کے خلاف بھی جانا پڑے میں جاؤں گا ۔۔۔ ” وہ فیصلہ کن انداز میں بولا ۔۔ اس کی بات پر وہ یوں ہنسی جیسے کوئی بڑا کسی بچے کی بات پر ہنستا ہے ۔۔۔
” تمہیں کیا لگتا ہے اتنا آسان ہے قدرت کے خلاف جانا ۔۔۔ کتنوں کی جان جاۓ گی ۔۔ پھر بھی یہ کنفرم نہیں کہ یہ کام ہوتا ہے کہ نہیں ۔۔۔ ” جولیا اب سنجیدگی سے بولی تھی ۔۔
” تم جو کرنا ہے کرو ۔۔ لیکن مجھے اس کا حل چاہیے ۔۔۔ہر صورت میں ۔۔ مجھے اپنا تاج اور سلطنت سلامت چاہیے ۔۔۔” جولیا نے دومنٹ اسے دیکھا پھر منہ میں کچھ پڑھ کر چٹکی بجائی ۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اس کا وجود غائب ہوگیا ۔۔۔ اب کمرے میں وہ اکیلا تھا ۔۔ اس کی بادشاہت اسے خطرے میں نظر آ رہی تھی ۔
رات کی تاریکی اب دن کر اجلے میں بدلنے جا رہی تھی ۔۔۔
ایک نیا دن شروع ہونے کو تھا ۔۔۔
_____________________________
دن کا اجالا چاروں طرف پھیل گیا تھا ۔۔ پرندوں کی چہچہاہٹوں کی آوازیں بڑی پر لطف لگ رہی تھی ۔۔
لیکن اگر آپ ایوا کے گھر کے اندر جاؤ تو آپ کو وہ بلکل خاموش ملے گی جس کی چہچہاہٹ روبرٹ کو زندگی کا پتا دیتی تھی ۔۔۔
ڈایئنگ ٹیبل پر اس وقت خاموشی تھی ۔۔۔ جہاں روبرٹ شرمندہ تھا ۔۔ وہی ایوا سیریل کے باؤل میں چمچ ہلاتے ہوئے اپنے آپ کو کمپوز کرنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن یہ تو ہر بار ہوتا آ رہا تھا ۔۔۔ ہر بار وہ خود کو سنبھالنے کی کوشش کرتی اور ہر بار ناکام رہتی لیکن اس بار کچھ الگ ہونے کو تھا ۔
ڈائینگ ٹیبل پر پھیلی خاموشی کو روبرٹ کے فون نے توڑا ۔۔ اس نے سکرین دیکھی ۔۔جہاں اسٹیشن سے فون آرہا تھا ۔۔ اس نے کال اٹینڈ کی لیکن اسے کال اٹینڈ کیے بغیر ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ ایک اور لاش ملی ہونی ہے ۔۔کیونکہ اس کیس کی مین کڑی اسے معلوم ہوگئی تھی لیکن وہ کسی کو وہاں بتا نہیں سکتا تھا ۔۔اسے پتا تھا سب مزاق بنائیں گیے ۔
بھلا ویمپائر وہ بھی اس دنیا میں ۔۔
اور وہی ہوا ۔۔۔ ایک اور لاش ملی
ایوا کو یونی چھوڑ کر وہ کام پر چلا گیا ۔۔
اسے یہ کیس خود ہی اپنے طریقے سے ہینڈل کرنا تھا ۔۔ ویسے بھی ویمپائر کو ہینڈل کرنا اس کے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی ۔۔
______________________________
یونی میں آؤ تو وہاں زندگی کا سہی سے پتا لگ رہا ہے ۔۔ کوئی گروپ کی صورت میں گراس پر بیٹھے باتیں کر رہے ہیں کوئی سیڑھیوں پر ۔۔ کوئی اپنی دوست کے ساتھ ۔۔ کہیں کپل ۔۔ اسے بھی آج اپنی دوست بہت یاد آ رہی تھی لیکن وہ دوسرے شہر رہتی تھی جہاں سے وہ شفٹ ہوئے تھے ۔۔
اسے یونی میں چلتے لوگ ۔۔ ان کی آوازیں ان کی ہنسی سب سے اس وقت کوفت ہو رہی تھی ۔۔ دل کر رہا تھا ۔۔ کے دنیا کے کسی ایسے کونے میں چلی جاے جہاں صرف وہ ہو اور کوئی نہ ہو ۔۔
چیزیں لاکر میں رکھتے ہوے وہ یہی سوچ رہی تھی کہ اسے اپنی پشت پر کسی کہ نظروں کی تپش محسوس ہوئی ۔۔ وہ مڑی تو کہ دیکھ سکے کون دیکھ رہا ہے اسے ۔۔
لیکن اسے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کے سینے پر ہاتھ باندھے اپنے مخصوص انداز میں شہرام اس سے 5 قدم کے فاصلے پر کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔
بڑی سنجیدگی سے ۔۔۔
سب کو اس سے ڈر لگتا تھا ۔۔
لیکن ایوا ۔۔
اس کو وہ اپنی جانب اٹریکٹ کرتا تھا ۔۔۔
اس کا خیال تھا کہ اسے وہ بڑا لگتا ہے شاید اس وجہ سے ۔۔
لیکن نہیں بات کچھ اور تھی ۔۔
جس سے وہ دونوں ہی انجان تھے ۔۔
ان کے درمیان سے ایک لڑکا گزرا ۔۔ جس میں صرف سکینڈ لگا ہوگا ۔۔ لیکن اس لڑکے کے گزرتے ہی وہ جگہ خالی تھی جہاں کچھ دیر پہلے وہ کھڑا تھا ۔۔
کیا وہ واقعی کھڑا تھا ۔۔
یا پھر اسے وہم ہوا تھا ۔۔۔
سر جھکتے ہوئے اس نے لوکر بند کیا اور کلاس کی جانب چل دی ۔۔ جبکہ اس کا کوئی بھی کلاس لینے کا کوئی موڈ نہیں تھا لیکن شاید دماغ کو مصروف رکھنے سے اس کا دھیان وہاں سے ہٹ جائے ۔۔
اگر وہ غور کرتی جو کہ اس نے نہیں کیا ۔۔ کہ اس کا دل و دماغ سے وہ لاش اور خون کا خوف سے نکل گیا ہے اور اب وہ اس حادثے کو سوچنے کی بجائے ۔۔۔ کسی اور کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔۔۔
پہلے ۔۔ لیکچر کے بعد دوسرا ۔۔۔پھر تیسرا ۔۔آخر چوتھا لیکچرر جاکر فری ہوا تو وہ یونی کی بیک سائیڈ پر آئی جہاں پرانی سی بلڈنگ بنی تھی ۔۔ یہ جگہ خالی رہتی تھی ۔۔ اس نے کسی کو اس طرف آتی جاتے نہیں دیکھا تھا ۔۔ وہ خود بھی دوسری بار یہاں آئی تھی ۔۔
اسے ایسی جگہوں سے انس تھا ۔۔ اس جگہ کہ بارے میں اس نے سب سے سنا تھا کہ کوئی رہتا ہے یہاں کوئی ان دیکھا وجود جس کی آوازیں یہاں سے آتی ہے ۔۔ اس وجہ سے یہ جگہ بند ہے ۔۔ اس جگہ پر سے یک کہ دیگر بعد تین چار لاشیں دریافت ہوئی تھیں۔۔۔ جس کے بعد سے یہ جگہ بلکل خالی تھی ۔۔ بلنڈگ کے سامنے ہی چھوٹا سا گارڈن تھا جس کے بینچ میں فوارہ لگا ہوا تھا جو پتا نہیں کتنے عرصے سے بند تھا اور اب تو وہاں پر سبز رنگ کی بیل اُگی ہوئی تھی جس نے فوارے کی ویرانی کو کافی حد تک کم کر دیا تھا ۔۔ بلڈنگ پر بڑی بڑی دراڑیں پڑی ہوئی تھیں ۔۔ شاید یہاں پہلے کچھ ہوتا ہو۔۔۔ لیکن اب یہ جگہ بلکل ویران تھی ۔۔
آج اس نے اندر جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ پچھلی بار جب وہ آئی تھی تب باہر سے دیکھ کر ہی واپس چلی گئی تھی لیکن آج اسے اپنے دماغ کو ان سحر گرے آنکھوں سے آزاد کرانا تھا ۔۔وہ یہ بات فراموش کرگئی تھی کہ وہ کس بات سے پریشان تھی ۔۔
اس نے دروازہ کھولا ۔۔ جو چوںں ں ں کہ آواز سے کھلا ۔۔
اندر آئی تو سامنے ہی ایک بہت بڑا ہال نما ہمراہ تھا ۔ جس کے دونوں جانب بنے روشن دان سے آتی سورج کی روشنی نے اس ہال کو روشن کیا ہوا تھا ۔۔ ہال میں جو پرانا سامان پڑا ہوا تھا اس پر سفید چادریں رکھیں ہوئی تھیں ۔۔
دونوں طرف کی دیواروں پر تصویریں لگی ہوئی تھیں ۔۔ جو کسی شاہی خاندان کی لگ رہی تھیں ۔۔ وہاں لگی عورتوں اور مردوں کے لباس سے تو یہی لگ رہا تھا ۔۔ ابھی وہ یہ تصویریں دیکھ ہی رہی تھی کہ اسے اپنے پیچھے دروازہ بند ہونے کی آواز آئی ۔۔۔ وہ گھبرا کر پلٹی ۔۔ اور دروازے کی جانب دیکھا ۔۔۔ لیکن یہ کیا ۔۔۔ وہاں کوئی بھی نہیں تھا مگر دروازہ واقعی میں بند ہوا تھا ۔۔ اس کا دل زور سے ڈھرک رہا تھا کیونکہ دروازہ بہت زوردار آواز سے بند ہوا تھا ۔۔ ابھی وہ اس سے نہیں سنبھلی تھی کہ بائیں دیوار کے بلکل نکر میں سے آواز آنی لگی ۔۔
ٹک ٹک ٹک ۔۔۔ یوں جیسے کوئی دھیرے دھیرے نوک کر رہا ہو ۔۔ پہلے تو اس کے من میں خیال آیا کہ یہاں سے بھاگ جائے ۔۔ لیکن ڈر پر تجسّس غالب آگیا ۔۔ اور وہ چھوٹے قدم اٹھاتی اس طرف آئی ۔۔ جہاں سے آواز آئی رہی تھی۔۔
ایک لمبی سی الماری تھی جس پر سفید کپڑا پڑا ہوا تھا ۔۔ اس نے ابھی ہاتھ اس سفید کپڑے پر رکھا ہی تھا کہ پتا نہیں کہاں سے کالے کوے ۔۔شور مچاتے ہوۓ آ گئے چیخ مارتے ہوئے اس نے ان کے حملے سے بچنے کے لیے اس نے اپنا چہرہ جلدی سے دنوں بازوں میں چھپا لیا ان کوے کے آنے سے اس خاموش سے ہال میں شور سا مچ گیا ۔۔ لیکن یہ کیا کچھ بھی نا ہوا ۔۔ کواں کی کائیں کائیں کا شور بھی غائب ہوگیا ۔۔ اس نے ڈرتے ڈرتے اپنا چہرہ نکالا وہاں کوئی نہیں تھا ۔۔ اس نے حراساں ہوکر چاروں طرف دیکھا لیکن وہاں کسی بھی پرندے کا نام و نشان بھی نہیں تھا ۔۔
نامعلوم خوف کے احساس سے اس کا جسم کانپنے لگا ۔۔ من کیا سب جاے بھاڑ میں لیکن وہ خود یہاں سے بھاگ جائے ۔۔ وہ عمل بھی کر لیتی اگر پھر سے ٹک ٹک کی آواز نہ آتی ۔۔
کیا پتا ۔۔ کوئی پرندہ ہو ۔۔
یا کوئی بلی کا بچا ۔۔
یا بلی ۔۔
اس کے خیال کے آتے ہی وہ خود میں ہمت جمع کرتی الماری کی جانب مڑی اور کچھ بھی مزید سوچے بغیر اس نے جلدی سے وہ کپڑا ہٹایا ۔۔
اب وہاں لکڑی کا کوفن پڑا ہوا تھا ۔۔ جس پر تلوار کا نشان بنا تھا ۔۔
اس کا دماغ اسے وارنگ دے رہا تھا ۔۔ ایوا اب بھی وقت ہے واپس چلی جاؤ ۔۔
لیکن ۔۔ وہ ہر قسم کی ورانگ کو نظرانداز کرتے ہوے وہ کوفن کھول رہی تھی ۔۔
اس کے کوفن کھولتے ہی کوئی ہوا کی تیزی سے گزرا ۔۔ یا شاید وہ ہوا ہی تھی ۔۔ لیکن کوفن تو خالی ۔۔
مگر اگلے پل اسے احساس ہوا ۔۔ کوفن خالی نہیں تھا ۔۔ اس میں کوئی تھا ۔۔ جو اب اس کے پیچھے کھڑا تھا ۔۔
اس کی گرم سانسیں وہ اپنی گردن پر محسوس کر رہی تھی ۔۔سیکنڈ کا وقفہ اور اس کی گردن کسی کی گرفت میں تھی ۔۔ اس نے خود کو آزاد کروانے کی کوشش کی ۔۔
” نا نا نا ۔۔ آج کھانا خود چل کر پاس آیا ہے ۔۔ جانے کیسے دو ۔۔۔ ” اور ایوا اس کو یقین ہوگیا کہ موت اب اس کے سر کھڑی ہے ۔۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اپنے باپ کا چہرہ آیا ۔۔
اسے اپنی گردن پر دانت محسوس ہوئے ۔۔ خود کو آزاد کروانے کی کوشش اس نے ویسے ہی بند کر دی تھی کیونکہ وہ جتنی کوشش کر رہی تھی ۔۔ اتنی ہی گرفت سخت ہو رہی ۔ اور اسے یقین ہو چلا تھا کہ اگر اس نے مزید کوشش کی تو وہ جو بھی ہے اسے چھیڑ پھاڑ دے گا ۔۔
اس نے خود کو موت کے حوالے کرتے ہوے آنکھیں بند کر لی ۔۔۔
لیکن آنکھیں بند کرتے ہوئے پتا نہیں کیوں لیکن اس کے دماغ میں وہ سحر طاری کرنے والی گرے آنکھیں آئی تھیں ۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: