Beauty and the Vampire Novel by Zaha Qadir – Episode 3

0
بیوٹی اینڈ دی ویمپائر از ضحٰی قادر – قسط نمبر 3

–**–**–

اس کے دانت اب بھی اس کی گردن پر تھے ۔۔
پھر جیسے سب کچھ ایک پل میں ہوا تھا ۔۔ لیکن کیا ہوا اسے نہیں پتا تھا ۔۔ بس اس نے خود کو زمین پر گرتے ہوئے محسوس کیا ۔۔اور ساتھ ہی اس کا دل و دماغ تاریکی میں گم ہوگیا ۔۔
لیکن جب تک اس کے حواس تھوڑے قائم تھے اس کے دل سے پکار نکلی ۔۔۔
“شہرام “
یونی کے گراؤنڈ میں آنکھیں بند کیے کانوں میں ہیڈ فون لگا کر درخت سے ٹیک لگائے بیٹھا شہرام جو فل ویلم کے ساتھ گانے سن رہا تھا ۔۔ اس نے فوراً آنکھیں کھولیں ۔۔۔
اسے یوں لگا جیسے کسی نے اس کا نام لیا ہے ۔۔
” شہرام ۔۔۔۔ ” ایک بار پھر سرگوشی کے انداز میں اسے اپنا نام سنائی دیا ۔۔ کانوں سے ہیڈ فون نیچے کیے ۔۔ پھر وہ بنا ادھر اُدھر دیکھے وہ یونی کے بیک پے بنی بلڈنگ کی طرف گیا ۔۔ اس میں اس کو سیکنڈ لگا ۔۔
اسے نہیں پتا وہ یہاں کیوں ۔۔ مگر یہاں پہنچ کر اسے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا ۔۔ اندر جو بھی تھا ۔۔ اس کی دھڑکن بہت دھیرے دھیرے چل رہی تھی ۔۔ اسے باہر کھڑے اس کی دھڑکن کی آواز آرہی تھی ۔۔ یہاں پھیلی خوشبو اسے بتا رہی تھی ۔۔ کہ اندر کون ہے ۔۔ اسی خوشبو نے تو اسے بےچین کیا ہوا تھا ۔۔
” بیوٹی ۔۔۔ ” ہوا کی تیزی سے وہ دروازہ کھول کر اندر آیا تھا ۔۔
لیکن یہ کیا ۔۔ ایک طرف ایوا زمین پر بےہوش پڑی ہوئی تھی ۔۔ دوسری طرف وہ گھٹنوں کے بل بیٹھا کھینچ کھنچ کر سانس لینے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔
اس نے قہر بھری نظر اس پر ڈالی ۔۔ اس سے بعد میں نمٹنے کا سوچ کر اس نے نرمی سے ایوا کو اپنی گود میں اٹھایا ۔۔
اس کے اٹھاتے ہی اس کی ہلکی ہوتی دھڑکن آہستہ آہستہ نارمل ہونے لگ گئی تھی ۔۔
وہ اسے لے کر پیچھے سے ہی پارکنگ میں آیا ۔۔ اس وقت کچھ لڑکے پارکنگ میں . تھے انہوں حیرت سے اس منظر کو دیکھا ۔۔ اس سے پہلے کوئی ان کی کی تصویر لیتا وہ اسے اپنی بلیک سپورٹ کار میں لیٹاتا وہاں سے چلا گیا ۔۔۔
وہ سنجیدگی سے گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا ۔۔۔ جب اس نے محسوس کیا کہ اسے ہوش آرہا ہے لیکن اسے دیکھے بغیر وہ ڈرائیو کرتا رہا ۔۔ اس کی گرے آنکھوں کی سرد مہری اس وقت معمول سے زیادہ سرد تھی ۔۔
اسے ہوش آرہا تھا وہ جہاں پر بھی تھی وہ جگہ نرم تھی اور مسلسل حرکت میں تھی ۔ اس نے ابھی آنکھیں نہیں کھولی تھیں ۔۔ پھر فلیش بیک سا ہوا اور اسے سب یاد آتا گیا ۔۔ اس نے گھبرا کر آنکھیں کھولیں ۔۔
یہ کیا وہ گاڑی میں تھی ۔۔ لیکن وہ تو اس بلڈنگ میں تھی ۔۔ اس نے گاڑی چلانے والے کو دیکھا ۔۔” شہرام ۔۔۔ ” اس نے صرف سرگوشی میں نام لیا تھا ۔۔لیکن اسے بلکل واضح آواز میں سنا ۔۔
اور ساتھ ہی گاڑی جھٹکے سے رکی ۔۔ اور پھر اس کے بازو اس کی گرفت میں تھے ۔۔
سرد گرے آنکھیں اس پر جمی تھی ۔۔ یہ سب پل بھر میں ہوا تھا ۔۔
اتنی تیزی ۔۔۔!!! وہ تو بس آنکھ جھپک کر رہ گئی ۔۔ جہاں اس نے گاڑی روکی تھی وہ جگہ بھی سنسان سی تھی ۔۔ آس پاس وافر مقدار میں درختوں کی موجودگی اس بات کی علامت تھی وہ اس جنگل کے پاس والی روڈ پر تھے ۔۔۔
اس کی گرے آنکھیں چبھن لیے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔ ان کے درمیان فاصلہ ایک انگلی کے برابر تھا ۔۔ اس کی قربت بڑی سرد تھی ۔۔ ٹھنڈی ۔۔۔۔ ہڈیوں کو جماہ دینے والی ۔۔۔
” کیا ہوا تھا وہاں ۔۔۔ ” اس کی آنکھوں میں دیکھتے اس نے جیسے اس پر کوئی سحر پھونکا تھا اور وہ فر فر سب بتاتی گی ۔۔ دومنٹ اس کو سنجیدگی سے دیکھنے کے بعد وہ پیچھے اور نظریں سامنے سیدھی سڑک پر تھی ۔۔ اسے یہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ آخر وہاں ہوا کیا تھا ۔۔ بیچ سے کچھ تو مسنگ تھا ۔۔ کیونکہ اس کی گردن پر اس ویمپائر کے دانتوں کے نشان نہیں تھے ۔۔ اب اس کا جواب تو وہ ہی دے سکتا تھا ۔۔
لیکن اس وقت جو بڑا مسلہ تھا وہ ساتھ بیٹھی ایوا کی موجودگی جو اپنی طرف متوجہ کر رہی تھی ۔۔۔
بری طرح ۔۔
وہ خود کو اس سے بےنیاز کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔ لیکن اس کی خوشبو وہ پوری گاڑی میں محسوس کر رہا تھا ۔۔ اس کی آنکھیں کالی ہونے لگی تو اس نے بند کر لی ۔۔ مگر اس کی نرم آواز سن کر اس نے بڑی مشکل سے اپنی طلب کو پیچھے کر کے آنکھیں کھولیں تو وہ اپنی اصل رنگ میں آ گئیں تھیں ۔۔ ایوا نے اس پر غور نہیں کیا ۔۔ وہ کار سے باہر دیکھ کر یہ جاننے کی کوشش کر رہی تھی کہ وہ کہاں ۔۔
” ہم کہاں جا رہے ہیں۔۔ “
” گھر ۔۔۔ ” پاکٹ سے سگریٹ کی ڈبی نکالتے ہوئے اس نے یک لفظی جواب دیا ۔۔ اب اپنی طلب سے لڑنے کے لیے اسے سیگریٹ کا سہارا ہی لینا تھا ۔۔ سیگریٹ منہ میں ڈالتے ہوئے اس نے لمبی کش لی اور گاڑی سٹارٹ کی ۔۔ اسے الجھن ہو رہی تھی ۔۔ آخر وہ کیوں لڑ رہا ہے طلب سے ۔۔
نہیں اسے اپنی طلب سے نہیں لڑنا تھا بلکہ بجانا تھا ۔۔ ہاں یہی تو اس کی فطرت ہے ۔۔پھر فیصلہ کرتے ہوئے جیسے وہ پرسکون ہوگیا ۔۔۔۔
اس کی حالت سے بے خبر ایوا نے ناگوری سے اسے دیکھا ۔۔
” یہ سائیڈ میرے گھر کی طرف تو نہیں جاتی ۔۔ ” اس نے الجھ کر اسے دیکھا جو پتا نہیں کہاں لے جا رہا تھا ۔۔
” پتا ہے ۔۔ ” اس نے پرسکون انداز میں جواب دیا ۔۔۔ وہ کافی حد تک خود پر قابو پاچکا تھا ۔۔
” پھر ۔۔ کہاں جا رہے ہیں ۔۔ ” اب کی بار جواب دیئے بغیر وہ بےنیازی سے گاڑی چلتا رہا ۔۔
” گاڑی روکو ۔۔ ” ایوا کو گڑبڑ کا احساس ہوا ۔۔ اس کا بالکل پرسکون انداز ایوا کو ڈرا رہا تھا ۔۔۔ گاڑی کا دروازہ کھولنا چاہا لیکن دروازے کھولنے کا سارا کنٹرول اس کے پاس تھا جو اس سے بےنیاز ڈرائیو کر رہا تھا ۔۔
” کیا تم نے سنا نہیں ۔۔۔ میں نے کہا گاڑی روکو ۔۔ ” وہ چیخنے کے انداز سے بولی تو شہرام نے ناگوری سے اسے دیکھا ۔۔
” ششش ۔۔ آواز نہیں ۔۔ آرام سے بیٹھو ۔۔۔” اور پھر وہ خاموش ہوکر بیٹھ گئی ۔۔
گاڑی جنگل کے اندر بنے اس خوبصورت لکڑی کی گھر کے سامنے روکی ۔۔ وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر اس کی طرف آیا ۔۔
” باہر آؤ ۔۔۔ ” اور معمول کی طرح اس کا حکم مانتے ہوئے گاڑی سے باہر نکلی ۔۔۔
” میرے پیچھے آؤ ۔۔ ” چل تو وہ بھی اس کی پیروی میں چل دی ۔۔ وہ کیا کر رہی ۔۔ کیوں کر رہی ہے ۔۔ اسے نہیں پتا تھا ۔۔ بس اتنا پتا تھا ۔۔ جو وہ کہہ رہا ہے ۔۔ اس نے کرنا تھا ۔۔
گھر اندر سے بھی لکڑی کا بنا تھا ۔۔نفیس اور عمدہ ۔۔ اندر جاتے ہی لاؤنج تھا ۔۔ جس کی دائیں دیوار کر طرف لمبی کھڑکی بنی تھی ۔۔۔ گلاس وال لگی ہوئی تھی ۔۔ تو بلکل سامنے والی دیوار پر بک شلف بنی ہوئی تھی ۔۔ جو کتابوں سے بھری ہوئی تھی ۔۔ بائیں طرف اوپن کچن تھا ۔۔
وہ اس کے پیچھے چلتی ہوئی اب اوپر آئی تھی ۔۔جہاں قطار میں آمنے سامنے تین کمرے بنے تھے ۔۔
پہلے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا ۔۔ تو وہ بھی اندر چلی گئی ۔۔ اس کے اندر آتے ہی اس نے دروازہ بند کر دیا ۔۔ پھر اس کی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی تو وہ ہوش میں آئی اور حیرت سے آس پاس دیکھنے لگی ۔۔۔
” تم انسان بھی کتنے بے وقوف ہوتے ہو نا ۔۔۔۔ ” وہ بلکل اس کے پاس تمسخر آمیز مسکراہٹ لیے کھڑا تھا ۔۔۔ ایوا نے الجھ کر چہرہ اٹھایا اور اس کی جانب دیکھا ۔۔
” کیا مطلب ۔۔ ہم انسان ۔۔ تم بھی تو انسان ہو ۔۔۔ اور میں یہاں کیوں ہو ۔۔ یہ سب کیا ہے ۔۔۔ ” وہ بار بار ادھر اُدھر دیکھ کر سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔
” تمہیں پتا ہے ۔۔ میں بڑے لوگوں کا خون پیا ہے ۔۔۔۔ ” یہ کہتے ہوئے اس نے اپنی ہاتھ کی پشت سے اس کی گردن سہلائی پھر کر وہ دو پل کو رکا اور آنکھیں بند کر کے لمبی سانس لی۔۔ اور ایوا وہ ساکت سی کھڑی اسے دیکھ رہی تھی ۔۔ جیسے یقین کرنا چاہ رہی ہو جو اس نے سنا ہے وہ سچ ہے ۔۔۔
” لیکن ۔۔ کسی کے ۔۔ کسی کے بھی خون کی ۔۔ خوشبو تمہاری طرح نہیں ۔ ” بول کر اس کی آنکھیں کھولیں تو وہ کالی تھیں دلکش گرے رنگ ان آنکھوں سے یوں غائب ہوا جیسے کبھی تھا ہی نہیں ۔۔
ایوا کو لگا تھا جیسے وہ موت کے ایک کنویں سے نکل کر دوسری میں آ گئی ہو ۔۔۔
شہرام نے اس کے گولڈن بالوں کو پکڑ کر اس کا چہرہ اوپر کیا اس کی گرفت نرم تھی لیکن پھر بھی وہ اپنا سر نہیں ہلا پا رہی تھی ۔۔
شہرام کی نظر اس کی گردن کی شہہ رگ پر تھی ۔۔ وہ اس کی تیز ہوتی دھڑکن سن رہا تھا ۔۔ جو موسیقی کی طرح محسوس ہو رہی تھی ۔۔ کبھی بہت تیز تو کبھی بہت ہلکی ۔۔۔
ایوا نے خود کو آزاد کروانے کے لیے اپنے دنوں ہاتھوں سے اسے پیچھے کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی ۔۔ تو اس کے ہاتھ سیدھے اس کے دل کے مقام پر پڑے ۔۔۔
پھر اس کی گرفت ایوا پر ہلکی ہوئی ۔۔ جس کا فائدہ اٹھا کر وہ دروازے کی طرف بھاگی ۔۔
جبکہ وہ بے یقین سا ۔۔ پہلی بار ۔۔ ان گزرے سالوں میں پہلی بار اپنی دل کی دھڑکن سن کر حیران تھا ۔۔
اس نے دروازے کی جانب دیکھا وہ کھلا تھا یعنی وہ نکل گئی تھی ۔۔ وہ ہوا کی تیزی سے اس کے پیچھے ہوا ۔۔
وہ جو بار بار پیچھے دیکھ کر بھاگ رہی تھی ۔۔ کہ کہیں وہ اس کے پیچھے تو نہیں آ رہا ۔۔ ابھی وہ مین دروازے سے تھوڑی ہی دور تھی کہ اس کا سر کسی کے مضبوط سینے سے ٹکرایا ۔۔
کون ہوسکتا تھا ۔۔ وہی ۔۔۔
پہلی بار جب وہ اس سے ٹکرائی تھی تب اس نے اسے دھکا دے کر دور کیا تھا ۔۔۔۔ آج وہ خود اس سے دور ہونا چاہتی تھی ۔۔ اس کے گولڈن لمبے بال اس کی پشت پر بکھرے ہوئے تھی ۔۔ چہرے پر ہوائیں اڑی ہوئی تھیں ۔۔ آنکھیں سمہی ہوئی تھیں ۔۔ اس کا نازک جسم کپکپا رہا تھا ۔۔۔ اس کی حالت اس کی وقت قابل رحم تھی ۔
شہرام نے دوبارہ اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنے دل پر رکھا ۔۔ اس کا دل پھر دھڑکا ۔۔ اس نے اسے دیکھا جو خود کو آزاد کروانے کی جان توڑ جہد و جہد کر رہی تھی ۔۔ جس سے اس کا سانس بھی پھول گیا تھا ۔۔ شہرام نے اس کا سر پکڑ کر اپنے سینے سے لگایا ۔۔۔
ایوا جو اپنے دوسرے کی ہاتھ کی مدد سے اس کی قید سے نکلنے کی کوشش کر رہی اس کی اس حرکت سے کپکپا اٹھی ۔۔
” سنو ۔۔ آواز آرہی ہے ۔۔ دل دھڑکنے کی ۔۔ ” ایک ہاتھ اس کی پیشت پر جبکہ دوسرے ہاتھ سے اس کا سر سینے سے لگائے وہ جھک کر اس کے کان کے پاس سرگوشی کے انداز میں بولا ۔۔
” دھک ۔۔۔ دھک ۔۔ ” ایوا کے کان بلکل اس کے دل کے مقام پر تھے اس لیے وہ واضح آواز سن رہی تھی اس کی دھڑکن کی ۔۔ اس لیے اس نے شہرام کی بات پر جلدی سے سر ہلایا ۔۔۔
اب اس نے آزاد کروانے کی کوشش ختم کردی تھی ۔۔ وہ تھک گئی تھی۔۔۔
شہرام نے نرمی سے اسے خود سے الگ کیا ۔۔ اور تھوڑی سے پکڑ کر اس کا چہرہ اوپر کیا ۔۔۔
” تمہیں پتا ہے اس کا کیا مطلب ہے ۔۔۔ ” وہ نرمی سے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا ۔۔
ایوا نے نہ میں سر ہلایا ۔۔
یہ کوئی اور ہی شخص تھا ۔۔ اس میں نہ پہلی ملاقات والی رعنویت سرد مہری تھی ۔۔ نہ ہی کچھ دیر پہلے والی وحشت ۔۔جو اسے ختم کرنے کے در پر تھی۔۔
” اس کا مطلب ہے ۔۔۔۔۔۔ تم ۔۔۔ ” ایک پل کے لیے خاموش ہو کر اس نے گہری نظروں سے اسے دیکھا جو دم سادھے پوری آنکھیں کھولیں حیرت سے اس کی بات سن رہی تھی ۔۔ “میری ۔۔ ہو ۔۔۔ ” یہ بول کر وہ ہلکے سے مسکرایا ۔۔ مسکراتے ہوئے اس کے گال میں گڑے پڑے تھے ۔۔ گہرے ۔۔
اب وہاں معنی خیز خاموشی تھی ۔۔
وہ دنوں اس طرح ایک دوسرے کے قریب کھڑے ۔۔۔ یک ٹک آنکھوں میں دیکھ رہے تھے ۔۔
گرے آنکھوں میں چمک تھی ۔۔ بلکل ایسی چمک جو برف پر سورج کی کرن پڑنے سے ہیرے کی ہوتی ہے ۔۔
یعنی وہ سرد برف پگھل رہی تھی ۔۔
لیکن ۔۔ ایک ہلکی سی کرن کتنی برف کو پگھلا سکتی ہے ۔۔
آہستہ آہستہ ایوا کے دماغ کام کرنا شروع کیا ۔۔ شہرام نے بھی اب اسے اپنی گرفت سے آزاد کردیا تھا ۔۔
اور اب جیبوں میں ہاتھ ڈالے ۔۔ اسے دیکھ رہا تھا ۔۔
” و۔۔ہاں ۔۔ بھی تم تھے نا ۔۔۔۔ ” پہلے وہ تھورا ہکلائی پھر ۔۔ دیھرے سے جملہ مکمل کیا ۔۔
جو بھی تھا ۔۔ لیکن اس وقت وہ جس کہ ساتھ یہاں موجود تو ۔۔۔ وہ ایک درندہ تھا ۔۔ جو خون پیتا تھا ۔۔ اس لیے اس نے احتیاط کرنی تھی ۔۔ بس کسی طرح گھر جانا تھا ۔۔
” نہیں ۔۔۔ اگر میں ہوتا وہاں ۔۔ تو تم یہاں کھڑی نا ہوتی ۔۔ ” وہ ریلکس انداز میں ٹیبل پر پڑی وائین اب گلاس میں ڈال رہا تھا ۔۔ اور وہ سچ کہہ رہا تھا ۔۔ وہ شکار کرتے ہی اپنی شکار کو اگلی سانس لینے کی مہلت نہیں دیتا تھا ۔۔۔
لیکن جب سے وہ آئی تھی۔۔۔ سب اس کے مزاج کے بلکل الٹ ہو رہا تھا ۔۔
اس نے پہلے کبھی کسی کی جان بچانے کے لیے اپنی طلب سے جنگ نہیں کہ تھی ۔۔۔
پہلے کبھی اسے ڈر نہیں لگا تھا کہ کوئی جان سے جا رہا ہے کہ نہیں ۔۔ لیکن جب اس کی ہلکی ہوتی دھڑکن سنی تو ڈر گیا ۔۔
اور پھر جب اس نے اس کے دل پر ہاتھ رکھا تو ان گزرے سالوں میں پہلے بار اس کا دل دھڑکا تھا ۔۔
وہ اس کی طرف دیکھنے سے وہ گریز کر رہا تھا ۔۔ کہ کہیں وہ اسے نقصان نہ پہنچا دیں ۔۔
وقت نے پل میں کروٹ لی تھی ۔۔ وہ جو پہلے اس کی خون کی ایک بوند بھی نہ چھوڑنے کی سوچ رہا تھا اب اس کو وہ ایک خراش بھی آتے نہیں دیکھنا چاہتا تھا ۔۔۔
چہرے پر آئے گولڈن بال کان کے پیچھے کرتے ہوے وہ ایک ایک قدم پیچھے کی جانب لے کر اپنے اور اس کے مابین فاصلہ بنا رہی تھی ۔۔۔
وہ اس کی جانب نہیں دیکھ رہا تھا پھر بھی اس کی ایک ایک حرکت کا ۔۔ اندازہ تھا
اس کی تیز ہوتی دھڑکنوں کا ۔۔ اسے پتا چل رہا تھا ۔۔
وہ اس کو خود سے ڈرتے نہیں دیکھنا چاہتا تھا ۔۔ اس لیے اس اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتے ہوئے وہ باہر کی طرف چل دی ۔۔
ایوا کا کوئی ارادہ نہیں تھا اس کے پیچھے جانے کا اس لیے اس کے نکلتے ہی ۔۔۔ وہ بھاگی ۔۔ وہ دروازے کی طرف پشت کیے کھڑا تھا ۔۔۔ ایوا کا ارادہ دبے پاؤں اسے پتا لگے بغیر جانے کا تھا لیکن وہ اس کے سارے ارادوں پر پانی پھیرتے ہوے بولا ۔
” تم مجھ سے بھاگ نہیں سکتی ۔۔ اس لیے کوشش بھی نہ کرنا ۔۔ کیونکہ تھکن کے سوا تمہیں کچھ نہیں ملے گا ۔۔۔ ” اب وہ اس کے بلکل سامنے کھڑا تھا ۔۔ دس قدم کا فاصلہ اس نے پلک جھپکتے ہی ختم کیا تھا ۔۔
” مجھے گھر جانا ہے ۔۔ ” اسے دیکھے بغیر اس نے پاس کھڑے درخت کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔
وہ دومنٹ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا ۔۔ پھر ایوا کو نہیں پتا کیا ہوا ۔۔ لیکن اگلے ہی پل وہ گاڑی میں تھی ۔۔۔ اور وہ گاڑی سٹارٹ کر رہا تھا ۔۔
گاڑی چل دی ۔۔ ایوا نے آنکھیں بند کر کے سیٹ کی بیک سے ٹکا دی ۔۔ شہرام کی نظریں سامنے روڈ پر تھی لیکن اس کی ساری حساسیت اپنے ساتھ بیٹھے وجود کی طرف تھی ۔۔
اس پتا تھا ۔۔ کہ اس وقت اس کے زبان پر کئی سوال مچل رہے ہیں ۔۔۔
” ویمپائر ۔۔ واقعی ہوتے ہیں ۔۔۔ ” اس نے یونہی بیٹھے دھیرے سے پوچھا ۔۔۔
اس کے سوال پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ اس کی ہونٹوں پر آئی ۔۔ اسے اس سے اسی سوال کی امید تھی ۔۔۔
” ہممممم …”
” کتنے سال کے هو تم ۔۔
۔” کتنے کا لگتا ہوں ؟؟ ” اس نے سوال کے بدلے کیا ۔۔۔
ایوا نے اسے دیکھا پہلی نظر اس کے ہاتھوں پر گئی ۔۔۔ سفید مضبوط ہاتھ جو سٹیرینگ پر جمے تھے ۔۔کتنے سفید رنگ تھا ۔۔ پھر اس کی جانب دیکھا
۔۔ 28 ۔۔۔ ” اس کے اندازے پر شہرام نے قہقہ لگایا
” ۔200 سالوں سے ۔۔ ” بنا دیکھے شہرام کو پتا تھا ۔۔ وہ پوری آنکھیں کھولے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔
گاڑی اس کے گھر کے آگے رکی ۔۔ تو نے مڑ کر مشکوک نظروں سے شہرام کی کو دیکھا ۔۔ ( اسے میرے گھر کا کیسے پتا لگا ۔۔میرے پیچھے آتا رہا ہے کیا)
” سہی سمجھ رہی ہو ۔۔ تمہارے پیچھے آتا رہا ہو ۔۔۔ ” حیرت سے ایوا کا منہ کھل گیا ۔۔(یہ سوچ بھی پڑھ لیتا ہے۔..)
” نہیں میں سوچ نہیں پڑھتا ۔۔ تمہارے چہرے پر سب لکھا ہوا ہے ۔۔۔ ” ہیزل آنکھوں میں حیرت لیے ۔۔۔ گولڈن بالوں کے ہالے میں اس کا چہرہ ۔۔ بچوں جیسی مصعومیت ۔۔۔ وہ کچھ دیر پہلے خوف بھولے پکے دوستوں کی طرح اس سے سوال جواب کر رہی تھی ۔۔ اور اب
منفرد تھی یہ لڑکی ۔۔ گاڑی کا لاک کھولتے شہرام نے سوچا ۔۔۔
ایوا نے دروازہ کھولنا ابھی ہاتھ ہی کیا تھا کہ اس سے پہلے ہی دروازہ کھل گیا ۔
اور شہرام ہاتھ اس کے سامنے کیے کھڑا تھا ۔۔
ایوا نے ایک نظر اس کے ہاتھ کو دیکھا پھر اسے ۔۔۔ اور اپنا چھوٹا سا نازک ہاتھ اس کے مضبوط ہاتھ میں دے دیا ۔۔۔
شہرام نے جھٹکے سے خود سے قریب کیا ۔۔ اور پھر اس کی سانسیں وہ روک چکا تھا ۔۔
یہ سب اتنی جلدی ہوا کہ ایوا سٹل رہ گیا ۔۔ اسے سمجھ نہیں آیا وہ کیا کرے ۔۔
مگر جو بھی تھا وہ اس کے حواسوں پر چھا رہا تھا ۔۔
اس کا لمس اسے بڑا نہیں لگا تھا ۔۔ دو منٹ کے بعد اس کے لبوں کو آزاد کرتے ہوے اس نے اسے دیکھا جو سرخ چہرہ لیے لمبے لمبے سانس لے رہی تھی ۔۔
شہرام نے اس کے ماتھے پر اپنا پرحدت لمس چھوڑ کر وہاں سے جا چکا تھا ۔۔
مگر وہ ۔۔ تو وہی تھی ۔۔ ابھی بھی ۔۔ اسی لمحے میں قید ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: