Beauty and the Vampire Novel by Zaha Qadir – Episode 4

0
بیوٹی اینڈ دی ویمپائر از ضحٰی قادر – قسط نمبر 4

–**–**–

(ایوا )کے جانے کے بعد اپنا سانس بڑی مشکل سے درست کر پایا تھا ۔۔ عجیب تھی وہ ۔۔ ابھی اس نے گردن پر دانت ہی رکھے تھے جب اسے لگا کوئی اس کا گلا دبا رہا ہے ۔۔ اس لیے اس نے اسے خود سے دور کیا ۔۔ پھر اس نے شہرام کو آتا دیکھا ۔۔ جو اس لڑکی کو لے کر وہاں سے چلا گیا ۔۔
اب بھی وہ بیٹھا یہ سوچ رہا تھا کہ یہ سب کیا ۔۔ اس وقت وہ بہت نڈھال محسوس کر رہا تھا ۔ اسے رات کا انتظار تھا تاکہ وہ کوئی شکار کر سکے ۔۔ لیکن ۔۔ رات سے پہلے کوئی اور آرہا تھا ۔۔ جس کے بعد اسے رات دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑنی تھی ۔۔۔
ٹھاہ کی آواز سے دروازہ کھلا تو وہ سیدھا ہوا ۔۔ وہ سامنے دیکھا جہاں دروازے کے بیچوں بیچ شہرام کھڑا خونخوار تیور لیے اس کی طرف بڑھ رہا تھا ۔۔ وہ سرعت سے کھڑا ہوا ۔۔ اور ناگوری سے آنکھیں گھماتے ہوئے تلخی سے گویا ہوا ۔۔
” تم یہاں کیا کر رہے ۔۔۔ ” شہرام نے جواب دیا بنا ۔۔ سرعت سے اس کی گردن کو اپنی سخت گرفت میں لیا کہ اس کی آنکھیں باہر نکل آئی ۔۔ شہرام نے اس کو اسی طرح پکڑے اس کا سر زور سے دیوار سے مارا ۔۔۔
ایک بار ۔۔۔
دو بار ۔۔
تین بار ۔۔
اس نے اتنی بار اس کا سر مارا تھا کہ دیوار ٹوٹ گی ۔۔ لیکن اسے سکون نہیں آیا تھا ۔۔ اس نے اسے اٹھا کر پیچھے کی طرف پھینکا لیکن اگلے پل وہ کھڑا ہو کر دروازے سے باہر غائب ہوگیا ۔۔وہ بھی ویمپائر تھا ۔۔ اس کا مقابلہ کرسکتا تھا ۔۔ لیکن یوں لگ رہا تھا جیسے وہ لڑکی جاتے ہوئے اس کی ساری انرجی ہی لے گئی ہوئی ۔۔ اس لیے وہ اس سے دور بھاگا ۔۔
اس کے سر کا زخم ابھی مکمل سہی نہیں ہوا تھا ۔۔ اس لیے خون اب بھی بہہ رہا تھا ۔۔ خون کا رنگ اتنا سرخ تھا کہ پہلے نظر میں ہی کالا لگتا ۔۔ غور سے دیکھنے پر اس کا رنگ واضح ہوتا ۔۔
وہ بھاگتے ہوئے جنگل کی طرف آیا ۔۔ اور ایک درخت کے پیچھے چھپ گیا ۔۔ اور پاس پڑی لکڑی کا ٹکڑا ہاتھ میں دبوچ لیا ۔۔
تھوڑی دیر بعد اس کو ہوا کی ۔۔ پھر پتوں پر چلنے کی آواز آئی ۔۔ یعنی وہ آگیا تھا ۔۔
اس نے زبان کو تر کیا ۔۔ اور جب لگا وہ قریب آگیا ہے ۔۔ اس نے وہ لکڑی کا ٹکرا اس کے بازوؤں میں گاڑھ دیا ۔۔۔
شہرام نے لب بھینچ لئے ۔۔ اس کے بازوؤں سے شرٹ خون سے رنگ گئی تھی ۔۔ لیکن اس نے بغیر پرواہ کیے ۔۔ پھر سے اس کی گردن کو دوچ لیا ۔۔
” تم بلاوجہ دشمنی پال رہے ۔۔۔ ” بڑی مشکل سے اس کی منہ سے آواز نکلی ۔۔ اس کی آنکھیں کبھی کالی ۔۔ تو کبھی اپنے اصل رنگ میں آرہی تھی ۔۔جس کا مطلب تھا وہ کمزور پڑ رہا ہے ۔۔۔
” دشمن ۔۔۔ ” وہ ہنسا ۔۔ صاف پتا لگ رہا تھا کہ وہ طنزیہ ہنس رہا ہے ۔۔ پھر خاموش ہو کر اسے کی تمسخر آمیز نظروں سے دیکھا۔۔۔
” میں مرے ہوئے سے دشمنی نہیں کرتا ۔۔۔ ” یہ بولتے ہی اس کا ہاتھ اس کا سینا چیرتے ہوئے اس کے دل کو پکڑ لیا ۔۔ وہ پھٹی ہوئی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔
” مجھے وجہ بتاؤ ۔۔ یہ سب کرنے کی ۔۔۔ ” اس نے اپنی جان بچانے کی کوشش ۔۔۔
” تم نے اس کو نقصان پہنچانا چاہا ۔۔ جو میرا تھا ۔۔ اس کے بعد کوئی وجہ بچتی ہی نہیں ۔۔ ” ایک سے اس کی گردن دوسرے سے اس کے دل پر اپنی پکڑ اس نے تھوڑی اور کی ۔۔
” اچھا ۔۔ میں بھی سوچوں ۔۔ کہ وہ اتنی زہریلی کیوں تھی ۔۔ ظاہر سے بات ہے ۔۔ تمہاری جو تھی ۔۔ ” اس نے بھی دیکھا اب بچنا ممکن نہیں ۔۔تو کھل کر بولا ۔۔
” دیکھنا لارڈ مارک تمہیں نہیں چھوڑیں گیں ۔۔ ” یہ آخری الفاظ تھے جو وہ بولا تھا کیونکہ اگلے الفاظ بولنے کا موقعہ شہرام نے اسے نہیں دیا ۔۔ اور وہ کٹی ہوئی ٹہنی کی طرح زمین پر گرا ۔۔
شہرام ہاتھ میں اس کا دل پکڑے حقارت آمیز نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔
” تم کیا تمہارے لارڈ کسی نے بھی ۔۔ اسے زرا بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو میں اس پر قہر بن کر ٹوٹوں گا ۔۔ اس کے مردہ وجود کے پاس گھٹنے کے بل بیٹھتے ہوئے اس نے بولا ۔۔اور وہاں سے چلا گیا ۔۔ اس کا دل اب بھی اس کے ہاتھ میں تھا ۔۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ واپس آیا تو اب اس کے ہاتھ میں بوتل تھی ۔ جس میں وائن تھی ۔۔اس نے وہ وائن والی ساری بوتل اس کے وجود پر خالی کر دی ۔۔ پھر لائٹر سے چنگاری جلائی ۔۔
اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کے مردہ وجود پر آگ کے شعلے بھڑک اٹھے ۔۔
وہ مطمئن انداز میں یہ سب دیکھ رہا تھا ۔۔ اس نے اپنے زخمی بازؤں کو دیکھا ۔۔ شرٹ کا پورا بازو خون میں رنگ گیا تھا ۔۔ وہ لکڑی کا ٹکرا نکالنے لگا ۔۔ کہ پھر کوئی خیال آیا ۔۔ ساتھ ہی ہلکی سی مسکراہٹ ۔۔ اور وہ مڑ کر جنگل سے نکل گیا ۔۔۔
پیچھے آگ ابھی بھی بھڑک رہی تھی ۔۔ اور وہ جلتا وجود دھیرے دھیرے کر کے راکھ ہو رہا تھا ۔۔
رات کے اندھیرا شام میں گھلتا گہرا ہوا رہا تھا۔۔۔
_________________________
اس کے کمرے کی لائٹ روشن تھی ۔۔ کھڑکی سے باہر گانوں کی آواز آرہی تھی ۔ ۔۔ وہ اپنی بیڈ پر بیٹھی گود میں بڑے سے ٹیڈی بیئر کو پکڑے ۔۔ وہ بیئر بہت پیارا تھا ۔۔ لیکن عجیب بات یہ تھی کہ اس کا رنگ سیاہ تھا ۔۔ بلکل شہرام کی آنکھوں جیسا ۔۔
وہ سوچوں میں گم تھی ۔۔ اسے خود پر حیرت ہورہی تھی کہ اس نے اسے روکا کیوں نہیں ۔۔ اسے اس سے خوف کیوں نہیں آرہا ۔۔ پھر دوسری سوچیں تنگ کرنے کے لیے آ جاتی ۔۔
کہ اسے بتانا چاہیے کسی کو شہرام کے بارے میں ۔۔ تب سے بیٹھی وہ یہ سوچ رہی تھی ۔۔
اب تو سر درد ہونے لگ گیا تھا ۔۔
اس نے گھڑی کی طرف دیکھا ۔۔ رات کے 9 بج رہے تھے ۔۔۔آج ڈیڈ نے گھر نہیں آنا تھا ۔۔
کیوں ؟؟ یہ اسے نیوز میں دیکھ کر پتا لگ گیا تھا ۔۔ کہ جنگل سے ایک اور جلی ہوئی لاش ملی ۔۔
اس نے ٹیڈی بیئر کو بیڈ پر رکھا ۔۔ اور اپنا سلیپنگ سوٹ لے کر چینج روم میں چلی گی ۔۔
اس کے جاتے ہی ۔۔ کھڑکی کھول کر وہ اندر آیا ۔۔
کمرہ پورا خالی تھا ۔۔ پھر اس کی موجودگی محسوس کر کے وہ وہیں بیڈ پر لیٹ کر اس کا انتظار کرنے لگا ساتھ ساتھ کمرے کا جائزہ بھی لے رہا تھا ۔۔۔
سفید رنگ کی دیواریں جن پر مختلف پیٹنگ لگی ہوئی تھیں ۔۔۔بیڈ کے سامنے ہی ڈریسنگ ٹیبل پڑا ہوا تھا ۔۔کھڑکی کے پاس صوفہ ۔۔۔ باقی کمرہ سادہ سا تھا ۔۔ اس نے ٹیڈی اٹھایا ۔۔ اور اسے گھورنے لگا ۔۔ کہ اسی وقت وہ ڈریسنگ کا دروازہ کھول کر وائٹ ٹی شرٹ اور ٹراؤزر پہن کر باہر نکلی اس کے بال کھلے تھے کہ اسے کھلے بالوں سے سونے کی عادت تھی ۔۔ اس کی ٹی شرٹ پر پنک کلر سے بیوٹی لکھا ہوا تھا ۔۔
وہ اپنے دھیان میں تھی اس نے شہرام کو نہیں دیکھا تھا ۔۔ اس نے ڈریسنگ ٹیبل سے کریم پکڑی اور ہاتھ پر لگانے لگی ۔۔ اب دوسرا سونگ پلے ہوا ۔۔۔
کہ اس کو خود پر نظروں کی تپش محسوس ہوئی ۔۔ اسے نظر اٹھا کر دیکھا تو شیشے میں شہرام کو دیکھا جو بیڈ پر لیٹنے کے انداز سے بیٹھا سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔
اس نے اپنا وہم سمجھا ۔۔اور سر جھٹک دوبارہ کریم لگانے لگی ۔۔ لیکن نظروں کی وہ گرم تپش وہ اب بھی محسوس کر رہی تھی ۔۔
اس نے پھر شیشے میں دیکھا تو وہ ویسے ہی بیٹھا اس کو دیکھ رہا تھا ۔۔ اس نے آئینے میں نظر آتے اس کے عکس پر ہاتھ رکھا
اس کے ایسا کرتے شہرام کی آنکھیں چمکیں ۔۔۔
جب اس کے ہاتھ لگانے سے بھی وہ غائب نہ ہوا تو ایوا مڑی ۔۔ وہ وہیں تھا ۔۔
لیکن ہیڈ پر نہیں ۔۔ اس کے بلکل قریب تھا ۔۔ اس کی سانسیں اس کے چہرے پر ہی تھیں ۔۔
ایوا اس کی نظروں سے کنفیوز ہو رہی تھی ۔۔
ایوا نے اس کی نظروں سے گھبرا کر جب نظر نیچے کی تو اس کی نظر شہرام کے ہاتھ پر گئی ۔۔ جس پر خون تھا ۔۔ اور بس نظریں سٹل ہوگی ۔۔
خون ۔۔
وہ ڈر کر پیچھے ہوئی تو اس کی کمر ڈریسنگ ٹیبل سے ٹکرائی۔۔
اس کے چہرے کا رنگ یکدم سفید ہوگیا ۔۔ جیسے کسی نے سارا خون نکال دیا ہوا ۔۔۔
وہ بھی اس کی حالت سے گھبرا گیا ۔۔۔
اس نے اس کی حالت دیکھتے ہوئے پریشانی سے اسے پکڑا ۔۔۔
“ایوا ۔۔ ” لیکن وہ صرف سے کے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی ۔۔ ۔۔ لب کپاہٹ کا شکار تھے ۔۔
شہرام کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ خون سے اتنا ڈرتی ہے ۔۔ وہ تو اس سے اپنے زخم پر محرم لگوانے آیا تھا بلکہ اسے اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی ۔۔۔ لیکن وہ بس اس کے پاس رہنا چاہتا تھا ۔۔ مگر اب اسے اندازہ ہو رہا تھا کہ یہ آئیڈیا بہت برا تھا ۔۔
وہ یہ خون صاف کرنا چاہتا تھا اس لیے جانے لگا کہ ایوا نے اسے بازوؤں پکڑ کر اسے روک لیا ۔۔
ایوا آنسو بھری آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
اس کے دل کی بیٹ پھر سے مس ہوئی ۔۔۔
اس نے نرمی سے اپنا بازو اس کی گرفت سے نکلنا ۔۔ اور پھر ایک ہاتھ اس کی ٹانگوں سے گزار کر دوسرا اس کی کمر کے پیچھے کر کے اسے اپنی بازؤں میں اٹھایا ۔۔ جس سے بازوؤں میں درد اٹھا ۔۔ لیکن وہ ضبط کر گیا ۔۔
اس نے آرام سے اسے بیڈ پر لٹایا ۔۔ پھر نرمی سے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا ۔۔ اور کی آنکھوں میں اپنی آنکھیں ڈالی ۔
” شی ۔۔ اب نہیں ۔۔ رونا ۔۔ میں آتا ہوں ۔۔ ابھی ۔۔ ” وہ پھر اسے ہیپناٹزم کر رہا تھا ۔۔ اسے پتا تھا یہ غلط ہے ۔۔ مگر بس وہ اس کے آنسو نہیں دیکھنا چاہتا تھا ۔۔
اس کے بولتے ہی وہ چابی کے گڑیا کی طرح چپ ہوگئی ۔۔ وہ کمرے سے باہر نکلا ۔۔ نیچے کچن میں آیا ۔۔ پھر اپنی زخمی بازؤں والی سائیڈ سے شرٹ پھاڑ کر زخم دیکھا ۔۔ جہاں لکڑی کا ٹکرا تھا۔۔ وہاں سے سکن کالی ہونا شروع ہوگئی تھی ۔۔
اس نے کھینچ کر ٹکڑا نکلا ۔۔ زخم نے سہی ہونے میں ابھی کچھ وقت لینا تھا ۔۔ ایسے موقعوں پر وہ خون پیتا تھا کہ اس سے زخم اسی وقت سہی ہو جاتا ہے ۔۔ لیکن اس وقت وہ یہ نہیں کر سکتا تھا ۔۔
اب وہ واپس آیا تو دیکھا وہ سو چکی تھی ۔۔
لیکن وہ تو جاگ رہا تھا ۔۔ لمبی سانس لے کر وہ بیڈ پر بلکل اس کے پاس بیٹھ گیا ۔۔
زخم کی وجہ سے اس کی خون کی طلب ۔۔ ابھر رہی تھی ۔۔ عام حالت سے زیادہ ۔۔ اس کی نظر اس کی شہہ رگ پر گئی تھی ۔۔ اس نے نظریں چرائیں ۔۔ مگر اب اس کی خوشبو ۔۔۔
اس نے آنکھیں بند کرلیں ۔۔
وہ اس کی تھی ۔۔
پی سکتا تھا وہ اس کا خون ۔۔۔ اس کے اندر کا حیوان اسے ترغیب دے رہا تھا ۔۔۔
نہیں ۔۔ اسے خود پر کنٹرول کرنا تھا ۔۔
لیکن ۔۔بس تھوڑا سا ۔۔ حیوان نے پھر ترغیب دی ۔۔
تھوڑا سا۔۔
اس نے جھٹکے سے آنکھیں کھولیں ۔۔ تو وہ اس کی آنکھیں تو نہیں تھیں ۔۔ وہ تو اس حیوان کی تھی کالی۔ ۔۔
بس تھوڑا سا ۔۔ اس نے اس کی گردن کی طرف جھکتے ہوئے خود سے کہا ۔۔
زرا سا ۔۔ نرمی سے اس کی گردن پر بوسہ دے کر اگلے ہی پل اس نے اپنے دانت اس کی گردن میں گاڑھ دیئے ۔۔۔
اتنا پر لطف ۔۔ میٹھا ۔۔ چھا جانے والا خون اس نے پہلی بار پیا تھا ۔۔
اس کا خون اس پر نشہ کر رہا تھا ۔۔
اور وہ پی جا رہا تھا ۔۔
اس سے پہلے وہ اس کے جسم میں ایک بھی بوند نہ چھوڑتا ۔۔۔کہ اسے احساس ہوا کہ وہ کانپ رہی ہے ۔۔
اس نے اپنی طلب کو پیچھے دھکیلا ۔۔ جو بہت مشکل تھا ۔۔۔ اس نے آج تک اپنے کسی شکار کو زندہ نہیں چھوڑا ۔۔
لیکن وہ شکار نہیں تھی ۔۔ وہ تو اس کی بیوٹی تھی ۔۔۔
سر اٹھا کر اسے دیکھا ۔۔ وہ ابھی بھی سو رہی تھی ۔۔ لیکن شاید ڈر گئی تھی ۔۔
” میں یہیں ہوں ۔۔ کچھ نہیں ہوا ۔۔ ” اس کے کان کے پاس سرگوشی کے انداز میں بولتے اس نے اسے حوصلہ دیا ۔۔۔ ساتھ ساتھ وہ اس کے بالوں میں انگلیاں پپھیر رہا تھا۔۔ تھوڑی دیر بعد وہ پرسکون ہوگی ۔۔
شہرام کی نظر اس کی گردن پر بنے نشان پر گئی ۔۔ جو اس کے دانتوں کی وجہ سے بنے تھے ۔۔
وہ ایک بار پھر جھکا اور نرمی سے اپنے ہونٹ سے ان نشانیوں پر بوسہ دیا ۔۔۔
ایک بار ۔۔
دو بار ۔۔
پھر سیدھے ہو کر اس نے اپنے بازوؤں کو دیکھا ۔۔ اس کا زخم اب سہی تھا ۔۔ ایک آخری نظر اس پر ڈال کر وہ وہاں سے چلا گیا ۔۔
کیونکہ اس کی طلب ایک بار پھر سر اٹھا رہی تھی ۔۔
اور اسے ڈر تھا ۔۔ کہ اب کی بار ۔۔ وہ اس پر قابو نہیں کر پائے گا ۔۔۔
___________________________
وہ اپنا کالا چوگا پہنے ۔۔۔ سامنے ان سب کو دیکھ رہا تھا ۔۔
وہ سب ویمپائرز تھے ۔۔ وہ ان کا بادشاہ ۔۔ سالوں سے ۔۔
” میں یہاں آپ کو یہ بتانے آیا ہو ۔۔ کہ رائیل بلڈ آگیا ہے اس کی نشانی یہ ہے کہ اس کے گردن کے پیچھے نشان ہوگا ۔ چاند کا ۔۔” دو منٹ کا وقفہ دے کر اس نے گہری نظر سب پر ڈالی ۔۔اور ان کے تاثرات کو جانچا ۔۔۔
” سو ۔۔ اب یہ کہ ہر ویمپائر کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ وہ آئیں ۔۔ ہمارے پاس تاکہ ہم اسے ڈھونڈ سکیں ۔۔ میرا یہ پیغام ہر ویمپائر تک پہنچنا چاہیے ۔۔ ” اتنا بول کر وہ واپس محل کے اندر چلا گیا ۔۔ اس کے پیچھے جولیا ۔۔ اور اس کے خاص دو بندے ۔۔ جنہیں وہ وہیں روکتا اندر چلا گیا ۔۔
” کیا بنا ۔۔؟؟” تہنائی پاتے ہی اس نے جولیا سے پوچھا ۔۔
” میں آج رات سپل پڑھوں گی ۔۔ ” جولیا کی بات پر اس نے سر ہلایا ۔۔
کہ اسی وقت اس کا خاص بندہ آیا ۔۔ اس کے ہاتھ میں ڈبہ تھا ۔۔ اس نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا ۔۔
” لارڈ ۔۔ یہ محل کے باہر پڑا تھا ۔۔اور آپ کا نام لکھا تھا ۔۔
اس نے ہاتھ کھڑا کیا مطلب صاف تھا وہ اب جا سکتا ہے ۔۔ اشارہ پاتے ہی وہ چلا گیا ۔
اس کے جاتے ہی اس نے ڈبہ دیکھا ۔۔ اس پر خط پرا ہوا ۔۔۔
اس نے وہ خط کھولا ۔۔جولیا بھی اس کے پاس آکر کھڑی ہوگی ۔۔
” امید کرتا ہو مارک یہ دیکھ کر تو بلکل بھی سکون میں نہیں ہو گیں ۔۔ اور یہی میرے لیے سکون کی بات ہوگی ۔۔ ویسے پرانی بلنڈنگ کا سامان کچھ زیادہ پرانا ہوگیا ہے ۔۔ میں خود آتا دینے لیکن وہ کیا ہے نا ۔۔ میں تمہاری شکل نہیں دیکھنا چاہتا ۔۔ پہچان تو گۓ ہوگے ۔۔ لیکن پھر بھی نام بتا دیتا ہو ۔۔۔شہرام ۔۔ ” اس نے ماتھے پر بل ڈالتے ہوے خط کو نیچے پھینکا ۔۔ اور ڈبہ کھولا ۔۔
اس میں دل پڑا ہوا تھا ۔۔
یہ کس کا دل ہوگا ۔۔ اب اسے سمجھ آئی اس نے پرانی بلنڈنگ کا ذکر کیوں کیا تھا ۔۔
اس نے جیک کو مار کر اس کا دل اسے بھیجا تھا ۔۔
جیک ۔۔ اس کا دوست تھا ۔۔بھائیوں جیسا ۔۔
“اوہ ۔۔ تو جیک گیا ۔۔ افسوس ۔۔ ” جولیا نے مصنوعی ہمدردی سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے تسلی دی ۔۔
” شہرام ۔۔ تمہیں اس کا حساب دینا ہوگا ۔۔” اس نے جیسے اسے تصور میں اسے جیسے مخاطب کیا ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: