Beauty and the Vampire Novel by Zaha Qadir – Episode 5

0
بیوٹی اینڈ دی ویمپائر از ضحٰی قادر – قسط نمبر 5

–**–**–

کھڑکی سے آتی سورج کی کرنیں بیڈ پر لیٹے وجود پر پڑی جس کا منہ کھڑکی کی طرف ہی تھا ۔۔ گولڈن لمبے بال بیڈ اور سرہانے پر بکھرے ہوئے تھے ۔۔ دھوپ کی روشنی اس کی نیند میں خلل ڈال رہی تھی ۔۔ اس نے سرہانا سر کے نیچے سے نکال کر منہ پر رکھا ۔۔ لیکن پھر بھی روشنی آرہی تھی ۔۔
تنگ آکر اس نے تکیہ بیڈ پر پھینکا اور اٹھ کر بیٹھ گئی ۔۔ اس کے بیٹھتے ہی بال پشت پر بکھر گئے ۔۔
ابھی وہ بیٹھی ہی تھی کہ اس کو زور سے چکر آئے ۔۔ تو اس نے سر دنوں ہاتھوں میں تھام لیا ۔۔
” افف یہ کیا ہو رہا ہے ۔۔۔ ” اس کو بہت کمزوری محسوس ہو رہی تھی اور سر بھی عجیب بھاری بھاری سا ہو رہا تھا ۔۔ اس نے بیڈ کے ساتھ رکھی ٹیبل پر سے موبائل پکڑ کر وقت دیکھا ۔۔ یہ دیکھ کر اس کی آنکھیں کھل گئی کہ موبائل پر دس بج رہے تھے ۔۔ وہ آج تک اتنا لیٹ نہیں سوئی تھی یونی سے بھی لیٹ ہو گیا تھا 3 لیکچر تو پکے گئے اسے افسوس ہوا ۔۔اس نے الارم چیک کیا لیکن وہ بچارا بول بول کر آخر میں خود ہی چپ ہوگیا تھا۔۔ اس نے جلدی سے کمبل ہٹایا اور پیروں میں چپل پہن کر ابھی وہ دو قدم ہی چلی تھی کہ اس پھر زور دار چکر آئے اسے یوں لگا جیسے جسم میں جان نہیں ۔۔ ہر چیز دھندلی نظر آرہی تھی ۔۔ اس نے ڈریسنگ ٹیبل کا کانر پکڑ کر خود کو سہارا دیا ورنہ پکا اس نے گرنا تھا ۔۔ تھوڑی دیر وہ یوں ہی کارنر پکڑ کر کھڑی رہی کہ شاید تھوڑی دیر میں سہی ہوجاۓ ۔۔لیکن بجائے سہی ہونے کے ۔۔ مزید اضافہ ہو رہا تھا ۔۔ اس کی ہاتھوں پاؤں سے جان نکل رہی تھی ۔۔ اس نے بہت کوشش کی خود کو کھڑا رکھنے کی لیکن نہیں رکھ پائی ۔۔
اگلے پل اس کی آنکھوں کے آگے چھائی دھند اندھیرے میں تبدل ہوگئی ۔۔۔ ڈریسنگ ٹیبل کا کارنر جس کے سہارے وہ تب سے کھڑا تھی ۔ اس پر اس کی گرفت کمزور ہوئی ۔۔۔ اور پھر وہ زمین پر گر گئی ۔۔ گرتے ہوئے اس کا سر کسی سخت چیز ٹکرایا تھا ۔۔
روبرٹ جو تھوری دیر پہلے ہی ڈیوٹی سے آیا تھا اور چینج کر کے اب صوفے پر بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا اوپر سے کچھ گرنے کی آواز پر فوراً سیدھا ہوا ۔۔ اور اوپر کی جانب تیزی سے دوڑا ۔۔۔ اور ایوا کے کمرے سامنے آکر اس نے دروازہ ناک کیا ۔۔
” ایوا ۔۔۔ ” دو تین بار ۔۔ بے قراری سے اس کا نام لیتے ہوئے انہوں نے ڈور نوک کیا لیکن اندر سے کوئی جواب نہیں آیا یہی چیز ان کی بے چینی میں اضافہ کر رہی تھی ۔۔ انہوں نے لاک گھمایا تو دروازہ کھول گیا ۔۔ مطلب اندر سے وہ لاک کر کے نہیں سوئی تھی ۔۔یہ بات عجیب تھی ۔۔کیونکہ ایوا ہمیشہ ڈور اندر سے لاک کر کے سوتی تھی اس سے پہلے وہ مزید اس کے بارے میں سوچتے اندر داخل ہوتے ہی جو منظر انہیں نظر آیا ۔۔ اس نے ان کے حواس دو پل کے لیے سن کر دئیے ۔۔۔ وہ ذمہ داری نبھاتے ہوئے اپنی اولاد سے بے خبر ہو گئے ۔۔کہ آج ان کی بیٹی اس طرح بےہوش زمین پر گری تھی ۔۔ اگر وہ اور لیٹ آتے تو۔ ۔۔
اپنی طرف سے تو وہ یہ سمجھے تھے کہ ایوا یونی چلی گئی ہوگی ۔۔ان کو اپنی لاپرواہی پر جی بھر کر غصہ آیا ۔۔ لیکن اس وقت ۔۔ انہیں ہوش سے کام لینا تھا جو بار بار ان کا ساتھ چھوڑ رہے تھے۔۔
وہ دوڑ اس کے پاس آئے ۔۔ تو دیکھا اس کے ماتھے پر بھی چوٹ آئی تھی جہاں سے خون بہہ رہا تھا ۔۔
انہوں نے فوراً اس کی نبضں دیکھی ۔۔۔ وہ چل رہی تھی ۔۔ رفتار سست تھی ۔۔ لیکن خطرناک حد تک نہیں ۔۔ انہوں شکر کا سانس لیا ۔۔ اور گود میں اٹھایا تو ایوا کی گردن پیچھے کو ڈھلک گی ۔۔ جس سے اس کی گردن کے بائیں جانب بنے وہ دانت نشان نظر آنے لگے ۔۔ وہ جو اس پر پریشانی سے اس پر وقفے وقفے سے نظر ڈال رہی تھی ان کی نظر بھی اس نشان پر جو پڑی تو ان کے تیزی سے چلتے قدم رک گئے ۔۔ انہیں یوں لگا کہ جیسے کسی نے ان کی روح نکال لی ہو ۔۔
یہ نشان دیکھ کر آنکھوں کے سامنے منظر تازہ ہوا ۔۔ جب آخر بار انہوں نے اپنی بیوی کو دیکھا تھا ۔۔
(فلش بیک )
گھر کا سارا سامان تباہ تھا ۔۔۔ کوئی چیز سلامت نہیں تھی ۔۔
وہ بیسمنٹ میں گریس ( ایوا کی ماں ۔) کا زخمی وجود خود میں سموۓ ہوے تھے ۔۔ اوپر سے اٹھک پھٹک کی آواز آ رہی تھی ۔۔گریس ہوش میں تھی ۔۔ لیکن اس کے گردن اور بازؤں پر جابجا ویمپائر کے کاٹنے کے نشان تھے ۔۔ اس کے پیٹ میں بھی چاقو گھسا ہوا تھا ۔۔
” تمہیں مجھے بتانا چاہیے تھا ۔۔۔ ” وہ بےبس انداز میں اپنا ماتھا اس کے ماتھے پر ٹکاتے ہوئے بولے ۔۔ آنکھوں میں آنسو تھے ۔۔ دل اپنی محبوب بیوی کی یہ حالت دیکھ کر جیسے دھڑکنا بھول گیا ہو ۔۔ اس کی بات پر وہ جو نیم وا آنکھیں کھولے ہوئی تھیں نقاہت سے مسکرائی ۔۔۔ اور اٹکتے ہوئے بات شروع کی ۔۔
” میں ت۔۔۔مہیں پری۔۔شان نہ۔۔یں کرنا ۔۔چاہت۔۔ی ت۔۔ھی ” بات کے آخر میں ان کا سانس پھول گیا تھا ۔۔
بیسمٹ کے دروازے سے کسی کے ٹکرانے کی آواز آرہی تھی ۔۔ بیسمنٹ کے دروازے بہت مضبوط تھے ۔۔ لیکن اوپر جو تھے ان کے لیے یہ صرف دو مکوں کی مار تھے ۔۔
شور کی آواز سن کر انہوں نے اوپر دیکھا تو اسی وقت گریس نے ان کا ہاتھ اپنے دنوں ہاتھوں میں تھام کر انہیں اپنی جانب متوجہ کیا ۔۔
” ایوا۔۔۔ کا خیال ر۔۔۔۔کھنا ۔۔ اور اپنا ۔۔۔بھی ۔۔ ” اسی وقت بیسمنٹ کا دروازہ ٹھاہ کی آواز سے ٹوٹا ۔۔ اور اگلے ہی پل وہ۔درندے ان کے سامنے تھے ۔۔
انہوں نے فوراً گریس کو اپنی بازوں میں پکڑا ۔۔ کہ وہ لوگ ان سے اسے چھین نہ لیں ۔۔اس کی کوشش پر وہ مسکرایا ۔۔ تھا ۔۔ اور پھر ان کی بازؤں میں سے وہ وجود غائب تھا ۔۔ نہ ہی وہاں وہ ویمپائر تھے ۔۔
وہ پاگلوں کی طرح دوڑتے ہوئے باہر آیا ۔۔ پھر جیسے سب ختم ہوگیا ۔۔
ان کی محبت ۔۔
ان کی دھڑکن
کا بےجان وجود درخت پر الٹا لٹکا ہوا تھا ۔۔
کچھ پل پہلے وہ کتنے خوش تھے نئے مہمان آنے کی خوشی میں ۔۔ لیکن اب ان کو لگا وہ بلکل خالی دامن تھے ۔۔
وہ ویمپائر ان کو تمسخر آمیز نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔
پھر وہ ان کے قریب آیا ۔۔ انہوں نے زخمی نظروں سے اسے دیکھا ۔۔
” انسانوں کو اپنی اوقات میں رہنا چاہیے ۔۔ ورنہ ان کا یہ حال ہوتا ہے ۔۔ میں ہر ویمپائر ہنٹر کا یہ حال کروں گا ۔۔ جو بھی میرے راستے میں آیا۔۔ ” پھر وہ وہاں سے چلا گیا ۔۔
پھر وہ تھے اور سامنے لٹکی لاش ۔۔ ان میں ہلنے کی ہمت نہیں تھی ۔۔ ایک پل دل میں خیال آیا کہ انہیں بھی اپنی بیوی کے پاس چلے جانا چاہیے ۔۔ لیکن پھر انہیں رکنا پڑا کہ سامنے پانچ سال کی ایوا جو اپنی دوست کے گھر تھی ۔۔ اپنی ماں کی لاش دیکھ کر چیخ رہی تھی ۔۔ اس کے لیے انہوں نے خود کو سنبھالا ورنہ تو وہ ٹوٹ گئے تھے ۔۔
لیکن ایک کام انہوں نے کیا۔۔۔ وہ تھا ویمپائر ہنٹر کی ٹریننگ ۔۔
اور اب ایوا کی گردن پر یہ نشان دیکھ کران کے دماغ میں جیسے پھر سے ماضی کا وہ حولناک منظر تازہ ہوا ۔۔ تب بھی انہوں نے ایوا کے لیے خود کو سنبھلا اور اب بھی ۔۔
اس کی حالت کی اب انہیں ساری سمجھ آگئی تھی ۔۔ انہوں نے زور سے آنکھیں بھینچ کر کھولی جیسے خود کو ماضی سے آزاد کرایا ۔۔اور جلدی سے سیڑھیاں اترنے لگے ۔لیکن ان کی آنکھوں میں نمی تھی ۔۔
انہوں نے اس کا بےہوش وجود نرمی سے گاڑی کی بیک سیٹ پر رکھا ۔۔ اور گاڑی فل سپیڈ میں ہسپتال کی طرف موڑ دی ۔۔
اس وقت ۔۔ ایوا سے زیادہ ضروری کچھ نہیں تھا ۔۔۔
___________________________
ہاسپٹل میں مریضوں والے کپڑوں میں وہ بیڈ پر لیٹی تھی ۔۔اس کے ماتھے پر پٹی اور دائیں بازوں پر خون کی ڈرپ لگی ہوئی تھی ۔۔ اس کا خوبصورت چہرہ یوں لگ رہا تھا جیسے مرجھا گیا ہو ۔۔وہ بلکل خاموشی سے چھت کو دیکھ رہی تھی جبکہ ایک ہاتھ اس کا گردن پر ۔۔ بلکل وہاں جہاں پر دانتوں کے نشان تھے ۔۔
ڈیڈ کے پوچھنے پر اس نے ان کو مطمئن کردیا کہ اسے نہیں پتا کہ یہ کب ہوا جو کہ سچ تھا ۔ لیکن اسے یہ پتا تھا کہ یہ کس نے کیا ۔۔مگر وہ چاہتے ہوے بھی اس کا نام زبان پر نہیں لا پائی ۔۔
ایک تیز ہوا کا جھونکا آیا ۔۔ اسے پتا تھا کہ وہ آیا ہے لیکن وہ اس کی موجودگی کا نوٹس لیے بغیر چھت کو دیکھ رہی تھی ۔۔ مگر اس کی اندر تک اتر جانے والی نظریں وہ خود پر محسوس کر رہی تھی۔۔
اس نے اس کا ڈریپ والا ہاتھ پکڑا ۔۔ اس نے تب بھی کوئی رسپانس نہیں دیا ۔۔
پھر اس نے اس کی ہاتھ کو اوپر کر کے اس کی پشت پر بوسہ دیا ۔۔ اب بھی کوئی رسپانس نہیں ۔۔ پھر اس نے اس کا دوسرا ہاتھ جو اس کی گردن پر تھا ۔۔ وہ ہٹایا ۔۔ اور اپنے دئیے نشان پر جھکنے لگا کہ وہ پیچھے ہوگئی ۔۔
شہرام نے سیدھے ہوکر اسے دیکھا سنجیدگی سے ۔۔ جو اس کی طرف دیکھ بھی نہیں رہی تھی ۔۔
اسے برا لگ رہا تھا ۔۔ اس کو ہسپتال میں اس حالت میں دیکھتے ہوئے ۔۔ اس نے تو بس تھورا سا ۔۔(بقول شہرام کے ۔۔۔ ) خون پیا تھا ۔۔ پھر بھی اس کی یہ حالت دیکھ کر وہ شرمندہ تھا ۔۔ لیکن اس کا خود کو اگنور کرنا اسے پاگل کرگیا تھا ۔۔
اس نے اس کا چہرہ جو اس نے دوسری طرف کیا ہوا تھا اپنی طرف کیا ۔۔ اس نے مزمت کی جسے کسی خاطر میں نہ لاتے ہوئے اس کے لبوں پر جھکا ۔۔ اس کی سانوں کو اپنی قید میں لیا ۔۔یی جیسے اس کے اسے اگنور کرنے کی سزا تھی ۔۔
ایوا نے اپنی پوری کوشش کی کہ وہ خود کو اس کی گرفت سے آزاد کرواۓ لیکن یہ اس نازک سے لڑکی کے بس کی بات نہیں تھی ۔۔ آخر تھک کر جب اس نے مزمت بند کی تو شہرام نے بھی اس کی سانسوں کو رہائی دی ۔۔ اور اسی طرح جھکے جھکے اسے دیکھا جس کا چہرہ لال ہوا تھا وہ لمبے لمبے سانس لے کر اپنا سانسوں کی رفتار درست کر رہی تھی ۔۔اس کی آنکھوں میں شکوؤں کا ایک جہاں آباد تھا ۔۔
” آئندہ مجھے اگنور نہ کرنا ۔۔ تم ۔۔ تمہارا دل ۔۔ تمہاری سانسیں سب میری ہیں ۔۔ ” اس کے بالوں کو نرمی سے پیچھے کرتے ہوے وہ اگرچہ نرمی سے بول رہا تھا لیکن پھر بھی اس کی بات سے ایوا کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑتی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔۔مگر پھر بھی اس نے ہمت کر کے بولنا شروع کیا
” پہلی بات ۔۔ میں صرف اپنی ہوں ۔۔ نہ کہ تمہاری ۔۔۔ دوسری بات ۔۔ تم نے کیوں میرا خون پیا ۔۔ تمہاری وجہ سے میں بھی ویمپائر بن جاؤں گی ۔ ۔ اور ۔۔ معصوم لوگوں کی جان لوں گی ۔۔ ” شروع میں وہ تھوڑا غصہ سے بولی لیکن آخر تک آتے ہوئے ۔۔ اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے ۔۔
شہرام اس کی پہلی بات پر جہاں غصہ ہوا تھا وہیں اس کی آخر بات پر اسے ہنسی آئی ۔۔ وہ واقعی ہی بہت معصوم تھی ۔۔۔
” لیسن لیو ۔۔ پہلی بات تم میری ہو اور یہ جتنی جلدی ہوسکے اپنے اس چھوٹے سے دماغ میں ڈال لو ۔۔ دوسری بات ۔۔ کسی ویمپائر کی بائٹ سے کوئی انسان ویمپائر نہیں بن جاتا ۔۔ ” بیڈ پر اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے اس اسے اپنے گھیرے میں لیا ۔۔
چھوٹا سا بیڈ تھا ہسپتال کا ۔۔ اور اس کے بیٹھنے سے سارا بھر گیا بلکل ایوا کو لگا کہ اگر وہ ذرا سا اور آگے ہوا تو اس نے پکا گر جانا تھا ۔۔
” تو پھر کیسے بنتے ہیں ۔۔۔ ” جہاں اس کی بات سن کر اسے تسلی ہوئی وہیں اشتیاق بھی اس بارے میں جاننے کا ۔۔
” جب تم بنوں گی ۔۔ تو پتا چل جائے گا ۔۔” ہولے سے اس کے گال پر بوسہ دے کر وہ کھڑکی سے باہر چھلانگ لگا کر چلا گیا ۔۔ کیونکہ اسے ایوا کے ڈیڈ کی آواز آگئی تھی جو ادھر ہی آرہے تھے ۔۔
جبکہ ایوا وہ تو اس کی بات سن کر پریشان + حیران بیٹھی رہ گئی ۔۔۔
دروازہ کھولا اور رابرٹ اندر آئے ۔۔ان کے ہاتھ میں موبائل تھا ۔۔ جس کا مطلب صاف تھا کہ وہ فون سنتے ہوئی آئے تھے اور ابھی تھوڑی دیر پہلے کال ختم کی تھی ۔۔
” سوری ۔۔ بیٹا کیسی۔۔ اب بتاؤ کیسا فیل کر رہی ہو ۔۔ ” وہ جو شہرام کی بات سوچتے سوچتے پریشان ہورہی تھی ان کے پوچھنے پر ان کی جانب متوجہ ہوئی ۔۔
” میں بلکل ٹھیک ہوں ڈیڈ ۔۔ بس مجھے گھر جانا ہے ۔۔۔” اس نے مسکراتے ہوئے انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کی ۔۔ اگرچہ وہ مطمئن ہوے تو نہیں لیکن پھر بھی انہوں نے سر ہلایا ۔۔
اور اس کے بالوں پر بوسہ دیتے ہوے ڈاکٹرز سے بات کرنے چلے گئے ۔۔ انہیں اندازہ تھا کہ ایوا کو یہاں ہستپال کا ماحول پریشان کرتا ہے ۔۔۔
_______________________________
رات کا پہر ۔۔ چاروں طرف خاموشی ایسے میں وہ ہاتھ میں کتاب پکڑے ایک بڑا سا دائرہ بنا کر اس کے بلکل درمیان میں کھڑی تھی ۔۔ دائرے کے گرد ۔۔ 20 ویمپائر کالے رنگ کا چوگا پہنے کھڑنے تھے ۔۔
منہ میں کچھ پڑھتے ہوئے ۔۔۔ ایک ویمپائر کی طرف اشارہ کیا تو اسے آگ لگ گئی ۔۔ پل بھر کا کام اور پھر وہ راکھ کر ڈھیر بن گیا ۔۔۔
ایسے کرتے ہوئے اس نے دائرے کے گرد سبھی ویمپائرز کی طرف اشارہ کیا ۔۔ اور باری باری سب ہی راکھ بنتے گئے ۔۔۔
پھر اس نے ان سب کی راکھ چاندی کے پیالے میں ڈالی ۔۔ اور اپنی ہتھیلی پر چاقو سے کٹ لگایا اور ہتھیلی سے نکلتا خون اس چاندی کے پیالے میں راکھ پر ڈالنے لگی ۔۔۔
اس کام سے فارغ ہوکر ۔۔ اس نے پھر سے آنکھیں بند کیں ۔۔ اور کچھ پڑھنے لگی ۔۔ کہ اس کے جسم کو دو تین جھکتے لگے ۔۔ اور اس کے ہلتے لب خاموش ہوئی ۔۔ اور ان پر ایک مسکراہٹ آئی ۔۔
جیسے کسی مقصد میں کامیاب ہونے پر آتی ہے ۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: