Beauty and the Vampire Novel by Zaha Qadir – Episode 6

0
بیوٹی اینڈ دی ویمپائر از ضحٰی قادر – قسط نمبر 6

–**–**–

تیز اور پرجوش قدموں سے چلتے ہوئے جولیا سیڑھیاں اترتی گارڈن کی طرف آئی جہاں اس کو لارڈ مارک کی موجودگی کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا ۔ اس کے چہرہ اس وقت فتح کے احساس سے چمک رہا تھا کیونکہ جس چیز کے بارے میں اسے کامیابی حاصل ہوئی وہ چھوٹی بات نہیں تھی ۔۔۔
گارڈن میں ہر طرف مختلف قسم کے پھول کھلے ہوئے تھے ۔۔ ۔۔ بڑے اور گھنے درخت جن پر وافر مقدار میں پھل لگے ہوئے تھے ۔۔تتلیاں پھولوں پر منڈلا رہی تھیں ۔۔ پرندوں کی چہچہاہٹ ۔۔ اگرچہ باہر اندھیرا تھا لیکن یہ جگہ ایسے روشن تھی جیسے صبح کا وقت ہو۔۔۔ گارڈن کے بیچ ایک بہت خوبصورت فوارہ لگا تھا مارک بھی اسے فوارے کے پاس کھڑا تھا ۔یہ باغ مکمل خوبصورتی کا نمونہ تھا اور یہی وجہ تھی کہ یہاں کسی کا جادو نہیں چلتا تھا ۔۔۔ یہاں ہر سپر نیچر کی پاورز ختم ہو جاتی تھیں ۔۔ اور یہ پانی ۔۔ جو فوارے سے نکل رہا تھا ۔۔ اگر کسی ویمپائر پر گرایا جاتا ۔۔ تو اس کا وہ حصہ جل جاتا جہاں یہ گرتا تھا اگرچہ وہ زخم بھر جاتا لیکن اس کی تکلیف ناقابلِ برداشت حد تک تیز تھی ۔۔ یہ پانی اکثر ویمپائرز پر ٹارچر کرنے کے لیے استمعال کیا جاتا تھا ۔۔
مارک کے چہرے پر اس وقت سرد تاثرات چھائے ہوئے تھے ۔۔وہ جھک کر کٹوری کے ذریعے پانی نکال کر شیشے کی بوتل میں ڈال رہا تھا ۔۔ جو تقریباً آدھی بھر چکی تھی ۔۔جبھی جولیا اس کے پاس آئی ۔۔
” لارڈ مارک ۔۔۔ ” جولیا نے اس کے پاس جاکر پرجوش انداز میں اس کو پکارا ۔۔ اس کا بوتل بھرتا ہاتھ ایک پل کو روکا ۔۔ پھر دوبارہ اپنے سابقہ کام میں مشغول ہوگیا ۔۔ جولیا نے اس کا یہ رویہ دیکھا لیکن اسے امید تھی کہ جو بات وہ اسے بتانے جارہی تھی اسے سن کر وہ یقیناً بہت خوش ہوگا ۔۔۔
” عمل کافی کامیاب رہا بس ایک اور پھر اس جگہ کا معلوم ہو جائے گا جہاں وہ رائل بلڈ ہے۔۔ ” اپنی طرف سے اس نے بہت بڑی خبر اسے سنائی اور اس کے چہرے کی جانب دیکھا تاکہ اس کے تاثرات جان سکے مگر اس کے چہرے کے تاثرات سپاٹ تھے ۔۔۔
جولیا کو یہ دیکھ کر غصہ آیا لیکن اسے ضبط کرنا پڑا ۔۔ کیونکہ وہ لارڈ تھا ۔۔ نہ صرف ویمپائرز کا بلکہ جادوگرنیوں کا بھی ۔۔ اس ساری جگہ پر اسکی حکمرانی تھی ۔۔
وہ اورنجل (یعنی وہ ویمپائر تھا جو سب سے پہلے وجود میں آئے تھے ۔۔ ویمپائر بھی دراصل جانوگرنیوں کے جادو کا نتیجہ تھے انہوں نے ان کو اپنی حفاظت کے لیے بنایا تھا لیکن وہ اتنے طاقتور ہوگئے تھے کہ انہوں نے ان پر ہی اپنی حکمرانی قائم کرلی ۔۔ اور یہ اورنجل ویمپائر سب سے طاقتور ہوتے ہیں ۔۔ لیکن رائیل بلڈ وہ ہیں جو اورنجل سے بھی طاقتور ہوگا ۔۔ اور وہ قدرت کا نتیجہ ہوگا ۔۔ اور یہاں ۔۔۔ اورنجنل کا تختہ پلٹنا تھا ۔۔۔)
” تم نے غلط دن بتایا !!! ۔۔ ” بوتل بھر کر وہ سیدھا ہوا اور اس کا ڈھکن بند کرتا سادہ انداز میں بولا تھا ۔۔ لیکن جولیا ۔۔ اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا ۔۔ اس نے تھوک نگلی ۔۔ اور خوفزدہ ہوتے اس کے چہرے کی جانب دیکھا جسے دیکھ کر کچھ پتا نہیں چل رہا تھا کہ وہ کیا سوچ رہا ہے ۔۔۔(اس نے ہی تو وہ دن بتایا تھا جس دن رائل بلڈ آنے کا چانسز تھے ۔۔ اس نے تو وہی دن دیکھا تھا ۔۔ لیکن وہ بچ کیوں اور کیسے گیا یہ اسے نہیں پتا تھا ۔۔)
” لارڈ میں ۔۔۔ ” ہونٹ تر کر کے بولنا چاہا کہ اسی وقت اس نے بوتل سے نظر ہٹا کر اسے دیکھا ۔۔اس کی نظریں اتنی سرد تھیں کہ جولیا کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ محسوس ہوئی ۔۔
” مجھے وہ رائل بلڈ چاہیے ۔۔ زندہ مردہ کسی بھی حالت میں ۔۔۔ ورنہ تم اپنا انجام اچھے سے جانتی ہو ۔۔۔ ” اپنی بات کہہ کر وہ جھکٹے سے مڑا اور بوتل کو لیے وہاں سے نکل گیا ۔۔
اس کے جانے بعد جولیا نے خوف سے گارڈن کے کونے میں بنے اس تالاب کو دیکھا جہاں بہت سی کھوپڑیاں ۔کے ۔ ڈھانچے تھے ۔۔ کچھ تالاب کے اندر تھے تو کچھ تالاب کے اوپر بنے درخت سے لٹک رہے تھے ۔۔ وہ سب جادوگرنیوں کے ڈھانچے تھے ۔۔۔ جنہیں تالاب میں موجود خونخورا آبی جانوروں کی نظر کیا گیا تھا ۔۔۔
اس نے جھرجھری لی ۔۔ اور وہاں سے جانے کی ۔۔۔
اسے جلد ہی کچھ کرنا تھا ۔۔ ورنہ مارک کتنا ظالم ہے ۔۔ یہ وہ اچھی طرح جانتی تھی ۔۔
___________________________
وہ آج بہتر محسوس کر رہی تھی اس لیے تیار ہو کر یونی کے لیے نکل گئی ۔۔ ڈیڈ کا تو پتا نہیں چلتا تھا ۔۔ آجکل اتنے مصروف هو گئے ہیں لیکن مسلسل تھوڑی دیر فون کر کے اس کی خیریت کا پوچھ رہے تھے ۔۔ ان کے جانے کے بعد وہ تیار ہوئی تھی کہ انہوں نے اس کو جانے سے منع کیا تھا لیکن پہلے ہی بہت لیکچرز اس کے مس ہوگئے تھے ۔۔ مزید وہ کرنا نہیں چاہتی تھی اس لیے خود ہی نکل پڑی ۔۔
بس سٹینڈ پر وہ بس کا انتظار کر رہی تھی ۔۔ اس نے ایک نظر کلائی پر باندھی گھڑی کو دیکھا ۔۔ بس آنے میں ابھی کچھ ٹائم تھا اور بھی لوگ بس وہاں کھڑے بس کا انتظار کر رہے تھے لیکن دو بدتمیز لڑکے کب سے اسے گھوری جا رہے تھے اور اس کا یہاں کھڑا ہونا مشکل کر رہے تھے ۔۔
منٹ ہی گزرا ہوگا کہ بلیک گاڑی بالکل اس کے پاس آکر رکی ۔۔ وہ بے ساختہ دوقدم پیچھے ہوئی ۔۔
اس گاڑی کو وہ پہچانتی تھی ۔۔ دل عجیب انداز میں ڈھڑکا تھا اسے دیکھنے کا سوچتے ہی ایک تحفظ کا احساس ہوا۔۔۔
گاڑی کا دروازہ کھلا اور بلیک ٹی شرٹ اور پینٹ میں وہ اپنی بھرپور وجاہت کے ساتھ اس کے سامنے تھا ۔۔
شہرام اب اس کے بلکل سامنے کھڑا اس کو دیکھ رہا تھا ۔۔ گولڈن بال اور اس کے ہالے میں معصوم چہرہ ۔۔ پنک ٹی شرٹ اور وائنٹ پینٹ پہنے وہ کیوٹ لگ رہی تھی ۔۔ وہ اس کے سینے کے برابر آتی تھی ۔۔ اس کے سامنے تو بلکل بچی لگتی تھی ۔۔
لیکن شہرام کو وہ اپنی لگتی تھی ۔۔ شہرام نے اس کے پیچھے دیکھا جہاں سے اب وہ دو لڑکے اسے دیکھتے ہی غائب ہوگئے تھے ۔۔ وہ گاڑی میں سی ہی ایوا کا گھبرایا چہرہ اور ان لڑکوں کی باتیں سن چکا تھا ۔۔ لیکن ظاہرہ نہیں ہونے دیا ۔۔ ویسے بھی وہ ان لڑکوں کا انجام سوچ چکا تھا ۔۔
اس کے آنے سے وہ جہاں پرسکون تھی ۔۔ وہی اس کی نظروں سے کنفیوژ ہو رہی تھی ۔۔ بار بار بال کان کے پیچھے اڑستے ہوئے ایک چور نظر اسے دیکھتی اور پھر روڈ کی جانب ۔۔ یعنی اس سے بچنے کے لیئے وہ بس کا انتظار کر رہی تھی ۔۔
اس کی اس حرکت سے وہ مسکرایا ۔۔ اور آگے بڑھ کر اس کی کلائی پکڑی ۔۔ بہت نرمی سے ۔۔ اور گاڑی کی فرنٹ سیٹ کا دروازہ اس کے لیے کھولا ۔۔
ایوا بھی کوئی بحث کیے بنا بیٹھ گئی کہ اسے اتنا تو پتا کہ کرنی تو اسے اپنی ہی ہوتی ہے ۔۔ چاہے سامنے والی کی مرضی ہو یا نہ ہو ۔۔۔
اسکے بیٹھنےکے بعد اس نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور گاڑی سٹارٹ کر کے آگے بڑھا ۔۔۔
گاڑی میں خاموشی چھائی ہوئی تھی جس سے گھبرا کر ایوا نے آگے ہو کر سونگ پلے کیا ۔۔
سونگ پلے ہوتی ہی
Alan walker
کی آواز گاڑی میں میں گونجی ۔۔
You were the shadow to my light
Did you feel us?
Another star
You fade away
Afraid our aim is out of sight
Wanna see us
Alight
ایوا کو یہ گانا پتا نہیں کیوں بہت پسند تھا ۔۔ اس لیے گاڑی سے ٹیک لگا کر پوری طرح گانے سے لطف اندوز ہو رہی تھی ۔۔ شہرام نے بھی اس کی دلچسپی نوٹ کی ۔۔ لیکن اس کی توجہ پھر سے سامنے موٹر سائیکل پر سوار لڑکوں پر گئی ۔۔
وہ وہی تھے جو بس سٹینڈ پر اس کی بیوٹی کو چھیڑ رہے تھے ۔۔ شہرام نے یکدم گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی ۔۔ اور ان کی موٹر سائیکل کو بری طرح ہٹ کرتے ہوئے وہاں سے گزر گیا ۔۔
یکدم گاڑی کی سپیڈ بڑھانے سے ایوا کو بھی جھٹکا لگا ۔۔ پھر جو کچھ ہوا ۔۔ اس سے وہ ڈر گئی ۔۔ اس نے پہچان لیا تھا کہ وہ لڑکے وہی تھے ۔۔ اور جس طرح شہرام نے انہیں ہٹ کیا تھا ۔۔ ان کی کوئی نہ کوئی ہڈی تو ضرور ٹوٹی ہونی ہے ۔۔
ایوا نے افسوس سے شہرام کو دیکھا ۔۔۔ جو پہلے ہی اسے دیکھ رہا تھا ۔۔ جس کے چہرے پر اپنے اس عمل پر کوئی شرمندگی نہیں تھی ۔۔
گانے کے بول پھر گونجے
Where are you now?
Where are you now?
Where are you now?
Was it all in my fantasy?
Where are you now?
Were you only imaginary?
کیا تھا وہ شخص ۔۔ بےرحم ۔۔ ظالم ۔۔ کیا ۔۔
ایوا مسلسل اس کی جانب دیکھ رہی تھی ۔۔
” کیوں کیا یہ ۔۔ ” وہ اتنی ہلکی آواز میں بولی تھی کہ اسے خود بھی مشکل سے اپنی آواز آئی تھی ۔۔لیکن شہرام کی تیز سماعت نے بلکل صاف اس کی بات سنی تھی ۔۔
نظریں سامنے سڑک پر ٹکائے اس کا ہاتھ پکڑا ۔۔ اور اس کے ہاتھ کی پشت پر بوسہ دیتے ہوئے سنجیدگی سے بولا ۔۔
” کوئی میری بیوٹی کو کچھ کہے ۔۔ اور میں اسے چھوڑ دوں گا ۔۔ یہ تو ہو نہیں سکتا ۔۔ ” وہ ایک ہاتھ سے ڈرائیونگ کر رہا تھا جبکہ دوسرے ہاتھ سے اس نے اس کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا ۔۔
ایوا اس کی بات سن کر گھبرا گئی تھی ۔۔ یہ اس کو اس کی تیز ہوتی دھڑکن سے پتا لگ گیا تھا ۔۔ مگر جو سچ تھا اس نے وہی کہا تھا ۔۔
اب گاڑی میں صرف ۔Allen Walker کی آواز تھی ۔۔
Where are you now?
Atlantis
Under the sea
Under the sea
Where are you now?
Another dream
The monster’s running wild inside of me
I’m faded
I’m faded
So lost, I’m faded
I’m faded
So lost, I’m faded
These shallow waters never met what I needed
I’m letting go a deeper dive
Eternal silence of the sea, I’m breathing
Alive
Where are you now?
Where are you now?
Under the bright but faded lights
You’ve set my heart on fire
Where are you now?
Where are you now?
Where are you now?
Atlantis
Under the sea
Under the sea
Where are you now?
Another dream
The monster’s running wild inside of me
I’m faded
I’m faded
So lost, I’m faded
I’m faded
So lost, I’m faded
گاڑی یونی میں آئی ایوا دروازہ کھول کر بھاگنے کے انداز سے نکلی ۔۔ اسے بس اس وقت شہرام سے خوف آرہا تھا ۔۔
اور شہرام اسے خود سے دور جاتا دیکھ رہا تھا ۔۔
وہ دن بہ دن اس لڑکی کی ذات میں گم ہوتا جا رہا تھا ۔۔ اتنا کہ اسے کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ خود کو بھولتا جا رہا ہے ۔۔۔
_____________________________
وہ منہ ہوڈی سے چھپائے ہسپتال میں داخل ہوا ۔۔
یہ دوسری بار تھا وہ یہاں آیا تھا ۔۔
لیکن وجہ ایک ہی تھی ۔۔
پہلے اس کی طبیعت کا پتا کرنے آیا تھا ۔۔
اور
آج کسی کی طبعیت صاف کرنے ۔۔۔۔
ہلکہ یہ بہت مشکل تھا اس کے لیے یہاں خود پر کنٹرول کرنا ۔۔ لیکن وہ کر رہا تھا ۔۔
آخرکار اسے مطلوبہ افراد مل گئے ۔۔ نرس ڈرپ میں انجیکشن ایڈ کر رہی تھی جب وہ
اندر آیا ۔۔
جہاں دو جوان لڑکے الگ الگ بسر پر پڑے تھے ایک کی ٹانگ پر فریکچر تھا ۔۔ تو دوسرے کی بازؤں پر ۔۔ ان کی حالت کافی خراب تھی ۔۔ لیکن وہ ابھی بھی مطمئن نہیں تھا ۔۔
” آپ ان کے جاننے والے ہیں ۔۔ ” اس نے ان سے نظر ہٹا کر نرس کو دیکھا جو سوالیہ نظروں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔
” باہر جاؤ ۔۔ اور 20 منٹ تک کوئی بھی اندر نہ آئے ” ۔۔ نرس ٹرانس کی سی کیفیت میں سر ہلا کر باہر نکل گئی ۔۔
اس کے جاتے وہ ان کے پاس آیا ۔۔
جو شاید دوائی کے اثر سے بےہوش سو رہے تھے ۔۔
لیکن اب ان کو کسی بھی دوائی ۔۔ کی ضرورت نہیں پڑنی والی تھی کیونکہ وہ ان کو ہمیشہ کی نیند ہی تو سلانے آیا تھا ۔۔۔
ان کو ابدی نیند سلانے کے بعد وہ جس خاموشی سے آیا تھا ۔۔ اسی خاموشی کے ساتھ وہاں سے نکل گیا ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: