Beauty and the Vampire Novel by Zaha Qadir – Episode 7

0
بیوٹی اینڈ دی ویمپائر از ضحٰی قادر – قسط نمبر 7

–**–**–

اوون میں پاپ کارن کا پیکٹ رکھ کر ٹائمر سیٹ کر کے جیسے ہی وہ پیچھے ہوئی اس کی نظر اپنے ڈیڈ پر گئی انہیں وردی میں تیار دیکھ کر اس نے ناراضگی سے ان کی جانب دیکھا ۔۔
” ڈیڈ ۔۔ یہ اچھی بات نہیں ہے ۔۔ آج کا دن آپ نے میری ساتھ گزارنا تھا ۔۔ ” اس کیے ناراضگی کے اظہار پر انہوں نے اس کی جانب دیکھا جو سینے پر ہاتھ باندھنے سخت خفا تھی ۔۔
” نیکسٹ ٹائم۔۔۔۔ پرامس ۔۔ ابھی بہت ضروری کام ہے ۔۔ ” اس کے پاس پہنچ کر انہوں نے اسے بہلانا چاہا ۔۔
” آپ ہر بار یہی کہتے ہیں ۔۔” ان کے چہرے سے نظر ہٹا کر اس نے اوون کی طرف کرلی جہاں سے پوپ کارن کے دانے ۔۔ آواز کے ساتھ پھول رہے تھے ۔۔ اب اس کے چہرے پر ناراضگی کی جگہ افسردگی تھی ۔۔
اسے افسردہ دیکھ کر وہ بھی خوش نہیں تھے ۔۔ اس لیے مزید کچھ بولے بغیر انہوں نے جھک کر اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور اپنا خیال رکھنے کی تاکید کرتے ہوئے نکل گئے ۔۔
وہ وہیں کھڑی ان کو جاتا دیکھ رہی تھی ۔۔ آج اس نے ان کے ساتھ گھر میں مووی دیکھنے کا پلان بنایا تھا ۔۔ لاونج میں ٹی وی کے ساتھ لیپ ٹاپ کنیکٹ کیا ہوا تھا ۔۔
اوون بھی ٹن کی آواز کے ساتھ بند ہوا تو سست قدموں سے چلتے ہوئے اس نے پاپ کارن نکالے ۔۔
فریش پاپ کان کی خوشبو کچن میں پھیل گئی ۔۔ پاپ کارن کو باؤل میں ڈال کر اس نے باؤل لاونج میں ٹی وی کے سامنے رکھی ٹیبل پر رکھا ۔۔
پھر لیپ ٹاپ کو پکڑا ۔۔ یہ تو اکثر ہوتا تھا کہ وہ پروگرام بناتے اور ڈیڈ ضروری کام کی وجہ سے چلے جاتے ۔۔ تھوڑی دیر افسردہ رہنے کے بعد وہ خود کو بہلا لیتی تھی ۔۔
اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا دیکھے ۔۔
پھر کچھ سوچتے ہوئے اس نے (twilight ) کا پہلا پارٹ لگایا ۔۔ اور پاپ کارن کا باؤل گود میں پکڑ کر بیٹھ گی ۔ اس نے یہ مووی پہلے بھی دیکھی تھی ۔۔ اسے اچھی لگی تھی ۔۔ لیکن آج وہ شہرام کی وجہ سے دیکھ رہی تھی ۔۔
ٹی وی لاونج کی باقی لائٹ اس نے بند کر دی تھی ۔۔ اب صرف ٹی وی کی روشنی تھی ۔۔ جس میں اس کا چہرہ چمک رہا تھا ۔۔ پتا نہیں کیوں لیکن ہر سین میں اسے ایڈورڈ کی جگہ شہرام اور بیلا کی جگہ اپنا آپ لگ رہا تھا ۔۔ وہ پوری طرح مووی میں گم تھی ۔۔
ابھی جہاں بیلا کو ایڈورڈ جنگل کی طرف لے کر جاتا ہے کہ اسے کسی اور کی موجودگی کا احساس ہوا ۔۔
اس کے گلے میں گلٹی ابھر کر ڈوبی ۔۔ اس نے گردن موڑ کر دیکھا تو روشنی میں اسے سیڑھی میں بیٹھا کوئی دیکھائی دیا ۔۔
باقی ساری لائٹ بند تھی صرف ٹی وی کی رنگ بدلتی روشنی تھی جس میں اس کا چہرہ نظر نہیں آرہا تھا بس بلیک بوٹ میں مقیم پاؤں اور اوپر بلیک پینٹ ۔۔ اسے اپنی طرف دیکھتا پاکر وہ کھڑا ہوا اور آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے اس کے پاس آیا ۔۔ جیسے جیسے وہ قریب آرہا تھا اس کا چہرہ بھی واضح ہونے لگا ۔۔
ایوا کو پتا نہیں کیوں پہلے ہی لگا تھا کہ شہرام ہوگا ۔۔ کیونکہ ایک وہی تھا ۔۔ جو ہوا کے جھونکے کی طرح آتا تھا ۔۔
شہرام اب اس کے بلکل پاس کھڑا ۔۔ گرے چمکتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔ اس کی موجودگی میں اکثر اسے یوں لگتا تھا جیسے اس نے فضا میں موجود ساری ہوا کو اپنے قبضے میں لے لیا ہو ۔۔
شہرام نے اپنا ہاتھ اس کے سامنے کیا ۔۔ تو ایوا نے سوالیہ نظروں سے اسے پھر اس کے ہاتھ کو دیکھا ۔۔اس کا ہاتھ دیکھ کر دل زور سے ڈھڑکا۔۔۔
” اس ویمپائر کے ساتھ یہ بیوٹی ۔۔ ایک ایڈوینچر کرے گی ۔۔ ایڈورڈ اور بیلا کی طرح ۔۔ ” اس کی بات پر ایوا کے گال لال ہوئے ۔۔ ہونٹ کو دانتوں میں دباتے ہوئے اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ شہرام کی اس آفر کا کیا جواب دیے ۔۔۔
دل اس ایڈونچر کے لیے اکسا رہا تھا ۔۔ لیکن دماغ اسے خطرے کا سگنل دے رہا تھا ۔۔
اس سے پہلے وہ اپنے ہونٹوں کو زخمی کرتی شہرام نے نرمی سے اس کے ہونٹوں کو دانت کی گرفت سے آزاد کریا۔
” یہ ظلم ہے ۔۔۔ ” بھلا اسے کہاں یہ گوارا تھا کہ اسے کوئی تو پھر کوئی وہ خود کو بھی کوئی نقصان کیوں پہنچائے۔۔
” تین تک گنوں گا پھر یہ آفر ختم ۔۔۔”
” ایک ۔۔۔ ” ایوا کا دل کہہ رہا تھا ہاں بول دے ۔۔ لیکن دماغ منع کر رہا تھا ۔۔
” دو ۔۔۔ ” اس کا دل زور سے دھڑکا ۔۔جیسے ابھی آفر ختم ہو جائے گی ۔۔
جب تین کی باری آئی تو اس بجائے تین بولنے کے اس نے اسے اپنی باہوں میں اٹھایا ۔۔ جس پر ایوا بوکھلا کر بولی ۔۔” میں نے ہاں تو نہیں کی ۔۔۔ “
اس کی بات پر وہ مسکرایا تو اس کے گالوں پر ڈمپل پڑا ۔۔ ایوا کو اپنا دل ان ڈمپل میں ڈوبتا محسوس ہوا ۔ تو ا سنے فوراً نظریں چورا لی کہ کہیں وہ دیکھ نہ لے مگر اسے کیا پتا کہ وہ اس کی ایک ایک حرکت اس کی سانسوں کی رفتار ۔۔ سے اس کی پلکیں جھپکنے تک سب پر اس کی نظر تھی ۔۔ تو پھر کیسے اس کا نظریں اس کے ڈمپل کو دیکھ کر چرانا اس سے چھپا رہ سکتا تھا ۔۔۔
” میں نے تمہاری دل کی رضامندی سن لی ۔۔ ” اسے گود میں یونہی اٹھائے وہ اوپر اس کے کمرے میں آیا اور کھڑکی کے سامنے کھڑا ہوگیا ۔۔
ایوا کو اس کے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے تھے ۔۔ ایک تو وہ اس کو بلکل بچوں کی طرح گود میں اٹھائے ہوئے تھا ۔۔ جوکہ اسے بہت عجیب لگ رہا تھا ۔۔ دوسرا اس کا اس طرح کھڑکی کے آگے کھڑے ہونا ۔۔ وہ بھی ایڈونچر کے نام پر ۔۔ بس پھر ۔۔ ایوا کو یوں لگ رہا تھا کہ آج اس نے جان سے جانا ہے ۔۔
” ہم یہاں کیوں آئے ۔۔۔؟” اس کے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ کھڑکی کھول کر باہر نکلا ۔۔ جس کے آگے چھوٹا سا ٹیریس بھی بنانا ہوا تھا ۔۔ جس پر وہ اس کو لے کر کھڑا تھا ۔۔
اس نے اسے گود سے اتار کر آرام سے کھڑا کیا پھر اپنی پیٹھ اس کی جانب کر کے نیچے بیٹھ گیا ۔۔
” مجھ کس کے پکڑنا ۔۔۔ ” ایوا نے اپنے دونوں بازو اس کی گردن میں ڈالے تو اس نے اسے ہدایت کی جس پر عمل کرتے ہوئے اس نے کس کر اسے پکڑا ۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ کھڑا ہوا تو ایوا نے اپنی ٹانگیں اس کے پیٹ کی طرف کر کے باندھ لی ۔۔
پھر جیسے جیسے وہ آگے بڑھ رہے تھے ایوا کو یوں لگ رہا تھا ۔۔ جیسے وہ ہوائوں سے باتیں کر رہی ہو ۔۔وہ کہاں لے کر جا رہا تھا ۔۔ اسے نہیں پتا تھا ۔۔ وہ بس اس کو زور سے پکڑے ۔۔ دلچسپی سے اردگرد دیکھ رہی تھی ۔۔
سب جادوئی سا لگ رہا تھا ۔۔
یا خواب سا ۔۔
_____________________________
چاروں طرف درخت ہی تھے ۔۔ یا کسی وقت کوئی الو بول پڑتا ۔۔ یہ بھی کوئی جگہ تھی ۔۔ ایڈورڈ تو بیلا کو اتنی پیار جگہ دیکھانے لے کر گیا ۔۔ اور میرا ۔۔ ویمپائر ۔۔ پتا نہیں کیوں اتنا جنگل پسند ہے ۔۔ ایوا نے آس پاس کی جگہ کو دیکھتے ہوئے مایوسی سے سوچا ۔۔
شہرام کو اندازہ تھا ۔۔ اس کی سوچ کا ۔۔ اس کے چہرے سے اسے کی دل کی بات معلوم ہو جاتی تھی ۔۔
“اپنی آنکھیں بند کرو ۔۔۔ ” ایک جگہ اسے اتار کر شہرام نے کہا ۔۔ اس نے تابعداری سے آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا ۔۔
شہرام نے سینے پر ہاتھ باندھ کر اس کی حرکت دیکھی ۔۔ جو اب انگلیوں کو تھوڑا سا کھول کر دیکھ رہی تھی ۔۔
نفی میں سر ہلاتے ہوئے ۔۔ شہرام نے آگے بھر کر اس کے ہاتھ نیچے کیے ۔۔ جس پر اس نے منہ بسورا ۔۔ اس کے ایسے کرنے سے اس کی ہارٹ بیٹ مس ہوئی ۔۔
مگر پھر جھک کر اس نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوے پھر سے سحر پھونکا ۔۔
” آنکھیں بند ۔۔ ” ایوا نے میکانی انداز میں آنکھیں بند کر لیں ۔۔ اب وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ لے کر جا رہا تھا ۔۔
وہ جس طرف جارہے تھے وہاں کی ہوا بہت خوشگوار ٹھنڈی اور میٹھی تھی ۔۔
پانی کی آواز اسے قریب سے آئی ۔۔ لیکن وہ آنکھیں نہیں کھول پا رہی تھی ۔۔
ایک جگہ آکر وہ رک گئے ۔۔ تو شہرام نے اسے آنکھیں کھولنے کا کہا ۔۔
جیسے ہی اس نےاس آنکھیں کھولیں تو وہ سٹل ہوگی ۔۔ اتنی خوبصورت جگہ ۔۔۔
سامنے سمندر تھا ۔۔ دور دور تک ۔۔ رات کا وقت اور چاند ستارے جو آسمان پر چمک رہے تھے وہ یوں لگ رہا تھا جیسے پانی میں آگئے ہوں ۔۔ آس پاس اڑتے جگنو۔۔
اس نے دو تین بار آنکھیں مل کر دیکھیں ۔۔ کہیں خواب تو نہیں دیکھ رہی ۔۔ لیکن ہر بار منظر وہی آ رہا تھا ۔۔
پھر اس نے منہ پر ہاتھ رکھ کر اس کی جانب دیکھا ۔۔ جو سٹل یک ٹک اس کے چہرے پر آتے جاتے رنگوں کو دیکھ رہا تھا ۔۔ اس پاس کا منظر تو جیسے اس کے لیے بے معنیٰ تھے ۔۔۔
ایوا چمکتے دمکتے چہرے کے ساتھ اس کے پاس آئی اور اس کے مضبوط ہاتھ کو اپنے نازک ہاتھ میں پکڑا ۔۔
” تھینک یو ۔۔۔ تھنک یو سو مچ ۔۔ ” پھر اس کا ہاتھ چھوڑ کر وہ جگنو کے پیچھے بھاگنے لگی ۔۔ کبھی پکڑ لیتی تو ۔۔کبھی پکڑ کر چھوڑ دیتی ۔۔ پھر کھلکھلا دیتی ۔۔
اور شہرام شاید وہ پہلا ویمپائر تھا جو خود کسی انسان کے سحر میں قید تھا ۔۔
” ایک بات پوچھوں ۔۔۔ ” اب وہ تھک گئی تھی اس لیے اس کے ساتھ پاؤں پانی میں ڈال کر بیٹھی ہوئی تھی ۔۔شہرام نے سر ہلا کر اسے اجازت دی ۔۔
” تم ویمپائر کیسے بنے ۔۔۔ ” پرسوچ انداز میں اس کی جانب دیکھتے ہوئے اس نے سوال پوچھا ۔۔
شہرام نے اس کی جانب دیکھا ۔۔ جس کا وجود چاند کی سفید روشنی میں نہایا ہوا تھا ۔
” میں اپنے گھر جانے کے لیے جنگل میں سے گزر رہا تھا ۔۔ جب کسی نے پیچھے سے مجھ پر حملہ کیا اور میں بےہوش ہوگیا ۔۔وہ کون تھا مجھے نہیں معلوم لیکن جب میں جاگا تو انسان نہیں تھا ۔۔ ” وہ اتنے بےتاثر انداز میں بتا رہا تھا جیسے اپنے بارے میں نہیں کسی اور کے بارے میں بتا رہا ہو ۔۔
” تو کیا تمہاری کوئی فیملی نہیں تھی ۔۔ ؟؟” تھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھے وہ دلچسپی سے اب اس کا انٹرویو لے رہی تھی ۔۔
” ہاں نا ۔۔ ایک بھائی تھا۔۔۔ مارک ۔۔ ” اس کے ذکر پر ایوا نے واضح اس کے چہرے پر نفرت دیکھی تھی ۔۔ مگر پھر بھی وہ خود کو مزید سوال کرنے سے نہیں روک سکی ۔۔
” تو وہ اب کہاں ہے ۔۔ ” اب کہ وہ دومنٹ چپ رہا ۔۔ اور پانی میں بنتی گول گول لہروں کو دیکھنے لگا ۔۔ پھر زہر کند انداز میں بولا ۔۔
” جہنم میں ۔۔۔ ” ایوا کو سمجھ نہیں آئی کہ وہ کیا کہے ۔۔وہ تو اب بھی کنفیوز تھی کی آیا وہ مر کر جہنم میں گیا ہے یا زندہ ہے ۔۔ شہرام نے اس کی یہ مشکل آسان کردی ۔۔
” کوئی اور سوال ہے تو وہ پوچھ لو ۔۔۔” ایوا نے بھی مزید نہیں کریدا ۔۔
” ویمپائر کیسے بنتے ہیں ۔۔ ” اس کے سوال پر اس کے چہرے پر چھائے تاثرات جو مارک کے ذکر سے آئے تھے وہ ختم ہوگئے ۔۔ بلکل کہ مسکراہٹ نے اس کی جگہ لے لی ۔۔
“اس کا جواب میں پہلے بھی دیا تھا ۔۔ جب تم بنو گی تو پتا چل جائیگا ۔۔۔۔ ” ایوا نے بدمزہ ہو کر منہ بنایا ۔۔
” اور میں پہلے بھی کہا تھا کہ میں مصعوم لوگوں کا خون نہیں پیوں گی ۔۔ ” ناراضگی سے بتایا گیا ۔۔
” تو ٹھیک ہے نا ۔۔ گندے لوگوں کا پی لینا ۔۔۔ ” شہرام نے بھی اس کی بات کا جواب اسی کے انداز میں دیا ۔۔ جس پر ایوا کا منہ کھل گیا ۔۔
” ہونگے تو وہ انسان نا ۔۔۔ ” اس نے جیسے احتجاج کیا ۔۔
” مگر مصعوم نہیں گندے ۔۔۔” اس کے گالوں کو شرارت سے کھینچتے ہوئے گویا ہوا ۔۔
ایوا نے منہ پیچھے کر کے اسے گھورا ۔۔ اور پھر اپنا گالا ۔۔ سہلایا ۔۔ اتنی زور سے کھنچا تھا اس نے ۔۔ حالانکہ اس نے تو اپنی طرف سے بہت نرمی سے کیا تھا ۔۔
شہرام نے اس کا ہاتھ نیچے کیا ۔۔ پھر اسے گال پر بوسہ دیا ۔۔ جس سے وہ پل بھر میں لال ہوئی ۔۔ شہرام نے محفوظ ہوتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لگایا ۔۔ اور سرگوشی کہ انداز میں پوچھا ۔۔۔
” ڈو یو لو می ۔۔۔ ” ایوا کچھ نہیں بولی لیکن اس کی تیز ہوتی دھڑکنیں شہرام کو جواب دے گئی تھیں ۔۔
جس سے وہ سرشار ہوگیا ۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: