Beauty and the Vampire Novel by Zaha Qadir – Episode 8

0
بیوٹی اینڈ دی ویمپائر از ضحٰی قادر – قسط نمبر 8

–**–**–

دور اگر ویمپائر ٹاؤن میں جاؤں تو جولیا آج پھر وہی عمل کر رہی تھی ۔۔۔
لیکن پچھلی بار والا اطمینان اس بار اس کے چہرے سے رخصت تھا ۔۔
اب کی بار گھبراہٹ تھی ۔۔
اس نے چاند کی طرف دیکھا ۔۔ جس کے پورے ہونے میں چند دن ہی باقی تھی ۔۔اگر اس نے دیر کی تو اس کی جان بھی اس کے باقی ساتھیوں کی طرح مارک کے ظلم کا نشانہ ہونی تھی ۔۔
اس نے آنکھیں بند کیں ۔۔ پھر سے اور وہی سارا عمل دھرایا ۔۔۔
اور ویمپائر کے خون میں اپنا خون ڈال کر آنکھیں بند کی ۔۔ تو اب کی بار اسے جگہ واضح نظر آئی ۔۔ لیکن اس بار اس نے فیصلہ کیا تھا کہ جب تک وہ رائل بلڈ کو نہیں ڈھونڈ لے گی مارک کے پاس نہیں جائے گی ۔۔۔
اس نے آنکھیں کھولیں تو اس کو اپنے ہونٹ کے اوپر کچھ گیلا گیلا محسوس ہوا ۔۔ اس نے ہاتھ سے اس جگہ کو چھوا ۔۔ اور اپنی انگلی کو دیکھا ۔۔ تو وہاں خون لگا تھا ۔۔
اس نے لمبی سانس لی اور اٹھ کھڑی ہوئی یہ اس کے لیے نئی بات نہیں تھی جب بھی یہ وہ عمل اکیلے کرنے کی کوشش کرتی ۔۔ جو دو یا تین جادوگرنیوں کے کرنے والا ہوتا تھا تب تب اس کی ناک سے خون نکلتا تھا ۔۔
اس کا مطلب ہوتا تھا کہ اس عمل میں اس کی زندگی میں جا سکتی ہے ۔۔لیکن غلاموں کی اپنی زندگی بھی کہاں ہوتی تھی ۔۔ اس نے سر جھٹکا ۔۔ اور تمام تلخ سوچوں کو دماغ سے نکالا۔۔
ابھی سب سے ضروری اس جگہ جانا اور رائل بلڈ کو ڈھونڈنا تھا ۔۔۔
___________________________
وہ کلاس لے کر باہر نکلی تو اس کے ساتھ جیٹ تھا ۔۔ جو یونی کے باسکٹ بال کا کپٹن تھا وہ اسے ڈیٹ کے لیے پوچھ رہا تھا جسے اس نے بڑے طریقے سے منع کردیا ۔۔ تبھی اس کی نظر شہرام پر گئی جو باہر کی طرف جا رہا تھا ۔۔ اگرچہ اپنی طرف سے تو وہ آرام سے چل رہا تھا ۔۔ لیکن پھر بھی اس کی چلنے کی رفتار بہت تیز تھی ۔۔
اسے دیکھ کر ایوا کی آنکھوں میں چمک آئی ۔۔ اور گلابی لب مسکراہٹ میں ڈھلے ۔۔۔ وہ جیٹ سے معذرت کرتے ہوئے اس کی طرف تیز قدموں سے بڑھنے لگی ۔۔ لیکن پھر بھی اسکی پاس نہ پہنچ پا رہی تھی آخر میں اس نے تھک کر اس کا نام پکرا ۔۔۔
” شہرام ۔۔۔ ” اس کے چلتے قدم رکے ۔۔ ناصرف اس کے بلکہ آس پاس کھڑے سٹوڈنٹس نے بھی حیرت سے اسے دیکھا جس نے خود موت کو آواز دی تھی ۔۔
وہ مڑا ۔۔ تو اس کے ماتھے پر بل تھے ۔۔ اور آنکھوں میں ناگواری اس نے پہلے اپنی سرد آنکھوں سے سٹل کھڑے سٹوڈنٹس کو گھورا ۔۔ تو سب فوراً حرکت میں آئے اور وہاں سے جانے لگے ۔۔
جبکہ شہرام اس کا ہاتھ پکڑ کر چلنے لگا ۔۔۔ ایوا کو اس کے تیور پتہ نہیں کیوں خطرناک سے لگ رہے تھے ۔۔ اس نے اس کی اور اپنی آخری ملاقات کا سوچا ۔۔ تب تو سب پرفیکٹ تھا اب کیا ہوگیا ۔۔ لیکن کوئی سرا اس کے ہاتھ نہیں آرہا تھا ۔۔
وہ اسے لے کر یونی کی بیک سائیڈ پر لے کر آیا ۔۔ اور دیوار کے ساتھ اس کی پشت لگا کر اس کے دائیں بائیں ہاتھ رکھ کر اس کی جانے کی راہیں مفعود کر دیں ۔۔
” شہرام ۔۔۔ ” ایوا نے ناسمجھی سے اسے دیکھا ۔۔ جس کے تیور واقعی خونخوار تھے ۔۔
اس کے چہرے کی رگیں تنی ہوئی تھیں ۔۔ لب بھینچیں ہوئے ۔۔ اور آنکھوں میں عجیب سے چبھن لیے وہ اسے دیکھ رہا تھا ۔۔
” بتاؤ ۔۔ کس کی ہو تم ۔۔۔؟؟ ” اس کے کان کی جانب جھکتے ہوئے اس نے سرسراتے لہجے میں پوچھا ۔۔ ایوا نے پیچھے ہونا چاہا لیکن وہ تو پہلے ہی دیوار کے ساتھ لگی تھی ۔۔ اور پیچھے کہاں جاتی ۔۔ پھر پریشانی سے اسے دیکھا جو اپنے جواب کا منتظر تھا ۔۔۔
اس کے یہ تیور اسے ڈرا رہے تھے ۔۔
” ڈیم ایٹ ۔۔۔ جواب دو ۔۔۔ ” جب اس نے کوئی جواب نہ دیا تو وہ زور سے دیوار پر ہاتھ مار کر دھاڑا ۔۔ ایوا کو ایک پل کو لگا جیسے اس کے کان کے پردے پھٹ جائیں گے ۔۔
” ۔۔۔ تمہار ی ۔۔ “آنکھوں بند کر کے اٹکتے ہوے اس نے جواب دیا ۔۔ جبکہ دل بری طرح دھڑک رہا تھا ۔۔
شہرام نے اس کو کندھوں سے پکڑ کر اپنے قریب کیا ۔۔
” تو اس کی ہمت کیسی ہوئی تم سے ڈیٹ کا پوچھنے کی ۔۔۔ ” ایوا کو سمجھ آئی وہ جیلس ہو رہا تھا ۔۔ اس لیے وہ غصے میں تھا ۔۔ لیکن اسے اتنا پتا تھا کہ وہ اسے کچھ نہیں کہے گا ۔۔ لیکن جیٹ اس کی چھوڑے گا نہیں ۔۔ اس لیے اس نے خود کو کمپوز کیا ۔۔کیونکہ یہ ضروری تھا اس خطرناک ویمپ کو ٹھنڈا کر سکے ۔۔۔
جو اسے اپنا لگتا تھا ۔۔
پہلے دن سے ڈھرکن کی طرح لیکن اس کا روڈ رویہ دیکھ کر اسے پیچھے ہونا پڑا ۔۔۔
لیکن اب جب وہ خود کہتا تھا تو وہ کیوں پیچھے ہو رہی تھی ۔۔
اس نے شہرام کے دل پر اپنا ہاتھ رکھا ۔۔ تو اس کے تنے سارے تاثرات یکدم ڈیھلے پر گئے ۔۔
ایوا نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سنجیدگی بولنا شروع کیا ۔۔
” میں کسی اور کی نہیں ہوسکتی کیونکہ میں پہلے ہی کسی کی ہو چکی ہوں ۔۔ اور اس کی ہی رہوں گی ۔۔کیونکہ اب ” یہ کہہ کر وہ ایک پل کے لیے خاموش ہوئی ۔۔
اس کی باتیں سنتے شہرام کے تاثرات پھر سے تن گئے ۔۔ اندر آگ سی لگ گئی ۔۔ وہ تو اس لڑکے کی اس کی بیوٹی کو ڈیٹ آفر کرنے پر ہی اتنا بھڑک گیا تھا تو کیسے اس کے منہ سے ایسی باتیں برادشت کر سکتا تھا ۔۔ اس کا دل کر رہا تھا کہ ہرطرف آگ لگا دے جیسے اس کے اندر لگی ہے لیکن ایوا کی اگلی بات نے ٹھنڈی کر دیا ۔۔۔
” کیونکہ اب میرا دل بھی ۔۔ اس ویمپائر کے ساتھ ہی دھڑکتا ہے ۔۔۔ ” شہرام اس کی جانب دیکھا ۔۔ جو اظہارِ کرنے کے بعد سنجیدگی سے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔
” Say it … “
ایوا کو پتا تھا کہ وہ کیا کہنے کا کہہ رہا ہے ۔۔ اس نے گہری سانس لی ۔۔
” I love you shahram ” اس نے آخرکار وہ بول ہی دیا جو وہ اس سے سنا چاہتا تھا ۔۔اس نے اسے گلے سے لگایا تو جواب میں ایوا نے بھی اپنے نازک بازوں اس کے گرد باندھ دیئے ۔۔۔ وہ اب پرسکون تھا ۔۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ وہ اپنی بیوٹی کو ڈیٹ آفر کرنے والے کو چھوڑنے کا ارادہ رکھتا تھا ۔۔یہ سوچتے ہوئے اس کی گرفت ایوا کے گرد سخت ہوئی تو وہ کسمسائی لیکن شہرام وہ تو یہ سوچ رہا تھا کہ اس لڑکے کو کیسے مارنا بیسٹ ہوگا ۔۔۔
” مجھے درد ہو رہا ہے ۔۔۔ ” آخر جب وہ اس کی سخت گرفت برادشت نہ کر پائی تو بول اٹھی ۔۔۔
شہرام نے نرمی سے اسے خود سے الگ کیا ۔۔۔اور ہاتھ سے اس کا گال سہلایا۔۔
اس کے ایسے کرنے سے ایوا کا دل پھر زور سے ڈھرکا ۔۔۔ اس کا دل کیا کہ یہاں سے بھاگ جائیں لیکن ابھی ایک ضروری کام کرنا تھا ۔۔
” میری ایک بات مانو گے ۔۔۔ ” اس نے آس سے اس سے پوچھا ۔۔۔
” ہممم ۔۔۔۔ ” شہرام اس کی گردن پر جھکتے ہوے بولا ۔۔ ایوا کا کلیجہ منہ کو آگیا اس کے ایسے کرنے سے۔۔۔ الفاظ خاک نکلتے ۔۔۔
شہرام نے جھک کر اس کی گردن سے بال ہٹا کر پیچھے کیے ۔۔ پھر ان نشان پر لب رکھے جہاں سے اس نے خون پیا تھا ۔۔ پھر پیچھے ہوگیا کیونکہ وہ اس کی پاگل ہوتی دھڑکن سن سکتا تھا اسے پتا تھا کہ اگر وہ مزید کچھ دیر ٹھہرتا تو ایوا نے بے ہوش جانا تھا ۔۔ اور شاید وہ خود بھی اپنے پر قابو نہ رکھ پتا ۔۔
” تم کچھ کہہ رہی تھیں ۔۔ ” اب وہ اسے چھوڑ کر کھڑا ہوا ۔۔ کہ وہ آرام سے بات کر سکے ۔۔
ایوا کا دل کیا کہ جائے سب بھاڑ میں ۔۔۔ خود تو یہاں سے بھاگے لیکن پھر وہ کر بھی دیتی لیکن پھر آنکھوں کے سامنے جیٹ کا زخمی وجود گھما تو اسے روکنا پڑا ۔۔
شہرام اس کی ساری حرکات نوٹ کر رہا تھا ۔۔ لیکن اس نے کچھ نہیں کہا ۔۔ وہ بس اس کے بولنے کا منتظر تھا ۔۔
” پہلے پرومس کرو ۔۔ میری بات مانو گے ۔۔ ” ایوا کی بات پر اس کی بھنویں اوپر کو ہوئی ۔۔ کہ ایسی بھی کیا بات ۔۔ لیکن اس نے پھر بھی سر ہلا دیا ۔۔
جس سے ایوا کو تسلی ہوئی ۔۔۔
” تم جیٹ کو کچھ نہیں کہوں گے ۔۔۔ اس نے بس پوچھا تھا ۔۔ اور میرے منع کرنے پر پیچھے بھی ہوگیا ۔۔ ” ایوا نے ساتھ صفائی بھی دے دی ۔۔ پھر اس کا چہرہ دیکھا جو سپاٹ تھا ۔۔
” اوکے ۔۔۔ کچھ نہیں کرتا ۔۔۔ ” اس نے آرام سے بات مان لی ۔۔ جس کی اس کو بلکل بھی امید نہیں تھی ۔۔ اس لیے اس نے پھر تسلی چاہی ۔۔۔
” تم پکا اس کو ہاتھ نہیں لگاؤ ۔۔ گے ۔۔۔ “
” پکا میں ہاتھ نہیں۔ لگاؤں گا ۔۔ لیکن اب ایک بار بھی تم نے مزید اس سے ریلڈڈ کچھ کہا تو مجھ سے شکایت مت کرنا ۔۔۔ ” اس پھر سے منہ کھولے دیکھ کر وہ بولا تو اس نے جلدی سے منہ بند کیا اور وہاں سے غائب ہوگئی ۔۔
اسے شہرام کا ۔۔ یوں ۔۔ اتنی آسانی سے بات مان لینا ۔۔ بہت عجیب لگ رہا تھا ۔۔
بہت سے بھی زیادہ ۔۔
” وہ تم سے پیار کرتا ہے ۔۔ اس لیے مان گیا ۔۔ ” دل نے دلیل دی ۔۔ تو اس نے بھی خود کو سوچوں سے آزاد کیا ۔۔ لیکن اندر ابھی کچھ کھٹک رہا تھا ۔۔
_______________________________
وہ اپنے دوستوں کو بائی کہہ کر پارکنگ کی طرف آیا ۔۔ اپنی گاڑی کے پاس پہنچ کر اس نے جیب سے چابی نکالی اس سے پہلے کہ وہ چابی دروازے کو لگتا ۔۔ اس نے پانچ چھ ہٹے کٹے لوگوں کو ہاتھ میں ہاکی ۔۔ بیٹ تھامے اپنی جانب آتے دیکھا ۔۔۔
وہ سارے آنکھیں جھپکے بغیر اسے دیکھ رہے تھے ۔۔
اسے خطرے کا احساس ہوا تو جلدی سے چابی گاڑی کے دروازے کو لگائی اور اندر بیٹھ کر دروازہ لاک کر کے گاڑی سٹارٹ کرنے لگا ۔۔۔
مگر گاڑی تھی کہ سٹارٹ ہی نہیں ہو رہی تھی ۔۔ اس کے ہاتھوں میں کپکپاہٹ آگئی ۔۔ وہ سارے اس کے سر پر تو پہنچ چکے تھے ۔۔
پھر انہوں نے گاڑی کے بند شیشوں پر بیٹ اور ہاکی مارنا شروع کردیا ۔۔۔
شیشے میں دراڑیں پڑ گئیں۔۔۔ ایک اور وار ہوا تو شیشہ ٹوٹ گیا ۔۔ جس سے انہوں نے دروازے کا لاک کھول کر اسے باہر نکالا اور ٹوٹ پڑے ۔۔ وہ بیچارا اپنا قصور پوچھتا رہ گیا ۔۔
وہیں اپنی گاڑی سے ٹیک لگا کر کھڑا شہرام ۔۔ سینے پر ہاتھ باندھے یہ دیکھ رہا تھا ۔۔
اس نے وعدے کے مطابق ہاتھ نہیں لگایا ۔۔
بس چھ لوگوں کو اپنے سحر میں کیا ۔۔اور اس کی گاڑی کا انجن ناکارہ کیا ۔۔
اب بھلا اس کی بیوٹی نے پہلی بار کچھ مانگا تھا وہ انکار کیسے کر سکتا تھا ۔۔
پھر جب اسے دبنگ کٹ پڑی تو اس نے ان لوگوں کو وہاں سے چلتا کیا پھر اس کے پاس آکر اسے گاڑی میں ڈالا ۔۔ اور ہاسپٹل لے گیا ۔۔۔
تاکہ ایوا اس پر شک بھی نہ کر سکے ۔۔
اففف یہ پیار کے لیے کتنی قربانیاں دینی پڑتی ہیں ۔۔۔
_______________________________
رات کا وقت ۔۔ یونی ساری ویران ۔۔خاموش اور اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی ۔۔
کہ سنسان کوریڈور میں یخلت ۔۔ قدموں کی آواز آئی ۔۔۔ اور کچھ لوگ سایوں کی طرح وہاں آئے ۔۔۔
” یہاں تو کوئی نہیں ۔۔۔ ” ان میں سے ایک بولا ۔۔
” جگہ یہی تھی ۔۔ اب ہمیں ۔۔ باقی خود ڈھونڈنا ہے ۔۔۔ کیونکہ اتنا تو پکا ہے کہ رائیل بلڈ یہیں کہیں ہے ۔۔ اب صبح کا انتظار کرنا ہے ۔۔ ” وہ تھوڑا آگے ہوئی تھی چاند کی روشنی میں اس کا چہرہ واضح ہوا ۔۔
وہ جولیا تھی۔ ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: