Beauty and the Vampire Novel by Zaha Qadir – Episode 9

0
بیوٹی اینڈ دی ویمپائر از ضحٰی قادر – قسط نمبر 9

–**–**–

سورج کی روشن کرنوں نے آہستہ آہستہ رات کی تاریکی کو اجالے میں بدل دیا ۔۔ رات کے پہر جو سڑکیں ویران ہو جاتی تھیں اب ان پر بھی خاصی چہل پہل ہو رہی تھی ۔۔
وہ بھی کھڑکی کے پاس تیار کھڑی شہرام کا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔ بلیک پینٹ کے ساتھ بلیک ہی شرٹ جس میں اس کی سفید رنگت اجلی اجلی لگ رہی تھی ۔۔ اس کے گولڈن بال جوڑے میں بندھے تھے بالوں سے کچھ لٹیں نکل کر اس کے گالوں کو چھو رہی تھیں ۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد گاڑی کا ہارن بجا تو اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا اور صوفے سے بیگ اٹھا کر گھر کا دروازہ لاک کرتے ہوے ۔۔۔ اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی ۔۔
شہرام نے اس کے چہرے کی جانب دیکھا جہاں خطرناک حد تک سنجیدگی چھائی ہوئی تھی ۔ اسے پتا تھا اس سنجیدگی کی وجہ کیا ہے ۔۔۔اور یہ بھی یقین تھا کہ وہ خود بات شروع کرے گی ۔۔ اس لیے وہ بظاہر اسے نظر انداز کرتے ہوے گاڑی ڈرائیو کرنے لگا ۔۔لیکن جو بھی تھا ۔۔ یہ ایک مشکل کام تھا ۔۔ ایک تو اس کے خون کہ خوشبو ۔۔۔ دوسرا وہ اس کے فیورٹ کلر میں تھی ۔۔ اور تیسرا وہ ناراض ناراض اتنی کیوٹ لگ رہی تھی کہ اس کے دل کر رہا تھا کہ وہ اسے کھا جائے ۔۔۔
جب شہرام نے اسے کچھ نہ پوچھا کہ وہ اتنی سنجیدہ کیوں ہے تو وہ خود ہی جھنجلا کر اس کی جانب مڑی ۔۔
‘ تم نے پرامس کیا تھا ۔۔ ” وہ ناراضگی سے اس کی جانب دیکھتی ہوئے بولی ۔۔
شہرام نے پرسکون انداز میں اس کی جانب اپنا چہرہ کیا ۔۔ اور ہلکے سے سمائل پاس کی جس سے اس کے گال میں ڈمپل پڑے ۔۔
” ہاں کیا تھا ۔۔۔ ” دوستانہ انداز میں بولتے ہوئے وہ اتنا ریلکس تھا جیسے اسے پتا ہی نہ ہو کہ ایوا کس بارے میں بات کر رہی تھی ۔۔
ایوا جس نے بڑی مشکل سے اپنا دل اس کے ڈمپل پر پھسلنے سے بچایا تھا اس کی بات پر تپ ہی تو گئی ۔۔
” تو پھر وہ کیوں ہسپتال میں ہے ۔۔۔ ” کڑی نظروں سے اسے دیکھتی ہوے اس نے جراح کی ۔۔
شہرام کو پھر غصہ چڑھا کہ وہ اس کی اتنی پرواہ کیوں کر رہی ہے ۔۔ ساتھ میں افسوس بھی ہوا ۔۔ کہ اس نے اسے مار کیوں پڑوائی ۔۔۔ بلکہ واقعی جان سے مار دینا چاہیے تھا ۔۔ کہ نہ ڈھولا ہو سی ۔۔ نہ رولا ہو سی ۔۔
” میں نے اپنا پرامس نہیں توڑا ۔۔۔ ” سر جھٹکتے ہوے وہ سرد لہجے میں بولا ۔۔ ایوا کو اگر ذرا بھی اندازہ ہوتا کہ اس کا یوں کسی اور کے لیے ۔۔۔(کسی اور بھی کون جس نے اس کو ڈیٹ کے لیے پوچھا تھا ) فکرمند ہوتا دیکھ کر اس کے اندر کتنی آگ لگی ہے تو وہ کبھی نہ بولتی ۔۔
” بٹ ۔۔۔ تم نے ۔۔ ” اور اسے سے زیادہ وہ برداشت نہیں کرسکتا تھا اس لیے اس کی بات کے بیچ میں ہی دھاڑا ۔۔۔
” انفففف ۔۔۔۔ ” وہ اتنی زور سے بولا تھا کہ ایوا کو اپنے کانوں کے پردے پھٹتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے اس نے اپنے دونوں کانوں کو ہاتھ سے ڈھانپ لیا ۔۔ اس کا دل بڑے زور سے دھک دھک کر رہا تھا ۔۔
شہرام نے گاڑی روکی اور اس کے کندھوں سے پکڑ کر اسے جھٹکے سے خود سے قریب کرتے ہوئے سلگتے لہجے میں بولا ۔۔
” میں نے اگر اس کو پکڑا ہوتا تو وہ زندہ نہ ہوتا نہ ہی ہسپتال میں پڑا ہوتا بلکل اس کا جسم اب تک جانور کی خوراک بن چکا ہوتا ۔۔ اور اب اگر مزید تم نے اس کی بات کی ۔۔ تو میں واقعی یہی کروں گا ۔۔۔ ” اس نے اتنی زور سے اس کو پکڑا تھا کہ اسے اپنی ہڈیاں ٹوٹتی محسوس ہو رہی تھیں ۔۔
آنکھوں میں نمی جما ہونے لگی ۔ پتا نہیں یہ درد کی وجہ سے تھی کہ شہرام کے رویہ کی وجہ سے جو بھی تھا لیکن آنسو پھسل کر گال پر گرنے لگے ۔۔۔
وہ جو مزید بولنے کا ارادہ رکھتا تھا ۔۔ اس کے آنسو دیکھ کر ٹھنڈا پڑ گیا ۔۔ وہ اسے رولانا تو نہیں چاہتا تھا ۔۔ اس کی گرفت کندھوں سے ہلکی ہوئی ۔۔ وہ چھوڑ کر پیچھے ہونے لگا اسی وقت ایوا اس کے سینے میں منہ چھپا کر وہ تیزی سے رونے لگی ۔۔
اور ۔۔ شہرام سٹل تھا ۔۔ اس کے گلے میں گلٹی ابھر کر غائب ہوئی ۔۔ وہ عجیب نظروں سے اپنے ساتھ لگی ایوا کو روتے دیکھ رہا تھا ۔۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ہوا کیا ہے ۔۔
پھر جب سمجھ آنا شروع ہوئی تو رہا سہا غصہ بھی بھک سے اڑ گیا ۔۔ لب دھیرے سے مسکراہٹ میں ڈھلے ۔۔ آنکھوں میں چمک آئی ۔۔ اس نے ایوا کے گرد بازوں کا مضبوط حصار باندھ کر خود سے قریب کر لیا ۔۔ اور سرگوشی کے انداز سے بولا ۔۔۔
” تم جادوگرنی ہو ۔۔۔ ” اس کی بات سے ایوا کا رونا بند ہوا ۔۔ وہ جھجھک کر اس سے دور ہوئی تو شہرام نے بھی آرام سے اسے آزاد کردیا ۔۔ اب فرصت سے اس کو دیکھ رہا تھا ۔۔
رونے کی وجہ سے جس کی آنکھ لال ہوگئی تھی ۔۔ آنکھیں بھی بوجھل سی تھی ۔۔
اب وہ ٹشو سے آنسو صاف کر رہی تھی جب شہرام نے اس کا ہاتھ پکڑا لیا ۔۔ اور اب وہ جھک کر اپنے لبوں سے اس کے آنسو چن رہا تھا۔۔ اور وہ سانس روکے ۔۔ دم سادھے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔
جب وہ آنسو چن کر پیچھے ہوا تو ۔۔ وہ سرخ چہرہ لیے اسے نظریں چراتی ادھر اُدھر دیکھنے لگی ۔۔
شہرام وہ یہ سوچ رہا تھا کہ آخر اس کے اور کتنی روپ باقی ہیں ۔۔ ہر روپ میں وہ پہلے سے زیادہ قاتلانہ لگتی ہے۔
” دیر ہو رہی ہے یونی سے ۔۔۔ ” جب وہ اسے اسی طرح دیکھتا رہا تو ایوا نے اس کا دھیان اپنی طرف سے ہٹانے کے لیے کہا ۔۔
تو اس نے بھی اس پر ترس کھاتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کردی ۔۔۔ جب گاڑی یونی کے آگے روکی تو اس نے جھٹکے سے دروازہ کھولا ۔۔ وہ دوڑ کر جانا چاہتی تھی کہ اسی وقت شہرام نے اس کے ارادوں پر پانی پھیر کر اس کی کلائی تھام لی ۔۔
” آئندہ بلیک ڈیس پہننے سے پہلے سوچ لینا کہ میں خود پر قابو نہیں رکھ پاؤں گا ۔۔۔ ” نرمی سے اس کی کلائی سہلاتے ہوئے اس نے اپنی بات کی ۔۔
ایوا کا چہرہ مزید سرخ ہوا ۔۔ اس نے مسکین صورت بنا کر اس کی جانب دیکھا تو اس نے اس کی کلائی۔ چھوڑ دی ۔۔ ایوا کلائی کہ آزاد ہوتے ہی اسے دیکھے بنا دیکھے وہاں سے بھاگی ۔۔
جبکہ وہ گاڑی میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ اس کا خون زیادہ اچھا تھا کہ آنسو ۔۔۔ !!!!
_______________________
پرفیسر کیا سمجھا رہے تھے اسے نہیں پتا تھا ۔۔ وہ تو بس شہرام کے بارے میں سوچتے ہوئے مسکرا رہی تھی ۔۔
اس کا خود کے لیے پوزیسیو ہونا اسے اچھا لگتا تھا ۔۔ پھر جب وہ اس کا خیال کرتا ۔۔ نرمی سے پکڑتا ۔۔ اسے خود پر غرور سا ہوتا تھا کہ اتنا شاندار مرد ۔۔ اوہ ویمپائر اس سے محبت کرتا ہے ۔۔
وہ ابھی یہی باتیں سوچ رہی تھی کہ اس کی نظر پرفیسر کے ساتھ کھڑی خوبصورت لڑکی پر پڑی جس کے بال لال تھے آنکھیں گرین سفید رنگت چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ ۔۔ وہ بہت دلکش تھی ۔۔۔۔ شاید وہ نیو تھی ۔۔ یا ٹرانسفر ہوا تھا ۔۔
” ہائے ۔۔ میں جولیا ہوں ۔۔ ” گہری نظروں سے سب کو دیکھتے ہوئے اس نے اپنا تعارف کروایا ۔۔ اور پھر وہ ایوا کے پیچھے والی سیٹ پر بیٹھ گئی ۔۔
ایوا کا دھیان اب شہرام سے ہٹ کر اس لڑکی کی طرف ہوگیا تھا ۔۔ یہ لڑکی اسے بہت اچھی لگی تھی ۔۔
آخر جب لیکچر ختم ہوا تو وہ خود اٹھ کر اس کے پاس آئی اور اس کے جانب ہاتھ بڑھاتے ہوے بولی ۔۔
” میں ایوا “
” جولیا ۔۔۔ ” جیسے جولیا نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تو ایک پل کے لیے اس کی مسکرہٹ سمٹی ۔۔۔ مگر پھر وہ سنبھل گئی ۔۔
اب ایوا اس سے اس کے بارے میں پوچھتے ہوئے کینٹین کی طرف جا رہی تھی وہ اس سے باتیں کرنے میں اتنی گم تھی کہ اسے سامنے آتے ساتھ آٹھ لڑکے اور لڑکیوں کا گروپ نظر نہیں آیا اور وہ زور سے ان سے ٹکرائی جس کی وجہ سے وہ لڑکی نیچے گری خونخوار نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ایوا نے فوراً معذرت کی ۔۔ جس سے وہ لڑکی ٹھنڈی ہوئی ۔۔ اور اپنے گروپ کو لے کر مڑ کر جانی لگی کہ جولیا کہ دماغ میں ایک تقریب آئی ۔۔ اس نے منہ میں کچھ پڑھتے ہوے اس گروپ کی طرف اشارہ کیا ۔۔ پھر اطمینان سے مڑ کر ایوا کے ساتھ کینٹین کی جانب چل دی ۔۔۔
جولیا نے اپنا لنچ لے کر ٹیبل پر بیٹھ چکی تھی ایوا بھی اپنی ٹرے لے کر اس کی جانب آرہی تھی جب کسی نے اس کے راستے میں پاؤں کیا اور نتیجہ وہ ٹرے سمت نیچے گری ۔۔۔
اس کے گرنے سے کینٹین میں قہقہے گونج اٹھے ۔۔
وہ کپڑے جھاڑ کر کھڑی ہوئی تو دیکھا یہ وہی گروپ طنزیہ مسکراہٹ لیے اسے دیکھ رہا تھا جس سے تھوڑی دیر پہلی وہ ٹکرائی تھی ۔۔
“یہ کیا تھا ۔۔۔ !!!” وہ کھڑی ہو کر بھرم انداز میں بولے ۔۔اس کے کپڑے بھی خراب ہوگی تھے ۔۔
” میرا سارا ڈریس خراب کر دیا ۔۔ ” اپنے کپڑوں کو افسوس سے دیکھتے اس نے انہیں کہا ۔۔ جن کے چہرے پر اس کی بات سے عجیب مسکرہٹ آئی تھی ۔۔
ان میں سے ایک آگے بڑھی اور پھر اس کی شرٹ گلے سے پکڑ کر کندھے تک پھاڑ دی
ایوا کا دل کیا کہ وہ زمین پھٹے اور اس میں سما جائے ۔۔ اسی وقت وہ سینے پر ہاتھ باندھے اور روتے ہوئے وہاں سے بھاگی ۔۔
لیکن جولیا پرسکون ہوگئی ۔۔۔ اس کو وہ مل گی جس کی اس کو تلاش تھی ۔۔
وہ ایوا کے کندھے پر بنے چاند کے نشان کو دیکھ چکی تھی ۔۔ اس لیے تو اس نے یہ سب کیا تھا ۔۔
______________________________
اسے نہیں پتا تھا کہ وہ کہاں جا رہی تھی ۔۔بس وہ بھاگی جا رہی تھی ۔۔انکھوں سے آنسو نکلی جا رہے تھے ۔۔ بار بار وہ منظر آنکھوں کے سامنے آرہا تھا ۔۔
کہ ایک جگہ وہ ٹھوکر کھا کر گری ۔۔ تو اس کے گھٹنے سے خون نکلنے لگا ۔۔ وہ سیدھی ہوئی تو اس کی نظر لال ہیل سے ہوتی اوپر گی ۔۔ وہ جو کوئی بھی تھی اس نے لال رنگ کا چوگا پہنا ہوا تھا ۔۔ جس کی ہوڈ سے اس کا چہرہ چھپا ہوا تھا ۔۔ وہ کوئی لڑکی تھی بس اتنا پتا لگ رہا تھا ۔۔
لیکن وہ آئی کہاں سے اسے یہ سمجھ نہیں آئی ۔۔۔
پھر اسے احساس ہوا کہ وہ اکیلی نہیں اس کے ساتھ اور بھی لوگ دائرے کی شکل کی اس کا راستہ بنا کر کھڑے تھے ۔۔ ان سب نے کالے چوگے اور ہوڈی سے اپنا چہرہ چھپایا ہوا تھا ۔۔۔
ایوا کو گھبراہٹ ہوئی ۔۔ اس نے جگہ پر غور کیا ۔۔ تو وہاں پر درخت تھے بس ۔۔ وہ کہاں آگئی۔۔۔ ایسی جگہ پر تو وہ کسی کو مدد کے لیے بھی نہیں پکار سکتی تھی ۔۔
وہ لڑکی جھکی اور اس نے کے گلے کے نیچے کندھے پر بنے برتھ مارک کو انگلی سے ٹریس کرنے لگی ۔۔۔
پھر وہ سیدھی ہوئی اور اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا ۔۔ وہ سارے اس کی جانب بڑھے ہی تھے کہ کوئی بجلی کی رفتار سے آیا ۔۔ اور اس کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہوگیا ۔۔ ایوا کا وجود اس کے پیچھے چھپ گیا تھا ۔۔
لیکن اسے اتنا پتا چل گیا تھا کہ اب کوئی اسے کچھ نہیں کہہ پائے گا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: