Beauty and the Vampire Novel by Zaha Qadir – Last Episode 19

0
بیوٹی اینڈ دی ویمپائر از ضحٰی قادر – آخری قسط نمبر 19

–**–**–

ایوا بھی ان دنوں کو دیکھ کر چونکی ۔۔ پھر اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی ۔۔ سرد سی مسکراہٹ ہر احساس سے عاری
” مجھے نہیں پتا تھا ۔۔ کہ تمہارا ڈپلی کیٹ بھی ہے ۔۔۔ ” وہ ان دنوں کو دیکھتے بولی ۔۔ جن کی شکل ہوبہو ایک جسیی تھی ۔۔۔
شہرام تو اب سٹل کھڑا ۔۔ اس کو دیکھ رہا تھا جبکہ مارک موقعہ پا کر فرار ہوگیا ۔۔
” وہ تو بھاگ گیا ۔۔ تو پھر پہلی باری تمہاری ۔۔ ویسے تم شہرام ہو ۔۔ ” پرسکون انداز میں کھڑے اس نے پوچھا ۔۔ ایوا کے بائیں دائیں سے چار پانچ ویمپائرز نے آکر اس پر حملہ کیا ۔۔ جسے اس نے وہیں کھڑے کھڑے فاصلے سے ہی پل بھر میں گرا دیا ۔۔۔
اتنی لاشوں کے درمیان وہ کھڑی تھی ۔۔ اور اس کے فاصلے پر وہ کھڑا تھا ۔۔
ان دنوں کے علاوہ کوئی نہ تھا ۔۔
شہرام نے اس کی جانب قدم بڑھائے ۔۔
” کہا تھا ۔۔ بلیک کلر نہ پہننا ۔۔۔ خود پر قابو نہیں رکھ پاؤں گا ۔۔ ” اس کی طرف بڑھتے ہوئے وہ بولا ۔۔
” کہا تھا ۔۔ اور رئیلی اس وقت مجھے بڑی ہنسی آئی تھی ۔۔ ” ایوا نے ہاتھ ہوا میں لہریا ۔۔ شہرام کو یوں لگا جیسے کسی نے اس کی پشت سے چاقو سے وار کیا ہو ۔۔ لیکن لب بھینچے اس کی طرف بڑھتا رہا ۔۔۔
” مجھے پتا ایوا تم مجھے سن رہی ہو ۔۔۔ ” وہ اونچی آواز میں بولا ۔۔ جس سے پھر اس نے ہوا میں ہاتھ لہرایا اب کی بار شہرام کو وہی درد سینے پر ہوا ۔۔۔ جسے اس نے لب بھینچ کر ضبط کیا ۔۔۔
” اس کی ماں کو مارنے کے بعد تمہیں لگتا ہے وہ تمہیں سنانا چاہے گی ۔۔۔ ” وہ وہیں کھڑی طنزیہ انداز میں گویا ہوئی ۔۔ یعنی ایوا کا ابھی بھی رابطہ ہے اس کے دماغ کے ساتھ ۔۔ یعنی ایوا تک پہنچنے کا اس کے پاس ابھی بھی موقعہ تھا ۔۔۔
” مجھے تو پتا بھی نہیں کہ اس کی ماں کیسی تھی ۔۔ ” وہ بولتے ہوئے اپنے اور اس کے درمیان کا فاصلہ مٹا رہا تھا ۔۔۔
اور وہ وار پر وار پر رہی تھی ۔۔۔
ان دنوں میں 3 قدموں کا ہی اب فاصلہ رہ گیا تھا ۔۔
” اوہ ۔۔ اگر بھوک ہوش میں رہنے دیتی تو پتا ہوتا نا ۔۔۔ ” اب کی بار شہرام نے 3 قدموں کا فاصلہ پاٹ کر کے اس کا ہاتھ پکڑا ۔۔
اس نے شہرام پر حملہ کرنا چاہا لیکن بے سود اس کو اپنی کوئی طاقت محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ ۔
” ایوا ۔۔ بلیو می ۔۔ میں ایک عورت کا خون پیا جب میں نیا ویمپائر بنا ۔۔ تب تو تمہاری ماں اس دنیا میں آئی ہی نہیں تھی ۔۔ پھر میں تمہاری ماں کو کیسے ماروں گا ۔۔۔ ” اس کے دنوں ہاتھوں کو گرفت میں لیے وہ اونچی آواز میں بولا ۔۔
” جھوٹ بول رہا ہے یہ ۔۔ ” جواب میں وہ اونچی آواز میں جیسے اندر اٹھتی آوازوں کو دبا رہی تھی ۔۔ اس سارے عرصے میں پہلی بار اس کے چہرے پر خوف کے تاثرات پھیلے تھے ۔۔۔
” میں تمہاری ماں کی تصویر دیکھی تھی کمرے میں ۔۔۔تم ان کا عکس ہو ۔۔ اور میں صرف ان کی فٹو دیکھی ۔۔۔ ” شہرام یقین کروانا چاہ رہا تھا ۔۔ جبکہ وہ بےچین تھی کیونکہ اس کی کوئی طاقت بھی نہیں کام کر رہی تھی ۔۔ اوپر سے شہرام کی باتیں اس کے اندر شروع مچا رہی تھی
شہرام نے پھر سے بولنا چاہا ۔۔ لیکن ایوا کے پیچھے چاندی کی تلوار تھامے کھڑے مارک کو دیکھ کر وہ چونکا ۔۔ ایک پل میں ہی سب وہ سمجھ گیا ۔۔
مارک نے ایوا پر تلوار سے وار کرنا چاہا اسی وقت شہرام نے اسے سینے سے لگایا اور خود اس کی جگہ تلوار کی زد میں آیا ۔۔
تلوار چاندی کی تھی جو کہ ویمپائرز کے لیے زہر تھا ۔۔۔ تلورا کی ڈھار پر ہاتھ رکھتے ہوئے شہرام نے اسے غصے سے دیکھا ۔۔
” سہی سمجھے برو ۔۔ میں ہی مارا تھا اس کی ماں کو ۔۔ بڑا اچھلی تھی ۔۔ روئی تھی ۔۔ لیکن وہ کیا ہے اسے مارنا کا جو مزہ آیا ۔۔ کیا بتاؤں ۔۔۔ ” مارک تلوار کو گول کر کے گھمایا اس کے پیٹ کے اندر ہی جس سے زخم خطرناک حد تک گہرا ہوگیا کہ باجود کوشش کے وہ پاؤں پر کھڑا نہ ہو پا رہا تھا ۔۔اس گرفت ایوا پر سے ختم ہوئی ۔۔ ۔۔۔
جبکہ ایوا اس کی لال آنکھیں کسی فیوز ہوئے بلب کی طرح بند بجھ رہی تھیں ۔۔۔
__________________________
ایوا نے خود کو پھر برف سے ڈھکی اس جگہ پر قید پایا لیکن اب کی بار نے بھاگنے کی کوشش نہیں کی ۔۔
وہی جگہ جہاں وہ پہلے خوفزدہ تھی اب مجسمے کی طرح ساکت بیٹھی تھی ۔۔
اس نے پاؤں جم گئے تھے ۔۔ مگر اس نے پرواہ نہیں کی ۔۔
جیسے جیسے وقت گزر رہ رہا اس کا جسم جم رہا تھا ۔۔ احساسات ۔۔ وہ اتنی دیر سے یہاں تھی ۔۔ نہ کسی کی آواز آرہی تھی ۔۔ نہ کچھ سمجھ ۔۔ بس اتنا پتا تھا کہ یہ کوئی قید کھانا تھا جو بس اسے نگلنے کے در پر تھا
اس کے دل سے تھوڑی نیچے تک اس کا دل جمع گیا تھا جب اس کے کانوں سے اس ظالم کی آواز ٹکرائی ۔۔۔ اس کا برف ہوا دل ہلکے سے دھڑکا ۔۔ اتنا کچھ ہونے کے باوجود دل اب بھی اس کے لیے دھڑک رہا تھا ۔۔ جبکہ اسے تو اس سے نفرت کرنی چاہیے تھی ۔۔۔ ایک اور چیز ہوئی اس نے اس کا لمس اپنے ہاتھ پر محسوس کیا تھا اتنی دیر میں پہلی بار اس نے کسی کا لمس محسوس کیا تھا ۔۔
وہ اس کی ہر بات سن رہی تھی ۔۔
جس سے وہ الجھ رہی تھی ۔۔ اسی وقت اس کا اپنا عکس اس کے سامنے آیا ۔۔ وہ کہہ رہا تھا شہرام جھوٹ بول رہا ہے لیکن اس کا دل نہیں مان رہا تھا ۔۔
اس نے آنکھیں بند کیں ۔۔ پھر اسے شہرام کے علاوہ ایک اور آواز آئی جو شہرام جیسی ہی تھی لیکن شہرام کی نہیں تھی ۔۔ اور اس کی باتیں سن کر ایوا کی مردہ ہوتی امیدیں پھر سے جاگ رہی تھی لیکن اب بھی وہ اس برف کو اپنے جسم کو جمنے سے نہ روک پا رہی تھی ۔۔۔۔
اس کا عکس چیخنے لگا ۔۔ وہ جگہ جہاں وہ رھی اتنی دیر سے وہ تباہ ہونے لگی ۔۔ لیکن وہ اپنے دماغ کو ۔۔ خود کو جگانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔ کہ اب کی بار اسے کسی کی دھڑکن محسوس ہوئی ۔۔ اپنی دل کی دھڑکن کے ساتھ ۔۔ وہ اس ڈھرکن کو کیسے بھول سکتی تھی ۔۔
اس کا دل بھی دھڑکنے لگا ۔۔۔
دل دھڑکنے لگا۔۔۔ برف ہوتے بدن میں خون پھر سے گردشِ کرنے لگا ۔۔۔۔
برف پگھلنے لگی تھی ۔۔
اس کا عکس پاگل ہو رہا تھا ۔۔ اسے شہرام کے خلاف کر رہا تھا ۔۔
مگر پھر پگلتی ہوئی برف ۔۔ ایک دم پگھلنا روک گی ۔۔
آوازیں آنا پھر سے بند ہوگی ۔۔ اس نے خود کو پھر سے برف ہوتا محسوس کیا ۔۔
لیکن نہیں اسے لڑنا تھا ۔۔
اپنے ڈیڈ کے لیے ۔۔۔
اپنے لیے ۔۔۔
شہرام کے لیے ۔۔۔
شہرام کا نام سوچتے ہی اس کے ساتھ بتائے لمحے تازہ ہونے لگے ۔۔۔ اس نے آنکھیں بند کر خود کو انہی لمحوں کے حوالے کرتے ہوئے سرگوشی میں اس کا نام لیا ۔۔۔
____________________________
ا” شہرام ۔۔۔۔ ” اس نے آنکھیں کھولیں تو خود کو اس جگہ سے آزاد پایا لیکن یہ وہ کون سی جگہ کھڑی تھی اسے سمجھ نہیں آرہا لیکن جب اس کی نظر شہرام کے زمخمی وجود پر پڑی تو خوف سے اس نے منہ پر ہاتھ رکھ لیا ۔۔۔
گھٹنوں پر بیٹھا وہ شہرام ہی تھا جس نے اپنے سینے میں موجود تلوار پر ہاتھ رکھا تھا ۔۔ اور سامنے کھڑا وہ کون تھا جو شہرام جیسا ہی تھا ۔۔ لیکن شہرام نہ تھا ۔۔ وہ اب اس کی جانب متوجہ تھا ۔۔۔
ایوا کی نظریں شہرام کی طرف تھیں ۔۔
” ارے لگتا ہے ۔۔ شہرام کی بیوٹی کو برداشت نہیں اس کی تکلف ۔۔۔ ” وہ ایوا کی آنکھوں سے لال رنگ رخصت ہوتا دیکھ چکا تھا اسے لیے اب بےخوف انداز میں شہرام کو ٹیس کر رہا تھا ۔۔
ایوا کی نظریں تکلیف کو ضبط کرتے شہرام پر تھیں ۔۔
” ارے دیکھو ۔۔ تعارف ہی نہیں کروایا ۔۔ میں مارک ۔۔ شہرام کا بھائی ۔۔ اوپس جڑواں بھائی ۔۔” وہ اس کے سامنے ہاتھ کر کے بولا ۔۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ رائیل بلڈ اب یہاں نہیں اس لیے وہ شیر ہو رہا تھا ۔۔
” یاد ہے ہم یونی میں ملے تھے ۔۔ جب میں تمہاری یہ خوب صورت گردن بس کاٹنے ہی والا تھا ۔۔۔ “
ایوا نے ہاتھ نہیں بڑھایا بلکہ وہ شہرام کی طرف جھکی ۔۔
” ارے ۔۔ شکر یاد کروا دیا ۔۔ ابھی اس کا بھی کام تمام کرنا ہے ۔۔۔ ” مارک دوبارہ شہرام کی طرف آیا اور تلوار کو کھینچ کر اس کے اندر سے نکلا ۔۔جس سے خون کا فوارہ سا نکلا ۔۔ وہ جو بھی تھا لیکن یہ بات تھی کہ چاندی اس کے لیے زہر تھا ۔۔
مارک نے دوبارہ وار کرنا چاہا اسی وقت ایوا کانوں پر ہاتھ رکھ کر چخی ۔۔۔
“نہیں !!!!!” ایک تیز آندھی سی آئی تھی اس کی چیخ کے ساتھ ۔۔ مارک کے ہاتھ سے تلورا چھوٹی ۔ اس نے پوری طرح اپنے پاؤں زمین پر جما دیئے ۔۔۔ورنہ جتنی تیز آندھی تھی ۔۔ وہ ضرور اس کو لے آرتی ۔۔۔۔
ایوا نے روتے ہوئے شہرام کا سر اپنی گود میں رکھا ۔۔
” شہرام ۔۔ام سوری ۔۔ پلیز ۔۔۔ سوری ۔۔ ” وہ اس کا ہاتھ پکڑے روتے ہوئے بولی ۔۔۔اس کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہو رہا تھا ۔۔
شہرام نے ادھ کھلی آنکھوں سے اسے دیکھا ۔۔ پھر مسکریا ۔۔
” کہا تھا نا تمہی۔۔۔ں کچھ نہیں ہونے د۔۔۔وں گا ۔۔۔ ” ااس کی گود میں سر رکھے وہ پرسکون تھا کہ وہ ٹھیک ہے ۔۔
اس کی بیوٹی ٹھیک ہے ۔۔
ایوا اور تیزی سے رونے لگی ۔۔
اسی پل آندھی رکی ۔۔۔
آندھی روکتے ہی مارک سنبھل کر سیدھا ہوا۔۔
ان دونوں کا دھیان ایک دوسرے پر دیکھ کر اس تلورا اٹھا کر وار کرنا چاہا ۔۔
لیکن ایوا نے ہاتھ اوپر کیا ۔۔ تو اس کا تلورا تھاما ہاتھ ہوا میں ہی اٹک گیا ۔۔ ایوا نے خون آشام آنکھوں سے اسے گھورا ۔۔ اس کی آنکھیں اب بھی لال نہیں تھی لیکن پھر بھی وہ رائل بلڈ کی طاقت استعمال کر رہی تھی ۔۔
” ایوا نے ہاتھ ہلایا تو وہ تلورا مارک کے ہاتھ سے نکل کر اب اسی پر حملہ کرنے کی تیاری میں تھی ۔۔ ” اس سے پہلے کہ ایوا اس کا کام تمام کرتی ۔۔۔
وہاں ایک اور آواز آئی ۔۔
” روک جاؤ ۔۔ ” جولیا کی آواز سن کر مارک کے چہرے پر مسکراہٹ آئی ۔۔۔
جولیا سامنے آئی ۔۔ اور ایک نظر مارک کی طرف دیکھے بغیر شہرام سے بولی ۔۔
” تمہیں اپنا وعدہ یاد ہے ۔۔۔ ” شہرام نے سر ہلایا ۔۔ پھر ایوا کو اسے چھوڑنے کا کہا ۔۔ ایوا کا دل تو نہیں تھا لیکن شہرام کے کہنے پر اس نے ہاتھ نیچے کر لیے ۔۔ جس سے تلوار نیچے گر گئی ۔۔۔جولیا نے جھک کر وہی تلوار اٹھائی ۔۔
” جولیا ۔۔۔ ” مارک نے بڑے مسرور انداز میں اسے پکارا ۔۔ جولیا سیدھی ہوئی ۔۔ اور بےتاثر نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔۔
” ختم کر دو انہیں ۔۔۔ ” اس نے حکم دیا ۔۔ جولیا نے سر ہلایا ۔۔لیکن اگلہ لمحہ حیرت کا تھا جب جولیا نے اسی تلوار سے اس کا بازور کاٹ دیا ۔۔
اس کی تکلیف سے بھرپور چیخ وہاں گونج اٹھی ۔۔۔
لیکن اس نے وہاں بس نہیں کی بلکہ اس کا دوسرا بازاروں بھی کاٹ دیا ۔۔
“کیوں ۔۔۔ ؟؟” مارک نے بڑی مشکل سے پوچھا ورنہ دنوں بازو کٹنے کی تکلف اسے پاگل کر رہی تھی ۔۔
” تم نے جو ہمیں اپنا غلام بنا دیا تھا ۔۔ جس گھر میں تم نے جادوگرنیوں کو بند کر کے آگ لگائی اس میں میری ماں میری بہن بھی تھیں ۔۔اور آج میرا انتقام پورا ہوگیا اور ہم تمہاری قید سے آزاد ہو جائیں گے ۔۔۔ “
وہ نفرت سے اسے دیکھتے ہوئے بولی ساتھ ہی اس کا پاؤں کاٹ دیا ۔۔
” وہاں نہ دیکھو ۔۔۔ ادھر دیکھو ۔۔ ” شہرام نے اس کا چہرہ اپنی جانب کیا ۔۔۔
“آپ ٹھیک نہیں ہیں ۔۔۔ ” وہ اس کے زخم پر اپنے کانپتے ہاتھ رکھتے ہوئے پرشانی سے بولی ۔۔۔
” تم ٹھی۔۔ک ہو تو می…ں بھی ٹھیک ۔۔۔ ” اس کے گال پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس نے محبت سے کہا ۔۔
اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا رہا تھا ۔۔ چاندی کا زہر کام کر رہا تھا کیونکہ دل کے قریب حملہ ہوا تھا اس لیے زہر جلدی پھیل رہا تھا ۔۔
” ایوا ۔۔۔ یاد رکھنا ۔۔۔ ” شہرام نے اس کا ہاتھ زور سے پکڑتے ہوئے بولا ۔۔” کہ مجھے کچھ بھی ہوجائے میں نہ بھی رہوں ۔۔ تم میری ہو ۔۔۔ ” اس کی حالت اور اس کی بات پر وہ اور تیزی سے رونے لگی ۔۔۔
شہرام نے بے بسی سے اسے دیکھا۔۔۔
” نہ کرو بیوٹی ۔۔۔ تمہارے یہ آنسو ۔۔ میں صاف کرنے کی پوزیشن میں نہیں ۔۔ ” سرگوشی کے انداز میں کہتے ہوئی اس کی گود میں لیٹے ہی اس نے آنکھیں بند کی ۔۔
اور ایوا کو یوں لگا کہ شہرام کی بند آنکھوں کے ساتھ ہی اس کا دل و دماغ سب بند ہو رہا ہے ۔۔۔
” شہرام ۔۔۔ !!! ” لیکن وہاں خاموشی چھا رہی تھی۔۔
” شہرام آنکھیں کھولیں ۔۔ ” لیکن اس نے نہیں کھولیں ۔۔
اور ایوا وہ پاگل ہو رہی تھی ۔۔
اس نے کتنی ہی آوازیں دے ڈالیں لیکن وہ ۔۔
ساکت ہی رہا ۔۔۔
کسی سوچ کے آتے ہی سرعت سے اس نے ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کیے
” اگر اب آنکھیں نہیں کھولیں تو میں ۔۔ راکی (اس کا کلاس فیلو ..) شادی کر لینی ہے ۔۔ ” ہچکیوں سے روتے اس نے اپنا ماتھا اس کے ماتھے پر ٹکا کر اسے دھمکی دی ۔۔ اور ایک ہاتھ اس کے دل کے مقام پر رکھا اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔۔
کہ اسے ہاتھ کے نیچے دھڑکن محسوس ہوئی ۔۔ اسنے دوبارہ غور کرنا چاہا کہ اسی وقت کسی نے زور سے اس نے بال کھنچے ۔۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا شہرام آنکھیں کھولے کافی غصے سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔
” دوبارہ کہو ذرا ۔۔ پھر دیکھنا میں کیا کرتا ہوں۔۔ ایسے موقعوں پر اظہار محبت کرتے ہیں لیکن ۔۔ نہیں یہاں تو کسی اور سے شادی سے پلینگ ہو رہی ۔۔۔ ” وہ کافی غصے سے بولا ۔۔ لیکن آواز آہستہ تھی ۔۔۔
جبکہ ایوا حیرت سے منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔
وہ دنوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے کہ جولیا ان دنوں کے قریب آئی تو ان دنوں نے اسے دیکھا ۔۔
” شہرام ۔۔ شکریہ ۔۔۔ ” شہرام نے سر ہلایا ۔۔
اب جولیا اس کی طرف مڑی ۔۔
” اپنے پر کنٹرول رکھنا ۔۔ ورنہ وہ رائیل بلڈ پھر سے جاگ سکتی ہے ۔۔ شہرام اور تمہارے درمیان لینک ہے جس کی وجہ سے جیسے ہی شہرام تمہیں چھوئے گا ۔۔ رائیل بلڈ کی ساری طاقت اس وقت کے لیے رک جائے گی جب تک اس کا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں ۔۔ اس لیے یہ ہاتھ تھامے رکھنا ۔۔ اور آخری بات ۔۔ تم اپنا خون اس کو دینا ۔۔ زہر کا اثر ختم ہونے لگ جائے گا ۔۔ ” جولیا یہ بول کر مڑی پھر ایک نظر مارک کی بوٹی ہوئی لاش پر ڈال کر وہاں سے چلی گئی۔۔۔
___________________________
3 مہینے بعد ۔۔۔
انہوں نے شادی کر لی تھی ۔۔رابرٹ ناراض تھا لیکن ایوا کو یقین تھا کہ وہ جلد ہی اپنے ڈیڈ کو مانا لے گی ۔۔۔
شہرام بھی ویسا تھا اس کے لیے جنونی ۔۔ حد سے زیادہ خیال رکھنے والا ۔۔
اس وقت وہ اس کی آنکھوں پر پیٹی باندھے پتا نہیں کہاں لے کر جا رہا تھا۔۔۔
” شہرام کہاں جا رہے ہیں ۔۔۔ ” ایوا نے تنگ آ کر پوچھا ۔۔۔ ایک تو وہ پہلے ہی اس سے ناراض تھی کہ آج پھر یونی میں کچھ لڑکوں کی اس نے درگت بنا دی ۔۔ وجہ صاف ان بچاروں نے صرف اس سے اسائمنٹ میں مدد مانگی جواب میں شہرام صاحب نے ان کی اسائمنٹ بنا دی ۔۔۔
” بس آگئے ۔۔۔ ” شہرام نے جواب دینے کے ساتھ ہی اس کی آنکھوں سے پٹی اترای ۔۔
اور ایوا ایک بار پھر سٹل ۔۔
وہ جگہ کی ایسی تھی ۔۔
پہاڑوں کے درمیان نبی یہ خوبصورت جھیل ۔۔ سورج نکل رہا تھا ۔۔ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ جھیل پانی کی نہیں سونے کی ہو ۔۔
وہ پلکیں جھپکے بغیر یہ منظر دیکھ رہی تھی ۔۔
اور شہرام پلکیں جھپکے بغیر اپنی بیوٹی کو دیکھ رہا تھا ۔۔ جو بلیک رنگ کے خوبصورت فراق میں تھی ۔۔ پہلے شہرام اس کو بلیک کلر پہنے نہیں دیتا تھا ۔۔ اب بلیک کے علاوہ کوئی اور پہننے نہیں دیتا تھا ۔۔۔
” شہرام اٹس بیوٹی فل ۔۔۔” ایوا اس کے گلے لگ کر خوشی سے چہکتے ہوئے بولی ۔۔۔۔
” تمہارے سے زیادہ خوبصورت میرے لیے کچھ نہیں ۔۔۔ ” اس کے گرد بازوں کا حصار باندھتے ہوئے شہرام پیار سے بولا ۔۔۔
” شہرام ۔۔۔ ویمپائر کیسے بنتے ہیں ۔۔۔ ” تھوڑی دیر خاموشی کے بعد ایوا نے پوچھا ۔۔۔
تو شہرام آج اسے یہ نہ کہہ سکا کہ جب بنو گی تو پتا چل جائے گا ۔۔۔
کیونکہ جولیا کی بات اسے یاد تھی کہ اگر اس نے ویمپائر بنانے کی کوشش کی تو ایوا جان سے جا سکتی ہے ۔۔ لیکن ایوا کی عمر وہ بھی ویمپائر کی طرح ایک جگہ آکر رک جائے گی ۔۔ اور وہ بھی جوان رہے گی ۔۔
” اس کے لیے ویمپائر اپنا خون اس انسان کو پلاتے ہیں ۔۔ پھر اس انسان کو مار دیتے اور جب وہ دوبارہ آنکھیں کھولتا کے تو وہ انسان نہیں رہتا ۔۔۔ “
” تم نے اب تک کتنے لوگوں کو اپنا خون پلایا ہے ۔۔۔ ” ایوا اس کے سینے لگی پرسوچ انداز میں بولی ۔۔۔
” ابھی تک کسی کو نہیں ۔۔۔ کیا خیال ہے۔ تم پینا چاہو گی ۔۔۔ ” شہرام نے چھیڑا ۔۔
ایوا نے ناراض ہو کر پیچھے ہونا چاہا لیکن شہرام کے مضبوط حصار نے ایسا کرنے نہیں دیا ۔۔
تو ایوا نے دوبارہ سر اس کے سینے پر ٹکا دیا ۔۔ شہرام کو اس کی قربت سے خود میں سکون اترتا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔
” شہرام مجھے ڈر لگتا ہے ۔۔۔ ” اس کے سینے لگی ایوا ہلکی آواز میں افسردگی سے گویا ہوئی ۔۔۔
” کس سے ۔۔ ” شہرام نے اس کا چہرہ اوپر کر کے پوچھا ۔۔۔
” اس زندگی میں کسی کی ہا
یپی اینڈنگ نہیں ہوتی ۔۔۔ ” شہرام سمجھ گیا وہ اس کو کھو دینے کے خوف میں ہے ۔۔
” Listen love … you think that there is no Happy ending but I am still holding you … and as long you are in my arm ..
You are my ..happy start .. happy middle and .. Happy end … “
شہرام نے اس کے ماتھے سے اپنا ماتھا ٹکا دیا ۔۔
تو ایوا مسکرا دی ۔۔ جس کا ساتھ شہرام نے بھی دیا ۔۔۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: