Bewah Novel By Aaban Dawood – Episode 1

0

بیوہ از آبان داؤد – قسط نمبر 1

–**–**–

پیش لفظ
“بیوہ” ایک خوفناک اور سنسنی خیز ناول ہےامید کرتا ہوں آپ پڑھ کرلطف اندوز ہوں گے
آپکی دعاؤوں کا طالب
آبان داؤد
______________

چوھدری اظہر گنگناتا ہوا کمرے میں داخل ہوا…
والٹ اور موبائل بیڈ پر پھینک کر وہ واش روم میں گھس گیا_
نکاح کی تقریب کے بعد وہ کافی تھک چکا تھا اس لیے کپڑے تبدیل کرنے کے فورا بعد وہ سونا چاہتا تھا_
کمرے میں گھٹی گھٹی سسکیوں کی آواز آ رہی تھی_
اظہر کپڑے تبدیل کر کر باہر نکلا..
اس کی سماعت سے سسکیوں کی آواز ٹکرائی..
آہستہ آہستہ وہ آواز قریب آتی محسوس ہو رہی تھی_
کون ہے کون ہے یہاں??..اظہر نے ادھر ادھر نظر دوڑائی..
کمرا خالی تھا_
اظہر نے دروازہ کھول کر راہداری میں دیکھا..
راہداری ویران پڑی تھی_
وہ کمرے میں آیا..
کھڑکی کے پردے ہٹا کر اس نے پٹ کھول دیے.پوری حویلی پر ایک نظر دوڑائی..
گارڈز باہر پہرے پر کھڑے تھے..
پوری حویلی پر موت کا سا سناٹا چھایا ہوا تھا.
اس نے کھڑکی بند کر کے پردے آگے سرکا دیے..
اور اسے وہم سمجھ کر بیڈ پر لیٹ گیا_
کچھ دیر بعد پھر سے وہی آواز آنے لگی_
اس بار اسے آواز بالکل اپنے قریب سے آتی ہوئی سنائی دیایسا لگتا تھا کوئی اس کے بیڈ کے پاس ہی بیٹھا رو رہا ہو
اظہر نے فورا اٹھ کر بلب جلایا لیکن بلب روشن نا ہوا_
لگتا ہے بجلی نہیں ہے_
اس نے موبائل کی ٹارچ آن کی_
سسکیوں کی آواز بدستور جاری تھی_
جونہی اس نے ٹارچ کی روشنی بیڈ کے پاس ڈالی وہ لرز گیا…
بیڈ کے پاس کوئی لڑکی بیٹھی سسک رہی تھی__
کک کون ہو تم اور یہاں کیا کر رہی ہو??
اظہر نے خوف سے کانپتے ہوئے پوچھا__
لیکن لڑکی نے کوئی جواب نہ دیا_
دددیکھو سیدھی طرح بتا دو ورنہ نہ…
اظہر نے سائیڈ ٹیبل پر پڑا پسٹل اٹھا کر لڑکی پر تان لیا_
کون ہو لڑکی بتاؤ?? ورنہ میں شوٹ کر دوں گا..
لڑکی نے سر اوپر اٹھایا تو وہ شانو تھی_
شش شانو تت تم…
میں بیوہ ,,,,, میں بیوہ … لڑکی نےافسردگی کہا
اس کی آنکھوں سے خون بہہ رہا تھا_
اظہر خوف سے کانپنے لگا..
اس نے فورا فائر کھول دیا_
لیکن یہ کیا وہ تو ویسے ہی بیڈ کے پاس ٹیک لگائے بیٹھی تھی_
گویا اس پر گولیوں کا کوئی اثر ہی نہیں ہوا تھا_
لڑکی اچانک قہقہے لگا کر ہنسنے لگی..
تت تم شانو کک کیا لینے آئی ہو اب..
تیری جان.!!!!!!
ظالم تو نے میرے اکرم کے ساتھ بڑا ظلم کیا چوھدری تو نے میرے ساتھ بڑا ظلم کیا رخصتی سے پہلے مجھے بیوہ کر دیا_
لڑکی پھر سے سسکنے لگی_
لیکن آج میں تیری موت بن کر آئی ہوں_
کیا قصور تھا ہم غریبوں کا_
تم جیسے بگڑے ہوئے امیر زادے خدا سے کیوں نہیں ڈرتے..
ہم جیسے غریبوں کو کیوں مفت کا مال سمجھ کر یہ بھول جاتے ہو ہم بھی اسی خدا کی بنائی ہوئی مخلوق ہیںاس رب نے ہمیں آزاد پیدا کیا ہےتم لوگ کیوں اپنی دولت کے بل بوتے پر اپنا تسلط قائم کر لیتے ہو ہم پر اور جب ہم اپنے حق کی بات کرتے ہیں تو بھیڑیے بن کر ہم عورتوں کے عزت تار تار کر دیتے ہو
ہمارے مردوں کو بےدردی سے قتل کر دیتے ہو اور اگر ہم انصاف مانگنے جائیں تو تم منصف خرید لیتے ہو…لیکن آج میں تجھےتڑپا تڑپا کر ماروں گی_ ہر ظلم کا حساب لوں گی_
شانو چیخ رہی تھی_
اس نے ہاتھ اظہر کی طرف بڑھایا تو وہ خودبخود لمبا ہوتا گیا_
اظہر کے تو اوسان خطا وہ گئے_
وہ بدحواس ہو کر زور زور سے دروازہ پیٹنے لگا…
بجا بجا دروازہ بجا اپنے ساتھیوں کو بلا
آج کوئی نہیں آئے گاتیری مدد کو
ہاہاہاہا اس نے لمبے ہوتے ہاتھ سے اظہر کی گردن دبوچ لی…
اور اسے اوپر کو اٹھایے لگی__
شا شانو چھوڑ دے معاف کر دے مجھے..
تو نے میری چیخیں سنی تھیں تو نے میری عصمت تار تار کر دی میرے اکرم کو مجھ سے چھین لیا لوگوں کے تعنوں نے میرے ابا کو جیتے جی مار دیا__
تو نے اس پر بس نہیں کی بلکہ یہ تک پھیلا دیا کہ میں اپنے معشوق کے مل کر ساتھ اکرم کو قتل کرنے کے بعد فرار ہو گئی ہوں_
میری عزت کو تو پہلے ہی تو نے داغدار کر دیا تھا اس پر تونے میرے اوپر اس قدر گھناؤنا الزام بھی لگا دیا_
شانو نے زور سے اظہر کودیوار کے ساتھ پٹخا اس کی دلدوز چیخوں سے کمرہ لرز اٹھا_
اس نے نوکیلے ناخنوں سے اظہر کی گردن ادھیڑ ڈالی_
پورے کمرا خون سے رنگا ہوا تھا_
اظہر کے گوشت کے چیتھڑے کمرے میں جابجا بکھرے ہوئے تھے_
کمرے میں شانو کی سسکیاں گونج رہی تھیں….
کمرے کی ہر چیز اپنی ترتیب میں واپس آچکی تھی_
__________________
ایک ہفتہ قبل ہی انسپکٹر زارق کی پوسٹنگ بستی گلزار میں ہوئی تھیتین ہزار نفوس پر مشتمل یہ چھوٹی سی بستی حسن وجمال میں بے نظیر تھیلہلہاتے سر سبزوشاداب کھیت,بستی کے سینے کو چیرتی صاف شفاف پانی کی نہر اور اس پر بندھا لکڑی کاپل نما مضبوط تختہ جو بستی کے دونوں اطراف رابطے کا واحد ذریعہ تھااس تختے پر کھڑے ہو کر ڈوبتے سورج کا دلکش منظر دیکھنا من موہ لیتا تھا اور کسی بھی ذی روح پر سحر سا طاری کر دیتا تھا
آج موسم کافی سہانہ تھا صبح سے ہی ہلکے ہلکے بادل چھائے ہوئے تھےاچانک ہی بستی کے سر پنچ کے ساتھ روتے پیٹتے کچھ لوگ تھانے میں داخل ہوئے
“ارے صاحب ظلم ہو گیا ہم تو لٹ گئے..برباد ہو گئے….ہم غریبوں گھر اجڑ گیا”ایک ادھیڑ عمر شخص نے روتے ہوئے بتایاباقی افراد کے چہروں پر بھی اداسی کے ساتھ ساتھ حوف کی واضع جھلک موجود تھی
انسپکٹر زارق نے انہیں پانی وغیرہ پلا کر دلاسہ دیا اور سر پنچ سے واقعہ کی تفصیلات جان کر اپنے کانسٹیبل کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچاایک نوجوان کی لاش انتہائی بری حالت میں کمرے کے بیچ وبیچ پڑی تھیادھڑی ہوئی گردن اور پورے کمرے میں جا بجا خون اور گوشت کے چیتھڑے بکھرے پڑےتھےایسا لگتا تھا کسی جنگلی درندے نے انتہائی سفاکی سے نوجوان کو بھنبھوڑ کر لاش کے ٹکڑے کر دیے تھے🌹

Read More:  Khoj Novel by Zeeshan Ul Hassan Usmani – Episode 5

___

راشد عاصمہ کا چچازاد تھاان کے دادا مرحوم نے بچپن میں ہی ان کی نسبت طے کر دی تھیگاؤں کے رواج کے مطابق دو دن پہلے سادگی سے مسجد میں نکاح کا فریضہ سرانجام دیا گیا تھا_ آج رخصتی اور ولیمہ کی رسم ہونا تھیاور آج راشد کو انتہائی سفاکی سے کسی نے قتل کر ڈالا تھاانسپکٹر نے بغور معائنہ کیا کمرے کی ہر چیز اسی ترتیب سے پڑی تھیایسا لگتا تھا کہ مجرم نے مرحوم کو کسی مزاحمت کا موقع دیے بغیر ہی بڑی بے رحمی سے موت کے گھاٹ اتار دیا تھاحیران کن طور پر کمرے میں کسی انسان یا جانور کے قدموں کے نشان موجود نہ تھےپورا ڈیڑھ گھنٹہ ہر چیز کا بغور جائزہ لینے کے بعد بھی زارق جیسا زیرک اور ماہر آدمی کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکااور نہ ہی کوئی ثبوت اسکے ہاتھ لگاآیا یہ کسی انسان کا کام ہے,جانور کا یا پھر کسی تیسری مخلوق کا وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھاکیونکہ مجرم انتہائی شاطر تھا وہ بغیر کوئی ثبوت چھوڑے اپنا کام کر گیا تھا
راشد کے والد سے پوچھ گچھ کے بعد بھی کوئی اہم بات معلوم نی ہو سکیبقول اس کے والد کے انکی کسی کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہ تھیراشد کا اپنا کریانہ سٹور تھاوہ ایک نیک شریف آدمی تھاشادی میں لڑکا لڑکی دونوں کی ہی مرضی شامل تھیاس کے باوجود زارق نے اپنے طور پر بھی چھان بین کیعام طور پر وقوع پزیر ہونے والے ایسے واقعات میں یا تو وجہ کوئی ذاتی دشمنی نکلتی ہے یا پھر لڑکی کا کوئی پرانا عاشق قتل میں ملوث ہوتا ہےلیکن تحقیقات کے بعد حالات ان دونوں وجوہات کی ہی نفی کر رہے تھےلڑکی کا ایسا کوئی عاشق تھا نہیں اور نہ ہی راشد کی کسی سے کوئی دشمنی تھیزارق نے اپنے تہی اس کے دوستوں اور خاندان کے بارے میں بھی معلومات حاصل کر لی تھیںاسکا خیال تھا کہ ممکن ہے دوستوں میں سے کسی کے ساتھ اسکی کوئی تلخ کلامی یا لڑائی جھگڑا چل رہا ہو یا پھر خاندان میں کسی قسم کی کوئی چپقلش چل رہی ہولیکن ایسا کچھ بھی نہ تھایہ کیس ا تنا سیدھا بھی نہیں تھا جتنا وہ سمجھ رہا تھا_
__________________
خیر ابھی تک تحقیقات جاری تھیںزارق اپنے دفتر میں بیٹھا اس واقع پر غوروخوص کر رہا تھااسی وقت کانسٹیبل چائے لے کر اندر داخل ہوا_
اس نے زارق کو سیلوٹ کیا_
“سر ایک بات کہوں اگر اجازت ہو تو!”کانسٹیبل نے زارق سے پوچھا_
ہاں ہاں شیر محمد بولا کس بارے میں بات کرنا چاہتے ہو?
سر راشد قتل کیس کے بارے میں_
زارق نے چائے کی پیالی اٹھاتے ہوئےاسے بیٹھنے کا اشارہ کیا_
بولو شیر محمد_
“سر اس سے پہلے بھی ایسے کئی واقعات ہو چکے ہیں بستی میںاور ایک تو اپنے سر پنچ جی کا بیٹا تھا”کانسٹیبل نے افسوس سے کہا
زارق نےحیران کن نظروں سے شیر محمد کو دیکھا_
“سر اتفاق سے ان سب لاشوں کا بھی یہی حال تھا اور تو اور دو نوجوانوں کا نکاح ہو چکا تھا اور اگلے روز رخصتی اور ولیمہ کی رسم ادا ہونا تھی_”
کانسٹیبل کی با ت سن کر زارق چونکا
“تمہارے کہنے کا مطلب ہے کہ ایسے واقعات پہلے بھی ہو چکے ہیں”_زارق یے پوچھا
جی جی سر_شیر محمد بولا
“ہممم…. تو مجرم پکڑا گیا یا نہیں ?”زارق نے شیر مجمد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا_
“جناب حیران کن با ت ہی تو یہی ہے کہ قاتل کا کوئی سوراغ نہیں ملا تھاآپ سے پہلے والے صاحب نےبھی جان توڑ کوشش کی تھی لیکن وہ قاتل کا پتہ لگانے میں ناکام رہے”
زارق کسی گہری سوچ میں ڈوب گیا_
“سر کہتے ہیں یہاں بستی میں کسی خون آشام ڈائن کا بسیرا ہے وہ نوجوان آدمی کا خون پی کر اپنی شیطانی طاقت بڑھاتی ہےسر جی کئی لوگوں نے اسے تختہ پر بیٹھے دیکھا ہے رات کے وقت”
شیر محمد نے رازدارانہ انداز میں زارق سے کہا_
“کم آن شیر محمد یہ صرف لوگوں کی جہالت ہے یہ ڈائن جن چڑیل ایسا کچھ نہیں ہوتا”زارق نے اسے گاؤں کے لوگوں کی فرضی کہانی سمجھ کر شیر محمد سے کہا
جی ی ی جناب بس وہ جی یہاں کے لوگوں سے سنا تھا تو بتا دیا_
شیر محمد نے زارق کی طرف اجازت طلب نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا
“اوکے شیر محمد ٹھیک ہے اب تم جاؤ_اور اگر کچھ پتا چلا تو بتانا لیکن جن بھوتوں کے قصے کہانیوں کے علاوہ”
زارق نے مسکراتے ہوئے کہا_
“یس سر” کانسٹیبل سیلوٹ کر کے باہر نکل گیا_
زارق ایک بار پھر سے اس پراسرار قتل کی گتھی سلجھانے کے بارے میں سوچنے لگا_
__________________

Read More:  Zindagi Do Pal Ki Novel By Insia Awan – Last Episode 7

پہلے والے واقعات کی فائلیں دیکھنے کے بعد زارق مزید الجھ گیا تھاکیونکہ اس کیس کی طرح ان واقعات میں بھی مجرم کا پتہ نہیں چلا تھا اور بلآخر کسی جنگلی جانور کو قتل کا ذمہ دار قرار دے کر کیس ختم کر دیے گئے تھے
زارق سمجھ سکتا تھا کہ ایسے واقعات میں اور کوئی راہ جب نظر نہیں آتی تو مجبورا اس طرح کی فرضی کہانی بنا کر ہی کیس ختم کیا جاتا ہےویسے بھی گاؤں کے ساتھ ہی جنگل تھا اور عین ممکن تھا کہ سچ میں ہی کسی جنگلی جانور نے مرحومین کو سفاکی سے قتل کیا ہوبہرحل جو کیس اس کے سامنے تھا اس میں دور دور تک اس بات کا شبہ نہیں ہوتا تھا کہ یہ کسی جنگلی جانور کا کام ہے کیونکہ وہاں کسی قسم کا ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا تھا_
اور پہلے والے واقعات میں بھی بقول کانسٹیبل شیر محمد کے معاملہ ایسا ہی تھا_
ادھر روز ہی راشد کے والد انسپکٹر کے پاس انصاف کی غرض سےآ جاتا…. ظاہر ہے وہ بیچارہ اور کر بھی کیا سکتا تھا اسے جوان اولاد کے اس بے دردی سے قتل کیے جانے کے بعد کسی پل چین نہیں
مل رہا تھازارق بھی اس کے دکھ کو سمجھتا تھا اس لیے ہر بار اسے تسلی دے کر یقین دہانی کراتا کہ وہ جلد ہی مجرم کا پتہ لگا لے گا
اس واقعے کو دو ہفتے ہو چکے تھےزارق کیس کی فائل لے کر سرپنچ کے پاس پہنچا
سرپنچ اللہ یار نے اسے انتہائی احترام و اکرام سے بٹھایاکچھ ہی دیر بعد ملازم چائے لے آیا
زارق نے ان سے کہا کہ وہ ان سے اکیلے میں کچھ بات کرنا چاہتا ہے_
انہوں نے ملازم کو باہر جانے کا اشارہ کیا_
جی انسپکٹر صاحب بتایا کیا بات ہے_
سرپنچ صاحب آپ کو پتا ہی ہے راشد قتل کیس کے بارے میں دو ہفتے سے تحقیقات جاری ہیںلیکن میں کسی بھی حتمی نتیجے پر نہیں پنچ سکا
ہمیں معلوم ہے انسپکٹر ہم بھی اپنی جوان اولاد کھو چکے ہیںاظہر کے کیس کےلیے ہم نے بہت اوپر تک سفارش کر کے تحقیقات کروائی تھیں لیکن دو ماہ تک کچھ پتا نہ چلاگاؤں کے چند اوباش لڑکوں کو پولیس نے بلاوجہ حوالات میں بند کر رکھا تھاہمیں پتا تھا وہ اس قسم کی حرکت نہیں کر سکتےہم اپنے اظہر کو تو کھو ہی چکے تھے اب کسی بے گناہ کو سزا دلوا کر ہم اپنے سرپر گناہ کا بار نہیں اٹھانا چاہتے تھےاس لیے ہم نےمعاملہ اللہ پر چھوڑ کر چپ سادھ لی
دراصل میں چاہتا ہوں کہ آپ راشد کے والد کو کسی طرح سمجھا بجھا دیں تا کہ میں یہ کیس ختم کر دوںسرپنچ صاحب میں ایک ایماندار اور فرض شناس پولیس آفیسر ہوںمیں کسی صورت مجرم کو نہیں چھوڑوں گالیکن کیونکہ مجھے آفسران بالا کو بھی رپورٹ پیش کرنی ہے اس لیے آپ سے یہ گزارش کر رہا ہوں
ٹھیک ہے آپ بےفکر ہو جائیں ہم راشد کے والد کو لے کر تھانے آجائیں گے آپ فائل تیار رکھیں ہم آ کر دستخط کر دیں گےسرپنچ صاحب زارق کی بات کا مطلب سمجھ کر بولے
زارق شکریہ کہہ کر وہاں سے نکلا اور آفس روانہ ہو گیا_
__________________
سورج ڈوب چکا تھا اور آہستہ آہستہ اندھیرا پھیل رہا تھاتختے سے چند گز کے فاصلے پر جیپ ایک چھٹکے سے رک گئیزارق یے دو تین بار جیپ اسٹارٹ کرنے کی کوشش کی لیکن بے سوداس نے سوچا شاید ریڈی ایٹر کا پانی ختم ہوگیا ہواس نے بونٹ اٹھا کے انجن کا معائنہ کیا بظاہر کوئی خرابی نظر نہیں آ رہی تھی_
وہ وائر لیس بھی دفتر ہی بھول آیا تھااس نے کانسٹیبل کو فون کرنے کی کوشش کی لیکن سگنل نہیں تھےوہ جیپ سے ٹیک لگائے سوچ ہی رہا تھا کہ اسے سسکیوں کی آواز سنائی دیدرد میں ڈوبی ہوئی سسکیاں _جیسے کوئی تکلیف میں ہو
اس نے اردگرد دیکھا تبھی اسکی نظر تختے پر بیٹھے وجود پر پڑیوہ کوئیتھی نوجوان لڑکی تھی جو گھٹنوں میں سر دیے سسک رہی تھی
زارق فورا اس کی طرف لپکا_
بی بی کون ہو آپ اور ادھر کیا کر رہی ہو?
زارق نے پوچھا_
لیکن لڑکی نے کوئی جواب نہ دیا_
کون ہو بی بی?
اب کی بار زارق نے تھوڑے سخت لہجے میں پوچھا
اس بار بھی لڑکی نے کوئی جواب نا دیا_
زارق نے لڑکی کو کندھے سے پکڑ کر جھنجھوڑا_
اس نے سر اٹھا کر جونہی زارق کو دیکھا تو اسکی چیخ نکل گئی_
لڑکی کے دونوں آنکھوں سے خون بہہ رہا تھا_
کیا ہوا بی بی کون ہو اور یہاں اس ویران جگہ کیا کر رہی ہو اس وقت?
زارق نے ڈر پر قابو پاتے ہوئے بظاہر سخت لہجے میں استفسار کیا لیکن اسکا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا_
بیوہ…..بیوہ……بیوہ…
لڑکی بھر سے سر گھٹنوں میں دے کے سسکنے لگی_
اس کی سسکیوں سے ماحول پر ہیبت سا چھا رہی تھیتبھی اچانک زارق کو شیر محمد کی بات یاد آئی
“صاحب رات کے وقت تختے پر ایک خون آشام ڈائن کو بہت سے لوگوں نے دیکھا ہے_
زارق کا دل بری طرح سے ڈرا ہوا تھا_
کک کون بیوہ??
زارق چاہنے کے باوجود ہکلاہٹ پر قابو نہ پا سکا_
میں بیوہ…میں بیوہ…میں بیوہ وہ زور زور سے رونے لگی_
زارق کا پورا جسم پسینے سے شرابور ہو چکا تھا_

Read More:  Qissa Aik ishq Ka Novel by Aish Khan – Episode 6

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: