Bewah Novel By Aaban Dawood – Episode 2

0

بیوہ از آبان داؤد – قسط نمبر 2

–**–**–
شانو حد سے زیادہ خوش تھیاکرم سے اس کی شادی ہونے والی تھیوہ تو ہوائوں میں اڑتی پھر رہی تھی_
اکرم کا حال بھی اس سے کچھ مختلف نہ تھا_
شیدا کمہار سرپنچ کے ہاں ملازم تھا_
شانو اسکی اکلوتی اولاد تھیماں تو بچپن میں ہی گزر گئی تھیشیدے نے شانو کو ماں باپ دونوں کا پیار دے کر نازونعم سے پالا تھا_
اکرم شروع سے ہی شانو کو چاہتا تھاپہلے پہل تو شانو نے اکرم پر کوئی توجہ نہ دی لیکن بعد میں اسکا خلوص اور پیار دیکھ کر وہ بھی اسے چاہنے لگی
اکرم سرپنچ کے بیٹے اظہر کا باڈی گارڈ تھا_
“ارے شانو تو تو آج کل کھوئی پر بھی خال خال ہی نظر آتی ہے ہوتی کدھر ہے_اکرم بھائی کے چکر میں تو تو ہم سکھیوں کو بھی بھول گئی ہے???”
آج شانو کنویں پر پانی بھرنے گئی تو شکیلہ نے اس سے شکوہ کیا_
“ارے شکیلہ تجھے پتہ ہے نا اکرم کو میرا باہر جانا زرا پسند نہیں_
اور ویسے بھی وہ کام سے آکر پانی کے مٹکے خود گھر چھوڑ جاتا ہے_”
شانو نے مسکراتے ہوئے شکیلہ کو بتایا_
شکیلہ رشک سے اسے دیکھتی رہی…
تبھی فضیلہ بھی پانی بھرنے آگئی_
تینوں بیٹھی باتیں کر رہی تھی کہ تبھی اظہر چوھدری کی جیپ زن سے گزری_
تینوں نے فورا دوپٹے درست کیے اور گھڑے سنبھالتے ہوئے گھروں کو چل پڑیںکیونکہ پورا گاؤں اس کی بری عادات سے اچھی طرح واقف تھااس لیے لڑکیاں کوشش کرتی تھیں کہ اس کی شکاری نظروں میں نہ آئیں_
لیکن آج شانو اس کی نظروں میں آچکی تھی_
اوئے اکرم پتا کر یہ لال دوپٹے والی کون ہے?
اظہر نے مکروہ مسکراہٹ کے ساتہ مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے اپنے باڈی گارڈ اکرم سے کہا_
اکرم کا دل فورا زور سے دھڑکا وہ اسی دن سے تو ڈرتا تھا_
شانو کو وہ ہزارہا بار منع کر چکا تھا کہ وہ کنوئیں پر پانی بھرنے نا جایا کرے وہ یہ بات برداشت نہیں کر سکتا کہ کسی ایرےغیرے کی نظر اسکی محبوبہ پر پڑے_
اور آج وہ اظہر چوھدری کی شکاری نظروں میں آگئی تھی_
اکرم نے تب تو جی مالک ضرور کہہ کر بات ٹال دی لیکن کب تک ……وہ چوھدری کی فطرت سے اچھی طرح واقف تھا_
اس روز اس نے ابا سے کہہ کر شیدے چاچے کو پیغام بھجوایا کہ وہ ایک دو روز تک ہی نکاح کے لیے آئیں گےابا نے اس سے اس عجلت کی وجہ پوچھی لیکن اکرم نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ ابا اماں اب اکیلے گھر کا کام نہیں کر سکتی سادگی سے نکاح کر کے چند روز بعد رخصتی کروا لیں گے
اکرم کا ابا چاچا فاروق بھی ہی سن کر چپ ہو گیا_
آخر کو وہ کہہ تو ٹھیک ہی رہا تھا_
شانو کو ابا نے بتایا توہ وہ شرما گئی اور ابا کے سینے سے جالگی_
میری سوہنی دھی_
ابا نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا_
ادھر اظہر کے سر پر شانو سوار تھی_
اس نے اپنے ایک خاص ملازم سے معلومات کروائیں_
اسے پتہ چلا کہ وہ اپنے باڈی گارڈ اکرم کی محبوبہ ہے اور ایک دو روز میں ہی ان کا نکاح ہونے والا ہے_
اظہر نے ملازم کو منہ بند رکھنے کی ہدایت کی_
اگلے روز ہی اس نے اکرم سے کہہ کر جیپ نکلوائی_
مالک کہاں چلنا ہے?
شیدے کمہار کے گھر …
چوھدری اظہر نے ایک مکروہ قہقہہ لگایا__
مالک خیریت…کوئی بھول چوک ہو گئی??
ارے نہیں نہیں میں جانتا ہوں وہ تیری محبوبہ کا گھر ہے ہم تو بس بھابھی جی کے درشن کرنے جا رہے ہیں_
اظہر نے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ سجاتے ہوئے کہا_
اکرم کا خون کھول اٹھا_
مالک میرا اور شانو کا نکاح ہے پرسوںگھر کی عزت ہے مالک
ارے اکرم مالک سے پہلے اس پیس کو تو چکھے نہ نہ نہ_
بس چوھدری بس اس سے آگا ایک لفظ نہیں ورنہ میں تیری گندی زبان کھینچ لوں گا_
اظہر کی گھٹیا بات سن کر اکرم اپنا آپا کھو بیٹھا_
چوھدری اظہر نے یہ سوچا ہی نہیں تھا_
اوئے کرم ہوش کر تو ہمارے ٹکڑوں پر پلنے والا کتا ہے کتا..
چوھدری عزت کے معاملے میں کوئی سودے بازی نہیں..,اس بات کو تو اپنے مغز میں ڈال لے_مہری شانو کی طرف گندی نظر سے دیکھنا بھی مت ورنہ نتیجے کا زمہ دار خود ہوگا…
اکرم بھی جوان خون تھا اور شانو سے وہ بے حد پیار کرتا تھاوہ بھلا کب برداشت کر سکتا تھا یہ سب
لیکن چوھدری بھی ضدی تھا اس وقت تو اس نے کسی نی کسی طرح اکرم کا غصہ ٹھنڈا کیا لیکن دل ہی دل میں اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ اکرم سے ایسا بدلہ لے گا کہ وہ تا قیامت چوھدری کے قہر سے ڈرا گا_
حویلی پہنچتے ہی اس نے اپنے آدمیوں کو کام پر لگا دیا_
چوھدری اللہ یار تک جب یہ بات پہنچی تو اس نے اظہر کو بلا کر خوب ڈانٹ ڈپٹ کی_
اظہر کی حرکات آئے روز چوھدری اللہ یار کو پریشان کیے رکھتی تھیں_
اس نے اپنے ایک دور پار کے دوست کی شادی اظہر سے طے کر دی…ان کا خیال تھا کہ شادی کے بعد شاید وہ سدھر جائے_
ادھر اکرم نے نکاح کی ساری تیاریاں مکمل کر لی تھیں_
کل ہی اکرم اور شنو کا نکاح تھا_
اکرم آج رات جونہی راشد کی دکان پر جانے کےلیے باہر نکلا چند مسلح افراد اسے جیپ میں ڈال کر لے گئے_
راشد اس وقت باہر کھڑا تھااس نے چلانے کی کوشش کیلیکن تب تک جیپ دور جا چکی تھی_
“باندھ دو سالے کتے کو… چوھدری کے سامنا سینہ تان کر کھڑا تھا یہ کتا…سارے دیکھ لو اسکا حال …”اظہر چوھدری نے اس کے چہرے پر تھوکتے ہوئے اسے زبردست ٹھوکر رسید کی_
جاؤ اور جا کر اس کی معشوقہ کو اٹھا لاؤ_
تبھی ایک ملائم بھاگتے ہوئے آیا_
اس نے بتایا کی جس وقت انہوں نے اکرم کو اغواء کیا تھا اس وقت راشد دوکاندار دیکھ رہا تھا_
چوہدری نے ملازم کو بھیج کر اسے بلوا بھجا_
راشد کو ڈرا دھمکا کر اور کچھ رقم دے کر اظہر نے منہ بند رکھنے کےلیے بولا_
راشد بے چارہ ویسے ہی ڈر رہا تھا خوف کے مارے چپ چاپ گھر چلا گیا جان کسے پیاری نہیں ہوتی_
__________________
پاپا مجھے یہی ٹیڈی بیئر لینا ہے__
اوکے گڑیا…
اسے پیک کر دو.
آج کامران بچوں کو شاپنگ پر لے کر آیا تھا_
کامران کے دو بچے تھے بڑا عالیان اور چھوٹی رانیہ …دونوں میں ہی اسکی جان بستی تھیاور آج تو اسے اپنے بچوں پر کچھ زیادہ ہی پیار آ رہا تھا اس لیے وہ جس جس چیز پر ہاتھ رکھ رہا تھے وہ انہیں لے کے دے رھا تھا_
رات کو وہ دیر سے واپس آئےبچوں کو وہ اپنے روم میں انکی ماں کے پاس چھوڑ کر فریش ہونے چلا گیا
کامران جونہی واش روم میں داخل ہوا اسکی چیخ نکل گئی_
اندر باتھ ٹب میں خون ہی خون تھا_
اس نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی لیکن دروازہ باہر سے بند ہو چکا تھا_
وہ چیخا تبھی اسے اپنے پیچھے سسکیوں کی آواز سنائی دی__
کک کون ہے کون ہے کون ہے وہاں???
اس نے ڈرتے ہوئے پوچھا_
وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھا_
وہ ٹھٹھک گیا ایک لڑکی باتھ ٹب کی طرف پشت کیا بیٹھی تھی_
وہ گھٹنوں میں سر دیے سسک رہی تھی_
کک کون ہو تم بولتی کیوں نہیں…
وہ چیخ چیخ کر پوچھ رہا تھا_
بیوہ بیوہ بیوہ…
پہچانو مجھے تم نے ہی مجھے بیوہ کیا…
بھول گئے تم..
پیسوں کے عوض تم نے اپنا ایمان بیچ ڈالا تھا…
یاد آیا کچھ..
لل لیکن وہ ہ ہ ہ تت تب تو تم کسی کے ساتھ بھا بھا گ گئی تھی نا…
بکواس بند کر ظالم تجھے ساری حقیقت کا علم تھا پر تو نے انصاف نہیں کیا_
آج میں بیوگی کا یہی دکھ تیری پاری بیوی کو دوں گی__ہاہاہاہاہا
ماما مجھے چھوڑ دو پلیز میں ڈر گیا تھا مجھے معاف کر دو..
آج نہیں انسپکٹر میں آج خود انصاف کروں گی چن چن کر ماروں گی…ایک ایک سے بدلہ لوں گی…میں بیوہ بیوہ بیوہ
اس کے ساتھ ہی واش روم کامران کی فلگ شگاف چیخوں سے گونج اٹھا_
کافی دیر کے بعد کامران کی بیوی بچوں کو سلا کر کمرے میں آئی تو کامران کمرے میں موجود نہ تھا..
کافی دیر گزرنے کے بعد بھی کامران نہا کر باہر نا نکلا تو بیوی نے واش روم کا دروازہ کھٹکھٹایا_
حیرت انگیز طور پر دروازہ کھل گیا اس نے جونہی اندر چھانکا اس کے حلق سے ایک زور دار چیخ برآمد ہوئی اور وہ غش کھا کر گر پڑی..
__________________
اظہر نے پہلے اکرم کی آنکھیں باہر نکلوائی…اس کے بعد اس کے بازوؤں پر جلتے کوئلے رکھے وہ درد سے چیخ رہا تھا…لیکن اظہر چوھدری کو تو بہرحال اپنی بے عزتی کا بدلہ لینا تھااس نے اکرم پر پورا پسٹل خالی کر دیا اور اسکی لاش کو گاؤں کے پاس جنگل میں پھینکوا دیا
اسی رات اس کے آدمی شانو کو اس کے گھر سے اٹھا لائے_
چوھدری نا اس معصوم کی عصمت کو تار تار کر دیا_
بدلے کی آگ میں اس نے ٹھوکرتے مارتے ہوئے شانو کو اکرم کے قتل کے بارے میں بھی بتا دیاشانو پہلے سے زیادہ بدحواس ہو کر چیخنے لگی.,,نا جانے اس میں کیسے اتنی ہمت آئی .شانو اس کے سر پر گلدان مار کر کھڑکی سے کود گئی اور میں بیوہ میں بیوہ کہتے ہوئے حویلی کے پاس بہتی نہر کی طرف بھاگی
اس سے پہلے کے اظہر کے آدمی اس تک پہنچتے وہ نہر میں کود گئی اس کی لاش کو کارندوں نے اظہر کے حکم پر بستی سے دور جنگل کے آخری دھانے پر دفنا دیا تھاچونکہ گاؤں کے لوگ اس طرف کبھی گئے نہیں تھے اس لیے شانو کی لاش کو مشکل سے ہی ڈھونڈ پاتے_
بعد ازاں اکرم کی لاش بستی والوں کو ملی تو پوری بستی میں کہرام مچ گیا_
ہر آنکھ اشکبار تھیاور اس میں اظہر پیش پیش تھا
دوسری طرف شانو کے غائب ہونے کی خبر بھی بستی میں پھیل چکی تھی_
اس وقت تھانے میں تعینات انسپکٹر کامران نے کاروائی شروع کر دی تھیاظہر کو ڈر تھا کہ کہیں وہ شانو کی لاش بھی برآمد نہ کر لے اس طرح اس نے لوگوں مین جو افواہ پھیلائی تھی وہ بھی جھوٹی ثابت ہو جاتیکہ شانو کے عاشق نے اکرم کو قتل کیا اور بعد ازاں دونوں فرار ہوگئےشانو کے باپ کو تو کسی صورت یقین نہیں آرہا تھا…پوری بستی اس پر تھوک رہی تھی
اکرم نے کامران کو تگڑی رشوت دے کر اسے اسی فرضی کہانی کو سچ لکھ کر کیس ختم کرنے کو کہہ دیا_
شانو کا باپ بھی اگلے دن کا سورج نہ دیکھ سکاچند ہمدردوں نے اس مظلوم کو کفنا دفنا دیا
بعد میں گاؤں والے بھی اس واقعے کو بھول بھال گئےالبتہ اس کےبعدگاؤں نے لوگوں نے اکثر تختے پر رات کے وقت کسی لڑکی کو بیٹھ کر روتے دیکھا
__________________
اظہر کی موت پر جہاں اسکے چاپلوسی کرنے والے اور اس کے یار افسردہ تھے وہیں گاؤں کے لوگ خوش بھی تھے وہ سب اس کے وحشی پن سے واقف تھے لیکن کوئی بھی زبان کھولنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا_
اظہر کے والد چوھدری اللہ یار نے بہت اوپر تک سفارش کی لیکن قاتل کا کوئی سوراغ نہ مل سکا_
پولیس نے گاؤں کے کچھ اوباشوں کو گرفتار کر لیا تھا لیکن چوھدری صاحب کے کہنے پر انہیں رہا کر دیا گیا_
بالآخر تھک ہار کر چوھدری صاحب نے بھی چپ سادھ لی_
اظہر کے تمام ساتھیوں کا بھی ایک ایک کر کے یہی انجام ہوااس کے بعد گاؤں والوں میں یہ مشہور ہو گیا کہ تختے والی لڑکی ایک خون آشام ڈائن ہے جو نوجوانوں کا خون پی کر اپنی شیطانی قوت بڑھاتی ہے

Read More:  Kali - Afsana by Huma Waqas – Last Episode 2

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: