Bewah Novel By Aaban Dawood – Last Episode 3

0

بیوہ از آبان داؤد – آخری قسط نمبر 3

–**–**–

زارق نے اس سے پوچھا کہ وہ کیوں رو رہی ہے اور اس کے شوہر کو کس نے قتل کیا_
لڑکی کچھ دیر تک روتی رہی__
اس کے بعد اس نے سر اٹھایا تو وہ ایک پیاری سی بھولی صورت والی لڑکی تھی_
زارق کے پورے وجود میں خوف کی لہر دوڑ گئی_
اس نے ڈرتے ڈرتے آنکھوں کو مسلا کہ ہو سکتا ہے ہو کوئی خواب دیکھ رہا ہو__
اس خوفناک صورت لڑکی کی جگہ اب وہی پیاری سی لڑکی بیٹھی تھی_
ڈرو مت انسپکٹر….وہ اسکی حالت دیکھ کر گویا ہوئی
نن نہیں میں ڈر نہیں رہا تم یہ بب بتاؤ ہو کون…
جاننا چاہو گے میں کون ہوں اور پھر شانو نے اپنی ساری کتھا زراق کے گوش گزار کر دی_
زارق ایک ٹک بیٹھا ظلم کی داستان سن رہا تھا_
انسپکٹر میرے وجود پر بہت سے زخم ہیں….لیکن جو دکھ مجھے مر کر بھی تڑپاتا ہے وہ بہتان ہے جو میری زات پر لگایا گیا_
میں تو دل وجان سے اکرم کو چاہتی تھیپھر میں کیسے اسکے قتل میں ملث ہو سکتی ہوں
وہ بھی تب جب میرا اس سے نکاح ہو چکا تھا….میں کیسی بد نصیب تھی رخصتی سے پہلے ہی بیوہ ہو گئی_
مم میں تمہیں انصاف ضرور دلاؤں گا_
شانو ہنشنے لگی….ارے صاحب ہم غریب بھلا اس بے حس معاشرے میں انصاف کی توقع کر سکتے ہیں_
شانو میرا یقین کرو ہر انسان بیک جیسا نہیں ہوتا…میں مانتا ہوں ہم انسان بہک جاتے ہیں ہم بک جاتے ہیں لیکن ہی مت بھولو وہ رب سب سے بڑا منصف ہے اسکی ذات انسان کو ڈھیل ضرور دیتی ہے لیکن اسکی لاٹھی بے آواز ہے_میں صبح ہی پوی بستی کو ساری سچائی بتاؤں گا
شانو نے اس جگہ کی بھی نشاندہی کر دی جس جگہ اس کی لاش کو دفنایا گیا تھا_
اس کے ساتھ ہی وہ پھر سے اسی روپ میں آ گئی اور سسکیاں لینے لگی_
فتل کی گتھی سلجھ چکی تھی_
زارق نے ایک بار پھر سے جیپ اسٹارٹ کرنے کی کوشش کی تو وہ حیرت انگیز طور پر فورا ہی اسٹارٹ ہوگئی جبکہ اس سے پہلے وہ کتنی بار کوشش کر چکا تہا لیکن جیپ تہی کہ اسٹارٹ ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی_
جب وہ تھانے پہنچا تو کافی رات ہو چکی تھیلیکن اس نے ایک ضروری ٹیلیفون کرنا تھا
ہیلو…
انسپکٹر زراق بات کر رہا ہوں_
جی سر بولیئے?
انسپکٹر کامران کی پوسٹنگ کہاں ہوئی ہے?
سر انکی پوسٹگ تو اسلام آباد ہوئی تھی بٹ…
بٹ کیا?
زراق نے پوچھا

سر دیئر از اے بیڈ نیوز انکا آج رات کو ہی مرڈر ہو گیا ہے_
یہ سنتے ہی زارق نے فون بند کر دیا_
وہ جانتا تھا اس کا قاتل کون ہے_
صبح ہوتیے ہی وہ سر پنچ صاحب کے پاس پہنچا اور ان سے درخواست کی کہ وہ قاتل کا پتا لگا چکا ہے اور نہ صرف یہ بلکہ وہ اظہر کے قاتل کو بھی جانتا ہے لیکن وہ پوری بستی کے سامنے بتائے گا کے قاتل کون ہے???
پوری بستی اکھٹی ہو چکی تھیسب لوگ آپس میں کھسر پھسر کر رہا تھے
زارق نے سب سے مخاطب ہو کر بات کر آغاز کیا_
میں آپ سب کا شکرگزار ہوں کہ آپ یہاں اکٹھے ہوئے ہیں_
قاتل کے بارے میں بتانے سے پہلے میں آپ لوگوں کو ایک کہانی سنانا چاہوں گا_
جوں جوں وہ سچائی بتاتا جا رہا تھا سب لوگ پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ رہا تھے_
اور سرپنچ صاحب کا سر جھکتا جا رہا تھا_
نا جانے کیوں ہر آنکھ اشکبار تھی_
جب وہ پوری بات بتا کر خاموش ہوا تو ہر کوئی رو رہا تھا اور سب سے اونچی آواز سرپنچ صاحب کی تھی_
انہوں نے اپنی پگ اتار کر زمین پر رکھی اور گاؤں والوں کے سامنے ہاتھ جوڑ لیےاظہر کے گناھ نے دو بے گناہ خاندانوں کو پل میں اجاڑ دیا تھا
زارق نے گاؤں کے چند لوگوں کے ساتھ مل کر شانو کی بتائی ہوئی جگہ پر کھدالی کی تو چند انسانی ہڈیاں مل گئیں_
اس کے بعد شانو کی نماز جنازہ ادا کر کے اسے پورے احترام کے ساتھ گاؤں کے قبرستان میں دفنا دیا گیا_
اس کے بعدتختے پر کبھی وہ لڑکی بیٹھ کر روتے ہوئے دکھائی نا دی_

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: