Bhayanak Aadmi by Ibne Safi – Episode 1

0

بھیانک آدمی از ابن صفی قسط 01

روشی اسے بہت دیر سے دیکھ رہی تھی! وہ سر شام ہی ہوٹل میں داخل ہوا تھا اور اب سات بج رہے تھے۔ سمندر سے آنے والی ہوائیں کچھ بوجھل سی ہو گئی تھیں۔

جب وہ ہوٹل میں داخل ہوا تو روشی کی میز کے علاوہ اور ساری میزیں خالی پڑی تھیں۔ لیکن اب ہوٹل میں تل دھرنے کی جگہ بھی نہیں تھی۔

وہ ایک خوبصورت اور جامہ زیب نوجوان تھا۔ لیکن یہ کوئی ایسی خاص بات نہیں تھی جس کی بنا پر روشی اس کی طرف متوجہ ہو جاتی۔ اسی ہوٹل میں اس نے اب سے پہلے درجنوں خوبصورت آدمیوں کے ساتھ سینکڑوں راتیں گذاری تھیں اور اس کی وہ حس کبھی کی فنا ہو چکی تھی، جو صنف قوی کی طرف متوجہ کرنے پر اکساتی ہے۔

روشی ایک اینگلوبرمیز عورت تھی۔۔۔ کبھی لڑکی بھی رہی ہو گی لیکن اب یہ بہت پرانی بات ہو چکی تھی۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب سنگاپور پر جاپانیوں نے بمباری کی تھی اور جدھر جس کے سینگ سمائے تھے بھاگ نکلا تھا۔ روشی چودہ سال کی ایک لڑکی تھی۔ اس کا باپ سنگا پور کا ایک بہت بڑا تاجر تھا۔ لیکن بہت بڑے تاجر کی بیٹی ہونے کا یہ مطلب تو نہیں کہ روشی تین دن کے فاقے کے بعد ایک کپ چائے کے عوض لڑکی سے عورت نہ بن جاتی! ہو سکتا ہے کہ اس کے باپ کو ایک کپ چائے بھی میسر نہ آئی ہو کیوں کہ اس میں لڑکی سے عورت بننے کی صلاحیت توتھی نہیں۔۔۔ بہر حال روشی اس کے انجام سے آج بھی ناواقف تھی اور اب وہ ایک پچیس سال کی پختہ کار عورت تھی! لیکن گیارہ سال قبل کی روشی نہیں تھی۔۔۔ چائے کا وہ کپ اسے آج بھی یاد تھا۔۔۔ اور وہ اب تک ایسے درجنوں آدمیوں کو ایک ایک کپ چائے کے لئے محتاج کر چکی تھی۔

اب اس کے پاس ایک عمدہ سا آرام دہ فلیٹ تھا۔ دنیا کی ساری آسائشیں میسر تھیں اور اسے یقین تھا کہ اب وہ کبھی فاقے نہیں کرے گی۔

یہ ہوٹل اس کے کاروبار کے لئے بہت موزوں تھا اور وہ زیادہ تر راتیں یہیں گذارتی تھی۔ یہ ہوٹل کاروبار کے لئے یوں مناسب تھا کہ بندرگاہ یہاں سے قریب تھی اور دن رات یہاں غیر ملکیوں کا تار بندھا رہتا تھا جن میں زیادہ تر سفید نسل کے لوگ ہوتے تھے۔۔۔ اور یہ ہوٹل چلتابھی انہی کے دم سے تھا۔ ورنہ عام شہری تو ادھر کا رخ بھی نہیں کرتے تھے۔ مگر روشی اس بنا پر بھی اس نوجوان میں دلچسپی نہیں لے رہی تھی کہ وہ کوئی جہاز راں نہیں تھا۔

بات دراصل یہ تھی کہ وہ جب آیا تھا قدم قدم پر اس سے حماقتیں سرزد ہو رہی تھیں۔ جیسے ہی ویٹر نے پیشانی تک ہاتھ لے جا کر اسے سلام کیا اس ہوٹل کے سارے ویٹر آنے والے گاہکوں کو سلام کرنا ضروری خیال کرتے تھے خواہ وہ نئے ہوں خواہ پرانے، اس نے بھ باقاعدہ طور پر نہ صرف اس کے سلام کا جواب دیا بلکہ مؤدب انداز میں کھڑے ہوکر اس سے مصافحہ بھی کرنے لگا اور کافی دیر تک اس کے بال بچوں کی خیریت پوچھتا رہا۔

Read More:  Mirwah ki Raatain by Rafaqat Hayat – Episode 4

پہلے اس نے چائے منگوائی۔۔۔ اور خاموش بیٹھا رہا! حتٰی کہ چائے ٹھنڈی ہو گئی۔ پھر ایک گھونٹ لے کر برا سا منہ بناتے کے بعد اس نے چائے واپس کرکے کافی کا آرڈر دیا!

کافی شائد ٹھنڈی چائے سے زیادہ بدمزا معلوم ہوئی اور اس نے کچھ اس قسم کا منہ بنایا جیسے ابکائی روک رہا ہو۔ پھر اس نے کافی بھی واپس کردی اور پے در پے ٹھنڈے گلاس چڑھا گیا۔

اندھیرا پھیل گیا اور ہوٹل میں برقی قمقمے روشن ہو گئے۔ لیکن اس احمق نوجوان نے شاید وہاں سے نہ اٹھنے کی قسم کھا لی تھی۔

روشی کی دلچسپی بڑھتی رہی! وہ بھی اپنی جگہ پر جم سی گئی تھی!

رات کے کھانے کا وقت ہونے سے قبل ہی میز پوش تبدیل کر دئے گئے اور میزوں پر تروتازہ پھولوں کے گلدانوں کے ساتھ ہی ایسے گلاس بھی رکھے گئے جن میں نیپکن اڑسے ہوئے تھے۔

اس بیوقوف نوجوان نے اپنی کرسی پیچھے کھسکا لی تھی اور ایک ویٹر اس کی میز بھی درست کر رہا تھا۔ ویٹر کے ہٹتے ہی وہ ایک گلاب کا پھول گلدان سے نکال کر سونگھنے لگا! وہ خیالات میں کھویا ہوا سا معلوم ہو رہا تھا اور اس نے ایک بار بھی اپنے گردوپیش نظر ڈالنے کی زحمت گوارا نہیں کی تھی۔ شائد وہ وہاں خود کو تنہا محسوس کر رہا تھا۔

روشی اسے دیکھتی رہی اور اب وہ نہ جانے کیوں اس میں خاص قسم کی کشش محسوس کرنے لگی تھی۔۔۔ اس نے کئی بار اٹھنا بھی چاہا لیکن کامیاب نہ ہوئی۔

اتنے میں کھانے کا وقت ہو گیا۔ اور اس نوجوان نے کھانے کا آرڈر دیا۔ پھول ابھی تک اس کی چٹکی میں دبا ہوا تھا جسے وہ کبھی سونگھنے لگتا اور کبھی آنکھیں بند کرکے اس طرح سے اس گال سہلانے لگتا جیسے ضرورتاً ایسا کر رہا ہو۔

کھانا میز پر چن دیا گیا۔لیکن وہ بدستور بے حس و حرکت بیٹھا رہا۔ وہ اب بھی کچھ سوچ رہا تھا اور ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے ویٹر کے آنے اور کھانے کی موجودگی کا اسے علم ہی نہ ہو۔

روشی اب بھی اسے دیکھ رہی تھی۔ اچانک اس نے دیکھا کہ وہ گلاب کا پھول شوربے میں ڈبو رہا ہے اور پھر وہ اسے چبا بھی گیا۔ لیکن دوسرے ہی لمحہ اس نے اتنا بُرا منہ بنایا کہ روشی کو بیساختہ ہنسی آگئی۔ اس کے منہ سے کچلے ہوئے پھول کے ٹکڑے پھسل پھسل کر گر رہے تھے۔

“بوائے”۔ اس نے رو دینے کے سے انداز میں ویٹر کو آواز دی اور کئی لوگ چونک کر اسے گھورنے لگے۔۔ ڈائننگ ہال اب کافی آباد ہو چکا تھا۔ شائد پانچ میزیں خالی ہوں گی۔

“سب چوپٹ” اس نے ویٹر سے گلوگیر آواز میں کہا۔ “سب لے جاؤ۔۔۔ بل لاؤ!”

ویٹر برتن سمیٹ کر واپس چلا گیا۔ لیکن اسے واپس آنے میں دیر نہیں لگی۔ نوجوان نے طشتری میں رکھے ہوئے پرچے پر نظر ڈالی اور اپنی جیبیں ٹٹولنے لگا۔

Read More:  Ishq E Ghaiz Novel By Amrah Sheikh – Episode 7

پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس کی جیبوںسے نوٹوں کی کئی گڈیاں نکل آئیں۔ جنہیں وہ میز پر ڈالتا ہوا کھڑا ہو گیا اور اب وہ اپنی اندرونی جیبیں ٹٹول رہا تھا۔
آخر اس نے ایک کھلی ہوئی گڈی نکالی اور اس میں سے سو کا ایک بڑا نوٹ کھینچ کر طشتری میں رکھ دیا۔

روشی کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی تھیں اور وہ نوجوان بڑی لاپروائی سے میز پر پڑی ہوئی نوٹوں کی گڈیوں کو کوٹ کی جیبوں میں ٹھونس رہا تھا۔

روشی نے چاروں طرف نظر دوڑائی اور اس نے دیکھا کہ ڈائننگ ہال کے سارے لوگ اس احمق کو بری طرح گھور رہے ہیں اور اس نے وہاں کچھ برے لوگ بھی دیکھے جو للچائی ہوئینظروں سے اسے دیکھ رہے تھے۔

روشی اپنی جگہ سے اٹھی اور آہستہ آہستہ چلتی ہوئی اس احمق کی میز کے قریب پہنچ گئی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کا کیا حشر ہونے والا ہے۔ ڈائننگ ہال کے بعد دوسرے ہی کمرے میں بہت ہی اعلٰی پیمانے پر جوا ہوتا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ ابھی دو تین دلال اسے گھیر کر اس کمرے میں لے جائیں گے۔۔۔ اور وہ چند ہی گھنٹوں کے اندر اندر کوڑی کوڑی کو محتاج ہو جائے گا۔

“کہو طوطے اچھے تو ہو!” روشی نے نوجوان کے شانے پر ہاتھ رکھ کر اتنے بے تکلفانہ انداز میں کہا جیسے وہ نہ صرف اس سے واقف ہو بلکہ دونوں گہرے دوست بھی ہوں۔

نوجوان چونک کر اسے احمقوں کی طرح دیکھنے لگا۔ اس کے ہونٹ کھلے تھے اور آنکھیں حیرت سے پھیل گئی تھیں۔

“اب تم کہو گے کہ میں نے تمھیں پہچانا ہی نہیں۔” روشی اٹھلا کر بولی اور کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔ دوسری طرف قمار خانے کے دلال ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔

“آہا، کیا تمہیں بولنا نہیں آتا!” روشی پھر بولی۔

“مم۔۔۔ دو۔۔۔ ہپ!” نوجوان ہکلا کر رہ گیا۔

“تم شاید پاگل ہو!” وہ میز پر کہنیاں ٹیک کر آگے جھکتی ہوئی آہستہ سےبولی۔ “اس خطرناک علاقے میں اپنی امارت جتاتے پھرنے کا یہی مطلب ہو سکتا ہے۔”

“خطرناک علاقہ!” نوجوان آنکھیں پھاڑ کر کرسی کی پشت سے ٹک گیا۔

“ہاں میرے طوطے! کیا تم پہلی بار یہاں آئے ہو۔”

نوجوان نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

“کیوں آئے ہو”۔

“اس نے یہیں ملنے کا وعدہ کیا تھا!” نوجوان نے شرما کر کہا۔

“کس نے!۔۔۔ کیا کوئی لڑکی ہے!”

نوجوان نے پھر سر ہلا دیا! لیکن اس بار اس نے شرم کے مارے اس سے آنکھیں نہیں ملائیں! وہ کسی ایسی کنواری لڑکی کی طرح لجا رہا تھا جس کے سامنے اس کی شادی کا تذکرہ چھیڑ دیا گیا ہو!

روشی نے اس پر ترحم آمیز نظر ڈالی۔

“اگر اس نے یہاں ملنے کا وعدہ کیا ہے تو وہ کوئی اچھی لڑکی نہیں ہو سکتی!”

کیوں!” نوجوان چونک کر بولا۔

“لیکن یہ تو بتاؤ کہ تم اتنے روپے کیوں ساتھ لئے پھر رہے ہو!”

Read More:  Jinnat Ka Ghulam Novel By Shahid Nazir Chaudhry Read Online – Episode 35

روشی نے اس کے سوال کو نظرانداز کرتے ہوئے پوچھا۔

“جب تک اتنی ہی رقم میری جیب میں نہ ہو۔۔۔ میں گھر سے باہر نہیں نکلتا۔”

اچانک ایک دلال نے روشی کو اشارہ کیا۔! غالباً اس اشارے کا یہی مطلب تھا کہ اسے قمار خانے میں لے چلو!۔۔۔ لیکن روشی نے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا۔

“تب تو پھر ہو سکتا ہے کہ یہ تمہاری زندگی کی آخری رات ہو۔” روشی نے نوجوان سے کہا۔

“کیوں خوامخواہ ڈرا رہی ہو!” نوجوان خوف زدہ سی آواز میں بولا۔ “میں یونہی بڑا بدنصیب آدمی ہوں۔ پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھا سکتا! کوئی چیز ٹھنڈی معلوم ہوتی ہے اور کوئی چیز کڑوی۔ بڑا تھرڈ کلاس ہوٹل ہے میرے نانا کے گاؤں والی سرائے میں اس سے بدرجہا بہتر کھانا ملتا ہے۔”

روشی عجیب سی نظروں سے اسے دیکھ کر رہ گئی۔کچھ دیر خاموش رہی پھر وہ اٹھتا ہوا بولا۔ “اچھا اب میں جاؤں گا۔”

“شاید تم اس شہر کے ہی نہیں ہو۔” روشی نے تشویش آمیز لہجے میں کہا۔

“کیا تم غیب کی باتیں بھی بتا سکتی ہو!” نوجوان کے لہجے میں حیرت تھی۔ وہ پھربیٹھ گیا۔

“یہاں سے نکلنے کے بعد تمہیں سڑک تک پہنچنے کے لئے ایک ویرانہ طے کرنا پڑے گا!” روشی نے کہا۔ “ہوسکتا ہے کہ تم چیخ بھی نہ سکو اور کئی انچ ٹھنڈا لوہا تمہارے جسم میں اتر جائے۔”

“میں نہیں سمجھا۔”

“تم باہر مار ڈالے جاؤ گے بدھو!” روشی دانت پیس کر بولی۔ “کیا تم نے اس علاقے کی ہولناک وارداتوں کے متعلق اخبارات میں بھی نہیں پڑھا۔”

“میں کچھ نہیں جانتا!” نوجوان نے بے چینی سے پہلو بدل کر کہا۔
“وہ لڑکی کس وقت آئے گی!”

“اوہ اب تو آٹھ بج گئے! اس نے سات بجے ملنے کا وعدہ کیا تھا!”

“تم اسے کب سے جانتے ہو۔”

“کل سے”

“کیا مطلب!”

“ہاں ہاں کل سے! کل وہ مجھے ریلوے کے ویٹنگ روم میں ملی تھی!”

“اور تم آج یہاں دوڑے آئے! واقعی بدھو ہو۔”

“بات یہ ہے۔۔۔۔ کک۔۔۔۔ کہ۔۔۔”

“فضول باتیں نہ کرو! تمہارے لئے دونوں صورتیں خطرناک ہیں۔ لیکن ایک میں جان جانے کا خدشہ نہیں! البتہ لٹ ضرور جاؤ گے!”

“تمہاری کوئی بات میری سمجھ میں نہیں آرہی!”

“باہر پھیلے ہوئے اندھیرے میں ایک خطرناک آدمی کی حکومت ہے اور وہ آدمی بعض اوقات یونہی تفریحاً کسی نہ کسی کو ضرور قتل کردیتا ہے! مگر تم۔۔۔ تم تو سونے کی چڑیا ہو اس لئے تمہیں جان و مان دونوں سے ہاتھ دھونے پڑیں گے۔”

“کس مصیبت میں پھنس گیا!” نوجوان نے گلوگیر آواز میں کہا۔

“جب تک میں کہوں خاموشی سے یہی بیٹھے رہو!” روشی نے کہا۔

“لیکن تم نے یہاں بھی کسی خطرے کا تذکرہ کیا تھا۔”

“یہاں تم لٹ جاؤ گے پیارے طوطے!” روشی نے مسکرا کر پلکیں جھپکاتے ہوئے کہا۔ “ادھر جوا ہوتا ہے اور جوئے خانے کے دلال تمہاری تاک میں ہیں۔”

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: