Bhayanak Aadmi by Ibne Safi – Episode 2

0

بھیانک آدمی از ابن صفی قسط 02

“واہ۔۔۔ وا۔۔۔” احمق نے ہنس کر کہا۔” یہ تو بہت اچھی بات ہے! میں جوا کھیلنا پسند کروں گا۔ مجھے وہاں تک لے چلو۔”

“اوہ! میں سمجھی! تم یہاں جوا کھیلنے آئے ہو!”

“نہیں۔۔۔ یہ بات نہیں۔۔۔ اف وہ ابھی تک نہیں آئی۔۔۔ ارے بھئی قسم لے لو۔۔۔ میں جوا کھیلنے کی نیت سے نہیں آیا تھا۔ مگر اب کھیلوں گا ضرور۔ ایسے مواقع روز روز نہیں ملتے!”

“یعنی تم حقیقتاً جواری نہیں ہو!”

“نہیں! میں تو یہ بھی نہیں جانتا کہ جوا کھیلا کس طرح جاتا ہے۔”

“تب پھر کیسے کھیلو گے!”

“بس کسی طرح! صرف ایک بار تجربے کے لئے کھیلنا چاہتا ہوں! سچ کہتا ہوں ایسا موقع پھر کبھی نہیں ملے گا!”

“کیسا موقع!”

“بات یہ ہے!” احمق آگے جھک کر رازدارانہ انداز میں بولا۔ “نہ یہاں ڈیڈی ہیں اور نہ ممی!”

روشی بے اختیار ہنس پڑی۔ لیکن اس نوجوان کے چہرے پر حماقت آمیز سنجیدگی دیکھ کر خود بھی سنجیدہ ہو گئی اور نہ جانے کیوں اس وقت وہ خود کو بھی بیوقوف محسوس کرنے لگی تھی۔

“ڈیڈی اور ممی!” نوجوان پھر بولا “مجھے کڑی پابندیوں میں رکھتے ہیں! لیکن میں دنیا دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں اب بڑا ہو گیا ہوں نا۔۔۔ ہے کہ نہیں!۔۔۔ دیکھ لو وہ اب تک نہیںآئی۔۔۔”

“میں تمہیں جوا نہ کھیلنے دوں گی! سمجھے!”

“کیوں!۔۔۔ واہ۔۔۔ یہ اچھی رہی! تم ہوکون مجھے روکنے والی۔ میںنے آج سے پہلے کبھی تمہیں دیکھا تک نہیں۔”

“تم جوا نہیں کھیلو گے!” روشی اپنا اوپری ہونٹ بھینچ کر بولی۔

“دیکھتا ہوں۔ تم کیسے روکتی ہو مجھے!”

اتنے میں قمار خانے کا ایک دلال اپنی جگہ سے اٹھ کر ان کی میز کی طرف بڑھا۔ صورت ہی سے خطرناک آدمی معلوم ہورہا تھا! چہرے پر گھنی مونچھیں تھیں اور خفیف سے کھلے ہوئے ہونٹوں سے دانت دکھائی دیتے تھے! آنکھوں سے درندگی جھانک رہی تھی! وہ ایک کرسی کھینچ کر روشی کے سامنے بیٹھ گیا۔

“کیا یہ تمھارے دوست ہیں!” اس نے روشی سے پوچھا۔

“ہاں!” روشی کے لہجے میں تلخی تھی۔

“کیا پہلی بار یہاں آئے ہیں۔”

ہاں۔۔۔ ہاں!” روشی جھلا گئی۔

“ناراض معلوم ہوتی ہو!” وہ لگاوٹ بھرے انداز میں بولا!

“جاؤ! اپنا دھندا دیکھو! یہ جواری نہیں ہے!”

“میں ضرور جوا کھیلوں گا!” احمق نے میز پر گھونسہ مار کر کہا!” تم مجھے نہیں روک سکتیں! سمجھیں!”

“اوہ یہ بات ہے!” دلال روشی کوگھورنے لگا! اس کی آنکھوں میں کینہ توزی کی جھلک تھی۔ پھر وہ احمق کی طرف مڑ کر بولا۔ “نہیں مسٹر آپ کو کوئی نہیں روک سکتا! آپ جیسے خوش قسمت لوگ یہاں سے ہزاروں روپے بٹور کر لے جاتے ہیں اور ان کی یہ کشادہ پیشانی آآہاہا۔۔۔ فتحمندی اور نصیب وری کی نشانی ہے! میرے ساتھ آئیے۔ میں آپ کو کھیلنے کے گر بتاؤں گا۔ جیت پر صرف پندرہ فیصدی کمیشن۔۔۔ بولئے ٹھیک ہے نا!”
“بالکل ٹھیک ہے یار” احمق اس کے پھیلے ہوے ہاتھ پر ہاتھ مارتا ہوا بولا۔ “اٹھو۔”

روشی وہیں بیٹھی رہ گئی اور وہ دونوں اٹھ کر قمار خانے کی طرف چلے گئے

روشی خوامخواہ بور ہو رہی تھی! اسے تکلیف پہنچی تھی! نہ جانے کیوں؟ جہاں وہ تھی وہاں بیٹھی رہی! اس کے ذہن میں آندھیاں سی اٹھ رہی تھیں! بڑی عجیب بات تھی! آج اس سے پہلی ملاقات تھی۔ وہ بھی زبردستی کی! لیکن اس کے باوجود بھی وہ محسوس کر رہی تھی جیسے اس احمق کے رویے کی بنا پر برسوں پرانی دوستی ٹوٹ گئی ہو! اس نے اس کا کہنا کیوں نہیں مانا! اس کی بات کیوں رد کردی۔ پھر اسے اپنی حماقت پر ہنسی آنے لگی۔ آخر وہ اسے منع کرنے والی ہوتی ہی کون ہے!۔۔۔ پتہ نہیں۔۔۔ وہ کون ہے۔ کہاں سے آیا ہے؟ کل کہاں ہوگا؟ ایسے آدمی کے لئے اس قسم کا جذبہ رکھنا حماقت نہیں تو اور کیا ہے اس سے پہلے ایک نہیں سینکڑوں آدمیوں سے مل چکی تھی اور انہیں اچھی طرح لوٹتے وقت بھی اس کے دل میں رحم کا جذبہ بیدار نہیں ہوا تھا۔ لیکن اس احمق نوجوان کو دوسروں کے ہاتھوں لٹتے دیکھ کر نہ جانے کیوں اس کی انسانیت جاگ اٹھی تھی۔ اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کا کوئی نالائق لڑکا اس کا دل توڑ گیا ہو۔

Read More:  Beauty and the Vampire Novel by Zaha Qadir – Episode 15

“وہ جہنم میں جائے!” وہ آہستہ سے بڑبڑائی اور ویٹر کو بلا کر ایک پگ وہسکی کا آرڈر دیا۔

پھر اس نے اس طرح اپنے سر کو جھٹکا دیا جیسے اس احمق آدمی کے تصور سے پیچھا چھڑانا چاہتی ہو۔

اس نے سوچا کہ وہ پی چکنے کے بعد یہاں سے اٹھ ہی جائے گی! ضرور ہی اٹھ جائے گی ۔

لیکن اٹھ جانے کا تہیہ کرلینے کے باوجود بھی وہ وہیں بیٹھی رہی۔۔۔ سوچتی رہی۔۔۔ اسی احمق نوجوان کے متعلق۔۔۔ ایک گھنٹہ گزر گیا اور پھر وہ اسے دوبارہ دکھائی دیا۔

وہ قمار خانے کے دروازے میں کھڑا اپنے چہرے سے پسینہ پونچھ رہا تھا دونوں کی نظریں ملیں اور وہ تیر کی طرح اس میز کی طرف آیا۔

“تم ٹھیک کہتی تھیں ” وہ ایک کرسی پربیٹھ کر ہانپستاہوا بولا۔ ” میں نے تین ہزار روپے کھو دیئے!”

روشی اسے گھورتی رہی پھر دانت پیس کر بولی۔ “جاؤ چلے جاؤ! ورنہ الٹا ہاتھ رسید کردوں گی۔”

“نہیں۔۔۔ میں نہیں جاؤں گا۔۔۔ تم نے کہا تھا کہ باہر خطرہ ہے۔!”

روشی خاموش ہو گئی۔ وہ کچھ سوچ رہی تھی۔!

“بتاؤ میں کیا کروں۔” احمق نے پھر کہا۔

“جہنم میں جاؤ۔”

“میں بھی کتنا گدھا ہوں!” احمق خود سے بولا ” بھلا یہ بیچاری کیا بتائے گی۔”

احمق کرسی سے اٹھ گیا! روشی بری طرح جھلائی ہوئی تھی! اس نےذرہ برابر بھی پرواہ نہ کی۔ وہ اسے باہر جاتے دیکھتی رہی۔ حتٰی کہ وہ صدر دروازے سےگذر گیا!”

اچانک اس کے خیالات کی رو پلٹی اور وہ پھر اس کیلئے بے چین ہوگئی! اس کے ذہن میں باہر کے اندھیرے کا تصور رینگنے لگا او روہ مضطربانہ انداز میں اٹھ کھڑی ہوگئی!۔۔۔ وہ پھر اس احمق کے متعلق سوچ رہی تھی! اس نے صرف تین ہزار گنوائے تھے لیکن اس کے بعد بھی اس کی جیبوں میں کافی رقم ہوگی! وہ بڑے نوٹوں کی گڈیاں تھیں۔۔۔ یقینا تیس یا چالیس ہزار ہو سکتا ہے کہ اس سے بھی زیادہ۔۔۔!

اس نے بڑی تیزی سے اپنا وینٹی بیگ اٹھایا اور ہوٹل سے نکل گئی۔ باہر اندھیرے کی حکمرانی تھی۔ کافی فاصلے پر ایک تاریک سایہ نظر آرہا تھا! متحرک سایہ۔۔۔ جو اس احمق کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا تھا۔۔۔ سامنے چھوٹے چھوٹے ٹیلے تھے اور بائیں طرف گھنی جھاڑیوں کا سلسلہ میلوں تک پھیلا ہوا تھا۔ سڑک تک پہنچنے کے لئے ان ٹیلوں کے درمیان سے گزرنا ضروری تھا! لیکن موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ وقت اس کے لئے موزوں نہیں تھا! خود پولیس اس علاقے کو خطرناک قرار دے چکی تھی!

روشی دل ہی دل میں خود کو برا بھلا کہہ رہی تھی۔ کیوں نہ اس نے اس کو ادھر جانے سے باز رکھا ۔ اس نے اسے وہ راستہ کیوں نہ بتا دیا جو بندرگاہ کی طرف جاتا تھا۔

اب وہ اس الجھن میں پڑگئی تھی وہ اسے کس طرح آواز دے۔ وہ اس کے نام سے بھی واقف نہیں تھی!

Read More:  Yeh Junoon e Manzil e Ishq Novel By Farhat Nishat Mustafa – Episode 18

اچانک اسے تھوڑے ہی فاصلے پرایک دوسرا سایہ دکھائی دیا جو پہلے سائے کے پیچھے تھا اور یک بیک کسی ٹیلے کی اوٹ سے نمودار ہوا تھا! پھر اس نے اسے اگلے سائے پر جھپٹتے دیکھا۔ اور وہ اپنی بے ساختہ قسم کی چیخ کو کسی طرح نہ دبا سکی جو اس کے سنبھلنے سے پہلے ہی سناٹے میں دور تک لہراتی چلی گئی تھی!

دونوں سائے گھتے ہوئے زمین پر گرے۔ پھر ایک فائر ہوا اور ایک سایہ اچھل کر جھاڑیوں کی طرف بھاگا۔
روشی بدحواسی میں سیدھی دوڑی چلی گئی۔

اس نے تاروں کی چھاؤں میں ایک آدمی کو زمین پر پڑے دیکھا۔ دوسرا غائب ہو چکا تھا۔

اسے یقین تھا کہ وہ اس احمق آدمی کے علاوہ اور کوئی نہیں ہو سکتا۔۔۔

کیا ہوا!” وہ بوکھلائے ہوئے انداز میں اس پر جھک پڑی۔

“نیند آ رہی ہے!‘ احمق نے بھرائی ہوئی آواز میں جواب دیا۔

“اٹھو!” وہ اسے جھنجھوڑنے لگی۔ “بھاگو پوری قوت سے ہوٹل کی طرف بھاگو!”

احمق اچھل کر کھڑا ہوگیا اور پھر اس نے بڑی پھرتی سے روشی کو کندھے پر لاد کر ہوٹل کی طرف بھاگنا شروع کردیا۔ روشی “ارے ارے” ہی کرتی رہ گئی!

پھر تھوڑی دیر بعد ہی دونوں ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہانپ رہے تھے اور وہ ہوٹل کے صدر دروازے کے قریب تھے! فائر اور چیخ کی آواز سن کر یہاں پہلے ہی سے بھیڑ جمع ہو گئی تھی!

“کہیں چوٹ تو نہیں آئی۔” روشی نے اس سے پوچھا۔

“چوٹ آئی نہیں بلکہ چوٹ ہوگئی! میں اس وقت کوڑی کوڑی کو محتاج ہوں!”

ہوٹل کا مینیجر انہیں اندر لایا اور سیدھا اپنے کمرے میں لیتا چلا گیا۔

“آپ نے بڑی غلطی کی ہے!” اس نے احمق سے کہا۔

“ارے جناب! میں شام کو ادھر ہی آیا تھا!”

“کیا آپ نے سڑک کے کنارے لگے ہوئے بورڈ پر نظر نہیں ڈالی تھی جس پر تحریر ہے کہ سات بجے کے بعد اس طرف جانے والوں کی جان وہ مال کی حفاظت نہیں کی جاسکتی! یہ بورڈ محکمہ پولیس کی طرف سے نصب کرایا گیا ہے۔”

“میں نے نہیں دیکھا تھا!”

“کتنی رقم گئی!” مینیجر نے متاسفانہ لہجے میں پوچھا۔

“سینتالیس ہزار۔۔۔!”

“میرے خدا!” مینیجر کی آنکھیں متحیرانہ انداز میں پھیل گئیں!

“اور تین ہزار میں آپ کے قمار خانے میں ہار گیا۔”

“مجھے افسوس ہے!” مینیجر نے مغموم انداز میں کہا۔ “مگر جوا تو مقدر کا کھیل ہے ہو سکتا ہے کہ کل آپ چھ ہزار کی جیت میں رہیں۔”

وہ دونوں مینیجر کے کمرے سے باہر نکل آئے۔ ایک بار پھر لوگ ان کے گرد اکٹھا ہونے لگے تھے! لیکن روشی اسے ان کے نرغے سے صاف نکال لے گئی۔

وہ دوسری طرف کے دروازے سے پیدل بندرگاہ کی طرف جا رہے تھے۔

“کیوں طوطے اب کیا خیال ہے۔” روشی نے اس سے پوچھا۔

“اب خیال یہ ہے کہ میں اپنے روپے وصول کئے بغیر یہاں سے نہیں جاؤں گا! پچاس ہزار کی رقم تھوڑی نہیں ہوتی۔۔۔”

“لیکن تم اتنی رقم لے کرآئے ہی کیوں تھے۔

“مجھے پچاس بھینیسں خریدنی تھیں!”

“بھینسیں!”

“ہاں بھینسیں۔۔۔ اور میں ان بھینسوں کے بغیر واپس نہیں جاسکتا کیونکہ میرے ڈیڈی ذرا غصہ ور قسم کے آدمی ہیں!”

“کیا وہ بھینسوں کی تجارت کرتے ہیں!”

“نہیں۔ انہیں بھینسوں سے عشق ہے!” احمق نے سنجیدگی سے کہا اور روشی بے ساختہ ہنس پڑی۔

“ہائیں تم مذاق سمجھی ہو کیا!” احمق نے حیرت سے کہا۔ “یہ حقیقت ہے کہ وہ اپنے گردو پیش سے زیادہ بھینسیں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں!”

“وہ اور کیا کرتے ہیں! یعنی ذریعہ معاش کیا ہے!”

Read More:  Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 18

“یہ تو مجھے نہیں معلوم!”

“اب تمہارے پاس کتنی رقم ہے۔”

“شاید ایک چونی! رقم کی فکر نہ کرو۔ میں ایک ایک پائی وصول کرلوں گا!”

“کس سے!”

“جس نے چھینی ہے اس سے!”

“طوطے تم بالکل گدھے ہو!” روشی ہنسنے لگی۔ “پتہ نہیں زندہ کیسے ہو! وہ آدمی اپنے شکاروں کو زندہ نہیں چھوڑتا۔”

“وہ آخر ہے کون!”

“کوئی نہیں جانتا۔ پولیس والے اس علاقے میں قدم رکھتے ہوئے تھراتے ہیں! وہ اب تک نہ جانے کتنے آفیسروں کو جان سے مار چکا ہے۔”

“ہوسکتا ہے۔۔۔ مگر میں اپنے روپے وصول کر لوں گا۔”

“کس طرح بڈھے طوطے۔”

“کل سرشام ہی ان جھاڑیوں میں چھپ جاؤں گا۔”

روشی بے تحاشہ ہنسنے لگی!

“طوطے تم سچ مچ پاگل ہو!” اس نے کہا۔ “یہ بتاؤ تمہارا قیام کہاں ہے!”

“ہوٹل نبراسکا میں!”

“لیکن اب تمہاری جیبیں خالی ہو چکی ہیں! وہاں کیسے رہو گے۔”

“اس کی فکر نہیں! وہاں سے کسی خیراتی مسافر خانے میں چلا جاؤں گا، لیکن بھینسوں کے بغیر واپسی ناممکن ہے!”

روشی خاموش ہو گئی۔ بندرگاہ کے قریب پہنچ کر اس نے ایک ٹیکسی رکوائی۔

“چلو بیٹھو!”

“مجھے بھوک لگ رہی ہے!”

“تو اب تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں کھانا بھی کھلاؤں۔” روشی اسے ٹیکسی میں دھکیلتے ہوئے بولی۔
وہ دونوں ٹیکسی میں بیٹھ گئے اور ٹیکسی چل پڑی۔

“تم یہ نہ سمجھو کہ میں مفلس ہوں۔ میں نے یہ کہا تھا کہ میری جیب میں ایک چونی ہے۔ لیکن ٹھہرو میں الو نہیں ہوں! پردیس میں اپنا سارا روپیہ ایک جگہ نہیں رکھتا!”

احمق خاموش ہو کراپنے جوتے کا فیتہ کھولنے لگا۔ اس نے دونوں جوتے اتار دیے اور انہیں الٹا کر کے جھٹکنے لگا! دوسرے لمحے اس کے ہاتھ پر دو نوٹوں کی گڈیاں تھیں!”

٬یہ ڈھائی ہزار ہیں!” احمق نے بڑی سادگی سے کہا۔

“اگر اب میں انہیں ہتھیا لوں تو!” روشی مسکرا کر بولی۔

“تم ہرگز ایسا نہیں کرسکتیں۔ میں تمہیں ڈرا دوں گا۔”

“ڈرا دو گے!”

“ہاں میرے پاس ریوالور ہے اور میں نے اس آدمی پر فائر بھی کیا تھا۔”

“کیا تمہارے پاس لائسنس ہے۔”

“میں لائسنس وغیرہ کی پروا نہیں کرتا۔۔۔ یہ دیکھو میں جھوٹ نہیں کہہ رہا۔”

احمق نے جیب سے ریوالور نکال کر روشی کی طرف بڑھا دیا۔ اور روشی بے تحاشہ ہنسنے لگی۔

ریوالور کی چرخی میں پٹاخوں کی ریل چڑھی ہوئی تھی اور وہ ساڑھے چار روپے والا ٹوائے ریوالور تھا۔

“طوطے!” اس نے سنجیدگی سے کہا۔ “میری سمجھ میں نہیں آتا کہ تم آدمیوں کے کس ریوڑ سے تعلق رکھتے ہو!”

“دیکھو! تم بہت بڑھتی جا رہی ہو۔” احمق غصےمیں بولا۔ “ابھی تم مجھے طوطا کہتی رہی ہو لیکن میں کچھ نہں بولا تھا۔۔۔ لیکن اب جانور کہہ رہی ہو!”

“نہیں میں نے جانور تو نہیں کہا۔”

“پھر ریوڑ کا کیا مطلب ہوتا ہے! بھینس میرے ڈیڈی کی کمزوری ہے! میری نہیں۔”

“پھر بھی تم طوطے سے مشابہت رکھتے ہو!” روشی نے چھیڑنے والے انداز میں کہا۔

“ہرگز نہیں رکھتا۔۔۔ تم جھوٹی ہو۔۔۔ تم اسے ثابت نہیں کرسکتیں کہ میں طوطے سے مشابہت رکھتا ہوں۔”

“پھر بھی ثابت کردوں گی! یہ بتاؤ کہ تم۔۔۔!”

لیکن جملہ پورا ہونے سے قبل ہی اس کی آواز ایک بے ساختہ قسم کی چیخ میں تبدیل ہوگئی!

برابر سے گزرتی ہوئی ایک کار سے فائر ہوا تھا۔

“روکو۔۔۔ ڈرائیور۔۔۔ روکو۔” احمق چیخا۔

کار ایک جھٹکے کے ساتھ رک گئی۔ ڈرائیور پہلے ہی خوف زدہ ہو گیا تھا۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: