Bhayanak Aadmi by Ibne Safi – Episode 3

0

بھیانک آدمی از ابن صفی قسط 03

دوسری کار فراٹے بھرتی ہوئی اندھیرے میں گم ہوگئی۔ اس کی عقبی سرخ روشنی بھی غائب تھی! احمق روشی پر جھکا ہوا تھا۔

“عورت۔۔۔ اے عورت۔۔۔ ار۔۔۔ لل۔۔۔ لڑکی!” وہ اسے جھنجھوڑ رہا تھا۔

روشی کی آنکھیں کھلی تھیں اور وہ اس طرح ہانپ رہی تھی۔ جیسے گھونسلے سے گرا ہوا چڑیا کا بچہ ہانپتا ہے!

عمران کے جھنجھوڑنے پر بھی اس کے منہ سے آواز نہ نکلی۔

“ارے کچھ بولو بھی۔۔۔ کیا گولی لگی ہے۔”

روشی نے نفی میں سر ہلادیا۔

یہ حقیقت تھی کہ وہ صرف سہم گئی تھی! اس نے قریب سے گزرتی ہوئی کار کی کھڑکی میں شعلے کی لپک دیکھی تھی۔۔۔ اور پھر فائر کی آواز۔۔۔ ورنہ گولی تو شاید ٹیکسی کی چھت پر پھسلتی ہوئی دوسری طرف نکل گئی تھی۔

“یہ کیا تھا صاحب!” ڈرائیور نے سہمی ہوئی آواز میں پوچھا۔

“پٹاخہ۔۔۔!” احمق سرہلا کر بولا۔ “میرے ایک شریر دوست نے مذاق کیا ہے!۔۔۔ چلو آگے بڑھاؤ! ہاں۔۔۔ لیکن اندر کی روشنی بجھا دو۔ ورنہ وہ پھر مذاق کرے گا۔”

پھر وہ روشی کا شانہ تھپکتا ہوا بولا۔ “گھر کا پتہ بتاؤ۔۔۔ تاکہ تمہیں وہاں پہنچا دوں!”

روشی سنبھل کر بیٹھ گئی! اس کی سانسیں ابھی تک چڑھی ہوئی تھیں!

“کیا یہ وہی ہو سکتا ہے!” احمق نے آہستہ سے پوچھا۔

“پتہ نہیں۔” روشی ہانپتی ہوئی بولی۔

“تو اب یہ مستقل طور پر پیچھے پڑ گیا!” احمق نے بڑے بھولپن سے پوچھا۔

“اوہ۔۔۔ طوطے! اب میری زندگی بھی خطرے میں ہے!”

“ارے۔۔۔ تمہاری کیوں؟”

“وہ پاگل ہے جس کے بھی پیچھے پڑ جائے ہرحال میں مار ڈالتا ہے! اسیے کیس بھی ہو چکے ہیں کہ بعض لوگ اس کے پہلے حملے سے بچ جانے کے بعد دوسرے حملے میں مارے گئے ہیں!”

“آخر وہ ہے کون؟ اور کیا چاہتا ہے؟ روپے تو وہ چھین چکا! پھر اب کیا چاہئے؟”

“میں نہیں جانتی کہ وہ کون ہے کہ اور کیا کیا چاہتا ہے۔ بہرحال یہ سب کچھ تمہاری حماقتوں کی وجہ سے ہوا!”

“یعنی تم چاہتی ہو کہ میں چپ چاپ مر جاتا!” احمق نے بڑی سادگی سے سوال کیا۔

“نہیں طوطے! تمہیں اس طرح اپنی امارت کا اظہار نہیں کرنا چاہئے تھا!”

“مجھے کیا معلوم تھا کہ یہاں کے لوگ پچاس ہزار جیسی حقیر رقم پر بھی نظر رکھ سکتے ہیں!”

“تم اسے حقیر رقم کہتے ہو۔” روشی نے حیرت سے کہا۔ “ارے میں نے اپنی ساری زندگی میں اتنی رقم یکمشت نہیں دیکھی۔۔۔ طوطے! تم آدمی ہو یا ٹکسال۔۔۔”

“چھوڑو اس تذکرے کو! تم کہہ رہی تھیں کہ تم خود کو خطرے میں محسوس کر رہی ہو!”

“ہاں یہ حقیقت ہے!”

“کہو تو میں یہ رات تمہارے ساتھ ہی گذاروں!”

“اوہ طوطے ضرور۔۔۔ ضرور۔۔۔ ایک بات میں نے ضرور مارک کی ہے! تم بالکل طوطے ہونے کے باوجود بھی لاپرواہ اور نڈر ہو! لیکن تمہارا یہ ریوالور ابھی تک میری سمجھ میں نہیں آسکا۔”

“اچھا تو پھر۔۔۔ میں تمہارے ساتھ ہی چل رہا ہوں! لیکن کیا تمہارے گھر پر کچھ کھانے کو مل سکے گا!”

“دیکھو یہ رہا میرا چھوٹا سا فلیٹ!” روشی نے کہا۔

وہ دونوں فلیٹ میں داخل ہو چکے تھے اور احمق اتنے اطمینان سے ایک ایک صوفے میں گر گیا تھا جیسے وہ ہمیشہ سے یہیں رہتا آیا ہو!

“یہ مجھے اس صورت میں اور زیادہ اچھا معلوم ہوگا اگر کھانے کو کچھ مل جائے!” احمق نے سنجیدگی سے کہا۔

“اس کے لئے تمہیں میرا ہاتھ بٹانا پڑے گا! میں یہاں تنہا رہتی ہوں!”

تقریبا ایک گھنٹے بعد وہ کھانے کی میز پر تھے اور احمق بڑھ بڑھ کر ہاتھ مار رہا تھا۔

“اب مزا آرہا ہے!” وہ منہ چلاتا ہوا بولا۔ “اس ہوٹل کے کھانے بڑے واہیات ہوتے ہیں!”

“طوطے۔۔۔ کیا تم حقیقتا ایسے ہی ہو جیسے نظر آتے ہو۔” وہ اسے غور سے دیکھنے لگی!

“میں نہیں سمجھا!”

“کچھ نہیں۔ میں نے ابھی تک تمہارا نام تو پوچھا ہی نہیں! “

“تو اب پوچھ لو۔۔۔ لیکن مجھے اپنا نام قطعی پسند نہیں!”

“کیا نام ہے!”

“عمران۔۔۔ علی عمران!”

“کیا کرتے ہو!”

“خرچ کرتا ہوں! جب پیسے نہیں ہوتے تو صبر کرتا ہوں!”

“پیسے کہاں سے آتے ہیں۔”

“آہ۔۔۔”عمران ٹھنڈی سانس لے کر بولا۔ “یہ بڑا بیڈھب سوال ہے اگر کسی انٹرویو مین پوچھ لیا جائے تو مجھے نوکری سے مایوس ہونا پڑے۔ میں بچپن سے یہی سوچتا آیا ہوں کہ پیسے کہاں سے آتے ہیں! لیکن افسوس آج تک اس کا جواب پیدا نہیں کر سکا! بچپن میں سوچا کرتا تھا شائد کلدار روپے بسکٹ سے نکلتے ہیں۔”

“بہرحال تم اپنے متعلق مجھے کچھ بتانا نہیں چاہتے!”

“اپنے متعلق میں نے سب کچھ بتا دیا ہے! لیکن تم زیادہ تر ایسی باتیں پوچھ رہی ہو جن کا تعلق مجھ سے نہیں بلکہ میرے ڈیڈی سے ہے!”

“میں سمجھی! یعنی تم خود کوئی کام نہیں کرتے!”

“اف فوہ۔۔۔! ٹھیک۔۔۔ بالکل ٹھیک!۔۔۔ بعض اوقات میرا دماغ غیر حاضر ہوتا ہے۔۔۔ غالبا مجھے تمہارے سوال کا یہی جواب دینا چاہئے تھا!۔۔۔ اچھا تمہارا کیا نام ہے!”

“روشی!”

“واقعی! تم صورت ہی سے روشی معلوم ہوتی ہو!”

“کیا مطلب؟”

“پھر وہی مشکل سوال! جو کچھ میری زبان سے نکلتا ہے اسے میں سمجھا نہیں سکتا! بس یونہی پتہ نہیں کیا بات ہے! غالبا مجھے یہ کہنا چاہئے تھا کہ تمہارا نام بھی تمہاری ہی طرح۔۔۔ ہے۔۔۔ اچھا بتاؤ کیا کہیںگے بڑی مشکل ہے! ابھی وہ لفظ ذہن میں تھا۔۔ غائب ہو گیا۔۔۔!”

عمران بے بسی سے اپنی پیشانی رگڑنے لگا۔

روشی اسے عجیب نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اسے کیا سمجھے! نیم دیوانہ یا کوئی بہت بڑا مکار۔۔۔ مگر مکار سمجھنے کے لئے کوئی معقول دلیل اس کے ذہن میں نہیں تھی۔ اگر وہ مکار ہوتا تو اتنی بڑی رقم اس طرح کیسے گنوا بیٹھتا!

Read More:  Bloody Love Novel by Falak Kazmi – Episode 15

“اب آہستہ آہستہ ساری باتیں میری سمجھ میں آرہی ہیں!” عمران ٹھنڈی سانس لے کر بولا! “وہ لڑکی جو ویٹنگ روم میں ملی تھی اس بدمعاش کی ایجنٹ رہی ہوگی!۔۔۔ ہاں۔۔۔ اور کیا ورنہ وہ مجھے اس ہوٹل میں کیوں بلاتی۔۔۔ مگر جوشی۔۔۔ آر۔۔۔ کیا نام ہے تمہارا۔۔۔ اوہ۔۔۔ روشی۔۔۔ روشی! وہ لڑکی مجھے اچھی لگتی تھی۔۔۔ اور اب نہ جانے کیوں تم اچھی لگنے لگی ہو! مجھے بڑا افسوس ہے کہ میں نے تمہارے کہنے پر عمل نہ کیا۔۔۔ کیا اب تم میری مدد نہ کرو گی!”

روشی بڑے دلآویز انداز میں مسکرا رہی تھی۔

“میں کس طرح مدد کرسکتی ہوں؟” اس نے پوچھا۔

“دیکھو روشی۔۔۔ روشی۔۔۔ واقعی یہ نام بہت اچھا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے زبان کی نوک مصری کی ڈلی سے جا لگی ہو۔۔۔ روشی۔۔۔ واہ۔۔۔ وا۔۔۔ ہاں تو روشی میں اپنی کھوئی ہوئی رقم واپس لینا چاہتا ہوں!”

“ناممکن ہے۔ تم بالکل بچوں کی سی باتیں کررہے ہو! تم نے وہ رقم بینک میں کیوں نہیں رکھوائی تھی کہ واپس مل جائے گی۔”

“کوشش کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا!۔۔۔ آہا۔۔۔ آہا۔۔۔ کیا تم نے نیپولین کی زندگی کے حالات نہیں پڑھے!”
“میرے طوطے!” روشی ہنس کر بولی۔ “تم اتنی جلدی پالنے سے باہر کیوں آگئے!”

“میں مذاق کے موڈ میں نہیں ہوں!” عمران کسی ضدی بچے کی طرح جھلا کر بولا۔

روشی کی ہنسی تیز ہو گئی! وہ بالکل اس طرح ہنس رہی تھی جیسے کسی نا سمجھ بچے کو چڑا رہی ہو!

“اچھا تو میں جا رہا ہوں!” عمران بگڑ کر اٹھتا ہوا بولا۔

“ٹھہرو! ٹھہرو!” وہ یک بیک سنجیدہ ہوگئی۔ “چلو بتاؤ۔ کیا کہہ رہے تھے!”

“نہیں بتاتا!” عمران بیٹھتا ہوا بولا۔ “میں کسی سے مشورہ لئے بغیر ہی نپٹ لوں گا!”

“نہیں مجھے بتاؤ کہ تم کیا کرنا چاہتے ہو!”

“کتنی بار حلق پھاڑوں کہ میں اس سے اپنے روپے وصول کرنا چاہتا ہوں!”

“خام خیالی ہے بچپنا!” روشی کچھ سوچتی ہوئی بولی۔ “اس علاقے میں پولیس کی بھی دال نہیں گلی! آخر تھک ہا رکر اسے وہاں خطرے کا بورڈ لگانا پڑا۔”

“کیا ہوٹل والےبھی اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔” عمران نے پوچھا۔

“میں وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتی!”

“پولیس نے انہیں بھی ٹٹولا ہوگا۔”

“کیوں نہیں! عرصے تک اس ہوٹل میں پولیس کا ایک دستہ دن اور رات متعین رہاہے لیکن اس کے باوجود بھی وہ خطرناک آدمی کام کر ہی گذرتا تھا۔”

“روشی روشی! تم مجھے باز نہیں رکھ سکتیں!” عمران ڈائیلاگ بولنے لگا! “میں اس کا قلع قمع کئے بغیر یہاں سے واپس نہ جاؤں گا۔

“بکواس مت کرو!” روشی جھنجھلا گئی۔ پھر اس نے کہا۔ “جاؤ اس کمرے میں سو جاؤ۔ بستر صرف ایک ہے۔ میں یہاں صوفے پر سو جاؤں گی۔”

“نہیں۔۔۔ تم اپنے بستر پر جاؤ۔۔۔ میں یہاں صوفے پر سو جاؤں گا۔” عمران نے کہا۔

اس پر دونوں میں بحث ہونے لگی۔ آخر کچھ دیر بعد عمران ہی کو خواب گاہ میں جانا پڑا اور روشی اسی کمرے کے ایک صوفے پر لیٹ گئی۔

ہلکی سردیوں کا زمانہ تھا! اس لئے اس نے ایک ہلکا کمبل اپنے پیروں پر ڈال لیا تھا! وہ اب بھی عمران ہی کے متعلق سوچ رہی تھی۔ لیکن اس خطرناک اور گمنام آدمی کا خوف اب بھی اس کے ذہن پر مسلط تھا۔

وہ آدمی کون تھا!اس کا جواب شاداب نگر کی پولیس کے پاس نہیں تھا۔ اس نے اب تک درجنوں وارداتیں کی تھیں۔ لیکن پولیس اس تک پہنچنے میں ناکام رہی تھی! او رپھر سب سے عجیب بات تو یہ کہ ایک مخصوص علاقہ ہی اس کی چیرہ دستیوں کا شکار تھا! شہر کے دوسرے حصوں کی طرف وہ شاذ و نادر ہی رخ کرتا تھا!

روشی اسی کے متعلق سوچتی اور اونگھتی رہی! اسے خوف تھا کہ کہیں وہ ادھر ہی کا رخ نہ کرے۔ اس لئے اس نے روشنی بھی گل نہیں کی تھی اس کے ذہن پر جب بھی غنودگی طاری ہوتی اسے ایسا محسوس ہوتا جیسے اس کے کان کے پاس کسی نے گولی چلائی ہو۔ وہ چونک کر آنکھیں کھول دیتی!

دیوار کے ساتھ لگی ہوئی کلاک دو بجا رہی تھی اچانک وہ بوکھلا کر اٹھ بیٹھی! نہ جانے کیوں اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ خطرے میں ہو۔

وہ چند لمحے خوفزدہ نظروں سے ادھر ادھر دیکھتی رہی پھر صوفے سے اٹھ کر پنجوں کے بل چلتی ہوئی اس کمرے کے دروازے تک آئی جہاں وہ احمق نوجوان سو رہا تھا۔

اس نے دروازہ پر ہاتھ رکھ کر ہلکا سا دھکا دیا۔ دروازہ کھل گیا لیکن ساتھ ہی اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ بستر خالی پڑا تھا اور کمرے کا بلب روشن تھا اس کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں اور حلق خشک ہونے لگا۔

اچانک ایک خیال بڑی تیزی سے اس کے ذہن میں چکرا کر رہ گیا۔ کہیں یہ بیوقوف نوجوان اسی خوفناک آدمی کاکوئی گرگا نہ رہا ہو!۔

وہ بے تحاشہ پلنگ کے سرہانے رکھی ہوئی تجوری کی طرف لپکی اس کا ہینڈل پکڑ کر کھینچا۔ تجوری مقفل تھی! لیکن وہ سوچنے لگی۔۔۔ تجوری کی کنجی تو تکیے کے نیچے ہی رہتی ہے۔۔۔ ایک بار پھر اس کی سانسیں تیز ہو گئیں! اس نے تکیہ الٹ دیا۔ تجوری کی کنجی جوں کی توں اپنی جگہ پر رکھی ہوئی ملی۔ لیکن روشی کو اطمینان نہ ہوا! وہ تجوری کھولنے لگی۔۔۔ مگر پھر آہستہ آہستہ اس کا ذہنی انتشار کم ہوتا گیا! اس کی ساری قیمتی چیزیں اور نقد رقم محفوظ تھی۔

Read More:  Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 6

پھر آخر وہ گیا کہاں؟ تجوری بند کرکے وہ سیدھی کھڑی ہوگئی! پچھلا دروازہ کھول کر باہر نکلی اور تب اسے احساس ہوا کہ وہ اسی دروازے سے نکل گیا ہوگا! دروازہ مقفل نہیں تھا۔ ہینڈل گھماتے ہی کھل گیا تھا! دوسرے طرف کی راہداری تاریک پڑی تھی! وہ باہر نکلنے کی ہمت نہ کرسکی! اس نے دروازہ بند کر کے اندر سے مقفل کر دیا۔

وہ پھر اسی کمرے میں آگئی جہاں صوفے پر سوئی تھی۔۔۔ آخر وہ احمق اس طرح کیوں چلا گیا۔ وہ سوچتی رہی! آخر اس طرح بھاگنے کی کیا ضرورت تھی؟ وہ اسے زبردستی تو لائی نہیں تھی۔ وہ خود ہی آیا تھا! لیکن کیوں آیا تھا؟۔۔۔ اس کا مقصد کیا تھا؟

اچانک اسے محسوس ہواجیسے کسی نے بیرونی دروازہ پر ہاتھ مارا ہو۔ وہ چونک کر مڑی مگر اتنی دیر میں شیشے کے ٹکڑے جھنجھناتے ہوئے فرش پر گر چکے تھے۔

پھر ٹوٹے ہوئے شیشے کی جگہ سے ایک ہاتھ داخل ہو کر چٹخنی تلاش کرنے لگا بڑا سا بھلا ہاتھ! جو بالوں سے ڈھکا ہوا تھا! روشی کے حلق سے ایک دبی دبی چیخ نکلی۔ لیکن دوسرے ہی لمحے وہ ہاتھ غائب ہو گیا اور روشی کو ایسا محسوس ہوا جیسے باہ راہداری میں دو آدمی ایک دوسرے سے ہاتھا پائی پر اتر آئے ہوں۔
روشی بیٹھی ہانپتی رہی! پھر اس نے ایک کریہہ سی آواز سنی اور ساتھ ہی ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی بہت وزنی چیز زمین پر گری ہو۔

پھر بھاگتے ہوئے قدموں کی آوازیں۔

اور اب بالکل سناٹا تھا! قریب یا دور کہیں سے کسی قسم کی آواز نہیں آرہی تھی البتہ خود روشی کے ذہن میں ایک نہ مٹنے والی “جھائیں جھائیں” گونج رہی تھی حلق خشک تھا اور آنکھوں میں جلن سی ہونے لگی تھی۔

وہ بے حس و حرتک سمٹی سمٹائی صوفے پر بیٹھی رہی! اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے۔ تھوڑی دیر بعد اچانک پھر کسی نے دروازہ تھپتھپایا اور ایک بار پھر اسے اپنی روح جسم سے پرواز کرتی ہوئی محسوس ہوئی۔

“میں ہوں! دروازہ کھولو۔۔۔” باہر سے آواز آئی لیکن روشی اپنے کانوں پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھی۔۔۔ آواز اسی نوجوان احمق کی معلوم ہوئی تھی۔

“پھوسی۔۔۔ پھوسی۔۔۔ آرر۔۔۔ روشی دروازہ کھولو!۔۔۔ میں ہوں، عمران!”

روشی اٹھ کر دروازے پر جھپٹی دوسرے ہی لمحے عمران اس کے سامنے کھڑا برے برے سے منہ بنا رہا تھا۔ اس کے چہرے پر کئی جگہ ہلکی ہلکی سی خراشیں تھیں اور ہونٹوں پر خون پھیلا ہوا تھا۔ روشی نے مضطربانہ انداز میں اسے اندر کھینچ کر دروازہ بند کردیا۔

” یہ کیا ہوا۔۔۔ تم کہاں تھے۔”

“تین پیکٹ میں نے وصول کر لئے دو ابھی باقی ہیں! پھر سہی!” عمران نوٹوں کے تین بنڈل فرش پر پھینکتا ہوا بولا۔

“کیا وہی تھا” روشی نے خوفزدہ آواز میں پوچھا۔

“وہی تھا۔۔۔ نکل گیا۔۔۔ دو پیکٹ ابھی باقی ہیں!”

“تم زخمی ہو گئے ہو! چلو باتھ روم میں۔۔۔” روشی اس کا ہاتھ پکڑ کر غسل خانے کی طرف کھینچی ہوئی بولی۔

کچھ دیر بعد وہ پھر صوفے پر بیٹھے ایک دوسرے کو گھور رہے تھے!

“تم باہر کیوں چلے گئے!” روشی نے پوچھا!

“میں تمہاری حفاظت کے لئے آیا تھا نا۔۔۔ میں جانتا ھتا کہ وہ ضرور آئے گا! وہ آدمی جو بیچ سڑک پر فائر کر سکتا ہے اسے مکانوں کے اندر گھسنے میں کب تامل ہوگا!”

“کیا تم واقعی بیوقوف ہو؟” روشی نے حیرت سے پوچھا۔

“پتہ نہیں! میں تو خود کو افلاطون کا دادا سمجھتا ہوں مگر دوسرے کہتے ہیں کہ میں بیوقوف ہوں۔ کہنے دو! اپنا کیا بگڑتا ہے! اگر میں عقلمند ہوں تو اپنے لئے احمق ہوں تو اپنے لئے۔”

“تو اب وہ نامعلوم آدمی میرا بھی دشمن ہو گیا!” روشی خشک ہونٹوں پر زبان پھیر کر بولی!

“ضرور ہو جائے گا! تم نے کیوں میری جان بچانے کی کوشش کی تھی؟”

“اوہ۔۔ مگر۔۔۔ میں کیا کروں؟ کیا تم ہر وقت میری حفاظت کرتے رہو گے؟”

دن کو وہ ادھر کا رخ ہی نہیں کرے گا! رات کی ذمہ داری میں لیتا ہوں۔”

“مگر کب تک۔۔۔”

“جب تک میں اسے جان سے نہ مار دوں۔” عمران بولا۔

“مگر کب تک۔۔۔”

“جب تک میں اسے جان سے نہ مار دوں۔” عمران بولا۔

“تم۔۔۔ تم آخر ہو کیا بلا!”

“میں بلا ہوں!” عمران برا مان گیا۔

اوہ۔۔۔ ڈیئر۔۔۔ تم سمجھے نہیں!”

“ڈیئر۔۔۔ یعنی کہ تم مجھے ڈیئر کہہ رہی ہو!” عمران مسرت آمیز لہجے میں چیخا۔

“ہاں کیوں کیا حرج ہے!کیا ہم گہرے دوست نہیں ہیں۔” روشی مسکرا کر بولی۔

“مجھے آج تک کسی عورت نے ڈیئر نہیں کہا!” عمران مغموم آواز میں بولا

شاداب نگر کے محکمہ سراغ رسانی کے دفتر میں سب انسپکٹر جاوید کی خاصی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ وہ ایک ذہین اور نوجوان آفیسر تھا! تعلق تو اس کا محکمہ سراغ رسانی سے تھا لیکن اس کے لئے بے تکلف دوست عموما اسے تھانیدار کہا کرتے تھے! وجہ یہ تھی کہ ذہن کے ساتھ ہی ساتھ ڈنڈے کے استعمال کو بڑی اہمیت دیتا تھا۔ اس کا قول تھا کہ آج تک ڈنڈے سے زیادہ خوفناک سراغرساں اور کوئی پیدا ہی نہیں ہوا۔

اکثر وہ شبے کی بنیاد پر ملزموں کی ایسی مرمت کرتا کہ انہیں چھٹی کا دودہ یاد آجاتا۔

وہ کافی لحیم شحیم آدمی تھا۔ بہتیرے تو اس کی شکل ہی دیکھ کر اقرار جرم کر لیتے! مگر وہ شاداب نگر کے اس مجرم کی جھلک بھی نہ دیکھ سکا تھا جس نے بندرگاہ کے علاقہ میں بسنے والوں کی نیند حرام کر رکھی تھی۔

Read More:  Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 6

اس وقت سب انسپکٹر جاوید اپنے محکمے کے سپرنٹنڈنٹ کے آفس میں بیٹھا تھا غالبا اس بات کا منتظر تھا کہ سپرنٹنڈنٹ اپنا کام ختم کرکے اس کی طرف متوجہ ہو!

سپرنٹنڈنٹ سرجھکائے کچھ لکھ رہا تھا! تھوڑی دیر بعد قلم رکھ کر اس نے ایک طویل انگڑائی لی اور جاوید کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگا۔

“بھئی میں نے تمہیں اس لئے بلایا ہے کہ تمہیں عمران صاحب کو اسسٹ کرنا ہوگا! اس سے بڑی بے بسی اور کیا ہوگی کہ ہمیں سینٹرل والوں سے مدد طلب کرنی پڑی ہے۔”

“عمران صاحب!” جاوید نے حیرت سے کہا۔”وہی لی یوکا والے کیس کے شہرت یافتہ!”

“وہی۔۔۔ وہی!” سپرنٹنڈنٹ سرہلا کر بولا۔ “وہ حضرت یہاں پرسوں تشریف لائے ہیں اور ابھی تک اس کی شکل نہیں دکھائی دی۔ یہ سینٹرل والے بہت چالاک ہوتے ہیں! اس کا خیال رہے کہ ڈیپارٹمنٹ کی بدنامی نہ کرانا۔ یہاں تمہارے علاوہ اور کسی پر میری نظر نہیں پڑی!”

“آپ مطمئن رہیں! میں حتی الامکان کوشش کروں گا۔”

“خود سے کسی معاملے میں پیش پیش نہ رہنا۔ جو کچھ وہ کہی کرنا!”

“ایسا ہی ہوگا!”

فون کی گھنٹی بجی اور سپرنٹنڈنٹ نے ریسیور اٹھا لیا۔

“ہیلو۔۔۔! اوہ آپ ہیں۔۔۔ جی۔۔۔ جی۔۔۔ اچھا ٹھہریئے! ایک سیکنڈ!”

سپرنٹنڈنٹ نے پنسل اٹھا کر اپنی ڈائری میں کچھ لکھنا شروع کردیا۔ ریسیور بدستور اس کے کان سے لگا رہا۔

کچھ دیر بعد اس نے کہا۔ “تو آپ مل کب رہے ہیں۔۔۔ جی۔۔۔ اچھا اچھا! بہت بہتر!” اس نے ریسیور رکھ دیا اور کرسی کی پشت گاہ سے ٹیک لگا کرکچھ سوچنے لگا۔

“دیکھو جاوید” وہ تھوڑی دیر بعد بولا۔ “عمران صاحب کا فون تھا! انہوں نے کچھ جعلی نوٹوں کے نمبر لکھوائے ہیں اور کہا ہے کہ ان نمبروں پر کڑی نظر رکھی جائے جس کے پاس بھی ان نمبروں کا کوئی نوٹ نظر آئے اسے بیدریغ گرفتار کر لیا جائے۔ ان نمبروں کو لکھ لو۔ مگر اس کا مطلب کیا ہے، یہ میں بھی نہی جانتا!”

“وہ یہاں کب آئیں گے!” جاوید نے پوچھا۔

“ایک بج کر ڈیڑھ منٹ پر۔ بھئی سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کس قسم کا آدمی ہے۔ ویسے کہا جاتا ہے کہ آفیسر آن سپیشل ڈیوٹیز ہے اور اس نے اپنا سیکشن بالکل الگ بنایاہے جو براہ راست ڈائریکٹر جنرل سے تعلق رکھتا ہے!”

” میں نے سنا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل صاحب ان کے والد ہیں۔”

“ٹھیک سنا ہے۔۔۔ مگر یہ کیا لغویت ہے۔۔۔ ایک بج کر ڈیڑھ منٹ!”
عمران ریلوے اسٹیشن پر ٹہل رہا تھا! اسے اپنے ماتحت ہدہد کی آمد کا انتظار تھا! ہدہد جو ہکلا کر بولتا تھا اور دوران گفتگو بڑے بڑے الفاظ ادا کرنے کا شائق تھا۔

ٹرین آئی۔۔۔ اور نکل بھی گئی۔۔۔ لیکن ہد ہد کا کہیں پتہ نہ تھا۔ عمران گیٹ کے پاس آکر کھڑا ہو گیا۔ بھیڑ زیادہ تھی۔ اس لئے ہدہد کافی دیر بعد دستیاب ہو سکا۔

“ادھر آؤ!” عمران اس کا ہاتھ پکڑ کر ویٹنگ روم کی طرف کھینچتا ہوا بولا۔

ہدہد اس کے ساتھ گھسٹتا ہوا چلا جا رہا تھا۔۔۔ ویٹنگ روم میں پہنچ کر اس نے کہا۔

“مم۔۔۔ میرے۔۔۔۔ اوسان۔۔۔ بج۔۔۔ بجا نہیں تھے! لل لہٰذا اب آداب بجا لاتا ہوں۔”

اس نے نہایت ادب سے جھک کر عمران کو فرشی سلام کیا۔

“جیتے رہو!” عمران اس کے سر پر ہاتھ پھیرتا ہوا بولا۔ “کیا تم اس شہر سے واقفیت رکھتے ہو۔”

“جی ہاں یہ۔۔۔ مم۔۔۔ میرے برادر نسبتی کا وطن مالوف ہے!”

“میرے پاس وقت کم ہے! ورنہ تم سے برادر نسبتی اور وطن مالوف کے معن پوچھتا! خیر تم یہاں مچھلیوں کا شکار کھیلنے کے لئے آئے ہو!”

“جی۔۔۔!” ہد ہد حیرت سے آنکھیں پھاڑ کر بولا۔ “اس بات کا۔۔۔ مم۔۔۔مطلب۔۔۔ مم۔۔۔ میرے ذہن نشین نن۔۔۔ نہیں ہوا!”

“تم یہاں بندرگاہ کے علاقے میں مچھلیوں کا شکار کھیلو گے۔۔۔ قیام اے بی سی ہوٹل میں ہوگا! بازار سے مچھلیوں کے شکار کا سامان خریدو اور چپ چاپ وہیں چلے جاؤ!۔۔۔ جاؤ اور شکار کھیلو!”

“معاف کیجئے گا یہ مم میرے لئے ناممکن ہے!”

“ناممکن کیوں ہے؟” عمران اسے گھورنے لگا۔

“والد مرحوم کی وصیت۔۔۔ فف۔۔۔۔ فرماتے تھے۔۔۔ شکار ماہی کار بیکاران است۔۔۔”

“مطلب کیا ہوا! مجھے عربی نہیں آتی ۔”

“فف۔۔۔ فارسی ہے جناب! اس کا مطلب یہ ہو اکہ مچھلی کا شکار کھیلنا بیکار آدمیوں کا کام ہے۔”

“اچھی بات میں تمھیں اسی وقت ملازمت سے برطرف کئے دیتا ہوں تاکہ تم اطمینان سے مچھلی کا شکار کھیل سکو۔”

“اوہ۔۔۔ آپ کو۔۔۔ کک۔۔۔ کس طرح سمجھاؤں!” ہدہد نے کہا۔ پھر سمجھانے کے سلسلے میں کافی دیر تک ہکلاتا رہا! عمران بھی جلدی میں نہیں تھا۔ورنہ وہ اس طرح وقت نہ برباد کرتا۔

“چلو اب جاؤ۔” وہ اسے دروازے کی طرف دھکیلتا ہوا بولا۔ “یہ سرکاری کام ہے! اور کام ضرورت پڑنے پر بتایا جائے گا بھولنا نہیں۔۔۔ بندرگاہ کے علاقے میں اے، بی، سی ہوٹل ہے۔۔۔ تمہیں وہیں قیام کرنا ہوگا۔ شکار کا گھاٹ وہاں سے دور نہیں ہے! لیکن خبردار۔۔۔ شام کو سات بجے کے بعد ادھر ہرگز نہ جانا۔”

ہدہد تھوڑی دیر تک کھڑا سوچتا رہا پھر بولا۔ “اچھا جناب! میں جا رہا ہوں! لل۔۔۔ لیکن۔۔۔ میں نہیں جانتا کہ مچھلیوں کے شکار۔۔۔ کک۔۔۔ کے لئے مجے کیا۔۔۔ خخ۔۔۔ خریدنا پڑے گا!”

عمران اسے سامان کی تفصیل بتاتا رہا۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: