Bhayanak Aadmi by Ibne Safi – Episode 4

0

بھیانک آدمی از ابن صفی قسط 04

عمران ٹھیک ایک بجکر ڈیڑھ منٹ پر سپرنٹنڈنٹ کے آفس میں داخل ہوا اور سپرنٹنڈنٹ اپنے سامنے ایک نوعمر آدمی کو کھڑا دیکھ کر پلکیں جھپکانے لگا۔

“تشریف رکھیئے۔ تشریف رکھیئے!” اس نے تھوڑی دیر بعد کہا۔

“شکریہ!” عمران بیٹھتا ہوا بولا۔ اس وقت اس کے چہرے پر حماقتیں نہیں برس رہی تھی وہ ایکا چھی اور جاذب نظر شخصیت کا مالک معلوم ہو رہا تھا۔

“بہت انتظار کرایا آپ نے” سپرنٹنڈنٹ نے اس کی طرف سیگرٹ کا ڈبہ بڑھاتے ہوئے کہا۔

“شکریہ! میں سیگرٹ کا عادی نہیں ہوں!” عمران نے کہا۔ “دیر سے ملاقات کی وجہ یہ ہے کہ میں مشغول تھا! اب تک اپنے طور پر حالات کا جائزہ لیتا رہا ہوں۔”

“میں پہلے ہی جانتا تھا۔” سپرنٹنڈنٹ ہنسنے لگا۔

“نوٹوں کے متعلق کچھ معلوم ہوا۔”

“ابھی تک تو کوئی رپورٹ نہیں ملی! لیکن۔۔۔!”

“نوٹوں کے متعلق پوچھنا چاہتے ہیں آپ!” عمران مسکرا کر بولا۔

“ہاں! میں اپنی معلومات کے لئے جاننا چاہتا ہوں۔”

“اس آدمی کے پاس جعلی نوٹوں کے دو پیکٹ ہیں اور یہ میرے ہی ذریعے سے اس کے پاس پہنچے ہیں۔”

“آپ کے ذریعہ سے!” سپرنٹنڈنٹ کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔

“جی ہاں! میں دیدہ دانستہ کل رات کو اس خطرناک علاقے میں گیا تھا اور میری جیبوں میں جعلی نوٹوں کے پیکٹ تھے۔”

“ارے تو کیا آج کے اخبار میں آپ ہی کے متعلق خبر تھی!”

“غالبا”

“لیکن یہ ایک خطرناک اقدام تھا۔”

“ہاں۔ بعض اوقات اس کے بغیر کام بھی تو نہیں چلتا۔۔۔ مگر اس سے ٹکرانے کے بعد اب میں نے اپنا خیال بدل دیا ہے۔ جعلی نوٹ بازار میں نہیں آسکیں گے! وہ تو بس یونہی احتیاطا میں نے آپ کو اطلاع دیدی تھی! وہ بہت چالاک ہے اور اس قسم کے حربے اس پر کام نہیں کر سکتے!”

سپرنٹنڈنٹ خاموشی سے عمران کی صورت دیکھ رہا تھا۔

“سوال یہ ہے کہ رات کو وہ علاقہ خطرناک کیوں ہوجاتا ہے۔” عمران بڑبڑایا۔ “ظاہر ہے کہ سرکاری طور پر وہاں سڑک ہی پر خطرے سے ہوشیار کرنے کے لئے بورڈ لگا دیا ہے! اس لئے عام طور پر وہ راستہ ٹریفک کے لئے بند ہو گیا ہے! لیکن اس کے باوجود بھی مجھ جیسے بھولے بھٹکے آدمی پر حملہ کیا گیا!۔۔۔ اس کا یہی مطلب تو یہ ہوا کہ ساری رات وہاں اس آدمی کی حکومت رہتی ہے۔”

“جی ہاں! قطعی یہی بات ہے اور اسی لئے وہاں خطرے کا بورڈ لگایا گیا ہے!”

“لیکن مقصد جناب! آخر اس اجاڑ علاقے میں ہے کیا! اگر یہ کہا جائے کہ وہ اجاڑ علاقہ لٹیروں کا اڈہ ہے تو یہ سوچنا پڑے گا کہ اے بی سی ہوٹل پر کبھی حملہ کیوں نہیں ہوتا۔ وہاں روزانہ ہزاروں روپے کا جوا ہوتا ہے۔”

“شبہ تو ہمیں بھی ہے کہ اے بی سی والوں کا اس سے کوئی نہ کوئی تعلق ضرور ہے! لیکن ہم ابھی تک ان کے خلاف کوئی ثبوت فراہم نہیں کر سکے ہیں۔”عمران کچھ نہ بولا! اس نے جیب سے چیونگم کا پیکٹ نکالا اور اس کا کاغذ پھاڑ کر ایک سپرنٹنڈنٹ کو پیش کیا جو بوکھلاہٹ میں شکریئے کے ساتھ قبول کر لیا گیا۔ لیکن سپرنٹنڈنٹ کے چہرے پر ندامت کی ہلکی سی سرخی دوڑ گئی اور وہ چھینپ کر دوسری طرف دیکھنے لگا۔

اس کے برخلاف عمران بڑے اطمینان سے اسے اپنے دانتوں میں کچل رہا تھا۔

تھوڑی دیر بعد اس نے کہا۔ “اس واقعہ کا تذکرہ آپ ہی تک محدود رہے تو بہتر ہے۔”

“ظاہر ہے!” سپرنٹنڈنٹ بولا۔

اس نے چیونگم کو عمران کی نظر بچا کر میز کی دراز میں ڈال دیا تھا!

“آپ کا قیام کہاں ہے؟” اس نے عمران سے پوچھا۔

“کسی ہوٹل میں ٹھہرا ہوا ہوں۔” عمران نے جواب دیا۔

سپرنٹنڈنٹ نے پھر کچھ اور پوچھنا مناسب نہ سمجھا۔
چند لمحے خاموشی رہی اس کے بعد سپرنٹنڈنٹ بولا۔ “آپ کو اسسٹ کرنے کے لئے میں نے ایک آدمی منتخب کر لیا ہے۔ کہیئے تو ابھی ملا دوں۔”

“نہیں فی الحال ضرورت نہیں۔ آپ مجھے نام اور پتہ لکھوا دیجئے۔ پتہ ایسا ہونا چاہیئے جہاں اس سے ہر وقت رابطہ قائم کیا جاسکے۔ ویسے میری کوشش یہی رہے گی کہ آپ لوگوں کو زیادہ تکلیف نہ دوں۔”

آخری جملہ شاید سپرنٹنڈنٹ کو گراں گذرا تھا! اس کے چہرے پر سرخی پھیل گئی! لیکن وہ کچھ بولا نہیں۔

عمران تھوڑی دیر تک غیر ارادی طور پر ٹانگیں ہلاتا رہا! پھر مصافحے کے لئے ہاتھ بڑھاتا ہوا بولا۔ “اچھا بہت بہت شکریہ۔”

“اوہ۔۔۔ اچھا! لیکن اگر آج شام کا کھانا آپ میرے ساتھ کھائیں تو کیا حرج ہے؟”

“ضرور کھاؤں گا!” عمران مسکرا کر بولا۔ “مگر آج نہیں! ویسے مجھے آپ کے تعاون کی اشد ضرورت ہوگی۔”

“ہماری طرف سے آپ مطمئن رہیں۔”

Read More:  Kisi Aur Ka Hun Filhal Novel By Suhaira Awais – Episode 7

“اچھا اب اجازت دیجئے!” عمران کمرے سے باہر نکل گیا۔

اور سپرنٹنڈنٹ بڑی دیر تک خاموش بیٹھا سر ہلاتا رہا!۔۔۔ پھر اس نے میز کی دراز کھول کر عمران کی دی ہوئی چیونگم نکالی اور ادھر ادھر دیکھ کر اسے منہ میں ڈال لیا۔
سات بجے عمران روشی کے فلیٹ میں پہنچا! وہ شاید اسی کا انتظار کر رہی تھی! عمران کو دیکھ کر اس نے برا سا منہ بنایا اور جھلائے ہوئے لہجے میں بولی۔ “اب آئے ہیں، صبح کے گئے ہوئے! میں نے لنچ پر آپ کا انتظار کیا! شام کو کافی دیر تک چائے کے لئے بیٹھی رہی!”

“میں دوسری روڈ کی ایک بلڈنگ پر تمہارا فلیٹ تلاش کر رہا تھا۔!” عمران نے سر کھجاتے ہوئے جواب دیا۔

“دن بھر کہاں رہے!”

“اسی مردود کو تلاش کرتا رہا جس سے ابھی دو پیکٹ وصول کرنے ہیں!”

“اپنی زندگی خطرے میں نہ ڈالو! میں تمہیں کس طرح سمجھاؤں!”

“میرا خیال ہے کہ وہ اے بی سی ہوٹل میں ضرور آتا ہوگا!”

“بکواس نہیں بند کرو گے تم!” روشی اٹھ کر اسے جھنجھوڑتی ہوئی بولی۔ “تم ہوٹل سے اپنا سامان کیوں نہیں لائے؟”

“سامان۔۔۔ دیکھا جائے گا۔۔۔ چلو کہیں ٹہلنے چلتی ہو؟”

“میں نے آج دروازے کے باہر قدم بھی نہیں نکالا۔” روشی نے کہا۔

“کیوں؟”

“خوف معلوم ہوتا ہے!”

عمران ہنسنے لگا پھر اس نے کہا۔ “وہ صرف رات کا شہزادہ معلوم ہوتا ہے دن کا نہیں!”

“کچھ بھی ہو! مگر۔۔۔!” روشی کچھ کہتےکہتے رک گئی۔ اس نے پلٹ کر خوفزدہ نظروں سے دروازہ کی طرف دیکھا اور آہستہ سے بولی۔ “دروازہ مقفل کردو!”

“اوہو! بڑی ڈرپوک ہو تم!” عمران پھر ہنسنے لگا۔

“تم بند توکردو! پھر میں تمہیں ایک خاص بات بتاؤں گی۔”

عمران نے دروازہ بند کرکے چٹخنی چڑھا دی۔

روشی نے اپنے بلاوز کے گریبان میں ہاتھ ڈال کر ایک لفافہ نکالا اور عمران کی طرف بڑھاتی ہوئی بولی۔ “آج تین بجے ایک لڑکا لایا تھا۔ پھر لفافہ چاک کرنے سے قبل ہی وہ بھاگ گیا۔”

عمران نے لفافے سے خط نکال لیا۔ انگریزی کے ٹائپ میں تحریر تھا۔

“روشی
تم مجھے نہ جانتی ہوگی! لیکن میں تم سے اچھی طرح واقف ہوں اگر تم
اپنی خیریت چاہتی ہو تو مجھے اس کے متعلق سب کچھ بتا دو جو پچھلی رات
تمہارے ساتھ تھا وہ کون ہے! کہاں سے آیا ہے؟ کیوں آیا ہے؟ تم یہ
سب کچھ مجھے فون پر بتا سکتی ہو! میرا فون نمبر سکس ناٹ ہے! میں تمہیں
معاف کردوں گا۔
ٹیرر”

“بہت خوب!” عمران سر ہلا کر بولا۔ “فون پر گفتگو کرے گا۔”

“مگر سنو تو! میں نے ساری ٹیلیفون ڈائریکٹری چھان ماری ہے مگر مجھے نمبر کہیں نہیں ملا۔”

“تمہارے پاس ہے ڈائریکٹری!” عمران نے پوچھا۔
“نہیں پڑوس میں ہے اور فون بھی ہے!”

“ذرا لاؤ تو ڈائریکٹری٬” عمران نے کہا۔

“تم بھی ساتھ چلو!”

“اوہ۔۔۔ چلو!”

وہ دونوں دروازہ کھول کر باہر نکلے۔ روشی برابر والے فلیٹ میں چلی گئی اور عمران باہر اس کا انتظار کرتا رہا۔

شاید پانچ منٹ بعد روشی واپس آگئی!

واپسی پر پھر روشی نے بہت احتیاط سے دروازہ بند کیا! ڈائریکٹری میں سکس ناٹ کی تلاش شروع ہوگئی۔ یہ نمبر کہیں نہ ملا۔

“مجھے تو یہ بکواس ہی معلوم ہوتی ہے۔” روشی نے کہا۔ “ہوسکتا ہے کہ یہ خط کسی اور نے مجھے خوفزدہ کرنے کے لئے بھیجا ہو!”

“مگر ان واقعات سے اور کون واقف ہے!”

“کیوں! کل جب تم پر حملہ ہوا تھا تو ہوٹل میں درجنوں آدمی موجود تھے اور ظاہر ہے کہ تم ہی مجھے اپنے کاندھے پر اٹھا کر ہوٹل تک لے گئے تھے!۔۔۔ تم میرے ہی پاس سے اٹھ کر جوئے خانے میں بھی گئے تھے!”

عمران خاموش رہا۔ وہ کچھ سوچ رہا تھا۔ پھر چند لمحے بعد اس نے کہا۔ “ہم اس وقت کا کھانا کسی شاندار ہوٹل میں کھائیں گے۔”

“پھر وہی پاگل پن! نہیں ہم اس وقت کہیں نہیں جائیں گے۔” روشی نے سختی سے کہا۔

“تمہیں چلنا پڑے گا۔” عمران نے کہا۔ “ورنہ مجھے رات بھر نیند نہیں آئے گی۔”

“کیوں نیند نہ آئے گی!”

“کچھ نہیں!” عمران سنجیدگی سے بولا۔ “بس یہی سوچ کر کڑھتا رہوں گا کہ تم میری ہوکون جو میرا کہنا مان لو گی!”

روشی اب اسے غور سے دیکھنے لگی۔

“کیا تمہیں واقعی اس سے دکھ پہنچے گا!” اس نے آہستہ سے کہا۔

“جب میری کوئی خواہش پوری نہیں ہوتی تو میرا دل چاہتا ہے کہ خوب پھوٹ پھوٹ کر روؤں۔” عمران نے بڑی معصومیت سے کہا۔

روشی پھر اسے غور سے دیکھنے لگی! عمران کے چہرے پر حماقت پھیل گئی تھی!

“اچھا میں چلوں گی!” روشی نے آہستہ سے کہا اور عمران کی آنکھیں مسرور بچوں کی طرح چمکنے لگیں۔

تھوڑی دیر بعد روشی تیار ہو کر نکلی اور عمران کو اس طرح دیکھنے لگی جیسے حسن کی داد طلب کر رہی ہو۔

Read More:  Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 14

عمران نے برا سا منہ بنا کر کہا۔ “تم سے اچھا میک اپ تو میں کر سکتا ہوں۔”

“تم”

“ہاں کیوں نہیں! اچھا پھر سہی! اب ہمیں باہر چلنا چاہیئے!”

“تم خوامخواہ چڑاتے ہو!” روشی جھنجھلا کر بولی۔

“افسوس کہ تمہیں اردو نہیں آتی ورنہ میں کہتا

ان کو آتا ہے پیار پر غصہ
ہم ہی کر بیٹھے تھے غالب پیشدستی ایک دن!”

“چلو بکواس مت کرو!” وہ عمران کو دروازے کی طرف دھکیلتی ہوئی بولی۔

روشی اس وقت سچ مچ بہت حسین نظر آرہی تھی! عمران نے نیچے اتر کر ایک ٹیکسی کی اور وہ دونوں “وہائٹ ماربل” کے لئے روانہ ہو گئے! یہ یہاں کا سب سے بڑا اور شاندار ہوٹل تھا۔

“روشی کیوں نہ میں اسے فون کروں!” عمران بولا۔

“مگر ڈائریکٹری میں اس کا نمبر کہاں ملا۔ نہیں ڈئیر کسی نے مذاق کیا ہے مجھ سے!”
“میں ایسا نہیں سمجھتا۔”

“تمہاری سمجھ ہی کب اس قابل ہے کہ کچھ سمجھ کو۔ تمہارا نہ سمجھنا ہی اچھا ہے۔”

“میں کہتا ہوں تم سکس ناٹ پر ڈائل کرو۔ اگر جواب نہ ملے تو اپنے کان اکھاڑ لینا۔۔۔ ارے نہیں۔۔۔ میرے کان!”

“مگر میں کہوں گی کیا۔۔۔!”

“سنو راستے میں کسی پبلک بوتھ سے فون کریں گے! تم کہنا کہ وہ ایک پاگل رئیس زادہ ہے! کہیں باہر سے آیا ہے! لیکن آج ایک مشکل میں پھنس گیا تھا۔ رشوت دے کر بڑی دشواریوں سے جان چھڑائی۔ اس کے پاس غلطی سے کچھ جعلی نوٹ آگئے ہیں جنہیں استعمال کرتا ہوا پکڑا گیا تھا۔”

“جعلی نوٹ!” روشی نے گھبرا کر کہا۔

“ہاں روشی یہ درست ہے!” عمران نے دردناک لہجے میں کہا۔ “آج میں بال بال بچا۔ ورنہ جیل میں ہوتا! میرے نوٹوں میں کچھ جعلی نوٹ مل گئے ہیں! میں نہیں جانتا کہ وہ کہاں سے آئے ہیں۔”

“لیکن وہ انہیں پیکٹوں سے تعلق نہ رکھتے ہوں جو تم نے اس سے پچھلی رات چھینے تھے۔”

“پتہ نہیں۔” عمران مایوسانہ انداز میں سرہلا کر بولا “مجھ سے حماقت یہ ہوئی کہ میں نے ان نوٹوں کو دوسرے نوٹوں میں ملا دیا ہے!”

“تم مجھے سچ کیوں نہیں بتاتے کہ تم کون ہو!” روشی بھنا کر بولی۔

“میں نے سب کچھ بتا دیا ہے روشی!”

“یعنی تم واقعی احمق ہو!”

“تم بات بات پر میری توہین کرتی ہو۔” عمران بگڑ گیا۔

“ارے نہیں! نہیں!” روشی اس کے سر پر ہاتھ پھیرتی ہوئی بولی۔ “اچھا جعلی نوٹوں کا کیا معاملہ ہے!”

“میں تو کہتا ہوں کہ یہ اسی لڑکی کی حرکت ہے جو مجھے ریلوے اسٹیشن کے ویٹنگ روم میں ملی تھی! اس نے اصلی نوٹوں کے پیکٹ غائب کرکے جعلی نوٹ رکھ دیئےاور پھر مجھے اے بی سی ہوٹل میں آنے کی دعوت دی! میرا دعوٰی ہے کہ وہ اسی نامعلوم آدمی کی ایجنٹ تھی اور اب میں یہ سوچ رہا ہوں کہ پچھلی رات میں نے جو پیکٹ چھینے ہیں وہ دراصل میں نےچھینے نہیں بلکہ وہ خود ہی میرے حوالے کر گیا ہے! جانتی ہو اس کا کیا مطلب ہوا یعنی جو پیکٹ اب بھی اس کے پاس ہیں وہ اصلی نوٹوں کے ہیں۔ یعنی وہ پھر مجھ سے اصلی ہی نوٹ لے گیا ہے اور جعلی میرے سر پٹخ گیا۔”

“اچھا وہ نوٹ!۔۔۔ جو تم نے جوئے میں ہارے تھے!” روشی نے پوچھا۔”ان کے بارے میں بھی میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ ہوسکتا ہے کہ وہ جعلی ہوں۔۔۔ یا ان میں بھی ایک آدھ پیکٹ اصلی نوٹوں کا چلا گیا ہو! اب تو اصلی اور نقلی مل جل کر رہ گئے ہیں۔ میری ہمت نہیں پڑتی کہ ان میں سے کسی نوٹ کو ہاتھ لگاؤں۔”

“مگر اس لڑکی نے تمہارے نوٹ کس طرح اڑائے ہوں گے!”

“اوہ۔۔۔!” عمران کی آواز پھر دردناک ہو گئی۔ “میں بڑا بدنصیب آدمی ہوں۔ بلکہ اب مجھے یقین آگیا ہے کہ میں احمق بھی ہوں۔۔۔ تم ٹھیک کہتی ہو! ہاں تو کل سردی زیادہ تھی نا۔۔۔ میں نے السٹر پہن رکھا تھا اور پندرہ بیس پیکٹ اس کی جیبوں میں ٹھونس رکھے تھے!”

“تم احمق سے بھی کچھ زیادہ معلوم ہوتے ہو۔” روشی جھلا کر بولی۔

“نہیں سنو تو! میں نے اپنی دانست میں بڑی عقل مندی کی تھی! ایک بار کا ذکر ہے میرے چچا سفر کر رہے تھے۔ ان کے پاس پندرہ ہزار روپے تھے جو انہوں نے سوٹ کیس میں رکھ چھوڑے تھے! سوٹ کیس راستے میں کہیں غائب ہو گیا! جب سے میرا یہ معمول ہے کہ ہمیشہ سفر میں ساری رقم اپنے پاس ہی رکھتا ہوں۔ پہلے کبھی ایسا دھوکا نہیں کھایا۔ یہ پہلی چوٹ ہے!”

“لیکن آخر اس لڑکی نے تم پر کس طرح ہاتھ صاف کیا تھا؟”

Read More:  Beauty and the Vampire Novel by Zaha Qadir – Episode 16

“یہ مت پوچھو! میں بالکل الو ہوں!”

“میں جانتی ہوں کہ تم الو ہو! مگر میں ضرور پوچھوں گی!”

“ارے اس نے مجھے الو بنایا تھا! کہنے لگی تمہاری شکل میرے دوست سے بہت ملتی ہے جو پچھلے سال ایک حادثے کا شکار ہو کر مر گیا! اور میں اسے بہت چاہتی تھی! بس پندرہ منٹ میں بے تکلف ہو گئی!۔۔۔ میں کچھ مضمحل سا تھا! کہنے لگی کیا تم بیمار ہو! میں نے کہا نہیں۔ سر میں درد ہو رہا ہے! بولی لاؤ چمپی کردوں۔۔۔چمپی سمجھتی ہو!”

“نہیں میں نہیں جانتی۔” روشی نے کہا۔

عمران اس کے سر پر چمپی کرنے لگا۔

“ہٹو! میرے بال بگاڑ رہے ہو!” روشی اس کا ہاتھ جھٹک کر بولی۔

“ہاں تو وہ چمپی کرتی رہی اور میں ویٹنگ روم کی آرام کرسی پر سو گیا! پھر شائد آدھے گھنٹے کے بعد آنکھ کھلی۔۔۔ وہ برابر چمپی کئے جا رہی تھی۔۔۔ سچ کہتا ہوں وہ اس وقت مجھے بہت اچھی لگ رہی تھی اور میرا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اسی طرح ساری زندگی چمپی کئے جائے۔۔۔ ہائے۔۔۔ پھر اے بی سی ہوٹل ملنے کا وعدہ کرکے مجھ سے ہمیشہ کے لئے جدا ہوگئی!”

عمران کی آواز تھرا گئی۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے وہ اب رو دے گا۔

“ہائیں بدھو تم اس کے لئے رو رہے ہو جس نے تمہیں لوٹ لیا۔” روشی ہنس پڑی۔

“ہائیں! میں رو رہا ہوں” عمران اپنے دونوں گالوں پر تھپڑ مارتا ہوا بولا۔ “نہیں میں غصے میں ہوں! جہاں بھی ملی اس کا گلا گھونٹ لوں گا۔”

“بس کرو میرے شیر بس کرو۔” روشی اس کا شانہ تھپکتی ہوئی بولی۔

“اب تم میرا مذاق اڑا رہی ہو۔” عمران بگڑ گیا۔

“نہیں مجھے تم سے ہمدردی ہے! لیکن میں یہ سوچ رہی ہوں کہ اگر جوئے میں بھی تم جعلی نوٹ ہارے ہو تو اب وہاں گذر نہیں ہوگا! کچھ تعجب نہیں کہ مجھے اس کے لئے بھی بھگتنا پڑے۔”

“نہیں تم پروا نہ کرو۔ تمہارا کوئی بال بھی بیکا نہیں کرسکتا! میں لاکھوں روپے خرچ کردوں گا۔”

روشی کچھ نہ بولی۔۔۔ وہ کچھ سوچ رہی تھی۔

“میرا خیال ہے کہ یہاں ایک ٹیلیفون بوتھ ہے۔” عمران نے کہا اور ڈرائیور سے بولا۔

“گاڑی روک دو۔”

ٹیکسی رک گئی۔ روشی اور عمران اتر گئے۔

بوتھ خالی تھا! روشی نے ایک بار پھر عمران سے پوچھا کہ اسے کیا کہنا ہے عمران نے اس سلسلے میں کچھ دیر قبل کہے ہوئے جملے دہرائے۔ روشی فون میں سکہ ڈال کر نمبر ڈائیل کرنے لگی اور پھر عمران نے اس کے چہرے پر حیرت کے آثار دیکھے۔

وہ ایک ہی سانس میں وہ سب کچھ دہرا گئی، جو عمران نے بتایا تھا! پھر خاموش ہو کر شائد دوسری طرف سے بولنے والی کی بات سننے لگی۔

“دیکھئے!” اس نے تھوڑی دیر بعد ماؤتھ پیس میں کہا۔ “مجھے جو کچھ بھی معلوم تھا میں نے بتا دیا! اس سے زیادہ میں کچھ نہیں جانتی! ویسے مجھے بھی اس کے متعلق تشویش ہے کہ اس کی اصلیت کیا ہے! بظاہر بیوقوف اور پاگل معلوم ہوتا ہے۔”

“آیا کہاں سے ہے!” دوسری طرف سے آواز آئی۔

“وہ کہتا ہے کہ دلاور پور سے آیا ہوں۔”

“کیا وہ اس وقت تمہارے پاس موجود ہے!”

“نہیں باہر ٹیکسی میں ہے! میں ایک پبلک بوتھ سے بول رہی ہوں۔ اس سے بہانہ کرکے آئی ہوں کہ ایک سہیلی تک ایک پیغام پہنچانا ہے۔”

“کل رات سے قبل بھی اس سے کبھی ملاقات ہوئی تھی۔”

“نہیں کبھی نہیں!” روشی نے جواب دیا۔

“کیا اسے میرا خط دکھایا تھا۔”

“نہیں۔۔۔ کیا دکھا دوں؟” روشی نے پوچھا لیکن اس کا کوئی جواب نہ ملا۔

دوسرے طرف سے سلسلہ منقطع کردیا گیا تھا۔ روشی نے ریسیور رکھ دیا۔ عمران نے فورا ہی انکوائری کے نمبر ڈائیل کیے۔

“ہیلو انکوائری!”

“ہیلو” دوسری طرف سے آواز آئی۔

“ابھی پبلک بوتھ نمبر چھیالیس سے کسی کے نمبر ڈائیل کئے گئے ہیں! میں پتہ چاہتا ہوں۔

“آپ کون ہیں۔”

“میں ڈی ایس پی سٹی ہوں!” عمران نے کہا۔

“اوہ۔۔۔ شاید آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے!” دوسری طرف سے آواز آئی۔ “چھیالیس بوتھ سے تقریبا آدھے گھنٹے سے کوئی کال نہیں ہوئی۔”
“اچھا شکریہ!” عمران نے ریسیور رکھ دیا اور وہ دونوں باہر نکل آئے۔

“تم ڈی ایس پی سٹی ہو۔” روشی ہنسنے لگی۔

“اگر یہ نہ کہتا تو وہ ہرگز کچھ نہ بتاتا۔” عمران نے کہا۔

“لیکن اس نے بتایا کیا!”

“یہی کہ چھیالیسیویں بوتھ سے پچھلے آدھ گھنٹہ سے کوئی کال نہیں ہوئی! مگر روشی تم نے کمال کر دیا!۔۔۔ جو کچھ میں کہتا ہوں وہی تم نے بھی کیا۔”

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: